Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 31–40 of 165

31

قَدْ خَسِرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِلِقَآءِ ٱللَّهِ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَتْهُمُ ٱلسَّاعَةُ بَغْتَةًۭ قَالُوا۟ يَٰحَسْرَتَنَا عَلَىٰ مَا فَرَّطْنَا فِيهَا وَهُمْ يَحْمِلُونَ أَوْزَارَهُمْ عَلَىٰ ظُهُورِهِمْ ۚ أَلَا سَآءَ مَا يَزِرُونَ

جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھوٹ سمجھا وہ گھاٹے میں آگئے۔ یہاں تک کہ جب ان پر قیامت ناگہاں آموجود ہوگی تو بول اٹھیں گے کہ (ہائے) اس تقصیر پر افسوس ہے جو ہم نے قیامت کے بارے میں کی۔ اور وہ اپنے (اعمال کے) بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ دیکھو جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں بہت برا ہے

یقینا خسارے میں رہے وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا اللہ کی ملاقات کو، یہاں تک کہ جب آئے گی ان کے پاس قیامت اچانک تو کہیں گے وہ ہائے افسوس! اس پر جو کوتاہی کی ہم نے اس کی بابت اور وہ اٹھائے ہونگے اپنے بوجھ اوپر اپنی پیٹھوں کے خبردار! برا ہے جو (بوجھ) وہ اٹھائیں گے(31)

[31] جس کسی نے بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملاقات کو جھٹلایا، وہ خائب و خاسر ہوا اور ہر قسم کی بھلائی سے محروم کر دیا گیا۔ پس یہ تکذیب محرمات کے انکار کی جسارت اور ہلاکت میں ڈالنے والے اعمال کے اکتساب کی جرأ ت کی موجب ہوتی ہے ﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتۡهُمُ السَّاعَةُ بَغۡتَةً﴾ ’’یہاں تک کہ جب آپہنچے گی ان پر قیامت اچانک‘‘ اور وہ اس وقت بدترین اور قبیح ترین حال میں ہوں گے تب وہ انتہائی ندامت کا اظہار کریں گے ﴿ قَالُوۡا يٰحَسۡرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطۡنَا فِيۡهَا ﴾ ’’کہیں گے، اے افسوس، کیسی کوتاہی ہم نے کی اس میں ‘‘ مگر حسرت اور ندامت کے اظہار کا وقت جا چکا ہو گا ﴿ وَهُمۡ يَحۡمِلُوۡنَ اَوۡزَارَهُمۡ عَلٰى ظُهُوۡرِهِمۡ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا يَزِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ اٹھائے ہوئے ہوں گے اپنے بوجھ اپنی پیٹھوں پر، سن لو! کہ برا ہے وہ بوجھ جس کو وہ اٹھائیں گے‘‘ کیونکہ ان کا بوجھ ایسا بوجھ ہو گا جو ان کے لیے سخت بھاری ہو گا اور وہ اس سے گلوخلاصی پر قادر نہ ہوں گے، وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور اللہ جبار کی ابدی ناراضی کے مستحق ہوں گے۔

Al-An'aam 6:31Listen in Qur'an →
32

وَمَا ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَآ إِلَّا لَعِبٌۭ وَلَهْوٌۭ ۖ وَلَلدَّارُ ٱلْءَاخِرَةُ خَيْرٌۭ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

اور دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور مشغولہ ہے۔ اور بہت اچھا گھر تو آخرت کا گھر ہے (یعنی) ان کے لئے جو (خدا سے) ڈرتے ہیں۔ کیا تم سمجھتے نہیں

اورنہیں ہے زندگی دنیا کی مگر کھیل اور تماشہ اور گھر آخرت کا بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟(32)

[32] یہی دنیا اور آخرت کی حقیقت ہے۔ رہی دنیا کی حقیقت تو یہ محض لہو و لعب ہے۔ بدن کا کھیل تماشہ۔ اور قلب کا کھیل تماشہ، پس دل لہو و لعب پر فریفتہ، نفوس اس پر عاشق اور ارادے اس سے پیوست رہتے ہیں اور لہو و لعب میں مشغولیت اس میں ایسے ہوتی ہے جیسے بچے کھیل میں مگن ہوتے ہیں ۔ رہی آخرت تو وہ ﴿ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ ﴾ اپنی ذات و صفات اور بقا و دوام کے اعتبار سے اہل تقویٰ کے لیے بہتر ہے۔ اس میں ہر وہ چیز موجود ہو گی جس کی نفس خواہش کریں گے ،جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی، یعنی قلب و روح کی نعمت اور مسرت و فرحت کی کثرت۔ مگر یہ نعمتیں اور مسرتیں ہر ایک کے لیے نہیں ہوں گی بلکہ صرف متقی لوگوں کے لیے ہوں گی جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں اور اس کی منہیات کو ترک کرتے ہیں ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم عقل نہیں رکھتے؟‘‘ کیا تمھارے پاس عقل نہیں جس کے ذریعے سے تم یہ ادراک کر سکو کہ دنیا اور آخرت میں سے کون سا گھر ترجیح دیے جانے کا مستحق ہے؟

