Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 21–30 of 165

21

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِـَٔايَٰتِهِۦٓ ۗ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلظَّٰلِمُونَ

اور اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جس نے خدا پر جھوٹ افتراء کیا یا اس کی آیتوں کو جھٹلایا۔ کچھ شک نہیں کہ ظالم لوگ نجات نہیں پائیں گے

(آیت) ” نمبر 21 تا 24۔

بات کی مناسب سے اب مشرکین کے سامنے وہ حقیقت رکھی جاتی ہے جس پر وہ دنیا میں قائم تھے ۔ اس کی روشنی میں ان کے موقف اور عمل کو خدا تعالیٰ کے پیمانوں سے ناپا جاتا ہے ۔ سب سے پہلے ان سے پوچھا جاتا ہے کہ ذرا وہ اپنے رویے پر غور کریں کہ وہ اللہ پر افترا پردازی کرنے سے بھی نہیں چوکتے ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ وہ اس دین پر ہیں جس کے ساتھ حضرت ابراہیم مبعوث ہوئے تھے ۔ اور ان کے مزعومات میں سے یہ بھی تھا کہ وہ خود جن چیزوں کو حلال اور حرام قرار دیتے تھے ان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے جیسا کہ اس سورة کے آخر میں لفظ بزعمہم سے اس کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔ حالانکہ اللہ نے اس چیز کی حلت یا حرمت کا کوئی حکم نہیں دیا تھا ۔ جس طرح آج ہمارے زمانے میں بیشمار لوگ دعوائے اسلام کرتے ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ‘ حالانکہ ان کا یہ دعوی سراسر جھوٹا ہے ۔ اور اللہ پر افتراء ہے ۔ وہ خود اپنی جانب سے قوانین اور فرامین جاری کرتے ہیں ‘ خود اپنی جانب سے زندگی کے اوضاع واطوار اور رسومات پیدا کرتے ہیں اور اپنی جانب سے نئی نئی چیزیں جاری کرتے ہیں ۔ اس طرح وہ ان معاملات میں اللہ کے اقتدار اعلی کو غصب کرلیتے ہیں اور خود مقتدر اعلی بن بیٹھتے ہیں ۔ پھر بھی ان کا دعوی یہ ہے کہ وہ دین اسلام پر ہیں جو سراسر جھوٹ ہے ۔ ان میں سے تعلیم یافتہ لوگ جنہوں نے اپنا دین فروخت کردیا ہے اور اپنے لئے جہنم کے بدترین درجے کو الاٹ کرا لیا ہے وہ ایسے لوگوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ وہ پھر بھی مسلمان ہیں ۔ ان آیات میں ان کی جانب سے پیش کی جانے والی آیات کو جھٹلانے پر بھی ان کے خلاف نکیر کی جاتی ہے ۔ انہوں نے آیات الہیہ کو مسترد کیا ‘ ان کا مقابلہ اور انکار کیا ‘ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ یہ آیات از جانب اللہ نہیں ہیں اور جس جاہلیت پر وہ عمل پیرا ہیں وہ از جانب اللہ ہیں ۔ یہ موقف بعینہ ویسا ہی ہے جس طرح آج کے دور میں اہل جاہلیت جدید اس کے مدعی ہیں ۔ ان دونوں کا موقف بالکل یکساں ہے ۔

(آیت) ” وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّہِ کَذِباً أَوْ کَذَّبَ بِآیتہ “۔ (6 : 21) ” اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ جھوٹا بہتان لگائے ‘ یا اللہ کی نشانیوں کو جھٹلائے ؟ “ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے شرک کو ظلم اس لئے کہا گیا ہے کہ لفظ ” ظلم “ سے تعبیر کیا گیا ہے جس سے اس کے گھناؤنے پن اور قباحت کا اظہار اچھی طرح ہوجائے ۔ قرآن کریم میں بیشتر شرک کی تعبیر ظلم سے کی جاتی ہے اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ اسے ایک نہایت ہی برافعل سمجھ کر اس سے متنفر ہوجائیں اور حقیقت حال بھی یہی ہے کہ شرک سچائی کے ساتھ ظلم ہے ۔ نفس انسانی کے ساتھ ظلم ہے اور عوام الناس پر ظلم ہے ۔ اس لئے کہ کبریائی صرف اللہ کا حق ہے اور وہ اس بات کا مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرایا جائے کیونکہ اس سے اللہ کی حق تلفی ہوگی ۔ نفس انسانی پر یہ اس لئے ظلم ہے کہ اس کی وجہ سے یہ دائمی ہلاکت میں پڑجائے گا ۔ اور لوگوں پر ظلم یہ ہے کہ وہ معرفت حق سے محروم ہوں گے اور ان کی زندگی ایسے اصولوں کے تحت چلتی رہے گی جو ظالمانہ ہوں گے ‘ غرض شرک ہر پہلو سے ظلم عظیم ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس آیت کے آخر میں رب العالمین خود فرماتے ہیں ۔ (آیت) ” انہ لا یفلح الظلمون “۔ (6 : 21) یقینا ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔ “

یہاں اللہ تعالیٰ ایک قاعدہ کلیہ بیان کردیتے ہیں اور حکم آجاتا ہے کہ مشرک یا ظلم اور ظالموں کا انجام کیا ہوگا ۔ انسانوں کی کوتاہ نظر آنکھیں جو کچھ دیکھ سکتی ہیں وہ قابل اعتبار حقیقت نہیں ہوتی ۔ انسان کی نظر نہایت ہی قریبی فاصلے تک ہوتی ہے ۔ انسان صرف دنیوی فلاح اور نجات کو دیکھ سکتا ہے ۔ یہ ہے وہ تدبیر جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو انجام بد …

Al-An'aam 6:21Listen in Qur'an →
22

وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًۭا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوٓا۟ أَيْنَ شُرَكَآؤُكُمُ ٱلَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ

اور جس دن ہم سب لوگوں کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے پوچھیں گے کہ (آج) وہ تمہارے شریک کہاں ہیں جن کو تمہیں دعویٰ تھا

