Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 11–20 of 165

11

قُلْ سِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ ثُمَّ ٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُكَذِّبِينَ

کہو کہ (اے منکرین رسالت) ملک میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا

دنیا میں آدمی کی گمراہی کا سبب یہ ہے کہ یہاں اس کو حق کے انکار کی پوری آزادی ملی ہوئی ہے۔ حتی کہ اس کو یہ موقع بھی حاصل ہے کہ وہ اپنے افکار کی خوب صورت توجیہہ کرسکے۔ امتحان کی اس دنیا میں اتنی وسعت ہے کہ یہاں الفاظ ہر اس مفہوم میں ڈھل جاتے ہیں جس میںانسان ان کو ڈھالنا چاہے۔ داعی اگر ایک عام انسان کے روپ میں ظاہر ہو تو آدمی اس کو یہ کہہ کر نظر انداز کرسکتا ہے کہ یہ ایک شخص کا قیادتی حوصلہ ہے، نہ کہ کوئی حق و صداقت کا معاملہ۔ اسی طرح اگر آسمان سے کوئی لکھی لکھائی کتاب اتر آئے تو اس کو رد کرنے کے لیے بھی وہ یہ الفاظ پا لے گا کہ یہ تو ایک جادو ہے۔

مکہ کے لوگ کہتے تھے کہ پیغمبراگر خدا کی طرف سے اس کی پیغام بری کے لیے مقرر کیا گیا ہے تو اس کے ساتھ خدا کے فرشتے کیوں نہیں جو اس کی تصدیق کریں۔ اس قسم کی باتیں آدمی اس لیے کہتا ہے کہ وہ دعوت کے معاملہ میں سنجیدہ نہیںہوتا۔ اگر وہ سنجیدہ ہو تو اس کو فوراً معلوم ہوجائے گا کہ یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ امتحان اسی وقت ہوسکتا ہے جب کہ غیبی حقیقتوں پر پردہ پڑاہوا ہو۔ اگر غیبی حقیقتیں کھل جائیں اور خدا اور اس کے فرشتے سامنے آجائیں تو پھر پیغمبري اور دعوت رسانی کا کوئی سوال ہی نہ ہوگا۔ کیوں کہ اس کے بعد کسی کو یہ جرأت ہی نہ ہوگی کہ وہ حقائق کا انکار کرسکے — موجودہ دنیا میں لوگ اپنی ظاہر پرستی کی وجہ سے خدا کے داعی کو اس کی باتوںکی عظمت میں نہیں دیکھ پاتے، وہ اس کا اندازہ صرف اس کے ظاہری پہلو کے اعتبار سے کرتے ہیں اور ظاہری اعتبار سے غیر اہم پاکر اس کا انکار کردیتے ہیں۔ حتی کہ وہ اس کا مذاق اڑانے لگتے ہیں۔ خدا کے داعی كا معاملہ ان کو ایسا معلوم ہوتاہے جیسے ایک معمولی آدمی اچانک اٹھ کر بہت بڑی حیثیت کا دعویٰ کرنے لگے۔

اس دنیا میں دعوت رسانی کا سارا معاملہ خدا کے قانون التباس کے تحت ہوتا ہے۔ یہاں حق کے اوپر ایک شبہ کا پہلو رکھا گیا ہے تاکہ آدمی اقرار کے دلائل کے ساتھ کچھ انکار کے وجوہ بھی پاسکتا ہو۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اس شبہ کے پردے کو پھاڑ کر اپنے کو یقین کے مقام پر پہنچائے۔ وہ شبہ کے پہلوؤں کو حذف کرکے یقین کے پہلوؤں کو لے لے۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ دیکھے بغیر مانے۔ جب حقیقت کو دکھا دیا جائے تو پھر ماننے کی کوئی قیمت نہیں۔

Al-An'aam 6:11Listen in Qur'an →
12

قُل لِّمَن مَّا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ قُل لِّلَّهِ ۚ كَتَبَ عَلَىٰ نَفْسِهِ ٱلرَّحْمَةَ ۚ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ ۚ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ

(ان سے) پوچھو کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے کس کا ہے کہہ دو خدا کا اس نے اپنی ذات (پاک) پر رحمت کو لازم کر لیا ہے وہ تم سب کو قیامت کے دن جس میں کچھ بھی شک نہیں ضرور جمع کرے گا جن لوگوں نے اپنے تیئیں نقصان میں ڈال رکھا ہے وہ ایمان نہیں لاتے

