Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 151–160 of 165

151

۞ قُلْ تَعَالَوْا۟ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ ۖ أَلَّا تُشْرِكُوا۟ بِهِۦ شَيْـًۭٔا ۖ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَٰنًۭا ۖ وَلَا تَقْتُلُوٓا۟ أَوْلَٰدَكُم مِّنْ إِمْلَٰقٍۢ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ ۖ وَلَا تَقْرَبُوا۟ ٱلْفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ۖ وَلَا تَقْتُلُوا۟ ٱلنَّفْسَ ٱلَّتِى حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلْحَقِّ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ

کہہ کہ (لوگو) آؤ میں تمہیں وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جو تمہارے پروردگار نے تم پر حرام کر دی ہیں (ان کی نسبت اس نے اس طرح ارشاد فرمایا ہے) کہ کسی چیز کو خدا کا شریک نہ بنانا اور ماں باپ (سے بدسلوکی نہ کرنا بلکہ) سلوک کرتے رہنا اور ناداری (کے اندیشے) سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا کیونکہ تم کو اور ان کو ہم ہی رزق دیتے ہیں اور بےحیائی کے کام ظاہر ہوں یا پوشیدہ ان کے پاس نہ پھٹکنا اور کسی جان (والے) کو جس کے قتل کو خدا نے حرام کر دیا ہے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی جس کا شریعت حکم دے) ان باتوں کا وہ تمہیں ارشاد فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو

قتل اولاد - قول باری ہے ( ولا تقتلوا اولادکم من املاق۔ اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو) عرب کے لوگ مفلسی کے ڈر سے اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے۔ املاق کے معنی افلاس کے ہیں۔ اسی سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ قول ہے ( اعظم الذنوب ان تجعل للہ نذا وھو خلقک وان تقتل ولدک خشیۃ ان تاکل معک و ان تزلی بحلیلۃ جار سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تم کسی کو اللہ کا مد مقابل ٹھہرائو حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا۔ اور یہ کہ تم اپنی بیٹی کو اس خوف سے قتل کر دو کہ کہیں وہ تمہارے ساتھ کھانے میں شریک نہ ہوجائے اور یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ منہ کالا کرو) زندہ درگور کی جانے والی بیٹی کو قول باری ( واذا الموئودۃ سئلت بای ذنب قتلت، اور جب زندہ دفن کردی جانے والی بچی سے پوچھا جائے گا کہ اسے کسی گناہ کی پاداش میں قتل کیا گیا تھا ) مئو ودہ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پانی اولاد کے قتل سے روک دیا اور اس کے ساتھ اس سبب کا بھی ذکر کردیا جس کی بنا پر وہ اپنی اولاد کو قتل کردیتے تھے اور انہیں بتادیا کہ وہ انہیں بھی رزق دے رہا ہے اور ان کی اولاد کو بھی رزق دے گا۔ - بیٹے کی بیوی یا دو بہنوں کو نکاح میں لینا - قول باری ہے ( ولا تقربو الفواحش ما ظھر منھا وما بطن۔ اور بےشرمی کی باتوں کے قریب بھی نہ جائو خواہ وہ کھلی ہو یا چھپی) حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے کہ کھلی بےشرمی کی باتیں یہ ہیں، بیٹے کی بیوی سے نکاح کرنا، دو سگی بہنوں کو بیک وقت نکاح میں رکھنا اور اس قسم کی دوسری باتیں ۔ چھپی بےشرمی کی بات زنا کا ارتکاب ہے۔ - قتل ناحق - قول بایر ہے ( ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق ۔ اور کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھہرایا ہے ہلاک نہ کرو مگر حق کے ساتھ) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے ( امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوا لا الہ الا اللہ فاذاق لوھا عضموا منی دماء ھم و اموالھم الا بحقھا و حسابھم علی اللہ۔ مجھے لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتے رہنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک لا الہ الا اللہ نہیں کہہ دیتے یعنی جب تک وہ توحید باری کا اقرار نہیں کرلیتے جب وہ اس کا اقرار کرلیں گے تو میری گرفت سے اپنی جان اور اپنا مال محفوظ کرلیں گے الا یہ کہ کسی حق کی بنا پر ان کی جان پر ہاتھ ڈالا جائے۔ اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہوگا۔ ) - مانعین زکوٰۃ کا قتل - حضرت ابوبکر (رض) جب مانعین زکوٰۃ سے جنگ کا ارادہ کیا تو لوگوں نے آپ کے سامنے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی درج بالا حدیث پیش کی، حضرت ابوبکر (رض) نے اس کے جواب میں کہا کہ یہ بھی جان کا حق ہے۔ اگر یہ لوگ زکوٰۃ کے مال میں سے جسے وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ادا کرتے تھے ایک رسی بھی دینے سے انکار کردیں تو اس پر بھی میں ان سے قتال کروں گا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے ( لا یحل دم امری مسلم الا بحدی ثلاث زنیی بعد احصان و کفر بعد ایمان وقتل نفس بغیر نفس۔ کسی مسلمان کا خون بہانا صرف تین صورتوں میں حلال ہوتا ہے۔ صفت احصان حاصل کرلینے کے بعد زنا کرنا، مسلمان ہوجانے کے بعد کافر ہوجانا، اور جان کے بدلے کے بغیر کسی کی جان لے لینا) ہمارے نزدیک ایسا شخص قتل کا سزاوار ہوجاتا ہے اور اس پر قتل کا حکم لازم ہوجاتا ہے۔ حدیث میں مذکورہ افراد کے علاوہ بھی ایسے لوگ ہیں جنہیں چھٹکارا حاصل کرن کی غرض سے قتل کردینا واجب ہے۔ مثلاً خوارج کا قتل یا ایسے شخص کا قتل جو کسی کی جان یا مال کے درپے ہوجائے،۔ اس صورت میں اپنے دفاع کے طور پر وہ شخص اسے قتل کرسکتا ہے۔ اس لیے کہ درپے آزاد شخص اگر اپنی اس حرکت سے باز رہتا تو قتل کا سزاوار نہ بنتا۔

Al-An'aam 6:151Listen in Qur'an →
152

وَلَا تَقْرَبُوا۟ مَالَ ٱلْيَتِيمِ إِلَّا بِٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ حَتَّىٰ يَبْلُغَ أَشُدَّهُۥ ۖ وَأَوْفُوا۟ ٱلْكَيْلَ وَٱلْمِيزَانَ بِٱلْقِسْطِ ۖ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۖ وَإِذَا قُلْتُمْ فَٱعْدِلُوا۟ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ ۖ وَبِعَهْدِ ٱللَّهِ أَوْفُوا۟ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ جانا مگر ایسے طریق سے کہ بہت ہی پسندیدہ ہو یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے اور ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو ہم کسی کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی طاقت کے مطابق اور جب (کسی کی نسبت) کوئی بات کہو تو انصاف سے کہو گو وہ (تمہارا) رشتہ دار ہی ہو اور خدا کے عہد کو پورا کرو ان باتوں کا خدا تمہیں حکم دیتا ہے تاکہ تم نصحیت کرو

مال یتیم - قول باری ہے ( ولا تقربو مال الیتیم الا بالتیھی احسن۔ اور یہ کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جائو مگر ایسے طریقے سے جو بہترین ہو) اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو یہ حکم دیا ہے اس کے سلسلے میں یتیم کا خصوصیت کے ساتھ ذکر یکا ہے اس لیے کہ یتیم اپنی ذات کے لیے بدلہ لینے سے نیز دوسروں کو اپنے مال سے دور رکھنے سے عاجز ہوتا ہے، چونکہ لوگ یتیم کا مال ہتھیانے کے لیے دندان حرص و آز تیز کرتے رہتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یتیم کا خصوصیت سے ذکر کر کے اس کا مال ہتھیانے کی نہی کی اور تاکید کردی۔ قول باری ( الا بالتیھی احسن) اس پر دلالت کرتا ہے کہ جس شخص کو یتیم کی سرپرستی کا حق حاصل ہو اس کے لیے اس ییتیم کا مال مضاربت کے طور پر کسی کو دے دینا جائز ہے اور اگر وہ مناسب سمجھے تو خود بھی مضاربت کے طور پر اس کا مال لے کر کام کرسکتا ہے اور منافع میں شریک ہوسکتا ہے۔ نیز وہ کسی شخص کو اس غرض سے اجرت پر بھی رکھ سکتا ہے کہ وہ اس کے مال سے سرمایہ کاری کرے یا تجارت شروع کردے۔ - اس کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ یتیم کا مال خود خرید لے بشرطیکہ اس میں یتیم کا فائدہ ہو، اس کی صورت یہ ہے کہ وہ یتیم کو جو چیز یا مال دے اس کی قیمت یتیم سے لی ہوئی چیز سے بڑھ کر ہو، امام اوب حنیفہ (رح) نے اس آیت کی بناء پر یتیم کے والی کے لیے اس کا مال خود خریدنے کی اجازت دی تھی بشرطیکہ اس میں یتیم کی بھائی مد نظر ہو۔ قول باری ہے ( حتی یبلغ اشدہ۔ یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے) اس میں بالغ ہونے کی شرط نہیں لگائی گئی جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ بالغ ہونے کے بعد بھی یتیم کے سرپرست کے لیے اس کے مال کی حفاظت جائز ہے۔ اگر اس میں مال کی حفاظت کی اہلیت نہ پائے۔ اس صورت میں ولی، یتیم کا مال اس کے حوالے نہیں کرے گا۔ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ جب یتیم سن رشد کو پہنچ جائے تو ولی کے لیے اس کے مال سے اسے الگ رکھنا جائز نہیں ہوگا خواہ اس میں اسے اہلیت نظر آئے یا نہ آئے بشرطیکہ یتیم عاقل ہو، دیوانہ نہ ہو۔ اس لیے کہ آیت میں یتیم کے مال کے قریب جانے کی اباحت کی حد یہ مقرر کی گئی ہے کہ وہ سن رشد کو پہنچ جائے۔ آیت اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ وصی کے لیے یتیم کا مال میں سے کھانا جائز نہیں ہے۔ خواہ وصی فقیر ہو یا مالدار۔ وصی یتیم کا مال بطور قرض بھی نہیں لے سکتا۔ اس لیے کہ اس کے مال کی حفاظت کا یہ بہترین طریقہ نہیں ہے اور نہ ہی اس میں یتیم کی بھلائی مدنظر ہوتی ہے۔ - سن رشد کی حد - امام ابوحنیفہ نے سن رشد کی حد پچیس سال مقرر کی ہے۔ اس عمرکو پہنچنے کے بعد ولی اس کا مال اس کے حوالے کر دے گا بشرطیکہ وہ دیوانہ یا فتور عقل میں مبتلا نہ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سن رشد کا اندازہ لگانا اجتہاد رائے اور غالب ظن پر مبنی ہوتا ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک اس عمر کو پہنچ جانے کے بعد ایک شخص اپنے سن رشد کو پہنچ جاتا ہے۔ سن رشد کو پہنچ جانے کے بارے میں اختلاف رائے ہے۔ عامر بن ربیعہ اور زید بن اسلم کا قول ہے کہ اس سے مراد بلوغت کو پہنچ جانا ہے۔ سدی کے قول کے مطابق یہ تین سال کی عمر ہے۔ ایک قول کے مطابق اٹھارہ سال ہے۔ امام اوب حنیفہ (رح) اس کی حد پچیس سال مقرر کی ہے جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اشد کا واحد شد ہے۔ یہ ابھرتی ہوئی جوانی کی قوت کا نام ہے اس کی اصل ہے جس کا مفہوم دن بلند ہونے کے وقت روشنی کا قوت پکڑ جانا ہے۔ - شاعر کا قول ہے۔ - تطیف بہ شدا النھار ظعینۃ طویلہ انقاء الیدین سحوق - دن کی روشنی پھیل جانے پر اس کے گرد ایک عورت ( بیوی) چکر لگاتی رہتی ہے جو دراز قد ہے اور اس کے دونوں ہاتھ کی گودے دار ہڈیاں طویل ہیں۔ - امکانی حد تک صحیح ناپ تول - قول باری ہے ( واوفوا الکیل والمیزان بالقسط لا نکلف نفسا الا وسعہا اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو ہم ہر شخص پر ذمہ داری کا اتنا ہی بار رکھتے ہیں جتنا اس کے …

