Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 151–160 of 165

151

۞ قُلْ تَعَالَوْا۟ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ ۖ أَلَّا تُشْرِكُوا۟ بِهِۦ شَيْـًۭٔا ۖ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَٰنًۭا ۖ وَلَا تَقْتُلُوٓا۟ أَوْلَٰدَكُم مِّنْ إِمْلَٰقٍۢ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ ۖ وَلَا تَقْرَبُوا۟ ٱلْفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ۖ وَلَا تَقْتُلُوا۟ ٱلنَّفْسَ ٱلَّتِى حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلْحَقِّ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ

کہہ کہ (لوگو) آؤ میں تمہیں وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جو تمہارے پروردگار نے تم پر حرام کر دی ہیں (ان کی نسبت اس نے اس طرح ارشاد فرمایا ہے) کہ کسی چیز کو خدا کا شریک نہ بنانا اور ماں باپ (سے بدسلوکی نہ کرنا بلکہ) سلوک کرتے رہنا اور ناداری (کے اندیشے) سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا کیونکہ تم کو اور ان کو ہم ہی رزق دیتے ہیں اور بےحیائی کے کام ظاہر ہوں یا پوشیدہ ان کے پاس نہ پھٹکنا اور کسی جان (والے) کو جس کے قتل کو خدا نے حرام کر دیا ہے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی جس کا شریعت حکم دے) ان باتوں کا وہ تمہیں ارشاد فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو

خلاصہ تفسیر - آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ان سے) کہئے کہ آؤ میں تم کو وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جن کو تمہارے رب نے تم پر حرام فرمایا ہے وہ (چیزیں یہ ہیں کہ ایک) یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراو (پس شریک ٹھہرانا حرام ہوا) اور (دوسرے یہ کہ) ماں باپ کے ساتھ احسان کیا کرو (پس ان سے بری طرح رہنا حرام ہوا) اور (تیسرے یہ کہ) اپنی اولاد کو افلاس کے سبب (جیسا کہ جاہلیت میں غالب عادت تھی) قتل مت کیا کرو (کیونکہ) ہم تم کو اور ان کو (دونوں کو) رزق (مقدر) دیں گے (وہ تمہارے رزق مقدر میں شریک نہیں ہیں، پھر کیوں قتل کرتے ہو، پس قتل کرنا حرام ہوا) اور (چوتھے یہ کہ) بےحیائی (یعنی بدکاری) کے جتنے طریقے ہیں ان کے پاس بھی مت جاو (پس زنا کرنا حرام ہوا) خواہ وہ علانیہ ہوں اور خواہ پوشیدہ ہوں (وہ طریقے یہی ہیں) اور (پانچویں یہ کہ) جس کا خون کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے اس کو قتل مت کرو، ہاں مگر حق (شرعی) پر (قتل جائز ہے مثلاً قصاص یا رجم میں، پس قتل ناحق حرام ہوا) اس (سب) کا تم کو (اللہ تعالیٰ نے) تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم (ان کو) سمجھو (اور سمجھ کر عمل کرو) اور (چھٹے یہ کہ) یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ (یعنی اس میں تصرف مت کرو) مگر ایسے طریقہ سے (تصرف کی اجازت ہے) جو کہ (شرعاً ) مستحسن ہے (مثلاً اس کے کام میں لگانا، اس کی حفاظت کرنا، اور بعض اولیاء اور اوصیاء کو اس میں یتیم کے لئے تجارت کرنے کی بھی اجازت ہے) یہاں تک کہ وہ اپنے سن بلوغ کو پہنچ جاوے (اس وقت تک ان تصرفات مذکورہ کو بھی اجازت ہے، اور پھر اس کا مال اس کو دے دیاجاوے گا بشرط سفیہہ نہ ہونے کے، پس تصرف غیر مشروع مال یتیم میں حرام ہوا) اور (ساتویں یہ کہ) ناپ اور تول پوری پوری کیا کرو، انصاف کے ساتھ (کہ کسی کا حق اپنے پاس نہ رہے، اور نہ آوے، پس اس میں دغا کرنا حرام ہوا، اور یہ احکام کچھ دشوار نہیں کیونکہ) ہم (تو) کسی شخص کو اس کے امکان سے زیادہ (احکام کی) تکلیف (بھی) نہیں دیتے (پھر ان احکام میں کوتاہی کیوں کی جاوے) اور (آٹھویں یہ کہ) جب تم (فیصلہ یا شہادت وغیرہ کے متعلق کوئی) بات کیا کرو (جیسی قسم یا نذر بشرط اس کے مشروع ہونے کے) اس کو پورا کیا کرو (پس اس کا عدم ایفاء حرام ہوا) ان (سب) کا اللہ تعالیٰ نے تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم یاد رکھو (اور عمل کرو) اور یہ (بھی کہہ دیجئے) کہ (کچھ انھیں احکام کی تخصیص نہیں بلکہ) یہ دین (اسلام اور اس کے تمام احکام) میرا رستہ ہے (جس کی طرف میں باذن الٓہی دعوت دیتا ہوں) جو کہ (بالکل) مستقیم (اور راست) ہے، سو اس راہ پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے (جن کی طرف میں دعوت کرتا ہوں) جدا (اور دور) کردیں گے، اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے، تاکہ تم (اس راہ کے خلاف کرنے سے) احتیاط رکھو۔ - معارف و مسائل - ان آیات سے پہلے تقریباً دو تین رکوع میں مسلسل یہ مضمون بیان ہو رہا ہے کہ غافل اور جاہل انسان نے زمین و آسمان کی ساری چیزوں کے پیدا کرنے والے احکم الحاکمین کا نازل کیا ہوا قانون چھوڑ کر آبائی اور من گھڑت رسموں کو اپنا دین بنا لیا، جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا تھا ان کو جائز سمجھ کر استعمال کرنے لگے، اور بہت سی چیزیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا تھا ان کو اپنے اوپر حرام کرلیا، اور بعض چیزوں کو مردوں کے لئے جائز عورتوں کے لئے حرام، بعض کو عورتوں کے لئے حلال مردوں کے لئے حرام قرار دیدیا۔- ان تین آیتوں میں ان چیزوں کا بیان ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے، تفصیلی بیان میں نو چیزوں کا ذکر ہے، اس کے بعد دسواں حکم اس طرح بیان فرمایا گیا کہ (آیت) ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ ” یعنی یہ دین میرا سیدھا راستہ ہے، اس پر چلو “۔ جس میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لائے ہوئے اور …

