Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 151–160 of 165

151

۞ قُلْ تَعَالَوْا۟ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ ۖ أَلَّا تُشْرِكُوا۟ بِهِۦ شَيْـًۭٔا ۖ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَٰنًۭا ۖ وَلَا تَقْتُلُوٓا۟ أَوْلَٰدَكُم مِّنْ إِمْلَٰقٍۢ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ ۖ وَلَا تَقْرَبُوا۟ ٱلْفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ۖ وَلَا تَقْتُلُوا۟ ٱلنَّفْسَ ٱلَّتِى حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلْحَقِّ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ

کہہ کہ (لوگو) آؤ میں تمہیں وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جو تمہارے پروردگار نے تم پر حرام کر دی ہیں (ان کی نسبت اس نے اس طرح ارشاد فرمایا ہے) کہ کسی چیز کو خدا کا شریک نہ بنانا اور ماں باپ (سے بدسلوکی نہ کرنا بلکہ) سلوک کرتے رہنا اور ناداری (کے اندیشے) سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا کیونکہ تم کو اور ان کو ہم ہی رزق دیتے ہیں اور بےحیائی کے کام ظاہر ہوں یا پوشیدہ ان کے پاس نہ پھٹکنا اور کسی جان (والے) کو جس کے قتل کو خدا نے حرام کر دیا ہے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی جس کا شریعت حکم دے) ان باتوں کا وہ تمہیں ارشاد فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو

کہہ دیجیے! آؤ پڑھتا ہوں میں جو کچھ کہ حرام کیا تمھارے رب نے اوپر تمھارے، یہ کہ نہ شریک ٹھہراؤ تم ساتھ اس کے کسی چیز کواور ساتھ والدین کے احسان کرواور مت قتل کرو اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈرسے، ہم ہی رزق دیتے ہیں تمھیں اور انھیں اور مت قریب جاؤ بے حیائی کے کاموں کے، جو ظاہر ہوں ان میں سے اور جو پوشیدہ اور مت قتل کرو اس جان کو جس کو حرام کیا اللہ نے مگر ساتھ حق کے، یہ(سب باتیں) وصیت کی ہے اللہ نے تمھیں ان کی تا کہ تم سمجھو (151) اور مت قریب جاؤ تم یتیم کے مال کے مگر ساتھ اس طریقے کے جو بہترین ہو یہاں تک کہ پہنچ جائے وہ اپنی پختگی کواور پورا کرو تم ماپ اور تول کو ساتھ انصاف کے نہیں تکلیف دیتے ہم کسی نفس کو مگر اس کی طاقت کے مطابق ہی اور جب کہو تم تو انصاف سے کام لو، اگرچہ ہو وہ قریبی ہی اور عہد اللہ کا پورا کرو تم یہ وصیت کی ہے (اللہ نے) تمھیں اس کی تاکہ تم نصیحت حاصل کرو (152)اور بلاشبہ یہ میرا راستہ ہے سیدھا، پس پیروی کرو تم اسی کی اور مت پیروی کرو تم (اور) راستوں کی، پس الگ کردیں گے وہ تمھیں اس (اللہ) کے راستے سے یہ وصیت کی ہے (اللہ نے) تمھیں اس کی تاکہ تم ڈرو(153)

[151] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے ﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے‘‘ ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے ان چیزوں کو حرام قرار دے ڈالا جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرایا ﴿ تَعَالَوۡا اَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمۡ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’آؤ، میں سنا دوں جو حرام کیا ہے تم پر تمھارے رب نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے عام طور پر کیا چیز حرام کی ہے۔ یہ تحریم سب کے لیے ہے اور ماکولات و مشروبات اور اقوال و افعال وغیرہ تمام محرمات پر مشتمل ہے۔ ﴿ اَلَّا تُشۡرِكُوۡا بِهٖ ﴾ ’’یہ کہ اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ تھوڑا یا زیادہ ہرگز شرک نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کی حقیقت یہ ہے کہ مخلوق کی اسی طرح عبادت کی جائے جس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے۔ یا مخلوق کی تعظیم اسی طرح کی جائے جس طرح اللہ تعالیٰ کی تعظیم کی جاتی ہے۔ یا ربوبیت اور الوہیت کی صفات مخلوق میں ثابت کی جائیں ۔ جب بندہ ہر قسم کا شرک چھوڑ دیتا ہے تو وہ اپنے تمام احوال میں موحد اور اللہ تعالیٰ کے لیے مخلص بندہ بن جاتا ہے۔ پس بندوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے حق کا تذکرہ کرنے کے بعد سب سے زیادہ موکد حق سے ابتدا کی اور فرمایا ﴿ وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ۠ اِحۡسَانًا ﴾ ’’اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔‘‘ یعنی اقوال حسنہ اور افعال جمیلہ کے ذریعے سے اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ ہر وہ قول و فعل جس سے والدین کو کوئی منفعت حاصل ہو یا اس سے مسرت حاصل ہو تو یہ ان کے ساتھ حسن سلوک ہے اور حسن سلوک کا وجود نافرمانی کی نفی کرتا ہے۔ ﴿ وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَؔكُمۡ ﴾ ’’اور نہ قتل کرو تم اپنی اولاد کو‘‘ یعنی اپنے بچوں اور بچیوں کو ﴿ مِّنۡ اِمۡلَاقٍ ﴾ ’’ناداری کے (اندیشے) سے۔‘‘ یعنی فقر اور رزق کی تنگی کے سبب سے۔ جیسا کہ جاہلیت کے ظالمانہ دور میں ہوتا تھا۔ جب اس حال میں ان کو قتل کرنے سے روکا گیا ہے جبکہ وہ ان کی اپنی اولاد ہو تو پھر ان کو بغیر کسی موجب کے قتل کرنا یا دوسروں کی اولاد کو قتل کرنا تو بطریق اولیٰ ممنوع ہو گا۔ ﴿ نَحۡنُ نَرۡزُقُكُمۡ وَاِيَّاهُمۡ ﴾ ’’ہم رزق دیتے ہیں تم کو اور ان کو‘‘ یعنی ہم نے تمام مخلوق کے رزق کی ذمہ داری لی ہوئی ہے۔ یہ تم نہیں ہو جو اپنی اولاد کو رزق عطا کرتے ہو بلکہ تم خود اپنے آپ کو بھی رزق عطا نہیں کر سکتے، پھر تم ان کے بارے میں تنگی کیوں محسوس کرو۔ ﴿وَلَا تَقۡرَبُوا الۡفَوَاحِشَ ﴾ ’’اور بے حیائی کے کاموں کے قریب نہ جاؤ‘‘ یہاں فواحش سے مراد بڑے بڑے اور فحش گناہ ہیں ﴿ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَ ﴾ ’’جو …

Al-An'aam 6:151Listen in Qur'an →
152

وَلَا تَقْرَبُوا۟ مَالَ ٱلْيَتِيمِ إِلَّا بِٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ حَتَّىٰ يَبْلُغَ أَشُدَّهُۥ ۖ وَأَوْفُوا۟ ٱلْكَيْلَ وَٱلْمِيزَانَ بِٱلْقِسْطِ ۖ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۖ وَإِذَا قُلْتُمْ فَٱعْدِلُوا۟ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ ۖ وَبِعَهْدِ ٱللَّهِ أَوْفُوا۟ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ جانا مگر ایسے طریق سے کہ بہت ہی پسندیدہ ہو یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے اور ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو ہم کسی کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی طاقت کے مطابق اور جب (کسی کی نسبت) کوئی بات کہو تو انصاف سے کہو گو وہ (تمہارا) رشتہ دار ہی ہو اور خدا کے عہد کو پورا کرو ان باتوں کا خدا تمہیں حکم دیتا ہے تاکہ تم نصحیت کرو

