قُلْ إِنَّنِى هَدَىٰنِى رَبِّىٓ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ دِينًۭا قِيَمًۭا مِّلَّةَ إِبْرَٰهِيمَ حَنِيفًۭا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ
کہہ دو کہ مجھے میرے پروردگار نے سیدھا رستہ دکھا دیا ہے (یعنی دین صحیح) مذہب ابراہیم کا جو ایک (خدا) ہی کی طرف کے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے
قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ ۔۔ : پوری سورت میں توحید کو دلائل سے ثابت کرنے اور مشرکین کی تردید کے بعد آخر میں خلاصہ چند حقائق کی صورت میں بیان فرمایا۔ ” قِــيَمًا “ یہ ” قِیَامٌ“ کے معنی میں مصدر ہے جسے مبالغے کے لیے دین کی صفت قرار دیا ہے، جیسے ” زَیْدٌ عَدْلٌ“ ہے، یعنی زید بہت عادل ہے، گویا سراسر عدل ہے، یعنی یہ دین نہایت قائم، مضبوط اور سیدھا ہے۔ - وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ : اس میں مشرکین مکہ اور یہود و نصاریٰ کی تردید ہے جو اس زعم میں مبتلا تھے کہ وہ دین ابراہیم پر قائم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ تمہارا دعویٰ غلط ہے، تمہاری اور ان کی کیا نسبت تم مشرک اور ابراہیم (علیہ السلام) شرک سے بےزار اور ایک اللہ کی طرف ہو چکنے والے۔ ان کا دین تو سچا، سیدھا اور نہایت مضبوط دین اسلام تھا، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے مخلص بندوں کے لیے پسند فرمایا اور جس کی ہدایت میرے رب نے مجھے عطا فرمائی۔