Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 21–30 of 165

21

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِـَٔايَٰتِهِۦٓ ۗ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلظَّٰلِمُونَ

اور اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جس نے خدا پر جھوٹ افتراء کیا یا اس کی آیتوں کو جھٹلایا۔ کچھ شک نہیں کہ ظالم لوگ نجات نہیں پائیں گے

اور کون زیادہ ظالم ہے اس شخص سے، جو باندھے اوپر اللہ کے جھوٹ یا جھٹلائے اس کی آیات کو، یقینا نہیں فلاح پائیں گے ظالم(21)

[21] یعنی ظلم اور عناد میں اس شخص سے بڑھ کر کوئی نہیں جس میں ان دونوں اوصاف میں سے کوئی ایک وصف ہو، چہ جائیکہ جس میں دونوں ہی جمع ہوں :(۱) اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھوٹ گھڑنا۔ (۲) اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانا جنھیں رسول لے کر آئے ہیں ۔ یہ شخص سب سے بڑا ظالم ہے اور ظالم کبھی فلاح نہیں پاتا۔ اس آیت کریمہ کی وعید میں وہ تمام لوگ داخل ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں افترا پردازی کرتے ہوئے اس کے شریک اور معاون ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی بندگی کرنا جائز ہے یا اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے کوئی بیوی یا بیٹا بنایا ہے۔ اور اس وعید میں وہ تمام لوگ بھی شامل ہیں جنھوں نے حق کو جھٹلایا جسے لے کر انبیا و مرسلین مبعوث ہوئے اور جس کے علم بردار ان کے جانشین (داعیان حق) ہوئے۔

Al-An'aam 6:21Listen in Qur'an →
22

وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًۭا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوٓا۟ أَيْنَ شُرَكَآؤُكُمُ ٱلَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ

اور جس دن ہم سب لوگوں کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے پوچھیں گے کہ (آج) وہ تمہارے شریک کہاں ہیں جن کو تمہیں دعویٰ تھا

اور جس دن ہم اکٹھا کریں گے ان سب کو، پھر ہم کہیں گے ان لوگوں کو جو شریک ٹھہراتے تھے، کہاں ہیں تمھارے وہ شریک کہ جنھیں تھے تم (شریک) گمان کرتے؟(22) پھر نہ ہوگی معذرت ان کی مگر یہ کہ وہ کہیں گے قسم ہے اللہ، ہمارے رب کی! نہیں تھے ہم مشرک(23) دیکھیں ! کیسا جھوٹ بولیں گے وہ اپنے آپ پر اور گم ہو جائے گا ان سے جو تھے وہ افتراء باندھتے(24)

[22] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز اہل شرک کے انجام کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے ان سے اس شرک کے بارے میں پوچھا جائے گا اور ان کو زجر و توبیخ کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا ﴿اَيۡنَ شُرَؔكَآؤُكُمُ الَّذِيۡنَ كُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ﴾ ’’تمھارے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم شریک گمان کرتے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا تو کوئی شریک نہیں ، یہ محض زعم باطل اور تمھاری افترا پردازی ہے جو تم نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا دیے۔

[23]﴿ ثُمَّ لَمۡ تَكُنۡ فِتۡنَتُهُمۡ ﴾ ’’پھر نہ رہے گا ان کے پاس کوئی فریب‘‘ یعنی جب ان کو آزمایا جائے گا اور مذکورہ سوال کیا جائے گا تو ان کا جواب اس کے سوا کوئی نہیں ہو گا کہ وہ اپنے شرک کا ہی انکار کر دیں گے اور قسم اٹھا کر کہیں گے کہ وہ مشرک نہیں ہیں۔

[24]﴿ اُنۡظُرۡؔ ﴾ ’’دیکھیے‘‘ یعنی ان پر اور ان کے احوال پر تعجب کرتے ہوئے دیکھیے ﴿ كَيۡفَ كَذَبُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’کیسے جھوٹ بولا انھوں نے اپنے پر‘‘ یعنی انھوں نے ایسا جھوٹ باندھا کہ… اللہ کی قسم!… اس کا خسارہ اور انتہائی نقصان انھی کو پہنچے گا ﴿ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اور کھو گئیں ان سے وہ باتیں جو وہ بنایا کرتے تھے‘‘ یعنی وہ شریک جو وہ گھڑا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ الوہیت میں شریک ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس افتراپردازی سے بالا و بلند تر ہے۔

