Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 11–20 of 165

11

قُلْ سِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ ثُمَّ ٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُكَذِّبِينَ

کہو کہ (اے منکرین رسالت) ملک میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا

(آیت) ” نمبر 10 تا 11۔

یہ ایک جھلکی ہے ‘ جو ان لوگوں کی روگردانی اور ہٹ دھرمی کے بعد اور ان کی جاہلانہ اور احمقانہ مطالبات کے بعد آتی ہے۔ اور اس کے بعد کہ ان کے اس چیلنج اور ان کے مطالبات کو اللہ تعالیٰ نے نہایت مہربانی اور نہایت ہی بربادی کر کے قبول نہ کیا ورنہ وہ ہلاک ہوجاتے ‘ تو اس موقعہ پر اس جھلکی سے دو مقاصد مطلوب ہیں ۔

پہلا مقصد تو یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی جائے اور ان کے دل سے غبار غم چھٹ جائے کوئی روگردانی کرنے والوں اور مذاق اڑانے والوں کے رویے کی وجہ سے اور مسلسل ہٹ دھرمی کی وجہ سے آپ بہت ہی پریشان ہوجاتے تھے ۔ اس طرح حضور ﷺ کا دل مطمئن ہوجاتا کہ جھٹلانے والوں اور مذاق اڑانے والوں کا انجام آخر کار خراب ہی ہوتا ہے ۔ حضور ﷺ کو یہ سمجھایا جاتا ہے کہ تاریخ دعوت وتاریخ رسل میں یہ رویہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے ۔ آپ سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ یہی رویہ اختیار کیا گیا ۔ مذاق اڑانے والوں کا یہی انجام رہا ہے اور وہ جس چیز سے مذاق کرتے تھے آخر کار اسی چیز نے انہیں گھیر لیا اور جس کو دھمکی سمجھتے تھے وہ عذاب ان پر آکر رہا اور حق کو باطل پر آخر کار غلبہ نصیب ہوا۔

دوسرا مقصد یہ تھا کہ ان جھٹلانے والوں اور مذاق کرنے والوں کے دلوں کو بھی ذرا جھنجوڑا جائے اور انہیں اس طرح متوجہ کیا جائے کہ وہ ذرا اپنے اسلام کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں جنہوں نے نبیوں کو جھٹلایا اور ان کا مذاق اڑایا اور اس کی وجہ سے اللہ کے عذاب نے انہیں گھیرا ۔ یہ لوگ قوت اور شوکت کے اعتبار سے تم سے زیادہ قوی اور پرشوکت تھے ۔ وہ زیادہ آسودہ حال اور ترقی یافتہ تھے ۔ اس طرح انہیں اس طرح متوجہ کیا ۔ شاید کہ وہ ہدایت قبول کرلیں جس طرح سورة کے آغاز میں بھی انہیں واقعات تاریخ سے عبرت حاصل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ قرآن کریم کے درج ذیل الفاظ قابل غور ہیں :

(آیت) ” قُلْ سِیْرُواْ فِیْ الأَرْضِ ثُمَّ انظُرُواْ کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ (11)

” ان سے کہو ‘ ذرا زمین پر چل پھر کر دیکھو جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ہے ؟ ۔ زمین میں سیروسیاحت کے مقاصد یہ ہیں کہ پھرنے والے کو علم حاصل ہو ‘ وہ حالات پر غور کرے اور ان سے عبرت حاصل کرے ۔ اور پھر تدبر کے بعد پھرنے والا یہ معلوم کرے کہ سنن الہیہ حوادث وواقعات میں کس طرح کار فرما ہوتی ہیں ۔ سنن الہیہ آثار قدیمہ سے بھی معلوم ہو سکتی ہیں جو نظر آتے ہیں اور ابھی تک کھڑے ہیں ۔ ان تاریخی واقعات کے اندر بھی معلوم کی جاسکتی ہیں جو ہر خطے اور ہر قوم کی روایتی تاریخ کے اندر منضبط ہوتے ہیں ۔ زمین کے اندر اس غرض کے لئے اور اس نہج پر سیاحت کرنا عربوں کے لئے ایک انوکھی بات تھی ۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عربوں جیسی بدوی اور سادہ قوم میں قرآن مجید فکر ونظر کا کس قدر عظیم انقلاب لارہا ہے ۔ وہ اہل جاہل اور ان پڑھ قوم کو فلسفہ تاریخ پڑھا رہا ہے ۔

وہ زمین میں پھرتے تھے ‘ سیاحت کے عادی تھے ۔ وہ زندگی گزارنے اور تجارت کے لئے قافلوں کی صورت میں پھرنے کے عادی تھے لیکن ان کے پیش نظر صرف وہ امور تھے جن کا تعلق صرف تجارت اور شکار وغیرہ سے تھا ۔ تربیتی مقاصد کے لئے سیر و سیاحت کبھی ان کا مقصود نہیں رہی تھی ۔ یہ سفر ان کے لئے بالکل جدید تھا ۔ یہ جدید نظام حیات انہیں سچ کی یہ نئی لائن دے رہا تھا اور بچوں کی طرح انہیں ہاتھ سے پکڑ کر جاہلیت کی گہرائیوں اور تاریکیوں سے نکال رہا تھا ۔ انہیں ایک بلند اور کھلی شاہراہ پر ڈال کر مقام سربلندی تک لے جا رہا تھا اور تاریخ شاہد ہے کہ قرآن پر عمل کرکے ہی وہ اس بلند مقام تک پہنچے ۔

مطالعہ تاریخ کا یہ منہاج جو قرآن کریم عربوں کو سکھا رہا تھا اپنے اول اور آخر سے یہ انسانی تاریخ کے مطالعے کا بالکل ایک نیا منہاج تھا جس کے مطابق اس دور میں اسلامی نظام زندگی نے انسانی عقل کے سامنے انسانی تاریخ کو پیش کیا ۔ اس طرز مطالعہ سے صاف …

Al-An'aam 6:11Listen in Qur'an →
12

قُل لِّمَن مَّا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ قُل لِّلَّهِ ۚ كَتَبَ عَلَىٰ نَفْسِهِ ٱلرَّحْمَةَ ۚ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ ۚ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ

(ان سے) پوچھو کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے کس کا ہے کہہ دو خدا کا اس نے اپنی ذات (پاک) پر رحمت کو لازم کر لیا ہے وہ تم سب کو قیامت کے دن جس میں کچھ بھی شک نہیں ضرور جمع کرے گا جن لوگوں نے اپنے تیئیں نقصان میں ڈال رکھا ہے وہ ایمان نہیں لاتے

درس نمبر 57 تشریح آیات :

12۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 19 ۔

(آیت) ” نمبر 12 تا 13۔

یہاں خطاب بیان اور فیصلے کے لئے ہے یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ ان مشرکین سے مخاطب ہوں جو اچھی طرح جانتے ہیں اللہ ہی خالق ہے لیکن یہ جانتے ہوئے بھی خالق کا ہمسر ان لوگوں کو بناتے ہیں جو بذات خود مخلوق ہیں ۔ اور پھر بزعم کود اپنی زندگی کے تصرفات میں ان شرکاء کو بھی دخیل کرتے ہیں۔ سوال یہ کیا جاتا ہے کہ تم مانتے ہو کہ اللہ خالق ہے تو یہ بتاؤ کہ تخلیق کے بعد پھر مالک کون ہے ؟ یعنی اس پوری کائنات اور زمین و آسمان کا خالق کون ہے ؟ (مافی السموت والارض) کا مالک کون ہے ؟ اور پھر اس سوال کا جواب خود ہی دے دیا جاتا ہے اس لئے کہ وہ اس کا انکار نہ کرتے تھے ۔ (قل للہ) عربوں سے اگر پوچھا جاتا کہ (آیت) ” (لمن مافی السموت والارض) ؟ تو وہ جواب دیتے (للہ) تو معلوم ہوا کہ جاہلیت کے اندھیروں میں ہوتے ہوئے اور فکری اور نظری گمراہی کا شکار ہوتے ہوئے بھی وہ دور جدید کی جاہلیت سے بہرحال زیادہ بہتر تھے ۔ دور جدید کی جاہلیت کو علمی جاہلیت کہا جاسکتا ہے اس لئے کہ وہ اس سادہ حقیقت کی بھی منکر ہے ‘ کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے ۔ اس نے اپنی فطرت کو اندھا کردیا ہے اور وہ اس بدیہی حقیقت کو بھی دیکھ نہیں رہی ہے ۔ عرب جاہلیت کے پیروکار اگرچہ اس بدیہی حقیقت کا ادراک کرتے تھے اور ان کا یہ عقیدہ تھا کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے لیکن وہ اس حقیقت اور اقرار پر پھر اس کے منطقی نتیجے مرتب نہ کرتے تھے ۔ یوں وہ اللہ کو اس کی مملوکات کے اندر بھی حاکم مطلق اور مقتدر اعلی نہ سمجھتے تھے ۔ وہ دنیا میں اپنے تمام تصرفات اور تمام حرکات و سکنات کو اذن اللہ کے دائرے کے اندر محدود نہ کرتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مشرک قرار پاتے تھے اور انہیں اہل جاہلیت کہا گیا ۔ رہے وہ لوگ جو اپنے تمام امور کو اللہ تعالیٰ کے دائرہ حاکمیت سے نکال دیں اور اپنی زندگی کے خود حاکم بن جائیں تو اب یہ سوال ان سے کیا جاسکتا ہے کہ ہم انہیں کیا کہیں اور انکی زندگی پر کیا فیصلہ دیں ۔ ظاہر ہے کہ ان لوگوں کو مشرکین کے سوا کوئی اور لقب نہیں دیا جاسکتا اور نہ ان کی زندگی کو شرکیہ زندگی کے سوا کچھ اور کہا جاسکتا ہے ۔ اس لئے کہ خود اللہ کے فیصلے کے مطابق ان کی یہ زندگی فاسقانہ ‘ ظالمانہ اور کافرانہ ہے ۔ چاہے وہ جس قدر بھی اسلام کا دعوی کریں (ان کے برتھ سرٹیفکیٹ چاہے ان کا مذہب جو بھی بتائیں کیونکہ وہ تو پیدائش کے وقت خانہ پری ہوتی ہے)

اب ذرا آیت پر بھرپور نظر ڈالیں ۔ اس میں اللہ تعالیٰ یہ قرار دینے کے بعد کہ زمین اور آسمان کا مالک وہ ہے ساتھ ساتھ یہ بھی اضافہ فرماتے ہیں (کتب علی نفسہ الرحمۃ) ” اس نے رحم وکرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کرلیا ہے ۔ “ اللہ وحدہ خالق ومالک ہے اور اس میں اس کے ساتھ کوئی بھی شریک نہیں ہے جو نزاع کرسکے ۔ لیکن اس نے اپنے فضل وکرم سے اپنے اوپر یہ بات لازم کرلی ہے کہ وہ رؤف ورحیم ہے ۔ اپنے ارادے اور اپنی مشیت اور مرضی سے اس نے یہ رویہ لازم کرلیا ہے کوئی اور نہیں ہے جس نے اللہ رپ اس رویے کو لازم کردیا ہو ‘ نہ کسی اور نے اللہ سے اس کا مطالبہ کیا ہے اپنے ارادہ مطلق اور اپنی کریمانہ شان ربوبیت کی وجہ سے اس نے یہ رحیمانہ رویہ اپنایا ہوا ہے ۔ اور یہ اصول اللہ تعالیٰ نے اپنے فیصلوں اپنے اخلاق اور اپنے معاملات میں ‘ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اپنے لئے ایک مسلمہ قاعدہ قرار دیا ہے ۔ اسلامی تصور حیات اور اسلامی نظریات کی بنیادوں کے اندر بھی یہ اصول کار فرما ہے ۔ اصل اصول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر رحم کرتا ہے یہاں تک کہ اگر اللہ کسی بندے کو مشکلات اور مصائب سے دو چار کرتا ہے تو بھی دراصل اس پر شفقت مطلوب ہوتی ہے ۔ وہ بندوں کو مشکلات میں اس لئے ڈالتا ہے تاکہ ان میں سے ایک ایسا عنصر ہر وقت …

Al-An'aam 6:12Listen in Qur'an →
13

۞ وَلَهُۥ مَا سَكَنَ فِى ٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ ۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ

اور جو مخلوق رات اور دن میں بستی ہے سب اسی کی ہے اور وہ سنتا جانتا ہے

درس نمبر 57 تشریح آیات :

12۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 19 ۔

(آیت) ” نمبر 12 تا 13۔

یہاں خطاب بیان اور فیصلے کے لئے ہے یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ ان مشرکین سے مخاطب ہوں جو اچھی طرح جانتے ہیں اللہ ہی خالق ہے لیکن یہ جانتے ہوئے بھی خالق کا ہمسر ان لوگوں کو بناتے ہیں جو بذات خود مخلوق ہیں ۔ اور پھر بزعم کود اپنی زندگی کے تصرفات میں ان شرکاء کو بھی دخیل کرتے ہیں۔ سوال یہ کیا جاتا ہے کہ تم مانتے ہو کہ اللہ خالق ہے تو یہ بتاؤ کہ تخلیق کے بعد پھر مالک کون ہے ؟ یعنی اس پوری کائنات اور زمین و آسمان کا خالق کون ہے ؟ (مافی السموت والارض) کا مالک کون ہے ؟ اور پھر اس سوال کا جواب خود ہی دے دیا جاتا ہے اس لئے کہ وہ اس کا انکار نہ کرتے تھے ۔ (قل للہ) عربوں سے اگر پوچھا جاتا کہ (آیت) ” (لمن مافی السموت والارض) ؟ تو وہ جواب دیتے (للہ) تو معلوم ہوا کہ جاہلیت کے اندھیروں میں ہوتے ہوئے اور فکری اور نظری گمراہی کا شکار ہوتے ہوئے بھی وہ دور جدید کی جاہلیت سے بہرحال زیادہ بہتر تھے ۔ دور جدید کی جاہلیت کو علمی جاہلیت کہا جاسکتا ہے اس لئے کہ وہ اس سادہ حقیقت کی بھی منکر ہے ‘ کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے ۔ اس نے اپنی فطرت کو اندھا کردیا ہے اور وہ اس بدیہی حقیقت کو بھی دیکھ نہیں رہی ہے ۔ عرب جاہلیت کے پیروکار اگرچہ اس بدیہی حقیقت کا ادراک کرتے تھے اور ان کا یہ عقیدہ تھا کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے لیکن وہ اس حقیقت اور اقرار پر پھر اس کے منطقی نتیجے مرتب نہ کرتے تھے ۔ یوں وہ اللہ کو اس کی مملوکات کے اندر بھی حاکم مطلق اور مقتدر اعلی نہ سمجھتے تھے ۔ وہ دنیا میں اپنے تمام تصرفات اور تمام حرکات و سکنات کو اذن اللہ کے دائرے کے اندر محدود نہ کرتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مشرک قرار پاتے تھے اور انہیں اہل جاہلیت کہا گیا ۔ رہے وہ لوگ جو اپنے تمام امور کو اللہ تعالیٰ کے دائرہ حاکمیت سے نکال دیں اور اپنی زندگی کے خود حاکم بن جائیں تو اب یہ سوال ان سے کیا جاسکتا ہے کہ ہم انہیں کیا کہیں اور انکی زندگی پر کیا فیصلہ دیں ۔ ظاہر ہے کہ ان لوگوں کو مشرکین کے سوا کوئی اور لقب نہیں دیا جاسکتا اور نہ ان کی زندگی کو شرکیہ زندگی کے سوا کچھ اور کہا جاسکتا ہے ۔ اس لئے کہ خود اللہ کے فیصلے کے مطابق ان کی یہ زندگی فاسقانہ ‘ ظالمانہ اور کافرانہ ہے ۔ چاہے وہ جس قدر بھی اسلام کا دعوی کریں (ان کے برتھ سرٹیفکیٹ چاہے ان کا مذہب جو بھی بتائیں کیونکہ وہ تو پیدائش کے وقت خانہ پری ہوتی ہے)

اب ذرا آیت پر بھرپور نظر ڈالیں ۔ اس میں اللہ تعالیٰ یہ قرار دینے کے بعد کہ زمین اور آسمان کا مالک وہ ہے ساتھ ساتھ یہ بھی اضافہ فرماتے ہیں (کتب علی نفسہ الرحمۃ) ” اس نے رحم وکرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کرلیا ہے ۔ “ اللہ وحدہ خالق ومالک ہے اور اس میں اس کے ساتھ کوئی بھی شریک نہیں ہے جو نزاع کرسکے ۔ لیکن اس نے اپنے فضل وکرم سے اپنے اوپر یہ بات لازم کرلی ہے کہ وہ رؤف ورحیم ہے ۔ اپنے ارادے اور اپنی مشیت اور مرضی سے اس نے یہ رویہ لازم کرلیا ہے کوئی اور نہیں ہے جس نے اللہ رپ اس رویے کو لازم کردیا ہو ‘ نہ کسی اور نے اللہ سے اس کا مطالبہ کیا ہے اپنے ارادہ مطلق اور اپنی کریمانہ شان ربوبیت کی وجہ سے اس نے یہ رحیمانہ رویہ اپنایا ہوا ہے ۔ اور یہ اصول اللہ تعالیٰ نے اپنے فیصلوں اپنے اخلاق اور اپنے معاملات میں ‘ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اپنے لئے ایک مسلمہ قاعدہ قرار دیا ہے ۔ اسلامی تصور حیات اور اسلامی نظریات کی بنیادوں کے اندر بھی یہ اصول کار فرما ہے ۔ اصل اصول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر رحم کرتا ہے یہاں تک کہ اگر اللہ کسی بندے کو مشکلات اور مصائب سے دو چار کرتا ہے تو بھی دراصل اس پر شفقت مطلوب ہوتی ہے ۔ وہ بندوں کو مشکلات میں اس لئے ڈالتا ہے تاکہ ان میں سے ایک ایسا عنصر ہر وقت …

Al-An'aam 6:13Listen in Qur'an →
14

قُلْ أَغَيْرَ ٱللَّهِ أَتَّخِذُ وَلِيًّۭا فَاطِرِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَهُوَ يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ ۗ قُلْ إِنِّىٓ أُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ ۖ وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ

کہو کیا میں خدا کو چھوڑ کر کسی اور کو مددگار بناؤں کہ (وہی تو) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی (سب کو) کھانا دیتا ہے اور خود کسی سے کھانا نہیں لیتا (یہ بھی) کہہ دو کہ مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا ہوں اور یہ کہ تم (اے پیغمبر!) مشرکوں میں نہ ہونا

(آیت) ” نمبر 14 تا 18۔

یہ مسئلہ کہ اللہ وحدہ ولی ہے لفظ ولی کے تمام معنوں میں ہے ۔ یعنی وہ وحدہ رب ہے ۔ وہ وحدہ معبود ہے ۔ تمام لوگ اسی کی بندگی کرتے ہیں اور تمام اس کے اقتدار اعلی کے تابع ہیں ۔ وہ عبادت بھی اس کی کرتے ہیں اور عبادت کے مراسم بھی اس کے سامنے ادا کرتے ہیں ۔ صرف اسی کو ناصر اور مددگار سمجھتے ہیں ‘ اسی پر اعتماد کرتے ہیں ‘ مصائب میں اسی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔ یہ اسلام کا اساسی عقیدہ ہے ۔ انسان اگر صرف اللہ کو اپنی ولی سمجھے گا ‘ ان تمام مفہومات کے ساتھ تو پھر وہ مسلمان ہوگا اور اگر اللہ کے ساتھ کسی اور کو بھی ولی بنائے گا تو پھر وہ مشرک ہوگا ۔ شرک اور اللہ وحدہ کی ولایت ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے ۔

اس آیت میں اس حقیقت کو نہایت ہی گہرائی اور گیرائی کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے ۔ ذرا دوبارہ غور کریں ۔

(آیت) ” قُلْ أَغَیْْرَ اللّہِ أَتَّخِذُ وَلِیّاً فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَہُوَ یُطْعِمُ وَلاَ یُطْعَمُ قُلْ إِنِّیَ أُمِرْتُ أَنْ أَکُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ وَلاَ تَکُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِکَیْنَ (14)

” کہو ‘ اللہ کو چھوڑ کر کیا میں کسی اور کو اپنا سرپرست بنا لوں ؟ اس خدا کو چھوڑ کر جو زمین وآسمانوں کا خالق ہے اور جو روزی دیتا ہے اور روزی لیتا نہیں ؟ کہو ‘ مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں اس کے آگے سرتسلیم خم کروں اور (اور تاکید کی گئی ہے کہ کوئی شرک کرتا ہے تو کرے) تو بہر حال مشرکوں میں شامل نہ ہو ۔ “

یہ ایک نہایت ہی گہری فطری اور منطقی سوچ ہے ۔ کون ولی ہوگا اور ولایت کس کے لئے خالص ہوگی ؟ اگر ہم زمین وآسمانوں کے بنانے والے اور انکو وجود میں لانے والے کو اپنی ولی نہ بنائیں گے تو پھر کس کو بنائیں گے ۔ زمین و آسمان میں رہنے والی تمام مخلوقات کو رزق دینے والا ولی نہ ہوگا تو اور کون ہوگا ۔ جو تمام مخلوقات کو رزق دیتا ہے اور خود کسی کا محتاج نہیں ہے ۔

کہو کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو ولی بنا لوں ‘ جبکہ اللہ کی ذات ان صفات کی مالک ہے جن کا ذکر ہوا۔ سوال یہ ہے کہ وہ کیا دلیل اور منطق ہے ‘ جس کی وجہ سے کوئی انسان مجبور ہو کہ وہ اللہ کے سوا کسی اور کو ولی بنائے ۔ انسان کسی کو ولی اور سرپرست اس لئے بناتا ہے کہ وہ اس کی مدد کرتا ہے ۔ اللہ جب زمین وآسمانوں کا بنانے والا ہے وہ زمین و آسمان دونوں پر صاحب اقدار ہے ‘ اگر ولایت اور سرپرستی کا مقصد یہ ہے کہ سرپرست رزق اور طعام دے تو ذات باری تو تمام جہان والوں کی رازق اور مطعم ہے ‘ خواہ زمین میں ہوں یا آسمانوں میں ۔ اب اللہ کے سوا کسی اور کو ولی اور سرپرست بنانے کا فائدہ کیا ہوگا ؟

پھر یہ کہ ” کہو ‘ مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں اس کے آگے سرتسلیم خم کروں اور مجھے تاکید کی گئی ہے کہ تو بہرحال مشرکین میں شامل نہ ہو ۔ “ معلوم ہوا کہ سرتسلیم خم کرنے اور شرک سے باز رہنے کے لازمی معنی یہ ہیں کہ اللہ کے سوا کسی اور کو سرپرست نہ بنایا جائے ۔ دوسرے زاویے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو سرپرست بنانے کا مقصد یہ ہے کہ گویا ہم شرک کا ارتکاب کررہے ہیں اور شرک ہر گز اسلام نہی ہوسکتا ۔

یہ ایک واضح اور متعین مسئلہ ہے ۔ اس کے بارے میں کوئی دو رنگی اور نرمی نہیں ہو سکتی ۔ اس معاملے میں ہم صرف دو موقف اختیار کرسکتے ہیں یا تو اللہ کو وحدہ لا شریک سمجھیں گے ‘ صرف اسی کی طرف متوجہ ہوں گے ‘ اسی کیا اطاعت کریں گے ‘ اسی سے ڈریں گے ‘ خشوع و خضوع کے ساتھ ایس کی عبادت کریں گے ‘ صرف اسی سے امداد طلب کریں گے ‘ صرف اسی کو اپنا حاکم اور مقتدر اعلی اور قانون ساز سمجھیں گے ۔ اپنی زندگی کے پورے امور میں اس کی اطاعت کریں گے ‘ اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کریں گے ‘ اپنے دل اور اپنے عمل میں ‘ اپنے قانون اور طرز عمل میں اسی کو اپناولی اور سرپرست سمجھیں گے اور کسی کو اس …

Al-An'aam 6:14Listen in Qur'an →
15

قُلْ إِنِّىٓ أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّى عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍۢ

(یہ بھی) کہہ دو کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے

(آیت) ” قُلْ إِنِّیَ أَخَافُ إِنْ عَصَیْْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (15) مَّن یُصْرَفْ عَنْہُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَہُ وَذَلِکَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ (16) (6ـ15۔ 16)

” اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو ڈرتا ہوں کہ ایک بڑے دن مجھے سزا بھگتنی پڑے گی ۔ اس دن جو سزا سے بچ گیا اس پر اللہ نے بڑا ہی رحم کیا اور یہی نمایاں کامیابی ہے ۔

آپ کو حکم دیا جاتا ہے کہ اس معاملے کی اہمیت اور سنجیدگی کا اعلان کردیں اور یہ کہہ دیں کہ اگر وہ سرموانحراف بھی کریں تو خود ان پر عذاب الہی نازل ہو سکتا ہے ۔ خصوصا اسلام اور توحید کے معاملے میں اس طرح خود اہل شرک کے دلوں میں خوف اور رعب پیدا ہوگا ۔

حضور اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کے احکام کے بارے میں جس قدر حساس تھے یہ اس کی بہترین تصویر کشی ہے ۔ نظر آتا ہے کہ حضور ﷺ عذاب الہی سے بہت ہی ڈرتے تھے ۔ اللہ کا عذاب اس قدر خوفناک ہوتا ہے کہ اگر وہ کسی سے ٹل جائے تو اس کا محض ٹلنا ہی فوز عظیم تصور ہوتا ہے ۔ اس تصویری احساس کے علاوہ اس میں اہل شرک کے لئے دلوں کو ہلا دینے والی ایک تنبیہ بھی ہے ۔ اس دور کے مشرکین کے لئے بھی اور بعد کے ادوار کے مشرکین کے لئے بھی ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کا عذاب کس قدر ہولناک ہوگا ۔ یہ عذاب اپنے شکار کو بسہولت تلاش کرلے گا ۔ اسے گھیر لے گا اور اس کو جھپٹ کر اپنے قبضے میں لے لے گا ۔ صرف قادر مطلق ہی اسے بچا سکتا ہے ۔ چونکہ عذاب الہی کی باگیں اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہیں ‘ اسے صرف وہی پھیر سکتا ہے ۔ انسان جب اس تصویر کشی پر غور کرتا ہے تو اس کی سانس رکنے لگتی ہے ۔ یہ آخری گھڑی کس قدر ہوش ربا ہے ۔ (تفصیلات کے لئے دیکھے میری کتاب التصویر الغنی میں طریقۃ قرآن)

سوال یہ ہے کہ کوئی شخص غیر اللہ کو ولی اور سرپرست کیوں بنائے ؟ اپنے آپ کو اس شرک میں مبتلا کیوں کرے اور اس کے نتیجے میں اپنے آپ کو کیوں اس قدر ہولناک عذاب میں مبتلا کرے ؟ کیا وہ اپنے آپ کو کوئی نفع پہنچانے کے لئے ایسا کرے ‘ یا کسی دنیاوی مضرت سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے ایسا کرے ۔ یا اس لئے کرے کہ مشکلات میں لوگ امداد کریں یا بدحالی میں کوئی نفع دیں ۔ حالانکہ نفع ونقصان تو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ عالم اسباب میں وہ اللہ کی ذات ہی ہے جو قدرتوں والی ہے ۔ تمام انسان اس کے قبضہ قدرت اور کنٹرول میں ہیں ۔ عطا کرنے اور روکنے میں صرف اس کی حکیمانہ پالیسی ہی کار فرما ہوتی ہے ۔

Al-An'aam 6:15Listen in Qur'an →
16

مَّن يُصْرَفْ عَنْهُ يَوْمَئِذٍۢ فَقَدْ رَحِمَهُۥ ۚ وَذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْمُبِينُ

جس شخص سے اس روز عذاب ٹال دیا گیا اس پر خدا نے (بڑی) مہربانی فرمائی اور یہ کھلی کامیابی ہے

(آیت) ” قُلْ إِنِّیَ أَخَافُ إِنْ عَصَیْْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (15) مَّن یُصْرَفْ عَنْہُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَہُ وَذَلِکَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ (16) (6ـ15۔ 16)

” اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو ڈرتا ہوں کہ ایک بڑے دن مجھے سزا بھگتنی پڑے گی ۔ اس دن جو سزا سے بچ گیا اس پر اللہ نے بڑا ہی رحم کیا اور یہی نمایاں کامیابی ہے ۔

آپ کو حکم دیا جاتا ہے کہ اس معاملے کی اہمیت اور سنجیدگی کا اعلان کردیں اور یہ کہہ دیں کہ اگر وہ سرموانحراف بھی کریں تو خود ان پر عذاب الہی نازل ہو سکتا ہے ۔ خصوصا اسلام اور توحید کے معاملے میں اس طرح خود اہل شرک کے دلوں میں خوف اور رعب پیدا ہوگا ۔

حضور اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کے احکام کے بارے میں جس قدر حساس تھے یہ اس کی بہترین تصویر کشی ہے ۔ نظر آتا ہے کہ حضور ﷺ عذاب الہی سے بہت ہی ڈرتے تھے ۔ اللہ کا عذاب اس قدر خوفناک ہوتا ہے کہ اگر وہ کسی سے ٹل جائے تو اس کا محض ٹلنا ہی فوز عظیم تصور ہوتا ہے ۔ اس تصویری احساس کے علاوہ اس میں اہل شرک کے لئے دلوں کو ہلا دینے والی ایک تنبیہ بھی ہے ۔ اس دور کے مشرکین کے لئے بھی اور بعد کے ادوار کے مشرکین کے لئے بھی ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کا عذاب کس قدر ہولناک ہوگا ۔ یہ عذاب اپنے شکار کو بسہولت تلاش کرلے گا ۔ اسے گھیر لے گا اور اس کو جھپٹ کر اپنے قبضے میں لے لے گا ۔ صرف قادر مطلق ہی اسے بچا سکتا ہے ۔ چونکہ عذاب الہی کی باگیں اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہیں ‘ اسے صرف وہی پھیر سکتا ہے ۔ انسان جب اس تصویر کشی پر غور کرتا ہے تو اس کی سانس رکنے لگتی ہے ۔ یہ آخری گھڑی کس قدر ہوش ربا ہے ۔ (تفصیلات کے لئے دیکھے میری کتاب التصویر الغنی میں طریقۃ قرآن)

