Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 141–150 of 165

141

۞ وَهُوَ ٱلَّذِىٓ أَنشَأَ جَنَّٰتٍۢ مَّعْرُوشَٰتٍۢ وَغَيْرَ مَعْرُوشَٰتٍۢ وَٱلنَّخْلَ وَٱلزَّرْعَ مُخْتَلِفًا أُكُلُهُۥ وَٱلزَّيْتُونَ وَٱلرُّمَّانَ مُتَشَٰبِهًۭا وَغَيْرَ مُتَشَٰبِهٍۢ ۚ كُلُوا۟ مِن ثَمَرِهِۦٓ إِذَآ أَثْمَرَ وَءَاتُوا۟ حَقَّهُۥ يَوْمَ حَصَادِهِۦ ۖ وَلَا تُسْرِفُوٓا۟ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْمُسْرِفِينَ

اور خدا ہی تو ہے جس نے باغ پیدا کئے چھتریوں پر چڑھائے ہوئے بھی اور جو چھتریوں پر نہیں چڑھائے ہوئے وہ بھی اور کھجور اور کھیتی جن کے طرح طرح کے پھل ہوتے ہیں اور زیتون اور انار جو (بعض باتوں میں) ایک دوسرے سے ملتے ہیں جب یہ چیزیں پھلیں تو ان کے پھل کھاؤ اور جس دن (پھل توڑو اور کھیتی) کاٹو تو خدا کا حق بھی اس میں سے ادا کرو اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بیجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا

آیت ” نمبر 141 تا 142۔

اللہ وہ ذات ہے جس نے ابتداء ان باغات کو پیدا کیا لہذا وہی ہے جو ایک مردہ سے زندہ چیز کو نکالتا ہے ۔ ان باغوں میں سے کچھ تو ایسے ہیں جو تاکستان کی شکل کے ہیں اور انسان انہیں اگاتا ہے ۔ اور ان کے اردگرد باڑ لگاتا ہے اور کچھ نخلستان کی شکل کے ہیں ۔ جو خود ہی پیدا ہوتے ہیں اور ان کو انسان کی جانب سے کسی قسم کی اعانت کی ضرورت نہیں ہے ۔ کچھ اور فصلیں اس نے اگائیں ۔ زیتون اور انار اس نے پیدا کیے اور قسم قسم کے پھل ہیں جو ملتے جلتے بھی ہیں اور جدا جدا بھی ہیں ۔ پھر حیوانات بھی اس نے پیدا کیے جن میں سے بعض اونچے قد کے ہیں اور کچھ چھوٹے جسم کے ہیں اور وہ تمہارے کھانے کے لئے اور لباس کے لئے ہیں اور جن کے بالوں سے تم فرش وقالین بناتے ہو۔

اور یہ اللہ ہی ہے جس نے اس کرہ ارض پر رنگا رنگ زندہ مخلوقات کو پھیلایا اور اس مخلوقات کی رنگارنگی حیرت انگیز ہے ۔ اور پھر اس مخلوق کو ان فرائض کیلئے نہایت ہی ساز گار ماحول دیا جو انسان کو اس کرہ ارض پر ادا کرتے ہیں ان کو ان ضروریات کے لئے بھی موافق بنایا جو انسان کی زندگی کے لئے لابدی ہیں ۔ ان آیات و دلائل اور ان رنگا رنگ مخلوقات کو دیکھ کر ایک انسان کس طرح کچھ اثر لئے بغیر گزر سکتا ہے ۔ پھر بھی وہ اس مخلوق اور ان زرعی اجناس میں اللہ کے سوا کسی اور کی حاکمیت و اختیارات کو تسلیم کرتا ہے ۔

قرآن کریم بار بار اس رزق کا ذکر کرتا ہے جو انسان کے لئے اللہ نے اس کرہ ارض پر بکھیر دیا ہے اس متنوع رزق کو اس بات پر دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے کہ اگر رازق وہ ہے تو حاکم بھی وہی ہے ۔ انسانوں پر اس کی حکومت چلنی چاہئے ۔ اس لئے کہ جو خالق ہے ‘ رازق ہے ‘ رب ہے اور پوری زندگی میں کفیل ہے ‘ صرف وہی اس بات کا مستحق ہے کہ لوگ زرعی اجناس اور مویشیوں اور پوری زندگی کے معاملات میں اسے اپنا حاکم ‘ مختار اور قانون ساز سمجھیں ۔ اور اس میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہ ہو ۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے باغات اور پھلوں کے کئی مناظر کی طرف اشارہ کیا ہے مختلف قسم کے جانوروں کا ذکر کیا ہے اور بتلایا ہے کہ یہ تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کے انعامات ہیں۔ اس سے پہلے ان مناظر سے اللہ کی الوہیت اور خدائی پر استدلال کیا گیا ہے ۔ اور یہاں اللہ تعالیٰ ان چیزوں کے ذکر سے اپنے حق حکمرانی پر استدلال کرتا ہے ۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ الوہیت اور حاکمیت دراصل ایک ہی حقیقت ہے ۔ وہی حاکم ہے اور یہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے ۔

(لاالہ الا اللہ لا حاکم الا اللہ) اب فصلوں اور پھلوں کے ذکر کے بعد یہ حکم ہے ۔ ایک قانون کی طرف اشارہ ۔

آیت ” کُلُواْ مِن ثَمَرِہِ إِذَا أَثْمَرَ وَآتُواْ حَقَّہُ یَوْمَ حَصَادِہِ وَلاَ تُسْرِفُواْ إِنَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ (141)

” کھاؤ ان کی پیداوار جب کہ یہ پھلیں اور اللہ کا حق ادا کرو جب ان کی فصل کاٹو اور حد سے نہ گزرو کہ اللہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا “۔ یہاں یہ کہا گیا ہے کہ جب تم اس کی فصل کاٹو تو اللہ کا حق دو ‘ اس فقرے کی وجہ سے بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے ۔ لیکن ہم نے اس سورة کے مقدمہ میں اچھی طرح واضح کردیا ہے کہ یہ آیت مکی ہے ۔ اور اگر اس سورة سے اس آیت کو علیحدہ کردیاجائے تو بات مکمل نہیں ہوتی ۔ اس آیت سے قبل کا کلام اور بعد کا کلام ایک دوسرے سے اس وقت تک کٹ جاتا ہے جب تک یہ آیت مدینہ میں نازل نہیں ہوجاتی ‘ لہذا یہ بات درست نہیں ہے ۔ پھر ضروری نہیں ہے کہ اللہ کا حق جس کا اس سورة میں ذکر ہے وہ زکوۃ ہی ہو ۔ بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ اس سے مراد مقدمہ ہے ۔ رہی زکوۃ تو اپنی متعین شرح کے ساتھ تو وہ ہجرت کے بعد دوسرے سال میں فرض ہوئی ۔

آیت ” وَلاَ تُسْرِفُواْ إِنَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ (141)

” اور حد سے نہ گزرو کہ اللہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا “۔

یہ آیت کھانے پر بھی مناسب حد …

Al-An'aam 6:141Listen in Qur'an →
142

وَمِنَ ٱلْأَنْعَٰمِ حَمُولَةًۭ وَفَرْشًۭا ۚ كُلُوا۟ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيْطَٰنِ ۚ إِنَّهُۥ لَكُمْ عَدُوٌّۭ مُّبِينٌۭ

اور چارپایوں میں بوجھ اٹھانے والے (یعنی بڑے بڑے) بھی پیدا کئے اور زمین سے لگے ہوئے (یعنی چھوٹے چھوٹے) بھی (پس) خدا کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو وہ تمہارا صریح دشمن ہے