Al-An'aam 6:22Listen in Qur'an →
23

ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّآ أَن قَالُوا۟ وَٱللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ

تو ان سے کچھ عذر نہ بن پڑے گا (اور) بجز اس کے (کچھ چارہ نہ ہوگا) کہ کہیں خدا کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے ہم شریک نہیں بناتے تھے

اور جس دن ہم اکٹھا کریں گے ان سب کو، پھر ہم کہیں گے ان لوگوں کو جو شریک ٹھہراتے تھے، کہاں ہیں تمھارے وہ شریک کہ جنھیں تھے تم (شریک) گمان کرتے؟(22) پھر نہ ہوگی معذرت ان کی مگر یہ کہ وہ کہیں گے قسم ہے اللہ، ہمارے رب کی! نہیں تھے ہم مشرک(23) دیکھیں ! کیسا جھوٹ بولیں گے وہ اپنے آپ پر اور گم ہو جائے گا ان سے جو تھے وہ افتراء باندھتے(24)

[22] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز اہل شرک کے انجام کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے ان سے اس شرک کے بارے میں پوچھا جائے گا اور ان کو زجر و توبیخ کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا ﴿اَيۡنَ شُرَؔكَآؤُكُمُ الَّذِيۡنَ كُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ﴾ ’’تمھارے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم شریک گمان کرتے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا تو کوئی شریک نہیں ، یہ محض زعم باطل اور تمھاری افترا پردازی ہے جو تم نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا دیے۔

[23]﴿ ثُمَّ لَمۡ تَكُنۡ فِتۡنَتُهُمۡ ﴾ ’’پھر نہ رہے گا ان کے پاس کوئی فریب‘‘ یعنی جب ان کو آزمایا جائے گا اور مذکورہ سوال کیا جائے گا تو ان کا جواب اس کے سوا کوئی نہیں ہو گا کہ وہ اپنے شرک کا ہی انکار کر دیں گے اور قسم اٹھا کر کہیں گے کہ وہ مشرک نہیں ہیں۔

[24]﴿ اُنۡظُرۡؔ ﴾ ’’دیکھیے‘‘ یعنی ان پر اور ان کے احوال پر تعجب کرتے ہوئے دیکھیے ﴿ كَيۡفَ كَذَبُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’کیسے جھوٹ بولا انھوں نے اپنے پر‘‘ یعنی انھوں نے ایسا جھوٹ باندھا کہ… اللہ کی قسم!… اس کا خسارہ اور انتہائی نقصان انھی کو پہنچے گا ﴿ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اور کھو گئیں ان سے وہ باتیں جو وہ بنایا کرتے تھے‘‘ یعنی وہ شریک جو وہ گھڑا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ الوہیت میں شریک ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس افتراپردازی سے بالا و بلند تر ہے۔

Al-An'aam 6:23Listen in Qur'an →
24

ٱنظُرْ كَيْفَ كَذَبُوا۟ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ ۚ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ

دیکھو انہوں نے اپنے اوپر کیسا جھوٹ بولا اور جو کچھ یہ افتراء کیا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہا

اور جس دن ہم اکٹھا کریں گے ان سب کو، پھر ہم کہیں گے ان لوگوں کو جو شریک ٹھہراتے تھے، کہاں ہیں تمھارے وہ شریک کہ جنھیں تھے تم (شریک) گمان کرتے؟(22) پھر نہ ہوگی معذرت ان کی مگر یہ کہ وہ کہیں گے قسم ہے اللہ، ہمارے رب کی! نہیں تھے ہم مشرک(23) دیکھیں ! کیسا جھوٹ بولیں گے وہ اپنے آپ پر اور گم ہو جائے گا ان سے جو تھے وہ افتراء باندھتے(24)