(آیت) ” نمبر 21 تا 24۔

بات کی مناسب سے اب مشرکین کے سامنے وہ حقیقت رکھی جاتی ہے جس پر وہ دنیا میں قائم تھے ۔ اس کی روشنی میں ان کے موقف اور عمل کو خدا تعالیٰ کے پیمانوں سے ناپا جاتا ہے ۔ سب سے پہلے ان سے پوچھا جاتا ہے کہ ذرا وہ اپنے رویے پر غور کریں کہ وہ اللہ پر افترا پردازی کرنے سے بھی نہیں چوکتے ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ وہ اس دین پر ہیں جس کے ساتھ حضرت ابراہیم مبعوث ہوئے تھے ۔ اور ان کے مزعومات میں سے یہ بھی تھا کہ وہ خود جن چیزوں کو حلال اور حرام قرار دیتے تھے ان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے جیسا کہ اس سورة کے آخر میں لفظ بزعمہم سے اس کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔ حالانکہ اللہ نے اس چیز کی حلت یا حرمت کا کوئی حکم نہیں دیا تھا ۔ جس طرح آج ہمارے زمانے میں بیشمار لوگ دعوائے اسلام کرتے ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ‘ حالانکہ ان کا یہ دعوی سراسر جھوٹا ہے ۔ اور اللہ پر افتراء ہے ۔ وہ خود اپنی جانب سے قوانین اور فرامین جاری کرتے ہیں ‘ خود اپنی جانب سے زندگی کے اوضاع واطوار اور رسومات پیدا کرتے ہیں اور اپنی جانب سے نئی نئی چیزیں جاری کرتے ہیں ۔ اس طرح وہ ان معاملات میں اللہ کے اقتدار اعلی کو غصب کرلیتے ہیں اور خود مقتدر اعلی بن بیٹھتے ہیں ۔ پھر بھی ان کا دعوی یہ ہے کہ وہ دین اسلام پر ہیں جو سراسر جھوٹ ہے ۔ ان میں سے تعلیم یافتہ لوگ جنہوں نے اپنا دین فروخت کردیا ہے اور اپنے لئے جہنم کے بدترین درجے کو الاٹ کرا لیا ہے وہ ایسے لوگوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ وہ پھر بھی مسلمان ہیں ۔ ان آیات میں ان کی جانب سے پیش کی جانے والی آیات کو جھٹلانے پر بھی ان کے خلاف نکیر کی جاتی ہے ۔ انہوں نے آیات الہیہ کو مسترد کیا ‘ ان کا مقابلہ اور انکار کیا ‘ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ یہ آیات از جانب اللہ نہیں ہیں اور جس جاہلیت پر وہ عمل پیرا ہیں وہ از جانب اللہ ہیں ۔ یہ موقف بعینہ ویسا ہی ہے جس طرح آج کے دور میں اہل جاہلیت جدید اس کے مدعی ہیں ۔ ان دونوں کا موقف بالکل یکساں ہے ۔

(آیت) ” وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّہِ کَذِباً أَوْ کَذَّبَ بِآیتہ “۔ (6 : 21) ” اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ جھوٹا بہتان لگائے ‘ یا اللہ کی نشانیوں کو جھٹلائے ؟ “ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے شرک کو ظلم اس لئے کہا گیا ہے کہ لفظ ” ظلم “ سے تعبیر کیا گیا ہے جس سے اس کے گھناؤنے پن اور قباحت کا اظہار اچھی طرح ہوجائے ۔ قرآن کریم میں بیشتر شرک کی تعبیر ظلم سے کی جاتی ہے اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ اسے ایک نہایت ہی برافعل سمجھ کر اس سے متنفر ہوجائیں اور حقیقت حال بھی یہی ہے کہ شرک سچائی کے ساتھ ظلم ہے ۔ نفس انسانی کے ساتھ ظلم ہے اور عوام الناس پر ظلم ہے ۔ اس لئے کہ کبریائی صرف اللہ کا حق ہے اور وہ اس بات کا مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرایا جائے کیونکہ اس سے اللہ کی حق تلفی ہوگی ۔ نفس انسانی پر یہ اس لئے ظلم ہے کہ اس کی وجہ سے یہ دائمی ہلاکت میں پڑجائے گا ۔ اور لوگوں پر ظلم یہ ہے کہ وہ معرفت حق سے محروم ہوں گے اور ان کی زندگی ایسے اصولوں کے تحت چلتی رہے گی جو ظالمانہ ہوں گے ‘ غرض شرک ہر پہلو سے ظلم عظیم ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس آیت کے آخر میں رب العالمین خود فرماتے ہیں ۔ (آیت) ” انہ لا یفلح الظلمون “۔ (6 : 21) یقینا ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔ “

یہاں اللہ تعالیٰ ایک قاعدہ کلیہ بیان کردیتے ہیں اور حکم آجاتا ہے کہ مشرک یا ظلم اور ظالموں کا انجام کیا ہوگا ۔ انسانوں کی کوتاہ نظر آنکھیں جو کچھ دیکھ سکتی ہیں وہ قابل اعتبار حقیقت نہیں ہوتی ۔ انسان کی نظر نہایت ہی قریبی فاصلے تک ہوتی ہے ۔ انسان صرف دنیوی فلاح اور نجات کو دیکھ سکتا ہے ۔ یہ ہے وہ تدبیر جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو انجام بد …

Al-An'aam 6:22Listen in Qur'an →
23

ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّآ أَن قَالُوا۟ وَٱللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ

تو ان سے کچھ عذر نہ بن پڑے گا (اور) بجز اس کے (کچھ چارہ نہ ہوگا) کہ کہیں خدا کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے ہم شریک نہیں بناتے تھے

(آیت) ” نمبر 21 تا 24۔

بات کی مناسب سے اب مشرکین کے سامنے وہ حقیقت رکھی جاتی ہے جس پر وہ دنیا میں قائم تھے ۔ اس کی روشنی میں ان کے موقف اور عمل کو خدا تعالیٰ کے پیمانوں سے ناپا جاتا ہے ۔ سب سے پہلے ان سے پوچھا جاتا ہے کہ ذرا وہ اپنے رویے پر غور کریں کہ وہ اللہ پر افترا پردازی کرنے سے بھی نہیں چوکتے ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ وہ اس دین پر ہیں جس کے ساتھ حضرت ابراہیم مبعوث ہوئے تھے ۔ اور ان کے مزعومات میں سے یہ بھی تھا کہ وہ خود جن چیزوں کو حلال اور حرام قرار دیتے تھے ان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے جیسا کہ اس سورة کے آخر میں لفظ بزعمہم سے اس کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔ حالانکہ اللہ نے اس چیز کی حلت یا حرمت کا کوئی حکم نہیں دیا تھا ۔ جس طرح آج ہمارے زمانے میں بیشمار لوگ دعوائے اسلام کرتے ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ‘ حالانکہ ان کا یہ دعوی سراسر جھوٹا ہے ۔ اور اللہ پر افتراء ہے ۔ وہ خود اپنی جانب سے قوانین اور فرامین جاری کرتے ہیں ‘ خود اپنی جانب سے زندگی کے اوضاع واطوار اور رسومات پیدا کرتے ہیں اور اپنی جانب سے نئی نئی چیزیں جاری کرتے ہیں ۔ اس طرح وہ ان معاملات میں اللہ کے اقتدار اعلی کو غصب کرلیتے ہیں اور خود مقتدر اعلی بن بیٹھتے ہیں ۔ پھر بھی ان کا دعوی یہ ہے کہ وہ دین اسلام پر ہیں جو سراسر جھوٹ ہے ۔ ان میں سے تعلیم یافتہ لوگ جنہوں نے اپنا دین فروخت کردیا ہے اور اپنے لئے جہنم کے بدترین درجے کو الاٹ کرا لیا ہے وہ ایسے لوگوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ وہ پھر بھی مسلمان ہیں ۔ ان آیات میں ان کی جانب سے پیش کی جانے والی آیات کو جھٹلانے پر بھی ان کے خلاف نکیر کی جاتی ہے ۔ انہوں نے آیات الہیہ کو مسترد کیا ‘ ان کا مقابلہ اور انکار کیا ‘ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ یہ آیات از جانب اللہ نہیں ہیں اور جس جاہلیت پر وہ عمل پیرا ہیں وہ از جانب اللہ ہیں ۔ یہ موقف بعینہ ویسا ہی ہے جس طرح آج کے دور میں اہل جاہلیت جدید اس کے مدعی ہیں ۔ ان دونوں کا موقف بالکل یکساں ہے ۔