Al-An'aam 6:151Listen in Qur'an →
152

وَلَا تَقْرَبُوا۟ مَالَ ٱلْيَتِيمِ إِلَّا بِٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ حَتَّىٰ يَبْلُغَ أَشُدَّهُۥ ۖ وَأَوْفُوا۟ ٱلْكَيْلَ وَٱلْمِيزَانَ بِٱلْقِسْطِ ۖ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۖ وَإِذَا قُلْتُمْ فَٱعْدِلُوا۟ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ ۖ وَبِعَهْدِ ٱللَّهِ أَوْفُوا۟ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ جانا مگر ایسے طریق سے کہ بہت ہی پسندیدہ ہو یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے اور ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو ہم کسی کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی طاقت کے مطابق اور جب (کسی کی نسبت) کوئی بات کہو تو انصاف سے کہو گو وہ (تمہارا) رشتہ دار ہی ہو اور خدا کے عہد کو پورا کرو ان باتوں کا خدا تمہیں حکم دیتا ہے تاکہ تم نصحیت کرو

چھٹا حرام، یتیم کا مال ناجائز طور پر کھانا - دوسری آیت میں چھٹا حکم یتیم کا مال ناجائز طور پر کھانے کی حرمت کے متعلق ارشاد فرمایا : (آیت) وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ حَتّٰي يَبْلُغَ اَشُدَّهٗ ” یعنی یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر ایسے طریقہ سے جو مستحسن ہے یہاں تک کہ وہ اپنے سن بلوغ کو پہنچ جائے “۔ اس میں یتیم نابالغ بچوں کے ولی اور پالنے والے کو خطاب ہے، کہ وہ ان کے مال کو ایک آگ سمجھیں اور ناجائز طور پر اس کے کھانے اور لینے کے پاس بھی نہ جائیں، جیسا کہ دوسری ایک آیت میں انہی الفاظ کے ساتھ آیا ہے، کہ جو لوگ یتیموں کا مال ناجائز طور پر ظلماً کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں۔- البتہ یتیم کے مال کی حفاظت کرنا اور کسی ایسی جائز تجارت یا کاروبار میں لگا کر بڑھانا جس میں نقصان کا خطرہ عادةً نہ ہو، یہ طریقہ مستحسن اور ضروری ہے، یتیموں کے ولی کو ایسا کرنا چاہیے۔- اس کے بعد مال یتیم کی حفاظت کی ذمہ داری کی حد بتلا دی حَتّٰي يَبْلُغَ اَشُدَّهٗ ، یعنی یہاں تک کہ وہ اپنے سن بلوغ کو پہنچ جائے تو ولی کی ذمہ داری ختم ہوگئی، اس کا مال اس کے سپرد کردیا جائے۔- لفظ اشد کے اصلی معنی قوت کے ہیں، اور اس کی ابتداء جمہور علماء نے نزدیک بالغ ہوجانے سے ہوجاتی ہے، جس وقت بچہ میں آثار بلوغ پائے جائیں یا اس کی عمر پندرہ سال کی پوری ہوجائے، اس وقت اس کو شرعاً بالغ قرار دیا جائے گا۔- البتہ بالغ ہوجانے کے بعد یہ دیکھا جائے گا کہ اس میں اپنے مال کی حفاظت اور صحیح مصرف میں خرچ کرنے کی صلاحیت پیدا ہوگئی ہے یا نہیں، اگر صلاحیت ابھی اس میں موجود نہیں تو پچیس سال کی عمر تک مال کی حفاظت ولی کے ذمہ ہے، اس درمیان میں جس وقت بھی اس کو مال کی حفاظت اور کاروبار کی لیاقت پیدا ہوجائے تو مال اس کو دیا جاسکتا ہے، اور اگر پچیس سال تک بھی اس میں یہ صلاحیت پیدا نہ ہو تو پھر امام اعظم ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ کے نزدیک اس کا مال بہر حال اس کو دے دیا جائے، بشرطیکہ اس کی یہ عدم صلاحیت دیوانگی اور جنون کی حد تک نہ پہنچی ہو، اور بعض ائمہ کے نزدیک اس وقت بھی مال اس کو سپرد نہ کیا جائے، بلکہ قاضی شرعی اس کے مال کی حفاظت کسی ذمہ دار آدمی کے سپرد کردے۔- یہ مضمون قرآن مجید کی ایک دوسری آیت سے ماخوذ ہے، جس میں فرمایا ہے : (آیت) فان انستم منھم رشدا فادفعوا الیھم اموالھم، یعنی یتیم بچوں میں بالغ ہونے کے بعد اگر تم یہ صلاحیت دیکھو کہ وہ اپنے مال کی خود حفاظت کرسکتے ہیں اور کسی کاروبار میں لگا سکتے ہیں تو ان کا مال ان کے سپرد کردو، اس آیت نے بتلایا کہ صرف بالغ ہونا مال سپرد کرنے کے لئے کافی نہیں، بلکہ مال کی حفاظت اور کاروبار کی قابلیت شرط ہے۔- ساتواں حرام ناپ تول میں کمی - ساتواں حرام اس آیت میں ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرنے کا ہے انصاف کا مطلب یہ ہے کہ دینے والا دوسرے فریق کے حق میں کوئی کمی نہ کرے اور لینے والا اپنے حق سے زیادہ نہ لے (روح المعانی) - چیزوں کے لین دین میں ناپ تول میں کمی زیادتی کو قرآن نے شدید حرام قرار دیا ہے، اور اس کے خلاف کرنے والوں کے لئے سورة مطففین میں سخت وعید آئی ہے۔ - مفسر القرآن حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان لوگوں کو جو تجارت میں ناپ تول کا کام کرتے ہیں خطاب کرکے ارشاد فرمایا کہ ناپ اور تول یہ وہ کام ہیں جن میں بےانصافی کرنے کی وجہ سے تم سے پہلے کئی امتیں عذاب الٓہی کے ذریعے تباہ ہوچکی ہیں (تم اس میں پوری احتیاط سے کام لو) (تفسیر ابن کثیر)- افسروں، ملازموں، مزدوروں کا اپنی مقررہ ڈیوٹی اور خدمت میں کوتاہی کرنا بھی ناپ تول میں کمی کرنے کے حکم میں ہے - یاد رہے کہ ناپ تول کی کمی جس کو قرآن میں تطفیف کہا گیا ہے صرف ڈنڈی مارنے اور کم ناپنے کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ کسی کے …

