قُلْ إِنَّنِى هَدَىٰنِى رَبِّىٓ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ دِينًۭا قِيَمًۭا مِّلَّةَ إِبْرَٰهِيمَ حَنِيفًۭا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ
کہہ دو کہ مجھے میرے پروردگار نے سیدھا رستہ دکھا دیا ہے (یعنی دین صحیح) مذہب ابراہیم کا جو ایک (خدا) ہی کی طرف کے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے
کہہ دیجیے!بلاشبہ میں،ہدایت دی مجھے میرے رب نے طرف صراط مستقیم کی(، یعنی ) دین صحیح کی،جو طریقہ ہے ابراہیم کا اس حال میں کہ وہ رب کا پرستارتھا،اورنہیں تھا وہ مشرکوں میں سے(161) کہہ دیجیے!یقینا میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت(سب) اللہ رب العالمین کے لیے ہے(162) نہیں کوئی شریک اس کا،اور اسی کا حکم دیا گیا ہوں میں،اور میں سب سے پہلامسلمان ہوں (163) کہہ دیجیے!کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں رب؟جبکہ وہی ہے رب ہر چیز کا،اور نہیں کماتی کوئی جان(گناہ) مگر اسی پر ہے(وبال) اور نہیں اٹھائے گی کوئی (جان) بوجھ اٹھانے والی بوجھ دوسری(جان)کا، پھر طرف تمھارے رب کی واپسی ہے تمھاری پس وہ خبر دے گا تمھیں ساتھ اس چیز کے کہ تھے تم اس میں اختلاف کرتے(164) اور وہی ہے جس نے بنایا تمھیں جانشین زمین میں اور بلند کیا تمھارے ایک کو دوسرے پر درجات میں تاکہ آزمائے وہ تمھیں ان(نعمتوں) میں جو اس نے تمھیں دیں،بے شک آپ کا رب جلد سزادینے والا ہے اور بلاشبہ بہت بخشنے والا،مہربان ہے(165)
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے کہ وہ جس راہ ہدایت اور صراط مستقیم پر گامزن ہیں اس کے بارے میں اعلان کر دیں یعنی معتدل دین کا جو عقائد نافعہ، اعمال صالحہ، ہر اچھی بات کے حکم اور ہر بری بات سے ممانعت کو متضمن ہے۔ یہ وہ دین ہے جس پر تمام انبیا و مرسلین عمل پیرا رہے، جو خاص طور پر امام الحنفاء، بعد میں مبعوث ہونے والے تمام انبیا و مرسلین کے باپ اور اللہ رحمن کے خلیل ابراہیمu کا دین تھا۔ یہی وہ دین حنیف ہے جو تمام اہل انحراف، مثلاً: یہود و نصاریٰ اور مشرکین کے ادیان باطلہ سے روگردانی کو متضمن ہے۔یہ عمومی ذکر ہے ۔
[162] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے افضل ترین عبادت کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿قُلۡ اِنَّ صَلَاتِيۡ وَنُسُكِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ میری نماز اور میری قربانی۔‘‘ان دو عبادات کا ذکر ان کے فضل و شرف اور اس بنا پر کیا ہے کہ یہ دونوں عبادات اللہ تعالیٰ سے محبت، دین کو اس کے لیے خالص کرنے، قلب و لسان، جوارح اور قربانی کے ذریعے سے اس کے تقرب کے حصول پر دلالت کرتی ہیں اور قربانی سے مراد ہے کہ مال وغیرہ کو جو نفس کو محبوب ہے، اس ہستی کے لیے خرچ کرنا جو اس کو سب سے زیادہ محبوب ہے، یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ۔ جس نے اپنی نماز اور قربانی کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر لیا تو یہ اس بات کو مستلزم ہے کہ اس نے اپنے تمام اعمال و اقوال کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر لیا۔ ﴿ وَمَحۡيَايَ وَمَمَاتِيۡ ﴾ ’’اور میرا جینا اور میرا مرنا۔‘‘ یعنی میں جو کچھ اپنی زندگی میں کرتا ہوں ، اللہ تعالیٰ جو کچھ میرے ساتھ کرتا ہے اور زمانہ موت میں اللہ تعالیٰ میرے لیے جو کچھ مقدر کرے گا۔﴿ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔
[163]﴿ لَا شَرِيۡكَ لَهٗ ﴾ عبادت میں اس کا کوئی شریک ہے نہ اقتدار اور تدبیر میں ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے لیے یہ اخلاص کوئی نئی اور انوکھی چیز نہیں جو میں نے خود گھڑ لی ہو بلکہ ﴿ وَبِذٰلِكَ اُمِرۡتُ ﴾ ’’اور مجھے اسی (اخلاص) کا حکم دیا گیا ہے۔‘‘ یعنی حتمی حکم۔ اور اس حکم کی تعمیل کیے بغیر میں اس کی ذمہ داری سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتا ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے اول فرماں بردار ہوں ۔‘‘ یعنی اس امت میں ، پہلا مسلمان ہوں ۔
[164]﴿ قُلۡ اَغَيۡرَ اللّٰهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے، کیا اب میں اللہ کے سوا‘‘ یعنی مخلوق میں سے ﴿اَبۡغِيۡ رَبًّا﴾ ’’تلاش کروں کوئی رب؟‘‘ کیا یہ میرے لیے اچھا اور میرے لائق ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو اپنا رب اور مدبر بنا لوں ؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا رب ہے اور تمام مخلوق اس کی ربوبیت کے تحت داخل اور اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہے۔ پس مجھ پر اور دیگر لوگوں پر یہ بات واجب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ …