Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 161–165 of 165

161

قُلْ إِنَّنِى هَدَىٰنِى رَبِّىٓ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ دِينًۭا قِيَمًۭا مِّلَّةَ إِبْرَٰهِيمَ حَنِيفًۭا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ

کہہ دو کہ مجھے میرے پروردگار نے سیدھا رستہ دکھا دیا ہے (یعنی دین صحیح) مذہب ابراہیم کا جو ایک (خدا) ہی کی طرف کے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے

قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ ۔۔ : پوری سورت میں توحید کو دلائل سے ثابت کرنے اور مشرکین کی تردید کے بعد آخر میں خلاصہ چند حقائق کی صورت میں بیان فرمایا۔ ” قِــيَمًا “ یہ ” قِیَامٌ“ کے معنی میں مصدر ہے جسے مبالغے کے لیے دین کی صفت قرار دیا ہے، جیسے ” زَیْدٌ عَدْلٌ“ ہے، یعنی زید بہت عادل ہے، گویا سراسر عدل ہے، یعنی یہ دین نہایت قائم، مضبوط اور سیدھا ہے۔ - وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ : اس میں مشرکین مکہ اور یہود و نصاریٰ کی تردید ہے جو اس زعم میں مبتلا تھے کہ وہ دین ابراہیم پر قائم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ تمہارا دعویٰ غلط ہے، تمہاری اور ان کی کیا نسبت تم مشرک اور ابراہیم (علیہ السلام) شرک سے بےزار اور ایک اللہ کی طرف ہو چکنے والے۔ ان کا دین تو سچا، سیدھا اور نہایت مضبوط دین اسلام تھا، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے مخلص بندوں کے لیے پسند فرمایا اور جس کی ہدایت میرے رب نے مجھے عطا فرمائی۔

Al-An'aam 6:161Listen in Qur'an →
162

قُلْ إِنَّ صَلَاتِى وَنُسُكِى وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِى لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ

(یہ بھی) کہہ دو کہ میری نماز اور میری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا سب خدائے رب العالمین ہی کے لیے ہے

قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ ۔۔ : ” اَلنُّسُکُ “ کا معنی عبادت ہے، یہ ذبح، قربانی اور حج کے معنی میں بھی آتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَلِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰي مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِيْمَةِ الْاَنْعَامِ ) [ الحج : ٣٤ ] ” اور ہم نے ہر امت کے لیے ایک قربانی مقرر کی، تاکہ وہ ان پالتو چوپاؤں پر اللہ کا نام ذکر کریں جو اس نے انھیں دیے ہیں۔ “ اور ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی : (وَلِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰي مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِيْمَةِ الْاَنْعَامِ ۭ ) [ البقرۃ : ١٢٨] ” اور ہمیں ہماری عبادت (یا حج) کے طریقے دکھا۔ “ ” اَلصَّلاَۃُ “ قلبی، زبانی اور جسم کے تمام اعضاء کی عبادت کا مجموعہ ہے۔ ” وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا ‘ مصدر بھی ہوسکتے ہیں اور ظرف زمان بھی، یعنی مشرکین اور یہود و نصاریٰ کی قلبی، زبانی اور جسمانی عبادات، مثلاً قیام، رکوع اور سجود، یہ سب غیر اللہ کے لیے تھیں، اسی طرح ان کی قربانیاں اور زندگی اور موت کا وقت سب انھی کی نذر تھا، ہاں کبھی اللہ تعالیٰ کو بھی شامل کرلیتے تھے۔ فرمایا، ان سے صاف کہہ دیجیے کہ میرا تو یہ سب کچھ ایک اللہ کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے یہی حکم ہے اور سب سے پہلے میں اپنے آپ کو ایک اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنے والا اور اس کا فرماں بردار بنانے والا ہوں، میرا جینا اور مرنا بھی اس اکیلے کا کلمہ بلند کرنے اور اس کے ساتھ شرک کو ختم کرنے کے لیے ہے، حتیٰ کہ اسی پر میری موت آجائے۔

Al-An'aam 6:162Listen in Qur'an →
163

لَا شَرِيكَ لَهُۥ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلْمُسْلِمِينَ

جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی بات کا حکم ملا ہے اور میں سب سے اول فرمانبردار ہوں

Explained together with ayah 162

Al-An'aam 6:163Listen in Qur'an →
164

قُلْ أَغَيْرَ ٱللَّهِ أَبْغِى رَبًّۭا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَىْءٍۢ ۚ وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلَّا عَلَيْهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌۭ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُم مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ

کہو کیا میں خدا کے سوا اور پروردگار تلاش کروں اور وہی تو ہر چیز کا مالک ہے اور جو کوئی (برا) کام کرتا ہے تو اس کا ضرر اسی کو ہوتا ہے اور کوئی شخص کسی (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا پھر تم سب کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کا جانا ہے تو جن جن باتوں میں تم اختلاف کیا کرتے تھے وہ تم کو بتائے گا

قُلْ اَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْغِيْ رَبًّا۔۔ : مکہ کے مشرک اللہ تعالیٰ کو رب مانتے تھے، مگر معبود کئی بنا رکھے تھے جن سے وہ نفع و نقصان کی امید رکھتے اور انھی کی پوجا کرتے اور پکارتے تھے، اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے رب ہونے کو اپنی الوہیت، یعنی معبود ہونے کی دلیل کے طور پر بار بار پیش کیا ہے۔ دیکھیے سورة یونس (٣١) ، سورة سبا (٢٢) اور سورة فاطر (١٣) ۔ یہاں بھی مراد یہی ہے کہ عبادت تو صرف اسی کی ہوسکتی ہے جو رب ہو، اس لیے تمہارا غیر اللہ کو پکارنا، ان کی عبادت کرنا انھیں رب بنانا ہی ہے، اب اللہ کے سوا میں کسی اور کی عبادت کر کے اسے رب کیسے بناؤں، جب کہ ہر شے کا رب وہی ہے۔- وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَيْهَا ۚ: کفار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں سے کہتے کہ تم آبائی دین میں ہماری پیروی اختیار کرو اور گناہ کی فکر مت کرو، اگر یہ گناہ ہوا تو ہم اٹھا لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی نہیں اٹھائیں گے، بلکہ وہ صاف جھوٹے ہیں۔ [ العنکبوت : ١٢، ١٣ ] یہاں بھی ان کے اس فریب اور چکمے کا جواب دیا ہے، فرمایا، کوئی جان بھی کوئی گناہ کماتی ہے تو وہ اسی پر ہوتا ہے، کوئی دوسری جان کسی صورت اسے نہیں اٹھائے گی۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کے عدل ہی کے خلاف ہے، جس کے سامنے تم نے لوٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمہارے اختلاف کا اور حق و ناحق ہونے کا فیصلہ تمہیں سنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فیصلے کا کئی جگہ ذکر فرمایا ہے۔ دیکھیے سورة انعام (٣١) سورة فاطر (١٨) اور سورة نجم (٣٨، ٣٩) ۔

Al-An'aam 6:164Listen in Qur'an →
165

وَهُوَ ٱلَّذِى جَعَلَكُمْ خَلَٰٓئِفَ ٱلْأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍۢ دَرَجَٰتٍۢ لِّيَبْلُوَكُمْ فِى مَآ ءَاتَىٰكُمْ ۗ إِنَّ رَبَّكَ سَرِيعُ ٱلْعِقَابِ وَإِنَّهُۥ لَغَفُورٌۭ رَّحِيمٌۢ

اور وہی تو ہے جس نے زمین میں تم کو اپنا نائب بنایا اور ایک کے دوسرے پر درجے بلند کئے تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں بخشا ہے اس میں تمہاری آزمائش ہے بےشک تمہارا پروردگار جلد عذاب دینے والا ہے اور بےشک وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے

وَهُوَ الَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلٰۗىِٕفَ الْاَرْضِ : یعنی زمین میں ایک دوسرے کے بعد اقتدار بخشا، یا ایک دوسرے کا جانشین اور وارث بنایا۔ - وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ ۔۔ : یعنی شکل و صورت، مال و جاہ اور علم و عقل میں ایک دوسرے پر برتری بخشنے کا مقصد اپنی دی ہوئی نعمتوں میں تمہارا امتحان ہے، اگر کفر اختیار کر کے ناکام ہوگئے تو بہت جلد سزا مل جائے گی، کیونکہ ہر آنے والی چیز قریب ہے اور موت اور قیامت تو یقیناً آنے والی ہیں اور بہت جلد آنے والی ہیں اور اگر ایمان لے آئے، پھر کوئی لغزش بھی ہوئی تو وہ ذات پاک حد سے بڑھ کر بخشنے والی اور بیحد رحم کرنے والی ہے۔

Al-An'aam 6:165Listen in Qur'an →

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.