کچھ لوگ کھلے طور پر آخرت کا انکار کرتے ہیں۔ کچھ لوگ وہ ہیں جو زبان سے آخرت کا انکار نہیں کرتے مگر ان کے دل میں ساری اہمیت بس اسی دنیا کی ہوتی ہے۔ چنانچہ ان کی زندگی میں اور کھلے ہوئے منکرین کی زندگی میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ یہ دونوں گروہ باعتبار حقیقت ایک ہیں۔ اور دونوں ہی اللہ کے نزدیک آخرت کو جھٹلانے والے ہیں۔ ایک گروہ اگر زبانی طور پر اس کو جھٹلا رہا ہے تو دوسرا گروہ عملی طور پر۔

ایسے تمام لوگ خدا کے قانون کے مطابق ہلاکت میں پڑنے والے ہیں۔ پیغمبروں کے زمانہ میں یہ ہلاکت موجودہ دنیا میں سامنے آگئی اور بعد کے لوگوں کے لیے وہ آخرت میں سامنے آئے گی۔

Al-An'aam 6:12Listen in Qur'an →
13

۞ وَلَهُۥ مَا سَكَنَ فِى ٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ ۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ

اور جو مخلوق رات اور دن میں بستی ہے سب اسی کی ہے اور وہ سنتا جانتا ہے

انسان کھلے ہوئے حق کا انکار کرتاہے۔ وہ طاقت پاکر دوسروں کو ذلیل کرتاہے۔ ایک انسان دوسرے انسان کو اپنے ظلم کا نشانہ بناتا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ کیا انسان کو اس دنیا میں مطلق اقتدار حاصل ہے۔ کیا یہاں اس کا کوئی ہاتھ پکڑنے والا نہیں۔ کیا خدا کے یہاں تضاد ہے کہ اس نے بقیہ دنیا كو رحمت ومعنویت سے بھر رکھا ہے اور انسان کی دنیا کو ظلم اور بے انصافی سے۔ ایسا نہیں ہے۔ جو خدا زمین و آسمان کامالک ہے وہی خدا س مخلوق کا مالک بھی ہے جو دن کو متحرک ہوتی ہے اور راتوں کو قرار پکڑتی ہے۔ خدا جس طرح بقیہ کائنات کے لیے سراپا رحمت ہے اسی طرح وہ انسانوں کے لیے بھی سراپا رحمت ہے۔ فرق یہ ہے کہ بقیہ دنیا میں خدا کی رحمتوں کا ظہور اول دن سے ہے اور انسان کی دنیا میں اس کی رحمتوں کا کامل ظہور قیامت کے دن ہوگا۔

انسان ارادی مخلوق ہے اور اس سے ارادی عبادت مطلوب ہے۔ اسی سے یہ بات نکلتی ہے کہ جو لوگ اپنے ارادہ کا صحیح استعمال نہ کریں، وہ اس قابل نہیں کہ ان کو خدا کی رحمتوں میں حصہ دار بنایا جائے۔كیوں کہ انھوںنے اپنے مقصدِ تخلیق کو پورا نہ کیا۔ آزمائشی مدت پوری ہونے کے بعد سارے لوگ ایک نئی دنیا میں جمع كيے جائیں گے۔ اس دن خدا اسی طرح دنیا کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لے گا جس طرح آج وہ بقیہ کائنات کا انتظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہے۔ اس روز خدا کے انصاف کا ترازو کھڑا ہوگا۔ اس دن وہ لوگ سرفراز ہوں گے جنھوںنے حقیقتِ واقعہ کا اعتراف کرکے اپنے کو خدائی اطاعت میں دے دیا۔ اور وہ لوگ گھاٹے میں رہیں گے جنھوں نے حقیقتِ واقعہ کا اعتراف نہیں کیا اور خدا کی دنیا میں سرکشی اور ہٹ دھرمی کے طریقے پر چلتے رہے۔

انسان جب بھی سرکشی کرتاہے کسی آسرے پر کرتا ہے۔ مگر جن چیزوں کے آسرے پر انسان سرکشی کرتا ہے ان کی اس کائنات میں کوئی حقیقت نہیں۔ یہاں ہر چيزبے زور ہے، زور والا صرف ایک خدا ہے۔ سب اس کے محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔ اس لیے فیصلہ کے دن وہی شخص بامراد ہوگا جس نے حقیقی سہارے کو اپنا سہارا بنایا ہوگا، جس نے حقیقی دین کو اپنی زندگی کے دین کی حیثیت سے اختیار کیاہوگا۔

Al-An'aam 6:13Listen in Qur'an →
14

قُلْ أَغَيْرَ ٱللَّهِ أَتَّخِذُ وَلِيًّۭا فَاطِرِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَهُوَ يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ ۗ قُلْ إِنِّىٓ أُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ ۖ وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ

کہو کیا میں خدا کو چھوڑ کر کسی اور کو مددگار بناؤں کہ (وہی تو) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی (سب کو) کھانا دیتا ہے اور خود کسی سے کھانا نہیں لیتا (یہ بھی) کہہ دو کہ مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا ہوں اور یہ کہ تم (اے پیغمبر!) مشرکوں میں نہ ہونا

انسان کھلے ہوئے حق کا انکار کرتاہے۔ وہ طاقت پاکر دوسروں کو ذلیل کرتاہے۔ ایک انسان دوسرے انسان کو اپنے ظلم کا نشانہ بناتا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ کیا انسان کو اس دنیا میں مطلق اقتدار حاصل ہے۔ کیا یہاں اس کا کوئی ہاتھ پکڑنے والا نہیں۔ کیا خدا کے یہاں تضاد ہے کہ اس نے بقیہ دنیا كو رحمت ومعنویت سے بھر رکھا ہے اور انسان کی دنیا کو ظلم اور بے انصافی سے۔ ایسا نہیں ہے۔ جو خدا زمین و آسمان کامالک ہے وہی خدا س مخلوق کا مالک بھی ہے جو دن کو متحرک ہوتی ہے اور راتوں کو قرار پکڑتی ہے۔ خدا جس طرح بقیہ کائنات کے لیے سراپا رحمت ہے اسی طرح وہ انسانوں کے لیے بھی سراپا رحمت ہے۔ فرق یہ ہے کہ بقیہ دنیا میں خدا کی رحمتوں کا ظہور اول دن سے ہے اور انسان کی دنیا میں اس کی رحمتوں کا کامل ظہور قیامت کے دن ہوگا۔

انسان ارادی مخلوق ہے اور اس سے ارادی عبادت مطلوب ہے۔ اسی سے یہ بات نکلتی ہے کہ جو لوگ اپنے ارادہ کا صحیح استعمال نہ کریں، وہ اس قابل نہیں کہ ان کو خدا کی رحمتوں میں حصہ دار بنایا جائے۔كیوں کہ انھوںنے اپنے مقصدِ تخلیق کو پورا نہ کیا۔ آزمائشی مدت پوری ہونے کے بعد سارے لوگ ایک نئی دنیا میں جمع كيے جائیں گے۔ اس دن خدا اسی طرح دنیا کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لے گا جس طرح آج وہ بقیہ کائنات کا انتظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہے۔ اس روز خدا کے انصاف کا ترازو کھڑا ہوگا۔ اس دن وہ لوگ سرفراز ہوں گے جنھوںنے حقیقتِ واقعہ کا اعتراف کرکے اپنے کو خدائی اطاعت میں دے دیا۔ اور وہ لوگ گھاٹے میں رہیں گے جنھوں نے حقیقتِ واقعہ کا اعتراف نہیں کیا اور خدا کی دنیا میں سرکشی اور ہٹ دھرمی کے طریقے پر چلتے رہے۔

انسان جب بھی سرکشی کرتاہے کسی آسرے پر کرتا ہے۔ مگر جن چیزوں کے آسرے پر انسان سرکشی کرتا ہے ان کی اس کائنات میں کوئی حقیقت نہیں۔ یہاں ہر چيزبے زور ہے، زور والا صرف ایک خدا ہے۔ سب اس کے محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔ اس لیے فیصلہ کے دن وہی شخص بامراد ہوگا جس نے حقیقی سہارے کو اپنا سہارا بنایا ہوگا، جس نے حقیقی دین کو اپنی زندگی کے دین کی حیثیت سے اختیار کیاہوگا۔

Al-An'aam 6:14Listen in Qur'an →
15

قُلْ إِنِّىٓ أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّى عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍۢ

(یہ بھی) کہہ دو کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے

انسان کھلے ہوئے حق کا انکار کرتاہے۔ وہ طاقت پاکر دوسروں کو ذلیل کرتاہے۔ ایک انسان دوسرے انسان کو اپنے ظلم کا نشانہ بناتا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ کیا انسان کو اس دنیا میں مطلق اقتدار حاصل ہے۔ کیا یہاں اس کا کوئی ہاتھ پکڑنے والا نہیں۔ کیا خدا کے یہاں تضاد ہے کہ اس نے بقیہ دنیا كو رحمت ومعنویت سے بھر رکھا ہے اور انسان کی دنیا کو ظلم اور بے انصافی سے۔ ایسا نہیں ہے۔ جو خدا زمین و آسمان کامالک ہے وہی خدا س مخلوق کا مالک بھی ہے جو دن کو متحرک ہوتی ہے اور راتوں کو قرار پکڑتی ہے۔ خدا جس طرح بقیہ کائنات کے لیے سراپا رحمت ہے اسی طرح وہ انسانوں کے لیے بھی سراپا رحمت ہے۔ فرق یہ ہے کہ بقیہ دنیا میں خدا کی رحمتوں کا ظہور اول دن سے ہے اور انسان کی دنیا میں اس کی رحمتوں کا کامل ظہور قیامت کے دن ہوگا۔

