ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَجَعَلَ ٱلظُّلُمَٰتِ وَٱلنُّورَ ۖ ثُمَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ
ہر طرح کی تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیرا اور روشنی بنائی پھر بھی کافر (اور چیزوں کو) خدا کے برابر ٹھیراتے ہیں
نیز ہمیں اس بات کو بھی پیش نظر رکھنا چاہئے کہ جب طرح یہ دین اللہ تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ رسول نازل کیا گیا اسی طرح اس کا طریق کار بھی اللہ تعالیٰ نے سنت رسول کے ذریعے مقرر فرما دیا ۔ یہ مسنون طریق کار ہی اس دین کے مزاج کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے اور اس دین اور اس کے فطری طریق کار کو علیحدہ نہیں کیا جاسکتا ۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہمارے پیش نظر رہے کہ جس طرح اسلام نظریاتی اصلاح کے ذریعہ انسان کے کردار میں اصلاح اور تبدیلی چاہتا ہے بعینہ اسی طرح وہ اس طریق کار کو بھی بدل دینا چاہتا ہے جس کے مطابق فکری اور نظریاتی اصلاح درکار ہے ۔ مثلا یہ کہ وہ محض فکری تعمیر ‘ فلسفیانہ طور پر نہیں چاہتا بلکہ وہ فکری اصلاح اور راہنمائی کے ساتھ ساتھ ایک تحریک بھی برپا کرنا چاہتا ہے ‘ تاکہ ایک ایسی امت (GreAt NAtion) کی تعمیر ہو جس کے طرز فکر میں اعتقادی تصورات اور ایک زندہ وفعال معاشرے کا وجود ساتھ ساتھ موجود ہوں۔ غرض اسلامی نظریہ حیات کی رو سے اس کے طرز فکر ‘ اور اس فکر کے مطابق اساسی تصورات اور ان تصورات کے مطابق وجود میں آنے والے معاشرے کے درمیان ایسی کوئی حد فاصل نہیں ہے کہ جب ایک پر کام ہو رہا ہو تو دوسرے کو ہاتھ نہ لگایا جائے ‘ احیائے دین کے اسلامی طریق کار کے مطابق سب پر بیک وقت کام ہوگا ۔
اس طریق کار کی اہمیت :
احیائے دین کے اس طریق کار کو سمجھ لینے کے بعد ہمیں اس بات کو اپنے ذہن میں رکھنا چاہئے کہ یہ طریق نہایت اہم اور نہایت بنیادی ہے ۔ یہ کسی خاص مرحلے کسی خاص خاندان اور کسی خاص معاشرے کے ساتھ مخصوص نہیں ہے اور نہ ہی یہ طریق پہلی تحریک اسلامی کے ظروف واحوال کے ساتھ مخصوص تھا ۔ یہ ایسا طریق کار ہے جس کو اختیار کیے بغیراحیائے دین کا کام کسی جگہ اور کسی زمانے میں بھی نہیں ہو سکتا ۔
اسلام کے پیش نظر صرف یہ نہ تھا کہ لوگوں کے کچھ عقائد میں تبدیلی کرکے اور معاشرتی حالات میں کچھ اصلاحات کر کے بیٹھ جائے ۔ وہ لوگوں کے فکر ونظر میں ہمہ گیر تبدیلی چاہتا تھا اور یہی وہ مہم تھی جس کا بیڑا اس نے اٹھایا ۔ اس نے انہیں نظریہ بھی دیا اور واقعیت بھی دی اور اس کے لئے ایک خاص طریق کار بھی دیا اور چونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ طریق کار ہے اس لئے وہ اپنے مزاج کے اعتبار ہی سے انسانوں کے وضع کردہ ناقص طریق ہائے کار سے سراسر مختلف ہے ۔
اسلامی تصور حیات اور اسلامی نظام زندگی کا حصول اس وقت تک ناممکن ہے جب تک ہم اپنے اندر اسلامی طرز فکر (IslAmic WAy of Thinking) پیدا نہ کرلیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اسی طرز فکر پر لوگوں کے افطار و تصورات کی تعمیر کی اور ان کے تمام عقائد درست ہوگئے اور ان کی عملی زندگی کی تشکیل اور تعمیر بھی صحیح خطوط پر ہوئی ۔ جدید افکار سے متاثر ہو کر جب ہم اسلامی نظریہ حیات کو محض تعلیمی اور تدریسی نظریہ بنا دیں گے تو وہ اپنا مخصوص مزاج کھو دے گا اور ہم اس ذہنی شکست کا شکار ہوں گے کہ گویا اسلامی طریق کار اور الہی نقطہ نظرانسانی نظریوں اور نظاموں سے فروتر ہے یا یہ کہ وہ ان سے ناقص ہے اور ہم یہ تبدیلی کرکے اس کے نقص کو دور کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ انسانی طریق کار اور معیار کے مطابق ہوجائے ۔۔۔۔۔۔ یہ ایک عظیم شکست ہوگی اور تباہ کن بھی ۔
اسلامی نظام حیات کی خصوصیت یہ ہو کہ وہ تحریک اسلامی کے کارکنوں کو ایک خاص طرز فکر عطا کرے اور انہیں جاہلی طرز فکر کے بندھنوں سے آزاد کردے ‘ جو اس وقت ہر طرف چھائے ہوئے ہیں اور جن سے ہماری تنظیمیں اور ہماری پوری ثقافت متاثر ہے ۔ اگر ہم اسلامی نظام حیات کو اسی نقطہ نظر سے دیکھیں ‘ جو کسی دنیاوی جاہلی نظام کے بارے میں رکھا جاتا ہے تو یہ اسلامی نظام حیات کے مزاج کے سراسر خلاف ہوگا اس طرح اس دین کا وہ اصلی مقصد ہی فوت ہوجائے گا جو مقصد وہ فلاح انسانیت کے سلسلے میں پیش نظررکھتا ہے ۔ اس نقطہ نظر کو اختیار کرنے کے بعد ہمارے لئے یہ بےحد مشکل …