قُلْ سِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ ثُمَّ ٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُكَذِّبِينَ
کہو کہ (اے منکرین رسالت) ملک میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا
Explained together with ayah 8
سُورَةُ الأَنۡعَامِ
Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi
Ayahs 11–20 of 165
قُلْ سِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ ثُمَّ ٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُكَذِّبِينَ
کہو کہ (اے منکرین رسالت) ملک میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا
Explained together with ayah 8
قُل لِّمَن مَّا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ قُل لِّلَّهِ ۚ كَتَبَ عَلَىٰ نَفْسِهِ ٱلرَّحْمَةَ ۚ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ ۚ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ
(ان سے) پوچھو کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے کس کا ہے کہہ دو خدا کا اس نے اپنی ذات (پاک) پر رحمت کو لازم کر لیا ہے وہ تم سب کو قیامت کے دن جس میں کچھ بھی شک نہیں ضرور جمع کرے گا جن لوگوں نے اپنے تیئیں نقصان میں ڈال رکھا ہے وہ ایمان نہیں لاتے
خلاصہ تفسیر - آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ان مخالفین سے بطور الزام حجت کے) کہئے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں موجود ہے یہ سب کس کی ملک ہے (اوّل تو وہ بھی یہی جواب دیں گے جس سے توحید ثابت ہوگی، اور اگر کسی وجہ سے مثل خوف مغلوبیت کے جواب نہ دیں تو) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجئے کہ سب اللہ ہی کی ملک ہے (اور ان سے یہ بھی کہہ دیجئے کہ) اللہ تعالیٰ نے (اپنے فضل سے توبہ کرنے والوں کے ساتھ) مہربانی فرمانا اپنے ذمہ لازم فرما لیا ہے (اور یہ بھی کہہ دیجئے کہ اگر تم نے توحید کو قبول نہ کیا تو پھر سزا بھی بھگتنا پڑے گی، کیونکہ) تم کو خدا تعالیٰ قیامت کے روز (قبروں سے زندہ اٹھا کر میدان حشر میں) جمع کریں گے (اور قیامت کی حالت یہ ہے کہ) اس کے آنے میں کوئی شک نہیں (مگر) جن لوگوں نے اپنے کو (یعنی اپنی عقل و نظر کو) ضائع (یعنی معطل) کرلیا ہے، سو وہ ایمان نہ لاویں گے (اور ان سے بطور اتمام حجت یہ بھی کہئے کہ) اللہ ہی کے ملک میں ہے جو کچھ رات میں اور دن میں رہتے ہیں، (اس کے اور اس سے پہلی آیت قُلْ لِّمَنْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کے مجموعہ کا حاصل یہ نکلا کہ جتنی چیزیں کسی مکان میں ہیں یا کسی زمان میں ہیں سب اللہ کی مملوک ہیں) اور وہی سب سے بڑا سننے والا جاننے والا ہے (پھر اثبات توحید کے بعد ان سے) کہئے کہ کیا اللہ کے سوا جو کہ آسمان اور زمین کے پیدا کرنے والے ہیں اور جو (سب کو) کھانا کھلاتے ہیں اور ان کو کوئی نہیں کھلاتا (کیونکہ وہ کھانے پینے کی احتیاج سے بالاتر ہیں، تو کیا ایسے اللہ کے سوا) کسی کو اپنا معبود قرار دوں (آپ اس استفہام انکاری کی تشریح میں خود) فرما دیجئے (کہ میں غیر اللہ کو معبود کیسے قرار دے سکتا ہوں جو عقل و نقل کے خلاف ہے) مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلے میں اسلام قبول کرلوں (جس میں عقیدہ توحید بھی آگیا) اور (مجھ کو یہ کہا گیا کہ) تم مشرکین میں سے ہرگز نہ ہونا۔- معارف و مسائل - آیت قُلْ لِّمَنْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ میں کفار سے سوال کیا گیا ہے کہ آسمان و زمین اور ان کی تمام کائنات کا مالک کون ہے ؟ پھر خود ہی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک سے یہ جواب ارشاد فرمایا کہ سب کا مالک اللہ ہے، کفار کے جواب کا انتظار کرنے کے بجائے خود ہی جواب دینے کی وجہ یہ ہے کہ یہ جواب کفار مکہ کے نزدیک بھی مسلم ہے وہ اگرچہ شرک و بت پرستی میں مبتلا تھے مگر زمین و آسمان اور کل کائنات کا مالک اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے تھے۔ - لَيَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ میں لفظ الیٰ یا تو فی کے معنی میں ہے، اور مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سب اولین و آخرین کو قیامت کے دن میں جمع فرما دیں گے، اور یا جمع فی القبور مراد ہے، تو مطلب یہ ہوگا کہ قیامت تک سب انسانوں کو قبروں میں جمع کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ روز قیامت میں سب کو زندہ کریں گے (قرطبی)- كَتَبَ عَلٰي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو پیدا فرمایا تو ایک نوشتہ اپنے ذمہ وعدہ کا تحریر فرمایا جو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے، جس کا مضمون یہ ہے : ان رحمتی تغلب علی غضبی، یعنی میری رحمت میرے غضب پر غالب رہے گی (قرطبی)- اَلَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤ ْمِنُوْنَ اس میں اشارہ ہے کہ شروع آیت میں جو اللہ تعالیٰ کی عموم رحمت کا ذکر ہے کفار و مشرکین اگر اس سے محروم ہوئے تو وہ خود اپنے عمل سے محروم ہوئے، انہوں نے حصول رحمت کا طریقہ یعنی ایمان اختیار نہیں کیا (قرطبی)
۞ وَلَهُۥ مَا سَكَنَ فِى ٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ ۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ
اور جو مخلوق رات اور دن میں بستی ہے سب اسی کی ہے اور وہ سنتا جانتا ہے
وَلَهٗ مَا سَكَنَ فِي الَّيْلِ وَالنَّهَارِ ۭ، یہاں یا تو سکون سے مراد استقرار ہے، یعنی جو چیز جہاں کے لیل و نہار میں موجود ہے وہ سب اللہ ہی کی ملک ہے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مراد سکون و حرکت کا مجموعہ ہو، یعنی ماسکن وما تحرک اور ذکر صرف سکون کا کیا گیا حرکت جو اس کے بالمقابل ہے وہ خودبخود سمجھ میں آسکتی ہے۔
قُلْ أَغَيْرَ ٱللَّهِ أَتَّخِذُ وَلِيًّۭا فَاطِرِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَهُوَ يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ ۗ قُلْ إِنِّىٓ أُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ ۖ وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ
کہو کیا میں خدا کو چھوڑ کر کسی اور کو مددگار بناؤں کہ (وہی تو) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی (سب کو) کھانا دیتا ہے اور خود کسی سے کھانا نہیں لیتا (یہ بھی) کہہ دو کہ مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا ہوں اور یہ کہ تم (اے پیغمبر!) مشرکوں میں نہ ہونا
Explained together with ayah 13
قُلْ إِنِّىٓ أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّى عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍۢ
(یہ بھی) کہہ دو کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے
خلاصہ تفسیر - آپ کہہ دیجئے کہ اگر میں اپنے رب کا کہنا نہ مانوں (کہ اسلام و ایمان کے حکم کی تعمیل نہ کروں یا شرک میں مبتلا ہوجاؤ ں) تو میں ایک بڑے دن (یعنی قیامت) کے عذاب سے ڈرتا ہوں (یہ ظاہر ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معصوم ہیں، اسلام و ایمان کے خلاف شرک و معصیت کا صادر ہونا آپ سے ممکن نہیں، مگر یہاں سنانا عام امت کو ہے، کہ نبی معصوم بھی اللہ کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں، پھر فرمایا کہ وہ عذاب ایسا ہے کہ) جس شخص سے اس روز کا عذاب ہٹا دیا گیا اس پر اللہ تعالیٰ نے بڑا رحم کیا اور یہ (عذاب کا ہٹ جانا اور اللہ کی رحمت کا متوجہ ہوجانا) صریح کامیابی ہے (اس میں اس رحمت کا بیان بھی ہوگیا جس کا ذکر اس سے پہلے كَتَبَ عَلٰي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ میں آیا ہے) اور (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو یہ بھی سنا دیجئے کہ اے انسان) اگر تجھ کو اللہ تعالیٰ کوئی تکلیف (دنیا یا آخرت میں) پہنچا دیں تو اس کا دور کرنے والا سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں (وہی چاہیں تو دور کریں یا نہ کریں اور جلد کریں یا دیر میں کریں) اور اگر تجھ کو (اسی طرح) کوئی نفع پہنچا دیں (تو اس کا بھی کوئی ہٹانے والا نہیں، جیسا دوسری جگہ ہے (آیت) لا رآد لفضلہ کیونکہ) وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں (اور مضمون مذکور کی تاکید کے لئے یہ بھی فرما دیجئے کہ) وہی اللہ تعالیٰ (قدرت کے اعتبار سے) اپنے بندوں پر غالب اور برتر ہیں اور (علم کے اعتبار سے) وہی بڑی حکمت والے اور پوری خبر رکھنے والے ہیں (پس وہ علم سے سب کا حال جانتے ہیں اور قدرت سے سب کو جمع کرلیں گے اور حکمت سے مناسب جزاء و سزا دیں گے) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ان منکرین توحید و رسالت سے) کہئے کہ (اچھا یہ تو بتلاؤ کہ) سب سے بڑھ کر چیز گواہی دینے کے لئے کون ہے (جس کی گواہی دینے پر سب کا اختلاف رفع ہوجاوے، اس کا جواب ظاہر ہے یہی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑھ کر ہیں پھر) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہئے کہ میرے اور تمہارے درمیان (جس مسئلہ میں اختلاف ہے اس میں وہی) اللہ تعالیٰ گواہ ہے (جس کی گواہی سب سے بڑھ کر ہے) اور (ان کی گواہی یہ ہے کہ) میرے پاس یہ قرآن بطور وحی کے (منجانب اللہ) بھیجا گیا ہے تاکہ میں اس قرآن کے ذریعہ تم کو اور جس جس کو یہ قرآن پہنچے ان سب کو (ان وعیدوں سے) ڈراؤں (جو توحید و رسالت کے انکار پر اس میں مذکور ہیں کیونکہ قرآن مجید کے اعجاز اور اس کی مثل بنانے سے ساری دنیا کا عاجز ہونا اللہ تعالیٰ کی تکوینی شہادت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سچائی پر ہوگئی اور مضامین قرآن سے اس کی تشریعی شہادت ہوگئی) کیا تم (اس شہادت کبریٰ کے بعد بھی جو کہ توحید کو شامل ہے) توحید کے بارے میں سچ مچ یہی گواہی دو گے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ (استحقاق عبادت میں) کچھ اور معبود بھی (شریک) ہیں (اور اگر وہ ہٹ دھرمی سے اس پر بھی کہہ دیں کہ ہاں ہم تو یہی گواہی دیں گے تو اس وقت ان سے بحث کرنا فضول ہے، بلکہ صرف) آپ (اپنے عقیدہ کو ظاہر کرنے کے لئے) کہہ دیجئے کہ میں تو اس کی گواہی نہیں دیتا اور بیشک میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں (اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کے بارے میں جو یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے یہود و نصاریٰ سے پوچھ کر دیکھ لیا تو اس معاملہ کی تحقیق یہ ہے کہ) جن لوگوں کو ہم نے کتاب (تورات و انجیل) دی ہے وہ سب لوگ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو (ایسا) پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں (لیکن جب شہادت کبریٰ کے ہوتے ہوئے اہل کتاب کی شہادت پر مدار ہی نہیں تو اس کے نہ ہونے سے بھی کوئی استدلال نہیں کیا جاسکتا، اور ایسی شہادت کبریٰ کے ہوتے ہوئے بھی) جن لوگوں نے اپنے کو ضائع کرلیا ہے وہ ایمان نہ لاویں گے (عقل کو ضائع کرنے سے مطلب یہ ہے کہ اس کو معطل کردیا عقل سے کام نہیں لیا) اس سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ پر …