Al-An'aam 6:152Listen in Qur'an →
153

وَأَنَّ هَٰذَا صِرَٰطِى مُسْتَقِيمًۭا فَٱتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ ٱلسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِۦ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

اور یہ کہ میرا سیدھا رستہ یہی ہے تو تم اسی پر چلنا اور اور رستوں پر نہ چلنا کہ (ان پر چل کر) خدا کے رستے سے الگ ہو جاؤ گے ان باتوں کا خدا تمہیں حکم دیتا ہے تاکہ تم پرہیزگار بنو

راہ ہدایت - قول باری ہے ( وان ھذا صراطی مستقیما فاتبعوہ۔ نیز اس کی ہدایت یہ ہے کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے لہٰذا تم اسی پر چلو) تا آخر آیت۔ صراط سے مراد وہ شریعت ہے جس پر اللہ نے اپنے بندوں کو چلنے کا پابند کردیا ہے۔ صراط کے اصل معنی راستے کے ہیں۔ شریعت کو صرات اور طریق کا نام اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ شریعت پر چلنے والے کو جنت کی صورت میں ثواب کا مستحق بنا دیتی ہے۔ اس لیے شریعت جنت تک پہنچنے اور نعیم آخرت تک رسائی کی راہ ہے۔ جب کہ شیطان کا دکھایا ہوا راستہ سیدھا جہنم تک لے جاتا ہے۔ ہم جہنم کی آگ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں شریعت پر مع اس کے تمام مشمولات یعنی فرائض، واجبات ، نوافل اور مباحات پر عمل پیرا ہونے کا حکم دینا اسی طرح درست ہے جس طرح تحلیل و تحریم پر مشتمل تمام احکامات میں اس کی اتباع کا امر کرنا درست ہے وہ اس لیے کہ شریعت کی اتباع کے معنی اس کے پورے ڈھانچے کی صحت پر یقین کرنے کے ہیں۔ اس میں ممنوعات کو قبیح سمجھنا، فرائض کو لازم خیال کرنا، تطوعات اور نوافل کی طرف راغب ہونا اور مباحات کو جائز گرداننا تمام باتیں شامل ہیں نیز ان باتوں پر شریعت کے مقتضیات یعنی ایجاب یا نفل یا اباحت کے بموجب عمل پیرا ہونا بھی شامل ہے۔

Al-An'aam 6:153Listen in Qur'an →
154

ثُمَّ ءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَٰبَ تَمَامًا عَلَى ٱلَّذِىٓ أَحْسَنَ وَتَفْصِيلًۭا لِّكُلِّ شَىْءٍۢ وَهُدًۭى وَرَحْمَةًۭ لَّعَلَّهُم بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُونَ

(ہاں) پھر (سن لو کہ) ہم نے موسیؑ کو کتاب عنایت کی تھی تاکہ ان لوگوں پر جو نیکوکار ہیں نعمت پوری کر دیں اور (اس میں) ہر چیز کا بیان (ہے) اور ہدایت (ہے) اور رحمت ہے تاکہ (ان کی امت کے) لوگ اپنے پروردگار کے رُوبرو حاضر ہونے کا یقین کریں