(آیت) ” وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّہِ کَذِباً أَوْ کَذَّبَ بِآیتہ “۔ (6 : 21) ” اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ جھوٹا بہتان لگائے ‘ یا اللہ کی نشانیوں کو جھٹلائے ؟ “ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے شرک کو ظلم اس لئے کہا گیا ہے کہ لفظ ” ظلم “ سے تعبیر کیا گیا ہے جس سے اس کے گھناؤنے پن اور قباحت کا اظہار اچھی طرح ہوجائے ۔ قرآن کریم میں بیشتر شرک کی تعبیر ظلم سے کی جاتی ہے اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ اسے ایک نہایت ہی برافعل سمجھ کر اس سے متنفر ہوجائیں اور حقیقت حال بھی یہی ہے کہ شرک سچائی کے ساتھ ظلم ہے ۔ نفس انسانی کے ساتھ ظلم ہے اور عوام الناس پر ظلم ہے ۔ اس لئے کہ کبریائی صرف اللہ کا حق ہے اور وہ اس بات کا مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرایا جائے کیونکہ اس سے اللہ کی حق تلفی ہوگی ۔ نفس انسانی پر یہ اس لئے ظلم ہے کہ اس کی وجہ سے یہ دائمی ہلاکت میں پڑجائے گا ۔ اور لوگوں پر ظلم یہ ہے کہ وہ معرفت حق سے محروم ہوں گے اور ان کی زندگی ایسے اصولوں کے تحت چلتی رہے گی جو ظالمانہ ہوں گے ‘ غرض شرک ہر پہلو سے ظلم عظیم ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس آیت کے آخر میں رب العالمین خود فرماتے ہیں ۔ (آیت) ” انہ لا یفلح الظلمون “۔ (6 : 21) یقینا ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔ “

یہاں اللہ تعالیٰ ایک قاعدہ کلیہ بیان کردیتے ہیں اور حکم آجاتا ہے کہ مشرک یا ظلم اور ظالموں کا انجام کیا ہوگا ۔ انسانوں کی کوتاہ نظر آنکھیں جو کچھ دیکھ سکتی ہیں وہ قابل اعتبار حقیقت نہیں ہوتی ۔ انسان کی نظر نہایت ہی قریبی فاصلے تک ہوتی ہے ۔ انسان صرف دنیوی فلاح اور نجات کو دیکھ سکتا ہے ۔ یہ ہے وہ تدبیر جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو انجام بد …

Al-An'aam 6:23Listen in Qur'an →
24

ٱنظُرْ كَيْفَ كَذَبُوا۟ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ ۚ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ

دیکھو انہوں نے اپنے اوپر کیسا جھوٹ بولا اور جو کچھ یہ افتراء کیا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہا

(آیت) ” نمبر 21 تا 24۔

بات کی مناسب سے اب مشرکین کے سامنے وہ حقیقت رکھی جاتی ہے جس پر وہ دنیا میں قائم تھے ۔ اس کی روشنی میں ان کے موقف اور عمل کو خدا تعالیٰ کے پیمانوں سے ناپا جاتا ہے ۔ سب سے پہلے ان سے پوچھا جاتا ہے کہ ذرا وہ اپنے رویے پر غور کریں کہ وہ اللہ پر افترا پردازی کرنے سے بھی نہیں چوکتے ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ وہ اس دین پر ہیں جس کے ساتھ حضرت ابراہیم مبعوث ہوئے تھے ۔ اور ان کے مزعومات میں سے یہ بھی تھا کہ وہ خود جن چیزوں کو حلال اور حرام قرار دیتے تھے ان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے جیسا کہ اس سورة کے آخر میں لفظ بزعمہم سے اس کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔ حالانکہ اللہ نے اس چیز کی حلت یا حرمت کا کوئی حکم نہیں دیا تھا ۔ جس طرح آج ہمارے زمانے میں بیشمار لوگ دعوائے اسلام کرتے ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ‘ حالانکہ ان کا یہ دعوی سراسر جھوٹا ہے ۔ اور اللہ پر افتراء ہے ۔ وہ خود اپنی جانب سے قوانین اور فرامین جاری کرتے ہیں ‘ خود اپنی جانب سے زندگی کے اوضاع واطوار اور رسومات پیدا کرتے ہیں اور اپنی جانب سے نئی نئی چیزیں جاری کرتے ہیں ۔ اس طرح وہ ان معاملات میں اللہ کے اقتدار اعلی کو غصب کرلیتے ہیں اور خود مقتدر اعلی بن بیٹھتے ہیں ۔ پھر بھی ان کا دعوی یہ ہے کہ وہ دین اسلام پر ہیں جو سراسر جھوٹ ہے ۔ ان میں سے تعلیم یافتہ لوگ جنہوں نے اپنا دین فروخت کردیا ہے اور اپنے لئے جہنم کے بدترین درجے کو الاٹ کرا لیا ہے وہ ایسے لوگوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ وہ پھر بھی مسلمان ہیں ۔ ان آیات میں ان کی جانب سے پیش کی جانے والی آیات کو جھٹلانے پر بھی ان کے خلاف نکیر کی جاتی ہے ۔ انہوں نے آیات الہیہ کو مسترد کیا ‘ ان کا مقابلہ اور انکار کیا ‘ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ یہ آیات از جانب اللہ نہیں ہیں اور جس جاہلیت پر وہ عمل پیرا ہیں وہ از جانب اللہ ہیں ۔ یہ موقف بعینہ ویسا ہی ہے جس طرح آج کے دور میں اہل جاہلیت جدید اس کے مدعی ہیں ۔ ان دونوں کا موقف بالکل یکساں ہے ۔

