۞ قُلْ تَعَالَوْا۟ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ ۖ أَلَّا تُشْرِكُوا۟ بِهِۦ شَيْـًۭٔا ۖ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَٰنًۭا ۖ وَلَا تَقْتُلُوٓا۟ أَوْلَٰدَكُم مِّنْ إِمْلَٰقٍۢ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ ۖ وَلَا تَقْرَبُوا۟ ٱلْفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ۖ وَلَا تَقْتُلُوا۟ ٱلنَّفْسَ ٱلَّتِى حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلْحَقِّ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
کہہ کہ (لوگو) آؤ میں تمہیں وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جو تمہارے پروردگار نے تم پر حرام کر دی ہیں (ان کی نسبت اس نے اس طرح ارشاد فرمایا ہے) کہ کسی چیز کو خدا کا شریک نہ بنانا اور ماں باپ (سے بدسلوکی نہ کرنا بلکہ) سلوک کرتے رہنا اور ناداری (کے اندیشے) سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا کیونکہ تم کو اور ان کو ہم ہی رزق دیتے ہیں اور بےحیائی کے کام ظاہر ہوں یا پوشیدہ ان کے پاس نہ پھٹکنا اور کسی جان (والے) کو جس کے قتل کو خدا نے حرام کر دیا ہے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی جس کا شریعت حکم دے) ان باتوں کا وہ تمہیں ارشاد فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو
قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ : اب اللہ تعالیٰ تفصیل سے بیان فرماتے ہیں کہ حرام وہ نہیں جو تم نے اپنی مرضی سے حرام بنا لیا، بلکہ وہ ہے جو تمہیں پیدا کرنے والے اور ہر لمحے پالنے والے نے تم پر حرام کیا ہے، آؤ میں خود وہ تم سے بیان کرتا ہوں۔ یہ دس احکام ہیں جو اسلام کا خلاصہ ہیں۔ - اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَـيْــــًٔـا : یہاں بیان تو وہ چیزیں کرنی تھیں جو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمائی ہیں، مگر بیان وہ چیزیں فرمائی ہیں جن کا نہایت تاکید کے ساتھ حکم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حرام کرنے سے تمہارے لیے جو حکم تاکید کے ساتھ ثابت ہوتے ہیں وہ یہ ہیں۔ گویا یہ مفہوم ” حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُم “ کے ضمن ہی میں شامل ہے کہ یہاں ” وَصّٰىكُمْ بِهٖ “ محذوف ہے، یعنی اس نے تمہیں تاکیداً حکم دیا ہے کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو، اس کی دلیل یہاں مذکور تینوں آیات کے آخری الفاظ ہیں : (ۭذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ ) یعنی یہ ہے جس کا تاکیدی حکم اس نے تمہیں دیا ہے۔ اگر مراد ہوتا کہ یہ چیزیں حرام کی ہیں تو آخر میں یہ الفاظ ہونے چاہییں تھے : ” ذٰلِکُمْ حَرَّمَ عَلَیْکُمْ “ یعنی یہ ہیں وہ چیزیں جو اس نے تم پر حرام کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلا تاکیدی حکم یہ دیا کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ، نہ کسی انسان کو، نہ کسی جن کو، نہ کسی فرشتے کو، نہ کسی پہاڑ، پتھر، دریا یا درخت کو۔ غرض کوئی چیز کتنی بھی عظیم الشان ہو اسے اللہ کا کسی بھی چیز میں شریک مت بناؤ، کیونکہ سب اللہ کے پیدا کردہ ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تم اللہ کا شریک بناؤ، حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا۔ “ [ بخاری، التفسیر، باب : ٤٤٧٧ ] - اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور بخش دے گا جو اس کے علاوہ ہے جسے چاہے گا۔ “ [ النساء : ١١٦ ] اور اللہ تعالیٰ نے مسیح (علیہ السلام) کا قول ذکر فرمایا کہ جو بھی اللہ کے ساتھ شریک بنائے سو یقیناً اللہ نے اس پر جنت حرام کردی۔ [ المائدۃ : ٧٢ ] - وَّبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا ۚ ’ اِحْسَانًا ۚ“ فعل محذوف ” اَحْسِنُوْا “ کا مفعول مطلق ہے جس سے مقصود تاکید ہے، اس لیے ترجمہ ” خوب احسان کرو “ کیا ہے۔ قرآن مجید کی متعدد آیات میں جہاں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور شرک سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے وہاں والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی بھی تاکید کی گئی ہے، کیونکہ والدین کو اللہ تعالیٰ نے تکلیف پر تکلیف اٹھا کر ولادت اور دلی محبت کے ساتھ پالنے کا ذریعہ بنایا ہے۔ ان آیات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد بندوں کے حقوق میں سے سب سے مقدم حق انسان پر اس کے والدین کا ہے۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (٢٣) اور سورة لقمان (١٤، ١٥)- وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ ۭ۔۔ : پیدا ہو چکنے کے بعد یا جب کہ وہ ماؤں کے پیٹ میں ہوں، مثلاً کوئی دوا کھلا کر قبل از وقت حمل گرا دینا۔ سورة بنی اسرائیل (٣١) میں بھی یہی حکم دیا گیا ہے، مگر یہاں اور وہاں دو فرق ہیں، یہاں ” مِّنْ اِمْلَاقٍ ۭ‘(مفلسی کی وجہ سے) ہے اور وہاں ” خَشْـيَةَ اِمْلَاقٍ ۭ“ (مفلسی کے ڈر سے) ہے۔ اسی طرح یہاں ” ۭنَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَاِيَّاهُمْ ۚ“ (ہم ہی تمہیں رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی) ہے اور وہاں ”ۭ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَاِيَّاكُمْ “ ” ہم ہی انھیں رزق دیتے ہیں اور تمہیں بھی “ ہے۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس مقام پر ان لوگوں کی بات ہے جو مفلسی میں گرفتار ہیں۔ فرمایا کہ اس مفلسی میں انھیں قتل مت کرو، ہم مفلسی کے باوجود تمہیں جو روزی دیتے ہیں انھیں بھی دیں گے، جبکہ بنی اسرائیل میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو مفلسی میں مبتلا تو نہیں مگر بچوں کے پیدا …