آیت ” نمبر 141 تا 142۔

اللہ وہ ذات ہے جس نے ابتداء ان باغات کو پیدا کیا لہذا وہی ہے جو ایک مردہ سے زندہ چیز کو نکالتا ہے ۔ ان باغوں میں سے کچھ تو ایسے ہیں جو تاکستان کی شکل کے ہیں اور انسان انہیں اگاتا ہے ۔ اور ان کے اردگرد باڑ لگاتا ہے اور کچھ نخلستان کی شکل کے ہیں ۔ جو خود ہی پیدا ہوتے ہیں اور ان کو انسان کی جانب سے کسی قسم کی اعانت کی ضرورت نہیں ہے ۔ کچھ اور فصلیں اس نے اگائیں ۔ زیتون اور انار اس نے پیدا کیے اور قسم قسم کے پھل ہیں جو ملتے جلتے بھی ہیں اور جدا جدا بھی ہیں ۔ پھر حیوانات بھی اس نے پیدا کیے جن میں سے بعض اونچے قد کے ہیں اور کچھ چھوٹے جسم کے ہیں اور وہ تمہارے کھانے کے لئے اور لباس کے لئے ہیں اور جن کے بالوں سے تم فرش وقالین بناتے ہو۔

اور یہ اللہ ہی ہے جس نے اس کرہ ارض پر رنگا رنگ زندہ مخلوقات کو پھیلایا اور اس مخلوقات کی رنگارنگی حیرت انگیز ہے ۔ اور پھر اس مخلوق کو ان فرائض کیلئے نہایت ہی ساز گار ماحول دیا جو انسان کو اس کرہ ارض پر ادا کرتے ہیں ان کو ان ضروریات کے لئے بھی موافق بنایا جو انسان کی زندگی کے لئے لابدی ہیں ۔ ان آیات و دلائل اور ان رنگا رنگ مخلوقات کو دیکھ کر ایک انسان کس طرح کچھ اثر لئے بغیر گزر سکتا ہے ۔ پھر بھی وہ اس مخلوق اور ان زرعی اجناس میں اللہ کے سوا کسی اور کی حاکمیت و اختیارات کو تسلیم کرتا ہے ۔

قرآن کریم بار بار اس رزق کا ذکر کرتا ہے جو انسان کے لئے اللہ نے اس کرہ ارض پر بکھیر دیا ہے اس متنوع رزق کو اس بات پر دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے کہ اگر رازق وہ ہے تو حاکم بھی وہی ہے ۔ انسانوں پر اس کی حکومت چلنی چاہئے ۔ اس لئے کہ جو خالق ہے ‘ رازق ہے ‘ رب ہے اور پوری زندگی میں کفیل ہے ‘ صرف وہی اس بات کا مستحق ہے کہ لوگ زرعی اجناس اور مویشیوں اور پوری زندگی کے معاملات میں اسے اپنا حاکم ‘ مختار اور قانون ساز سمجھیں ۔ اور اس میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہ ہو ۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے باغات اور پھلوں کے کئی مناظر کی طرف اشارہ کیا ہے مختلف قسم کے جانوروں کا ذکر کیا ہے اور بتلایا ہے کہ یہ تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کے انعامات ہیں۔ اس سے پہلے ان مناظر سے اللہ کی الوہیت اور خدائی پر استدلال کیا گیا ہے ۔ اور یہاں اللہ تعالیٰ ان چیزوں کے ذکر سے اپنے حق حکمرانی پر استدلال کرتا ہے ۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ الوہیت اور حاکمیت دراصل ایک ہی حقیقت ہے ۔ وہی حاکم ہے اور یہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے ۔

(لاالہ الا اللہ لا حاکم الا اللہ) اب فصلوں اور پھلوں کے ذکر کے بعد یہ حکم ہے ۔ ایک قانون کی طرف اشارہ ۔

آیت ” کُلُواْ مِن ثَمَرِہِ إِذَا أَثْمَرَ وَآتُواْ حَقَّہُ یَوْمَ حَصَادِہِ وَلاَ تُسْرِفُواْ إِنَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ (141)

” کھاؤ ان کی پیداوار جب کہ یہ پھلیں اور اللہ کا حق ادا کرو جب ان کی فصل کاٹو اور حد سے نہ گزرو کہ اللہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا “۔ یہاں یہ کہا گیا ہے کہ جب تم اس کی فصل کاٹو تو اللہ کا حق دو ‘ اس فقرے کی وجہ سے بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے ۔ لیکن ہم نے اس سورة کے مقدمہ میں اچھی طرح واضح کردیا ہے کہ یہ آیت مکی ہے ۔ اور اگر اس سورة سے اس آیت کو علیحدہ کردیاجائے تو بات مکمل نہیں ہوتی ۔ اس آیت سے قبل کا کلام اور بعد کا کلام ایک دوسرے سے اس وقت تک کٹ جاتا ہے جب تک یہ آیت مدینہ میں نازل نہیں ہوجاتی ‘ لہذا یہ بات درست نہیں ہے ۔ پھر ضروری نہیں ہے کہ اللہ کا حق جس کا اس سورة میں ذکر ہے وہ زکوۃ ہی ہو ۔ بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ اس سے مراد مقدمہ ہے ۔ رہی زکوۃ تو اپنی متعین شرح کے ساتھ تو وہ ہجرت کے بعد دوسرے سال میں فرض ہوئی ۔

آیت ” وَلاَ تُسْرِفُواْ إِنَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ (141)

” اور حد سے نہ گزرو کہ اللہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا “۔

یہ آیت کھانے پر بھی مناسب حد …

Al-An'aam 6:142Listen in Qur'an →
143

ثَمَٰنِيَةَ أَزْوَٰجٍۢ ۖ مِّنَ ٱلضَّأْنِ ٱثْنَيْنِ وَمِنَ ٱلْمَعْزِ ٱثْنَيْنِ ۗ قُلْ ءَآلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ ٱلْأُنثَيَيْنِ أَمَّا ٱشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۖ نَبِّـُٔونِى بِعِلْمٍ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

(یہ بڑے چھوٹے چارپائے) آٹھ قسم کے (ہیں) دو (دو) بھیڑوں میں سے اور دو (دو) بکریوں میں سے (یعنی ایک ایک نر اور اور ایک ایک مادہ) (اے پیغمبر ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادنیوں کو یا جو بچہ مادنیوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اسے اگر سچے ہو تو مجھے سند سے بتاؤ

آیت ” نمبر 142 تا 144۔

یہ مویشی جن کے بارے میں تنازعہ چل رہا ہے اور جن کے بارے میں آیت سابقہ میں یہ کہا گیا کہ یہ صرف اللہ کی مخلوق ہے ان کے آٹھ سیٹ ہیں لفظ ” ازواج “ اس وقت بولا جاتا ہے جب نر اور مادہ دونوں ہوں ‘ زوج کے معنے جوڑا ‘ ایک جوڑا بھیڑوں کا اور ایک بکریوں کا ۔ سوال یہ ہے کہ ان کو اللہ نے کن لوگوں پر حرام قرار دیا ہے ؟ یا انکے پیٹ میں جو جنین ہیں ان کے بارے میں حرمت کا حکم کہاں ہے ؟ـ اگر تم سچے ہو تو بناؤ۔

آیت ” نَبِّؤُونِیْ بِعِلْمٍ إِن کُنتُمْ صَادِقِیْنَ (143) اس لئے کہ حلال و حرام کے فیصلے محض ظن وتخمین سے تو نہیں ہو سکتے نہ ہی اٹکل بچو سے اس معاملے میں کوئی فتوی دیا جاسکتا ہے ۔ نہ اس بارے میں معلوم اور مسلم سند کے بغیر کوئی قانون بنایا جاسکتا ہے ۔

باقی جوڑے نر اونٹ اور مادہ اونٹ ‘ بیل اور گائے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ انکے بارے میں حلال وحرم کا حکم کہاں ہے ؟ یا ان کے جنین کے بارے میں حکم کہاں ہے اور کس نے دیا ہے ؟

