Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 151–160 of 165

151

۞ قُلْ تَعَالَوْا۟ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ ۖ أَلَّا تُشْرِكُوا۟ بِهِۦ شَيْـًۭٔا ۖ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَٰنًۭا ۖ وَلَا تَقْتُلُوٓا۟ أَوْلَٰدَكُم مِّنْ إِمْلَٰقٍۢ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ ۖ وَلَا تَقْرَبُوا۟ ٱلْفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ۖ وَلَا تَقْتُلُوا۟ ٱلنَّفْسَ ٱلَّتِى حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلْحَقِّ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ

کہہ کہ (لوگو) آؤ میں تمہیں وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جو تمہارے پروردگار نے تم پر حرام کر دی ہیں (ان کی نسبت اس نے اس طرح ارشاد فرمایا ہے) کہ کسی چیز کو خدا کا شریک نہ بنانا اور ماں باپ (سے بدسلوکی نہ کرنا بلکہ) سلوک کرتے رہنا اور ناداری (کے اندیشے) سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا کیونکہ تم کو اور ان کو ہم ہی رزق دیتے ہیں اور بےحیائی کے کام ظاہر ہوں یا پوشیدہ ان کے پاس نہ پھٹکنا اور کسی جان (والے) کو جس کے قتل کو خدا نے حرام کر دیا ہے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی جس کا شریعت حکم دے) ان باتوں کا وہ تمہیں ارشاد فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو

آیت ” نمبر 151 تا 153۔

اللہ تعالیٰ نے آیات کے اس حصے میں جو وصیتیں فرمائی ہیں اور جو قوانین بتلائیں ہیں مثلا مویشیوں اور پیداوار کے متعلق اور ادہام جاہلیت اور رسوم جاہلیت کی تردید وغیرہ تو ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوانین وہدایات اس دین کی اساسی باتوں پر مشتمل ہیں۔ ان کی وجہ سے انسان کے ضمیر کو توحید کی روشنی اور زندگی ملتی ہے اور صدیوں پر مشتمل تاریخ میں انسانی خاندان کو تقویت ملتی ہے ۔ باہم تکافل اور باہم نصرت کی وجہ سے اجتماعی روابط مضبوط ہوتے ہیں اور ایک ایسا معاشرہ وجود میں آتا ہے جس میں حقوق کی ضمانت ہوتی ہے اور فرائض ادا کئے جاتے ہیں ۔ یہ سب کام اللہ کی ہدایات کے مطابق چلتے ہیں مگر ان کا آغاز عقیدہ توحید سے ہوتا ہے ۔

اور جب یہ ہدایات ختم ہوتی ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہی اللہ کا جاری کردہ صراط مستقیم ہے اور اس کے علاوہ جس قدر بھی راستے میں وہ ٹیڑھے راستے ہیں یعنی راہ توحید سے ہٹے ہوئے ۔

غرض ان تین آیات میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں وہ نہایت ہی اہم امور سے متعلق ہیں ۔ یہ امور اس مسئلے کے بعد ذکر ہوئے جو بظاہر جاہلیت کا جزوی مسئلہ معلوم ہوتا ہے لیکن یہ مسئلہ اس دین کا نہایت ہی اساسی مسئلہ ہے کیونکہ یہ ان اہم وصیتوں کے ساتھ مربوط ہے ۔

آیت ” قُلْ تَعَالَوْاْ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْْکُمْ “ (6 : 151)

” اے نبی ﷺ ان سے کہو کہ آؤ میں تمہیں سناؤں تمہارے رب نے تم کیا کیا پابندیاں عائد کی ہیں ۔ ؟

آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ نے کیا حرام کیا ہے ؟ تم خود جن بعض چیزوں کو حرام قرار دیتے وہ دراصل حرام نہیں ہیں ۔ اس نے تم پر بعض چیزیں حرام قرار دی ہیں اس لئے کہ اسے ایسا کرنے کا حق حاصل ہے کہ وہی تمہارا رب ہے ۔ رب کا مفہوم ہے ‘ قیم ‘ مربی ‘ ہادی اور حاکم ۔ لہذا حلال و حرام مقرر کرنا اس کا کام ہے ۔ یہ اس کا مقام اور منصب ہے ۔ کہ وہ ایسا کرے ۔ اگر اللہ کے سوا کوئی اور حلال و حرام مقرر کرے گا تو وہی رب کہلائے گا ۔ فی الحقیقت رب ہوتا ہی وہ ہے جو حلال و حرام مقرر کرے ۔

آیت ” أَلاَّ تُشْرِکُواْ بِہِ شَیْْئا “۔ (6 : 151)

یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ “

یہ بنیادی اصول ہے جس پر اسلامی تصورحیات کی پوری عمارت اٹھائی گئی ہے۔ تمام واجبات وفرائض اسی کی جانب لوٹتے ہیں اور اسی سے حقوق وواجبات متعین ہوتے ہیں ۔ یہ وہ اصول ہے کہ اس کے تسلیم کرنے کے بعد ہی کسی پر دوسرے احکام اور منہیات فرض ہوتے ہیں ۔ فرائض و تکالیف اور اسلامی نظام کی تفصیلات اور اسلامی دستور وقوانین کی پیروی تب عائد ہوتی ہے اور جب کوئی انسان یا معاشرہ عقیدہ توحید کو قبول کرکے اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ اللہ وحدہ اس کا رب ہے اور وہی الہ اور حاکم ہے ۔ اس کی الوہیت ‘ اس کے اقتدار اعلی اور اس کی ربوبیت میں وہ کسی کو شریک نہیں سمجھتا ۔ وہ اعتراف کرلیتا ہے کہ اللہ ہی اس پوری کائنات کے تمام طبعی امور میں متصرف ہے ۔ عالم اسباب اور نظام تضاد وقدر اسی کی مرضی سے چلتا ہے وہ یہ عقیدہ بھی اپنا لیتے ہیں کہ آخرت میں انہوں نے اپنی پوری زندگی کارکردگی کا جواب دینا ہے ۔ وہ یہ بھی اعتراف کرلیتے ہیں کہ نظام حکومت میں بھی وہ اللہ کے احکام کے پابند ہیں ۔ غرض انسانی دل و دماغ کے لئے یہ عقیدہ ایک مکمل تطہیر ہے اور انسانی فکر اور عقلیت کو وہم و گمان کی بیماریوں سے مکمل طور پر صاف کردیا جاتا ہے ۔ اس کے ذریعہ ہی کسی معاشرے کو جاہلیت کی آلودگیوں سے پاک کیا جاسکتا ہے اور انسان انسانوں کی غلامی اور بندگی سے رہا ہو سکتا ہے۔

شرک اپنی ہر شکل و صورت کے اعتبار سے حرام ہے اس لئے کہ اس کی وجہ سے انسان ہر حرام چیز میں پڑ سکتا ہے ۔ یہ پہلا منکر ہے جس کے خلاف جہاد کا آغاز ہوتا ہے اور اس کے ہر پہلو کا انکار ضروری ہے ۔ یہاں تک کہ لوگ اعتراف کرلیں کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی رب نہیں ‘ …