مَّن يُصْرَفْ عَنْهُ يَوْمَئِذٍۢ فَقَدْ رَحِمَهُۥ ۚ وَذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْمُبِينُ
جس شخص سے اس روز عذاب ٹال دیا گیا اس پر خدا نے (بڑی) مہربانی فرمائی اور یہ کھلی کامیابی ہے
اس کے بعد فرمایا مَنْ يُّصْرَفْ عَنْهُ يَوْمَىِٕذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗ ۭ وَذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِيْنُ یعنی روز محشر کا عذاب انتہائی ہولناک اور سخت ہے، جس شخص سے یہ عذاب ٹل گیا تو سمجھئے کہ اس پر اللہ کی بڑی رحمت ہوگئی، وَذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِيْنُ یعنی یہی بڑی اور کھلی کامیابی ہے، یہاں کامیابی سے مراد دخول جنت ہے، اس سے معلوم ہوا کہ عذاب سے نجات اور جنت کا داخلہ لازم و ملزوم ہیں۔
وَإِن يَمْسَسْكَ ٱللَّهُ بِضُرٍّۢ فَلَا كَاشِفَ لَهُۥٓ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِن يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍۢ فَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ
اور اگر خدا تم کو کوئی سختی پہنچائے تو اس کے سوا اس کو کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر نعمت (وراحت) عطا کرے تو (کوئی اس کو روکنے والا نہیں) وہ ہر چیز پر قادر ہے
دوسری آیت میں اسلام کا ایک بنیادی عقیدہ بیان کیا گیا ہے کہ ہر نفع اور نقصان کا مالک در حقیقت صرف اللہ جل شانہ ہے، کوئی شخص کسی کو حقیقت کے اعتبار سے نہ ادنیٰ نفع پہنچا سکتا ہے نہ ادنیٰ نقصان، اور ظاہر میں جو کسی کو کسی کے ہاتھ سے نفع یا نقصان پہنچتا نظر آتا ہے وہ صرف ایک ظاہری صورت اور حقیقت کے سامنے ایک نقاب سے زائد کوئی حقیقت نہیں رکھتا - کار زلف تست مشک اثسائی امّا عاشقاں - مصلحت راتہمتے برآ ہوئے چیں بستہ اند ؛- یہ عقیدہ بھی اسلام کے ان انقلابی عقائد میں سے ہے جس نے مسلمانوں کو ساری مخلوق سے بےنیاز اور صرف خالق کا نیاز مند بنا کر ان کی ایک ایسی بےمثال البیلی جماعت تیار کردی جو فقر و فاقہ اور تنگدستی میں بھی سارے جہان پر بھاری ہے، کسی کے سامنے سر جھکانا نہیں جانتی - فقر میں بھی میں سربسر فخر و غرور و ناز ہوں - کسی کا نیاز مند ہوں سب سے جو بےنیاز ہوں - قرآن مجید میں جا بجا یہ مضمون مختلف عنوانات کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے، ایک آیت میں ارشاد ہے :- (آیت) ما یفتح اللہ للناس - ” یعنی اللہ تعالیٰ نے جو رحمت لوگوں کے لئے کھول دی اس کو کوئی روکنے والا نہیں اور جس کو روک دے اس کو کوئی کھولنے والا نہیں “۔- صحیح احادیث میں ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی دعاؤں میں اکثر یہ کہا کرتے تھے :- اللہم لا مانع لما اعطیت۔ الخ۔- (ترجمہ) ” یعنی اے اللہ جو آپ نے دیا اس کو کوئی روکنے والا نہیں اور جو آپ نے روک دیا اس کا کوئی دینے والا نہیں اور کسی کوشش والے کی کوشش آپ کے مقابلہ میں نفع نہیں دے سکتی “۔