آیت ” أَمْ کُنتُمْ شُہَدَاء إِذْ وَصَّاکُمُ اللّہُ بِہَـذَا “۔ (6 : 144) ” کیا تم اس وقت حاضر تھے جب اللہ نے ان کے حرام ہونے کا حکم دیا تھا ؟ “

یعنی تم حاضر تھے اور تم اس بات کے گواہ ہو کہ اللہ نے اس کا حکم تمہیں دیا ہے ۔ اس لئے کہ کوئی چیز حلال و حرام تو صرف اللہ کے حکم سے ہوسکتی ہے اور حکم بھی یقینی ہو ۔ محض ظن وتخمین سے اس معاملے میں بات نہیں ہو سکتی ۔

اس آیت سے معلوم ہوجاتا ہے کہ قانون ساز صرف اللہ ہے ۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ وہ جو قانون بناتے ہیں وہ قانون الہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اللہ فورا ان کو متنبہ کرتے ہیں ۔

آیت ” فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّہِ کَذِباً لِیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْْرِ عِلْمٍ إِنَّ اللّہَ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الظَّالِمِیْنَ (144)

” پھر اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کی طرف منسوب کرکے جھوٹی بات کہے تاکہ علم کے بغیر لوگوں کی راہنمائی کرے یقینا اللہ ظالموں کو راہ راست نہیں دکھاتا ۔ “

اس شخص سے بڑا ظالم اور کوئی نہیں ہے جو از خود قانون بنا کر اسے اللہ کا قانون بتلاتا ہے اور یہ دعوی کرتا ہے کہ یہ شریعت ہے ۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ عوام کالانعام کو گمراہ کرے ۔ ایسا شخص لوگوں کو محض ظن کی طرف بلاتا ہے جبکہ ایسے لوگوں کے لئے ہدایت کی راہ مسدود ہوچکی ہے ۔ انہوں نے غلط راہ کو اپنا لیا ہے اور اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرکے ظلم کا ارتکاب کیا ہے اور کسی ظالم کو اللہ راہ ہدایت نہیں دیتا ۔

اب جبکہ ان کے متعقدات ‘ تصورات اور ان کی عملی رسومات کے بودے پن کو ظاہر کردیا گیا اور یہ ثابت کردیا گیا کہ یہ سب کچھ محض وہمی ہے اور بےاصل ہے ‘ اور یہ بھی بتا دیا گیا کہ ان کے تصورات اور عقائد کسی علم و دلیل پر مبنی نہیں ہیں اور یہ کہ مویشیوں اور فصلوں کے بارے میں جو تصورات اور رسومات وہ رکھتے ہیں وہ یا تو انہوں نے از خود گھڑ لیے ہیں اور یا ان کے شیاطین نے ان پر القاء کئے ہیں حالانکہ یہ مویشی اور یہ فصل اور پھول پھل ان کے پیدا کردہ نہیں ہیں ۔ یہ تو اللہ کی تخلیق کے کمالات ہیں لہذا حاکمیت اور عبارت سب کی سب اللہ کے لئے مخصوص ہونی چاہیے ۔ اس لئے کہ مخلوق اس کی ہے ‘ رزق اس کا ہے اور لوگوں کو ہر قسم کے مال اس نے دیئے ہیں۔

اب اس تمہید کے بعد اللہ تعالیٰ بتلاتے ہیں کہ وہ کیا چیزیں ہیں جو اللہ نے حرام کی ہیں ۔ اور وہ چیزیں اللہ نے سچائی اور دلیل کی اساس پر حرام کی ہیں ‘ محض وہم و گمان کی بنا پر نہیں۔ کیونکہ اللہ وہی ذات ہے جس کو حاکمیت کا حق حاصل ہے ‘ جسے قانون سازی کا حق ہے ۔ یہ اللہ ہی کا منصب اور مقام ہے کہ وہ جس چیز کو حلال کرے اور وہ حلال ہے اور جس کو حرام کرے تو وہ حرام ہے ۔ اس کام میں کوئی انسان نہ شریک ہے اور نہ کوئی اس میں کسی قسم کی مداخلت کرسکتا ہے ۔ اللہ کی حاکمیت اور اس کی قانون سازی پر …

Al-An'aam 6:143Listen in Qur'an →
144

وَمِنَ ٱلْإِبِلِ ٱثْنَيْنِ وَمِنَ ٱلْبَقَرِ ٱثْنَيْنِ ۗ قُلْ ءَآلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ ٱلْأُنثَيَيْنِ أَمَّا ٱشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۖ أَمْ كُنتُمْ شُهَدَآءَ إِذْ وَصَّىٰكُمُ ٱللَّهُ بِهَٰذَا ۚ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًۭا لِّيُضِلَّ ٱلنَّاسَ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّٰلِمِينَ

اور دو (دو) اونٹوں میں سے اور دو (دو) گایوں میں سے (ان کے بارے میں بھی ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادنیوں کو یا جو بچہ مادنیوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اس کو بھلا جس وقت خدا نے تم کو اس کا حکم دیا تھا تم اس وقت موجود تھے؟ تو اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے تاکہ اِز راہ بے دانشی لوگوں کو گمراہ کرے کچھ شک نہیں کہ خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

آیت ” نمبر 142 تا 144۔

یہ مویشی جن کے بارے میں تنازعہ چل رہا ہے اور جن کے بارے میں آیت سابقہ میں یہ کہا گیا کہ یہ صرف اللہ کی مخلوق ہے ان کے آٹھ سیٹ ہیں لفظ ” ازواج “ اس وقت بولا جاتا ہے جب نر اور مادہ دونوں ہوں ‘ زوج کے معنے جوڑا ‘ ایک جوڑا بھیڑوں کا اور ایک بکریوں کا ۔ سوال یہ ہے کہ ان کو اللہ نے کن لوگوں پر حرام قرار دیا ہے ؟ یا انکے پیٹ میں جو جنین ہیں ان کے بارے میں حرمت کا حکم کہاں ہے ؟ـ اگر تم سچے ہو تو بناؤ۔

آیت ” نَبِّؤُونِیْ بِعِلْمٍ إِن کُنتُمْ صَادِقِیْنَ (143) اس لئے کہ حلال و حرام کے فیصلے محض ظن وتخمین سے تو نہیں ہو سکتے نہ ہی اٹکل بچو سے اس معاملے میں کوئی فتوی دیا جاسکتا ہے ۔ نہ اس بارے میں معلوم اور مسلم سند کے بغیر کوئی قانون بنایا جاسکتا ہے ۔

باقی جوڑے نر اونٹ اور مادہ اونٹ ‘ بیل اور گائے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ انکے بارے میں حلال وحرم کا حکم کہاں ہے ؟ یا ان کے جنین کے بارے میں حکم کہاں ہے اور کس نے دیا ہے ؟

آیت ” أَمْ کُنتُمْ شُہَدَاء إِذْ وَصَّاکُمُ اللّہُ بِہَـذَا “۔ (6 : 144) ” کیا تم اس وقت حاضر تھے جب اللہ نے ان کے حرام ہونے کا حکم دیا تھا ؟ “

یعنی تم حاضر تھے اور تم اس بات کے گواہ ہو کہ اللہ نے اس کا حکم تمہیں دیا ہے ۔ اس لئے کہ کوئی چیز حلال و حرام تو صرف اللہ کے حکم سے ہوسکتی ہے اور حکم بھی یقینی ہو ۔ محض ظن وتخمین سے اس معاملے میں بات نہیں ہو سکتی ۔

اس آیت سے معلوم ہوجاتا ہے کہ قانون ساز صرف اللہ ہے ۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ وہ جو قانون بناتے ہیں وہ قانون الہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اللہ فورا ان کو متنبہ کرتے ہیں ۔