کہہ دیجیے! آؤ پڑھتا ہوں میں جو کچھ کہ حرام کیا تمھارے رب نے اوپر تمھارے، یہ کہ نہ شریک ٹھہراؤ تم ساتھ اس کے کسی چیز کواور ساتھ والدین کے احسان کرواور مت قتل کرو اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈرسے، ہم ہی رزق دیتے ہیں تمھیں اور انھیں اور مت قریب جاؤ بے حیائی کے کاموں کے، جو ظاہر ہوں ان میں سے اور جو پوشیدہ اور مت قتل کرو اس جان کو جس کو حرام کیا اللہ نے مگر ساتھ حق کے، یہ(سب باتیں) وصیت کی ہے اللہ نے تمھیں ان کی تا کہ تم سمجھو (151) اور مت قریب جاؤ تم یتیم کے مال کے مگر ساتھ اس طریقے کے جو بہترین ہو یہاں تک کہ پہنچ جائے وہ اپنی پختگی کواور پورا کرو تم ماپ اور تول کو ساتھ انصاف کے نہیں تکلیف دیتے ہم کسی نفس کو مگر اس کی طاقت کے مطابق ہی اور جب کہو تم تو انصاف سے کام لو، اگرچہ ہو وہ قریبی ہی اور عہد اللہ کا پورا کرو تم یہ وصیت کی ہے (اللہ نے) تمھیں اس کی تاکہ تم نصیحت حاصل کرو (152)اور بلاشبہ یہ میرا راستہ ہے سیدھا، پس پیروی کرو تم اسی کی اور مت پیروی کرو تم (اور) راستوں کی، پس الگ کردیں گے وہ تمھیں اس (اللہ) کے راستے سے یہ وصیت کی ہے (اللہ نے) تمھیں اس کی تاکہ تم ڈرو(153)

[151] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے ﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے‘‘ ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے ان چیزوں کو حرام قرار دے ڈالا جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرایا ﴿ تَعَالَوۡا اَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمۡ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’آؤ، میں سنا دوں جو حرام کیا ہے تم پر تمھارے رب نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے عام طور پر کیا چیز حرام کی ہے۔ یہ تحریم سب کے لیے ہے اور ماکولات و مشروبات اور اقوال و افعال وغیرہ تمام محرمات پر مشتمل ہے۔ ﴿ اَلَّا تُشۡرِكُوۡا بِهٖ ﴾ ’’یہ کہ اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ تھوڑا یا زیادہ ہرگز شرک نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کی حقیقت یہ ہے کہ مخلوق کی اسی طرح عبادت کی جائے جس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے۔ یا مخلوق کی تعظیم اسی طرح کی جائے جس طرح اللہ تعالیٰ کی تعظیم کی جاتی ہے۔ یا ربوبیت اور الوہیت کی صفات مخلوق میں ثابت کی جائیں ۔ جب بندہ ہر قسم کا شرک چھوڑ دیتا ہے تو وہ اپنے تمام احوال میں موحد اور اللہ تعالیٰ کے لیے مخلص بندہ بن جاتا ہے۔ پس بندوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے حق کا تذکرہ کرنے کے بعد سب سے زیادہ موکد حق سے ابتدا کی اور فرمایا ﴿ وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ۠ اِحۡسَانًا ﴾ ’’اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔‘‘ یعنی اقوال حسنہ اور افعال جمیلہ کے ذریعے سے اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ ہر وہ قول و فعل جس سے والدین کو کوئی منفعت حاصل ہو یا اس سے مسرت حاصل ہو تو یہ ان کے ساتھ حسن سلوک ہے اور حسن سلوک کا وجود نافرمانی کی نفی کرتا ہے۔ ﴿ وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَؔكُمۡ ﴾ ’’اور نہ قتل کرو تم اپنی اولاد کو‘‘ یعنی اپنے بچوں اور بچیوں کو ﴿ مِّنۡ اِمۡلَاقٍ ﴾ ’’ناداری کے (اندیشے) سے۔‘‘ یعنی فقر اور رزق کی تنگی کے سبب سے۔ جیسا کہ جاہلیت کے ظالمانہ دور میں ہوتا تھا۔ جب اس حال میں ان کو قتل کرنے سے روکا گیا ہے جبکہ وہ ان کی اپنی اولاد ہو تو پھر ان کو بغیر کسی موجب کے قتل کرنا یا دوسروں کی اولاد کو قتل کرنا تو بطریق اولیٰ ممنوع ہو گا۔ ﴿ نَحۡنُ نَرۡزُقُكُمۡ وَاِيَّاهُمۡ ﴾ ’’ہم رزق دیتے ہیں تم کو اور ان کو‘‘ یعنی ہم نے تمام مخلوق کے رزق کی ذمہ داری لی ہوئی ہے۔ یہ تم نہیں ہو جو اپنی اولاد کو رزق عطا کرتے ہو بلکہ تم خود اپنے آپ کو بھی رزق عطا نہیں کر سکتے، پھر تم ان کے بارے میں تنگی کیوں محسوس کرو۔ ﴿وَلَا تَقۡرَبُوا الۡفَوَاحِشَ ﴾ ’’اور بے حیائی کے کاموں کے قریب نہ جاؤ‘‘ یہاں فواحش سے مراد بڑے بڑے اور فحش گناہ ہیں ﴿ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَ ﴾ ’’جو …

Al-An'aam 6:152Listen in Qur'an →
153

وَأَنَّ هَٰذَا صِرَٰطِى مُسْتَقِيمًۭا فَٱتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ ٱلسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِۦ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

اور یہ کہ میرا سیدھا رستہ یہی ہے تو تم اسی پر چلنا اور اور رستوں پر نہ چلنا کہ (ان پر چل کر) خدا کے رستے سے الگ ہو جاؤ گے ان باتوں کا خدا تمہیں حکم دیتا ہے تاکہ تم پرہیزگار بنو

کہہ دیجیے! آؤ پڑھتا ہوں میں جو کچھ کہ حرام کیا تمھارے رب نے اوپر تمھارے، یہ کہ نہ شریک ٹھہراؤ تم ساتھ اس کے کسی چیز کواور ساتھ والدین کے احسان کرواور مت قتل کرو اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈرسے، ہم ہی رزق دیتے ہیں تمھیں اور انھیں اور مت قریب جاؤ بے حیائی کے کاموں کے، جو ظاہر ہوں ان میں سے اور جو پوشیدہ اور مت قتل کرو اس جان کو جس کو حرام کیا اللہ نے مگر ساتھ حق کے، یہ(سب باتیں) وصیت کی ہے اللہ نے تمھیں ان کی تا کہ تم سمجھو (151) اور مت قریب جاؤ تم یتیم کے مال کے مگر ساتھ اس طریقے کے جو بہترین ہو یہاں تک کہ پہنچ جائے وہ اپنی پختگی کواور پورا کرو تم ماپ اور تول کو ساتھ انصاف کے نہیں تکلیف دیتے ہم کسی نفس کو مگر اس کی طاقت کے مطابق ہی اور جب کہو تم تو انصاف سے کام لو، اگرچہ ہو وہ قریبی ہی اور عہد اللہ کا پورا کرو تم یہ وصیت کی ہے (اللہ نے) تمھیں اس کی تاکہ تم نصیحت حاصل کرو (152)اور بلاشبہ یہ میرا راستہ ہے سیدھا، پس پیروی کرو تم اسی کی اور مت پیروی کرو تم (اور) راستوں کی، پس الگ کردیں گے وہ تمھیں اس (اللہ) کے راستے سے یہ وصیت کی ہے (اللہ نے) تمھیں اس کی تاکہ تم ڈرو(153)