[22] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز اہل شرک کے انجام کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے ان سے اس شرک کے بارے میں پوچھا جائے گا اور ان کو زجر و توبیخ کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا ﴿اَيۡنَ شُرَؔكَآؤُكُمُ الَّذِيۡنَ كُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ﴾ ’’تمھارے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم شریک گمان کرتے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا تو کوئی شریک نہیں ، یہ محض زعم باطل اور تمھاری افترا پردازی ہے جو تم نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا دیے۔

[23]﴿ ثُمَّ لَمۡ تَكُنۡ فِتۡنَتُهُمۡ ﴾ ’’پھر نہ رہے گا ان کے پاس کوئی فریب‘‘ یعنی جب ان کو آزمایا جائے گا اور مذکورہ سوال کیا جائے گا تو ان کا جواب اس کے سوا کوئی نہیں ہو گا کہ وہ اپنے شرک کا ہی انکار کر دیں گے اور قسم اٹھا کر کہیں گے کہ وہ مشرک نہیں ہیں۔

[24]﴿ اُنۡظُرۡؔ ﴾ ’’دیکھیے‘‘ یعنی ان پر اور ان کے احوال پر تعجب کرتے ہوئے دیکھیے ﴿ كَيۡفَ كَذَبُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’کیسے جھوٹ بولا انھوں نے اپنے پر‘‘ یعنی انھوں نے ایسا جھوٹ باندھا کہ… اللہ کی قسم!… اس کا خسارہ اور انتہائی نقصان انھی کو پہنچے گا ﴿ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اور کھو گئیں ان سے وہ باتیں جو وہ بنایا کرتے تھے‘‘ یعنی وہ شریک جو وہ گھڑا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ الوہیت میں شریک ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس افتراپردازی سے بالا و بلند تر ہے۔

Al-An'aam 6:24Listen in Qur'an →
25

وَمِنْهُم مَّن يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ ۖ وَجَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِىٓ ءَاذَانِهِمْ وَقْرًۭا ۚ وَإِن يَرَوْا۟ كُلَّ ءَايَةٍۢ لَّا يُؤْمِنُوا۟ بِهَا ۚ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُوكَ يُجَٰدِلُونَكَ يَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِنْ هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ

اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ تمہاری (باتوں کی) طرف کان رکھتے ہیں۔ اور ہم نے ان کے دلوں پر تو پردے ڈال دیئے ہیں کہ ان کو سمجھ نہ سکیں اور کانوں میں ثقل پیدا کردیا ہے (کہ سن نہ سکیں) اور اگر یہ تمام نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں۔ یہاں تک کہ جب تمہارے پاس تم سے بحث کرنے کو آتے ہیں تو جو کافر ہیں کہتے ہیں یہ (قرآن) اور کچھ بھی نہیں صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں

اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو کان لگاتے ہیں آپ کی طرف اور کر دیے ہم نے ان کے دلوں پر پردے کہ وہ اسے سمجھ ہی (نہ) سکیں اور ان کے کانوں میں ڈاٹ ہےاور اگر دیکھ لیں وہ ساری نشانیاں ، نہیں ایمان لائیں گے وہ ان پر، حتی کہ جب آتے ہیں وہ آپ کے پاس جھگڑتے ہوئے آپ سے تو کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، نہیں ہیں یہ مگر داستانیں پہلوں کی(25)