انسان ارادی مخلوق ہے اور اس سے ارادی عبادت مطلوب ہے۔ اسی سے یہ بات نکلتی ہے کہ جو لوگ اپنے ارادہ کا صحیح استعمال نہ کریں، وہ اس قابل نہیں کہ ان کو خدا کی رحمتوں میں حصہ دار بنایا جائے۔كیوں کہ انھوںنے اپنے مقصدِ تخلیق کو پورا نہ کیا۔ آزمائشی مدت پوری ہونے کے بعد سارے لوگ ایک نئی دنیا میں جمع كيے جائیں گے۔ اس دن خدا اسی طرح دنیا کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لے گا جس طرح آج وہ بقیہ کائنات کا انتظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہے۔ اس روز خدا کے انصاف کا ترازو کھڑا ہوگا۔ اس دن وہ لوگ سرفراز ہوں گے جنھوںنے حقیقتِ واقعہ کا اعتراف کرکے اپنے کو خدائی اطاعت میں دے دیا۔ اور وہ لوگ گھاٹے میں رہیں گے جنھوں نے حقیقتِ واقعہ کا اعتراف نہیں کیا اور خدا کی دنیا میں سرکشی اور ہٹ دھرمی کے طریقے پر چلتے رہے۔

انسان جب بھی سرکشی کرتاہے کسی آسرے پر کرتا ہے۔ مگر جن چیزوں کے آسرے پر انسان سرکشی کرتا ہے ان کی اس کائنات میں کوئی حقیقت نہیں۔ یہاں ہر چيزبے زور ہے، زور والا صرف ایک خدا ہے۔ سب اس کے محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔ اس لیے فیصلہ کے دن وہی شخص بامراد ہوگا جس نے حقیقی سہارے کو اپنا سہارا بنایا ہوگا، جس نے حقیقی دین کو اپنی زندگی کے دین کی حیثیت سے اختیار کیاہوگا۔

Al-An'aam 6:15Listen in Qur'an →
16

مَّن يُصْرَفْ عَنْهُ يَوْمَئِذٍۢ فَقَدْ رَحِمَهُۥ ۚ وَذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْمُبِينُ

جس شخص سے اس روز عذاب ٹال دیا گیا اس پر خدا نے (بڑی) مہربانی فرمائی اور یہ کھلی کامیابی ہے

انسان کھلے ہوئے حق کا انکار کرتاہے۔ وہ طاقت پاکر دوسروں کو ذلیل کرتاہے۔ ایک انسان دوسرے انسان کو اپنے ظلم کا نشانہ بناتا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ کیا انسان کو اس دنیا میں مطلق اقتدار حاصل ہے۔ کیا یہاں اس کا کوئی ہاتھ پکڑنے والا نہیں۔ کیا خدا کے یہاں تضاد ہے کہ اس نے بقیہ دنیا كو رحمت ومعنویت سے بھر رکھا ہے اور انسان کی دنیا کو ظلم اور بے انصافی سے۔ ایسا نہیں ہے۔ جو خدا زمین و آسمان کامالک ہے وہی خدا س مخلوق کا مالک بھی ہے جو دن کو متحرک ہوتی ہے اور راتوں کو قرار پکڑتی ہے۔ خدا جس طرح بقیہ کائنات کے لیے سراپا رحمت ہے اسی طرح وہ انسانوں کے لیے بھی سراپا رحمت ہے۔ فرق یہ ہے کہ بقیہ دنیا میں خدا کی رحمتوں کا ظہور اول دن سے ہے اور انسان کی دنیا میں اس کی رحمتوں کا کامل ظہور قیامت کے دن ہوگا۔

انسان ارادی مخلوق ہے اور اس سے ارادی عبادت مطلوب ہے۔ اسی سے یہ بات نکلتی ہے کہ جو لوگ اپنے ارادہ کا صحیح استعمال نہ کریں، وہ اس قابل نہیں کہ ان کو خدا کی رحمتوں میں حصہ دار بنایا جائے۔كیوں کہ انھوںنے اپنے مقصدِ تخلیق کو پورا نہ کیا۔ آزمائشی مدت پوری ہونے کے بعد سارے لوگ ایک نئی دنیا میں جمع كيے جائیں گے۔ اس دن خدا اسی طرح دنیا کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لے گا جس طرح آج وہ بقیہ کائنات کا انتظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہے۔ اس روز خدا کے انصاف کا ترازو کھڑا ہوگا۔ اس دن وہ لوگ سرفراز ہوں گے جنھوںنے حقیقتِ واقعہ کا اعتراف کرکے اپنے کو خدائی اطاعت میں دے دیا۔ اور وہ لوگ گھاٹے میں رہیں گے جنھوں نے حقیقتِ واقعہ کا اعتراف نہیں کیا اور خدا کی دنیا میں سرکشی اور ہٹ دھرمی کے طریقے پر چلتے رہے۔