(آیت) ” وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّہِ کَذِباً أَوْ کَذَّبَ بِآیتہ “۔ (6 : 21) ” اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ جھوٹا بہتان لگائے ‘ یا اللہ کی نشانیوں کو جھٹلائے ؟ “ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے شرک کو ظلم اس لئے کہا گیا ہے کہ لفظ ” ظلم “ سے تعبیر کیا گیا ہے جس سے اس کے گھناؤنے پن اور قباحت کا اظہار اچھی طرح ہوجائے ۔ قرآن کریم میں بیشتر شرک کی تعبیر ظلم سے کی جاتی ہے اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ اسے ایک نہایت ہی برافعل سمجھ کر اس سے متنفر ہوجائیں اور حقیقت حال بھی یہی ہے کہ شرک سچائی کے ساتھ ظلم ہے ۔ نفس انسانی کے ساتھ ظلم ہے اور عوام الناس پر ظلم ہے ۔ اس لئے کہ کبریائی صرف اللہ کا حق ہے اور وہ اس بات کا مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرایا جائے کیونکہ اس سے اللہ کی حق تلفی ہوگی ۔ نفس انسانی پر یہ اس لئے ظلم ہے کہ اس کی وجہ سے یہ دائمی ہلاکت میں پڑجائے گا ۔ اور لوگوں پر ظلم یہ ہے کہ وہ معرفت حق سے محروم ہوں گے اور ان کی زندگی ایسے اصولوں کے تحت چلتی رہے گی جو ظالمانہ ہوں گے ‘ غرض شرک ہر پہلو سے ظلم عظیم ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس آیت کے آخر میں رب العالمین خود فرماتے ہیں ۔ (آیت) ” انہ لا یفلح الظلمون “۔ (6 : 21) یقینا ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔ “

یہاں اللہ تعالیٰ ایک قاعدہ کلیہ بیان کردیتے ہیں اور حکم آجاتا ہے کہ مشرک یا ظلم اور ظالموں کا انجام کیا ہوگا ۔ انسانوں کی کوتاہ نظر آنکھیں جو کچھ دیکھ سکتی ہیں وہ قابل اعتبار حقیقت نہیں ہوتی ۔ انسان کی نظر نہایت ہی قریبی فاصلے تک ہوتی ہے ۔ انسان صرف دنیوی فلاح اور نجات کو دیکھ سکتا ہے ۔ یہ ہے وہ تدبیر جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو انجام بد …

Al-An'aam 6:24Listen in Qur'an →
25

وَمِنْهُم مَّن يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ ۖ وَجَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِىٓ ءَاذَانِهِمْ وَقْرًۭا ۚ وَإِن يَرَوْا۟ كُلَّ ءَايَةٍۢ لَّا يُؤْمِنُوا۟ بِهَا ۚ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُوكَ يُجَٰدِلُونَكَ يَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِنْ هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ

اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ تمہاری (باتوں کی) طرف کان رکھتے ہیں۔ اور ہم نے ان کے دلوں پر تو پردے ڈال دیئے ہیں کہ ان کو سمجھ نہ سکیں اور کانوں میں ثقل پیدا کردیا ہے (کہ سن نہ سکیں) اور اگر یہ تمام نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں۔ یہاں تک کہ جب تمہارے پاس تم سے بحث کرنے کو آتے ہیں تو جو کافر ہیں کہتے ہیں یہ (قرآن) اور کچھ بھی نہیں صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں

(آیت) ” نمبر 25 تا 28۔

اس کی تصویر کے یہ دو رخ ہیں ۔ ایک رخ دنیا سے متعلق ہے جس میں عناد ‘ بغض اور سرکشی کے رنگ بھرے ہوئے ہیں اور دوسرا رخ آخرت سے متعلق ہے اور اس میں حسرت اور ندامت کے رنگ ہیں ۔ قرآن کریم ان دونوں حالتوں کی تصویر کشی نہایت ہی موثر اور اشاراتی انداز میں کرتا ہے ۔ جامد فطرت پگھل جاتی ہے اور اس میں حرکت اور جوش پیدا ہوجاتا ہے ‘ شاید کہ اس کے اوپر جہالت کی جو تہیں چڑھی ہوئی ہیں وہ دور ہوجائیں اور فطرت کے بند دریچے وا ہوجائیں اور قبل اس کے کہ وقت ختم ہو وہ راہ راست پر آجائے ۔

(آیت) ” وَمِنْہُم مَّن یَسْتَمِعُ إِلَیْْکَ وَجَعَلْنَا عَلَی قُلُوبِہِمْ أَکِنَّۃً أَن یَفْقَہُوہُ وَفِیْ آذَانِہِمْ وَقْراً وَإِن یَرَوْاْ کُلَّ آیَۃٍ لاَّ یُؤْمِنُواْ بِہَا (6 : 25)

” ان میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو کان لگا کر تمہاری بات سنتے ہیں مگر حال یہ ہے کہ ہم نے ان کے دلوں پردے ڈال رکھے ہیں جن کی وجہ سے وہ اس کو کچھ نہیں سمجھتے اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دی ہے ۔ (کہ سب کچھ سننے پر بھی کچھ نہیں سنتے) وہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں ‘ اس پر ایمان لا کر نہ دیں گے ۔

انسانیت کے یہ ایسے نمونے ہیں کہ بظاہر سنتے ہیں لیکن ان کے دلوں پر پردے ہیں ۔ اکنہ کے معنی ہیں غلاف ۔ اور یہ غلاف قوت مدرکہ کو بند کردیتے ہیں ۔ الوقر کا مفہوم ہے بوجھ یعنی ان کے کان بھاری ہیں ‘ اس لئے اس بھارے پن کی وجہ سے وہ سننے کا فریضہ ادا نہیں کرسکتے ۔ اس قسم کے لوگ انسانیت کا حصہ ہیں اور ہر دور میں اور ہر جگہ موجود رہتے ہیں ۔ ہر قوم اور ہر قبیلے میں ایسے لوگ ہوتے ہی ہیں ۔ یہ ٹھیک ٹھیک انسان ہوتے ہیں۔ بظاہر وہ بات سنتے ہیں لیکن سنی ان سنی کردیتے ہیں ۔ ان کے کان گویا بہرے ہیں ۔ اپنا فریضہ منصب فطری ادا نہیں کرتے ۔ ان کی قوت مدرکہ گویا غلافوں میں لپٹی ہوئی ہے اور اس تک قرآنی مدلولات نہیں پہنچے ۔