سوال یہ ہے کہ کوئی شخص غیر اللہ کو ولی اور سرپرست کیوں بنائے ؟ اپنے آپ کو اس شرک میں مبتلا کیوں کرے اور اس کے نتیجے میں اپنے آپ کو کیوں اس قدر ہولناک عذاب میں مبتلا کرے ؟ کیا وہ اپنے آپ کو کوئی نفع پہنچانے کے لئے ایسا کرے ‘ یا کسی دنیاوی مضرت سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے ایسا کرے ۔ یا اس لئے کرے کہ مشکلات میں لوگ امداد کریں یا بدحالی میں کوئی نفع دیں ۔ حالانکہ نفع ونقصان تو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ عالم اسباب میں وہ اللہ کی ذات ہی ہے جو قدرتوں والی ہے ۔ تمام انسان اس کے قبضہ قدرت اور کنٹرول میں ہیں ۔ عطا کرنے اور روکنے میں صرف اس کی حکیمانہ پالیسی ہی کار فرما ہوتی ہے ۔

Al-An'aam 6:16Listen in Qur'an →
17

وَإِن يَمْسَسْكَ ٱللَّهُ بِضُرٍّۢ فَلَا كَاشِفَ لَهُۥٓ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِن يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍۢ فَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ

اور اگر خدا تم کو کوئی سختی پہنچائے تو اس کے سوا اس کو کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر نعمت (وراحت) عطا کرے تو (کوئی اس کو روکنے والا نہیں) وہ ہر چیز پر قادر ہے

(آیت) ” وَإِن یَمْسَسْکَ اللّہُ بِضُرٍّ فَلاَ کَاشِفَ لَہُ إِلاَّ ہُوَ وَإِن یَمْسَسْکَ بِخَیْْرٍ فَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ قَدُیْرٌ(17) وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہِ وَہُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ (18)

” اگر اللہ تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو تمہیں اس نقصان سے بچا سکے ‘ اور اگر وہ تمہیں کسی بھلائی سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ وہ اپنے بندوں پر کامل اختیار رکھتا ہے اور وہ دانا اور باخبر ہے ۔ “

وہ نفس انسانی کے ہر خیال اور اس کے سینے کے ہر وسوسے کا پیچھا کرتا ہے ۔ وہ دلی خواہشات اور اندرونی اندیشوں سے بھی باخبر ہے ۔ وہ شکوک و شبہات کی تمام شکلوں کو جانتا ہے اور ان تمام باتوں کو نظریاتی روشنی سے حل کرتا ہے ۔ برہاں و دلیل سے انسانی تصور کو واضح کرتا ہے اور اپنی خدائی کی صحیح معرفت عطا کرتا ہے ۔ چونکہ یہ ایک اہم مسئلہ ہے اس لئے قرآن کریم دوسرے مقامات کی طرح یہاں بھی اس کی وضاحت کردیتا ہے ۔

اب یہ لہر اپنے عروج پر ہے اور اس سے نہایت ہی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ بات شہادت ‘ ثبوت اور سرزنشن تک آپہنچتی ہے ۔ اب جدائی اور برات کا اعلان کردیا جاتا ہے کہ بس ہم تمہارے ساتھ شرکیہ امور میں شریک نہیں ہو سکتے ۔ نہایت ہی بلند آواز میں اور نہایت ہی رعب دار اور فیصلہ کن اعلان میں :

Al-An'aam 6:17Listen in Qur'an →
18

وَهُوَ ٱلْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِۦ ۚ وَهُوَ ٱلْحَكِيمُ ٱلْخَبِيرُ

اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہ دانا اور خبردار ہے

(آیت) ” وَإِن یَمْسَسْکَ اللّہُ بِضُرٍّ فَلاَ کَاشِفَ لَہُ إِلاَّ ہُوَ وَإِن یَمْسَسْکَ بِخَیْْرٍ فَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ قَدُیْرٌ(17) وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہِ وَہُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ (18)

” اگر اللہ تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو تمہیں اس نقصان سے بچا سکے ‘ اور اگر وہ تمہیں کسی بھلائی سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ وہ اپنے بندوں پر کامل اختیار رکھتا ہے اور وہ دانا اور باخبر ہے ۔ “

وہ نفس انسانی کے ہر خیال اور اس کے سینے کے ہر وسوسے کا پیچھا کرتا ہے ۔ وہ دلی خواہشات اور اندرونی اندیشوں سے بھی باخبر ہے ۔ وہ شکوک و شبہات کی تمام شکلوں کو جانتا ہے اور ان تمام باتوں کو نظریاتی روشنی سے حل کرتا ہے ۔ برہاں و دلیل سے انسانی تصور کو واضح کرتا ہے اور اپنی خدائی کی صحیح معرفت عطا کرتا ہے ۔ چونکہ یہ ایک اہم مسئلہ ہے اس لئے قرآن کریم دوسرے مقامات کی طرح یہاں بھی اس کی وضاحت کردیتا ہے ۔

اب یہ لہر اپنے عروج پر ہے اور اس سے نہایت ہی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ بات شہادت ‘ ثبوت اور سرزنشن تک آپہنچتی ہے ۔ اب جدائی اور برات کا اعلان کردیا جاتا ہے کہ بس ہم تمہارے ساتھ شرکیہ امور میں شریک نہیں ہو سکتے ۔ نہایت ہی بلند آواز میں اور نہایت ہی رعب دار اور فیصلہ کن اعلان میں :

Al-An'aam 6:18Listen in Qur'an →
19

قُلْ أَىُّ شَىْءٍ أَكْبَرُ شَهَٰدَةًۭ ۖ قُلِ ٱللَّهُ ۖ شَهِيدٌۢ بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ ۚ وَأُوحِىَ إِلَىَّ هَٰذَا ٱلْقُرْءَانُ لِأُنذِرَكُم بِهِۦ وَمَنۢ بَلَغَ ۚ أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ ٱللَّهِ ءَالِهَةً أُخْرَىٰ ۚ قُل لَّآ أَشْهَدُ ۚ قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَٰهٌۭ وَٰحِدٌۭ وَإِنَّنِى بَرِىٓءٌۭ مِّمَّا تُشْرِكُونَ