Al-An'aam 6:151Listen in Qur'an →
152

وَلَا تَقْرَبُوا۟ مَالَ ٱلْيَتِيمِ إِلَّا بِٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ حَتَّىٰ يَبْلُغَ أَشُدَّهُۥ ۖ وَأَوْفُوا۟ ٱلْكَيْلَ وَٱلْمِيزَانَ بِٱلْقِسْطِ ۖ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۖ وَإِذَا قُلْتُمْ فَٱعْدِلُوا۟ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ ۖ وَبِعَهْدِ ٱللَّهِ أَوْفُوا۟ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ جانا مگر ایسے طریق سے کہ بہت ہی پسندیدہ ہو یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے اور ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو ہم کسی کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی طاقت کے مطابق اور جب (کسی کی نسبت) کوئی بات کہو تو انصاف سے کہو گو وہ (تمہارا) رشتہ دار ہی ہو اور خدا کے عہد کو پورا کرو ان باتوں کا خدا تمہیں حکم دیتا ہے تاکہ تم نصحیت کرو

آیت ” نمبر 151 تا 153۔

اللہ تعالیٰ نے آیات کے اس حصے میں جو وصیتیں فرمائی ہیں اور جو قوانین بتلائیں ہیں مثلا مویشیوں اور پیداوار کے متعلق اور ادہام جاہلیت اور رسوم جاہلیت کی تردید وغیرہ تو ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوانین وہدایات اس دین کی اساسی باتوں پر مشتمل ہیں۔ ان کی وجہ سے انسان کے ضمیر کو توحید کی روشنی اور زندگی ملتی ہے اور صدیوں پر مشتمل تاریخ میں انسانی خاندان کو تقویت ملتی ہے ۔ باہم تکافل اور باہم نصرت کی وجہ سے اجتماعی روابط مضبوط ہوتے ہیں اور ایک ایسا معاشرہ وجود میں آتا ہے جس میں حقوق کی ضمانت ہوتی ہے اور فرائض ادا کئے جاتے ہیں ۔ یہ سب کام اللہ کی ہدایات کے مطابق چلتے ہیں مگر ان کا آغاز عقیدہ توحید سے ہوتا ہے ۔

اور جب یہ ہدایات ختم ہوتی ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہی اللہ کا جاری کردہ صراط مستقیم ہے اور اس کے علاوہ جس قدر بھی راستے میں وہ ٹیڑھے راستے ہیں یعنی راہ توحید سے ہٹے ہوئے ۔

غرض ان تین آیات میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں وہ نہایت ہی اہم امور سے متعلق ہیں ۔ یہ امور اس مسئلے کے بعد ذکر ہوئے جو بظاہر جاہلیت کا جزوی مسئلہ معلوم ہوتا ہے لیکن یہ مسئلہ اس دین کا نہایت ہی اساسی مسئلہ ہے کیونکہ یہ ان اہم وصیتوں کے ساتھ مربوط ہے ۔

آیت ” قُلْ تَعَالَوْاْ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْْکُمْ “ (6 : 151)

” اے نبی ﷺ ان سے کہو کہ آؤ میں تمہیں سناؤں تمہارے رب نے تم کیا کیا پابندیاں عائد کی ہیں ۔ ؟

آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ نے کیا حرام کیا ہے ؟ تم خود جن بعض چیزوں کو حرام قرار دیتے وہ دراصل حرام نہیں ہیں ۔ اس نے تم پر بعض چیزیں حرام قرار دی ہیں اس لئے کہ اسے ایسا کرنے کا حق حاصل ہے کہ وہی تمہارا رب ہے ۔ رب کا مفہوم ہے ‘ قیم ‘ مربی ‘ ہادی اور حاکم ۔ لہذا حلال و حرام مقرر کرنا اس کا کام ہے ۔ یہ اس کا مقام اور منصب ہے ۔ کہ وہ ایسا کرے ۔ اگر اللہ کے سوا کوئی اور حلال و حرام مقرر کرے گا تو وہی رب کہلائے گا ۔ فی الحقیقت رب ہوتا ہی وہ ہے جو حلال و حرام مقرر کرے ۔

آیت ” أَلاَّ تُشْرِکُواْ بِہِ شَیْْئا “۔ (6 : 151)

یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ “

یہ بنیادی اصول ہے جس پر اسلامی تصورحیات کی پوری عمارت اٹھائی گئی ہے۔ تمام واجبات وفرائض اسی کی جانب لوٹتے ہیں اور اسی سے حقوق وواجبات متعین ہوتے ہیں ۔ یہ وہ اصول ہے کہ اس کے تسلیم کرنے کے بعد ہی کسی پر دوسرے احکام اور منہیات فرض ہوتے ہیں ۔ فرائض و تکالیف اور اسلامی نظام کی تفصیلات اور اسلامی دستور وقوانین کی پیروی تب عائد ہوتی ہے اور جب کوئی انسان یا معاشرہ عقیدہ توحید کو قبول کرکے اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ اللہ وحدہ اس کا رب ہے اور وہی الہ اور حاکم ہے ۔ اس کی الوہیت ‘ اس کے اقتدار اعلی اور اس کی ربوبیت میں وہ کسی کو شریک نہیں سمجھتا ۔ وہ اعتراف کرلیتا ہے کہ اللہ ہی اس پوری کائنات کے تمام طبعی امور میں متصرف ہے ۔ عالم اسباب اور نظام تضاد وقدر اسی کی مرضی سے چلتا ہے وہ یہ عقیدہ بھی اپنا لیتے ہیں کہ آخرت میں انہوں نے اپنی پوری زندگی کارکردگی کا جواب دینا ہے ۔ وہ یہ بھی اعتراف کرلیتے ہیں کہ نظام حکومت میں بھی وہ اللہ کے احکام کے پابند ہیں ۔ غرض انسانی دل و دماغ کے لئے یہ عقیدہ ایک مکمل تطہیر ہے اور انسانی فکر اور عقلیت کو وہم و گمان کی بیماریوں سے مکمل طور پر صاف کردیا جاتا ہے ۔ اس کے ذریعہ ہی کسی معاشرے کو جاہلیت کی آلودگیوں سے پاک کیا جاسکتا ہے اور انسان انسانوں کی غلامی اور بندگی سے رہا ہو سکتا ہے۔

شرک اپنی ہر شکل و صورت کے اعتبار سے حرام ہے اس لئے کہ اس کی وجہ سے انسان ہر حرام چیز میں پڑ سکتا ہے ۔ یہ پہلا منکر ہے جس کے خلاف جہاد کا آغاز ہوتا ہے اور اس کے ہر پہلو کا انکار ضروری ہے ۔ یہاں تک کہ لوگ اعتراف کرلیں کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی رب نہیں ‘ …

Al-An'aam 6:152Listen in Qur'an →
153

وَأَنَّ هَٰذَا صِرَٰطِى مُسْتَقِيمًۭا فَٱتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ ٱلسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِۦ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