(آیت) ” حَتَّی إِذَا جَآؤُوکَ یُجَادِلُونَکَ یَقُولُ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ إِنْ ہَذَا إِلاَّ أَسَاطِیْرُ الأَوَّلِیْنَ (25)

” حد یہ ہے کہ جب وہ تمہارے پاس آکر تم سے جھگڑتے ہیں تو ان میں سے جن لوگوں نے انکار کا فیصلہ کرلیا ہے وہ (ساری بات سننے کے بعد) کہتے ہیں کہ یہ ایک داستان پارینہ کے سوا کچھ نہیں ۔ “

ان کی آنکھیں بھی دیکھ رہی ہوتی ہیں لیکن درحقیقت وہ کچھ نہیں دیکھ رہی ہوتیں ۔ جو منظر وہ دیکھتی ہیں ان کا ان کے دل و دماغ پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔

سوال یہ ہے کہ ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ؟ اور کیا بات ہے جو انہیں سمجھنے اور قبول کرنے سے روک رہی ہے ؟ حالانکہ وہ سننے والے کان ‘ بینا آنکھیں اور تیز علق کے مالک ہیں ‘ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” مگر ان کا حال یہ ہے کہ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں جن کی وجہ سے وہ کچھ نہیں سمجھتے اور ان کے کانوں میں گرانی ہے ۔ وہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں اس پر ایمان لا کر نہ دیں گے ۔ “

یوں ان کے بارے میں اللہ کے فیصلے کو بیان کیا جاتا ہے کہ ان کا ادراک اس حقیقت تک نہ پہنچ سکے گا اور نہ ہی اسے سمجھ سکے گا ان کی قوت شنوائی کام چھوڑ دے گی ۔ وہ ان کی قوت مدرکہ تک ان کی رہنمائی ہی نہ کرے گی کہ وہ اسے سمجھ سکیں اور قبول کریں چاہے وہ اپنی آنکھوں سے حقائق کو دیکھ رہے ہوں اور دلائل ایمان ان کے سامنے ہوں ۔ ہاں ‘ ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اس فیصلے میں سنت الہیہ کو پڑھنے کی سعی کریں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔

(آیت) ” والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا “۔ ” جو لوگ ہمارے بارے میں سعی کریں گے ہم انہیں ضرور اپنی راہوں کی طرف لے جائیں گے ۔ “ اور دوسری جگہ ہے ۔

(آیت) ” وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاہَا (7) فَأَلْہَمَہَا فُجُورَہَا وَتَقْوَاہَا (8) قَدْ أَفْلَحَ مَن زَکَّاہَا (9) وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاہَا (10) ” اور نفس انسانی کی اور اس ذات کی قسم جس نے اسے ہموار کیا ‘ پھر اس کی بدی …

Al-An'aam 6:25Listen in Qur'an →
26

وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْـَٔوْنَ عَنْهُ ۖ وَإِن يُهْلِكُونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ

وہ اس سے (اوروں کو بھی) روکتے ہیں اور خود بھی پرے رہتے ہیں مگر (ان باتوں سے) اپنے آپ ہی کو ہلاک کرتے ہیں اور (اس سے) بےخبر ہیں

(آیت) ” وَہُمْ یَنْہَوْنَ عَنْہُ وَیَنْأَوْنَ عَنْہُ وَإِن یُہْلِکُونَ إِلاَّ أَنفُسَہُمْ وَمَا یَشْعُرُونَ (26)

” وہ اس امر حق کو قبول کرنے سے لوگوں کو روکتے ہیں اور خود بھی اس سے دور بھاگتے ہیں ۔ (وہ سمجھتے ہیں کہ اس حرکت سے وہ تمہارا کچھ بگاڑ رہے ہیں) حالانکہ دراصل وہ خود اپنی ہی تباہی کا سامان کر رہے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے ۔ “

وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ قرآن کریم محض پرانے لوگوں کے قصوں پر مشتمل نہیں ہے اور اس کا پرانے قصوں کے ساتھ کوئی فائدہ نہ دے گا ۔ اگر لوگ قرآن کریم کو سنتے رہے تو اس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا ۔ قریش کے بڑے بڑے دانشور تو خود اپنے بارے میں یہ خوف رکھتے تھے کہ تلاوت قرآن کریم خود ان کو بھی متاثر کرسکتی ہے ۔ اپنے متبعین کے بارے میں تو انہیں شدید خوف لاحق تھا ۔ اس لئے اس زور دار ‘ پھیلنے والی اور زبردست تحریک اور اہل مکہ کی کمزور اور باطل سوسائٹی کے درمیان برپا کشمکش میں صرف یہ امر کافی نہ تھا کہ نضر ابن حارث حضور ﷺ کے بالمقابل مجلس لگائے اور اس میں اہل فارس کے ادبی شہ پارے پیش کرے ۔ لہذا امتناعی تدابیر کے طور پر وہ اپنے متبعین کو قرآن کریم سننے سے منع کرتے تھے اور خود بھی اپنے آپ کو ایسے مواقع سے دور رکھتے تھے جہاں وہ قرآن کریم سنیں ۔ محض اس خوف سے کہ کہیں وہ خود ہی متاثر نہ ہوجائیں اور اسے قبول ہی نہ کرلیں ۔ اخنس ابن شریق ‘ ابو سفیان ابن حرب اور عمرو ابن ہشام کا قصہ تو بہت ہی مشہور ہے ۔ یہ لوگ قرآن کریم کی اس جاذبیت کا مقابلہ کرتے تھے لیکن قرآن کریم پھر بھی انہیں اپنی طرف کھینچ لاتا تھا۔ (دیکھئے ابن ہشام جزء اول اور ظلال القرآن پارہ ششم)

یہ تمام پاپڑ وہ اس لئے بیلتے تھے کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے متبعین کو قرآن سننے سے بچا سکیں تاکہ وہ اس سے متاثر نہ ہوجائیں اور اسے قبول نہ کرلیں اور یہ کام درحقیقت خود ان کے لئے باعث ہلاکت تھا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ” وہ درحقیقت خود اپنی تباہی کا سامان کرتے تھے مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے ۔ “