Al-An'aam 6:32Listen in Qur'an →
33

قَدْ نَعْلَمُ إِنَّهُۥ لَيَحْزُنُكَ ٱلَّذِى يَقُولُونَ ۖ فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَٰكِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ يَجْحَدُونَ

ہم کو معلوم ہے کہ ان (کافروں) کی باتیں تمہیں رنج پہنچاتی ہیں (مگر) یہ تمہاری تکذیب نہیں کرتے بلکہ ظالم خدا کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں

تحقیق جانتے ہیں ہم بلاشبہ غمگین کرتی ہے آپ کو وہ بات جو وہ کہتے ہیں ، پس بے شک وہ نہیں جھٹلاتے آپ کو لیکن وہ ظالم تو اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں (33) اور بلاشبہ جھٹلائے گئے کئی رسول آپ سے پہلے تو صبر کیا انھوں نے اوپر اس کے جو وہ جھٹلائے گئے اور ایذاء دیے گئے، حتی کہ آگئی ان کے پاس ہماری مدداور نہیں کوئی تبدیل کرنے والا اللہ کے کلمات کواور یقینا آچکی ہیں آپ کے پاس کچھ خبریں رسولوں کی(34) اور اگر ہو گراں آپ پر اعراض کرنا ان کا تو اگر استطاعت رکھتے ہیں آپ یہ کہ تلاش کریں کوئی سرنگ زمین میں یا سیڑھی آسمان میں، پھر لے آئیں آپ ان کے پاس کوئی نشانی، (تو کر دیکھیں )اور اگر چاہتا اللہ تو جمع کر دیتا انھیں ہدایت پر، پس نہ ہوں آپ نادانوں سے(35)

[33] یعنی ہمیں علم ہے کہ آپ کی تکذیب کرنے والے آپ کے بارے میں جو کچھ کہتے ہیں اس سے آپ کو تکلیف پہنچتی ہے اور آپ غم زدہ ہوتے ہیں ۔ ہم نے آپ کو صبر کرنے کا حکم محض اس لیے دیا ہے تاکہ آپ کو مقامات بلند اور گراں قیمت احوال حاصل ہوں ۔ پس آپ یہ نہ سمجھیں کہ ان کا یہ قول اس سبب سے صادر ہوا ہے کہ ان کو آپ کے بارے میں کوئی اشتباہ یا شک لاحق ہوا ہے ﴿ فَاِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُوۡنَكَ ﴾ ’’بے شک وہ آپ کو نہیں جھٹلاتے‘‘ کیونکہ وہ آپ کی صداقت، آپ کے اندر باہر اور آپ کے تمام احوال کو خوب جانتے ہیں ۔ حتیٰ کہ وہ آپﷺ کی بعثت سے پہلے آپ کو ’’امین‘‘ کہا کرتے تھے ﴿ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ ﴾ ’’لیکن ظالم لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی ان آیات کو جھٹلاتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر ظاہر کیا۔

[34] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ كُذِّبَتۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِكَ فَصَبَرُوۡا عَلٰى مَا كُذِّبُوۡا وَاُوۡذُوۡا حَتّٰۤى اَتٰىهُمۡ نَصۡرُنَا ﴾ ’’آپ سے پہلے رسولوں کو بھی جھٹلایا گیا، پس انھوں نے اپنی تکذیب اور ایذا دیے جانے پر صبر کیا، یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی‘‘ پس جس طرح انھوں نے صبر کیا اسی طرح آپ بھی صبر کیجیے۔ جس طرح وہ ظفریاب ہوئے آپ بھی ظفریاب ہوں گے :﴿وَلَقَدۡ جَآءَكَ مِنۡ نَّبَاِي الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’آپ کے پاس گزشتہ انبیا و مرسلین کی خبر پہنچ گئی ہے‘‘ جس سے آپ کے دل کو تقویت اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔

[35]﴿ وَاِنۡ كَانَ كَبُرَ عَلَيۡكَ اِعۡرَاضُهُمۡ ﴾ ’’اور اگر ان کی روگردانی آپ پر شاق گزرتی ہے۔‘‘ یعنی اگر ان کا اعراض آپ پر شاق گزرتا ہے کیونکہ آپ ان کے ایمان کی بہت خواہش رکھتے ہیں تو آپ اس بارے میں اپنی پوری کوشش کر دیکھیے۔ پس اس شخص کو ہدایت دینا آپ کے بس میں نہیں جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دینا نہ چاہتا ہو۔ ﴿ فَاِنِ اسۡتَطَعۡتَ اَنۡ تَبۡتَغِيَ نَفَقًا فِي الۡاَرۡضِ اَوۡ سُلَّمًا فِي السَّمَآءِ فَتَاۡتِيَهُمۡ بِاٰيَةٍ﴾ ’’پس اگر آپ سے ہو سکے کہ ڈھونڈ نکالیں کوئی سرنگ زمین میں یا کوئی سیڑھی آسمان میں پھر لائیں آپ ان کے پاس کوئی نشانی‘‘ یعنی یہ سب کچھ کر دیکھیے ان میں سے کوئی چیز بھی ان کو فائدہ نہیں دے گی۔ یہ آیت کریمہ اس قسم کے معاندین حق کی ہدایت کی تمنا اور امید کو منقطع کرتی ہے۔ ﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمۡ عَلَى الۡهُدٰؔى ﴾ ’’اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کر دیتا‘‘ مگر حکمت الٰہی متقاضی ہوئی کہ وہ اپنی گمراہی پر باقی رہیں ﴿ فَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ ﴾ ’’پس آپ جاہلوں میں شامل نہ ہوں ‘‘ جو حقائق امور کی معرفت نہیں رکھتے اور ان امور کو ان کے مقام پر نہیں رکھتے۔

Al-An'aam 6:33Listen in Qur'an →
34

وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌۭ مِّن قَبْلِكَ فَصَبَرُوا۟ عَلَىٰ مَا كُذِّبُوا۟ وَأُوذُوا۟ حَتَّىٰٓ أَتَىٰهُمْ نَصْرُنَا ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَٰتِ ٱللَّهِ ۚ وَلَقَدْ جَآءَكَ مِن نَّبَإِى۟ ٱلْمُرْسَلِينَ

اور تم سے پہلے کبھی پیغمبر جھٹلائے جاتے رہے تو وہ تکذیب اور ایذا پر صبر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد پہنچتی رہی اور خدا کی باتوں کو کوئی بھی بدلنے والا نہیں۔ اور تم کو پیغمبروں (کے احوال) کی خبریں پہنچ چکی ہیں (تو تم بھی صبر سے کام لو)

تحقیق جانتے ہیں ہم بلاشبہ غمگین کرتی ہے آپ کو وہ بات جو وہ کہتے ہیں ، پس بے شک وہ نہیں جھٹلاتے آپ کو لیکن وہ ظالم تو اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں (33) اور بلاشبہ جھٹلائے گئے کئی رسول آپ سے پہلے تو صبر کیا انھوں نے اوپر اس کے جو وہ جھٹلائے گئے اور ایذاء دیے گئے، حتی کہ آگئی ان کے پاس ہماری مدداور نہیں کوئی تبدیل کرنے والا اللہ کے کلمات کواور یقینا آچکی ہیں آپ کے پاس کچھ خبریں رسولوں کی(34) اور اگر ہو گراں آپ پر اعراض کرنا ان کا تو اگر استطاعت رکھتے ہیں آپ یہ کہ تلاش کریں کوئی سرنگ زمین میں یا سیڑھی آسمان میں، پھر لے آئیں آپ ان کے پاس کوئی نشانی، (تو کر دیکھیں )اور اگر چاہتا اللہ تو جمع کر دیتا انھیں ہدایت پر، پس نہ ہوں آپ نادانوں سے(35)

[33] یعنی ہمیں علم ہے کہ آپ کی تکذیب کرنے والے آپ کے بارے میں جو کچھ کہتے ہیں اس سے آپ کو تکلیف پہنچتی ہے اور آپ غم زدہ ہوتے ہیں ۔ ہم نے آپ کو صبر کرنے کا حکم محض اس لیے دیا ہے تاکہ آپ کو مقامات بلند اور گراں قیمت احوال حاصل ہوں ۔ پس آپ یہ نہ سمجھیں کہ ان کا یہ قول اس سبب سے صادر ہوا ہے کہ ان کو آپ کے بارے میں کوئی اشتباہ یا شک لاحق ہوا ہے ﴿ فَاِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُوۡنَكَ ﴾ ’’بے شک وہ آپ کو نہیں جھٹلاتے‘‘ کیونکہ وہ آپ کی صداقت، آپ کے اندر باہر اور آپ کے تمام احوال کو خوب جانتے ہیں ۔ حتیٰ کہ وہ آپﷺ کی بعثت سے پہلے آپ کو ’’امین‘‘ کہا کرتے تھے ﴿ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ ﴾ ’’لیکن ظالم لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی ان آیات کو جھٹلاتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر ظاہر کیا۔

[34] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ كُذِّبَتۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِكَ فَصَبَرُوۡا عَلٰى مَا كُذِّبُوۡا وَاُوۡذُوۡا حَتّٰۤى اَتٰىهُمۡ نَصۡرُنَا ﴾ ’’آپ سے پہلے رسولوں کو بھی جھٹلایا گیا، پس انھوں نے اپنی تکذیب اور ایذا دیے جانے پر صبر کیا، یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی‘‘ پس جس طرح انھوں نے صبر کیا اسی طرح آپ بھی صبر کیجیے۔ جس طرح وہ ظفریاب ہوئے آپ بھی ظفریاب ہوں گے :﴿وَلَقَدۡ جَآءَكَ مِنۡ نَّبَاِي الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’آپ کے پاس گزشتہ انبیا و مرسلین کی خبر پہنچ گئی ہے‘‘ جس سے آپ کے دل کو تقویت اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔

[35]﴿ وَاِنۡ كَانَ كَبُرَ عَلَيۡكَ اِعۡرَاضُهُمۡ ﴾ ’’اور اگر ان کی روگردانی آپ پر شاق گزرتی ہے۔‘‘ یعنی اگر ان کا اعراض آپ پر شاق گزرتا ہے کیونکہ آپ ان کے ایمان کی بہت خواہش رکھتے ہیں تو آپ اس بارے میں اپنی پوری کوشش کر دیکھیے۔ پس اس شخص کو ہدایت دینا آپ کے بس میں نہیں جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دینا نہ چاہتا ہو۔ ﴿ فَاِنِ اسۡتَطَعۡتَ اَنۡ تَبۡتَغِيَ نَفَقًا فِي الۡاَرۡضِ اَوۡ سُلَّمًا فِي السَّمَآءِ فَتَاۡتِيَهُمۡ بِاٰيَةٍ﴾ ’’پس اگر آپ سے ہو سکے کہ ڈھونڈ نکالیں کوئی سرنگ زمین میں یا کوئی سیڑھی آسمان میں پھر لائیں آپ ان کے پاس کوئی نشانی‘‘ یعنی یہ سب کچھ کر دیکھیے ان میں سے کوئی چیز بھی ان کو فائدہ نہیں دے گی۔ یہ آیت کریمہ اس قسم کے معاندین حق کی ہدایت کی تمنا اور امید کو منقطع کرتی ہے۔ ﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمۡ عَلَى الۡهُدٰؔى ﴾ ’’اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کر دیتا‘‘ مگر حکمت الٰہی متقاضی ہوئی کہ وہ اپنی گمراہی پر باقی رہیں ﴿ فَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ ﴾ ’’پس آپ جاہلوں میں شامل نہ ہوں ‘‘ جو حقائق امور کی معرفت نہیں رکھتے اور ان امور کو ان کے مقام پر نہیں رکھتے۔

Al-An'aam 6:34Listen in Qur'an →
35

وَإِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ إِعْرَاضُهُمْ فَإِنِ ٱسْتَطَعْتَ أَن تَبْتَغِىَ نَفَقًۭا فِى ٱلْأَرْضِ أَوْ سُلَّمًۭا فِى ٱلسَّمَآءِ فَتَأْتِيَهُم بِـَٔايَةٍۢ ۚ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى ٱلْهُدَىٰ ۚ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْجَٰهِلِينَ

اور اگر ان کی روگردانی تم پر شاق گزرتی ہے تو اگر طاقت ہو تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈ نکالو یا آسمان میں سیڑھی (تلاش کرو) پھر ان کے پاس کوئی معجزہ لاؤ۔ اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کردیتا پس تم ہرگز نادانوں میں نہ ہونا

تحقیق جانتے ہیں ہم بلاشبہ غمگین کرتی ہے آپ کو وہ بات جو وہ کہتے ہیں ، پس بے شک وہ نہیں جھٹلاتے آپ کو لیکن وہ ظالم تو اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں (33) اور بلاشبہ جھٹلائے گئے کئی رسول آپ سے پہلے تو صبر کیا انھوں نے اوپر اس کے جو وہ جھٹلائے گئے اور ایذاء دیے گئے، حتی کہ آگئی ان کے پاس ہماری مدداور نہیں کوئی تبدیل کرنے والا اللہ کے کلمات کواور یقینا آچکی ہیں آپ کے پاس کچھ خبریں رسولوں کی(34) اور اگر ہو گراں آپ پر اعراض کرنا ان کا تو اگر استطاعت رکھتے ہیں آپ یہ کہ تلاش کریں کوئی سرنگ زمین میں یا سیڑھی آسمان میں، پھر لے آئیں آپ ان کے پاس کوئی نشانی، (تو کر دیکھیں )اور اگر چاہتا اللہ تو جمع کر دیتا انھیں ہدایت پر، پس نہ ہوں آپ نادانوں سے(35)