- امام بغوی رحمة اللہ علیہ نے اس آیت کے تحت حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک سواری پر سوار ہوئے اور مجھے اپنے پیچھے ردیف بنا لیا، کچھ دور چلنے کے بعد میری طرف منوجہ ہو کر فرمایا کہ اے لڑکے میں نے عرض کیا حاضر ہوں، کیا حکم ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم اللہ کو یاد رکھو اللہ تم کو یاد رکھے گا، تم اللہ کو یاد رکھو گے تو اس کو ہر حال میں اپنے سامنے پاؤ گے، تم امن و عافیت اور خوش عیشی کے وقت اللہ تعالیٰ کو پہچانو تو تمہاری مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ تم کر پہچانے گا، جب تم کو سوال کرنا ہو تو صرف اللہ سے سوال کرو، اور مدد مانگنی ہو تو صرف اللہ سے مدد مانگو، جو کچھ دنیا میں ہونے والا ہے قلم تقدیر کا اس کو لکھ چکا ہے، اگر ساری مخلوقات مل کر اس کی کوشش کریں کہ تم کو ایسا نفع پہنچا دیں جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے حصہ میں نہیں رکھا تو وہ ہرگز ایسا نہ کرسکیں گے، اور اگر وہ سب مل کر اس کی کوشش کریں کہ تم کو ایسا نقصان پہنچاویں جو تمہاری قسمت میں نہیں ہے تو ہرگز اس پر قدرت نہ پائیں گے، اگر تم کرسکتے ہو کہ یقین کے ساتھ صبر پر عمل کرو تو ایسا ضرور کرلو، اگر اس پر قدرت نہیں تو صبر کرو، کیونکہ اپنی خلاف طبع چیزوں پر صبر کرنے میں بڑی خیروبرکت ہے، اور خوب سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ کی مدد صبر کے ساتھ ہے، اور مصیبت کے ساتھ راحت اور تنگی کے ساتھ فراخی ہے۔ (یہ حدیث ترمذی اور مسند احمد میں بھی بسند صحیح مذکور ہے) ۔- افسوس ہے کہ قرآن کے اس واضح اعلان اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمر بھر کی تعلیمات کے باوجود یہ امت پھر اس معاملہ میں بھٹکنے لگی، سارے خدائی اختیارات مخلوقات کو بانٹ دیئے، آج ایسے مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد ہے جو مصیبت کے وقت بجائے خدا تعالیٰ کے پکارنے کے اور اس سے دعا مانگنے کے مختلف ناموں کی دہائی دیتے اور انہی سے مانگتے ہیں، خدا تعالیٰ کی طرف دھیان تک نہیں ہوتا، انبیاء و اولیاء کے توسل سے دعا مانگنا دوسری بات ہے وہ جائز ہے، اور خود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیمات میں اس کے شواہد موجود ہیں، لیکن براہ راست کسی مخلوق کو حاجت روائی کے لئے …
وَهُوَ ٱلْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِۦ ۚ وَهُوَ ٱلْحَكِيمُ ٱلْخَبِيرُ
اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہ دانا اور خبردار ہے
آخر آیت میں فرمایا وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ ۭ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ ، یعنی اللہ تعالیٰ ہی اپنے سب بندوں پر غالب و قادر ہے، اور سب اس کے تحت قدرت اور محتاج ہیں، یہی وجہ ہے کہ دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا انسان خواہ اللہ کا رسول مقرب ہو یا دنیا کا بڑے سے بڑا بادشاہ ہو اپنے ہر ارادہ میں کامیاب نہیں ہوتا، اور اس کی ہر مراد پوری نہیں ہوتی۔- وہ حکیم بھی ہے کہ اس کے تمام افعال عین حکمت ہیں، اور ہر چیز کو جاننے والا بھی ہے، اس میں لفظ ” قاہر “ سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا اور لفظ ” حکیم “ سے اس کے علم محیط کا بیان کرکے بتلا دیا کہ تمام صفات کمال علم وقدرت میں منحصر ہیں اور اللہ تعالیٰ ان دونوں میں یکتا ہیں۔
قُلْ أَىُّ شَىْءٍ أَكْبَرُ شَهَٰدَةًۭ ۖ قُلِ ٱللَّهُ ۖ شَهِيدٌۢ بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ ۚ وَأُوحِىَ إِلَىَّ هَٰذَا ٱلْقُرْءَانُ لِأُنذِرَكُم بِهِۦ وَمَنۢ بَلَغَ ۚ أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ ٱللَّهِ ءَالِهَةً أُخْرَىٰ ۚ قُل لَّآ أَشْهَدُ ۚ قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَٰهٌۭ وَٰحِدٌۭ وَإِنَّنِى بَرِىٓءٌۭ مِّمَّا تُشْرِكُونَ