آیت ” فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّہِ کَذِباً لِیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْْرِ عِلْمٍ إِنَّ اللّہَ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الظَّالِمِیْنَ (144)

” پھر اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کی طرف منسوب کرکے جھوٹی بات کہے تاکہ علم کے بغیر لوگوں کی راہنمائی کرے یقینا اللہ ظالموں کو راہ راست نہیں دکھاتا ۔ “

اس شخص سے بڑا ظالم اور کوئی نہیں ہے جو از خود قانون بنا کر اسے اللہ کا قانون بتلاتا ہے اور یہ دعوی کرتا ہے کہ یہ شریعت ہے ۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ عوام کالانعام کو گمراہ کرے ۔ ایسا شخص لوگوں کو محض ظن کی طرف بلاتا ہے جبکہ ایسے لوگوں کے لئے ہدایت کی راہ مسدود ہوچکی ہے ۔ انہوں نے غلط راہ کو اپنا لیا ہے اور اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرکے ظلم کا ارتکاب کیا ہے اور کسی ظالم کو اللہ راہ ہدایت نہیں دیتا ۔

اب جبکہ ان کے متعقدات ‘ تصورات اور ان کی عملی رسومات کے بودے پن کو ظاہر کردیا گیا اور یہ ثابت کردیا گیا کہ یہ سب کچھ محض وہمی ہے اور بےاصل ہے ‘ اور یہ بھی بتا دیا گیا کہ ان کے تصورات اور عقائد کسی علم و دلیل پر مبنی نہیں ہیں اور یہ کہ مویشیوں اور فصلوں کے بارے میں جو تصورات اور رسومات وہ رکھتے ہیں وہ یا تو انہوں نے از خود گھڑ لیے ہیں اور یا ان کے شیاطین نے ان پر القاء کئے ہیں حالانکہ یہ مویشی اور یہ فصل اور پھول پھل ان کے پیدا کردہ نہیں ہیں ۔ یہ تو اللہ کی تخلیق کے کمالات ہیں لہذا حاکمیت اور عبارت سب کی سب اللہ کے لئے مخصوص ہونی چاہیے ۔ اس لئے کہ مخلوق اس کی ہے ‘ رزق اس کا ہے اور لوگوں کو ہر قسم کے مال اس نے دیئے ہیں۔

اب اس تمہید کے بعد اللہ تعالیٰ بتلاتے ہیں کہ وہ کیا چیزیں ہیں جو اللہ نے حرام کی ہیں ۔ اور وہ چیزیں اللہ نے سچائی اور دلیل کی اساس پر حرام کی ہیں ‘ محض وہم و گمان کی بنا پر نہیں۔ کیونکہ اللہ وہی ذات ہے جس کو حاکمیت کا حق حاصل ہے ‘ جسے قانون سازی کا حق ہے ۔ یہ اللہ ہی کا منصب اور مقام ہے کہ وہ جس چیز کو حلال کرے اور وہ حلال ہے اور جس کو حرام کرے تو وہ حرام ہے ۔ اس کام میں کوئی انسان نہ شریک ہے اور نہ کوئی اس میں کسی قسم کی مداخلت کرسکتا ہے ۔ اللہ کی حاکمیت اور اس کی قانون سازی پر …

Al-An'aam 6:144Listen in Qur'an →
145

قُل لَّآ أَجِدُ فِى مَآ أُوحِىَ إِلَىَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍۢ يَطْعَمُهُۥٓ إِلَّآ أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًۭا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍۢ فَإِنَّهُۥ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ ٱللَّهِ بِهِۦ ۚ فَمَنِ ٱضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍۢ وَلَا عَادٍۢ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

کہو کہ جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں ان میں کوئی چیز جسے کھانے والا کھائے حرام نہیں پاتا بجز اس کے کہ وہ مرا ہوا جانور یا بہتا لہو یا سور کا گوشت کہ یہ سب ناپاک ہیں یا کوئی گناہ کی چیز ہو کہ اس پر خدا کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو اور اگر کوئی مجبور ہو جائے لیکن نہ تو نافرمانی کرے اور نہ حد سے باہر نکل جائے تو تمہارا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے

آیت ” نمبر 145 تا 146۔

” ابن جریر طبری لکھتے ہیں ” اللہ اپنے نبی سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں اے محمد ! ان لوگوں سے یہ کہہ دیں جنہوں نے اللہ کی پیدا کردہ فصلوں اور مویشیوں میں ایک حصہ اللہ کے لئے مخصوص کردیا ہے اور ایک حصہ اپنے ان معبودوں کے لئے مخصوص کردیا ہے جو خود انہوں نے اللہ کے شریک قرار دیئے ہیں ۔ جو یہ کہتے ہیں کہ یہ مویشی اور یہ فصل اور لوگوں کے ممنوع ہے اور اسے صرف وہی لوگ استعمال کرسکتے ہیں جن کے بارے میں ہم چاہیں یہ قانون وہ بزعم خود بناتے ہیں جو بعض جانوروں پر بار برداری کو حرام کرتے ہیں اور بعض جانور ایسے ہیں جن پر ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا جائز نہیں سمجھتے ۔ وہ بعض جانوروں کے پیٹ میں جنین کو اپنی عورتوں اور بیویوں کے لئے حرام قرار دیتے ہیں اور مردوں کے لئے حلال قرار دیتے ہیں ۔ وہ اللہ کے پیدا کردہ بعض دوسرے ارزاق کو حرام قرار دیتے ہیں اور اس پر مستزاد یہ کہ وہ یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ یہ قوانین و ضوابط اللہ کے بنائے ہوئے ہیں ۔ ان کے یہ کام شرک کے زمرے میں آتے ہیں ۔ ان سے پوچھو ! کہ آیا اللہ کی جانب سے کوئی رسول آیا تھا جس نے ان چیزوں کو حرام قرار دیا تو بتاؤ وہ کون سا رسول تھا یا اللہ نے جب ان چیزوں کو حرام قرار دیا تو تم خود اس مجلس میں موجود تھے ۔ تم نے خود اللہ سے سنا ہے کہ یہ چیزیں حرام ہیں۔ اگر تم ایسا دعوی کرو تو بادی النظر میں یہ جھوٹا ہوگا اور تم عقلا ایسا دعوی کر ہی نہیں سکتے ۔ اگر تم ایسا دعوی کرو تو تمام جہان تمہاری تکذیب کر دے گا ۔ رہا یہ میرا معاملہ ‘ تو میرے اوپر جو کتاب قرآن نازل ہو رہی ہے اس میں کسی شخص پر کوئی ایسی چیز حرام نہیں ہے جس کو تم حرام قرار دیتے ہو اور بزعم کود ” تم “ حرام قرار دیتے ہو ۔ میرے اوپر اللہ نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ یہ ہیں کہ کوئی جانور مردار ہوگیا ہو ‘ بغیر ذبح کے مر گیا ہو یا بہایا ہوا خون ہو ‘ یا خنزیر کا گوشت حرام ہے اس لیے کہ یہ ناپاک ہے ‘ یا وہ گوشت جو فسق کا ہو ‘ مثلا وہ ذبیحہ جو مشرکین بتوں پر ذبح کرتے ہیں ‘ اپنے بتوں اور آستانوں پر اور ان پر بتوں کا نام لیا گیا ہو ‘ یہ ذبح اسلام میں فسق تصور ہوتا ہے ‘ اسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے اور ایسا کرنے کو ممنوع قرار دیا ہے ۔ یہ مردار تصور ہوتا ہے اور اس کا کھانا حرام ہے ۔ “