[33] یعنی ہمیں علم ہے کہ آپ کی تکذیب کرنے والے آپ کے بارے میں جو کچھ کہتے ہیں اس سے آپ کو تکلیف پہنچتی ہے اور آپ غم زدہ ہوتے ہیں ۔ ہم نے آپ کو صبر کرنے کا حکم محض اس لیے دیا ہے تاکہ آپ کو مقامات بلند اور گراں قیمت احوال حاصل ہوں ۔ پس آپ یہ نہ سمجھیں کہ ان کا یہ قول اس سبب سے صادر ہوا ہے کہ ان کو آپ کے بارے میں کوئی اشتباہ یا شک لاحق ہوا ہے ﴿ فَاِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُوۡنَكَ ﴾ ’’بے شک وہ آپ کو نہیں جھٹلاتے‘‘ کیونکہ وہ آپ کی صداقت، آپ کے اندر باہر اور آپ کے تمام احوال کو خوب جانتے ہیں ۔ حتیٰ کہ وہ آپﷺ کی بعثت سے پہلے آپ کو ’’امین‘‘ کہا کرتے تھے ﴿ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ ﴾ ’’لیکن ظالم لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی ان آیات کو جھٹلاتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر ظاہر کیا۔

[34] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ كُذِّبَتۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِكَ فَصَبَرُوۡا عَلٰى مَا كُذِّبُوۡا وَاُوۡذُوۡا حَتّٰۤى اَتٰىهُمۡ نَصۡرُنَا ﴾ ’’آپ سے پہلے رسولوں کو بھی جھٹلایا گیا، پس انھوں نے اپنی تکذیب اور ایذا دیے جانے پر صبر کیا، یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی‘‘ پس جس طرح انھوں نے صبر کیا اسی طرح آپ بھی صبر کیجیے۔ جس طرح وہ ظفریاب ہوئے آپ بھی ظفریاب ہوں گے :﴿وَلَقَدۡ جَآءَكَ مِنۡ نَّبَاِي الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’آپ کے پاس گزشتہ انبیا و مرسلین کی خبر پہنچ گئی ہے‘‘ جس سے آپ کے دل کو تقویت اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔

[35]﴿ وَاِنۡ كَانَ كَبُرَ عَلَيۡكَ اِعۡرَاضُهُمۡ ﴾ ’’اور اگر ان کی روگردانی آپ پر شاق گزرتی ہے۔‘‘ یعنی اگر ان کا اعراض آپ پر شاق گزرتا ہے کیونکہ آپ ان کے ایمان کی بہت خواہش رکھتے ہیں تو آپ اس بارے میں اپنی پوری کوشش کر دیکھیے۔ پس اس شخص کو ہدایت دینا آپ کے بس میں نہیں جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دینا نہ چاہتا ہو۔ ﴿ فَاِنِ اسۡتَطَعۡتَ اَنۡ تَبۡتَغِيَ نَفَقًا فِي الۡاَرۡضِ اَوۡ سُلَّمًا فِي السَّمَآءِ فَتَاۡتِيَهُمۡ بِاٰيَةٍ﴾ ’’پس اگر آپ سے ہو سکے کہ ڈھونڈ نکالیں کوئی سرنگ زمین میں یا کوئی سیڑھی آسمان میں پھر لائیں آپ ان کے پاس کوئی نشانی‘‘ یعنی یہ سب کچھ کر دیکھیے ان میں سے کوئی چیز بھی ان کو فائدہ نہیں دے گی۔ یہ آیت کریمہ اس قسم کے معاندین حق کی ہدایت کی تمنا اور امید کو منقطع کرتی ہے۔ ﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمۡ عَلَى الۡهُدٰؔى ﴾ ’’اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کر دیتا‘‘ مگر حکمت الٰہی متقاضی ہوئی کہ وہ اپنی گمراہی پر باقی رہیں ﴿ فَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ ﴾ ’’پس آپ جاہلوں میں شامل نہ ہوں ‘‘ جو حقائق امور کی معرفت نہیں رکھتے اور ان امور کو ان کے مقام پر نہیں رکھتے۔

Al-An'aam 6:35Listen in Qur'an →
36

۞ إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ ٱلَّذِينَ يَسْمَعُونَ ۘ وَٱلْمَوْتَىٰ يَبْعَثُهُمُ ٱللَّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ

بات یہ ہے کہ (حق کو) قبول وہی کرتے ہیں جو سنتے بھی ہیں اور مردوں کو تو خدا (قیامت ہی کو) اٹھائے گا۔ پھر اسی کی طرف لوٹ کر جائیں گے

بلاشبہ قبول تو وہی لوگ کرتے ہیں جو سنتے ہیں ۔ اور مردے، اٹھائے گا ان کو اللہ، پھر اسی کی طرف وہ لوٹائے جائیں گے(36)