ان سے پوچھو کہ سب سے بڑھ کر (قرین انصاف) کس کی شہادت ہے کہہ دو کہ خدا ہی مجھ میں اور تم میں گواہ ہے اور یہ قرآن مجھ پر اس لیے اتارا گیا ہے کہ اس کے ذریعے سے تم کو اور جس شخص تک وہ پہنچ سکے آگاہ کردوں کیا تم لوگ اس بات کی شہادت دیتے ہو کہ خدا کے ساتھ اور بھی معبود ہیں (اے محمدﷺ!) کہہ دو کہ میں تو (ایسی) شہادت نہیں دیتا کہہ دو کہ صرف وہی ایک معبود ہے اور جن کو تم لوگ شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں

(آیت) ” 19۔

” ان سے پوچھو کس کی گواہی بڑھ کر ہے ؟ کہو میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے ۔ یہ قرآن میری طرف بذریعہ وحی بھیجا گیا ہے تاکہ تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے ‘ سب کو متنبہ کر دوں ۔ کیا تم لوگ واقعی یہ شہادت دے سکتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بھی شریک ہیں ؟ کہو میں تو اس کی شہادت ہر گز نہیں دے سکتا ۔ کہو خدا تو وہی ہے اور میں اس شرک سے قطعی بیزار ہوں جس میں تم مبتلا ہو۔

بات کا جگہ جگہ رکنا ‘ اور پھر موثر آغاز اور ایک ہی آیت میں یہ زیروبم ایک عجیب انداز کلام ہے ۔ ایک لفظ میں ایک موقف بیان ہوجاتا ہے ‘ ایک ایک لفظ ایک منظر کو پیش کرتا ہے جس سے شبہات وخلجانات اور ان کی نوعیت کا بھی پتہ چلتا ہے ۔

بذات خود حضور اکرم ﷺ کو خطاب کیا جاتا ہے اور احکام دیئے جاتے ہیں ۔ پھر حضور ﷺ ان احکامات کے تحت ان مشرکین سے مخاطب ہوتے ہیں جنہوں نے اللہ کے سوا اور لوگوں کو اپنا سرپرست بنا رکھا ہے ۔ وہ اللہ کے مخصوص حقوق میں بعض حقوق غیر اللہ کو دیتے ہیں اور ان سرپرستوں کو اللہ کے ساتھ شریک کرتے ہیں ۔ پھر یہ لوگ حضور ﷺ کو یہ دعوت دیتے ہیں کہ آپ ﷺ ان کو ان کی اس حالت پر برقرار رکھیں تاکہ وہ اس کے بدلے حضور ﷺ کے دین میں شریک ہوجائیں ۔ ان کے خیال میں ایسا ممکن تھا وہ یہ سمجھتے تھے کہ اسلام اور شرک ایک ہی دل میں جمع ہو سکتے ہیں ۔ انہوں نے اس سلسلے میں ایک سوچ دل میں بٹھالی تھی ۔ آج کے دور جدید میں بھی لوگوں کے دلوں میں اس قسم کی سوچ بیٹھی ہوئی ہے ۔ عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ کے حوالے سے مسلمان بھی ہو سکتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی کے معاملات میں غیر اللہ سے ہدایات بھی لے سکتے ہیں ۔ وہ غیر اللہ کے مطیع فرمان بھی ہوسکتے ہیں اور غیر اللہ سے غیبی امداد بھی لے سکتے ہیں اور غیر اللہ کو ولی اور سرپرسب بھی بنا سکتے ہیں ۔

حضور اب یہاں مشرکیں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ یہاں آکر آپ ﷺ کے دین اور ان کے ادیان کی راہیں جدا ہوجاتی ہیں ۔ آپ کی توحید اور ان کا شرک اب اکٹھے نہیں رہ سکتے ۔ آپ ﷺ کا اسلام اور ان کی جاہلیت ایک جگہ زندہ نہیں رہ سکتے ۔ اب آپ ان کے ساتھ فیصلہ کردیتے ہیں : ” اب میرے اور تمہارے درمیان اتحاد واتصال ممکن نہیں ہے ۔ اتحاد صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ تم لوگ اپنا دین چھوڑ کر میرے دین میں شامل ہوجاؤ ورنہ ۔ کوئی وجہ نہیں ہے کہ یہ اتحاد ہو سکے کیونکہ آغاز ہی سے دونوں کی رہیں جدا ہوچکی ہیں ۔ “

حضور ﷺ ان کے ساتھ یوں ہمکلام ہوتے ہیں کہ ان کے ساتھ کون سی سند اور شہادت ہے ؟ ذرا لائیں میدان میں کوئی شہادت اور کوئی ثبوت اپنے موقف پر ۔

(آیت) ” قل ای شیء اکبر شھادۃ “۔ (6 : 19) ان سے پوچھو کس چیر کی گواہی سب سے بڑھ کر ہے ۔ “ اس پوری کائنات میں سب سے بڑی شہادت کیا ہے ؟ وہ کون سی شہادت ہے جسے درجہ تصدیق حاصل ہے ؟ مقدمے میں کون سا ثبوت فائنل ہے جس کے بعد کسی ثبوت کی ضرورت نہ ہو ؟

یہ نہایت ہی عمومی سوال ہے ۔ شیء کے لفظ سے سوال کیا گیا ہے یعنی پوری کائنات کی کوئی شے ثبوت میں لاؤ ۔ جو سب سے بڑی شہادت ہو۔

حضور ﷺ کو جس طرح حکم دیا جاتا ہے کہ ان سے پوچھو ‘ اسی طرح آپ کو حکم دیا جاتا ہے کہ ان کو جواب بھی دے دو ۔ اس لئے کہ خود مخالفین اس بات کے معترف تھے کہ دراصل جواب وہی ہے جو حضور ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ یہ جواب دے دیں ۔ (آیت) ” قل اللہ (6 : 19) ” کہو اللہ “ ہاں ! بیشک سب سے بڑا گواہ ہے ۔ وہی تو ہے جو اس سچائی کو بیان کر رہا ہے ۔ وہی تو ہے جو سب سے بھلے فیصلے کرتا ہے اور اس کی گواہی کے بعد کوئی گواہی نہیں ہے ۔ اس کی بات کے بعد کسی بات کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ جب اللہ بات کر دے تو تمام باتیں ختم ہوجاتی ہیں اور معاملے کا فیصلہ ہوجاتا ہے ۔