توریت - قول باری ہے ( ثم اتینا موسیٰ الکتاب تماما علی الذین احسن، پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی تھی جو بھلائی کی روش اختیار کرنے والے انسان پر نعمت کی تکمیل تھی) آیت میں وارد حرف ثم کے متعلق ایک قول ہے کہ اس کے معنی ہیں۔ ثم قل اتینا موسیٰ الکتاب ( پھر کہہ دو کہ ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی تھی) اس لیے کہ یہ قول باری تعالیٰ ( قل تعالوا تل ما نوم ربکم علیکم۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے کہہ دو کہ پئو میں تمہیں - سنائوں، تمہارے رب نے تم پر کیا پابندیاں عائد کی ہیں) پر عطف ہے۔ ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں ” و اتینا موسیٰ الکتاب ( اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی) جس طرح یہ قول باری ہے ( ثم اللہ شھید) اس کے معنی ہیں ” اور اللہ گواہ ہے “ یا جس طرح یہ قول باری ہے ( ثم کان من الذین امنو) اس کے معنی ہیں ” اور وہ ان لوگوں میں سے ہو جو ایمان لے آئے “۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ یہ لکام ساقب کا صلہ بن کر یہ مفہوم ادا کرتا ہے۔ ثم بعد ماذکرت لکم اخبر تکم انا اتینا موسیٰ الکتب “ ( جو کچھ میں نے تم سے ذکر کردیا اس کے بعد پھر میں نے تمہیں یہ بتایا کہ ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی تھی) وغیرہ ذلک۔

Al-An'aam 6:154Listen in Qur'an →
155

وَهَٰذَا كِتَٰبٌ أَنزَلْنَٰهُ مُبَارَكٌۭ فَٱتَّبِعُوهُ وَٱتَّقُوا۟ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ

اور (اے کفر کرنے والوں) یہ کتاب بھی ہمیں نے اتاری ہے برکت والی تو اس کی پیروی کرو اور (خدا سے) ڈرو تاکہ تم پر مہربانی کی جائے

اتباعِ قرآن حکیم - قول باری ہے ( وھذا کتاب انزلنہ مبارک فاتبعوہ واتقوا، اور اسی طرح یہ کتاب ہم نے نازل کی ہے۔ ایک برتک والی کتاب ، پس تم اس کی پیروی کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو) یہ کتاب یعنی قرآن مجید کی اس کے مقتضیات یعنی فرض یا نفل یا اباحت کے بموجب اتباع کا حکم ہے، نیز اس میں مندرج ہر چیز کا اس کے مقتضیٰ کے مطابق اعتقاد کا امر ہے۔ برکت خیر یعنی بھلائی کے ثبوت اور اس کے نمو کا نام ہے،۔ فقرہ ” تبارک اللہ “ ثبات کی صفت ہے جس کا نہ کوئی اول ہے نہ آخر۔ اس تعظیم کا استحقاق صرف اللہ وحدہ، لا شریک کو حاصل ہے۔ قول باری ہے ( ان تقولوا انما انزل الکتاب علی طائفتین من قبلنا۔ اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کتاب تو ہم سے پہلے دو گروہوں کو دی گئی تھی) حضرت ابن عباس (رض) ، حنس، مجاہد، قتادہ ، سدی اور ابن جریج کا قول ہے کہ ان گروہوں سے یہود و نصاریٰ مراد ہیں۔ اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ اہل کتاب صرف یہود و نصاریٰ ہیں۔ مجوس اہل کتاب نہیں ہیں۔ اس لیے کہ مجوس اگر اہل کتاب ہوتے تو پھر اہل کتاب دو گروہ نہ ہوتے تین گروہ ہوتے جبکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ اہل کتاب دو گروہ ہیں۔- اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے دوگروہوں کی بات مشرکین کا قول نقل کرتے ہوئے فرمائی ہے تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ ان کے قول کی نقل نہیں ہے بلکہ یہ ان پر بایں معنی حجت تام کرنے کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر بھی کتاب نازل کردی ہے تا کہ تم یہ نہ کہہ سکو کتاب تو ہم سے پہلے دو گروہوں کو دی گئی تھی۔ اس طرح اللہ تعلایٰ نے کتاب نازل کر کے ان کا عذر ختم کردیا اور ان کا یہ استدلال باطل کردیا کہ کتاب تو ہم سے پہلے دو گروہوں پر نازل کی گئی تھی۔ ہم پر نازل نہیں کی گئی تھی۔ قول باری ہے ( ھل ینظرون الا ان تاتیھم الملائکۃ او یاتی ربک کیا اب لوگ اس کے منتظر ہیں کہ ان کے سامنے فرشتے آکھڑے ہوں یا تمہارا رب خود آ جائے) ایک قول کے مطابق ” یا تمہارا رب خود آ جائے “ کے معنی ” یا تمہارے رب کا حکم عذاب کے ساتھ آ جائے “ کے ہیں۔ - حسن سے یہ قول مروی ہے۔ فقرے میں یہ الفاظ اسی طرح مخدوف ہیں جس طرح قلو باری ( ان الذین یوزون اللہ) میں مخدوف ہیں۔ اس کے معنی ہیں جو لوگ اللہ کے دوستوں کو ایذا پہنچاتے ہیں “ ایک قول کے مطابق آیت زیر بحث کے معنی ہیں ” یا تمہارا رب اپنی زبردست نشانیاں لے آئے “ ایک قول ہے ” فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے کے لیے آ جائیں “ یا ” تمہارے رب کا حکم قیامت کے دن آ جائے “ یا ” تمہارے رب کی بعض نشانیاں آ جائیں یعنی سورج مغرب سے طلوع ہوجائے “۔ یہ اقوال مجاہد، قتادہ اور سدی سے منقول ہیں۔