[25] یعنی ان مشرکین میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کو ان کے بعض داعیے بسا اوقات سننے پر آمادہ کر دیتے ہیں مگر یہ سننا قصدِ حق اور اس کی اتباع سے عاری ہوتا ہے بنابریں وہ اس سننے سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ کیونکہ ان کا ارادہ بھلائی کا نہیں ہوتا ﴿وَجَعَلۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اَكِنَّةً ﴾ ’’اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں ‘‘ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو نہ سمجھیں اور اللہ تعالیٰ کا کلام اس قسم کے لوگوں سے محفوظ رہے ﴿ وَفِيۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرًا ﴾ ’’اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کردیا ہے۔‘‘ یعنی ان کے کانوں میں بہرا پن اور گرانی ہے وہ اس طرح نہیں سن سکتے جس سے ان کو کوئی فائدہ پہنچے۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا ﴾ ’’اور اگر وہ دیکھ لیں تمام نشانیاں ، تب بھی ایمان نہیں لائیں گے‘‘ اور یہ ظلم و عناد کی انتہا ہے کہ وہ حق کو ثابت کرنے والے واضح دلائل کو مانتے ہیں نہ ان کی تصدیق کرتے ہیں بلکہ حق کو نیچا دکھانے کے لیے باطل کی مدد سے جھگڑتے ہیں ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوۡكَ يُجَادِلُوۡنَكَ يَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’یہاں تک کہ جب آپ کے پاس آتے ہیں جھگڑنے کو تو کافر کہتے ہیں ، یہ تو صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں ‘‘ یعنی یہ سب کچھ پہلے لوگوں کی لکھی ہوئی کتابوں سے ماخوذ کیا گیا ہے جو اللہ کی طرف سے ہیں نہ اس کے رسولوں کی طرف سے۔ یہ ان کا کفر محض ہے ورنہ اس کتاب کو پہلے لوگوں کی کہانیاں کیسے کہا جا سکتا ہے جو گزرے ہوئے اور آنے والے لوگوں ، انبیا و مرسلین کے لائے ہوئے حقائق، حق اور ہرپہلو سے کامل عدل و انصاف پر مشتمل ہے؟

Al-An'aam 6:25Listen in Qur'an →
26

وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْـَٔوْنَ عَنْهُ ۖ وَإِن يُهْلِكُونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ

وہ اس سے (اوروں کو بھی) روکتے ہیں اور خود بھی پرے رہتے ہیں مگر (ان باتوں سے) اپنے آپ ہی کو ہلاک کرتے ہیں اور (اس سے) بےخبر ہیں

اور وہ روكتے ہیں اس سے (دوسروں کو) اور دور رہتے ہیں (خود بھی) اس سےاور نہیں ہلاک کرتے وہ مگر اپنے آپ کواور وہ نہیں شعور رکھتے(26)

[26]﴿ وَهُمۡ ﴾ ’’اور وہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والے اور اس کے رسولﷺ کی تکذیب کرنے والے لوگ گمراہ ہونے اور گمراہ کرنے کی صفات کے جامع ہیں ، وہ لوگوں کو بھی اتباع حق سے روکتے ہیں ، انھیں حق سے ڈراتے ہیں اور خود اپنے آپ کو بھی حق سے دور رکھتے ہیں ۔ وہ اپنے ان کرتوتوں سے اللہ تعالیٰ اور اس کے مومن بندوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ﴿وَاِنۡ يُّهۡلِكُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَهُمۡ وَمَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’وہ اپنے آپ کو ہی ہلاک کرتے ہیں اور سمجھتے نہیں ہیں ‘‘ یعنی ان کو اس کا شعور نہیں ۔

Al-An'aam 6:26Listen in Qur'an →
27

وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذْ وُقِفُوا۟ عَلَى ٱلنَّارِ فَقَالُوا۟ يَٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِـَٔايَٰتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ

کاش تم (ان کو اس وقت) دیکھو جب یہ دوزخ کے کنارے کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے کہ اے کاش ہم پھر (دنیا میں) لوٹا دیئے جائیں تاکہ اپنے پروردگار کی آیتوں کی تکذیب نہ کریں اور مومن ہوجائیں

اور اگر آپ دیکھیں جبکہ کھڑے کیے جائیں گے وہ اوپر آگ کے تو کہیں گے، اے کاش! ہم لوٹا دیے جائیں تو نہ جھٹلائیں گے ہم آیات اپنے رب کی اور ہوں گے ہم مومنوں سے(27)بلکہ ظاہر ہو جائے گا ان کے لیے جو تھے وہ چھپاتے پہلےاور اگر وہ لوٹا دیے جائیں تب بھی کریں گے وہ ، پھر وہی کام کہ روکے گئے تھے وہ ان سےاور یقینا وہ جھوٹے ہیں (28) اور کہتے ہیں وہ کہ نہیں ہے یہ (زندگی) مگر زندگی ہماری دنیا کی اور نہیں ہم اٹھائے جائیں گے(29)