جو شخص اپنے آپ کو اور دوسروں کو راہ ہدایت ‘ راہ حق اور راہ نجات سے روکے رکھتا ہے وہ دنیا وآخرت دونوں میں خود اپنے آپ کو خسارے اور ہلاکت میں ڈالتا ہے ۔ وہ لوگ جو خود اپنے آپ کو اور اپنے متبعین کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں ‘ دراصل وہ مساکین ہیں ۔ اگرچہ وہ بڑے قہار وجبار اور بڑے بڑے طاغوت نظر آتے ہیں ۔ وہ تو دنیا وآخرت میں صرف اپنے اوپر اختیار رکھتے ہیں ۔ اگرچہ انہیں اور ان کے متبعین کو دنیا میں بعض اوقات ایک مختصر عرصے کے لئے یہ نظر آتا ہے کہ وہ بہت ہی فائدے میں ہیں اور کامیاب ہیں ‘ لیکن دراصل وہ مفلس ہوتے ہیں ۔ اور ان کا آخری انجام کیا ہونے والا ہے تو پھر ذرا تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ فرمائیں :

Al-An'aam 6:26Listen in Qur'an →
27

وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذْ وُقِفُوا۟ عَلَى ٱلنَّارِ فَقَالُوا۟ يَٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِـَٔايَٰتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ

کاش تم (ان کو اس وقت) دیکھو جب یہ دوزخ کے کنارے کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے کہ اے کاش ہم پھر (دنیا میں) لوٹا دیئے جائیں تاکہ اپنے پروردگار کی آیتوں کی تکذیب نہ کریں اور مومن ہوجائیں

(آیت) ” وَلَوْ تَرَیَ إِذْ وُقِفُواْ عَلَی النَّارِ فَقَالُواْ یَا لَیْْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُکَذِّبَ بِآیَاتِ رَبِّنَا وَنَکُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ (27)

” کاش تم اس وقت ان کی حالت دیکھ سکتے کہ جب وہ دوزخ کے کنارے کھڑے کئے جائیں گے ۔ اس وقت وہ کہیں گے کہ کاش کوئی صورت ایسی ہو کہ ہم دنیا میں پھر واپس بھیجے جائیں اور اپنے رب کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ایمان لانے والوں میں شامل ہوں ۔ “

اس دنیا کے مختصر منظر کے بالمقابل دنیائے اخروی کا یہ منظر ہے ۔ نہایت ہی رسواکن ‘ شرمساری اور یاس و حسرت کا منظر ۔ دنیا میں تو وہ سرکشی کرتے ‘ جھگڑتے اور اسلام کے قریب آنے سے لوگوں کو روکتے اور لمبے چوڑے وعدے کرتے لیکن یہاں ان کے ارمان یہ ہیں جبکہ وہ دوزخ کے کنارے کھڑے کیے جائیں گے ۔ یہ منظر دیکھنے کے لائق ہوگا ۔ یہ آگ پر گرفتار کرکے پیش کئے جائیں گے ۔ اب انہیں یہ طاقت ہی نہ ہوگی کہ وہ اعراض اور سرکشی کرسکیں ۔ اب نہ وہ جھگڑ سکیں گے اور نہ مغالطہ آرائی کرسکیں گے ۔ اس قابل دید منظر میں ان کی جانب سے اس تمنا کا اظہار ہوگا اور اگر آپ اسوقت ہوتے تو وہ یوں گویا ہوں گے ” کاش کوئی صورت ایسی ہو کہ ہم دنیا میں پھر واپس بھیجے جائیں اور اپنے رب کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ایمان لانے والوں میں شامل ہوں ۔

اب تو وہ جانتے ہیں کہ یہ آیات الہیہ تھیں ۔ اب وہ تمنا کرتے ہیں کہ وہ دنیا کی طرف لوٹا دیئے جائیں ۔ اب تو وہ ان آیات کی تکذبی نہیں کرسکتے اور اب تو وہ پکے مومن بن جائیں گے لیکن اب کیا ہو سکتا ہے جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔

اب یہ لوگ اپنی جبلت کو بھول گئے ۔ وہ ایسی جبلت کے مالک ہیں جو مان کر نہیں دیتی اور ان کی یہ بات کہ کاش وہ اگر لوٹادیئے جائیں تو وہ تکذیب نہ کریں گے اور لازما ایمان لائیں گے ۔ یہ تمنا بھی جھوٹی تمنا ہے یہ وہ تمنا ہے جو ان کی جبلت و حقیقت کے ساتھ لگا نہیں کھاتی ۔ اگر ان کی یہ تمنا پوری بھی کردی جاتی تو بھی وہ ایسا نہ کرتے ۔ اور پھر ان کی بات یہ نہ ہوتی اور یہ لوگ یہ بات اس لئے کہیں گے کہ ان کے سامنے ان کے اعمال اور ان کا برانجام واضح ہوجائے گا جبکہ اس سے قبل وہ اپنے متبعین سے اپنے یہ اعمال اور یہ برا انجام چھپاتے تھے تاکہ ان کو اس فریب میں ڈالے رکھیں کہ یہ حق پرست ہیں اور آخرت میں وہ کامیاب ہونے والے ہیں اور فلاح پانے والے ہیں ۔

Al-An'aam 6:27Listen in Qur'an →
28

بَلْ بَدَا لَهُم مَّا كَانُوا۟ يُخْفُونَ مِن قَبْلُ ۖ وَلَوْ رُدُّوا۟ لَعَادُوا۟ لِمَا نُهُوا۟ عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَٰذِبُونَ

ہاں یہ جو کچھ پہلے چھپایا کرتے تھے (آج) ان پر ظاہر ہوگیا ہے اور اگر یہ (دنیا میں) لوٹائے بھی جائیں تو جن (کاموں) سے ان کو منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگیں۔کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں

(آیت) ” بَلْ بَدَا لَہُم مَّا کَانُواْ یُخْفُونَ مِن قَبْلُ وَلَوْ رُدُّواْ لَعَادُواْ لِمَا نُہُواْ عَنْہُ وَإِنَّہُمْ لَکَاذِبُونَ (28) ۔

درحقیقت یہ بات وہ محض اس وجہ سے کہیں گے کہ جس حقیقت پر انہوں نے پردہ ڈال رکھا تھا وہ اس وقت بےنقاب ہو کر ان کے سامنے آچکی ہوگی ‘ ورنہ اگر انہیں سابق زندگی کی طرف واپس بھیجا جائے تو پھر وہی سب کچھ کریں گے جس سے انہیں منع کیا گیا ہے ‘ وہ تو ہیں ہی جھوٹے ۔ یہاں اب ان کے بارے میں بات ختم ہوجاتی ہے اور وہ اس بری حالت میں ایک جھوٹے انسان کے طور پر حقارت کے ساتھ پس منظر میں چلے جاتے ہیں ۔