[151] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے ﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے‘‘ ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے ان چیزوں کو حرام قرار دے ڈالا جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرایا ﴿ تَعَالَوۡا اَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمۡ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’آؤ، میں سنا دوں جو حرام کیا ہے تم پر تمھارے رب نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے عام طور پر کیا چیز حرام کی ہے۔ یہ تحریم سب کے لیے ہے اور ماکولات و مشروبات اور اقوال و افعال وغیرہ تمام محرمات پر مشتمل ہے۔ ﴿ اَلَّا تُشۡرِكُوۡا بِهٖ ﴾ ’’یہ کہ اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ تھوڑا یا زیادہ ہرگز شرک نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کی حقیقت یہ ہے کہ مخلوق کی اسی طرح عبادت کی جائے جس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے۔ یا مخلوق کی تعظیم اسی طرح کی جائے جس طرح اللہ تعالیٰ کی تعظیم کی جاتی ہے۔ یا ربوبیت اور الوہیت کی صفات مخلوق میں ثابت کی جائیں ۔ جب بندہ ہر قسم کا شرک چھوڑ دیتا ہے تو وہ اپنے تمام احوال میں موحد اور اللہ تعالیٰ کے لیے مخلص بندہ بن جاتا ہے۔ پس بندوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے حق کا تذکرہ کرنے کے بعد سب سے زیادہ موکد حق سے ابتدا کی اور فرمایا ﴿ وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ۠ اِحۡسَانًا ﴾ ’’اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔‘‘ یعنی اقوال حسنہ اور افعال جمیلہ کے ذریعے سے اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ ہر وہ قول و فعل جس سے والدین کو کوئی منفعت حاصل ہو یا اس سے مسرت حاصل ہو تو یہ ان کے ساتھ حسن سلوک ہے اور حسن سلوک کا وجود نافرمانی کی نفی کرتا ہے۔ ﴿ وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَؔكُمۡ ﴾ ’’اور نہ قتل کرو تم اپنی اولاد کو‘‘ یعنی اپنے بچوں اور بچیوں کو ﴿ مِّنۡ اِمۡلَاقٍ ﴾ ’’ناداری کے (اندیشے) سے۔‘‘ یعنی فقر اور رزق کی تنگی کے سبب سے۔ جیسا کہ جاہلیت کے ظالمانہ دور میں ہوتا تھا۔ جب اس حال میں ان کو قتل کرنے سے روکا گیا ہے جبکہ وہ ان کی اپنی اولاد ہو تو پھر ان کو بغیر کسی موجب کے قتل کرنا یا دوسروں کی اولاد کو قتل کرنا تو بطریق اولیٰ ممنوع ہو گا۔ ﴿ نَحۡنُ نَرۡزُقُكُمۡ وَاِيَّاهُمۡ ﴾ ’’ہم رزق دیتے ہیں تم کو اور ان کو‘‘ یعنی ہم نے تمام مخلوق کے رزق کی ذمہ داری لی ہوئی ہے۔ یہ تم نہیں ہو جو اپنی اولاد کو رزق عطا کرتے ہو بلکہ تم خود اپنے آپ کو بھی رزق عطا نہیں کر سکتے، پھر تم ان کے بارے میں تنگی کیوں محسوس کرو۔ ﴿وَلَا تَقۡرَبُوا الۡفَوَاحِشَ ﴾ ’’اور بے حیائی کے کاموں کے قریب نہ جاؤ‘‘ یہاں فواحش سے مراد بڑے بڑے اور فحش گناہ ہیں ﴿ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَ ﴾ ’’جو …

Al-An'aam 6:153Listen in Qur'an →
154

ثُمَّ ءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَٰبَ تَمَامًا عَلَى ٱلَّذِىٓ أَحْسَنَ وَتَفْصِيلًۭا لِّكُلِّ شَىْءٍۢ وَهُدًۭى وَرَحْمَةًۭ لَّعَلَّهُم بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُونَ

(ہاں) پھر (سن لو کہ) ہم نے موسیؑ کو کتاب عنایت کی تھی تاکہ ان لوگوں پر جو نیکوکار ہیں نعمت پوری کر دیں اور (اس میں) ہر چیز کا بیان (ہے) اور ہدایت (ہے) اور رحمت ہے تاکہ (ان کی امت کے) لوگ اپنے پروردگار کے رُوبرو حاضر ہونے کا یقین کریں

پھردی ہم نے موسیٰ کو کتاب، واسطے پورا کرنے (نعمت کے) اس شخص پر جس نے نیکی کی اور واسطے تفصیل بیان کرنے کے ہر چیز کی اور(باعث) ہدایت اور(ذریعہ) رحمت تاکہ وہ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لے آئیں(154)اور یہ (قرآن) ایک عظیم کتاب ہے،اتارا ہم نے اس کو مبارک ہے پس پیروی کرو تم اس کی اور ڈرو تاکہ تم رحم کیے جاؤ (155)تاکہ(نہ) کہو تم!بلاشبہ نازل کی گئی تھی کتاب اوپر دو گروہوں کے پہلے ہم سے،اور بے شک تھے ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے غافل(156)یاکہو تم!اگر بلاشبہ نازل کی جاتی ہم پر کتاب تو البتہ ہوتے ہم زیادہ ہدایت یافتہ ان سے،پس تحقیق آگئی ہے تمھارے پاس دلیل تمھارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت،پس کون زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے جھٹلایا اللہ کی آیات کو،اور اعراض کیا ان سے؟عنقریب ہم سزادیں گے ان لوگوں کو جو اعراض کرتے ہیں ہماری آیات سے،سخت عذاب کی،بوجہ اس کے جو تھے وہ اعراض کرتے(157)