Al-An'aam 6:152Listen in Qur'an →
153

وَأَنَّ هَٰذَا صِرَٰطِى مُسْتَقِيمًۭا فَٱتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ ٱلسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِۦ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

اور یہ کہ میرا سیدھا رستہ یہی ہے تو تم اسی پر چلنا اور اور رستوں پر نہ چلنا کہ (ان پر چل کر) خدا کے رستے سے الگ ہو جاؤ گے ان باتوں کا خدا تمہیں حکم دیتا ہے تاکہ تم پرہیزگار بنو

تیسری آیت میں دسواں حکم مذکور ہے (آیت) وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ ، ” یعنی یہ دین محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرا سیدھا راستہ ہے، سو اس راہ پر چلو، اور دوسری راہوں پر مت چلو، کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کردیں گی “۔- اس میں لفظ ھذا کا اشارہ دین اسلام یا قرآن کی طرف ہے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سورة انعام کی طرف اشارہ ہو، کیونکہ اس میں بھی پورے اصول اسلام، توحید، رسالت اور اصول احکام شرعیہ مذکور ہیں (اور مستقیم، دین کے اس راستہ کی صفت ہے جس کو نحوی ترکیب میں بصورت حال ذکر کرکے اس طرف اشارہ کردیا گیا ہے کہ دین اسلام کے لئے مستقیم ہونا لازمی وصف ہے اس کے بعد فرمایا فاتَّبِعُوْهُ یعنی جب یہ معلوم ہوگیا کہ دین اسلام میرا راستہ ہے اور وہی مستقیم اور سیدھا راستہ ہے تو اب منزل مقصود کا سیدھا راستہ ہاتھ آگیا، اس لئے صرف اسی راستہ پر چلو) ۔- پھر فرمایا (آیت) وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ ، سُبُل، سبیل کی جمع ہے، اس کے معنی بھی راستہ کے ہیں، مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے اور اس کی رضا حاصل کرنے کا اصلی راستہ تو ایک ہی ہے، لیکن دنیا میں لوگوں نے اپنے اپنے خیالات سے مختلف راستے بنا رکھے ہیں، تم ان راستوں میں سے کسی راستہ پر نہ چلو، کیونکہ یہ راستے حقیقت میں خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے نہیں ہیں، اس لئے جو ان راستوں پر چلے گا وہ اللہ کے راستہ سے دور جا پڑے گا۔- تفسیر مظہری میں فرمایا ہے کہ قرآن کریم نازل کرنے اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بھیجنے کا منشاء تو یہ ہے کہ لوگ اپنے خیالات اور اپنے ارادوں اور تجویزوں کو قرآن و سنت کے تابع کریں، اور اپنی زندگیوں کو ان کے سانچہ میں ڈھالیں، لیکن ہو یہ رہا ہے کہ لوگوں نے قرآن و سنت کو اپنے خیالات اور تجویزات کے سانچہ میں ڈھالنے کی ٹھان لی، جو آیت یا حدیث اپنے منشاء کے خلاف نظر آئی اس کو تاویلیں کرکے اپنی خواہش کے مطابق بنالی، یہیں سے دوسری گمراہ کن راہیں پیدا ہوتی ہیں، جو بدعات اور شبہات کی راہیں ہیں، انھی سے بچنے کے لئے اس آیت میں ہدایت کی گئی ہے۔- مسند دارمی میں بروایت حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک سیدھا خط کھینچا اور فرمایا کہ یہ اللہ کا رستہ ہے، پھر اس کے دائیں بائیں اور خطوط کھینچے اور فرمایا کہ یہ سُبُل ہیں، (یعنی وہ راستے جن پر چلنے سے اس آیت میں منع فرمایا ہے) اور فرمایا کہ ان میں سے ہر راستہ پر ایک شیطان مسلط ہے، جو لوگوں کو سیدھے راستہ سے ہٹا کر اس طرف بلاتا ہے اور اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے استدلال کے طور پر اس آیت کو تلاوت فرمایا۔ - آخر آیت میں پھر ارشاد فرمایا : (آیت) ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ ، یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کا تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم احتیاط رکھو۔ - تینوں آیتوں کی تفسیر اور ان میں بیان کئے ہوئے دس اصول محرمات کا بیان پورا ہوگیا، آخر میں قرآن کریم کے اس اسلوب بیان پر بھی ایک نظر ڈالئے، کہ اس جگہ دس احکام بیان کئے تھے، ان کو آجکل کی کتب قانون کی طرح دس دفعات میں نہیں لکھ دیا، بلکہ پہلے پانچ حکم بیان کرنے کے بعد فرمایا (آیت) ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ ، اور پھر اور چار حکم بیان فرمانے کے بعد پھر اسی جملہ کو دوبارہ اس فرق کے ساتھ ذکر کیا کہ تعقلون کے بجائے تذکرون، فرمایا اور پھر آخری حکم ایک مستقل آیت میں بیان فرما کر پھر اسی جملے کا اعادہ اس فرق کے ساتھ کیا کہ تذکرون کے بجائے تتقون فرمایا۔- قرآن کریم کے اس حکیمانہ اسلوب بیان میں بہت سی حکمتیں ہیں۔- اول یہ کہ قرآن کریم عام دنیا کے قوانین کی طرح محض حاکمانہ …