انسان جب بھی سرکشی کرتاہے کسی آسرے پر کرتا ہے۔ مگر جن چیزوں کے آسرے پر انسان سرکشی کرتا ہے ان کی اس کائنات میں کوئی حقیقت نہیں۔ یہاں ہر چيزبے زور ہے، زور والا صرف ایک خدا ہے۔ سب اس کے محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔ اس لیے فیصلہ کے دن وہی شخص بامراد ہوگا جس نے حقیقی سہارے کو اپنا سہارا بنایا ہوگا، جس نے حقیقی دین کو اپنی زندگی کے دین کی حیثیت سے اختیار کیاہوگا۔

Al-An'aam 6:16Listen in Qur'an →
17

وَإِن يَمْسَسْكَ ٱللَّهُ بِضُرٍّۢ فَلَا كَاشِفَ لَهُۥٓ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِن يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍۢ فَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ

اور اگر خدا تم کو کوئی سختی پہنچائے تو اس کے سوا اس کو کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر نعمت (وراحت) عطا کرے تو (کوئی اس کو روکنے والا نہیں) وہ ہر چیز پر قادر ہے

ہمارے سامنے جو عظیم کائنات پھیلی ہوئی ہے اس کے مختلف اجزاء باہم اتنے زیادہ مربوط ہیں کہ یہاں کسی ایک واقعہ کو ظہور میں لانے کے لیے بھی پوری کائنات کی مساعدت ضروری ہے۔ اس بنا پر کوئی بھی انسان کسی واقعہ کو ظہور میں لانے پر قادر نہیں۔ کیوں کہ کوئی بھی انسان کائنات کے اوپر قابو یافتہ نہیں۔ یہاں ایک چھوٹی سی چیز بھی اس وقت وقوع میں آتی ہے جب کہ بے شمار عالمی اسباب اس کی پشت پر جمع ہوگئے ہوں۔ اور خدا کے سوا کوئی نہیں جو ان اسباب پر حکمراں ہو۔ کائناتی اسباب کے درمیان آدمی صرف ایک حقیر ارادہ کا مالک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کسی کو کوئی سکھ ملے یا کسی کو کوئی دکھ پہنچے، دونوں ہی براہ راست خدا کی اجازت کے تحت ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں کسی کا یہ سوچنا بھی حماقت ہے کہ وہ کسی کو آباد یا برباد کرسکتا ہے۔ اور یہ بات بھی مضحکہ خیز حد تک بے معنی ہے کہ خداکے سوا بھي کوئی هے جس سے آدمی ڈرے یا خدا کے سوا بھي کوئی ہے جس سے وہ اپنی امیدیں وابستہ کرے۔

دنیا میں اہل حق اور اہل باطل کے درمیان جو کش مکش جاری ہے اس میں فیصلہ کن چیز صرف خدا کی کتاب ہے۔ خدا کے سوا کسی کو حقائق کا علم نہیں، اور خدا کے سوا کسی کو کسی قسم کا زور حاصل نہیں۔اس لیے خدا ہی وہ ہستی ہے جو اس جھگڑے میںواحد ثالث ہے۔ اور خدا نے قرآن کی صورت میں یہ ثالث لوگوں کے درمیان رکھ دیا ہے اب آدمی کے سامنے دو ہی راستے ہیں۔ اگر وہ قرآن کی صداقت سے بے خبر ہے تو وہ تحقیق کرکے جانے کہ کیا واقعۃً وہ خدا کی کتاب ہے۔ اور جب وہ جان لے کہ وہ فی الواقع خدا کی کتاب ہے تو اس کو لازماً اس کے فیصلہ پر راضی ہوجانا چاہیے۔ جو آدمی قرآن کے فیصلہ پر راضی نہ ہو وہ یہ خطرہ مول لے رہا ہے کہ آخرت میں رسوائی اور عذاب کی قیمت پر اس کو اس کے فیصلہ پر راضی ہونا پڑے۔