[154]﴿ثُمَّ ﴾ ’’پھر‘‘ اس مقام پر (ثُمَّ) سے مراد ترتیب زمانی نہیں ہے کیونکہ موسیٰu کا زمانہ اس زمانے سے بہت متقدم ہے جب رسول اللہﷺ نے یہ تلاوت فرمائی تھی۔ یہاں دراصل ترتیب اخباری مراد ہے۔ ﴿ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’موسیٰ کو کتاب عنایت کی‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے حضرت موسیٰ کو کتاب عطا کی۔ اس سے مراد تورات ہے ﴿تَمَامًا﴾ اپنی نعمت اور احسان کو پورا اور مکمل کرنے کے لیے ﴿ عَلَى الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ﴾ ’’ان پر جو نیکوکار ہیں ۔‘‘ یعنی جناب موسیٰ کی امت میں سے ان لوگوں پر اپنی نعمت کو پورا کرنے کے لیے جنھوں نے نیک کام کیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے نیکوکاروں کو اتنی نعمتوں سے نوازا ہے جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ من جملہ ان کامل نعمتوں کے ان پر تورات کا نازل کرنا ہے پس ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت مکمل ہو گئی اور ان پر ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا واجب ٹھہرا۔ ﴿ وَتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل کے لیے‘‘ یعنی ہر اس چیز کی تفصیل بیان کرتی ہے۔ جس کے وہ محتاج ہیں ، اس کا تعلق حلال و حرام سے ہو، اوامر و نواہی سے ہو یا عقائد وغیرہ سے۔ ﴿ وَّهُدًى﴾ ’’اور ہدایت۔‘‘ یعنی وہ بھلائی کی طرف ان کی راہنمائی کرتی ہے اور اصول و فروع میں ان کو برائی کی پہچان کرواتی ہے ﴿وَّرَحۡمَةً﴾ ’’اور رحمت‘‘ یعنی اس رحمت کے ذریعے سے انھیں سعادت اور خیر کثیر سے نوازا جاتا ہے ﴿ لَّعَلَّهُمۡ ﴾ ’’تاکہ وہ لوگ‘‘ یعنی ہمارے ان پر کتاب اور واضح دلائل نازل کرنے کے سبب سے ﴿ بِلِقَآءِ رَبِّهِمۡ يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لائیں ‘‘ کیونکہ یہ کتاب قیامت اور جزائے اعمال کے قطعی دلائل اور ایسے امور پر مشتمل ہے جو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی ملاقات پر ایمان اور اس کے لیے تیاری کے موجب ہیں ۔

[155]﴿وَهٰؔذَا﴾ ’’اور یہ‘‘ یعنی یہ قرآن عظیم اور ذکر حکیم ﴿ كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ مُبٰرَكٌ ﴾ ’’کتاب ہم نے اتاری ہے برکت والی۔‘‘ یعنی اس کتاب کے اندر خیرکثیر اور بے انتہا علم ہے جس سے تمام علوم مدد لیتے ہیں اور اس سے برکات حاصل کی جاتی ہیں ۔ کوئی ایسی بھلائی نہیں جس کی طرف اس کتاب عظیم نے دعوت اور ترغیب نہ دی ہو اوراس بھلائی کی حکمتیں اور مصلحتیں بیان نہ کی ہوں جو اس پرآمادہ کرتی ہیں اور کوئی ایسی برائی نہیں جس سے اس کتاب نے روکا اور ڈرایا نہ ہو اور ان اسباب اور عواقب کا ذکرنہ کیا ہو جو اس برائی کے ارتکاب سے باز رکھتے ہوں ۔ ﴿ فَاتَّبِعُوۡهُ ﴾ ’’پس اس کی پیروی کرو‘‘ یعنی اس کے امرونہی میں اس کی اتباع کرو اور اس پر اپنے اصول و فروع کی بنیاد رکھو ﴿ وَاتَّقُوۡا ﴾ ‘‘اور ڈرو‘‘ یعنی کسی امر میں اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرنے سے ڈرو ﴿ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ﴾ ‘‘تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو شاید تم پر رحم کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کا سب سے بڑا سبب علم و عمل کے …

Al-An'aam 6:154Listen in Qur'an →
155

وَهَٰذَا كِتَٰبٌ أَنزَلْنَٰهُ مُبَارَكٌۭ فَٱتَّبِعُوهُ وَٱتَّقُوا۟ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ

اور (اے کفر کرنے والوں) یہ کتاب بھی ہمیں نے اتاری ہے برکت والی تو اس کی پیروی کرو اور (خدا سے) ڈرو تاکہ تم پر مہربانی کی جائے

پھردی ہم نے موسیٰ کو کتاب، واسطے پورا کرنے (نعمت کے) اس شخص پر جس نے نیکی کی اور واسطے تفصیل بیان کرنے کے ہر چیز کی اور(باعث) ہدایت اور(ذریعہ) رحمت تاکہ وہ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لے آئیں(154)اور یہ (قرآن) ایک عظیم کتاب ہے،اتارا ہم نے اس کو مبارک ہے پس پیروی کرو تم اس کی اور ڈرو تاکہ تم رحم کیے جاؤ (155)تاکہ(نہ) کہو تم!بلاشبہ نازل کی گئی تھی کتاب اوپر دو گروہوں کے پہلے ہم سے،اور بے شک تھے ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے غافل(156)یاکہو تم!اگر بلاشبہ نازل کی جاتی ہم پر کتاب تو البتہ ہوتے ہم زیادہ ہدایت یافتہ ان سے،پس تحقیق آگئی ہے تمھارے پاس دلیل تمھارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت،پس کون زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے جھٹلایا اللہ کی آیات کو،اور اعراض کیا ان سے؟عنقریب ہم سزادیں گے ان لوگوں کو جو اعراض کرتے ہیں ہماری آیات سے،سخت عذاب کی،بوجہ اس کے جو تھے وہ اعراض کرتے(157)

[154]﴿ثُمَّ ﴾ ’’پھر‘‘ اس مقام پر (ثُمَّ) سے مراد ترتیب زمانی نہیں ہے کیونکہ موسیٰu کا زمانہ اس زمانے سے بہت متقدم ہے جب رسول اللہﷺ نے یہ تلاوت فرمائی تھی۔ یہاں دراصل ترتیب اخباری مراد ہے۔ ﴿ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’موسیٰ کو کتاب عنایت کی‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے حضرت موسیٰ کو کتاب عطا کی۔ اس سے مراد تورات ہے ﴿تَمَامًا﴾ اپنی نعمت اور احسان کو پورا اور مکمل کرنے کے لیے ﴿ عَلَى الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ﴾ ’’ان پر جو نیکوکار ہیں ۔‘‘ یعنی جناب موسیٰ کی امت میں سے ان لوگوں پر اپنی نعمت کو پورا کرنے کے لیے جنھوں نے نیک کام کیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے نیکوکاروں کو اتنی نعمتوں سے نوازا ہے جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ من جملہ ان کامل نعمتوں کے ان پر تورات کا نازل کرنا ہے پس ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت مکمل ہو گئی اور ان پر ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا واجب ٹھہرا۔ ﴿ وَتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل کے لیے‘‘ یعنی ہر اس چیز کی تفصیل بیان کرتی ہے۔ جس کے وہ محتاج ہیں ، اس کا تعلق حلال و حرام سے ہو، اوامر و نواہی سے ہو یا عقائد وغیرہ سے۔ ﴿ وَّهُدًى﴾ ’’اور ہدایت۔‘‘ یعنی وہ بھلائی کی طرف ان کی راہنمائی کرتی ہے اور اصول و فروع میں ان کو برائی کی پہچان کرواتی ہے ﴿وَّرَحۡمَةً﴾ ’’اور رحمت‘‘ یعنی اس رحمت کے ذریعے سے انھیں سعادت اور خیر کثیر سے نوازا جاتا ہے ﴿ لَّعَلَّهُمۡ ﴾ ’’تاکہ وہ لوگ‘‘ یعنی ہمارے ان پر کتاب اور واضح دلائل نازل کرنے کے سبب سے ﴿ بِلِقَآءِ رَبِّهِمۡ يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لائیں ‘‘ کیونکہ یہ کتاب قیامت اور جزائے اعمال کے قطعی دلائل اور ایسے امور پر مشتمل ہے جو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی ملاقات پر ایمان اور اس کے لیے تیاری کے موجب ہیں ۔

