Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 1–10 of 165

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَجَعَلَ ٱلظُّلُمَٰتِ وَٱلنُّورَ ۖ ثُمَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ

ہر طرح کی تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیرا اور روشنی بنائی پھر بھی کافر (اور چیزوں کو) خدا کے برابر ٹھیراتے ہیں

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ : اس آیت میں اکیلے اللہ تعالیٰ کے تمام خوبیوں کا مالک اور معبود ہونے کی دلیل بیان کی گئی ہے اور کفار کے شرک پر تعجب کا اظہار کیا گیا ہے۔ - خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے یہاں دو قسم کی چیزوں کا ذکر فرمایا ہے، ایک زمین و آسمان کا جو جوہر ہیں، یعنی اپنا الگ وجود رکھتے ہیں اور دوسرے اندھیروں اور اجالے کا جو عرض ہیں، یعنی دوسری چیزوں کے ذریعے سے قائم ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کائنات میں کوئی جوہر یا عرض ایسا نہیں جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا نہ کیا ہو۔ اندھیروں اور اجالے سے یہی رات اور دن مراد ہیں، یا پھر ایمان کا نور اور کفر کے اندھیرے۔ (قرطبی) ” النُّوْرَ “ کو واحد اور ” الظُّلُمٰتِ “ کو جمع بیان کرنے میں یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ ایمان کا نور ایک ہی ہے، جبکہ کفر کی گمراہیاں بیشمار ہیں۔ سیدھا راستہ ایک ہے اور غلط راستوں کا شمار ہی نہیں۔- ثُمَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُوْنَ : یعنی جب ہر چیز کا خالق ومالک صرف اللہ تعالیٰ ہے اور یہ مشرکین اسے اپنا رب ( پالنے والا) بھی تسلیم کرتے ہیں تو ان پر لازم تھا کہ عبادت بھی اسی کی کرتے، مگر یہ پھر بھی دوسروں کو اس کے برابر گردانتے ہیں، ان کے سامنے سجدے کرتے ہیں، ان کے نام کی نذریں چڑھاتے اور منتیں مانتے ہیں اور مشکلات میں ان سے مدد طلب کرتے ہیں۔ کس قدر بےعقلی ہے کہ پیدا اللہ تعالیٰ کرے، روزی بھی وہی دے، پھر مانگا غیر سے جائے اور اسے اپنے رب کے برابر ٹھہرایا جائے۔ دیکھیے سورة لقمان (١٠، ١١) اور سورة عنکبوت (٦١ تا ٦٣) ۔

2

هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن طِينٍۢ ثُمَّ قَضَىٰٓ أَجَلًۭا ۖ وَأَجَلٌۭ مُّسَمًّى عِندَهُۥ ۖ ثُمَّ أَنتُمْ تَمْتَرُونَ

وہی تو ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر (مرنے کا) ایک وقت مقرر کر دیا اور ایک مدت اس کے ہاں اور مقرر ہے پھر بھی تم (اے کافرو خدا کے بارے میں) شک کرتے ہو

هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ : تمہیں مٹی سے پیدا کیا، یعنی آدم (علیہ السلام) کو، باقی سب لوگ چونکہ آدم ہی کی اولاد ہیں، اس لیے گویا سبھی مٹی سے پیدا ہوئے۔ ” طِيْنٍ “ میں تنوین تحقیر کے لیے ہے، اس لیے اس کا ترجمہ ” حقیر مٹی “ کہا گیا ہے۔ - ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا ۭ: پھر ایک مدت مقرر کی، یعنی موت کا وقت اور ایک اور مدت اس کے ہاں مقرر ہے، یعنی قیامت کا وقت، جسے صرف وہ جانتا ہے، اس کے سوا کسی کو اس کا علم نہیں۔ پھر بھی تم شک کرتے ہو، یعنی اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ جس نے مٹی کی ایک مٹھی سے تمہیں پیدا کیا، وہ دوبارہ بھی تمہیں زندہ کرسکتا ہے۔

3

وَهُوَ ٱللَّهُ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَفِى ٱلْأَرْضِ ۖ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ

اور آسمانوں اور زمین میں وہی (ایک) خدا ہے تمہاری پوشیدہ اور ظاہر سب باتیں جانتا ہے اور تم جو عمل کرتے ہو سب سے واقف ہے