قرآن اس لیے اتارا گیا ہے کہ فیصلہ کا وقت آنے سے پہلے لوگوں کو آنے والے وقت سے ہوشیار کردیا جائے۔ رسول نے یہی کام اپنے زمانہ میں کیا اور آپ کی امت کو یہی کام آپ کے بعد قیامت تک انجام دینا ہے۔ قرآن اس بات کی پیشگی اطلاع ہے کہ آخرت کی ابدی دنیا میں لوگوں کا خدا لوگوں کے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہے۔ پہنچانے والے اس وقت اپنی ذمہ داری سے سبک دوش ہوجاتے ہیں جب کہ وہ اس کو پوری طرح لوگوں تک پہنچا دیں۔ مگر سننے والے خدا کے یہاں اس وقت سبک دوش ہوں گے جب کہ وہ اس کو مانیں اور اس کو اپنی عملی زندگی میں اختیار کریں۔ داعی کی ذمہ داری ’’تبلیغ‘‘ پر ختم ہوتی ہے اور مدعو کی ذمہ داری ’’اطاعت‘‘ پر۔

Al-An'aam 6:17Listen in Qur'an →
18

وَهُوَ ٱلْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِۦ ۚ وَهُوَ ٱلْحَكِيمُ ٱلْخَبِيرُ

اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہ دانا اور خبردار ہے

ہمارے سامنے جو عظیم کائنات پھیلی ہوئی ہے اس کے مختلف اجزاء باہم اتنے زیادہ مربوط ہیں کہ یہاں کسی ایک واقعہ کو ظہور میں لانے کے لیے بھی پوری کائنات کی مساعدت ضروری ہے۔ اس بنا پر کوئی بھی انسان کسی واقعہ کو ظہور میں لانے پر قادر نہیں۔ کیوں کہ کوئی بھی انسان کائنات کے اوپر قابو یافتہ نہیں۔ یہاں ایک چھوٹی سی چیز بھی اس وقت وقوع میں آتی ہے جب کہ بے شمار عالمی اسباب اس کی پشت پر جمع ہوگئے ہوں۔ اور خدا کے سوا کوئی نہیں جو ان اسباب پر حکمراں ہو۔ کائناتی اسباب کے درمیان آدمی صرف ایک حقیر ارادہ کا مالک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کسی کو کوئی سکھ ملے یا کسی کو کوئی دکھ پہنچے، دونوں ہی براہ راست خدا کی اجازت کے تحت ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں کسی کا یہ سوچنا بھی حماقت ہے کہ وہ کسی کو آباد یا برباد کرسکتا ہے۔ اور یہ بات بھی مضحکہ خیز حد تک بے معنی ہے کہ خداکے سوا بھي کوئی هے جس سے آدمی ڈرے یا خدا کے سوا بھي کوئی ہے جس سے وہ اپنی امیدیں وابستہ کرے۔

دنیا میں اہل حق اور اہل باطل کے درمیان جو کش مکش جاری ہے اس میں فیصلہ کن چیز صرف خدا کی کتاب ہے۔ خدا کے سوا کسی کو حقائق کا علم نہیں، اور خدا کے سوا کسی کو کسی قسم کا زور حاصل نہیں۔اس لیے خدا ہی وہ ہستی ہے جو اس جھگڑے میںواحد ثالث ہے۔ اور خدا نے قرآن کی صورت میں یہ ثالث لوگوں کے درمیان رکھ دیا ہے اب آدمی کے سامنے دو ہی راستے ہیں۔ اگر وہ قرآن کی صداقت سے بے خبر ہے تو وہ تحقیق کرکے جانے کہ کیا واقعۃً وہ خدا کی کتاب ہے۔ اور جب وہ جان لے کہ وہ فی الواقع خدا کی کتاب ہے تو اس کو لازماً اس کے فیصلہ پر راضی ہوجانا چاہیے۔ جو آدمی قرآن کے فیصلہ پر راضی نہ ہو وہ یہ خطرہ مول لے رہا ہے کہ آخرت میں رسوائی اور عذاب کی قیمت پر اس کو اس کے فیصلہ پر راضی ہونا پڑے۔

قرآن اس لیے اتارا گیا ہے کہ فیصلہ کا وقت آنے سے پہلے لوگوں کو آنے والے وقت سے ہوشیار کردیا جائے۔ رسول نے یہی کام اپنے زمانہ میں کیا اور آپ کی امت کو یہی کام آپ کے بعد قیامت تک انجام دینا ہے۔ قرآن اس بات کی پیشگی اطلاع ہے کہ آخرت کی ابدی دنیا میں لوگوں کا خدا لوگوں کے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہے۔ پہنچانے والے اس وقت اپنی ذمہ داری سے سبک دوش ہوجاتے ہیں جب کہ وہ اس کو پوری طرح لوگوں تک پہنچا دیں۔ مگر سننے والے خدا کے یہاں اس وقت سبک دوش ہوں گے جب کہ وہ اس کو مانیں اور اس کو اپنی عملی زندگی میں اختیار کریں۔ داعی کی ذمہ داری ’’تبلیغ‘‘ پر ختم ہوتی ہے اور مدعو کی ذمہ داری ’’اطاعت‘‘ پر۔