Al-An'aam 6:153Listen in Qur'an →
154

ثُمَّ ءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَٰبَ تَمَامًا عَلَى ٱلَّذِىٓ أَحْسَنَ وَتَفْصِيلًۭا لِّكُلِّ شَىْءٍۢ وَهُدًۭى وَرَحْمَةًۭ لَّعَلَّهُم بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُونَ

(ہاں) پھر (سن لو کہ) ہم نے موسیؑ کو کتاب عنایت کی تھی تاکہ ان لوگوں پر جو نیکوکار ہیں نعمت پوری کر دیں اور (اس میں) ہر چیز کا بیان (ہے) اور ہدایت (ہے) اور رحمت ہے تاکہ (ان کی امت کے) لوگ اپنے پروردگار کے رُوبرو حاضر ہونے کا یقین کریں

خلاصہ تفسیر - پھر (مضمون ابطال شرک کے بعد ہم مسئلہ نبوت میں کلام کرتے ہیں کہ ہم نے صرف آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اکیلا ہی نہیں بنایا، جس پر یہ لوگ اس قدر شور و غل مچا رہے ہیں، بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قبل) ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو (پیغمبر بنا کر) کتاب (تورات) دی تھی، جس سے اچھی طرح عمل کرنے والوں پر (ہماری) نعمت پوری ہو (کہ عمل کرکے ثواب کامل حاصل کریں) اور سب (ضروری) احکام کی (اس کے ذریعہ سے) تفصیل ہوجاوے اور (اس کے ذریعہ سے سب کو) رہنمائی ہو اور (ماننے والوں کیلئے) رحمت ہو (ہم نے اس صفت کی کتاب اس لئے دی) تاکہ وہ لوگ (یعنی بنی اسرائیل) اپنے رب کے ملنے پر یقین لاویں (اور اعتقاد لقاء سے اب احکام کو بجا لاویں) اور (جب اس کا اور اس کے تتمہ انجیل کا دور ختم ہوچکا اس کے بعد) یہ (قرآن) ایک کتاب ہے جس کو ہم نے (آپ کے پاس) بھیجا بڑی خیر و برکت والی سو (اب) اس کا اتباع کرو، اور (اس سے خلاف کرنے کے باب میں خدا سے) ڈرو تاکہ تم پر (اللہ تعالیٰ کی) رحمت ہو (اور ہم نے یہ قرآن اس لئے بھی نازل کیا کہ) کبھی تم لوگ (قیامت میں درصورت اس کے نازل نہ ہونے کے کفر و شرک پر عذاب کے وقت) یوں کہنے لگتے کہ کتاب (آسمانی) تو صرف ہم سے پہلے جو دو فرقے (یہودی عیسائی) تھے ان پر نازل ہوئی تھی اور ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے بیخبر تھے (اس لئے ہم کو توحید کی تحقیق نہ ہوئی) یا (اور مؤمنین سابقین کو ثواب ملنے کے وقت) یوں کہتے کہ اگر ہم پر کوئی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان (مؤ منین سابقین) سے بھی زیادہ راہ پر ہوتے (اور عقائد و اعمال میں ان سے زیادہ کمال حاصل کرکے ثواب کے مستحق ہوتے) سو (یاد رکھو کہ) اب (تمھارے پاس کوئی عذر نہیں) تمہارے پاس (بھی) تمہارے رب کے پاس سے ایک کتاب (جس کے احکام) واضح (ہیں) اور (جو) رہنمائی کا ذریعہ (ہے) اور (خدا کی) رحمت (ہے) آچکی ہے سو (ایسی کافی شافی کتاب آنے کے بعد) اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو ہماری ان آیتوں کو جھوٹا بتلا دے (اور دوسروں کو بھی) اس سے روکے ہم ابھی (آخرت میں) ان لوگوں کو جو کہ ہماری آیتوں سے روکتے ہیں ان کو اس روکنے کے سبب سخت سزا دیں گے (یہ سختی اس روکنے سے بڑھی ورنہ صرف تکذیب بھی موجب سزا ہے) ۔ - معارف و مسائل - وجہ غفلت یہ نہیں کہ تورات و انجیل لغت عرب میں نہ تھی کیونکہ ترجمہ کے ذریعہ سے مضامین کی اطلاع ممکن ہے، بلکہ وجہ یہ ہے کہ اہل کتاب نے اہل عرب کی تعلیم و توحید کا کبھی اہتمام نہیں کیا، اور اتفاقاً کان میں کوئی مضمون پڑجانا عادةً تنبیہ میں کم مؤ ثر ہے، گو اس قدر تنبیہ پر طلب اور تامل واجب ہوجاتا ہے، اور اسی بناء پر ترک توحید پر عذاب ممکن تھا، اور اس سے عموم بعثت موسویہ و عیسویہ کا اشکال لازم نہیں آتا، کیونکہ اختصاص اس عموم کا ہمارے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ باعتبار مجموعہ اصول و فروع کے ہے، ورنہ اصول میں سب انبیاء کا اتباع سب خلائق پر واجب ہے، پس اس بناء پر عذاب صحیح ہوتا، لیکن یہ عذر بادی النظر میں پیش کیا جاسکتا تھا، اب اس کی بھی گنجائش نہ رہی اور حجة اللہ تام ہوگئی۔- اور دوسرا قول (آیت) لَوْ اَنَّآ اُنْزِلَ عَلَيْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّآ اَهْدٰي مِنْهُمْ کے متعلق ایک سوال و جواب باعتبار ناجین اہل فترت کے سورة مائدہ کے رکوع سوم کے آخر میں گزر چکا ہے۔