ان سے پوچھو کہ سب سے بڑھ کر (قرین انصاف) کس کی شہادت ہے کہہ دو کہ خدا ہی مجھ میں اور تم میں گواہ ہے اور یہ قرآن مجھ پر اس لیے اتارا گیا ہے کہ اس کے ذریعے سے تم کو اور جس شخص تک وہ پہنچ سکے آگاہ کردوں کیا تم لوگ اس بات کی شہادت دیتے ہو کہ خدا کے ساتھ اور بھی معبود ہیں (اے محمدﷺ!) کہہ دو کہ میں تو (ایسی) شہادت نہیں دیتا کہہ دو کہ صرف وہی ایک معبود ہے اور جن کو تم لوگ شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں
پانچویں آیت کا ایک خاص واقعہ نزول عامہ مفسرین نے نقل کیا ہے، کہ ایک مرتبہ اہل مکہ کا ایک وفد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، اور کہنے لگا کہ آپ جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اس پر آپ کا گواہ کون ہے ؟ کیونکہ ہمیں کوئی آدمی ایسا نہیں ملا جو آپ کی تصدیق کرتا ہو، حالانکہ ہم نے یہود سے نصاریٰ سے اس کی تحقیق میں پوری کوشش کی۔- اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ قُلْ اَيُّ شَيْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجئے کہ اللہ سے بڑھ کر کس کی شہادت ہوگی، جس کے قبضہ میں کل جہان اور سب کا نفع و ضرر ہے، پھر آپ کہہ دیجئے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے، اور اللہ تعالیٰ کی گواہی سے مراد وہ معجزات اور آیات بینات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رسول برحق ہونے کے متعلق ظاہر فرمائی اسی لئے اس کے بعد اہل مکہ کو خطاب کرکے یہ ارشاد فرمایا : اَىِٕنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰي یعنی کیا اللہ تعالیٰ کی اس گواہی کے بعد بھی تم اس کے خلاف اس کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہیں، اگر ایسا ہے تو اپنے انجام کو تم سمجھو، میں تو ایسی گواہی نہیں دے سکتا، قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ، یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ یکتا معبود ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔- اور ارشاد فرمای آوَاُوْحِيَ اِلَيَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ ، یعنی مجھ پر بطور وحی قرآن بھیجا گیا، تاکہ اس کے ذریعہ میں تم کو اللہ کے عذاب سے ڈراؤ ں، اور ان لوگوں کو ڈراؤں جن کو قیامت تک یہ قرآن پہنچے گا۔- حضرت سعید بن جبیر رحمة اللہ علیہ نے فرمایا کہ جس شخص کو قرآن پہنچ گیا وہ ایسا ہوگیا جیسے اس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت کرلی، اور ایک حدیث میں ہے کہ جس شخص کو قرآن پہنچ گیا میں اس کا نذیر ہوں۔- اسی لئے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام کو تاکید فرمائی : بلغوا عنی ولو ایة، یعنی میرے احکام وتعلیمات لوگوں تک پہنچاؤ اگرچہ ایک ہی آیت ہو۔ - اور حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ اور صحت مند رکھے جس نے میرا کوئی مقالہ سنا پھر اس کو یاد رکھا پھر اس کو امت تک پہنچا دیا، کیونکہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی خود کسی کلام کے مفہوم کو اتنا نہیں سمجھتا جتنا بعد میں آنے والا سمجھتا ہے جس کو یہ کلام اس نے پہنچایا ہے۔
ٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ يَعْرِفُونَهُۥ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَآءَهُمُ ۘ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ
جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ ان (ہمارے پیغمبرﷺ) کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانا کرتے ہیں جنہوں نے اپنے تئیں نقصان میں ڈال رکھا ہے وہ ایمان نہیں لاتے