[155]﴿وَهٰؔذَا﴾ ’’اور یہ‘‘ یعنی یہ قرآن عظیم اور ذکر حکیم ﴿ كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ مُبٰرَكٌ ﴾ ’’کتاب ہم نے اتاری ہے برکت والی۔‘‘ یعنی اس کتاب کے اندر خیرکثیر اور بے انتہا علم ہے جس سے تمام علوم مدد لیتے ہیں اور اس سے برکات حاصل کی جاتی ہیں ۔ کوئی ایسی بھلائی نہیں جس کی طرف اس کتاب عظیم نے دعوت اور ترغیب نہ دی ہو اوراس بھلائی کی حکمتیں اور مصلحتیں بیان نہ کی ہوں جو اس پرآمادہ کرتی ہیں اور کوئی ایسی برائی نہیں جس سے اس کتاب نے روکا اور ڈرایا نہ ہو اور ان اسباب اور عواقب کا ذکرنہ کیا ہو جو اس برائی کے ارتکاب سے باز رکھتے ہوں ۔ ﴿ فَاتَّبِعُوۡهُ ﴾ ’’پس اس کی پیروی کرو‘‘ یعنی اس کے امرونہی میں اس کی اتباع کرو اور اس پر اپنے اصول و فروع کی بنیاد رکھو ﴿ وَاتَّقُوۡا ﴾ ‘‘اور ڈرو‘‘ یعنی کسی امر میں اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرنے سے ڈرو ﴿ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ﴾ ‘‘تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو شاید تم پر رحم کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کا سب سے بڑا سبب علم و عمل کے …

Al-An'aam 6:155Listen in Qur'an →
156

أَن تَقُولُوٓا۟ إِنَّمَآ أُنزِلَ ٱلْكِتَٰبُ عَلَىٰ طَآئِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَٰفِلِينَ

(اور اس لیے اتاری ہے) کہ (تم یوں نہ) کہو کہ ہم سے پہلے دو ہی گروہوں پر کتابیں اتری تھیں اور ہم ان کے پڑھنے سے (معذور اور) بےخبر تھے

پھردی ہم نے موسیٰ کو کتاب، واسطے پورا کرنے (نعمت کے) اس شخص پر جس نے نیکی کی اور واسطے تفصیل بیان کرنے کے ہر چیز کی اور(باعث) ہدایت اور(ذریعہ) رحمت تاکہ وہ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لے آئیں(154)اور یہ (قرآن) ایک عظیم کتاب ہے،اتارا ہم نے اس کو مبارک ہے پس پیروی کرو تم اس کی اور ڈرو تاکہ تم رحم کیے جاؤ (155)تاکہ(نہ) کہو تم!بلاشبہ نازل کی گئی تھی کتاب اوپر دو گروہوں کے پہلے ہم سے،اور بے شک تھے ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے غافل(156)یاکہو تم!اگر بلاشبہ نازل کی جاتی ہم پر کتاب تو البتہ ہوتے ہم زیادہ ہدایت یافتہ ان سے،پس تحقیق آگئی ہے تمھارے پاس دلیل تمھارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت،پس کون زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے جھٹلایا اللہ کی آیات کو،اور اعراض کیا ان سے؟عنقریب ہم سزادیں گے ان لوگوں کو جو اعراض کرتے ہیں ہماری آیات سے،سخت عذاب کی،بوجہ اس کے جو تھے وہ اعراض کرتے(157)

[154]﴿ثُمَّ ﴾ ’’پھر‘‘ اس مقام پر (ثُمَّ) سے مراد ترتیب زمانی نہیں ہے کیونکہ موسیٰu کا زمانہ اس زمانے سے بہت متقدم ہے جب رسول اللہﷺ نے یہ تلاوت فرمائی تھی۔ یہاں دراصل ترتیب اخباری مراد ہے۔ ﴿ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’موسیٰ کو کتاب عنایت کی‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے حضرت موسیٰ کو کتاب عطا کی۔ اس سے مراد تورات ہے ﴿تَمَامًا﴾ اپنی نعمت اور احسان کو پورا اور مکمل کرنے کے لیے ﴿ عَلَى الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ﴾ ’’ان پر جو نیکوکار ہیں ۔‘‘ یعنی جناب موسیٰ کی امت میں سے ان لوگوں پر اپنی نعمت کو پورا کرنے کے لیے جنھوں نے نیک کام کیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے نیکوکاروں کو اتنی نعمتوں سے نوازا ہے جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ من جملہ ان کامل نعمتوں کے ان پر تورات کا نازل کرنا ہے پس ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت مکمل ہو گئی اور ان پر ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا واجب ٹھہرا۔ ﴿ وَتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل کے لیے‘‘ یعنی ہر اس چیز کی تفصیل بیان کرتی ہے۔ جس کے وہ محتاج ہیں ، اس کا تعلق حلال و حرام سے ہو، اوامر و نواہی سے ہو یا عقائد وغیرہ سے۔ ﴿ وَّهُدًى﴾ ’’اور ہدایت۔‘‘ یعنی وہ بھلائی کی طرف ان کی راہنمائی کرتی ہے اور اصول و فروع میں ان کو برائی کی پہچان کرواتی ہے ﴿وَّرَحۡمَةً﴾ ’’اور رحمت‘‘ یعنی اس رحمت کے ذریعے سے انھیں سعادت اور خیر کثیر سے نوازا جاتا ہے ﴿ لَّعَلَّهُمۡ ﴾ ’’تاکہ وہ لوگ‘‘ یعنی ہمارے ان پر کتاب اور واضح دلائل نازل کرنے کے سبب سے ﴿ بِلِقَآءِ رَبِّهِمۡ يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لائیں ‘‘ کیونکہ یہ کتاب قیامت اور جزائے اعمال کے قطعی دلائل اور ایسے امور پر مشتمل ہے جو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی ملاقات پر ایمان اور اس کے لیے تیاری کے موجب ہیں ۔

[155]﴿وَهٰؔذَا﴾ ’’اور یہ‘‘ یعنی یہ قرآن عظیم اور ذکر حکیم ﴿ كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ مُبٰرَكٌ ﴾ ’’کتاب ہم نے اتاری ہے برکت والی۔‘‘ یعنی اس کتاب کے اندر خیرکثیر اور بے انتہا علم ہے جس سے تمام علوم مدد لیتے ہیں اور اس سے برکات حاصل کی جاتی ہیں ۔ کوئی ایسی بھلائی نہیں جس کی طرف اس کتاب عظیم نے دعوت اور ترغیب نہ دی ہو اوراس بھلائی کی حکمتیں اور مصلحتیں بیان نہ کی ہوں جو اس پرآمادہ کرتی ہیں اور کوئی ایسی برائی نہیں جس سے اس کتاب نے روکا اور ڈرایا نہ ہو اور ان اسباب اور عواقب کا ذکرنہ کیا ہو جو اس برائی کے ارتکاب سے باز رکھتے ہوں ۔ ﴿ فَاتَّبِعُوۡهُ ﴾ ’’پس اس کی پیروی کرو‘‘ یعنی اس کے امرونہی میں اس کی اتباع کرو اور اس پر اپنے اصول و فروع کی بنیاد رکھو ﴿ وَاتَّقُوۡا ﴾ ‘‘اور ڈرو‘‘ یعنی کسی امر میں اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرنے سے ڈرو ﴿ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ﴾ ‘‘تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو شاید تم پر رحم کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کا سب سے بڑا سبب علم و عمل کے …