اور یہ کہ میرا سیدھا رستہ یہی ہے تو تم اسی پر چلنا اور اور رستوں پر نہ چلنا کہ (ان پر چل کر) خدا کے رستے سے الگ ہو جاؤ گے ان باتوں کا خدا تمہیں حکم دیتا ہے تاکہ تم پرہیزگار بنو

درس نمبر 71 ایک نظر میں :

اس سورة کے اس آخری حصے میں جو موضوع درس سابق میں تھا وہی ٹھاٹھیں مارتے ہوئے دریا کی طرح آگے بڑھ رہا ہے ۔ یہ کہ اللہ ہی حاکم اور قانون ساز ہے اور یہ بات اسلام کے اساسی عقائد ونظریات کا حصہ ہے ۔ یہ سبق بھی اسی موضوع کا حصہ ہے اور اس میں کچھ مزید پہلو سامنے آتے ہیں تاکہ یہ حقیقت اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے ۔

اس سورة کے آغاز میں دین اسلام کے اساسی نظریات اور عقائد موضوع بحث ہیں اور آخری حصے میں یہ موضوع آیا تھا کہ اسلام کے اساسی نظریات میں یہ بات بھی داخل ہے کہ اللہ وحدہ حاکم اور قانون ساز ہے ۔ مقصد یہ تھا کہ اللہ کا اقتدار جس کا ظہور قانون سازی کی صورت میں ہوتا ہے اسی دین کے اساسی قضایا میں سے ہے اور اسی طریقے اور اسی سطح پر قرآن اسے رکھتا ہے ۔ یہ بات ذہن میں رکھنے کے قابل ہے کہ قرآن کریم اس دوسرے مسئلے پر وہی دلائل وبراہین پیش کرتا ہے جو اس نے اس سورة کے حصہ اول میں عقائد ونظریات کے بارے میں پیش کئے ۔

٭ یہاں بھی رسولوں ‘ کتابوں ‘ وحی اور معجزات کی بات ہے ۔

٭ یہاں بھی اس بات کا ذکر ہے کہ اگر معجزات پیش ہوئے اور مان کر نہ دیئے گئے تو پھر اللہ کا عذاب لازما آئے گا ۔

٭ مناظر قیامت اور حساب و کتاب ۔

٭ یہ کہ رسول اور اس کی قوم کے درمیان کوئی تعلق ورابطہ نہیں ہے ۔ اس لئے کہ قوم رسول کے نظریات کو رد کر کے متفرق ارباب کے تابع ہوگئی ہے اور رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اپنے نظریات کو واضح ‘ دوٹوک اور فیصلہ کن انداز میں پیش کریں ۔

٭ یہ کہ دو جہانوں کا رب اور حاکم صرف اللہ ہے اور اس کے سوا کوئی اور رب تلاش نہ کرو۔

٭ اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کا رب اور خالق ہے اور انسانوں کو اس جہاں میں اسی رب نے بسایا اور بٹھایا ہے اور وہ اس بات پر قادر ہے موجودہ لوگوں کو بےدخل کرکے کسی اور مخلوق کو یہاں لا بٹھائے ۔

یہ ہیں وہ مسائل جو اس سبق میں لیے گئے ہیں جبکہ یہی مسائل سورة کے آغاز اور اس کے پہلے حصے میں موضوع بحث تھے۔ لیکن وہاں نظریاتی پہلو نمایاں تھا اور یہاں مسئلہ حاکمیت اور قانون سازی عیاں ہے ۔ یہ قرآن کریم کا ایک خاص اسلوب اور انداز ہے اور اسے صرف وہی شخص جان سکتا ہے جو قرآن کے اسلوب کلام سے واقف ہو اور اس کی ممارست رکھتا ہو۔

اس سبق کے آغاز میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب کی بات ہے اور سابقہ بات کا تکملہ ہے جس میں کہا گیا تھا کہ یہی صراط مستقیم ہے ۔ کہ یہی ہمارا سیدھا راستہ ہے ‘ اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس راستے سے ہٹا کر تمہیں پراگندہ کردیں گے ۔ “

یہاں کتاب موسیٰ کے ذکر کا مطلب یہ ہے کہ یہ راستہ ایک طویل شاہراہ ہے جس پر انسانی تاریخ کے تمام انبیاء چلتے رہے ہیں ۔ تمام رسولوں کی شریعتیں اسی راہ کی کڑیاں ہیں اور ان میں سے قریب ترین شریعت ‘ شریعت موسوی ہے ۔ اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی ایک کتاب دی تھی جس میں ہر چیز کی تفصیلات تھیں اور یہ شریعت ان کی امت کے لئے ہدایت و رحمت تھی ۔ صرف ان لوگوں کے لئے جو خوف آخرت اور قیام قیامت پر یقین رکھتے تھے ۔

آیت ” ثُمَّ آتَیْْنَا مُوسَی الْکِتَابَ تَمَاماً عَلَی الَّذِیَ أَحْسَنَ وَتَفْصِیْلاً لِّکُلِّ شَیْْء ٍ وَہُدًی وَرَحْمَۃً لَّعَلَّہُم بِلِقَاء رَبِّہِمْ یُؤْمِنُونَ (154)

” پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی تھی ‘ جو بھلائی کی روش اختیار کرنے والے انسان پر نعمت کی تکمیل اور ہر ضروری چیز کی تفصیل اور سراسر ہدایت اور رحمت تھی ۔ شاید کہ لوگ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لے آئیں ۔ “

پھر دو بار کتاب جدید ‘ قرآن کا ذکر آتا ہے ‘ جو کتاب موسیٰ کی صف میں ہے اور اس میں بھی نظریہ حیات اور نظام زندگی موجود ہے ۔ اس کا اتباع ضروری ہے تاکہ لوگوں کی دنیا اور آخرت دونوں سدھر جائیں ۔

آیت ” وَہَـذَا کِتَابٌ أَنزَلْنَاہُ مُبَارَکٌ فَاتَّبِعُوہُ وَاتَّقُواْ لَعَلَّکُمْ …

Al-An'aam 6:153Listen in Qur'an →
154

ثُمَّ ءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَٰبَ تَمَامًا عَلَى ٱلَّذِىٓ أَحْسَنَ وَتَفْصِيلًۭا لِّكُلِّ شَىْءٍۢ وَهُدًۭى وَرَحْمَةًۭ لَّعَلَّهُم بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُونَ

(ہاں) پھر (سن لو کہ) ہم نے موسیؑ کو کتاب عنایت کی تھی تاکہ ان لوگوں پر جو نیکوکار ہیں نعمت پوری کر دیں اور (اس میں) ہر چیز کا بیان (ہے) اور ہدایت (ہے) اور رحمت ہے تاکہ (ان کی امت کے) لوگ اپنے پروردگار کے رُوبرو حاضر ہونے کا یقین کریں

آیت ” نمبر 154۔

یہ کلام لفظ ثم کے ذریعہ کلام ماقبل پر عطف ہے ۔ اس کی تشریح یہ ہے کہ پہلے یہ آیت آئی تھی ۔