Al-An'aam 6:155Listen in Qur'an →
156

أَن تَقُولُوٓا۟ إِنَّمَآ أُنزِلَ ٱلْكِتَٰبُ عَلَىٰ طَآئِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَٰفِلِينَ

(اور اس لیے اتاری ہے) کہ (تم یوں نہ) کہو کہ ہم سے پہلے دو ہی گروہوں پر کتابیں اتری تھیں اور ہم ان کے پڑھنے سے (معذور اور) بےخبر تھے

Explained together with ayah 155

Al-An'aam 6:156Listen in Qur'an →
157

أَوْ تَقُولُوا۟ لَوْ أَنَّآ أُنزِلَ عَلَيْنَا ٱلْكِتَٰبُ لَكُنَّآ أَهْدَىٰ مِنْهُمْ ۚ فَقَدْ جَآءَكُم بَيِّنَةٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ وَهُدًۭى وَرَحْمَةٌۭ ۚ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَّبَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَصَدَفَ عَنْهَا ۗ سَنَجْزِى ٱلَّذِينَ يَصْدِفُونَ عَنْ ءَايَٰتِنَا سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ بِمَا كَانُوا۟ يَصْدِفُونَ

یا (یہ نہ) کہو کہ اگر ہم پر بھی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان لوگوں کی نسبت کہیں سیدھے رستے پر ہوتے سو تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے دلیل اور ہدایت اور رحمت آ گئی ہے تو اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا کی آیتوں کی تکذیب کرے اور ان سے (لوگوں کو) پھیرے جو لوگ ہماری آیتوں سے پھیرتے ہیں اس پھیرنے کے سبب ہم ان کو برے عذاب کی سزا دیں گے

Explained together with ayah 155

Al-An'aam 6:157Listen in Qur'an →
158

هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّآ أَن تَأْتِيَهُمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ أَوْ يَأْتِىَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِىَ بَعْضُ ءَايَٰتِ رَبِّكَ ۗ يَوْمَ يَأْتِى بَعْضُ ءَايَٰتِ رَبِّكَ لَا يَنفَعُ نَفْسًا إِيمَٰنُهَا لَمْ تَكُنْ ءَامَنَتْ مِن قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِىٓ إِيمَٰنِهَا خَيْرًۭا ۗ قُلِ ٱنتَظِرُوٓا۟ إِنَّا مُنتَظِرُونَ