یہ اللہ کی جانب سے اعلان ہے ان مشرکین کے لئے جو حضور اکرم ﷺ کے ساتھ اور آپ کے ساتھیوں کے ساتھ مردار کی حلت و حرمت کے مسئلے میں مجادلہ کرتے تھے کہ وہ جن چیزوں میں مجادلہ کرتے ہیں ان میں سے بعض اشیاء تو حرام ہیں جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے اور بعض اشیاء حلال ہیں جنہیں اللہ نے قرار دیا ہے ۔ ان حلال چیزوں کی حرمت کی نسبت جو وہ اللہ کی طرف کرتے ہیں اس میں وہ جھوٹے ہیں ۔ ابن جریر آیت (فمن اضطر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ) کی تفسیر میں کہتے ہیں : ” اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ نے مردار ‘ خون ‘ لحم خنزیر یا بتوں کے نام پر ذبح ہونے والے جانوروں کو حرام قرار دیا لیکن اگر کوئی اس کے کھانے پر مجبور ہوجائے ‘ بطور حکم عدولی نہ کھا رہا ہو اور یہ نہ ہو کہ حالت اضطرار میں نہ ہو اور اسی طرح وہ جان بوجھ کر حدود سے تجاوز نہ کر رہا ہو اور حد ضرورت کے اندر کھا رہا ہومثلا صرف اس قدر کھا رہا ہو کہ اس کی زندگی بچ جائے ‘ اس سے زیادہ نہ کھا رہا ہو تو اس قدر کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ بیشک اللہ غفور ورحیم ہے اور وہ اس کی پردہ پوشی کرنے والا ہے ۔ اس پر اس کو کوئی سزا نہ ہوگی اور گناہ بخش دیا جائے گا ‘ یہ ہے مفہوم غفور کا ۔ اور رحیم اس لئے ہے کہ اس نے لوگوں پر رحم کرکے بوقت مجبوری جواز کا حکم دیا ۔ ورنہ اگر وہ چاہتا تو وہ ان چیزوں کے استعمال کو ہر حال میں حرام کردیتا۔ “

رہی وہ مقدار جو ان چیزوں سے کھائی جاسکتی ہے تو اس بارے میں فقہاء کے درمیان اختلافات ہیں ۔ ایک رائے یہ ہے کہ وہ صرف اسی قدر کھائے گا جس سے …

Al-An'aam 6:145Listen in Qur'an →
146

وَعَلَى ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ حَرَّمْنَا كُلَّ ذِى ظُفُرٍۢ ۖ وَمِنَ ٱلْبَقَرِ وَٱلْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَآ إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَآ أَوِ ٱلْحَوَايَآ أَوْ مَا ٱخْتَلَطَ بِعَظْمٍۢ ۚ ذَٰلِكَ جَزَيْنَٰهُم بِبَغْيِهِمْ ۖ وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ

اور یہودیوں پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کر دئیے تھے اور گایوں اور بکریوں سے ان کی چربی حرام کر دی تھی سوا اس کے جو ان کی پیٹھ پر لگی ہو یا اوجھڑی میں ہو یا ہڈی میں ملی ہو یہ سزا ہم نے ان کو ان کی شرارت کے سبب دی تھی اور ہم تو سچ کہنے والے ہیں

آیت ” نمبر 145 تا 146۔

” ابن جریر طبری لکھتے ہیں ” اللہ اپنے نبی سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں اے محمد ! ان لوگوں سے یہ کہہ دیں جنہوں نے اللہ کی پیدا کردہ فصلوں اور مویشیوں میں ایک حصہ اللہ کے لئے مخصوص کردیا ہے اور ایک حصہ اپنے ان معبودوں کے لئے مخصوص کردیا ہے جو خود انہوں نے اللہ کے شریک قرار دیئے ہیں ۔ جو یہ کہتے ہیں کہ یہ مویشی اور یہ فصل اور لوگوں کے ممنوع ہے اور اسے صرف وہی لوگ استعمال کرسکتے ہیں جن کے بارے میں ہم چاہیں یہ قانون وہ بزعم خود بناتے ہیں جو بعض جانوروں پر بار برداری کو حرام کرتے ہیں اور بعض جانور ایسے ہیں جن پر ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا جائز نہیں سمجھتے ۔ وہ بعض جانوروں کے پیٹ میں جنین کو اپنی عورتوں اور بیویوں کے لئے حرام قرار دیتے ہیں اور مردوں کے لئے حلال قرار دیتے ہیں ۔ وہ اللہ کے پیدا کردہ بعض دوسرے ارزاق کو حرام قرار دیتے ہیں اور اس پر مستزاد یہ کہ وہ یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ یہ قوانین و ضوابط اللہ کے بنائے ہوئے ہیں ۔ ان کے یہ کام شرک کے زمرے میں آتے ہیں ۔ ان سے پوچھو ! کہ آیا اللہ کی جانب سے کوئی رسول آیا تھا جس نے ان چیزوں کو حرام قرار دیا تو بتاؤ وہ کون سا رسول تھا یا اللہ نے جب ان چیزوں کو حرام قرار دیا تو تم خود اس مجلس میں موجود تھے ۔ تم نے خود اللہ سے سنا ہے کہ یہ چیزیں حرام ہیں۔ اگر تم ایسا دعوی کرو تو بادی النظر میں یہ جھوٹا ہوگا اور تم عقلا ایسا دعوی کر ہی نہیں سکتے ۔ اگر تم ایسا دعوی کرو تو تمام جہان تمہاری تکذیب کر دے گا ۔ رہا یہ میرا معاملہ ‘ تو میرے اوپر جو کتاب قرآن نازل ہو رہی ہے اس میں کسی شخص پر کوئی ایسی چیز حرام نہیں ہے جس کو تم حرام قرار دیتے ہو اور بزعم کود ” تم “ حرام قرار دیتے ہو ۔ میرے اوپر اللہ نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ یہ ہیں کہ کوئی جانور مردار ہوگیا ہو ‘ بغیر ذبح کے مر گیا ہو یا بہایا ہوا خون ہو ‘ یا خنزیر کا گوشت حرام ہے اس لیے کہ یہ ناپاک ہے ‘ یا وہ گوشت جو فسق کا ہو ‘ مثلا وہ ذبیحہ جو مشرکین بتوں پر ذبح کرتے ہیں ‘ اپنے بتوں اور آستانوں پر اور ان پر بتوں کا نام لیا گیا ہو ‘ یہ ذبح اسلام میں فسق تصور ہوتا ہے ‘ اسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے اور ایسا کرنے کو ممنوع قرار دیا ہے ۔ یہ مردار تصور ہوتا ہے اور اس کا کھانا حرام ہے ۔ “

یہ اللہ کی جانب سے اعلان ہے ان مشرکین کے لئے جو حضور اکرم ﷺ کے ساتھ اور آپ کے ساتھیوں کے ساتھ مردار کی حلت و حرمت کے مسئلے میں مجادلہ کرتے تھے کہ وہ جن چیزوں میں مجادلہ کرتے ہیں ان میں سے بعض اشیاء تو حرام ہیں جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے اور بعض اشیاء حلال ہیں جنہیں اللہ نے قرار دیا ہے ۔ ان حلال چیزوں کی حرمت کی نسبت جو وہ اللہ کی طرف کرتے ہیں اس میں وہ جھوٹے ہیں ۔ ابن جریر آیت (فمن اضطر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ) کی تفسیر میں کہتے ہیں : ” اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ نے مردار ‘ خون ‘ لحم خنزیر یا بتوں کے نام پر ذبح ہونے والے جانوروں کو حرام قرار دیا لیکن اگر کوئی اس کے کھانے پر مجبور ہوجائے ‘ بطور حکم عدولی نہ کھا رہا ہو اور یہ نہ ہو کہ حالت اضطرار میں نہ ہو اور اسی طرح وہ جان بوجھ کر حدود سے تجاوز نہ کر رہا ہو اور حد ضرورت کے اندر کھا رہا ہومثلا صرف اس قدر کھا رہا ہو کہ اس کی زندگی بچ جائے ‘ اس سے زیادہ نہ کھا رہا ہو تو اس قدر کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ بیشک اللہ غفور ورحیم ہے اور وہ اس کی پردہ پوشی کرنے والا ہے ۔ اس پر اس کو کوئی سزا نہ ہوگی اور گناہ بخش دیا جائے گا ‘ یہ ہے مفہوم غفور کا ۔ اور رحیم اس لئے ہے کہ اس نے لوگوں پر رحم کرکے بوقت مجبوری جواز کا حکم دیا ۔ ورنہ اگر وہ چاہتا تو وہ ان چیزوں کے استعمال کو ہر حال میں حرام کردیتا۔ “