Al-An'aam 6:18Listen in Qur'an →
19

قُلْ أَىُّ شَىْءٍ أَكْبَرُ شَهَٰدَةًۭ ۖ قُلِ ٱللَّهُ ۖ شَهِيدٌۢ بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ ۚ وَأُوحِىَ إِلَىَّ هَٰذَا ٱلْقُرْءَانُ لِأُنذِرَكُم بِهِۦ وَمَنۢ بَلَغَ ۚ أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ ٱللَّهِ ءَالِهَةً أُخْرَىٰ ۚ قُل لَّآ أَشْهَدُ ۚ قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَٰهٌۭ وَٰحِدٌۭ وَإِنَّنِى بَرِىٓءٌۭ مِّمَّا تُشْرِكُونَ

ان سے پوچھو کہ سب سے بڑھ کر (قرین انصاف) کس کی شہادت ہے کہہ دو کہ خدا ہی مجھ میں اور تم میں گواہ ہے اور یہ قرآن مجھ پر اس لیے اتارا گیا ہے کہ اس کے ذریعے سے تم کو اور جس شخص تک وہ پہنچ سکے آگاہ کردوں کیا تم لوگ اس بات کی شہادت دیتے ہو کہ خدا کے ساتھ اور بھی معبود ہیں (اے محمدﷺ!) کہہ دو کہ میں تو (ایسی) شہادت نہیں دیتا کہہ دو کہ صرف وہی ایک معبود ہے اور جن کو تم لوگ شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں

ہمارے سامنے جو عظیم کائنات پھیلی ہوئی ہے اس کے مختلف اجزاء باہم اتنے زیادہ مربوط ہیں کہ یہاں کسی ایک واقعہ کو ظہور میں لانے کے لیے بھی پوری کائنات کی مساعدت ضروری ہے۔ اس بنا پر کوئی بھی انسان کسی واقعہ کو ظہور میں لانے پر قادر نہیں۔ کیوں کہ کوئی بھی انسان کائنات کے اوپر قابو یافتہ نہیں۔ یہاں ایک چھوٹی سی چیز بھی اس وقت وقوع میں آتی ہے جب کہ بے شمار عالمی اسباب اس کی پشت پر جمع ہوگئے ہوں۔ اور خدا کے سوا کوئی نہیں جو ان اسباب پر حکمراں ہو۔ کائناتی اسباب کے درمیان آدمی صرف ایک حقیر ارادہ کا مالک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کسی کو کوئی سکھ ملے یا کسی کو کوئی دکھ پہنچے، دونوں ہی براہ راست خدا کی اجازت کے تحت ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں کسی کا یہ سوچنا بھی حماقت ہے کہ وہ کسی کو آباد یا برباد کرسکتا ہے۔ اور یہ بات بھی مضحکہ خیز حد تک بے معنی ہے کہ خداکے سوا بھي کوئی هے جس سے آدمی ڈرے یا خدا کے سوا بھي کوئی ہے جس سے وہ اپنی امیدیں وابستہ کرے۔

دنیا میں اہل حق اور اہل باطل کے درمیان جو کش مکش جاری ہے اس میں فیصلہ کن چیز صرف خدا کی کتاب ہے۔ خدا کے سوا کسی کو حقائق کا علم نہیں، اور خدا کے سوا کسی کو کسی قسم کا زور حاصل نہیں۔اس لیے خدا ہی وہ ہستی ہے جو اس جھگڑے میںواحد ثالث ہے۔ اور خدا نے قرآن کی صورت میں یہ ثالث لوگوں کے درمیان رکھ دیا ہے اب آدمی کے سامنے دو ہی راستے ہیں۔ اگر وہ قرآن کی صداقت سے بے خبر ہے تو وہ تحقیق کرکے جانے کہ کیا واقعۃً وہ خدا کی کتاب ہے۔ اور جب وہ جان لے کہ وہ فی الواقع خدا کی کتاب ہے تو اس کو لازماً اس کے فیصلہ پر راضی ہوجانا چاہیے۔ جو آدمی قرآن کے فیصلہ پر راضی نہ ہو وہ یہ خطرہ مول لے رہا ہے کہ آخرت میں رسوائی اور عذاب کی قیمت پر اس کو اس کے فیصلہ پر راضی ہونا پڑے۔