وَهُوَ اللّٰهُ فِي السَّمٰوٰتِ وَفِي الْاَرْضِ ۭ۔۔ : اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کمال کو ثابت کیا ہے، اس آیت میں اس کے علم کا کامل ہونا ثابت فرمایا ہے، یعنی وہی ہستی ہے جسے آسمانوں اور زمین میں اللہ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ یہ آیت تقریباً اس آیت کی ہم معنی ہے : (وَهُوَ الَّذِيْ فِي السَّمَاۗءِ اِلٰهٌ وَّفِي الْاَرْضِ اِلٰهٌ ۭ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْعَلِيْم) [ الزخرف : ٨٤ ]” اور وہی ہے جو آسمانوں میں معبود ہے اور زمین میں بھی معبود ہے اور وہ کمال حکمت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ “ یعنی آسمانوں اور زمین میں ایک ہی ذات ہے جسے ” اللہ “ کہہ کر پکارا جاتا ہے، جس کی آسمانوں اور زمین دونوں میں حکومت ہے اور دونوں میں اس اکیلے ہی کی عبادت کی جاتی ہے، کیونکہ وہ تمہاری ہر چھپی یا کھلی بات کو اور تمہارے ہر عمل کو جانتا ہے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کے علم کا کمال ثابت ہوتا ہے اور یہ کمال اس کے معبود برحق ہونے کی ایک دلیل ہے۔- بعض لوگ اس آیت کو اللہ تعالیٰ کے عرش پر ہونے کے خلاف بطور دلیل پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر جگہ ہے اور کوئی عرش وغیرہ نہیں، جس پر اللہ تعالیٰ بلند ہو، حالانکہ اس آیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں، کیونکہ آیت میں اس کی ذات یا شخصیت کے آسمان و زمین میں ہونے کا بیان نہیں بلکہ زمین و آسمان میں اس کے ” اللہ “ یعنی معبود برحق ہونے کا بیان ہے، رہی اس کی ذات تو قرآن مجید میں اس کے عرش کا اور اللہ تعالیٰ کے اس کے اوپر ہونے کا واضح بیان ہے۔ قرآن کریم میں تقریباً اٹھارہ جگہ اللہ تعالیٰ کے عرش کا ذکر ہے، اور آٹھ جگہ اللہ تعالیٰ کے عرش پر مستوی ہونے کا ذکر ہے، اس لیے اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات عرش کے اوپر ہے، البتہ اپنے علم اور قدرت کے اعتبار سے وہ ہر جگہ ہے۔ اس لیے یہاں اس کے زمین و آسمان میں اللہ اور الٰہ ہونے کا مطلب یہی ہے کہ دونوں جگہ عبادت اسی کی کرنا لازم ہے اور دونوں جگہ وہی ہے جو کمال علم کی وجہ سے معبود برحق ہونے کا حق دار ہے۔

4

وَمَا تَأْتِيهِم مِّنْ ءَايَةٍۢ مِّنْ ءَايَٰتِ رَبِّهِمْ إِلَّا كَانُوا۟ عَنْهَا مُعْرِضِينَ

اور خدا کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ان لوگوں کے پاس نہیں آتی مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

وَمَا تَاْتِيْهِمْ مِّنْ اٰيَةٍ ۔۔ : ان آیات سے مراد وہ احکام بھی ہیں جو آیات کی صورت میں انبیاء پر اترتے رہے اور وہ معجزات بھی جو نبوت کی دلیل کے طور پر اترتے رہے۔ اس کے علاوہ زمین و آسمان میں موجود وہ بیشمار نشانیاں بھی جو اللہ کے وجود اور اس کی وحدانیت کی دلیل ہیں، مثلاً دیکھیے سورة بقرہ (١٦٤) ، یوسف (١٠٥) اور ذاریات (٢٠ تا ٢٣) ۔

5

فَقَدْ كَذَّبُوا۟ بِٱلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ ۖ فَسَوْفَ يَأْتِيهِمْ أَنۢبَٰٓؤُا۟ مَا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ

جب ان کے پاس حق آیا تو اس کو بھی جھٹلا دیا سو ان کو ان چیزوں کا جن سے یہ استہزا کرتے ہیں عنقریب انجام معلوم ہو جائے گا

فَقَدْ كَذَّبُوْا بالْحَقِّ ۔۔ : اوپر کی آیات میں توحید اور آخرت کو ثابت کیا ہے، اس آیت میں تقلید کا باطل ہونا ثابت ہو رہا ہے۔ ( رازی) حق سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ پر اترنے والی کتاب ہیں۔ کفار جس چیز پر ہنستے تھے وہ آخرت اور اس میں پیش آنے والے معاملات تھے اور اللہ تعالیٰ کے وہ وعدے بھی جو اس نے قرآن میں دین اسلام کے غالب اور دشمنوں کے مغلوب ہونے سے متعلق کیے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ اب تو یہ کفار اس وعدے کو محض مذاق سمجھتے ہوئے اس پر ہنستے اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں، لیکن عنقریب مسلمانوں کو مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا جائے گا اور پھر ایسے واقعات پیش آئیں گے کہ جن سے یہ وعدہ حقیقت بن کر ان کے سامنے آجائے گا اور آنکھیں بند ہونے کی دیر ہے کہ آخرت بھی، جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ان کے سامنے آجائے گی۔