Al-An'aam 6:156Listen in Qur'an →
157

أَوْ تَقُولُوا۟ لَوْ أَنَّآ أُنزِلَ عَلَيْنَا ٱلْكِتَٰبُ لَكُنَّآ أَهْدَىٰ مِنْهُمْ ۚ فَقَدْ جَآءَكُم بَيِّنَةٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ وَهُدًۭى وَرَحْمَةٌۭ ۚ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَّبَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَصَدَفَ عَنْهَا ۗ سَنَجْزِى ٱلَّذِينَ يَصْدِفُونَ عَنْ ءَايَٰتِنَا سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ بِمَا كَانُوا۟ يَصْدِفُونَ

یا (یہ نہ) کہو کہ اگر ہم پر بھی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان لوگوں کی نسبت کہیں سیدھے رستے پر ہوتے سو تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے دلیل اور ہدایت اور رحمت آ گئی ہے تو اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا کی آیتوں کی تکذیب کرے اور ان سے (لوگوں کو) پھیرے جو لوگ ہماری آیتوں سے پھیرتے ہیں اس پھیرنے کے سبب ہم ان کو برے عذاب کی سزا دیں گے

پھردی ہم نے موسیٰ کو کتاب، واسطے پورا کرنے (نعمت کے) اس شخص پر جس نے نیکی کی اور واسطے تفصیل بیان کرنے کے ہر چیز کی اور(باعث) ہدایت اور(ذریعہ) رحمت تاکہ وہ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لے آئیں(154)اور یہ (قرآن) ایک عظیم کتاب ہے،اتارا ہم نے اس کو مبارک ہے پس پیروی کرو تم اس کی اور ڈرو تاکہ تم رحم کیے جاؤ (155)تاکہ(نہ) کہو تم!بلاشبہ نازل کی گئی تھی کتاب اوپر دو گروہوں کے پہلے ہم سے،اور بے شک تھے ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے غافل(156)یاکہو تم!اگر بلاشبہ نازل کی جاتی ہم پر کتاب تو البتہ ہوتے ہم زیادہ ہدایت یافتہ ان سے،پس تحقیق آگئی ہے تمھارے پاس دلیل تمھارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت،پس کون زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے جھٹلایا اللہ کی آیات کو،اور اعراض کیا ان سے؟عنقریب ہم سزادیں گے ان لوگوں کو جو اعراض کرتے ہیں ہماری آیات سے،سخت عذاب کی،بوجہ اس کے جو تھے وہ اعراض کرتے(157)

[154]﴿ثُمَّ ﴾ ’’پھر‘‘ اس مقام پر (ثُمَّ) سے مراد ترتیب زمانی نہیں ہے کیونکہ موسیٰu کا زمانہ اس زمانے سے بہت متقدم ہے جب رسول اللہﷺ نے یہ تلاوت فرمائی تھی۔ یہاں دراصل ترتیب اخباری مراد ہے۔ ﴿ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’موسیٰ کو کتاب عنایت کی‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے حضرت موسیٰ کو کتاب عطا کی۔ اس سے مراد تورات ہے ﴿تَمَامًا﴾ اپنی نعمت اور احسان کو پورا اور مکمل کرنے کے لیے ﴿ عَلَى الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ﴾ ’’ان پر جو نیکوکار ہیں ۔‘‘ یعنی جناب موسیٰ کی امت میں سے ان لوگوں پر اپنی نعمت کو پورا کرنے کے لیے جنھوں نے نیک کام کیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے نیکوکاروں کو اتنی نعمتوں سے نوازا ہے جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ من جملہ ان کامل نعمتوں کے ان پر تورات کا نازل کرنا ہے پس ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت مکمل ہو گئی اور ان پر ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا واجب ٹھہرا۔ ﴿ وَتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل کے لیے‘‘ یعنی ہر اس چیز کی تفصیل بیان کرتی ہے۔ جس کے وہ محتاج ہیں ، اس کا تعلق حلال و حرام سے ہو، اوامر و نواہی سے ہو یا عقائد وغیرہ سے۔ ﴿ وَّهُدًى﴾ ’’اور ہدایت۔‘‘ یعنی وہ بھلائی کی طرف ان کی راہنمائی کرتی ہے اور اصول و فروع میں ان کو برائی کی پہچان کرواتی ہے ﴿وَّرَحۡمَةً﴾ ’’اور رحمت‘‘ یعنی اس رحمت کے ذریعے سے انھیں سعادت اور خیر کثیر سے نوازا جاتا ہے ﴿ لَّعَلَّهُمۡ ﴾ ’’تاکہ وہ لوگ‘‘ یعنی ہمارے ان پر کتاب اور واضح دلائل نازل کرنے کے سبب سے ﴿ بِلِقَآءِ رَبِّهِمۡ يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لائیں ‘‘ کیونکہ یہ کتاب قیامت اور جزائے اعمال کے قطعی دلائل اور ایسے امور پر مشتمل ہے جو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی ملاقات پر ایمان اور اس کے لیے تیاری کے موجب ہیں ۔

[155]﴿وَهٰؔذَا﴾ ’’اور یہ‘‘ یعنی یہ قرآن عظیم اور ذکر حکیم ﴿ كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ مُبٰرَكٌ ﴾ ’’کتاب ہم نے اتاری ہے برکت والی۔‘‘ یعنی اس کتاب کے اندر خیرکثیر اور بے انتہا علم ہے جس سے تمام علوم مدد لیتے ہیں اور اس سے برکات حاصل کی جاتی ہیں ۔ کوئی ایسی بھلائی نہیں جس کی طرف اس کتاب عظیم نے دعوت اور ترغیب نہ دی ہو اوراس بھلائی کی حکمتیں اور مصلحتیں بیان نہ کی ہوں جو اس پرآمادہ کرتی ہیں اور کوئی ایسی برائی نہیں جس سے اس کتاب نے روکا اور ڈرایا نہ ہو اور ان اسباب اور عواقب کا ذکرنہ کیا ہو جو اس برائی کے ارتکاب سے باز رکھتے ہوں ۔ ﴿ فَاتَّبِعُوۡهُ ﴾ ’’پس اس کی پیروی کرو‘‘ یعنی اس کے امرونہی میں اس کی اتباع کرو اور اس پر اپنے اصول و فروع کی بنیاد رکھو ﴿ وَاتَّقُوۡا ﴾ ‘‘اور ڈرو‘‘ یعنی کسی امر میں اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرنے سے ڈرو ﴿ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ﴾ ‘‘تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو شاید تم پر رحم کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کا سب سے بڑا سبب علم و عمل کے …

