Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad

Ayahs 161–165 of 165

161

قُلْ إِنَّنِى هَدَىٰنِى رَبِّىٓ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ دِينًۭا قِيَمًۭا مِّلَّةَ إِبْرَٰهِيمَ حَنِيفًۭا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ

کہہ دو کہ مجھے میرے پروردگار نے سیدھا رستہ دکھا دیا ہے (یعنی دین صحیح) مذہب ابراہیم کا جو ایک (خدا) ہی کی طرف کے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے

آیت 161 قُلْ اِنَّنِیْ ہَدٰٹنِیْ رَبِّیْٓ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ج دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّۃَ اِبْرٰہٖمَ حَنِیْفًاج وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ یہ خطاب واحد کے صیغے میں براہ راست حضور ﷺ سے ہے اور آپ ﷺ کی وساطت سے پوری امت سے۔ ذرا غور کریں 20 رکوعوں پر مشتمل اس سورت میں ایک دفعہ بھی یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ کے ساتھ اہل ایمان سے خطاب نہیں کیا گیا۔ کاش کہ ہم میں سے ہر شخص اس آیت کا مخاطب بننے کی سعادت حاصل کرسکے اور یہ اعلان کرسکے کہ مجھے تو میرے رب نے سیدھی راہ کی طرف ہدایت دے دی ہے۔ لیکن یہ تو تبھی ممکن ہوگا جب کوئی اللہ کی راہ ہدایت کو صدق دل سے اختیار کرے گا۔ اللّٰہُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَاْ مِنْھُمْ۔ آمین !

Al-An'aam 6:161Listen in Qur'an →
162

قُلْ إِنَّ صَلَاتِى وَنُسُكِى وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِى لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ

(یہ بھی) کہہ دو کہ میری نماز اور میری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا سب خدائے رب العالمین ہی کے لیے ہے

آیت 162 قُلْ اِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ یہاں دوبارہ قل کہہ کر حضور ﷺ کو مخاطب فرمایا گیا ہے اور آپ ﷺ ہی کو یہ اعلان کرنے کے لیے کہا جارہا ہے ‘ لیکن آپ ﷺ کی وساطت سے ہم میں سے ہر ایک کو یہ حکم پہنچ رہا ہے۔ کاش ہم میں سے ہر ایک یہ اعلان کرنے کے قابل ہو سکے کہ میری نماز ‘ میری قربانی ‘ میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کے لیے ہے جو رب العالمین ہے۔ لیکن یہ تب ممکن ہے جب ہم اپنی زندگی واقعۃً اللہ کے لیے وقف کردیں۔ دنیوی زندگی کی کم از کم ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناگزیر حد تک اپنا وقت اور اپنی صلاحیتیں ضرور صرف کریں ‘ لیکن اس ساری تگ و دَو کو اصل مقصود زندگی نہ سمجھیں ‘ بلکہ اصل مقصود زندگی اللہ کی اطاعت اور اقامت دین کی جدوجہد ہی کو سمجھیں۔

Al-An'aam 6:162Listen in Qur'an →
163

لَا شَرِيكَ لَهُۥ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلْمُسْلِمِينَ

جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی بات کا حکم ملا ہے اور میں سب سے اول فرمانبردار ہوں

آیت 162 قُلْ اِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ یہاں دوبارہ قل کہہ کر حضور ﷺ کو مخاطب فرمایا گیا ہے اور آپ ﷺ ہی کو یہ اعلان کرنے کے لیے کہا جارہا ہے ‘ لیکن آپ ﷺ کی وساطت سے ہم میں سے ہر ایک کو یہ حکم پہنچ رہا ہے۔ کاش ہم میں سے ہر ایک یہ اعلان کرنے کے قابل ہو سکے کہ میری نماز ‘ میری قربانی ‘ میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کے لیے ہے جو رب العالمین ہے۔ لیکن یہ تب ممکن ہے جب ہم اپنی زندگی واقعۃً اللہ کے لیے وقف کردیں۔ دنیوی زندگی کی کم از کم ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناگزیر حد تک اپنا وقت اور اپنی صلاحیتیں ضرور صرف کریں ‘ لیکن اس ساری تگ و دَو کو اصل مقصود زندگی نہ سمجھیں ‘ بلکہ اصل مقصود زندگی اللہ کی اطاعت اور اقامت دین کی جدوجہد ہی کو سمجھیں۔

Al-An'aam 6:163Listen in Qur'an →
164

قُلْ أَغَيْرَ ٱللَّهِ أَبْغِى رَبًّۭا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَىْءٍۢ ۚ وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلَّا عَلَيْهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌۭ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُم مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ

کہو کیا میں خدا کے سوا اور پروردگار تلاش کروں اور وہی تو ہر چیز کا مالک ہے اور جو کوئی (برا) کام کرتا ہے تو اس کا ضرر اسی کو ہوتا ہے اور کوئی شخص کسی (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا پھر تم سب کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کا جانا ہے تو جن جن باتوں میں تم اختلاف کیا کرتے تھے وہ تم کو بتائے گا

آیت 164 قُلْ اَغَیْرَ اللّٰہِ اَبْغِیْ رَبًّا وَّہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْءٍ ط وَلاَ تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ الاَّ عَلَیْہَاج ولاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ج۔اس دن ہر ایک کو اپنی اپنی گٹھڑی خود ہی اٹھانی ہوگی ‘ کوئی دوسرا وہاں مدد کو نہیں پہنچے گا۔ یہاں پر لفظ نفس جان کے معنی میں آیا ہے ‘ یعنی کوئی جان کسی دوسری جان کے بوجھ کو نہیں اٹھائے گی ‘ بلکہ ہر ایک کو اپنی ذمہ داری اور اپنے حساب کتاب کا سامنا بنفس نفیس خود کرنا ہوگا۔

Al-An'aam 6:164Listen in Qur'an →
165

وَهُوَ ٱلَّذِى جَعَلَكُمْ خَلَٰٓئِفَ ٱلْأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍۢ دَرَجَٰتٍۢ لِّيَبْلُوَكُمْ فِى مَآ ءَاتَىٰكُمْ ۗ إِنَّ رَبَّكَ سَرِيعُ ٱلْعِقَابِ وَإِنَّهُۥ لَغَفُورٌۭ رَّحِيمٌۢ

اور وہی تو ہے جس نے زمین میں تم کو اپنا نائب بنایا اور ایک کے دوسرے پر درجے بلند کئے تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں بخشا ہے اس میں تمہاری آزمائش ہے بےشک تمہارا پروردگار جلد عذاب دینے والا ہے اور بےشک وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے

آیت 165 وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلٰٓءِفَ الْاَرْضِ خلیفہ بنانا ایک تو اس مفہوم میں ہے کہ جو خلافت حضرت آدم علیہ السلام کو دی گئی تھی اس کا حصہ بالقوۃ potentially تمام انسانوں کو ملا ہے ‘ اور جو بھی شخص اللہ کا مطیع اور فرماں بردار ہو کر اللہ کو اپنا حاکم اور بادشاہ مان لے تو وہ گویا اس کی خلافت کا حقدار ہوگیا۔ خَلآءِفَ الْاَرْضِکا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ تمہیں زمین میں ایک دوسرے کا جانشین بنایا۔ ایک نسل کے بعد دوسری نسل اور ایک قوم کے بعد دوسری قوم آتی ہے اور انسانی وراثت نسل در نسل اور قوم در قوم منتقل ہوتی جاتی ہے۔ یہی فلسفہ اس سورة کی آیت 133 میں بھی بیان ہوا ہے۔ وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ اس دنیوی زندگی میں اللہ نے اپنی مشیت کے مطابق کسی کو علم دیا ہے ‘ کسی کو حکمت دی ہے ‘ کسی کو ذہانت میں فضیلت دی ہے ‘ کسی کو جسمانی طاقت میں برتری دی ہے ‘ کسی کو صحت جسمانی بہتر دی ہے اور کسی کو حسن جسمانی میں دوسروں پر فوقیت دی ہے۔ یعنی مختلف انداز میں اس نے ہر ایک کو اپنے فضل سے نوازا ہے اور مختلف انسانوں کے درجات و مراتب میں اپنی حکمت کے تحت فرق و تفاوت بھی برقرار رکھا ہے۔لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَآ اٰتٰٹکُمْ ط۔یعنی دنیا کی تمام نعمتیں انسان کو بطور آزمائش دی جاتی ہیں۔ بَلَا ‘ یَبْلُوْ کے معنی ہیں آزمانا اور جانچنا۔ ابتلاء بمعنی امتحان اور آزمائش اسی سے باب افتعال ہے۔

Al-An'aam 6:165Listen in Qur'an →

Commentary: Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.