۞ قُلْ تَعَالَوْا۟ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ ۖ أَلَّا تُشْرِكُوا۟ بِهِۦ شَيْـًۭٔا ۖ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَٰنًۭا ۖ وَلَا تَقْتُلُوٓا۟ أَوْلَٰدَكُم مِّنْ إِمْلَٰقٍۢ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ ۖ وَلَا تَقْرَبُوا۟ ٱلْفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ۖ وَلَا تَقْتُلُوا۟ ٱلنَّفْسَ ٱلَّتِى حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلْحَقِّ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
کہہ کہ (لوگو) آؤ میں تمہیں وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جو تمہارے پروردگار نے تم پر حرام کر دی ہیں (ان کی نسبت اس نے اس طرح ارشاد فرمایا ہے) کہ کسی چیز کو خدا کا شریک نہ بنانا اور ماں باپ (سے بدسلوکی نہ کرنا بلکہ) سلوک کرتے رہنا اور ناداری (کے اندیشے) سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا کیونکہ تم کو اور ان کو ہم ہی رزق دیتے ہیں اور بےحیائی کے کام ظاہر ہوں یا پوشیدہ ان کے پاس نہ پھٹکنا اور کسی جان (والے) کو جس کے قتل کو خدا نے حرام کر دیا ہے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی جس کا شریعت حکم دے) ان باتوں کا وہ تمہیں ارشاد فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو
خلاصہ تفسیر - آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ان سے) کہئے کہ آؤ میں تم کو وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جن کو تمہارے رب نے تم پر حرام فرمایا ہے وہ (چیزیں یہ ہیں کہ ایک) یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراو (پس شریک ٹھہرانا حرام ہوا) اور (دوسرے یہ کہ) ماں باپ کے ساتھ احسان کیا کرو (پس ان سے بری طرح رہنا حرام ہوا) اور (تیسرے یہ کہ) اپنی اولاد کو افلاس کے سبب (جیسا کہ جاہلیت میں غالب عادت تھی) قتل مت کیا کرو (کیونکہ) ہم تم کو اور ان کو (دونوں کو) رزق (مقدر) دیں گے (وہ تمہارے رزق مقدر میں شریک نہیں ہیں، پھر کیوں قتل کرتے ہو، پس قتل کرنا حرام ہوا) اور (چوتھے یہ کہ) بےحیائی (یعنی بدکاری) کے جتنے طریقے ہیں ان کے پاس بھی مت جاو (پس زنا کرنا حرام ہوا) خواہ وہ علانیہ ہوں اور خواہ پوشیدہ ہوں (وہ طریقے یہی ہیں) اور (پانچویں یہ کہ) جس کا خون کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے اس کو قتل مت کرو، ہاں مگر حق (شرعی) پر (قتل جائز ہے مثلاً قصاص یا رجم میں، پس قتل ناحق حرام ہوا) اس (سب) کا تم کو (اللہ تعالیٰ نے) تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم (ان کو) سمجھو (اور سمجھ کر عمل کرو) اور (چھٹے یہ کہ) یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ (یعنی اس میں تصرف مت کرو) مگر ایسے طریقہ سے (تصرف کی اجازت ہے) جو کہ (شرعاً ) مستحسن ہے (مثلاً اس کے کام میں لگانا، اس کی حفاظت کرنا، اور بعض اولیاء اور اوصیاء کو اس میں یتیم کے لئے تجارت کرنے کی بھی اجازت ہے) یہاں تک کہ وہ اپنے سن بلوغ کو پہنچ جاوے (اس وقت تک ان تصرفات مذکورہ کو بھی اجازت ہے، اور پھر اس کا مال اس کو دے دیاجاوے گا بشرط سفیہہ نہ ہونے کے، پس تصرف غیر مشروع مال یتیم میں حرام ہوا) اور (ساتویں یہ کہ) ناپ اور تول پوری پوری کیا کرو، انصاف کے ساتھ (کہ کسی کا حق اپنے پاس نہ رہے، اور نہ آوے، پس اس میں دغا کرنا حرام ہوا، اور یہ احکام کچھ دشوار نہیں کیونکہ) ہم (تو) کسی شخص کو اس کے امکان سے زیادہ (احکام کی) تکلیف (بھی) نہیں دیتے (پھر ان احکام میں کوتاہی کیوں کی جاوے) اور (آٹھویں یہ کہ) جب تم (فیصلہ یا شہادت وغیرہ کے متعلق کوئی) بات کیا کرو (جیسی قسم یا نذر بشرط اس کے مشروع ہونے کے) اس کو پورا کیا کرو (پس اس کا عدم ایفاء حرام ہوا) ان (سب) کا اللہ تعالیٰ نے تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم یاد رکھو (اور عمل کرو) اور یہ (بھی کہہ دیجئے) کہ (کچھ انھیں احکام کی تخصیص نہیں بلکہ) یہ دین (اسلام اور اس کے تمام احکام) میرا رستہ ہے (جس کی طرف میں باذن الٓہی دعوت دیتا ہوں) جو کہ (بالکل) مستقیم (اور راست) ہے، سو اس راہ پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے (جن کی طرف میں دعوت کرتا ہوں) جدا (اور دور) کردیں گے، اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے، تاکہ تم (اس راہ کے خلاف کرنے سے) احتیاط رکھو۔ - معارف و مسائل - ان آیات سے پہلے تقریباً دو تین رکوع میں مسلسل یہ مضمون بیان ہو رہا ہے کہ غافل اور جاہل انسان نے زمین و آسمان کی ساری چیزوں کے پیدا کرنے والے احکم الحاکمین کا نازل کیا ہوا قانون چھوڑ کر آبائی اور من گھڑت رسموں کو اپنا دین بنا لیا، جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا تھا ان کو جائز سمجھ کر استعمال کرنے لگے، اور بہت سی چیزیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا تھا ان کو اپنے اوپر حرام کرلیا، اور بعض چیزوں کو مردوں کے لئے جائز عورتوں کے لئے حرام، بعض کو عورتوں کے لئے حلال مردوں کے لئے حرام قرار دیدیا۔- ان تین آیتوں میں ان چیزوں کا بیان ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے، تفصیلی بیان میں نو چیزوں کا ذکر ہے، اس کے بعد دسواں حکم اس طرح بیان فرمایا گیا کہ (آیت) ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ ” یعنی یہ دین میرا سیدھا راستہ ہے، اس پر چلو “۔ جس میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لائے ہوئے اور …