[36] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے ﴿ اِنَّمَا يَسۡتَجِيۡبُ ﴾ ’’صرف وہی قبول کریں گے۔‘‘ آپ کی دعوت اور آپ کی رسالت پر صرف وہی لوگ لبیک کہیں گے اور آپ کے امر و نہی کے سامنے صرف وہی لوگ سرتسلیم خم کریں گے ﴿ الَّذِيۡنَ يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’جو سنتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو اپنے دل کے کانوں سے سنتے ہیں جو ان کو فائدہ دیتا ہے اور یہ عقل اور کان رکھنے والے لوگ ہیں ۔ یہاں سننے سے مراد دل سے سننا اور اس پر لبیک کہنا ہے ورنہ مجرد کانوں سے سننے میں نیک اور بد سب شامل ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ کی آیات کو سن کر تمام مکلفین پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو گئی اور حق کو قبول نہ کرنے کا ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہا۔ ﴿ وَالۡمَوۡتٰى يَبۡعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَيۡهِ يُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور مردوں کو، زندہ کرے گا اللہ، پھر اس کی طرف وہ لائے جائیں گے‘‘ اس میں اس امر کا احتمال ہے کہ یہ معنی، مذکور بالا معنی کے بالمقابل ہوں ، یعنی آپ کی دعوت کا جواب صرف وہی لوگ دیں گے جن کے دل زندہ ہیں ، رہے وہ لوگ جن کے دل مر چکے ہیں جنھیں اپنی سعادت کا شعور تک نہیں اور جنھیں یہ بھی احساس نہیں کہ وہ کون سی چیز ہے جو انھیں نجات دلائے گی تو ایسے لوگ آپ کی دعوت پر لبیک نہیں کہیں گے۔ اور نہ وہ آپ کی اطاعت کریں گے۔ ان کے لیے وعدے کا دن تو قیامت کا دن ہے اس روز اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ زندہ کرے گا، پھر وہ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس کے ظاہری معنی مراد لیے جائیں ۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ معاد کو متحقق کر رہا ہے کہ وہ قیامت کے روز تمام مردوں کو زندہ کرے گا، پھر ان کو ان کے اعمال سے آگاہ کرے گا۔یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی دعوت پر لبیک کہنے کی ترغیب اور اس کا جواب نہ دینے پر ترہیب کو متضمن ہے۔

Al-An'aam 6:36Listen in Qur'an →
37

وَقَالُوا۟ لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ ءَايَةٌۭ مِّن رَّبِّهِۦ ۚ قُلْ إِنَّ ٱللَّهَ قَادِرٌ عَلَىٰٓ أَن يُنَزِّلَ ءَايَةًۭ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

اور کہتے ہیں کہ ان پر ان کے پروردگارکے پاس کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی۔ کہہ دو کہ خدا نشانی اتارنے پر قادر ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

[37]﴿ وَقَالُوۡا ﴾ ’’اور کہتے ہیں۔‘‘ یعنی عناد کی وجہ سے رسول کی تکذیب کرنے والے کہتے ہیں ﴿ لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ اٰيَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ ﴾ ’’کیوں نہیں اتاری گئی اس پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے‘‘ یعنی ان کی خواہش کے مطابق نشانیاں نازل کی جائیں جن کا انتخاب وہ اپنی فاسد عقل اور گھٹیا آراء کے ذریعے سے کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ قول نقل فرمایا ہے ﴿ وَقَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ يَنۢۡبـُوۡعًاۙ۰۰اَوۡ تَكُوۡنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنۡ نَّخِيۡلٍ وَّعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الۡاَنۡهٰرَ خِلٰلَهَا تَفۡجِيۡرًاۙ۰۰ اَوۡ تُسۡقِطَ السَّمَآءَؔ كَمَا زَعَمۡتَ عَلَيۡنَا كِسَفًا اَوۡ تَاۡتِيَ بِاللّٰهِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةِ قَبِيۡلًا﴾(بنی اسرائیل: 17؍90-92) ’’اور وہ کہتے ہیں کہ ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ تم زمین سے ہمارے لیے چشمہ جاری نہ کر دو یا تمھارے لیے کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو اور اس باغ کے بیچوں بیچ نہریں جاری کرو یا جیسا کہ تم دعویٰ کیا کرتے ہو ہم پر آسمان کے ٹکڑے گرا دو یا اللہ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لے آؤ‘‘ ﴿قُلۡ ﴾ ان کا جواب دیتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌؔ عَلٰۤى اَنۡ يُّنَزِّلَ اٰيَةً ﴾ ’’یقینا اللہ اس بات پر قادر ہے کہ کوئی نشانی اتار دے‘‘ اس کی قدرت ایسا کرنے سے قاصر نہیں اور ایسا کیوں نہ ہو جبکہ ہر چیز اس کے غلبہ کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے اور اس کی قدرت و تسلط کی اطاعت کیے ہوئے ہے ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ پس وہ اپنی جہالت اور عدم علم کی بنا پر ایسی نشانیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ اگر وہ نشانیاں ان کے پاس آجائیں تو بھی وہ ایمان نہیں لائیں گے اور پھر ان پر جلدی سے عذاب نازل کر دیا جائے گا۔ جیسا کہ یہ سنت الٰہی ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔ بایں ہمہ اگر ان کا مقصود وہ نشانیاں ہیں جو حق کو واضح کر کے راہ حق کو روشن کر دیں تو جناب محمد مصطفیﷺ ہر قسم کی قطعی دلیل اور روشن برہان پیش کرتے ہیں جو اس حق پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ آپﷺ مبعوث ہوئے۔ کیونکہ بندہ دین کے ہر مسئلہ میں متعدد عقلی اور نقلی دلائل پاتا ہے کہ اس کے دل میں ادنیٰ سا شک و شبہ باقی نہیں رہتا۔ پس نہایت بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے رسول (ﷺ) کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اور واضح دلائل کے ساتھ اس کی تائید کی تاکہ جو کوئی ہلاک ہو دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو کوئی زندہ رہے، دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