[27] اللہ تعالیٰ قیامت کے روز مشرکین کے حال اور جہنم کے سامنے ان کو کھڑے کیے جانے کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَوۡ تَرٰۤى اِذۡ وُقِفُوۡا عَلَى النَّارِ ﴾ ’’اگر آپ دیکھیں جس وقت کھڑے کیے جائیں گے وہ دوزخ پر‘‘ تاکہ ان کو زجر و توبیخ کی جائے.... تو آپ بہت ہولناک معاملہ اور ان کا بہت برا حال دیکھتے نیز آپ یہ دیکھتے کہ یہ لوگ اپنے کفر و فسق کا اقرار کرتے ہیں اور تمنا کرتے ہیں کہ کاش ان کو دنیا میں پھر واپس بھیجا جائے ﴿ فَقَالُوۡا يٰلَيۡتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ کہیں گے، اے کاش ہم پھر بھیج دیے جائیں اور ہم نہ جھٹلائیں اپنے رب کی آیتوں کو اور ہو جائیں ہم ایمان والوں میں سے‘‘

[28]﴿ بَلۡ بَدَا لَهُمۡ مَّا كَانُوۡا يُخۡفُوۡنَ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’ بلکہ ظاہر ہو گیا جو وه چھپاتے تھے پہلے‘‘ اس لیے کہ وہ اپنے دل میں اس حقیقت کو چھپاتے تھے کہ وہ جھوٹے ہیں اور ان کے دلوں کا جھوٹ بسا اوقات ظاہر ہو جاتا تھا۔ مگر ان کی فاسد اغراض ان کو حق سے روک دیتی تھیں اور ان کے دلوں کو بھلائی سے پھیر دیتی تھیں ، وہ اپنی ان تمناؤں میں جھوٹے ہیں ، ان کا مقصد محض اپنے آپ کو عذاب سے ہٹانا ہے۔ ﴿ وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’اگر ان کو واپس لوٹا بھی دیا گیا تو یہ دوبارہ وہی کچھ کریں گے جس سے ان کو روکا گیا ہے۔ اور بے شک یہ سخت جھوٹے ہیں ۔‘‘

[29]﴿وَقَالُوۡۤا ﴾ ’’اور وہ کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کرنے والے کہتے ہیں ﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا ﴾ ’’ہماری جو دنیا کی زندگی ہے بس یہی (زندگی) ہے۔‘‘ یعنی حقیقت حال یہ ہے کہ ہمیں وجود میں لانے کا اس دنیا کی زندگی کے سوا اور کوئی مقصد نہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِيۡنَ۠ ﴾ ’’ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا۔‘‘

Al-An'aam 6:27Listen in Qur'an →
28

بَلْ بَدَا لَهُم مَّا كَانُوا۟ يُخْفُونَ مِن قَبْلُ ۖ وَلَوْ رُدُّوا۟ لَعَادُوا۟ لِمَا نُهُوا۟ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَٰذِبُونَ

ہاں یہ جو کچھ پہلے چھپایا کرتے تھے (آج) ان پر ظاہر ہوگیا ہے اور اگر یہ (دنیا میں) لوٹائے بھی جائیں تو جن (کاموں) سے ان کو منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگیں۔کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں

اور اگر آپ دیکھیں جبکہ کھڑے کیے جائیں گے وہ اوپر آگ کے تو کہیں گے، اے کاش! ہم لوٹا دیے جائیں تو نہ جھٹلائیں گے ہم آیات اپنے رب کی اور ہوں گے ہم مومنوں سے(27)بلکہ ظاہر ہو جائے گا ان کے لیے جو تھے وہ چھپاتے پہلےاور اگر وہ لوٹا دیے جائیں تب بھی کریں گے وہ ، پھر وہی کام کہ روکے گئے تھے وہ ان سےاور یقینا وہ جھوٹے ہیں (28) اور کہتے ہیں وہ کہ نہیں ہے یہ (زندگی) مگر زندگی ہماری دنیا کی اور نہیں ہم اٹھائے جائیں گے(29)