رہی وہ مقدار جو ان چیزوں سے کھائی جاسکتی ہے تو اس بارے میں فقہاء کے درمیان اختلافات ہیں ۔ ایک رائے یہ ہے کہ وہ صرف اسی قدر کھائے گا جس سے …

Al-An'aam 6:146Listen in Qur'an →
147

فَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل رَّبُّكُمْ ذُو رَحْمَةٍۢ وَٰسِعَةٍۢ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُهُۥ عَنِ ٱلْقَوْمِ ٱلْمُجْرِمِينَ

اور اگر یوں لوگ تمہاری تکذیب کریں تو کہہ دو تمہارا پروردگار صاحب رحمت وسیع ہے مگر اس کا عذاب گنہ گاروں لوگوں سے نہیں ٹلے گا

آیت ” نمبر 147۔

اس کا دامن رحمت بہت وسیع ہے اور یہ رحمت ہمارے لئے بھی وسیع ہے اور اس سے پہلے کے مومنین کے لئے بھی وسیع تھی اور مومنین کے علاوہ تمام مخلوقات کے لئے بھی اس میں وسعت ہے کیونکہ وہ تو محسن ہے ۔ دوست کے لئے بھی رحیم ہے اور دشمن کے لئے بھی رحیم ہے ۔ اگر مجرم عذاب کے مستحق ہوں تو بھی وہ نفاذ عذاب میں جلدی نہیں کرتا اور یہ اس کی شان کریمی ہے اور اس ڈھیل کے عرصہ میں کئی لوگ توبہ کرلیتے ہیں اور اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں لیکن ان کا عذاب نہایت ہی سخت ہے ۔ صرف اس کا حلم ہی اسے اہل ایمان سے رد کرسکتا ہے ۔ اللہ کے نظام فضا وقدر میں جو وقت متعین ہے اس وقت تک ہی وہ مؤخر ہو سکتا ہے ۔

اس آیت میں اگرچہ شمع امید کو بھی روشن رکھا گیا ہے اور انسان کو مایوس نہیں کیا گیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس میں بھی تنبیہ بھی موجود ہے کہ وہ حد سے نہ گزرے اور اللہ وہ ذات ہے جس نے لوگوں کے دل و دماغ کو پیدا کیا ہے اور وہ جانتا ہے کہ ان کے لئے یہ دونوں باتیں ضروری ہیں تاکہ وہ ڈر جائیں ‘ اپنے رویے پر غور کریں اور دعوت اسلامی کو قبول کرلیں ۔

جب بات یہاں تک پہنچتی ہے اور اہل ضلالت کے لئے کوئی مفر نہیں رہتا ۔ جب ان کے پاس کوئی استدلال نہیں رہتا اور تمام بھاگنے کے راستے بند ہوجاتے ہیں تو قرآن کریم ان کے فرار کے آخری راستے کو بھی بند کردیتا ہے ۔ ان کے گمراہانہ تصورات ‘ شرکیہ عقائد اور بےمعنی اعمال کے لئے ایک راہ موجود تھی ۔ وہ کہتے تھے کہ وہ اپنا کوئی اختیار نہیں رکھتے ‘ وہ تو مجبور ہیں ۔ اگر اللہ چاہتا تو وہ نہ ایسے تصورات رکھتے ‘ نہ غلط عقائد ان کے ہوتے اور نہ وہ بداعمالیوں میں مبتلا ہوتے ۔ اگر اللہ چاہتا تو وہ ہمیں ان باتوں سے روک دیتا ۔ وہ تو قادر مطلق ہے اور اس کی قدرت پر کوئی قید نہیں ہے ۔

Al-An'aam 6:147Listen in Qur'an →
148

سَيَقُولُ ٱلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ لَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَآ أَشْرَكْنَا وَلَآ ءَابَآؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِن شَىْءٍۢ ۚ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ حَتَّىٰ ذَاقُوا۟ بَأْسَنَا ۗ قُلْ هَلْ عِندَكُم مِّنْ عِلْمٍۢ فَتُخْرِجُوهُ لَنَآ ۖ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنْ أَنتُمْ إِلَّا تَخْرُصُونَ

جو لوگ شرک کرتے ہیں وہ کہیں گے کہ اگر خدا چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا (شرک کرتے) اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے اسی طرح ان لوگوں نے تکذیب کی تھی جو ان سے پہلے تھے یہاں تک کہ ہمارے عذاب کا مزہ چکھ کر رہے کہہ دو کیا تمہارے پاس کوئی سند ہے (اگر ہے) تو اسے ہمارے سامنے نکالو تم محض خیال کے پیچھے چلتے اور اٹکل کی تیر چلاتے ہو

آیت ” نمبر 148 تا 149۔

افکار اسلامی کی تاریخ میں مسئلہ جبروقدر پر طویل مباحث رہے ہیں۔ اہل سنت اور معتزلہ اور مرجیہ اس میں باہم دست و گریبان رہے ہیں ۔ یونانی فلسفہ اور یونانی منطق جب عالم اسلام میں آئی تو اس نے بھی ان مباحث کو متاثر کیا ۔ پھر عیسائیوں کے فلسفہ لاہوت نے بھی اثرات ڈالے ۔ اور اس کو اس قدر پیچیدہ بنا دیا کہ یہ اسلام کے واضح اور حقیقت پسندانہ تصور کے لئے ناقابل فہم بنا گیا ۔ اگر اس مسئلے پر قرآن کے سنجیدہ ‘ حقیقت پسندانہ اور ڈائرکٹ انداز میں غور کیا جاتا تو یہ جدل وجدال نہ ہوتا اور یہ بحث وہ رخ اختیار نہ کرتی جو اس نے اختیار کیا ۔

جب ہم مشرکین کے قول کو پڑھتے ہیں اور اس کو قرآن کریم نے جس سادہ اور واضح انداز میں رد کیا اسے دیکھتے ہیں تو یہ بہت ہی سادہ اور قابل فہم نظر آتا ہے ۔

آیت ” سَیَقُولُ الَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ لَوْ شَاء اللّہُ مَا أَشْرَکْنَا وَلاَ آبَاؤُنَا وَلاَ حَرَّمْنَا مِن شَیْْء ٍ “۔ (6 : 148)

” یہ مشرک لوگ ضرور کہیں گے کہ ” اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے ۔ “

ان کا مقصد یہ تھا کہ انہوں نے جو شرک کیا ‘ ان کے آبا نے جو شرک کیا یا انہوں نے از خود جن چیزوں کو حرام قرار دیا اللہ نے انہیں حرام قرار دیا تھا اور ان کا یہ دعوی کرنا کہ یہ اللہ کی جانب سے مقرر کردہ شریعت ہے اور بلادلیل یہ دعوی کرنا کہ یہ سب امور اللہ کی مشیت کے مطابق چل رہے ہیں۔ اگر اللہ نہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے ۔ اور نہ ان چیزوں کو حرام قرار دیتے ۔ یہ سب بیکار باتیں ہیں۔