اب ایسے لوگوں کے بارے میں ان کے کچھ مزید رخ سامنے آتے ہیں اور ان کے اس آخروی منظر کے مقابلے میں دو مزید منظر پیش کئے جاتے ہیں ۔ ایک تو دنیا کا منظر ہے جس میں وہ عزم بالجزم کے ساتھ اس بات کا اظہار کرتے تھے کہ موت کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے اور اللہ کسی کو دوبارہ نہ اٹھائے گا اور کوئی حساب و کتاب نہیں ہے ۔ اور دوسرا منظر آخرت سے متعلق ہے ۔ ایک جھلکی جس میں وہ اپنے رب کے سامنے کھڑے دکھائے جاتے ہیں اور اللہ رب العالمین ان سے باز پرس فرماتے ہیں ۔ (الیس ھذا بالحق) (6 : 30) کیا یہ قیامت حق نہ تھی اور حقیقت نہیں ہے ؟ یہا یک ایسا سوال ہے جس سے وہ ٹوٹ جاتے ہیں بلکہ پگھل جاتے ہیں اور ایک نہایت ہی بدحال اور ذلیل آدمی کی طرح جواب دیتے ہیں ۔ (آیت) ” بلی وربنا “۔ (6 : 30) ” ہمارے رب تیری قسم یہ حقیقت ہے ۔ “ اور اب وہ اپنے اعمال کی وجہ سے عذاب الیم سے دوچار ہوتے ہیں ۔ ایک دوسری جھلکی بھی سامنے آتی ہے ۔ اچانک وہ گھڑی آپہنچتی ہے جس کے بارے میں وہ اللہ کے اس ” آمنے سامنے “ سے بالکل منکر تھے ۔ اب وہ یاس و حسرت میں ڈوب جاتے ہیں ۔ اپنے کاندھوں پر اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں اور آخرت میں یہ بتایا جاتا ہے ۔ کہ اللہ کے ترازو میں دنیا کی حقیقت کیا ہے اور آخرت کا مقام کیا ہے ؟

Al-An'aam 6:28Listen in Qur'an →
29

وَقَالُوٓا۟ إِنْ هِىَ إِلَّا حَيَاتُنَا ٱلدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ

اور کہتے ہیں کہ ہماری جو دنیا کی زندگی ہے بس یہی (زندگی) ہے اور ہم (مرنے کے بعد) پھر زندہ نہیں کئے جائیں گے

(آیت) ” نمبر 29 تا 32۔

قیامت کی جزا وسزا اور دار آخرت کا عقیدہ اسلامی عقائد ونظریات کی اساس ہے اور ہمیشہ یہ عقیدہ صرف اسلام نے پیش کیا ہے اور عقیدہ توحید کے بعد اسلامی نظام کا ڈھانچہ اسی پر استوار ہے ۔ دین اسلام کے عقائد ونظریات ‘ اخلاق وطرز عمل ‘ قانون ودستور صرف اسی صورت میں قائم اور استوار ہو سکتے ہیں جب لوگوں کے اندر آخرت کی جوابدہی کا احساس پیدا ہوجائے ۔

یہ دین جسے اللہ نے مکمل فرمایا ہے ‘ اور اس دین کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر اپنی نعمتوں کو مکمل کردیا ہے اسے اللہ نے مسلمانوں کے نظام حیات کے طور پر پسند کرلیا ہے ۔ جیسا کہ قرآن کریم خود یہ کہتا ہے کہ یہ دین درحقیقت زندگی کا ایک مکمل نظام ہے اور اپنی ساخت میں وہ باہم مربوط اور باہم متعلق ہے ۔ اس کے اخلاقی اصولوں اور عقائد ونظریات کے درمیان ایک گہرا ربط وتعلق ہے ۔ اور پھر عقائد واخلاقیات دونوں کا قانون ‘ دستور اور انتظام ملک سے تعلق ہے ۔ یہ تمام امور اللہ کے عقیدہ حاکمیت اور آخرت کے جوابدہی کی اساس پر قائم ہیں ۔

اسلامی نظریہ حیات کے مطابق زندگی وہ مختصر عرصہ نہیں ہے جو ایک فرد اس جہان میں بسر کرتا ہے اور نہ زندگی وہ مختصر عرصہ ہے جس میں کوئی قوم زندہ رہتی ہے ۔ اور نہ زندگی وہ عرصہ معلوم ہے جو اس دنیا میں انسانیت کو دیا گیا ہے اور جسے ہم دیکھ رہے ہیں ۔ اسلامی تصور حیات کے مطابق زندگی ایک طویل اور نہ ختم ہونے والا عرصہ ہے ۔ یہ آفاق کائنات میں وسعت پذیر ہے اور تمام جہانوں میں گہرائی تک چلا گیا ہے ۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے متنوع اور رنگارنگ ہے اور یہ اس زندگی سے بالکل مختلف ہے جسے آخرت کے منکر یا اس سے غافل لوگ زندگی سمجھتے ہیں اسے بسر کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں بس یہی زندگی ہے اور اس جہان کے بعد کوئی اور جہان نہیں ہے ۔ اس طرح وہ آخرت پر یقین نہیں رکھتے ۔

اسلامی تصور حیات کے مطابق زندگی بہت ہی وسیع ہے ۔ اس میں یہ زمانہ بھی شامل ہے جسے ہم دیکھ رہے ہیں ‘ یعنی دنیا ۔ وہ اخروی زمانہ بھی اس میں شامل ہے جسے اللہ کے سوا کوئی اور نہیں جانتا ۔ اس طویل اخروی زندگی کے مقابلے مین یہ زندگی اس قدر قصیر ہے کہ یہ ساعتہ من نہار ہی کہی جاسکتی ہے ۔ یعنی دن کا ایک حصہ ۔

مکانیت کے اعتبار سے یہ تصور اس قدر وسیع ہے کہ وہ اس جہان اور اس کرہ ارض کے مقابلے میں مزید کروں اور جہانوں کا قائل ہے ۔ وہ ایک ایسی جنت کا قائل ہے جو آسمانوں اور زمینوں سے زیادہ وسیع ہے ۔ جہنم بھی اس قدر وسیع ہے کہ اس کے پیٹ کو ان تمام انس وجن سے نہیں بھرا جاسکتا جو آغاز انسانیت سے اس دنیا میں آباد ہیں اور یہ آبادی لاکھوں سالوں پر مشتمل ہے ۔