Al-An'aam 6:157Listen in Qur'an →
158

هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّآ أَن تَأْتِيَهُمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ أَوْ يَأْتِىَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِىَ بَعْضُ ءَايَٰتِ رَبِّكَ ۗ يَوْمَ يَأْتِى بَعْضُ ءَايَٰتِ رَبِّكَ لَا يَنفَعُ نَفْسًا إِيمَٰنُهَا لَمْ تَكُنْ ءَامَنَتْ مِن قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِىٓ إِيمَٰنِهَا خَيْرًۭا ۗ قُلِ ٱنتَظِرُوٓا۟ إِنَّا مُنتَظِرُونَ

یہ اس کے سوا اور کس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود تمہارا پروردگار آئے یا تمہارے پروردگار کی کچھ نشانیاں آئیں (مگر) جس روز تمہارے پروردگار کی کچھ نشانیاں آ جائیں گی تو جو شخص پہلے ایمان نہیں لایا ہوگا اس وقت اسے ایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دے گا یا اپنے ایمان (کی حالت) میں نیک عمل نہیں کئے ہوں گے (تو گناہوں سے توبہ کرنا مفید نہ ہوگا اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ تم بھی انتظار کرو ہم بھی انتظار کرتے ہیں

نہیں انتظار کرتے وہ مگر اس بات کا کہ آئیں ان کے پاس فرشتے یا آئے آپ کا رب،یاآئیں بعض نشانیاں آپ کے رب کی جس دن آجائیں گی بعض نشانیاں آپ کے رب کی تو نہ نفع دے گا کسی نفس کو ایمان(لانا) اس کا،کہ جو نہیں تھا لایا اس سے پہلے یا (نہیں) کمائی اس نے اپنے ایمان میں کوئی بھلائی،کہہ دیجیے!انتظار کرو تم!یقینا ہم بھی منتظر ہیں(158)

[158] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا یہ لوگ جو اپنے ظلم و عناد پر جمے ہوئے ہیں ، اس بات کا انتظار کر رہے ہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِيَهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ ﴾ ’’کہ ان کے پاس فرشتے آئیں ۔‘‘ یعنی آخرت اور عذاب کے مقدمات کی صورت میں ان کے سامنے فرشتے ان کی روح قبض کرنے کے لیے آ حاضر ہوں ۔ کیونکہ جب وہ اس حالت کو پہنچ جائیں گے تو اس وقت ایمان اور اعمال صالحہ ان کو کوئی فائدہ نہ دیں گے۔ ﴿اَوۡ يَاۡتِيَ رَبُّكَ ﴾ ’’یا خود تمھارا رب آئے۔‘‘ یعنی تمھارا رب بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے، نیکوکاروں اور بدکاروں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دینے کے لیے آجائے ﴿ اَوۡ يَاۡتِيَ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ ﴾ ’’یا تمھارے رب کی کچھ نشانیاں آجائیں ‘‘ جو قرب قیامت پر دلالت کرتی ہوں ﴿ يَوۡمَ يَاۡتِيۡ بَعۡضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ ﴾ ’’جس دن تمھارے رب کی کچھ نشانیاں آجائیں گی‘‘ یعنی خارق عادت معجزات جن سے یہ معلوم ہو کہ قیامت کی گھڑی قریب آن لگی ہے اور بہت قریب پہنچ گئی ہے ﴿ لَا يَنۡفَعُ نَفۡسًا اِيۡمَانُهَا لَمۡ تَكُنۡ اٰمَنَتۡ مِنۡ قَبۡلُ اَوۡ كَسَبَتۡ فِيۡۤ اِيۡمَانِهَا خَيۡرًا ﴾ ’’تو جو شخص پہلے ایمان نہیں لایا ہوگا اس وقت اسے ایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دے گا یا اپنے ایمان (کی حالت) میں نیک عمل نہیں کیے ہوں گے۔‘‘ یعنی جب اللہ تعالیٰ کی بعض نشانیاں آموجود ہوں گی تو اس کے بعد کافر کا ایمان اسے کوئی فائدہ دے گا نہ کوتاہی کے شکار مومن کے اعمال میں اضافہ اس کے کسی کام آئے گا بلکہ صرف وہی ایمان کی پونجی اس کے کام آئے گی جو تھوڑی بہت اس کے دامن میں ہوگی اورصرف وہی نیک اعمال اس کو فائدہ دیں گے جو اللہ تعالیٰ کی نشانیاں آجانے سے قبل اس نے کیے ہوں گے۔ اس میں ظاہری حکمت یہ ہے کہ ایمان صرف وہی فائدہ دیتا ہے جو بالغیب ہو اور بندہ اپنے اختیار اور ارادے سے ایمان لایا ہو۔ لیکن جب اللہ کی نشانیاں آجائیں اور معاملہ غیب سے شہادت میں منتقل ہو جائے تو ایمان لانے میں کوئی فائدہ نہیں رہتا۔ کیونکہ یہ جبری ایمان کے مشابہ ہے ، مثلاً: ڈوبتے ہوئے یا جلتے ہوئے شخص وغیرہ کا ایمان لانا، یعنی وہ شخص جب موت کا چہرہ دیکھ لیتا ہے تو اپنی بداعمالیوں کو ختم کر دیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَلَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحۡدَهٗ وَؔكَفَرۡنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشۡرِكِيۡنَ۰۰ فَلَمۡ يَكُ يَنۡفَعُهُمۡ اِيۡمَانُهُمۡ لَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِيۡ قَدۡ خَلَتۡ فِيۡ عِبَادِهٖ ﴾(المومن: 40؍84،85) ’’پس جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو پکار اٹھے کہ ہم اللہ واحد پر ایمان لائے اور ہم نے ان کا انکار کیا جن کو ہم اللہ کا شریک بنایا کرتے تھے۔ مگر جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو ان کے ایمان نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا۔ یہ سنت الٰہی ہے جو اس کے بندوں کے بارے میں چلی آرہی ہے۔‘‘ بہت سی صحیح احادیث میں رسول اللہﷺ سے مروی ہے کہ یہاں ’’اللہ تعالیٰ کی بعض نشانیوں ‘‘ سے مراد ہے سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، لوگ جب سورج کو مغرب سے طلوع ہوتا دیکھیں گے تو جھٹ ایمان لے آئیں گے مگر ان کا ایمان ان کو کوئی فائدہ نہ دے گا اور اس وقت توبہ کا دروازہ بند کر دیا جائے گا۔ (صحیح البخاري، کتاب الرقاق، حدیث: 6506) چونکہ یہ آیت کریمہ رسول اللہﷺ کے جھٹلانے والوں کے لیے وعید ہے۔ آپﷺ ان نشانیوں کے ظہور کے منتظر ہیں اور کفار بھی منتظر ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُلِ …

Al-An'aam 6:158Listen in Qur'an →
159

إِنَّ ٱلَّذِينَ فَرَّقُوا۟ دِينَهُمْ وَكَانُوا۟ شِيَعًۭا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِى شَىْءٍ ۚ إِنَّمَآ أَمْرُهُمْ إِلَى ٱللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا۟ يَفْعَلُونَ

جن لوگوں نے اپنے دین میں (بہت سے) رستے نکالے اور کئی کئی فرقے ہو گئے ان سے تم کو کچھ کام نہیں ان کا کام خدا کے حوالے پھر جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں وہ ان کو (سب) بتائے گا