اب دیکھئے کہ قرآن کریم ان کے اس فلسفے کی تردید کس طرح کرتا ہے ۔ قرآن کریم صرف یہ کہتا ہے کہ یہ لوگ بعینہ اسی طرح جھوٹ بول رہے ہیں جس طرح ان سے پہلے لوگوں نے جھوٹ بولا ۔ اور اس سے پہلے جن لوگوں نے جھوٹ بولا انہوں نے تو اپنے جھوٹ کا مزہ چکھ لیا ہے اور اب یہ نئے مکذبین آگئے ہیں اور اللہ کا عذاب ان کے انتظار اور استقبال میں ہے ۔

آیت ” ٍ کَذَلِکَ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِم حَتَّی ذَاقُواْ بَأْسَنَا “۔ (6 : 148)

” ایسی ہی باتیں بنا کر ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی حق کو جھٹلایا یہاں تک کہ آخر کار ہمارے عذاب کا مزہ انہوں نے چکھ لیا ۔ “

یہ وہ تنبیہ ہے جو سوچنے والے کو جھنجوڑ کر رکھ دیتی ہے ۔ غافل سے غافل انسان بھی ہوش میں آجاتا ہے اور انجام کو سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔

اب ایک دوسری تنبیہ ہے جس کے ذریعے ان کی فکری اصلاح مطلوب ہے ۔ یہ کہ اللہ نے کچھ احکامات واوامر دیئے ہیں اور بعض چیزوں سے منع کیا ہے اور انہیں حرام قرار دیا ہے ۔ ان چیزوں کے بارے میں وہ یقینی اور ناقابل شک علم حاصل کرسکتے ہیں ۔ رہی اللہ کی مشیت اور اس کا نظام تو وہ ایک پوشیدہ نظام ہے اور اس کی اصل حقیقت تک پہنچنا انسان کی قوت مدرکہ کے لئے کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ وہ کس طرح جان سکتے ہیں کہ اللہ کی مشیت کیا ہے ۔ اور جب انسان اللہ کے نظام قضا وقدر کا ادراک ہی نہیں کرسکتا تو وہ کسی کے فعل کو کس طرح نظام قضا وقدر کی طرف منسوب کرسکتا ہے ۔

آیت ” قُلْ ہَلْ عِندَکُم مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوہُ لَنَا إِن تَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ أَنتُمْ إَلاَّ تَخْرُصُونَ (148)

” ان سے کہو ’ ” کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جسے ہمارے سامنے پیش کرسکو ؟ تم تو محض گمان پر چل رہے ہو اور نری قیاس آرائیاں کرتے ہو ۔ “

اللہ نے جو احکام دیئے یا اس کی جانب سے جو منہیات ہیں ‘ وہ معلوم ہیں اور ان کے بارے میں قطعی علم ہمارے پاس قرآن میں موجود ہے ۔ سوال یہ ہے کہ یہ لوگ ان قطعی معلومات کو چھوڑ کر محض ظن وتخمین کے سراب کے پیچھے کیوں دوڑتے ہیں اور اس وادی میں کیوں قدم رکھتے ہیں جس کے نشیب و فراز سے وہ واقف نہیں ہیں۔

میں سمجھتا ہوں مسئلہ جبروقدر میں یہ ایک فیصلہ کن بات ہے ۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو اس …

Al-An'aam 6:148Listen in Qur'an →
149

قُلْ فَلِلَّهِ ٱلْحُجَّةُ ٱلْبَٰلِغَةُ ۖ فَلَوْ شَآءَ لَهَدَىٰكُمْ أَجْمَعِينَ

کہہ دو کہ خدا ہی کی حجت غالب ہے اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا

آیت ” نمبر 148 تا 149۔

افکار اسلامی کی تاریخ میں مسئلہ جبروقدر پر طویل مباحث رہے ہیں۔ اہل سنت اور معتزلہ اور مرجیہ اس میں باہم دست و گریبان رہے ہیں ۔ یونانی فلسفہ اور یونانی منطق جب عالم اسلام میں آئی تو اس نے بھی ان مباحث کو متاثر کیا ۔ پھر عیسائیوں کے فلسفہ لاہوت نے بھی اثرات ڈالے ۔ اور اس کو اس قدر پیچیدہ بنا دیا کہ یہ اسلام کے واضح اور حقیقت پسندانہ تصور کے لئے ناقابل فہم بنا گیا ۔ اگر اس مسئلے پر قرآن کے سنجیدہ ‘ حقیقت پسندانہ اور ڈائرکٹ انداز میں غور کیا جاتا تو یہ جدل وجدال نہ ہوتا اور یہ بحث وہ رخ اختیار نہ کرتی جو اس نے اختیار کیا ۔

جب ہم مشرکین کے قول کو پڑھتے ہیں اور اس کو قرآن کریم نے جس سادہ اور واضح انداز میں رد کیا اسے دیکھتے ہیں تو یہ بہت ہی سادہ اور قابل فہم نظر آتا ہے ۔

آیت ” سَیَقُولُ الَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ لَوْ شَاء اللّہُ مَا أَشْرَکْنَا وَلاَ آبَاؤُنَا وَلاَ حَرَّمْنَا مِن شَیْْء ٍ “۔ (6 : 148)

” یہ مشرک لوگ ضرور کہیں گے کہ ” اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے ۔ “

ان کا مقصد یہ تھا کہ انہوں نے جو شرک کیا ‘ ان کے آبا نے جو شرک کیا یا انہوں نے از خود جن چیزوں کو حرام قرار دیا اللہ نے انہیں حرام قرار دیا تھا اور ان کا یہ دعوی کرنا کہ یہ اللہ کی جانب سے مقرر کردہ شریعت ہے اور بلادلیل یہ دعوی کرنا کہ یہ سب امور اللہ کی مشیت کے مطابق چل رہے ہیں۔ اگر اللہ نہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے ۔ اور نہ ان چیزوں کو حرام قرار دیتے ۔ یہ سب بیکار باتیں ہیں۔

اب دیکھئے کہ قرآن کریم ان کے اس فلسفے کی تردید کس طرح کرتا ہے ۔ قرآن کریم صرف یہ کہتا ہے کہ یہ لوگ بعینہ اسی طرح جھوٹ بول رہے ہیں جس طرح ان سے پہلے لوگوں نے جھوٹ بولا ۔ اور اس سے پہلے جن لوگوں نے جھوٹ بولا انہوں نے تو اپنے جھوٹ کا مزہ چکھ لیا ہے اور اب یہ نئے مکذبین آگئے ہیں اور اللہ کا عذاب ان کے انتظار اور استقبال میں ہے ۔

آیت ” ٍ کَذَلِکَ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِم حَتَّی ذَاقُواْ بَأْسَنَا “۔ (6 : 148)

” ایسی ہی باتیں بنا کر ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی حق کو جھٹلایا یہاں تک کہ آخر کار ہمارے عذاب کا مزہ انہوں نے چکھ لیا ۔ “

یہ وہ تنبیہ ہے جو سوچنے والے کو جھنجوڑ کر رکھ دیتی ہے ۔ غافل سے غافل انسان بھی ہوش میں آجاتا ہے اور انجام کو سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔

اب ایک دوسری تنبیہ ہے جس کے ذریعے ان کی فکری اصلاح مطلوب ہے ۔ یہ کہ اللہ نے کچھ احکامات واوامر دیئے ہیں اور بعض چیزوں سے منع کیا ہے اور انہیں حرام قرار دیا ہے ۔ ان چیزوں کے بارے میں وہ یقینی اور ناقابل شک علم حاصل کرسکتے ہیں ۔ رہی اللہ کی مشیت اور اس کا نظام تو وہ ایک پوشیدہ نظام ہے اور اس کی اصل حقیقت تک پہنچنا انسان کی قوت مدرکہ کے لئے کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ وہ کس طرح جان سکتے ہیں کہ اللہ کی مشیت کیا ہے ۔ اور جب انسان اللہ کے نظام قضا وقدر کا ادراک ہی نہیں کرسکتا تو وہ کسی کے فعل کو کس طرح نظام قضا وقدر کی طرف منسوب کرسکتا ہے ۔