آیت ” قُلْ تَعَالَوْاْ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْْکُمْ أَلاَّ تُشْرِکُواْ بِہِ شَیْْئاً “۔ (6 : 151) جہاں یہ بیان کرنا مقصود تھا کہ تمہارا حرام کردہ حرام نہیں بلکہ اللہ نے ان چیزوں کو حرام کیا ۔ پھر کہا آیت ” وَأَنَّ ہَـذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْماً “۔ (6 : 153) کہ یہی میرا سیدھا راستہ اور دین ہے ۔ اس جملے کا عطف پہلے پر ہوا تھا ۔ یعنی آیت ” الا تشرکوا بہ “۔ پر اس کے بعد یہ آیت آئی آیت ” ثم اتینا موسیٰ الکتب “۔ (6 : 154) جس کا عطف مذکورہ بالا دونوں جملوں پر ہوا ۔ اس طرح یہ پورا کلام مسلسل ایک دوسرے سے مربوط ہے ۔ (تماما علی الذی احسن “۔ (6 : 154) کا مفہوم یہ ہے ‘ جیسا کہ ابن جریر نے لکھا ہے ’ پھر ہم نے موسیٰ کو تورات دی اور یہ ان پر ہماری جانب سے تکمیل نعمت تھی ۔ ہماری جانب سے ان کے لئے اعزاز وشرف تھا اسی وجہ سے کہ انہوں نے احسان کا رویہ اختیار کیا اور اپنے رب کی اطاعت کی ۔ رب کی جانب سے جو فرائض بھی عائد کئے گئے ہیں اس پر وہ عمل پیرا ہوئے اور اس کتاب میں وہ تمام امور درج ہیں جن کی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کو ضرورت تھی ۔

آیت ” تفصیلاللکل شی (6 : 154) ” قتادہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد حلال و حرام ہیں ۔

آیت ” وھدی ورحمۃ “۔ (6 : 154) کے معنی یہ ہیں کہ ان کی قوم ہدایت پائے اور آخرت کی جوابدہی پر ایمان لے آئے اور اس طرح اللہ کی رحمت کی مستحق ہو کر اللہ عذاب کے عذاب سے بچ جائے ۔

یہ تھے مقاصد جن کے لئے ہم نے حضرت موسیٰ کو کتاب دی تھی ‘ انہیں مقاصد کی خاطر اللہ نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ تم بھی ہدایت پاؤ اور پھر رحمت کے مستحق قرار پاؤ۔

Al-An'aam 6:154Listen in Qur'an →
155

وَهَٰذَا كِتَٰبٌ أَنزَلْنَٰهُ مُبَارَكٌۭ فَٱتَّبِعُوهُ وَٱتَّقُوا۟ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ

اور (اے کفر کرنے والوں) یہ کتاب بھی ہمیں نے اتاری ہے برکت والی تو اس کی پیروی کرو اور (خدا سے) ڈرو تاکہ تم پر مہربانی کی جائے

آیت ” نمبر 155۔

بیشک یہ ایک مبارک کتاب ہے اور اس کی تشریح ہم نے بڑی تفصیل کے ساتھ اس آیت کی تفسیر میں کردی ہے جہاں یہ لفظ پہلے آیا تھا : ۔

آیت ” وَہَـذَا کِتَابٌ أَنزَلْنَاہُ مُبَارَکٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْْنَ یَدَیْْہِ وَلِتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَی وَمَنْ حَوْلَہَا وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِالآخِرَۃِ یُؤْمِنُونَ بِہِ وَہُمْ عَلَی صَلاَتِہِمْ یُحَافِظُونَ (92)

” یہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے ۔ بڑی خیر و برکت والی ہے ۔ اس چیز کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے آئی تھی ۔ اور اس لئے نازل کی گئی ہے کہ اس کے ذریعہ سے تم بستیوں کے اس مرکز (یعنی مکہ) اور اس کے اطراف میں رہنے والوں کو متنبہ کرو ۔ جو لوگ آخرت کو مانتے ہیں وہ اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں ۔ “

یہاں لفظ مبارک اسلامی نظریہ حیات اور اس کی شمولیت اور ہمہ گیری کی بحث کے ضمن میں آیا ہے یعنی یہ کتاب ایک شرعی نظام پر مشتمل ہے۔ حکم یہ دیا جا رہا ہے کہ تم اس شرعی نظام کی اطاعت کرو اور تم پر اللہ کی رحمت صرف اس صورت میں ہو سکتی ہے کہ تم اس کتاب کا اتباع کرو ‘ کیونکہ یہاں کلام شرعی نظام کے بارے میں ہے جبکہ سورة کے آغاز میں بات اسلامی عقائد ونظریات کی تھی ۔

یعنی اب تمہارے لئے کوئی وجہ معذرت باقی نہیں ہے اور نہ کوئی حجت باقی ہے ۔ یہ کتاب نازل ہوئی اور اس نے تمام دلائل اور حجتوں کو منسوخ و باطل کردیا ہے ۔ اس کتاب میں زندگی کے تمام امور کی تفصیلات موجود ہیں زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جس کے بارے میں اس میں ہدایات موجود نہ ہوں کہ تم خود اپنے لئے قانون بنانے کے لئے محتاج ہوجاؤ۔

Al-An'aam 6:155Listen in Qur'an →
156

أَن تَقُولُوٓا۟ إِنَّمَآ أُنزِلَ ٱلْكِتَٰبُ عَلَىٰ طَآئِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَٰفِلِينَ

(اور اس لیے اتاری ہے) کہ (تم یوں نہ) کہو کہ ہم سے پہلے دو ہی گروہوں پر کتابیں اتری تھیں اور ہم ان کے پڑھنے سے (معذور اور) بےخبر تھے

آیت ” نمبر 156 تا 157۔

اللہ تعالیٰ کی اسکیم یہ تھی کہ ہر رسول کو اس کی قوم کی زبان میں پیغام دے کر بھیجا گیا اور جب آخری رسالت دنیا میں آئی تو حضرت محمد ﷺ کو تمام اقوام عالم کی طرف بھیجا گیا ۔ لہذا حضور ﷺ انسانوں کے لئے آخری رسول ہیں ۔ کیونکہ ان کو تمام انسانوں کے لئے بشیر ونذیر بنا کر بھیجا گیا ہے۔

عربوں پر اللہ نے حجت اس طرح تمام کردی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوموں کی طرف بھیجے گئے اور عرب کہتے تھے کہ ہم ان کی کتابوں کو نہیں پڑھ سکتے تھے ۔ ہم عالم نہ تھے ‘ نہ ہم تک اس دعوت کو پہنچانے کا کوئی اہتمام کیا گیا ۔ اگر ہمارے پاس ہماری زبان میں کوئی کتاب آئی ہوتی تو ہم ضرور ایمان لاتے اور ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے ۔ چناچہ ان کے پاس یہ کتاب آگئی اور رسول بھی آگئے بلکہ یہ رسول تمام جہان والوں کے لئے آگئے ، اس رسول کو ایسی کتاب دی گئی جو خود اپنی سچائی کی دلیل ہے ۔ آفتاب آمد دلیل آفتاب ۔ پھر اس کتاب میں جو حقائق بیان ہوئے ان میں کوئی التباس یا پیچیدگی نہیں ہے ۔ لوگ جس گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہیں انکے لئے چراغ روشن ہے اور جن مصیبتوں میں وہ مبتلا ہیں ان کے مقابلے میں رحمت ہے ‘ دنیا کے لئے بھی اور آخرت کے لئے بھی ۔