Al-An'aam 6:37Listen in Qur'an →
38

وَمَا مِن دَآبَّةٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا طَٰٓئِرٍۢ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّآ أُمَمٌ أَمْثَالُكُم ۚ مَّا فَرَّطْنَا فِى ٱلْكِتَٰبِ مِن شَىْءٍۢ ۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ

اور زمین میں جو چلنے پھرنے والا (حیوان) یا دو پروں سے اڑنے والا جانور ہے ان کی بھی تم لوگوں کی طرح جماعتیں ہیں۔ ہم نے کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں کسی چیز (کے لکھنے) میں کوتاہی نہیں کی پھر سب اپنے پروردگار کی طرف جمع کئے جائیں گے

اور نہیں ہے کوئی چلنے والا زمین پراور نہ کوئی پرندہ جو اڑتا ہے ساتھ اپنے دونوں پروں کے مگر امتیں ہیں وہ تمھاری ہی طرح، نہیں چھوڑی ہم نے کتاب میں کوئی چیز، پھر اپنے رب کی طرف وہ اکٹھے کیے جائیں گے(38)

[38] زمین میں رہنے والے، ہوا میں اڑنے والے، بہائم، جنگلوں میں رہنے والے وحشی جانور اور پرندے سب تمھاری طرح گروہ ہیں ان کو بھی ہم نے اسی طرح پیدا کیا ہے جس طرح تمھیں پیدا کیا ہے، اسی طرح ہم ان کو بھی رزق عطا کرتے ہیں جس طرح تمھیں عطا کرتے ہیں ۔ ہماری قدرت اور مشیت ان پر بھی اسی طرح نافذ ہے جس طرح تم پر نافذ ہے۔ ﴿ مَا فَرَّطۡنَا فِي الۡكِتٰبِ مِنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’ہم نے کتاب میں کسی چیز میں کوتاہی نہیں کی۔‘‘ یعنی ہم نے کسی چیز کو لوح محفوظ میں لکھنے میں کوتاہی اور غفلت نہیں کی بلکہ تمام چھوٹی بڑی چیزیں جیسی بھی وہ ہیں لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہیں ۔ پس تمام حوادث اس کے مطابق واقع ہوتے ہیں جو قلم سے لکھے جاچکے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ سب سے پہلے لوح محفوظ میں تمام کائنات کی تقدیر لکھ دی گئی۔ یہ قضا و قدر کے مراتب میں سے ایک مرتبہ ہے۔ قضا و قدر کے چار مراتب ہیں ۔ (۱) اللہ تبارک و تعالیٰ کا علم تمام اشیا کو شامل ہے۔ (۲) اس کی کتاب (یعنی لوح محفوظ) تمام موجودات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ (۳) اس کی مشیت اور قدرت عامہ ہر چیز پر نافذ ہے۔ (۴) تمام مخلوقات کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، حتی کہ بندوں کے افعال کا خالق بھی وہی ہے۔ اس آیت مبارکہ میں یہ احتمال ہو سکتاہے کہ ’’کتاب‘‘ سے مراد قرآن ہو، تب اس کے معنی قرآن کریم کی اس آیت کی مانند ہوں گے ﴿ وَنَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ تِبۡيَانًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ ﴾(النحل: 16؍89) ’’اور ہم نے تم پر کتاب نازل کی جس میں ہر چیز بیان کر دی گئی ہے۔‘‘ ﴿ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمۡ يُحۡشَرُوۡنَ ﴾ ’’پھر سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی تمام امتوں کو قیامت کے میدان میں اللہ تعالیٰ کے حضور جمع کیا جائے گا۔ یہ انتہائی ہولناک مقام ہو گا۔ پس اللہ تعالیٰ اپنے عدل و احسان سے سب کو جزا دے گا اور ان پر اپنا فیصلہ نافذ کرے گا، جس کی تعریف اولین و آخرین، آسمانوں والے اور زمین والے سب کریں گے۔

Al-An'aam 6:38Listen in Qur'an →
39

وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا صُمٌّۭ وَبُكْمٌۭ فِى ٱلظُّلُمَٰتِ ۗ مَن يَشَإِ ٱللَّهُ يُضْلِلْهُ وَمَن يَشَأْ يَجْعَلْهُ عَلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں (اس کے علاوہ) اندھیرے میں (پڑے ہوئے) جس کو خدا چاہے گمراہ کردے اور جسے چاہے سیدھے رستے پر چلا دے

اور جن لوگوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو، وہ بہرے اور گونگے ہیں اندھیروں میں ، جسے چاہے اللہ، گمراہ کرتا ہے اس کواور جسے چاہے کر دیتا ہے اسے اوپر صراط مستقیم کے(39)

[39] اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا حال بیان ہوا ہے کہ انھوں نے اپنے آپ پر ہدایت کے دروازے بند کر کے ہلاکت کے دروازے کھول لیے۔ اور وہ ﴿ صُمٌّ ﴾ ’’بہرے‘‘ یعنی حق سننے سے بہرے ہیں ﴿ بُكۡمٌ ﴾ ’’گونگے‘‘ یعنی حق بولنے سے گونگے ہیں ، پس باطل کے سوا کچھ نہیں بولتے ﴿ فِي الظُّلُمٰتِ ﴾ ’’اندھیروں میں ‘‘ یعنی جہالت، کفر، ظلم، عناد اور نافرمانی کی تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا ان کو گمراہ کر دینا ہے۔ کیونکہ ﴿ مَنۡ يَّشَاِ اللّٰهُ يُضۡلِـلۡهُ١ؕ وَمَنۡ يَّشَاۡ يَجۡعَلۡهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ ’’وہ جس کو چاہتا ہے، گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے، اسے صراط مستقیم پر ڈال دیتا ہے‘‘ کیونکہ وہی اکیلا اپنی حکمت اور فضل و کرم کے تقاضوں کے مطابق ہدایت دیتا یا گمراہ کرتا ہے۔

Al-An'aam 6:39Listen in Qur'an →
40

قُلْ أَرَءَيْتَكُمْ إِنْ أَتَىٰكُمْ عَذَابُ ٱللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ ٱلسَّاعَةُ أَغَيْرَ ٱللَّهِ تَدْعُونَ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

کہو (کافرو) بھلا دیکھو تو اگر تم پر خدا کا عذاب آجائےیا قیامت آموجود ہو تو کیا تم (ایسی حالت میں) خدا کے سوا کسی اور کو پکارو گے؟ اگر سچے ہو (تو بتاؤ)

کہہ دیجیے! مجھے بتلاؤ! اگر آئے تم پر عذاب اللہ کا یا آجائے تم پر قیامت تو کیا غیر اللہ کو پکارو گے تم؟ اگر ہو تم سچے(40)بلکہ صرف اسی کو پکارو گے تم، پھر دور کر دے گا (اللہ) وہ تکلیف کہ پکارو گے تم اس کے لیے، اگر چاہے گا وہ اور فراموش کر دو گے تم جنھیں شریک ٹھہراتے تھے(41)

[40]﴿قُلۡ ﴾ اللہ تعالیٰ کے ہمسر ٹھہرانے والے مشرکین سے کہہ دیجیے ﴿ اَرَءَيۡتَكُمۡ اِنۡ اَتٰؔىكُمۡ عَذَابُ اللّٰهِ اَوۡ اَتَتۡكُمُ السَّاعَةُ اَغَيۡرَ اللّٰهِ تَدۡعُوۡنَ١ۚ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’بھلا بتلاؤ، اگر تمھارے پاس اللہ کا عذاب آجائے یا قیامت آجائے تو کیا تم اللہ کے سوا اوروں کو پکارو گے، اگر تم سچے ہو؟‘‘ یعنی جب تم ان تکالیف اور کرب و غم میں مبتلا ہوتے ہو اور تم ان کوہٹانے پر مجبور ہوتے ہو، تب اس وقت تم اپنے خداؤں اور بتوں کو پکارتے ہو یا تم اپنے رب بادشاہ حقیقی کو پکارتے ہو؟

[41]﴿ بَلۡ اِيَّاهُ تَدۡعُوۡنَ فَيَكۡشِفُ مَا تَدۡعُوۡنَ اِلَيۡهِ اِنۡ شَآءَ وَتَنۡسَوۡنَ مَا تُشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم صرف اسی کو پکارتے ہو، پھر دور کر دیتا ہے اس مصیبت کو جس کے لیے اس کو پکارتے ہو، اگر وہ چاہے اور ان کو بھول جاتے ہو جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو‘‘ جب سختیوں کے وقت تمھارا اپنے معبودوں کے بارے میں یہ حال ہے کہ تم ان کو بھول جاتے ہو کیونکہ تمھیں علم ہے کہ وہ نفع و نقصان کے مالک ہیں نہ موت و حیات کے اور نہ وہ قیامت کے روز دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہیں اور تم نہایت اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہو کیونکہ تم جانتے ہو کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی نفع و نقصان کا مالک ہے، وہی ہے جو مجبور کی دعا قبول کرتا ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ فراخی اور خوشحالی کے وقت تم شرک کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہراتے ہو۔ کیا عقل یا نقل نے تمھیں اس راہ پر لگایا ہے یا تمھارے پاس کوئی دلیل ہے یا تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھوٹ گھڑ رہے ہو؟

Al-An'aam 6:40Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.