یہ اس کے سوا اور کس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود تمہارا پروردگار آئے یا تمہارے پروردگار کی کچھ نشانیاں آئیں (مگر) جس روز تمہارے پروردگار کی کچھ نشانیاں آ جائیں گی تو جو شخص پہلے ایمان نہیں لایا ہوگا اس وقت اسے ایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دے گا یا اپنے ایمان (کی حالت) میں نیک عمل نہیں کئے ہوں گے (تو گناہوں سے توبہ کرنا مفید نہ ہوگا اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ تم بھی انتظار کرو ہم بھی انتظار کرتے ہیں

Explained together with ayah 155

Al-An'aam 6:158Listen in Qur'an →
159

إِنَّ ٱلَّذِينَ فَرَّقُوا۟ دِينَهُمْ وَكَانُوا۟ شِيَعًۭا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِى شَىْءٍ ۚ إِنَّمَآ أَمْرُهُمْ إِلَى ٱللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا۟ يَفْعَلُونَ

جن لوگوں نے اپنے دین میں (بہت سے) رستے نکالے اور کئی کئی فرقے ہو گئے ان سے تم کو کچھ کام نہیں ان کا کام خدا کے حوالے پھر جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں وہ ان کو (سب) بتائے گا

فرقہ پرستی - قول باری ہے ( ان الذین فرقوا دینھم و کالو شیعا۔ جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور گروہ درگروہ بن گئے) مجاہد کا قول ہے کہ اس سے یہود مراد ہیں اس لیے کہ یہی لوگ مسلمانوں کے خلاف بت پرستوں کی مدد کرتے تھے۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس سے یہود و نصاریٰ مراد ہیں اس لیے کہ نصاریٰ ایک دوسرے کی تکفیر کرتے تھے۔ یہود کا بھی یہ حال تھا۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کا قول ہے کہ اس سے امت مسلمہ کے گمراہ لوگ مراد ہیں اس طرح آیت میں مسلمانوں کو اہل اسلام کا اتحاد پارہ پارہ ہونے سے ڈرایا گیا ہے۔ اور انہیں دین کے نام پر اکٹھے ہوجانے اور یگانگت قائم کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اس سے تمام مشرکین مراد ہیں۔ اس لیے کہ یہی لوگ اس برائی میں ملوث ہیں۔ آیت میں وارد لفظ ( دینھم) سے ایک قول کے مطابق وہ دین مراد ہے جس کا اللہ نے انہیں حکم دیا تھا اور جسے ان کے لیے بطور دین قمرر کیا تھا۔ ایک قول کے مطابق اس سے وہ دین مراد ہے جس پر یہ لوگ قائم تھے اس لیے کہ دین سے جہالت کی بنا پر یہ ایک دوسرے کی تکفیر کرتے تھے۔ آیت میں لفظ (شیعا) سے ایسے فرقے مراد ہیں جو کسی ایک بات پر ایک دوسرے کی موافقت کریں اور اس کے سوا دوسری باتوں میں ایک دوسرے کی مخالفت کریں۔ اس کے اصل معنی ظاہر ہونے کے ہیں۔ عربوں کا محاورہ ہے ” شاع الخیر “ یعنی بھلائی ظاہر ہوگئی۔ ایک قول کے مطابق اس کے اصل معنی اتباع اور پیروی کے ہیں۔ آپ کہتے ہیں ” شایعہ “ یعین اس نے اس کی پیروی کی۔ قول باری ہے ( لست منھم فی شی یقیناً ان سے تمہارا کچھ واسطہ نہیں) یعنی ان سے مکمل علیحدگی اور مقاطعہ ہے۔ ان کے فاسد مذاہب کی کسی امر پر تمہارا ان کے ساتھ اشتراک نہیں ہوسکتا۔ البتہ آپس میں ان کا ایک دوسرے کے ساتھ مقاطعہ نہیں ہے اس لیے کہ کسی نہ کسی امر باطل پر ان کا اجتماع ہوجاتا ہے اگرچہ دوسرے معاملات میں ان کا آپس میں اختلاف رہتا ہے اس لیے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ان سے کوئی واسطہ نہیں بلکہ آپ ان سب سے بری اور علیحدہ ہیں۔