اگر صورت حال یہ ہے تو پھر اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوسکتا ہے جو ایسی کتاب کی آیات کی تکذیب کرتا ہو یا ان سے منہ موڑتا ہو حالانکہ یہ کتاب صحیح راہ ‘ اصلاح حال اور دنیا وآخرت کی فلاح کی طرف بلاتی ہے ۔ جو شخص اپنے آپ کو اور عوام الناس کو اس کتاب کی برکتوں سے محروم کرتا ہے ‘ اس سے بڑا ظالم کون ہو سکتا ہے ۔ وہی شخص ظالم ہے جو جاہلی تصورات اور خلاف اسلام قانون بنا کر اس زمین پر فساد پھیلاتا ہے ۔ جو لوگ اس کتاب سے روگردانی کرتے ہیں درحقیقت ان کے مزاج میں فساد پوشیدہ ہے جو انہیں اس چشمہ خیر سے دور رکھتا ہے ۔ مثلا اونٹ کے پاؤں میں جب نقص ہو یا بیماری ہو تو وہ ایک طرف جھکتا ہے اور سیدھا نہیں چلتا ۔ (صدف کا یہی مفہوم ہے) یعنی یہ لوگ سچائی سے ایک طرف چلے جاتے ہیں جس طرح ایک بیمار اونٹ ایک طرف جھکا ہوا ہوتا ہے اور سیدھا نہیں چل سکتا ۔ اپنے اس میلان کی وجہ سے وہ برے عذاب کے مستحق ہوں گے ۔

آیت ” سَنَجْزِیْ الَّذِیْنَ یَصْدِفُونَ عَنْ آیَاتِنَا سُوء َ الْعَذَابِ بِمَا کَانُواْ یَصْدِفُونَ (157)

” جو لوگ ہماری آیات سے منہ موڑتے ہیں ‘ انہیں اس روگردانی کی پاداش میں ہم بدترین سزا دے کر رہیں گے ۔ “ ۔

قرآنی انداز بیان کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ عربی زبان کے ایک ایک لفظ کو حسی مفہوم سے بلند کرکے معنوی مدلول کے لئے استعمال کرتا ہے ‘ لیکن یہ استعمال معنوی مفہوم پر اس طرح منطبق ہوتا ہے کہ اصل حسی مفہوم بھی اپنی جگہ درست نظر آتا ہے ۔ اسی طرح (یصدفون) کا استعمال ہوا ہے ۔ (صدف) کے معنی یہ ہیں کہ اونٹ اپنے پاؤں کی بیماری کی وجہ سے ایک طرف جھک کرچکے ۔ اس کی دوسری مثال ہے (الصعر) صعر عربی زبان میں ایک ایسی بیماری کو کہا جاتا ہے جس میں اونٹ کا منہ ایک طرف ٹیڑھا ہوجاتا ہے اور گردن سیدھی نہیں ہو سکتی ۔ یہ بیماری انسانوں کو بھی لاحق ہوتی ہے ۔ قرآن کریم نے اسے بطور تکبر منہ ٹیڑھا کرنے کے لئے استعمال کیا ۔ آیت ” ولا تصعر خدک “۔ (31 : 18) منہ کو ٹیڑھا نہ کرو ‘ تکبر نہ کرو ‘ اس کی تیسری مثال خبط کی ہے ۔ خبط کے معنی ہیں کسی جانور کا زہریلی گھاس کھا کر پھول جانا ۔ خطبت الناقۃ اس وقت بولتے ہیں جب اونٹنی زہریلی گھاس چر کر پھول جائے ۔ قرآن نے یہ لفظ بےمقصد اور بغیر ایمان کے اعمال کے لئے استعمال کیا ہے ۔ جس میں بظاہر اعمال بڑے نظر آئیں ۔ اس قسم کے استعمال کی بیشمار قرآن میں ہیں۔

اب بات ذرا آگے بڑھتی ہے اور اس کتاب کے آجانے کے بعد اب یہ لوگ مزید خوارق عادت واقعات اور معجزات طلب کرتے ہیں تاکہ وہ اسے تسلیم کرلیں ۔ اس قسم کی تہدید سورة …

Al-An'aam 6:156Listen in Qur'an →
157

أَوْ تَقُولُوا۟ لَوْ أَنَّآ أُنزِلَ عَلَيْنَا ٱلْكِتَٰبُ لَكُنَّآ أَهْدَىٰ مِنْهُمْ ۚ فَقَدْ جَآءَكُم بَيِّنَةٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ وَهُدًۭى وَرَحْمَةٌۭ ۚ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَّبَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَصَدَفَ عَنْهَا ۗ سَنَجْزِى ٱلَّذِينَ يَصْدِفُونَ عَنْ ءَايَٰتِنَا سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ بِمَا كَانُوا۟ يَصْدِفُونَ

یا (یہ نہ) کہو کہ اگر ہم پر بھی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان لوگوں کی نسبت کہیں سیدھے رستے پر ہوتے سو تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے دلیل اور ہدایت اور رحمت آ گئی ہے تو اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا کی آیتوں کی تکذیب کرے اور ان سے (لوگوں کو) پھیرے جو لوگ ہماری آیتوں سے پھیرتے ہیں اس پھیرنے کے سبب ہم ان کو برے عذاب کی سزا دیں گے

آیت ” نمبر 156 تا 157۔

اللہ تعالیٰ کی اسکیم یہ تھی کہ ہر رسول کو اس کی قوم کی زبان میں پیغام دے کر بھیجا گیا اور جب آخری رسالت دنیا میں آئی تو حضرت محمد ﷺ کو تمام اقوام عالم کی طرف بھیجا گیا ۔ لہذا حضور ﷺ انسانوں کے لئے آخری رسول ہیں ۔ کیونکہ ان کو تمام انسانوں کے لئے بشیر ونذیر بنا کر بھیجا گیا ہے۔

عربوں پر اللہ نے حجت اس طرح تمام کردی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوموں کی طرف بھیجے گئے اور عرب کہتے تھے کہ ہم ان کی کتابوں کو نہیں پڑھ سکتے تھے ۔ ہم عالم نہ تھے ‘ نہ ہم تک اس دعوت کو پہنچانے کا کوئی اہتمام کیا گیا ۔ اگر ہمارے پاس ہماری زبان میں کوئی کتاب آئی ہوتی تو ہم ضرور ایمان لاتے اور ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے ۔ چناچہ ان کے پاس یہ کتاب آگئی اور رسول بھی آگئے بلکہ یہ رسول تمام جہان والوں کے لئے آگئے ، اس رسول کو ایسی کتاب دی گئی جو خود اپنی سچائی کی دلیل ہے ۔ آفتاب آمد دلیل آفتاب ۔ پھر اس کتاب میں جو حقائق بیان ہوئے ان میں کوئی التباس یا پیچیدگی نہیں ہے ۔ لوگ جس گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہیں انکے لئے چراغ روشن ہے اور جن مصیبتوں میں وہ مبتلا ہیں ان کے مقابلے میں رحمت ہے ‘ دنیا کے لئے بھی اور آخرت کے لئے بھی ۔