[27] اللہ تعالیٰ قیامت کے روز مشرکین کے حال اور جہنم کے سامنے ان کو کھڑے کیے جانے کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَوۡ تَرٰۤى اِذۡ وُقِفُوۡا عَلَى النَّارِ ﴾ ’’اگر آپ دیکھیں جس وقت کھڑے کیے جائیں گے وہ دوزخ پر‘‘ تاکہ ان کو زجر و توبیخ کی جائے.... تو آپ بہت ہولناک معاملہ اور ان کا بہت برا حال دیکھتے نیز آپ یہ دیکھتے کہ یہ لوگ اپنے کفر و فسق کا اقرار کرتے ہیں اور تمنا کرتے ہیں کہ کاش ان کو دنیا میں پھر واپس بھیجا جائے ﴿ فَقَالُوۡا يٰلَيۡتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ کہیں گے، اے کاش ہم پھر بھیج دیے جائیں اور ہم نہ جھٹلائیں اپنے رب کی آیتوں کو اور ہو جائیں ہم ایمان والوں میں سے‘‘

[28]﴿ بَلۡ بَدَا لَهُمۡ مَّا كَانُوۡا يُخۡفُوۡنَ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’ بلکہ ظاہر ہو گیا جو وه چھپاتے تھے پہلے‘‘ اس لیے کہ وہ اپنے دل میں اس حقیقت کو چھپاتے تھے کہ وہ جھوٹے ہیں اور ان کے دلوں کا جھوٹ بسا اوقات ظاہر ہو جاتا تھا۔ مگر ان کی فاسد اغراض ان کو حق سے روک دیتی تھیں اور ان کے دلوں کو بھلائی سے پھیر دیتی تھیں ، وہ اپنی ان تمناؤں میں جھوٹے ہیں ، ان کا مقصد محض اپنے آپ کو عذاب سے ہٹانا ہے۔ ﴿ وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’اگر ان کو واپس لوٹا بھی دیا گیا تو یہ دوبارہ وہی کچھ کریں گے جس سے ان کو روکا گیا ہے۔ اور بے شک یہ سخت جھوٹے ہیں ۔‘‘

[29]﴿وَقَالُوۡۤا ﴾ ’’اور وہ کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کرنے والے کہتے ہیں ﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا ﴾ ’’ہماری جو دنیا کی زندگی ہے بس یہی (زندگی) ہے۔‘‘ یعنی حقیقت حال یہ ہے کہ ہمیں وجود میں لانے کا اس دنیا کی زندگی کے سوا اور کوئی مقصد نہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِيۡنَ۠ ﴾ ’’ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا۔‘‘

Al-An'aam 6:28Listen in Qur'an →
29

وَقَالُوٓا۟ إِنْ هِىَ إِلَّا حَيَاتُنَا ٱلدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ

اور کہتے ہیں کہ ہماری جو دنیا کی زندگی ہے بس یہی (زندگی) ہے اور ہم (مرنے کے بعد) پھر زندہ نہیں کئے جائیں گے

اور اگر آپ دیکھیں جبکہ کھڑے کیے جائیں گے وہ اوپر آگ کے تو کہیں گے، اے کاش! ہم لوٹا دیے جائیں تو نہ جھٹلائیں گے ہم آیات اپنے رب کی اور ہوں گے ہم مومنوں سے(27)بلکہ ظاہر ہو جائے گا ان کے لیے جو تھے وہ چھپاتے پہلےاور اگر وہ لوٹا دیے جائیں تب بھی کریں گے وہ ، پھر وہی کام کہ روکے گئے تھے وہ ان سےاور یقینا وہ جھوٹے ہیں (28) اور کہتے ہیں وہ کہ نہیں ہے یہ (زندگی) مگر زندگی ہماری دنیا کی اور نہیں ہم اٹھائے جائیں گے(29)

[27] اللہ تعالیٰ قیامت کے روز مشرکین کے حال اور جہنم کے سامنے ان کو کھڑے کیے جانے کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَوۡ تَرٰۤى اِذۡ وُقِفُوۡا عَلَى النَّارِ ﴾ ’’اگر آپ دیکھیں جس وقت کھڑے کیے جائیں گے وہ دوزخ پر‘‘ تاکہ ان کو زجر و توبیخ کی جائے.... تو آپ بہت ہولناک معاملہ اور ان کا بہت برا حال دیکھتے نیز آپ یہ دیکھتے کہ یہ لوگ اپنے کفر و فسق کا اقرار کرتے ہیں اور تمنا کرتے ہیں کہ کاش ان کو دنیا میں پھر واپس بھیجا جائے ﴿ فَقَالُوۡا يٰلَيۡتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ کہیں گے، اے کاش ہم پھر بھیج دیے جائیں اور ہم نہ جھٹلائیں اپنے رب کی آیتوں کو اور ہو جائیں ہم ایمان والوں میں سے‘‘

