۞ قُلْ تَعَالَوْا۟ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ ۖ أَلَّا تُشْرِكُوا۟ بِهِۦ شَيْـًۭٔا ۖ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَٰنًۭا ۖ وَلَا تَقْتُلُوٓا۟ أَوْلَٰدَكُم مِّنْ إِمْلَٰقٍۢ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ ۖ وَلَا تَقْرَبُوا۟ ٱلْفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ۖ وَلَا تَقْتُلُوا۟ ٱلنَّفْسَ ٱلَّتِى حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلْحَقِّ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
کہہ کہ (لوگو) آؤ میں تمہیں وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جو تمہارے پروردگار نے تم پر حرام کر دی ہیں (ان کی نسبت اس نے اس طرح ارشاد فرمایا ہے) کہ کسی چیز کو خدا کا شریک نہ بنانا اور ماں باپ (سے بدسلوکی نہ کرنا بلکہ) سلوک کرتے رہنا اور ناداری (کے اندیشے) سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا کیونکہ تم کو اور ان کو ہم ہی رزق دیتے ہیں اور بےحیائی کے کام ظاہر ہوں یا پوشیدہ ان کے پاس نہ پھٹکنا اور کسی جان (والے) کو جس کے قتل کو خدا نے حرام کر دیا ہے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی جس کا شریعت حکم دے) ان باتوں کا وہ تمہیں ارشاد فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو
کہہ دیجیے! آؤ پڑھتا ہوں میں جو کچھ کہ حرام کیا تمھارے رب نے اوپر تمھارے، یہ کہ نہ شریک ٹھہراؤ تم ساتھ اس کے کسی چیز کواور ساتھ والدین کے احسان کرواور مت قتل کرو اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈرسے، ہم ہی رزق دیتے ہیں تمھیں اور انھیں اور مت قریب جاؤ بے حیائی کے کاموں کے، جو ظاہر ہوں ان میں سے اور جو پوشیدہ اور مت قتل کرو اس جان کو جس کو حرام کیا اللہ نے مگر ساتھ حق کے، یہ(سب باتیں) وصیت کی ہے اللہ نے تمھیں ان کی تا کہ تم سمجھو (151) اور مت قریب جاؤ تم یتیم کے مال کے مگر ساتھ اس طریقے کے جو بہترین ہو یہاں تک کہ پہنچ جائے وہ اپنی پختگی کواور پورا کرو تم ماپ اور تول کو ساتھ انصاف کے نہیں تکلیف دیتے ہم کسی نفس کو مگر اس کی طاقت کے مطابق ہی اور جب کہو تم تو انصاف سے کام لو، اگرچہ ہو وہ قریبی ہی اور عہد اللہ کا پورا کرو تم یہ وصیت کی ہے (اللہ نے) تمھیں اس کی تاکہ تم نصیحت حاصل کرو (152)اور بلاشبہ یہ میرا راستہ ہے سیدھا، پس پیروی کرو تم اسی کی اور مت پیروی کرو تم (اور) راستوں کی، پس الگ کردیں گے وہ تمھیں اس (اللہ) کے راستے سے یہ وصیت کی ہے (اللہ نے) تمھیں اس کی تاکہ تم ڈرو(153)
[151] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے ﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے‘‘ ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے ان چیزوں کو حرام قرار دے ڈالا جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرایا ﴿ تَعَالَوۡا اَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمۡ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’آؤ، میں سنا دوں جو حرام کیا ہے تم پر تمھارے رب نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے عام طور پر کیا چیز حرام کی ہے۔ یہ تحریم سب کے لیے ہے اور ماکولات و مشروبات اور اقوال و افعال وغیرہ تمام محرمات پر مشتمل ہے۔ ﴿ اَلَّا تُشۡرِكُوۡا بِهٖ ﴾ ’’یہ کہ اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ تھوڑا یا زیادہ ہرگز شرک نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کی حقیقت یہ ہے کہ مخلوق کی اسی طرح عبادت کی جائے جس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے۔ یا مخلوق کی تعظیم اسی طرح کی جائے جس طرح اللہ تعالیٰ کی تعظیم کی جاتی ہے۔ یا ربوبیت اور الوہیت کی صفات مخلوق میں ثابت کی جائیں ۔ جب بندہ ہر قسم کا شرک چھوڑ دیتا ہے تو وہ اپنے تمام احوال میں موحد اور اللہ تعالیٰ کے لیے مخلص بندہ بن جاتا ہے۔ پس بندوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے حق کا تذکرہ کرنے کے بعد سب سے زیادہ موکد حق سے ابتدا کی اور فرمایا ﴿ وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ۠ اِحۡسَانًا ﴾ ’’اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔‘‘ یعنی اقوال حسنہ اور افعال جمیلہ کے ذریعے سے اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ ہر وہ قول و فعل جس سے والدین کو کوئی منفعت حاصل ہو یا اس سے مسرت حاصل ہو تو یہ ان کے ساتھ حسن سلوک ہے اور حسن سلوک کا وجود نافرمانی کی نفی کرتا ہے۔ ﴿ وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَؔكُمۡ ﴾ ’’اور نہ قتل کرو تم اپنی اولاد کو‘‘ یعنی اپنے بچوں اور بچیوں کو ﴿ مِّنۡ اِمۡلَاقٍ ﴾ ’’ناداری کے (اندیشے) سے۔‘‘ یعنی فقر اور رزق کی تنگی کے سبب سے۔ جیسا کہ جاہلیت کے ظالمانہ دور میں ہوتا تھا۔ جب اس حال میں ان کو قتل کرنے سے روکا گیا ہے جبکہ وہ ان کی اپنی اولاد ہو تو پھر ان کو بغیر کسی موجب کے قتل کرنا یا دوسروں کی اولاد کو قتل کرنا تو بطریق اولیٰ ممنوع ہو گا۔ ﴿ نَحۡنُ نَرۡزُقُكُمۡ وَاِيَّاهُمۡ ﴾ ’’ہم رزق دیتے ہیں تم کو اور ان کو‘‘ یعنی ہم نے تمام مخلوق کے رزق کی ذمہ داری لی ہوئی ہے۔ یہ تم نہیں ہو جو اپنی اولاد کو رزق عطا کرتے ہو بلکہ تم خود اپنے آپ کو بھی رزق عطا نہیں کر سکتے، پھر تم ان کے بارے میں تنگی کیوں محسوس کرو۔ ﴿وَلَا تَقۡرَبُوا الۡفَوَاحِشَ ﴾ ’’اور بے حیائی کے کاموں کے قریب نہ جاؤ‘‘ یہاں فواحش سے مراد بڑے بڑے اور فحش گناہ ہیں ﴿ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَ ﴾ ’’جو …