اگر صورت حال یہ ہے تو پھر اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوسکتا ہے جو ایسی کتاب کی آیات کی تکذیب کرتا ہو یا ان سے منہ موڑتا ہو حالانکہ یہ کتاب صحیح راہ ‘ اصلاح حال اور دنیا وآخرت کی فلاح کی طرف بلاتی ہے ۔ جو شخص اپنے آپ کو اور عوام الناس کو اس کتاب کی برکتوں سے محروم کرتا ہے ‘ اس سے بڑا ظالم کون ہو سکتا ہے ۔ وہی شخص ظالم ہے جو جاہلی تصورات اور خلاف اسلام قانون بنا کر اس زمین پر فساد پھیلاتا ہے ۔ جو لوگ اس کتاب سے روگردانی کرتے ہیں درحقیقت ان کے مزاج میں فساد پوشیدہ ہے جو انہیں اس چشمہ خیر سے دور رکھتا ہے ۔ مثلا اونٹ کے پاؤں میں جب نقص ہو یا بیماری ہو تو وہ ایک طرف جھکتا ہے اور سیدھا نہیں چلتا ۔ (صدف کا یہی مفہوم ہے) یعنی یہ لوگ سچائی سے ایک طرف چلے جاتے ہیں جس طرح ایک بیمار اونٹ ایک طرف جھکا ہوا ہوتا ہے اور سیدھا نہیں چل سکتا ۔ اپنے اس میلان کی وجہ سے وہ برے عذاب کے مستحق ہوں گے ۔

آیت ” سَنَجْزِیْ الَّذِیْنَ یَصْدِفُونَ عَنْ آیَاتِنَا سُوء َ الْعَذَابِ بِمَا کَانُواْ یَصْدِفُونَ (157)

” جو لوگ ہماری آیات سے منہ موڑتے ہیں ‘ انہیں اس روگردانی کی پاداش میں ہم بدترین سزا دے کر رہیں گے ۔ “ ۔

قرآنی انداز بیان کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ عربی زبان کے ایک ایک لفظ کو حسی مفہوم سے بلند کرکے معنوی مدلول کے لئے استعمال کرتا ہے ‘ لیکن یہ استعمال معنوی مفہوم پر اس طرح منطبق ہوتا ہے کہ اصل حسی مفہوم بھی اپنی جگہ درست نظر آتا ہے ۔ اسی طرح (یصدفون) کا استعمال ہوا ہے ۔ (صدف) کے معنی یہ ہیں کہ اونٹ اپنے پاؤں کی بیماری کی وجہ سے ایک طرف جھک کرچکے ۔ اس کی دوسری مثال ہے (الصعر) صعر عربی زبان میں ایک ایسی بیماری کو کہا جاتا ہے جس میں اونٹ کا منہ ایک طرف ٹیڑھا ہوجاتا ہے اور گردن سیدھی نہیں ہو سکتی ۔ یہ بیماری انسانوں کو بھی لاحق ہوتی ہے ۔ قرآن کریم نے اسے بطور تکبر منہ ٹیڑھا کرنے کے لئے استعمال کیا ۔ آیت ” ولا تصعر خدک “۔ (31 : 18) منہ کو ٹیڑھا نہ کرو ‘ تکبر نہ کرو ‘ اس کی تیسری مثال خبط کی ہے ۔ خبط کے معنی ہیں کسی جانور کا زہریلی گھاس کھا کر پھول جانا ۔ خطبت الناقۃ اس وقت بولتے ہیں جب اونٹنی زہریلی گھاس چر کر پھول جائے ۔ قرآن نے یہ لفظ بےمقصد اور بغیر ایمان کے اعمال کے لئے استعمال کیا ہے ۔ جس میں بظاہر اعمال بڑے نظر آئیں ۔ اس قسم کے استعمال کی بیشمار قرآن میں ہیں۔

اب بات ذرا آگے بڑھتی ہے اور اس کتاب کے آجانے کے بعد اب یہ لوگ مزید خوارق عادت واقعات اور معجزات طلب کرتے ہیں تاکہ وہ اسے تسلیم کرلیں ۔ اس قسم کی تہدید سورة …

Al-An'aam 6:157Listen in Qur'an →
158

هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّآ أَن تَأْتِيَهُمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ أَوْ يَأْتِىَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِىَ بَعْضُ ءَايَٰتِ رَبِّكَ ۗ يَوْمَ يَأْتِى بَعْضُ ءَايَٰتِ رَبِّكَ لَا يَنفَعُ نَفْسًا إِيمَٰنُهَا لَمْ تَكُنْ ءَامَنَتْ مِن قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِىٓ إِيمَٰنِهَا خَيْرًۭا ۗ قُلِ ٱنتَظِرُوٓا۟ إِنَّا مُنتَظِرُونَ

یہ اس کے سوا اور کس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود تمہارا پروردگار آئے یا تمہارے پروردگار کی کچھ نشانیاں آئیں (مگر) جس روز تمہارے پروردگار کی کچھ نشانیاں آ جائیں گی تو جو شخص پہلے ایمان نہیں لایا ہوگا اس وقت اسے ایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دے گا یا اپنے ایمان (کی حالت) میں نیک عمل نہیں کئے ہوں گے (تو گناہوں سے توبہ کرنا مفید نہ ہوگا اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ تم بھی انتظار کرو ہم بھی انتظار کرتے ہیں

آیت ” نمبر 158۔

یہ ایک دو ٹوک اور واضح تہدید ہے ‘ کیونکہ یہ اللہ کی ناقابل تبدیل سنت ہے کہ جب کوئی معجزہ آتا ہے اور لوگ پھر بھی تکذیب کرتے ہیں تو انہیں ہلاک کردیا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ جن خوارق عادت واقعات کا مطالبہ کرتے ہیں اگر ان میں سے کوئی واقعہ لایا جاتا تو ان کا فیصلہ کب کا ہوچکا ہوتا کیونکہ جب اس قسم کا کوئی معجزہ آتا ہے تو مدت عمل اور مہلت ختم ہوجاتی ہے اور پھر ایمان وعمل مفید نہیں ہوتے ۔ جو لوگ پہلے سے مومن اور اسلامی نظام پر عمل پیرا نہ تھے ان کے لئے پھر کوئی وقت نہیں ہوتا ۔ قرآن کریم میں ایمان کے ساتھ عمل کا ذکر ہمیشہ کیا جاتا ہے کیونکہ اسلامی پیمانے کے مطابق وہی ایمان مقبول ہے جو عمل کے ساتھ ہو ۔ متعدد روایات میں آتا ہے کہ اس آیت یَوْمَ یَأْتِیْ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ (6 : 158) سے علامات قیامت مراد ہیں کیونکہ علامات قیامت آنے کے بعد پھر ایمان وعمل مفید نہیں رہتے اور بعض روایات میں اشراط الساعہ کو گنوایا بھی گیا ہے ۔ لیکن اس آیت کی تفسیر اس مفہوم میں زیادہ بہت ہے کہ اس سے مراد اس دنیا میں اللہ کی سنت جاریہ ہے ۔ اس کی مثال اسی سورة کے آغاز میں موجود ہے ۔