قرآن اس لیے اتارا گیا ہے کہ فیصلہ کا وقت آنے سے پہلے لوگوں کو آنے والے وقت سے ہوشیار کردیا جائے۔ رسول نے یہی کام اپنے زمانہ میں کیا اور آپ کی امت کو یہی کام آپ کے بعد قیامت تک انجام دینا ہے۔ قرآن اس بات کی پیشگی اطلاع ہے کہ آخرت کی ابدی دنیا میں لوگوں کا خدا لوگوں کے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہے۔ پہنچانے والے اس وقت اپنی ذمہ داری سے سبک دوش ہوجاتے ہیں جب کہ وہ اس کو پوری طرح لوگوں تک پہنچا دیں۔ مگر سننے والے خدا کے یہاں اس وقت سبک دوش ہوں گے جب کہ وہ اس کو مانیں اور اس کو اپنی عملی زندگی میں اختیار کریں۔ داعی کی ذمہ داری ’’تبلیغ‘‘ پر ختم ہوتی ہے اور مدعو کی ذمہ داری ’’اطاعت‘‘ پر۔

Al-An'aam 6:19Listen in Qur'an →
20

ٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ يَعْرِفُونَهُۥ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَآءَهُمُ ۘ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ ان (ہمارے پیغمبرﷺ) کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانا کرتے ہیں جنہوں نے اپنے تئیں نقصان میں ڈال رکھا ہے وہ ایمان نہیں لاتے

حقیقت آدمی کے لیے جانی پہچانی چیز ہے۔ کیوں کہ وہ آدمی کی فطرت میں پیوست ہے اور کائنات میں ہر طرف خاموش زبان میں بول رہی ہے۔ یہود ونصاریٰ کا معاملہ اس باب میں اور بھی زیادہ آگے تھا۔ کیوں کہ ان کے انبیاء اور ان کے صحیفے ان کو قرآن اور پیغمبر آخر الزماں کے بارے میں صاف لفظوں میں پیشگی خبر دے چکے تھے، حتی کہ ان کے لیے اسے جاننا ایسا ہی تھا جیسا اپنے بیٹے کو جاننا۔

اس قدر کھلا ہوا ہونے کے باوجود انسان کیوں حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا۔ اس کی وجہ وقتی نقصان کا اندیشہ ہے۔ حقیقت کو ماننا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی اپنے کو بڑائی کے مقام سے اتارے، وہ تقلیدی ڈھانچہ سے باہر آئے، وہ ملے ہوئے فائدوں کو ترک کرے۔ آدمی یہ قربانی دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا اس لیے وہ حق کو بھی قبول نہیں کرتا۔ وقتی فائدے کی خاطر وہ اپنے کو ابدی گھاٹے میں ڈال دیتا ہے۔

اپنے اس موقف پر مطمئن رہنے کے لیے مزید یہ بات اس کو دھوکہ میں ڈالتی ہے کہ وہ امتحان کی اس دنیا میں ہمیشہ اپنے موافق توجیہات پانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ وہ سچائی کے حق میں ظاہر ہونے والے دلائل کو رد کرنے کے لیے جھوٹے الفاظ پالیتا ہے۔ حتی کہ یہاں اس کو یہ آزادی بھی حاصل ہے کہ حقیقت کی خود ساختہ تعبیر کرکے یہ کہہ سکے کہ سچائی عین وہی ہے جس پر میں قائم ہوں۔

جب بھی آدمی خدا کو چھوڑ کر دوسری چیزوں کو اپنا مرکز توجہ بناتا ہے تو دھیرے دھیرے ان چیزوں کے گرد تائیدی باتوں کا طلسم تیار ہوجاتا ہے۔ وہ موہوم آرزؤوں اور جھوٹی تمناؤں کا ایک خود ساختہ ہالہ بنالیتاہے جو اس کو اس فریب میں مبتلا رکھتے ہیں کہ اس نے بڑے مضبوط سہارے کو پکڑ رکھا ہے۔ مگر قیامت میں جب تمام پردے پھٹ جائیں گے اور آدمی دیکھے گا کہ خدا کےسوا تمام سہارے بالکل جھوٹے تھے تو اس کے سامنے اس کے سوا کوئی راہ نہ ہوگی کہ وہ خود اپنی کہی ہوئی باتوں کی تردید کرنے لگے۔ گویا اس قسم کے لوگ اس وقت خود اپنے خلاف جھوٹے گواہ بن جائیں گے۔ دنیامیں وہ جن چیزوں کے حامی بنے رہے اور جن سے منسوب ہونے کو اپنے ليے باعث فخر سمجھتے رہے ،آخر ت میں خود ان کے منکر ہوجائیں گے۔ انھوں نے عقائد اور توجیہات کا جو جھوٹا قلعہ کھڑا کیا تھا وہ اس طرح ڈھ جائے گا جیسے اس کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔

Al-An'aam 6:20Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.