بے شک وہ لوگ جنھوں نے تفرقہ بازی کی اپنے دین میں اور ہو گئے وہ گروہ گروہ،نہیں ہیں آپ ان سے کسی چیزمیں،یقینا ان کا معاملہ اللہ کی طرف ہے، پھر وہ خبر دے گا انھیں اس چیز کی جو تھے وہ کرتے(159) جوشخص لائے گا ایک نیکی تو اس کے لیے دس گنا(ثواب) ہے اس کا،اور جو شخص لائے گا ایک برائی تو نہیں سزادیا جائے گا وہ مگر مثل اسی کے اور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے(160)

[159] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو وعید سناتا ہے جنھوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا اور دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے فرقوں میں بٹ گئے اور ہر ایک نے اپنا ایک نام رکھ لیا جو انسان کے لیے اس کے دین میں کوئی کام نہیں آتا۔ جیسے یہودیت، نصرانیت اور مجوسیت وغیرہ۔ یا اس سے انسان کے ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی، جیسے وہ شریعت میں سے کسی ایک چیز کو اخذ کر کے اس کو دین بنا لے اور اس جیسی یا اس سے کسی افضل چیز کو چھوڑ دے جیسا کہ اہل بدعت اور ان گمراہ فرقوں کا حال ہے جنھوں نے امت سے الگ راستہ اختیار کر لیا ہے۔ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ دین اجتماعیت اور اکٹھے رہنے کا حکم دیتا ہے اور تفرقہ بازی اور اہل دین میں اور تمام اصولی و فروعی مسائل میں اختلاف پیدا کرنے سے روکتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو حکم دیا آپ ان لوگوں سے براء ت کا اظہار کریں جنھوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا۔ ﴿لَّسۡتَ مِنۡهُمۡ فِيۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’ان سے آپ کو کچھ کام نہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ ان میں سے ہیں نہ وہ آپ میں سے۔ کیونکہ انھوں نے آپ کی مخالفت کی اور آپ سے عناد رکھا۔ ﴿اِنَّمَاۤ اَمۡرُهُمۡ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔‘‘ یعنی ان کو اللہ کی طرف لوٹایا جائے گا، وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا ﴿ثُمَّ يُنَبِّئُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ ﴾ ’’پھر وہ (اللہ) ان کو ان کے افعال سے آگاہ کرے گا۔ ‘‘

[160] پھر اللہ تعالیٰ نے جزا کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿مَنۡ جَآءَ بِالۡحَسَنَةِ ﴾ ’’جو کوئی نیکی لے کر آئے گا۔‘‘ یعنی جو کوئی حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق قولی، فعلی، ظاہری اور باطنی نیکی لے کر اللہ تعالیٰ کے پاس حاضر ہوتا ہے ﴿ فَلَهٗ عَشۡرُ اَمۡثَالِهَا ﴾ ’’تو اس کے لیے اس کا دس گنا ہے‘‘ نیکیوں کو کئی گنا کرنے کے ضمن میں یہ کم ترین جزا ہے ﴿ وَمَنۡ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجۡزٰۤى اِلَّا مِثۡلَهَا ﴾ ’’اور جو کوئی لاتا ہے ایک برائی، سو سزا پائے گا اسی کے برابر‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کا کامل عدل و احسان ہے۔ اور وہ ذرہ بھر ظلم نہیں کرتا۔ بنابریں فرمایا ﴿وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ﴾ ’’ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘

Al-An'aam 6:159Listen in Qur'an →
160

مَن جَآءَ بِٱلْحَسَنَةِ فَلَهُۥ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ۖ وَمَن جَآءَ بِٱلسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَىٰٓ إِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

اور جو کوئی (خدا کے حضور) نیکی لے کر آئے گا اس کو ویسی دس نیکیاں ملیں گی اور جو برائی لائے گا اسے سزا ویسے ہی ملے گی اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا

بے شک وہ لوگ جنھوں نے تفرقہ بازی کی اپنے دین میں اور ہو گئے وہ گروہ گروہ،نہیں ہیں آپ ان سے کسی چیزمیں،یقینا ان کا معاملہ اللہ کی طرف ہے، پھر وہ خبر دے گا انھیں اس چیز کی جو تھے وہ کرتے(159) جوشخص لائے گا ایک نیکی تو اس کے لیے دس گنا(ثواب) ہے اس کا،اور جو شخص لائے گا ایک برائی تو نہیں سزادیا جائے گا وہ مگر مثل اسی کے اور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے(160)

[159] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو وعید سناتا ہے جنھوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا اور دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے فرقوں میں بٹ گئے اور ہر ایک نے اپنا ایک نام رکھ لیا جو انسان کے لیے اس کے دین میں کوئی کام نہیں آتا۔ جیسے یہودیت، نصرانیت اور مجوسیت وغیرہ۔ یا اس سے انسان کے ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی، جیسے وہ شریعت میں سے کسی ایک چیز کو اخذ کر کے اس کو دین بنا لے اور اس جیسی یا اس سے کسی افضل چیز کو چھوڑ دے جیسا کہ اہل بدعت اور ان گمراہ فرقوں کا حال ہے جنھوں نے امت سے الگ راستہ اختیار کر لیا ہے۔ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ دین اجتماعیت اور اکٹھے رہنے کا حکم دیتا ہے اور تفرقہ بازی اور اہل دین میں اور تمام اصولی و فروعی مسائل میں اختلاف پیدا کرنے سے روکتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو حکم دیا آپ ان لوگوں سے براء ت کا اظہار کریں جنھوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا۔ ﴿لَّسۡتَ مِنۡهُمۡ فِيۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’ان سے آپ کو کچھ کام نہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ ان میں سے ہیں نہ وہ آپ میں سے۔ کیونکہ انھوں نے آپ کی مخالفت کی اور آپ سے عناد رکھا۔ ﴿اِنَّمَاۤ اَمۡرُهُمۡ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔‘‘ یعنی ان کو اللہ کی طرف لوٹایا جائے گا، وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا ﴿ثُمَّ يُنَبِّئُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ ﴾ ’’پھر وہ (اللہ) ان کو ان کے افعال سے آگاہ کرے گا۔ ‘‘

[160] پھر اللہ تعالیٰ نے جزا کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿مَنۡ جَآءَ بِالۡحَسَنَةِ ﴾ ’’جو کوئی نیکی لے کر آئے گا۔‘‘ یعنی جو کوئی حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق قولی، فعلی، ظاہری اور باطنی نیکی لے کر اللہ تعالیٰ کے پاس حاضر ہوتا ہے ﴿ فَلَهٗ عَشۡرُ اَمۡثَالِهَا ﴾ ’’تو اس کے لیے اس کا دس گنا ہے‘‘ نیکیوں کو کئی گنا کرنے کے ضمن میں یہ کم ترین جزا ہے ﴿ وَمَنۡ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجۡزٰۤى اِلَّا مِثۡلَهَا ﴾ ’’اور جو کوئی لاتا ہے ایک برائی، سو سزا پائے گا اسی کے برابر‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کا کامل عدل و احسان ہے۔ اور وہ ذرہ بھر ظلم نہیں کرتا۔ بنابریں فرمایا ﴿وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ﴾ ’’ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘

Al-An'aam 6:160Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.