آیت ” وَقَالُواْ لَوْلا أُنزِلَ عَلَیْْہِ مَلَکٌ وَلَوْ أَنزَلْنَا مَلَکاً لَّقُضِیَ الأمْرُ ثُمَّ لاَ یُنظَرُونَ (8)

” کہتے ہیں کہ اس نبی پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا ۔ اگر کہیں ہم نے فرشتہ اتار دیا ہوتا تو اب تک کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا ‘ پھر انہیں کوئی مہلت نہ دی جاتی ۔ “

یہ بات ذہن میں رہے کہ آغاز سورة میں یہی باتیں ایمان لانے اور اسلامی نظریات قبول کرنے کے موضوع پر کہی گئی تھیں اور یہاں باتیں اسلامی نظام کے نفاذ اور شریعت کے اجراء کے موضوع پر کہی جارہی ہیں ۔ یہ نہایت ہی اہم اور یاد رکھنے کے قابل بات ہے تاکہ اسلامی شریعت اور اللہ کی حاکمیت کے قیام کی حقیقت ذہن میں رہے ۔ جس طرح آغاز سورة کی یہ بات سنت جاریہ پر محمول ہے ‘ اسی طرح یہاں بھی اس کی تاویل اشراط قیامت کے مقابلے میں سنت جاریہ کے ساتھ مناسب ہے ۔ یہ مناسب تاویل و تفسیر ہوگی اور یہاں اسے قیامت پر محمول کرنے کی ضرورت نہ ہوگی جس کے وقوع کا علم عالم الغیب کو تھا ۔

اب بات کا رخ رسول اللہ کی طرف مڑ جاتا ہے کہ آپ کی شریعت اور آپ کی ملت دنیا میں تمام قائم ملتوں سے علیحدہ ہے ۔ تمام فرقے اور مذاہب جن میں مشرکین مکہ کا مذہب بھی شامل ہے ‘ سب باطل ہیں اور آپ کے دین و شریعت سے متضاد ہیں۔

Al-An'aam 6:158Listen in Qur'an →
159

إِنَّ ٱلَّذِينَ فَرَّقُوا۟ دِينَهُمْ وَكَانُوا۟ شِيَعًۭا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِى شَىْءٍ ۚ إِنَّمَآ أَمْرُهُمْ إِلَى ٱللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا۟ يَفْعَلُونَ

جن لوگوں نے اپنے دین میں (بہت سے) رستے نکالے اور کئی کئی فرقے ہو گئے ان سے تم کو کچھ کام نہیں ان کا کام خدا کے حوالے پھر جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں وہ ان کو (سب) بتائے گا

آیت ” نمبر 159۔

یہاں آکر رسول اللہ ﷺ کے دین ‘ آپ کی شریعت اور نظام حیات کے بارے میں یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ دنیا میں قائم تمام ادیان ‘ تمام نظام ہائے قانونی کا آپ کے دین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ۔ نہ آپ کا تعلق مشرکین عرب سے ہے جنہیں ادہام جاہلیت ‘ جاہلی اعتقادات اور عادات ورسومات نے ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے اور وہ باہم جنگ وجدال میں مصروف ہیں ‘ گروہ فرقے اور شاخ در شاخ بٹے ہوئے ہیں نہ آپ کے دین ونظام کا تعلق اہل کتاب اور یہود ونصاری کے ساتھ ہے جن کو مذہبی اختلافات نے تکڑے ٹکڑے کردیا ہے اور ان کے اندر کئی کئی فرقے اور گروہ بن گئے ہیں اور نہ آپ کا تعلق آئندہ آنے والے فرقوں اور مسلکوں سے ہوگا جو قیامت تک وجود میں آتے رہیں گے ۔

رسول اللہ ﷺ کا ان فرق و مذاہب سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ آپ کا دین ‘ دین اسلام ہے اور آپ کی شریعت وہ ہے جو اس کتاب میں ہے ۔ اور آپ کا لایا ہوا نظام ایک منفرد نظام ہے جو سب سے جدا ہے ۔ اس دین کے تصورات اور اعتقادات دوسرے ادیان کے ساتھ خلط ملط نہیں ہو سکتے ۔ نہ آپ کی شریعت دوسرے قانونی نظاموں اور رسومات کے ساتھ خلط ملط ہوسکتی ہے ۔ کسی صورت حالات اور کسی نظام قانون پر یبک وقت اسلامی اور غیر اسلامی کا اطلاق نہیں ہو سکتا ۔ اسلام فقط اسلام ہے اور اسلام شریعت ہی اصل شریعت ہے ۔ اسلام کا اپنا سیاسی ‘ اجتماعی ‘ اقتصادی نظام ہی اسلامی نظام ہے ۔ اور قیامت تک رسول خدا اور ان کے لائے ہوئے نظام زندگی کا کوئی تعلق دوسرے لوگوں اور نظاموں سے نہیں ہوسکتا ۔

ان تمام ادیان اور تصورات کو جب کسی مسلم سے واسطہ پڑتا ہے تو اس کا پہلا رد عمل مکمل انکار اور جدائی اور قطع تعلق کا ہونا چاہئے ۔ اسی طرح وہ تمام اجتماعی وسیاسی نظام جن میں اقتدار اعلی اور حاکمیت بالفاظ دیگر الوہیت و ربوبیت اللہ کی نہیں ہے ‘ ایک مسلمان کا پہلا فرض یہ ہے کہ سابقہ پیش آتے ہی انہیں رد کر دے اور ان سے اپنی برات کا اعلان کر دے ۔ نہ اسے ان نظاموں اور اسلام کے درمیان قدر مشترک ڈھونڈنا چاہئے اور نہ ان کے بارے میں موافقت اور مخالفت کی بحث میں شریک ہونا چاہئے ۔

اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے اور جن لوگوں نے دین اسلام کو قبول نہیں کیا اور اسے اپنی زندگیوں پر جاری نہیں کیا ‘ ان لوگوں کے ساتھ رسول اللہ کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔

اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے اور جن لوگوں نے دین اسلام کو قبول نہیں کیا اور اسے اپنی زندگیوں پر جاری نہیں کیا ‘ ان لوگوں کے ساتھ رسول اللہ کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔

اللہ کے نزدیک دین اسلام ایک سیاسی قانونی نظام ہے اور جو لوگ اسے نہیں اپناتے ان کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یہی حقیقت ہے اور اس پر کسی بحث ومباحثے کی گنجائش نہیں ہے اور نہ کسی قیل وقال کی ضرورت ہے ۔