آیت ” قُلْ ہَلْ عِندَکُم مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوہُ لَنَا إِن تَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ أَنتُمْ إَلاَّ تَخْرُصُونَ (148)

” ان سے کہو ’ ” کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جسے ہمارے سامنے پیش کرسکو ؟ تم تو محض گمان پر چل رہے ہو اور نری قیاس آرائیاں کرتے ہو ۔ “

اللہ نے جو احکام دیئے یا اس کی جانب سے جو منہیات ہیں ‘ وہ معلوم ہیں اور ان کے بارے میں قطعی علم ہمارے پاس قرآن میں موجود ہے ۔ سوال یہ ہے کہ یہ لوگ ان قطعی معلومات کو چھوڑ کر محض ظن وتخمین کے سراب کے پیچھے کیوں دوڑتے ہیں اور اس وادی میں کیوں قدم رکھتے ہیں جس کے نشیب و فراز سے وہ واقف نہیں ہیں۔

میں سمجھتا ہوں مسئلہ جبروقدر میں یہ ایک فیصلہ کن بات ہے ۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو اس …

Al-An'aam 6:149Listen in Qur'an →
150

قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ ٱلَّذِينَ يَشْهَدُونَ أَنَّ ٱللَّهَ حَرَّمَ هَٰذَا ۖ فَإِن شَهِدُوا۟ فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ ۚ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَآءَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ وَهُم بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ

کہو کہ اپنے گواہوں کو لاؤ جو بتائیں کہ خدا نے یہ چیزیں حرام کی ہیں پھر اگر وہ (آ کر) گواہی دیں تو تم ان کے ساتھ گواہی نہ دینا اور نہ ان لوگوں کی خواہشوں کی پیروی کرنا جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور (بتوں کو) اپنے پروردگار کے برابر ٹھہراتے ہیں

آیت ” نمبر 150۔

یہ ایک عظیم مقابلہ ہے ‘ اور ہے بھی فیصلہ کن اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین اسلام کا مزاج کیا ہے ؟ دین اسلام میں اللہ کی ذات میں کسی اور کو شریک ٹھہرانا شرک ہے ۔ اسی طرح اللہ کی حق حاکمیت اور قانون سازی میں کسی اور کو عملا شریک کرنا بھی شرک ہے جو عملی شرک ہے ۔ الا یہ کہ کوئی ایسا قانون بنائے جس کی قرآن وسنت نے اجازت دی ہو ۔ قانون سازی میں اگر کوئی زبانی طور پر یہ اعلان کر دے کہ یہ قانون از جانب اللہ ہے تو اس کا دعوی مسترد ہوگا الا یہ کہ درحقیقت وہ منجانب اللہ ہو۔ یہاں اللہ تعالیٰ اس قسم کے لوگوں کو جو خود قانون بناتے ہیں یا کوئی قانون بنا کر اسے اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں ‘ اللہ جھوٹا قرار دیتا ہے اور یہ اعلان بھی کرد یا جاتا ہے کہ ایسے لوگوں کے دل میں نہ خوف آخرت ہے اور نہ ایمان آخرت اس لئے کہ یہ لوگ اگر منکر آخرت نہ ہوتے تو اللہ کے ساتھ دوسروں کو ہمسر بنانے کی جرات ہی نہ کرتے ۔ نہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ۔ ایسی ہی تعبیر اس سورة کے آغاز میں بھی آئی تھی ۔

آیت ” الْحَمْدُ لِلّہِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ ثُمَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ بِرَبِّہِم یَعْدِلُونَ (1)

” تعریف ہے اللہ کے لئے جس نے زمین و آسمان بنائے ‘ روشنیاں اور تاریکیاں پیدا ہیں ۔ پھر بھی وہ لوگ جنہوں نے دعوت حق کو ماننے سے انکار کردیا ہے دوسروں کو اپنے رب کے ہمسر ٹھہرا رہے ہیں ۔ “

یہ ہے حکم ان لوگوں کے بارے میں جو اللہ سے اس کا حق حاکمیت چھینتے ہیں اور اسے ان لوگوں کے سپرد کرتے ہیں جو خود ان ہی کی طرح انسان ہیں یہاں ان لوگوں کے اس دعوی کو بھی مسترد کردیا جاتا ہے کہ ایسی کوئی قانون سازی اسلامی قانون سازی ہو سکتی ہے ۔ اب اللہ کے اس حکم کے بعد کسی اور انسانی رائے کی کیا وقعت ہو سکتی ہے ۔

اگر ہم یہ بات سمجھنا چاہیں کہ اللہ نے اس مسئلے کا فیصلہ اس انداز میں کیوں کیا ؟ اور ایسے لوگوں کو آیات الہیہ کو جھٹلانے والا کیوں کہا ۔ ان کے بارے میں یہ فیصلہ کیوں دے دیا کہ وہ آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور یہ کہ وہ مشرک ہیں اور اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو ہمسر بنانے والے ہیں ‘ تو ہمارا فرض ہے کہ ہم سمجھنے کی سعی ضرور کریں کیونکہ اللہ کی شریعت ‘ اس کے احکام اور فیصلوں پر تدبر کرنا اور ان کی حکمت معلوم کرنا ایک مطلوبہ امر ہے ۔

اللہ نے ان لوگوں کے بارے میں جو اپنی جانب سے عوام کے لئے قانون بنائیں یہاں یہ حکم لگایا ہے کہ وہ آیات الہیہ کی تکذیب کرتے ہیں اگرچہ وہ اسے اللہ کی شریعت کا عنوان دیں ‘ کیونکہ آیات الہیہ سے یہاں دو مفہوم لئے جاسکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ ان سے مراد آیات کونیہ ہیں ‘ تو یہ آیات بھی اس بات پر گواہ ہیں کہ خالق اور رازق اللہ وحدہ ہے ‘ اور جو خالق اور رازق ہوگا وہی مالک ہوگا لہذا وہی متصرف اور حاکم ہوگا ۔ اس لئے جو شخص صرف اللہ کو حاکم نہ سمجھے تو وہ گویا آیات الہیہ کونیہ کی تکذیب کرتا ہے اور اگر ان آیات سے مراد قرآنی آیات ہوں تو قرآن کی بیشمار آیات واضح اور دو ٹوک انداز میں یہ قرار دیتی ہیں کہ حاکمیت اور قانون سازی کے معاملے میں اللہ وحدہ لاشریک ہے ۔ صرف اللہ کی شریعت ہی کو قانونی درجہ حاصل ہے ۔ اور لوگوں کو صرف اللہ کی شریعت کی پابندی کرنی اور کرانی چاہیے ۔

ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ نے بھی یہ قرار دیا ہے کہ یہ لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے اس لئے کہ جو شخص آخرت پر یقین و ایمان رکھتا ہے کہ وہ ایک دن قیامت کے روز اپنے رب کو ملنے والا ہے تو ایسا شخص ہر گز اللہ کے حق حاکمیت پر دست درازی نہیں کرے گا اور نہ وہ اپنے لئے کسی ایسے حق کا مطالبہ کرے گا ۔ اللہ انسانوں کا حاکم مطلق ہے اس کا نظام قضا وقدر بھی انسان پر جاری ہے اور اس طرح اس کی شریعت بھی ان پر جاری ہونا چاہیے ۔

ان لوگوں کے بارے میں اللہ کی تیسری قرار داد یہ ہے کہ یہ لوگ …

Al-An'aam 6:150Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.