Al-An'aam 6:154Listen in Qur'an →
155

وَهَٰذَا كِتَٰبٌ أَنزَلْنَٰهُ مُبَارَكٌۭ فَٱتَّبِعُوهُ وَٱتَّقُوا۟ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ

اور (اے کفر کرنے والوں) یہ کتاب بھی ہمیں نے اتاری ہے برکت والی تو اس کی پیروی کرو اور (خدا سے) ڈرو تاکہ تم پر مہربانی کی جائے

Explained together with ayah 154

Al-An'aam 6:155Listen in Qur'an →
156

أَن تَقُولُوٓا۟ إِنَّمَآ أُنزِلَ ٱلْكِتَٰبُ عَلَىٰ طَآئِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَٰفِلِينَ

(اور اس لیے اتاری ہے) کہ (تم یوں نہ) کہو کہ ہم سے پہلے دو ہی گروہوں پر کتابیں اتری تھیں اور ہم ان کے پڑھنے سے (معذور اور) بےخبر تھے

Explained together with ayah 154

Al-An'aam 6:156Listen in Qur'an →
157

أَوْ تَقُولُوا۟ لَوْ أَنَّآ أُنزِلَ عَلَيْنَا ٱلْكِتَٰبُ لَكُنَّآ أَهْدَىٰ مِنْهُمْ ۚ فَقَدْ جَآءَكُم بَيِّنَةٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ وَهُدًۭى وَرَحْمَةٌۭ ۚ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَّبَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَصَدَفَ عَنْهَا ۗ سَنَجْزِى ٱلَّذِينَ يَصْدِفُونَ عَنْ ءَايَٰتِنَا سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ بِمَا كَانُوا۟ يَصْدِفُونَ

یا (یہ نہ) کہو کہ اگر ہم پر بھی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان لوگوں کی نسبت کہیں سیدھے رستے پر ہوتے سو تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے دلیل اور ہدایت اور رحمت آ گئی ہے تو اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا کی آیتوں کی تکذیب کرے اور ان سے (لوگوں کو) پھیرے جو لوگ ہماری آیتوں سے پھیرتے ہیں اس پھیرنے کے سبب ہم ان کو برے عذاب کی سزا دیں گے

Explained together with ayah 154

Al-An'aam 6:157Listen in Qur'an →
158

هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّآ أَن تَأْتِيَهُمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ أَوْ يَأْتِىَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِىَ بَعْضُ ءَايَٰتِ رَبِّكَ ۗ يَوْمَ يَأْتِى بَعْضُ ءَايَٰتِ رَبِّكَ لَا يَنفَعُ نَفْسًا إِيمَٰنُهَا لَمْ تَكُنْ ءَامَنَتْ مِن قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِىٓ إِيمَٰنِهَا خَيْرًۭا ۗ قُلِ ٱنتَظِرُوٓا۟ إِنَّا مُنتَظِرُونَ

یہ اس کے سوا اور کس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود تمہارا پروردگار آئے یا تمہارے پروردگار کی کچھ نشانیاں آئیں (مگر) جس روز تمہارے پروردگار کی کچھ نشانیاں آ جائیں گی تو جو شخص پہلے ایمان نہیں لایا ہوگا اس وقت اسے ایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دے گا یا اپنے ایمان (کی حالت) میں نیک عمل نہیں کئے ہوں گے (تو گناہوں سے توبہ کرنا مفید نہ ہوگا اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ تم بھی انتظار کرو ہم بھی انتظار کرتے ہیں

خلاصہ تفسیر - یہ لوگ (جو کہ بعد نزول کتاب و سنت و بینات و وضوحِ حق کے بھی ایمان نہیں لاتے اپنے ایمان لانے کے لئے) صرف اس امر کے منتظر (معلوم ہوتے) ہیں (یعنی ایسا توقف کر رہے ہیں جیسے کوئی انتظار کر رہا ہو) کہ ان کے پاس فرشتے آویں یا ان کے پاس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رب آوے (جیسا قیامت میں حساب کے وقت واقع ہوگا) یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رب کی کوئی بڑی نشانی (منجملہ قیامت کی نشانیوں کے) آوے (مراد اس بڑی نشانی سے آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا ہے، مطلب یہ ہوا کہ کیا ایمان لانے میں قیامت کے وقوع یا قرب کا انتظار ہے سو اس کے متعلق سن رکھیں کہ) جس روز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رب کی (یہ) بڑی نشانی (مذکور) آپہنچے گی (اس روز) کسی ایسے شخص کا ایمان اس کے کام نہ آوے گا جو پہلے سے ایمان نہیں رکھتا ہو (بلکہ اسی روز ایمان لایا ہو) یا (ایمان تو پہلے سے بھی رکھتا ہو، لیکن) اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیک عمل نہ کیا ہو (بلکہ اعمال بد اور گناہوں میں مبتلا ہو، اور اس روز ان سے توبہ کرکے اعمال نیک شروع کرے تو اس کی توبہ قبول نہ ہوگی، اور اس سے قبل اگر معاصی سے توبہ کرتا تو مومن ہونے کی برکت سے توبہ قبول ہوجاتی، تو قبول توبہ منجملہ منافع ایمان کے ہے، اس وقت ایمان نے یہ خاص نفع نہ دیا اور جب علامت قیامت مانع ہوگئی قبول ایمان و توبہ سے تو خاص وقوع قیامت تو بدرجہ اولیٰ مانع ہوگا، پھر انتظار کا ہے کا، اور اگر اس توبیخ پر بھی ایمان نہ لاویں تو) آپ (تہدید مزید کے طور پر) فرما دیجئے کہ (خیر بہتر) تم (ان امور کے) منتظر رہو (اور مسلمان نہیں ہوتے تو مت ہو) ہم بھی (ان امور کے) منتظر ہیں (اس وقت تم پر مصیبت پڑے گی، اور ہم مومن انشاء اللہ تعالیٰ ناجی ہوں گے) ۔- معارف و مسائل - سورة انعام کا اکثر حصہ اہل مکہ اور مشرکین عرب کے عقائد اور اعمال کی اصلاح اور ان کی شبہات اور سوالات کے جواب میں نازل ہوا ہے۔- اس تمام سورة اور خصوصاً پچھلی آیات میں مکہ اور عرب کے باشندوں پر واضح کردیا گیا کہ تم رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزات و بینّات دیکھ چکے، پچھلی کتابوں اور پہلے انبیاء کی پیشینگوئیاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق سن چکے، پھر ایک اُمِّی محض کی زبان سے قرآن کی آیات بینات سن چکے، جو ایک مستقل معجزہ بن کر آیا، اب حق و صدق کی راہیں تمہارے سامنے کھل چکیں، اور خدا تعالیٰ کی حجت تم پر تمام ہوچکی، اب ایمان لانے میں کس چیز کا انتظار ہے۔- اس مضمون کو اس آیت مذکورہ میں نہایت بلیغ پیرایہ میں اس طرح بیان فرمایا ،- (آیت) هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ رَبُّكَ اَوْ يَاْتِيَ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ ، ” یعنی یہ لوگ کیا ایمان لانے میں اس کا انتظار کر رہے ہیں کہ موت کے فرشتے ان کے پاس پہنچ جائیں، یا میدان حشر کا انتظار کر رہے ہیں کہ جس میں جزاء و سزا کے فیصلہ کے لئے اللہ تعالیٰ آئے گا، یا اس کا انتظار کر رہے ہیں کہ قیامت کی بعض نشانیاں دیکھ لیں، رب کریم کا میدان قیامت میں فیصلہ کے لئے تشریف فرما ہونا قرآن مجید کی کئی آیتوں میں بیان ہوا ہے، سورة بقرہ میں اسی مضمون کی آیت اس طرح آئی ہے : (آیت)- ہل ینظرون الا ان یاتیھم اللہ فی ظلل من الغمام والملئکۃ وقضی الامر،- ” یعنی کیا یہ لوگ اس کا انتظار کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بادلوں کے سایہ میں ان کے پاس آجائے اور فرشتے آجائیں اور لوگوں کے لئے جنت و دوزخ کا جو فیصلہ ہونا ہے وہ ہو جائے “۔- اللہ تعالیٰ کا میدان قیامت میں تشریف فرما ہونا کس شان کس کیفیت کے ساتھ ہوگا اس کا عقل انسانی احاطہ نہیں کرسکتی، اس لئے صحابہ کرام اور اسلاف امت کا مسلک اس قسم کی آیات کے متعلق یہ ہے کہ جو قرآن میں ذکر کیا گیا ہے اس پر ایمان لایا جائے اور یقین کیا جائے اور اس کی کیفیات کو علم الٓہی …

Al-An'aam 6:158Listen in Qur'an →
159

إِنَّ ٱلَّذِينَ فَرَّقُوا۟ دِينَهُمْ وَكَانُوا۟ شِيَعًۭا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِى شَىْءٍ ۚ إِنَّمَآ أَمْرُهُمْ إِلَى ٱللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا۟ يَفْعَلُونَ