پھر یہ تصور نامعلوم جہانوں تک وسیع ہوجاتا ہے ۔ اس جہان سے آگے کئی جہان ہیں جن کے بارے میں صرف ذات باری کو علم ہے اور ہم اس کے بارے میں وہی کچھ اور صرف اسی قدر جانتے ہیں ۔ جس قدر اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے ۔ اور یہ اخروی زندگی موت سے شروع ہو کر دار آخرت تک جا پہنچتی ہے ۔ عالم موت اور عالم آخرت دونوں غیبی جہان ہیں اور ان میں انسانی وجود اس صورت میں آگے بڑھتا ہے جس کی صحیح کیفیت صرف اللہ کے علم میں ہے ۔

یہ زندگی بھی وسعت اختیار کرتی ہے ۔ ‘ یہ جہاں جسے ہم دیکھ رہے ہیں اس سے آگے بڑھتی ہے اور آخرت میں جنت و دوزخ میں بھی رواں دواں نظر آتی ہے ۔ یہ اس زندگی کے مختلف رنگ ہیں اور اس دنیا کی زندگی میں اس کی صورتیں اور ذائقے مختلف ہیں۔ آخرت میں بھی اس کے رنگ ڈھنگ ہیں لیکن دنیا کی یہ پوری زندگی اخروی زندگی کے مقابلے میں اس قدر بےقیمت ہے جس طرح دنیا کے مقابلے میں مچھر کا ایک پر بےقیمت ہے ۔

یہ ہے اسلامی تصور حیات کے مطاق انسانی شخصیت جس کا وجود زمانے کی حدود سے باہر پھیلا ہوا ہے جس کا عمل دخل مکان سے آگے آفاق کائنات میں وسعت رکھتا ہے اور جس کا مرتبہ اس کائنات میں پائے جانے والے عالمین سے زیادہ گہرا ہے ۔ اس …

Al-An'aam 6:29Listen in Qur'an →
30

وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذْ وُقِفُوا۟ عَلَىٰ رَبِّهِمْ ۚ قَالَ أَلَيْسَ هَٰذَا بِٱلْحَقِّ ۚ قَالُوا۟ بَلَىٰ وَرَبِّنَا ۚ قَالَ فَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ

اور کاش تم (ان کو اس وقت) دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کےسامنے کھڑے کئے جائیں گے اور وہ فرمائےگا کیا یہ (دوبارہ زندہ ہونا) برحق نہیں تو کہیں گے کیوں نہیں پروردگار کی قسم (بالکل برحق ہے) خدا فرمائے گا اب کفر کے بدلے (جو دنیا میں کرتے تھے) عذاب (کے مزے) چکھو

(آیت) ” وَلَوْ تَرَی إِذْ وُقِفُواْ عَلَی رَبِّہِمْ قَالَ أَلَیْْسَ ہَذَا بِالْحَقِّ قَالُواْ بَلَی وَرَبِّنَا قَالَ فَذُوقُواْ العَذَابَ بِمَا کُنتُمْ تَکْفُرُونَ (30) ۔

” کاش وہ منظر تم دیکھ سکو جب یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے ۔ اس وقت ان کا رب ان سے پوچھے گا ” کیا یہ حقیقت نہیں ہے ؟ “ یہ کہیں گے ” ہاں اے ہمارے رب ‘ یہ حقیقت ہی ہے ۔ “ وہ فرمائے گا ” اچھا تو اب اپنے انکار حقیقت کی پاداش میں عذاب کا مزا چکھو ۔ “ یہ ہے ان لوگوں کا انجام جو کہتے تھے : ۔

” جو کچھ ہے بس ہماری دنیا کی زندگی ہے اور ہم مرنے کے بعد ہر گز دوبارہ نہ اٹھائے جائیں گے ۔ “ یہ ایک نہایت ہی برا ‘ توہین آمیز اور شرمسار کنندہ منظر ہے ۔ یہ لوگ بارگاہ الہی میں کھڑے ہیں ‘ وہ یہاں پیش ہونے کی تکذیب کرتے تھے ۔ اب وہ اس موقف سے بھی نہیں سکتے ۔ یوں کھڑے ہیں جس طرح باندھے ہوئے ہیں اور سامنے خوفناک انجام ہے ۔ ان سے پوچھا جاتا ہے ۔ ” کیا یہ حقیقت نہیں ہے ؟ “۔

یہ سوال ہی نہایت شرمسار کرنے والا ہے ۔ سوال سنتے ہی مارے شرم کے انسان پسینے سے شرابور ہوجاتا ہے ۔ اب وہ اس کے سوا اور کیا کہہ سکتے ہیں ؟ ” ہاں ہمارے رب یہ حقیقت ہے “ اس حقیقت کو وہ ایسے وقت تسلیم کرتے ہیں جبکہ وہ باری تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہیں اور ایک ایسی جگہ کھڑے ہیں جس کا وہ بڑی سختی سے انکار کرتے تھے ۔ اب نہایت ہی شاہانہ انداز میں اور نہایت ہی مختصر فیصلے میں اور نہایت ہی خوفناک انداز میں ان کا انجام بتا دیا جاتا ہے ۔ عالم بالا سے نہایت ہی سمری فیصلہ آجاتا ہے لیکن فائنل ! ” اچھا تو اب اپنے انکار حقیقت کی پاداش میں عذاب کا مزا چکھو۔ “ یہ انجام ان لوگوں کا بالکل مناسب انجام ہے جنہوں نے اپنے اوپر اسلام کے وسیع تصور حیات کے دروازے بند کرلیے ہیں اور اس تصور کی وسعتوں کو چھوڑ کر وہ محسوسات کے تنگ دائرے میں بند ہوچکے ہیں ‘ جو گوشت و پوست کی دنیا سے بلند ہو کر انسانیت کے مقام بلند تک پہنچنا نہیں چاہتے اور زمین اور مادے کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی کے نظام کو ایک گرے پڑے اور کمزور تصور پر استوار کرلیا ہے ۔ یہ لوگ اس قدر گر گئے ہیں کہ انہوں نے خود اپنے آپ کو اس عذاب کا مستحق بنا لیا جو ان لوگوں کی طبیعت اور مزاج سے زیادہ مناسب ہے جو قیام قیامت کے منکر ہیں ‘ جنہوں نے اس قدر گھٹیا زندگی کو اختیار کرلیا ہے اور جو اس قدر گرے ہوئے خیالات کے حامل ہیں ۔ اس فیصلے پر جس منظر کا خاتمہ ہوتا ہے اس کی تکمیل ان خوفناک ریمارکس کے ساتھ ہوتی ہے ‘ جو رعب وداب میں شان باری کے شایان شان ہیں ۔ فرماتے ہیں :

Al-An'aam 6:30Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.