6

أَلَمْ يَرَوْا۟ كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍۢ مَّكَّنَّٰهُمْ فِى ٱلْأَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّن لَّكُمْ وَأَرْسَلْنَا ٱلسَّمَآءَ عَلَيْهِم مِّدْرَارًۭا وَجَعَلْنَا ٱلْأَنْهَٰرَ تَجْرِى مِن تَحْتِهِمْ فَأَهْلَكْنَٰهُم بِذُنُوبِهِمْ وَأَنشَأْنَا مِنۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا ءَاخَرِينَ

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی امتوں کو ہلاک کر دیا جن کے پاؤں ملک میں ایسے جما دیئے تھے کہ تمہارے پاؤں بھی ایسے نہیں جمائے اور ان پر آسمان سے لگاتار مینہ برسایا اور نہریں بنا دیں جو ان کے (مکانوں کے) نیچے بہہ رہی تھیں پھر ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کر دیا اور ان کے بعد اور امتیں پیدا کر دیں

اَلَمْ يَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا۔۔ : کفار کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ کیا انھیں معلوم نہیں کہ ان سے پہلے کئی اقوام، مثلاً قوم نوح، عاد وثمود اور آل فرعون جو قوت و اقتدار میں ان سے کہیں بڑھ کر تھے اور بارشوں اور نہروں کی وجہ سے ان کے باغ اور کھیت سرسبز و شاداب تھے اور عیش و خوشحالی کا دور دورہ تھا، جب انھوں نے بغاوت اور سرکشی پر کمر باندھی تو ہم نے ان کا نام و نشان مٹا دیا، پھر ان کے بعد اور قومیں پیدا کردیں۔ جب تم سے زیادہ طاقت ور قوموں کو ہم نے ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کردیا تو تمہاری کیا حیثیت ہے۔ مزید دیکھیے سورة احقاف (٢٦، ٢٧) اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دنیوی ترقی اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی دلیل نہیں، بلکہ ان پر حجت قائم کرنے کے لیے استدراج ( رسی ڈھیلی کرنا) بھی ہوسکتا ہے۔ اس امتحان کا نتیجہ آخرت کو سامنے آئے گا۔

7

وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتَٰبًۭا فِى قِرْطَاسٍۢ فَلَمَسُوهُ بِأَيْدِيهِمْ لَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِنْ هَٰذَآ إِلَّا سِحْرٌۭ مُّبِينٌۭ

اور اگر ہم تم پر کاغذوں پر لکھی ہوئی کتاب نازل کرتے اور یہ اسے اپنے ہاتھوں سے بھی ٹٹول لیتے تو جو کافر ہیں وہ یہی کہہ دیتے کہ یہ تو (صاف اور) صریح جادو ہے

وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتٰبًا۔۔ : اب ان لوگوں کا ذکر ہے جو انبیاء کے معجزات کی کوئی الٹی سیدھی تاویل کر کے انھیں جھٹلا دیتے تھے۔ ( رازی) اس آیت میں کفار مکہ کی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھٹلانے کے لیے پیش کردہ فرمائشوں میں سے ایک فرمائش (بنی اسرائیل : ٩٣) کا جواب ہے کہ ہم اس وقت تک تمہارے آسمان پر چڑھنے کا یقین نہیں کریں گے جب تک تم ہم پر ایسی کتاب نازل نہیں کرتے جسے ہم خود پڑھیں۔ یہ لوگ اپنی سرکشی اور کفر کی روش میں اس قدر پختہ ہیں کہ اگر ہم ان پر آسمان سے لکھی لکھائی کتاب بھی اتار دیتے، جسے یہ اپنے ہاتھوں سے چھو کر صاف معلوم کرلیتے کہ یہ کوئی خیالی اور نظر بندی جیسی چیز نہیں، بلکہ حقیقت ہے، تب بھی یہ لوگ اسے کھلا جادو قرار دیتے، پھر اگر یہ بدبخت قرآن کو جادو قرار دیتے ہیں تو کیا تعجب ہے ؟ (قرطبی) شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” جس کی قسمت میں ہدایت نہیں اس کا شبہ نہیں مٹتا۔ “ (موضح) مزید دیکھیے سورة حجر (١٤، ١٥) اور طور (٤٤) ۔

