۞ وَهُوَ ٱلَّذِىٓ أَنشَأَ جَنَّٰتٍۢ مَّعْرُوشَٰتٍۢ وَغَيْرَ مَعْرُوشَٰتٍۢ وَٱلنَّخْلَ وَٱلزَّرْعَ مُخْتَلِفًا أُكُلُهُۥ وَٱلزَّيْتُونَ وَٱلرُّمَّانَ مُتَشَٰبِهًۭا وَغَيْرَ مُتَشَٰبِهٍۢ ۚ كُلُوا۟ مِن ثَمَرِهِۦٓ إِذَآ أَثْمَرَ وَءَاتُوا۟ حَقَّهُۥ يَوْمَ حَصَادِهِۦ ۖ وَلَا تُسْرِفُوٓا۟ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْمُسْرِفِينَ
اور خدا ہی تو ہے جس نے باغ پیدا کئے چھتریوں پر چڑھائے ہوئے بھی اور جو چھتریوں پر نہیں چڑھائے ہوئے وہ بھی اور کھجور اور کھیتی جن کے طرح طرح کے پھل ہوتے ہیں اور زیتون اور انار جو (بعض باتوں میں) ایک دوسرے سے ملتے ہیں جب یہ چیزیں پھلیں تو ان کے پھل کھاؤ اور جس دن (پھل توڑو اور کھیتی) کاٹو تو خدا کا حق بھی اس میں سے ادا کرو اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بیجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا
قول باری ہے ( وھوالذی انشا جنت معروشات و غیر معروشات وہ اللہ ہی ہے جس نے طرح طرح کے باغ اور تاکستان پیدا کیے) تا قول باری ( واتوا حقہ یوم حصادہ ۔ اور اللہ کا حق ادا کرو جب ان کی فصل کاٹو) حضرت ابن عبا س اور سدی کا قول ہے کہ ( معروشات) سے مراد وہ انگوری باغ ہیں جن کی بیلیں ٹٹیوں پر چڑھائی جاتی ہیں۔- ایک قول کے مطابق تعریش کا مفہوم یہ ہے کہ باے کو کسی دییوار کے ذریعے گھیر دیا جاتے۔ اس لفظ کے اصل معنی بلند کرنے کے ہیں۔ اس سے قول باری ( خاویۃ علی عروشھا) ہے۔ یعنی اپنی بلند کی ہوئی ٹٹیوں پر گر پڑی تھیں۔ عرش تخت کو کہتے ہیں) اس لیے کہ عرش زمین سے بلند ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے کھیت ، کھجور، زیتون اور انار کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ( کلوا من ثمرہ اذا اثمر واتو خقہ یوم حصادہ۔ کھائو ان کی پیداوار جب کہ یہ پھلیں اور اللہ کا حق ادا کرو جب ان کی فصل کاٹو) یہ ما قبل کی تمام مذکورہ چیزوں پر عطف ہے۔ یہ آیت زمین کی تمام پیداوار اور پھلوں میں جن کا ذکر آیت میں ہوا ہے۔ اللہ کے حق کے ایجاب کا مقتضی ہے۔ - عُشر - قول باری ( واتوا حقہ یوم حصادہ) سے کیا مراد ہے۔ اس بارے میں اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) ، جابر بن زید، محمد بن الحنفیہ، حسن بصری، سعید بن المسیب، طائوس، زید بن اسلم ، قتادہ اور ضحاک سے مروی ہے کہ اس سے عشر اور نصف عشر یعنی بیسواں حصہ مراد ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) ( ایک اور روایت کے مطابق) محمد بن الحنفیہ، سدی اور ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ اس آیت کے حکم نے عشر اور نص عشر کے حکم کو منسوخ کردیا ہے۔ حسن سے مروی ہے کہ زکوٰۃ کے حکم نے اسے منسوخ کردیا ہے۔ ضحاک کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے حکم نے قرآن میں مذکور یہ صدقہ کو منسو، کردیا ہے۔ حضرت ابن عمر (رض) اور مجاہد سے منقول ہے کہ یہ آیت محکم ہے یعنی منسوخ نہیں ہوئی۔ نیز یہ کہ فصل کی کٹائی کے موقعہ پر آیت میں مذکور حق واجب ہے اور یہ زکوٰۃ کے علاوہ ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے کہ آپ نے رات کے وقت کھجور اتارنے اور انگور توڑنے نیز فصل کاٹنے سے منع فرمایا ہے۔ سفیان بن عینیہ کا قول ہے کہ حدیث میں وارد ممانعت فقراء و مساکین کو فائدہ پہنچانے کی خاطر کی گئی ہے تا کہ وہ اس موقع پر اکٹھے ہو سکیں۔ مجاہد کا قول ہے کہ جب ” کٹائی ہوجائے تو مساکین کا حق الگ کردیا جائے۔ اسی طرخ ان کا حق الگ کر دو جب پیداوار کا تخمینہ لگائو اور جب فصل کاٹ کر ڈھیر لگا دو ، نیز مساکین کو فصل کاٹنے والوں کے پیچھے پیچھے رہنے کی اجازت دے دی جائے، اور جب تم فصل سے حاصل شدہ اناج کو ناپنا شروع کرو تو اس میں انہیں لَپ پھر کر دے دو ۔ جب تمہیں اس کی مقدار معلوم ہوجائے تو اس کی زکوٰۃ الگ کر دو ۔ جب کھجور اتارنے لگو تو مساکین کے لیے اس میں سے الگر کر دو ۔ - اسی طرح جب پھل کو تولنا شروع کرو تو اس وقت بھی انہیں اس میں سے کچھ دے دو اور جب تمہیں اس کی مقدار کا اندازہ ہوجائے تو اس کی زکوٰۃ الگ کر دو ۔ “ حضرت ابن عباس (رض) ، محمد بن الحنفیہ اور ابراہیم نخعی سے یہ جو مروی ہے کہ قول باری ( واتو حقہ یوم حصادہ کا حکم عشر اور نصف عشر کے حکم کی بنا پر منسوخ ہوگیا ہے اس سے ان حضرات کے اس مسلک کا پتہ چلتا ہے کہ قرآن کو سنت کے ذریعے منسوخ کردینا جائز ہے جس پیداوار پر عشر واجب ہوتا ہے اس کے متعلق فقہاء کے مابین دو طرح کا اختلاف ہے۔ ای تو یہ کہ پیداوار کی وہ کون کون سی اصناف ہیں جن میں عشر واجب ہوتا ہے اور دوسرے یہ کہ ان کی مقدار کیا ہے۔ - عشر واجب ہونے والی پیداوار کے متعلق اختلاف رائے کا ذکر - امام ابوحنیفہ اور زفر کا قول ہے کہ زمین سے حاصل ہونے والی ہر پیداوار پر عشر ہے صرف ایندھن کی لکڑی ، قصب ( ہر وہ لکڑی جس میں پورے اور گرہیں ہوں مثلاً بانس ، نرکل وغیرہ ) اور حشیش یعنی خشک گھاس اس سے مستثنیٰ ہیں۔ امام ابویوسف اور امام محمد قول ہے کہ زمین سے پیدا …