جن لوگوں نے اپنے دین میں (بہت سے) رستے نکالے اور کئی کئی فرقے ہو گئے ان سے تم کو کچھ کام نہیں ان کا کام خدا کے حوالے پھر جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں وہ ان کو (سب) بتائے گا

خلاصہ تفسیر - بے شک جن لوگوں نے اپنے دین کو (جن کے وہ مکلف ہیں) جدا جدا کردیا (یعنی دین حق کو بتمامہ قبول نہ کیا، خواہ سب کو چھوڑ دیا یا بعض کو اور طریقے شرک و کفر و بدعت کے اختیار کر لئے) اور (مختلف) گروہ گروہ بن گئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ان سے کوئی تعلق نہیں (یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے بری ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کوئی الزام نہیں) بس (وہ خود اپنے نیک و بد کے ذمہ دار ہیں، اور) ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے (وہ دیکھ بھال رہے ہیں) پھر (قیامت میں) ان کو ان کا کیا ہوا جتلا دیں گے (اور حجت قائم کرکے استحقاق عذاب ظاہر کردیں گے) جو شخص نیک کام کرے گا اس کو (اقل درجہ) اس کے دس حصے ملیں گے (یعنی ایسا سمجھا جاوے گا کہ گویا وہ نیکی دس بار کی اور نیز ایک نیکی پر جس قدر ثواب ملتا اب دس حصے ویسے ثواب کے ملیں گے) اور جو شخص برا کام کرے گا سو اس کو اس کے برابر ہی سزا ملے گی (زیادہ نہ ملے گی) اور ان لوگوں پر (ظاہراً بھی) ظلم نہ ہوگا (کہ کوئی نیکی درج نہ ہو یا کوئی بدی زیادہ کرکے لکھ لی جاوے) ۔ - معارف و مسائل - سورة انعام کا بیشتر حصہ مشرکین مکہ کے خطاب اور ان کے سوال و جواب کے متعلق آیا ہے، جس میں ان کو یہ ہدایت کی گئی تھی کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کا سیدھا راستہ صرف قرآن اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اتباع میں منحصر ہے، جس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے انبیاء کے زمانہ میں ان کا اور ان کی کتاب و شریعت کا اتباع مدار نجات تھا، آج صرف آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اور آپ کی شریعت کی پیروی مدار نجات ہے، عقل سے کام لو اور اس سیدھے راستے کو چھوڑ کر دائیں بائیں کے غلط راستوں کو اختیار نہ کرو، ورنہ وہ راستے تمہیں خدا تعالیٰ سے دور کردیں گے۔- مذکورہ آیات سے پہلی آیت میں ایک عام خطاب ہے جس میں مشرکین عرب اور یہود و نصاریٰ اور مسلمان سب داخل ہیں، ان سب کو مخاطب کرکے اللہ کے سیدھے راستے سے منحرف ہونے والوں کا انجام بد بیان کیا گیا ہے، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت کی گئی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ان غلط راستوں پر چلنے والوں سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے۔ پھر ان میں غلط راستے وہ بھی ہیں جو صراط مستقیم سے بالکل مخالف جانب لے جانے والے ہیں، جیسے مشرکین اور اہل کتاب کے راستے، اور وہ راستے بھی ہیں جو مخالف جانب میں تو نہیں مگر سیدھے راستے سے ہٹا کر دائیں بائیں لے جانے والے ہیں، وہ شبہات اور بدعات کے راستے ہیں، وہ بھی انسان کو گمراہی میں ڈال دیتے ہیں۔ (آیت) اِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِيْ شَيْءٍ ۭ اِنَّمَآ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ ،” یعنی وہ لوگ جنہوں نے راہیں نکالیں اپنے دین میں اور ہوگئے بہت سے فرقے، تجھ کو ان سے کچھ سروکار نہیں، ان کا کام اللہ ہی کے حوالے ہے، پھر وہ جتلائے گا ان کو جو کچھ وہ کرتے تھے “۔- اس آیت میں غلط راستوں پر پڑنے والوں کے متعلق اول تو یہ بتلا دیا کہ اللہ کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے بری ہے، رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کا کوئی تعلق نہیں، پھر ان کو یہ وعید شدید سنائی کہ ان کا معاملہ بس خدا تعالیٰ کے حوالے ہے وہی ان کو قیامت کے روز سزا دیں گے۔- دین میں تفرق ڈالنا اور فرقے بن جانا جو اس آیت میں مذکور ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ اصول دین کے اتباع کو چھوڑ کر اپنے خیالات اور خواہشات کے مطابق یا شیطانی مکر وتلبیس میں مبتلا ہو کر دین میں کچھ نئی چیزیں بڑھا دے یا بعض چیزوں کو چھوڑ دے۔- دین میں بدعت ایجاد کرنے پر وعید شدید - تفسیر مظہری میں ہے کہ اس میں پچھلی امتوں کے لوگ بھی داخل ہیں جنہوں نے اپنے اصول دین کو ترک کرکے اپنی طرف سے کچھ چیزیں ملا …

Al-An'aam 6:159Listen in Qur'an →
160

مَن جَآءَ بِٱلْحَسَنَةِ فَلَهُۥ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ۖ وَمَن جَآءَ بِٱلسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَىٰٓ إِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