جب اس حقیقت کا اعلان کردیا گیا کہ اللہ شہادت سب سے برتر شہادت ہے تو اب اس بات کا اعلان کیا جاتا ہے کہ …

Al-An'aam 6:19Listen in Qur'an →
20

ٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ يَعْرِفُونَهُۥ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَآءَهُمُ ۘ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ ان (ہمارے پیغمبرﷺ) کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانا کرتے ہیں جنہوں نے اپنے تئیں نقصان میں ڈال رکھا ہے وہ ایمان نہیں لاتے

(آیت) ” نمبر 20۔

قرآن کریم میں اس بات کا ذکر بار بار آتا ہے کہ اہل کتاب یہود ونصاری ‘ قرآن کریم کو بعینہ اسی طرح پہچانتے ہیں جس طرح وہ اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں ۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ رسول برحق ہیں اور یہ قرآن کریم ان پر اللہ کی جانب سے نازل ہو رہا ہے ۔ یہ حقیقت اہل کتاب کے ساتھ کلام کرتے ہوئے بھی بیان کی گئی ہے اور مشرکین عرب کے مقابلے میں بھی یہ دلیل دی گئی ۔ اہل کتاب بالمعوم مدینہ میں تحریک اسلامی کے خلاف دشمنی ‘ عناد اور مقابلے کا موقف اختیار کئے ہوئے تھے اور اہل شرک ہر جگہ پر تھے ۔ یہ حقیقت اس لئے لائی گئی کہ مشرکین عرب مانتے تھے کہ اہل کتاب ان کے مقابلے میں زیادہ اہل علم ہیں اور وہ کتب سماویہ اور وحی کے مزاج سے زیادہ باخبر ہیں ۔ لہذا یہ بات لائی گئی کہ اہل کتاب قرآن کریم کو اچھی طرح بغیر کسی اشتباہ کے پہچانتے ہیں اور یہ کہ حضور ﷺ پر بھی اسی رب کی وحی آرہی ہے جس نے پہلے رسولوں پر وحی بھیجی تھی ۔

جس طرح ہم نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ یہ آیت مکی ہے ‘ اور اس میں اس انداز سے اہل کتاب کے تذکرے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں خطاب مشرکین مکہ سے تھا کہ جس کتاب کا تم انکار کر رہے ہو اہل کتاب اسے اسی طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں اور اگر اہل کتاب کی ایک بڑی اکثریت ایمان نہیں لائی تو اس نے درحقیقت اپنے آپ کو ایک بہت ہی بڑے خسارے میں ڈال لیا ہے ۔ اس معاملے میں علم کے باوجود وہ مشرکین کے ہم پلہ ہوگئے ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالتے ہوئے ایمان کی دولت سے محروم کرلیا ہے ۔ اس آیت سے قبل اور بعد کی بات بہرحال مشرکین مکی کی بابت ہے ۔ اس لئے جس طرح ہم نے اس سورة کے تعارف کے وقت بتایا ‘ ہم ترجیح اس بات کو دیتے ہیں کہ یہ آیات بھی مکی ہیں ۔ مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں ‘ (آیت) ” الَّذِیْنَ آتَیْْنَاہُمُ الْکِتَابَ یَعْرِفُونَہُ کَمَا یَعْرِفُونَ أَبْنَاء ہُمُ ۔ (6 : 20) جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس بات کو اس طرح غیر مشتبہ طور پر پہچانتے ہیں جیسے ان اپنے بیٹوں کے پہچاننے میں کوئی اشتباہ نہیں آتا ۔ “ کا حوالہ دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ وہ مانتے ہیں کہ یہ کلام منزل من اللہ اور سچا ہے یا یہ کہ رسول اللہ ﷺ اللہ کے سچے نبی ہیں اور ان پر بذریعہ وحی یہ قرآن نازل ہو رہا ہے ۔ یہ تفسیر بھی بہرحال اس آیت کے مدلول اور مفہوم میں داخل ہے لیکن تاریخی واقعات کی روشنی میں اور اہل کتاب کے رویے کو پیش نظر رکھتے ہوئے ‘ جو انہوں نے دین اسلام کے مقابلے میں اختیار کیا ‘ ہم یہ کہتے ہیں کہ اس آیت کے مفہوم کا ایک دوسرا رخ بھی ہے ۔ اللہ کا منشا یہ تھا کہ جماعت مسلمہ کے ذہن میں یہ پہلو بھی آجائے تاکہ وہ آئندہ کے ادوار میں اہل کتاب کے حوالے سے اپنا اپنا رویہ متعین کرلے اور یہ جان لے کہ ان کا رویہ اسلام کی بابت کیا ہوگا ۔

اہل کتاب اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ کتاب از جانب اللہ برحق ہے ‘ اس لئے کہ وہ اس کتاب کی قوت تاثیر سے واقف تھے ۔ اس میں جو بھلائی اور اصلاح تھی کہ یہ کتاب از جانب اللہ برحق ہے ‘ اس لئے کہ وہ اس کتاب کی قوت تاثیر سے واقف تھے ۔ اس میں جو بھلائی اور اصلاح تھی کہ یہ کتاب از جانب اللہ برحق ہے ‘ اس لئے کہ وہ اس کتاب کی قوت تاثیر سے واقف تھے ۔ اس میں جو بھلائی اور اصلاح تھی اس سے بھی وہ واقف تھے ۔ وہ اس بات سے بھی اچھی طرح باخبر تھے کہ اس کتاب کے اندر پائے جانے والے نظریات کو جو قوم سینے سے لگاتی ہے اس کے اندر پھیلاؤ کی کس قدر عظیم قوت پیدا ہوجاتی ہے ۔ اس کتاب کے نتیجے میں کسی قوم کے اندر جو اخلاقی قوت پیدا ہوتی ہے ۔ اس کے اثرات کس قدر دور رس ہوتے ہیں ۔ یہ کتاب جو نظام حیات پیش کرتی ہے وہ کس قدر مستحکم نظام ہے ۔ اہل کتاب اس کتاب اور اس کے ماننے والوں کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے ۔ انہیں یقین تھا کہ اس کتاب میں ان کے …

Al-An'aam 6:20Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.