[28]﴿ بَلۡ بَدَا لَهُمۡ مَّا كَانُوۡا يُخۡفُوۡنَ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’ بلکہ ظاہر ہو گیا جو وه چھپاتے تھے پہلے‘‘ اس لیے کہ وہ اپنے دل میں اس حقیقت کو چھپاتے تھے کہ وہ جھوٹے ہیں اور ان کے دلوں کا جھوٹ بسا اوقات ظاہر ہو جاتا تھا۔ مگر ان کی فاسد اغراض ان کو حق سے روک دیتی تھیں اور ان کے دلوں کو بھلائی سے پھیر دیتی تھیں ، وہ اپنی ان تمناؤں میں جھوٹے ہیں ، ان کا مقصد محض اپنے آپ کو عذاب سے ہٹانا ہے۔ ﴿ وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’اگر ان کو واپس لوٹا بھی دیا گیا تو یہ دوبارہ وہی کچھ کریں گے جس سے ان کو روکا گیا ہے۔ اور بے شک یہ سخت جھوٹے ہیں ۔‘‘

[29]﴿وَقَالُوۡۤا ﴾ ’’اور وہ کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کرنے والے کہتے ہیں ﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا ﴾ ’’ہماری جو دنیا کی زندگی ہے بس یہی (زندگی) ہے۔‘‘ یعنی حقیقت حال یہ ہے کہ ہمیں وجود میں لانے کا اس دنیا کی زندگی کے سوا اور کوئی مقصد نہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِيۡنَ۠ ﴾ ’’ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا۔‘‘

Al-An'aam 6:29Listen in Qur'an →
30

وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذْ وُقِفُوا۟ عَلَىٰ رَبِّهِمْ ۚ قَالَ أَلَيْسَ هَٰذَا بِٱلْحَقِّ ۚ قَالُوا۟ بَلَىٰ وَرَبِّنَا ۚ قَالَ فَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ

اور کاش تم (ان کو اس وقت) دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کےسامنے کھڑے کئے جائیں گے اور وہ فرمائےگا کیا یہ (دوبارہ زندہ ہونا) برحق نہیں تو کہیں گے کیوں نہیں پروردگار کی قسم (بالکل برحق ہے) خدا فرمائے گا اب کفر کے بدلے (جو دنیا میں کرتے تھے) عذاب (کے مزے) چکھو

اور کاش کہ دیکھیں آپ جب کھڑے کیے جائیں گے وہ سامنے اپنے رب کے، کہے گا وہ، کیا نہیں ہے یہ حق؟ وہ کہیں گے، کیوں نہیں ، قسم ہے ہمارے رب کی! تو فرمائے گا وہ، پس چکھو تم عذاب بوجہ اس کے جو تھے تم کفر کرتے(30)

[30]﴿ وَلَوۡ تَرٰۤى ﴾ ’’اگر آپ دیکھیں ‘‘ یعنی اگر آپ کافروں کو دیکھیں ﴿ اِذۡ وُقِفُوۡا عَلٰى رَبِّهِمۡ ﴾ ’’جبکہ انھیں ان کے رب کے سامنے کھڑا کیا جائے گا‘‘ تو آپ بہت بڑا معاملہ اور بہت ہولناک منظر دیکھیں گے۔ ﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمائے گا: ﴿ اَلَيۡسَ هٰؔذَا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’کیا یہ برحق نہیں۔‘‘ یعنی وہ عذاب جو تم دیکھ رہے ہو، کیا یہ سچ نہیں ؟ ﴿ قَالُوۡا بَلٰى وَرَبِّنَا ﴾ ’’وہ کہیں گے کیوں نہیں ، قسم ہے اپنے رب کی‘‘ پس وہ اقرار اور اعتراف کریں گے جبکہ یہ اعتراف انھیں کوئی فائدہ نہ دے گا ﴿ قَالَ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ ﴾ ’’اب چکھو اس عذاب کا مزا جس کا تم انکار کیا کرتے تھے۔‘‘

Al-An'aam 6:30Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.