آخری آیت میں ان لوگوں کے اس قول کی تردید ہے کہ ہم نے یہود و نصاریٰ سے سب سے تحقیق کرلی، کوئی بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سچائی اور نبوت کی گواہی نہیں دیتا، اس کے متعلق ارشاد فرمایا : اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗ یعنی یہود و نصاریٰ تو محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایسا پہنچاتے ہیں جیسے اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں۔- وجہ یہ ہے کہ تورات و انجیل میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پورا حلیہ شریف آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وطن اصلی پھر وطن ہجرت کا، اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عادات و اخلاق اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کارناموں کا ایسا تفصیلی ذکر ہے کہ اس کے بعد کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی، بلکہ صرف آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کا ذکر نہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے حالات کا مفصل تذکرہ تک تورات و انجیل میں موجود ہے، اس لئے اس کا کوئی امکان نہیں کہ جو شخص تورات و انجیل کو پڑھتا اور ان پر ایمان رکھتا ہو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہ پہچانے۔- اس جگہ حق تعالیٰ نے تشبیہ کے موقع پر یہ ارشاد فرمایا کہ جیسے لوگ اپنے بچوں کو پہچانتے ہیں، یہ نہیں فرمایا کہ جیسے بچے اپنے ماں باپ کو پہچانتے ہیں، وجہ یہ ہے کہ ماں باپ کی پہچان اپنے بچوں کے لئے سب سے زیادہ تفصیلی اور یقینی ہوتی ہے، بچوں کے بدن کا ہر حصہ ماں باپ کے سامنے آتا رہتا ہے، وہ بچپن سے لے کر جوانی تک ان کے ہاتھوں اور گود میں پرورش پاتے ہیں، اس لئے وہ جتنا اپنی اولاد کو پہچان سکتے ہیں اتنا اولاد ان کو نہیں پہچان سکتی۔- حضرت عبداللہ بن سلام (رض) جو پہلے یہود میں داخل تھے، پھر مسلمان ہوگئے، حضرت فاروق اعظم (رض) نے ان سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں خبر دی ہے کہ تم لوگ ہمارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایسا پہچانتے ہو جیسے اپنی اولاد کو اس کی کیا وجہ ہے ؟ عبداللہ ابن سلام (رض) نے فرمایا کہ ہاں ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ اوصاف کے ساتھ جانتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے تورات میں نازل فرمائے، اس لئے اس کا علم ہمیں یقینی اور قطعی طور پر ہے، بخلاف اپنی اولاد کے کہ اس میں شبہ ہوسکتا ہے کہ یہ ہماری اولاد ہے بھی یا نہیں۔- حضرت زید بن سعنہ جو اہل کتاب میں سے ہیں انہوں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تورات و انجیل کے بیان کردہ اوصاف ہی کے ذریعہ پہچانا تھا، صرف ایک وصف ایسا تھا جس کی ان کو پہلے تصدیق نہیں ہوسکی تھی، امتحان کے بعد تصدیق ہوئی، وہ یہ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حلم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غصہ پر غالب ہوگا، پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچ کر تجربہ کیا تو یہ صفت بھی پوری طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں پائی اسی وقت مسلمان ہوگئے۔- آخر آیت میں فرمایا کہ یہ اہل کتاب جو پوری طرح رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہچاننے کے باوجود مسلمان نہیں ہوتے، یہ اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو برباد کر رہے اور خسارہ میں پڑ رہے ہیں، َالَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤ ْمِنُوْنَ
Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.