اور جو کوئی (خدا کے حضور) نیکی لے کر آئے گا اس کو ویسی دس نیکیاں ملیں گی اور جو برائی لائے گا اسے سزا ویسے ہی ملے گی اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا

دوسری آیت میں ارشاد فرمایا : (آیت) مَنْ جَاۗءَ بالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا ۚ وَمَنْ جَاۗءَ بالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزٰٓى اِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ- پچھلی آیت میں اس کا بیان تھا کہ صراط مستقیم سے منحرف ہونے والوں کو روز قیامت اللہ تعالیٰ ہی ان کے اعمال کی سزاء دیں گے۔- اس آیت میں آخرت کی جزاء و سزاء کا کریمانہ ضابطہ اس طرح بیان فرمایا ہے کہ جو شخص ایک نیک کام کرے گا اس کو دس گنا بدلہ دیا جائے گا، اور جو ایک گناہ کرے گا اس کا بدلہ صرف ایک گناہ کے برابر دیا جائے گا۔- صحیح بخاری اور مسلم، نسائی اور مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تمہارا رب عزوجل رحیم ہے، جو شخص کسی نیک کام کا صرف ارادہ کرے اس کے لئے ایک نیکی لکھ لی جاتی ہے، خواہ عمل کرنے کی نوبت بھی نہ آئے، پھر جب وہ اس نیک کام کو کرلے تو دس نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھ دی جاتی ہیں، اور جو شخص کسی گناہ کا ارادہ کرے، مگر پھر اس پر عمل نہ کرے تو اس کے لئے بھی ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے، اور گناہ کا عمل بھی کرے تو ایک گناہ لکھ دیا جاتا ہے، یا اس کو بھی مٹا دیا جاتا ہے، اس عفو وکرم کے ہوتے ہوئے اللہ کے دربار میں وہی شخص ہلاک ہوسکتا ہے جس نے ہلاک ہونے ہی کی ٹھان رکھی ہے (ابن کثیر) ۔ - ایک حدیث قدسی میں بروایت ابوذر (رض) ارشاد ہے : - ” جو شخص ایک نیکی کرتا ہے اس کو دس نیکیوں کا ثواب ملا ہے، اور اس سے بھی زیادہ اور جو شخص ایک گناہ کرتا ہے تو اس کی سزا صرف ایک ہی گناہ کی برابر ملے گی، یا میں اس کو بھی معاف کر دونگا اور جو شخص اتنے گناہ کرکے میرے پاس آئے جن سے ساری زمین بھر جائے اور مغفرت کا طالب ہو تو میں اتنی ہی مغفرت سے اس کے ساتھ معاملہ کروں گا، اور جو شخص میری طرف ایک بالشت قریب ہوتا ہے میں ایک ہاتھ اس کی طرف بڑھتا ہوں، اور جو شخص ایک ہاتھ میری طرف آتا ہے میں اس کی طرف بقدر ایک باع کے آتا ہوں (باع کہتے ہیں دونوں ہاتھوں کے پھیلاؤ کو) اور جو شخص میری طرف جھپٹ کر آتا ہے میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں “۔- ان روایات حدیث سے معلوم ہوا کہ نیکی کی جزاء میں دس تک کی زیادتی جو اس آیت میں مذکور ہے ادنیٰ حد کا بیان ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے رحم و کرم سے اس سے زیادہ بھی دے سکتے ہیں اور دیں گے، جیسا کہ دوسری روایات سے ستر گنا یا سات گنا تک ثابت ہوتا ہے۔- اس آیت کے الفاظ میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ یہاں لفظ جَاۗءَ بالْحَسَنَةِ فرمایا ہے عمل بالحسنة نہیں فرمایا، تفسیر بحر محیط میں ہے کہ اس سے اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ محض کسی نیک یا بدکام کرلینے پر یہ جزاء و سزاء نہیں دی جائے گی، بلکہ جزاء و سزاء کے لئے موت کے وقت تک اس عمل نیک یا بد عمل کا قائم رہنا شرط ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے کوئی نیک عمل کیا، لیکن پھر اس کے کسی گناہ کی شامت سے وہ عمل حبط اور ضائع ہوگیا تو وہ اس عمل پر جزاء کا مستحق نہیں رہا، جیسے معاذ اللہ کفر و شرک تو سارے ہی اعمال صالحہ کو برباد کردیتا ہے، اس کے علاوہ اور بھی بہت سے گناہ ایسے ہیں جو بعض اعمال صالحہ کو باطل اور بےاثر کردیتے ہیں، جیسے قرآن کریم میں ہے (آیت) لا تبطلوا صدقتکم بالمن والاذی ،” یعنی تم اپنے صدقات کو احسان جتلا کر یا ایذا پہنچا کر باطل اور ضائع نہ کرو “۔- اس سے معلوم ہوا کہ صدقہ کا عمل صالح احسان جتانے یا ایذاء پہنچانے سے باطل اور ضائع ہوجاتا ہے، اسی طرح حدیث میں ہے کہ مسجد میں بیٹھ کر دنیا کی باتیں کرنا نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا لیتی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ مسجد میں جو اعمال صالحہ نوافل اور تسبیح وغیرہ کے لئے ہیں، وہ دنیا کی باتیں کرنے سے ضائع ہوجاتے ہیں۔- اسی طرح برے اعمال سے اگر توبہ کرلی تو وہ گناہ نامہ اعمال سے مٹا دیا جاتا ہے، موت کے وقت تک باقی نہیں رہتا، اس لئے …

Al-An'aam 6:160Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.