Al-An'aam 6:159Listen in Qur'an →
160

مَن جَآءَ بِٱلْحَسَنَةِ فَلَهُۥ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ۖ وَمَن جَآءَ بِٱلسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَىٰٓ إِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

اور جو کوئی (خدا کے حضور) نیکی لے کر آئے گا اس کو ویسی دس نیکیاں ملیں گی اور جو برائی لائے گا اسے سزا ویسے ہی ملے گی اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا

نیکی کا دس گنا اجر - قول باری ہے (من جآء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا۔ جو اللہ کے حضور نیکی لے کر آئے گا اس کے لیے دس گنا اجر ہے) الحسنۃ اس چیز کا نام ہے جو حسن اور خوبی میں سب سے اونچے مپام پر ہو اس لیے کہ اس میں حرف تاء مبالغہ کے لیے ہے۔ اس کے تحت تمام فرائض اور نوافل آ جاتے ہیں تا ہم اس میں مباحات داخل نہیں ہیں اگرچہ وہ بھی حسن ہیں۔ اس لیے کہ مباح پر عمل کر کے ایک شخص نہ کسی تعریف کا مستحق قرار پاتا ہے اور نہ کسی ثواب کا اسی لیے اللہ تعالیٰ نے حسنۃ کی ترغیب دی ہے جو طاعت کے معنوں میں ہے۔ - فعل حسن اور حسنہ کا فرق - اس طرح احسان ( فرائض و نوافل کو بہترین طریقے سے سرانجام دینے کا نام ) کی بنا پر بھی ایک شخص تعریف کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ حسن کے تحت ہر مباح فعل آتا ہے اس لیے کہ ہر فعل حسن، مباح ہوتا ہے لیکن اس میں ثواب کا استحقاق نہیں ہوتا۔ لیکن اگر لفظ حسن پر حرف تاء داخل ہوجائے اور حسنۃ بن جائے تو یہ لفظ حسن کی اعلیٰ ترین صورتوں یعنی طاعات کے لیے اسم بن جاتا ہے۔ قول باری ( فلہ عشر امثالھا) کے معنی ہیں آرام و راحت اور لذت کے اعتبار سے دس گنا “ اس سے درجے کی بلندی کے لحاظ سے دس گنا مراد نہیں ہے۔ اس لیے کہ درجے کی بلندی اور عظمت طاعت کے ذریعہ ہی حاصل ہوسکتی ہے۔ نیکی کا اجر دس گنا دینا یہ محض فضل باری ہے، بندے کا اس پر کوئی استحقاق نہیں ہوتا۔ جس طرح ارشاد باری ہے ( لیوفیھم اجورھم و یذید ھم من فضلہ۔ تاکہ انہیں ان کا پورا پورا اجردے اور اپنے فضل سے انہیں مزید بھی دے) عظمت اور بلندی کے لحاظ سے تفضیل یعنی اللہ کے فضل سے ملنے والا مرتبہ ثواب کے مرتبے کے برابر نہیں ہوسکتا اس لیے کہ اگر یہ بات جائز ہوتی تو پھر بندوں کو کسی عمل کے بغیر ابتداء ہی سے جنت کی صورت میں یہ مرتبہ بخش دینا درست ہوتا۔ نیز وہ بندہ جسے اعلیٰ ترین انعامات سے نوازا گیا ہو اس بندے کے برابر ہوجاتا جسے کوئی بھی انعام نہ ملا ہو۔

Al-An'aam 6:160Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.