8

وَقَالُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ مَلَكٌۭ ۖ وَلَوْ أَنزَلْنَا مَلَكًۭا لَّقُضِىَ ٱلْأَمْرُ ثُمَّ لَا يُنظَرُونَ

اور کہتے ہیں کہ ان (پیغمبر) پر فرشتہ کیوں نازل نہ ہوا (جو ان کی تصدیق کرتا) اگر ہم فرشتہ نازل کرتے تو کام ہی فیصل ہو جاتا پھر انھیں (مطلق) مہلت نہ دی جاتی

وَقَالُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ مَلَكٌ : یہ نبوت کے منکرین کا ایک اور اعتراض ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو مخلوق کی طرف رسول بھیجنا ہی تھا تو وہ انسان کے بجائے فرشتہ ہونا چاہیے تھا، یا فرشتہ اس کے ساتھ ساتھ پھرتا اور کہتا کہ یہ اللہ کا رسول ہے، اس پر ایمان لے آؤ، ورنہ تمہیں سزا دی جائے گی۔ - وَلَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِيَ الْاَمْرُ ۔۔ : یہ پہلا جواب ہے۔ (رازی) کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ چلا آیا ہے کہ جب کوئی قوم اپنے نبی سے معجزہ طلب کرے اور وہ اسے دکھا دیا جائے، لیکن اس کے بعد بھی وہ ایمان نہ لائے تو اسے ہلاک کردیا جاتا ہے، اس لیے اگر فرشتے اصل صورت میں نازل ہوتے تو ان کے پاس عذاب لے کر آتے اور ان کا قصہ ہی تمام ہوجاتا۔ دیکھیے سورة حجر (٦ تا ٨) اور سورة فرقان (٢١، ٢٢) ۔

9

وَلَوْ جَعَلْنَٰهُ مَلَكًۭا لَّجَعَلْنَٰهُ رَجُلًۭا وَلَلَبَسْنَا عَلَيْهِم مَّا يَلْبِسُونَ

نیز اگر ہم کسی فرشتہ کو بھیجتے تو اسے مرد کی صورت میں بھیجتے اور جو شبہ (اب) کرتے ہیں اسی شبے میں پھر انہیں ڈال دیتے

وَلَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا۔۔ : یہ کفار کے اعتراض کا دوسرا جواب ہے، یعنی ان کے مطالبے کو مانتے ہوئے ہم فرشتہ اتارنا منظور کر بھی لیتے تو وہ بھی انسانی صورت میں آتا، کیونکہ یہ اسے اس کی اصل شکل میں تو دیکھ ہی نہیں سکتے اور جب وہ آدمی کی شکل میں ہوتا تو پھر یہی اعتراض کرتے جو اب کر رہے ہیں۔ اس وقت کے کافر کسی انسان کو نبی ماننے کے لیے تیار نہیں تھے، کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی قوم سے تھے، ان کے سامنے جوان ہوئے اور انھی میں زندگی گزاری۔ اب کچھ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبی تو مانتے ہیں، مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو انسان ماننے کے لیے تیار نہیں۔ گویا ایک ہی عقیدے کی دو شکلیں ہیں اور دونوں باطل ہیں، حالانکہ اللہ نے اپنا احسان جتلایا ہے کہ میں نے انسانوں میں انھی کے اندر سے رسول بھیجا ہے۔ دیکھیے سورة آل عمران (١٦٤) ۔

10

وَلَقَدِ ٱسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍۢ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِٱلَّذِينَ سَخِرُوا۟ مِنْهُم مَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ

اور تم سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ تمسخر ہوتے رہے ہیں سو جو لوگ ان میں سے تمسخر کیا کرتے تھے ان کو تمسخر کی سزا نے آگھیرا

وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ ۔۔ : اس آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی ہے کہ آپ کو جھٹلانے اور اللہ کے عذاب کا مذاق اڑانے کا جو معاملہ آپ کے ساتھ ہو رہا ہے، پہلے رسولوں کے ساتھ بھی ہوا، آخر کار اسی عذاب نے کفار کو آگھیرا جس کا مذاق اڑاتے ہوئے وہ کہا کرتے تھے کہ کوئی عذاب نہیں آئے گا، یہ محض دھمکی ہے۔

Al-An'aam 6:10Listen in Qur'an →

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.