جن لوگوں نے دوسرے نظامہائے زندگی کو عملا اپنا رکھا ہے ان کا بھی رسول خدا سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان کے بارے میں یہ فیصلہ اللہ نے کیا ہے اور قیامت میں بھی ان کے بارے میں فیصلہ اللہ نے کیا ہے اور قیامت میں بھی ان کے بارے میں فیصلہ اللہ کرے گا اور اللہ ہی ان سے حساب لینے والا ہے ‘ ان تمام امور کا جو وہ کرتے ہیں ۔

آیت ” ٍ إِنَّمَا أَمْرُہُمْ إِلَی اللّہِ ثُمَّ یُنَبِّئُہُم بِمَا کَانُواْ یَفْعَلُونَ (159)

” ان کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے ‘ وہی ان کو بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے ۔ “

ایسے لوگوں کے حساب و کتاب کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ نے یہ بتا دیا کہ اللہ تعالیٰ نے حساب و کتاب میں اپنے اوپر لازم کرلیا ہے کہ بندوں سے حساب لیتے وقت وہ رحیم وکریم ہوگا ۔ اس لئے جو شخص مومن ہے اور وہ کوئی اچھا کام کرتا ہے تو اسے دس گناہ اجر ملے گا ۔ یاد رہے کہ اچھے کام کے لئے ایمان شرط ہے کیونکہ ایمان کے بغیر کوئی کام اچھا نہیں ہو سکتا ‘ ہاں اگر ایمان ہو تو اچھے کام کا بدلہ دس گنا ملے گا اور اگر برائی کی ہے تو …

Al-An'aam 6:159Listen in Qur'an →
160

مَن جَآءَ بِٱلْحَسَنَةِ فَلَهُۥ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ۖ وَمَن جَآءَ بِٱلسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَىٰٓ إِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

اور جو کوئی (خدا کے حضور) نیکی لے کر آئے گا اس کو ویسی دس نیکیاں ملیں گی اور جو برائی لائے گا اسے سزا ویسے ہی ملے گی اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا

آیت ” نمبر 160 ، تا 165۔

یہ تعقیب اور خاتمہ کلام اس سورة کے شروع کے مضامین کو مد نظر رکھتے ہوئے ‘ ایک نہایت ہی خوبصورت زمزمہ ہے ‘ نہایت موزوں اور خیرہ کن ۔ اس زمزے کے ساتھ ذبیحوں اور نذر ونیاز ‘ پھلوں اور فصلوں سے نیاز ‘ اور اس سلسلے میں جاہلیت کے ادہام ورسومات اور پھر یہ دعوے کہ یہ شریعت من جانب اللہ ہے ‘ کا موضوع یہاں اپنے اختتام کو پہنچتا ہے ۔ یہ تعقیب اور آخری زمزمہ اس مضمون میں کیا اضافہ کرتا ہے ؟ میں سمجھتا ہوں ان موضوعات پر ہم نے جو بات کی ہے اس کے بعد اس پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

آیت ” قُلْ إِنَّنِیْ ہَدَانِیْ رَبِّیْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ دِیْناً قِیَماً مِّلَّۃَ إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (161)

” اے محمدنبی ﷺ کہو میرے رب نے بالیقین مجھے سیدھا راستہ دکھایا ہے ‘ بالکل ٹھیک دین جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ‘ ابراہیم کا طریقہ جسے یکسو ہو کر اس نے اختیار کیا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا ۔

یہ سپاس گزاری پر مشتمل اعلان ہے ‘ جس سے یقین محکم اور بھرپور بھروسے کا اظہار ہوتا ہے ۔ اس میں عبارت کی لفظی تعمیر اور اس کے حقیقی مفہوم کو سمو دیا گیا ہے ۔ اس سے رب کے ساتھ ہدایت کا ربط ‘ ربوبیت کا تعلق اور اس کی جانب سے مسلسل نگہبانی کا اظہار ہوتا ہے ۔ اس میں اس بات کا شکر ادا کیا گیا ہے کہ اس نے ہمیں صراط مستقیم کی طرف ہدایت بخشی ‘ جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے ۔ وہ دین قیم ہے اور یہ دین ہماری قدیم میراث بھی ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے یہی دین اسلام ہے ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس امت کے ابو الاباء ہیں اور اس وقت سے امت مسلمہ مبارک امت ہے ۔ اس میں دو ٹوک اعلان ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مشرکین میں سے نہ تھے ۔

آیت ” قُلْ إِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (162) لاَ شَرِیْکَ لَہُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَاْ أَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ (163)

” کہو ‘ میری نماز ‘ میرے تمام مراسم عبودیت ‘ میرا جینا اور مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لئے ہے ۔ جس کا کوئی شریک نہیں اس کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا ہوں ۔ “

یہ توحید کا نغمہ ہے ۔ مطلق توحید اور ہمہ گیر بندگی کا اظہار جس میں نماز ‘ اعتکاف ‘ زندگی اور موت سب امور اللہ کے لئے مختص کردیئے گئے ہیں جو رب العالمین ہے ۔ جو سنبھالنے والا وحدہ متصرف اور نگہبان ہے ۔ مربی اور عالمین کا حاکم اور رب ہے ۔ اس میں مکمل اسلام کا اعلان ہے نفس سنبھالنے والا وحدہ متصرف اور نگہبان ہے ۔ مربی اور عالمین کا حکم اور رب ہے ۔ اس میں مکمل اسلام کا اعلان ہے نفس زندگی کے تمام امور بلکہ موت تک میں ‘ ضمیر میں اور عمل میں سب میں مکمل اسلام ۔ (وبذلک امرت) میں یہ کہا گیا کہ یہ مکمل اسلام امر الہی ہے محض رضاکارانہ فعل نہیں ہے ۔ اس لئے سب سے پہلے حضور اکرم ﷺ ہیں۔

آیت ” قُلْ أَغَیْْرَ اللّہِ أَبْغِیْ رَبّاً وَہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْْء ٍ وَلاَ تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَیْْہَا وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی ثُمَّ إِلَی رَبِّکُم مَّرْجِعُکُمْ فَیُنَبِّئُکُم بِمَا کُنتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُونَ (164)

” کہو کیا میں میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں حالانکہ وہی ہر چیز کا رب ہے ؟ ہر شخص جو کچھ کماتا ہے اس کا ذمہ دار وہ خود ہے ‘ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا ‘ پھر تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے ‘ اس وقت وہ تمہارے اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا ۔ “

یہ ایک لفظ ہے جو پوری کائنات کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے ۔ زمین و آسمان اور مافیہا ۔ وہ تمام مخلوق اس میں آتی ہے جو معلوم ہے یا نامعلوم ہے ۔ ہر واقعہ اور ہر حادثہ اس میں آتا ہے جو ظاہری ہو یا باطنی ۔ یہ سب اللہ کی ربوبیت کے سائے …

Al-An'aam 6:160Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.