۞ وَهُوَ ٱلَّذِىٓ أَنشَأَ جَنَّٰتٍۢ مَّعْرُوشَٰتٍۢ وَغَيْرَ مَعْرُوشَٰتٍۢ وَٱلنَّخْلَ وَٱلزَّرْعَ مُخْتَلِفًا أُكُلُهُۥ وَٱلزَّيْتُونَ وَٱلرُّمَّانَ مُتَشَٰبِهًۭا وَغَيْرَ مُتَشَٰبِهٍۢ ۚ كُلُوا۟ مِن ثَمَرِهِۦٓ إِذَآ أَثْمَرَ وَءَاتُوا۟ حَقَّهُۥ يَوْمَ حَصَادِهِۦ ۖ وَلَا تُسْرِفُوٓا۟ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْمُسْرِفِينَ
اور خدا ہی تو ہے جس نے باغ پیدا کئے چھتریوں پر چڑھائے ہوئے بھی اور جو چھتریوں پر نہیں چڑھائے ہوئے وہ بھی اور کھجور اور کھیتی جن کے طرح طرح کے پھل ہوتے ہیں اور زیتون اور انار جو (بعض باتوں میں) ایک دوسرے سے ملتے ہیں جب یہ چیزیں پھلیں تو ان کے پھل کھاؤ اور جس دن (پھل توڑو اور کھیتی) کاٹو تو خدا کا حق بھی اس میں سے ادا کرو اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بیجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا
خلاصہ تفسیر - اور وہی (اللہ پاک) ہے جس نے باغات پیدا کئے وہ بھی جو ٹیٹوں پر چڑھائے جاتے ہیں (جیسے انگور) اور وہ بھی جو ٹیٹوں پر نہیں چڑھائے جاتے (یا تو اس لئے کہ بیلدار نہیں جیسے تنہ دار درخت، یا باوجود بیلدار ہونے کے عادت نہیں، جیسے خربوزہ، تربوز وغیرہ) اور کھجور کے درخت اور کھیتی (بھی اس نے پیدا کئے) جو (انار انار) باہم (اور زیتون زیتون باہم رنگ و مزہ و شکل و مقدار میں سے بعض صفات میں کبھی) ایک دوسرے کے مشابہ ہوتے ہیں اور (کبھی) ایک دوسرے کے مشابہ نہیں بھی ہوتے (اور اللہ نے ان چیزوں کو پیدا کرکے اجازت دی ہے کہ) ان سب کی پیداوار کھاؤ (خواہ اسی وقت سے سہی) جب وہ نکل آوے (اور پکنے بھی نہ پاوے) اور (البتہ اس کے ساتھ اتنا ضرور ہے کہ) اس میں جو حق (شرع سے) واجب ہے (یعنی خیرات) وہ اس کے کاٹنے (توڑنے) کے دن (مسکینوں کو) یاد کرو اور (اس دینے میں بھی) حد (اذن شرعی) سے مت گزرو، یقینا وہ (یعنی اللہ تعالیٰ ) حد (اذن شرعی) سے گزرنے والوں کو ناپسند کرتے ہیں، اور (جس طرح باغ اور کھیت اللہ نے پیدا کئے ہیں، اسی طرح حیوانات بھی چنانچہ) مواشی میں اونچے قد کے (بھی) اور چھوٹے قد کے (بھی اسی نے پیدا کئے، اور ان کے بارے میں بھی مثل باغ اور کھیت کے اجازت دی کہ) جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تم کو دیا ہے (اور شرع سے حلال کیا ہے اس کو) کھاؤ اور (اپنی طرف سے تحریم کے احکام تراش کر) شیطان کے قدم بقدم مت چلو، بلاشک وہ تمہارا صریح دشمن ہے (کہ تم کو باوجود وضوح دلائل حق کے گمراہ کر رہا ہے) ۔- معارف و مسائل - پچھلی آیتوں میں مشرکین مکہ کی اس گمراہی کا ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے جانوروں اور اس کی عطا کی ہوئی نعمتوں میں ان ظالموں نے اپنے خود تراشیدہ بےجان بےشعور بتوں کو اللہ تعالیٰ کا ساجھی قرار دے کر جو چیز وہ بطور عبادت یا صدقہ خیرات کے نکالتے ہیں ان میں ایک حصہ اللہ تعالیٰ کا اور دوسرا حصہ بتوں کا رکھتے ہیں، پھر اللہ کے حصہ کو بھی مختلف حیلوں حوالوں سے بتوں کے حصہ میں ڈالتے ہیں، اسی طرح کی اور بہت سی جاہلانہ رسموں کو شرعی قانون کی حیثیت دے رکھی ہے۔ - مذکورہ آیتوں میں سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے نباتات اور درختوں کی مختلف قسمیں اور ان کے فوائد وثمرات کی تخلیق میں اپنی قدرت کاملہ کے حیرت انگیز کمالات کا ذکر فرمایا اور دوسری آیت میں اسی طرح جانوروں اور مویشی کی مختلف قسموں کی پیدائش کا ذکر فرما کر ان کی گمراہی پر متنبہ فرمایا کہ ان بےبصیرت لوگوں نے کیسے قادر مطلق علیم وخبیر کے ساتھ کیسے بیخبر ، بےشعور، بےجان اور بےبس چیزوں کو اس کا شریک و ساجھی بنا ڈالا ہے۔- اور پھر ان کو صراط مستقیم اور صحیح راہ عمل کی طرف ہدایت فرمائی، کہ جب ان چیزوں کے پیدا کرنے اور تم کو عطا کرنے میں کوئی سہیم و شریک نہیں تو عبادت میں ان کو شریک ٹھہرانا انتہائی کفران نعمت اور ظلم ہے، جس نے یہ چیزیں پیدا کرکے تم کو عطا فرمائیں اور تمہارے لئے حلال کردیا، تمہارا فرض ہے کہ اس کی ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے وقت اس کے حق شکر کو یاد رکھو اور ادا کرو، شیطانی خیالات اور جاہلانہ رسموں کو اپنا دین نہ بناؤ۔- پہلی آیت میں انشَاَ کے معنی پیدا کیا اور معروشَات عرش سے بنا ہے، جس کے معنی اٹھانے کے اور بلند کرنے کے ہیں، مراد معروشات سے درختوں کی وہ بیلیں ہیں جو ٹٹیوں پر چڑھائی جاتی ہیں، جیسے انگور اور بعض ترکاریاں، اور اس کے بالمقابل غیر مَعرُوشَات میں وہ سب درخت شامل ہیں جن کی بیلیں اوپر نہیں چڑھائی جاتیں، خواہ وہ تنہ دار درخت ہوں جن کی بیل ہی نہیں یا بیل دار ہوں مگر ان کی بیلیں زمین ہی پر پھیلتی ہیں اوپر نہیں چڑھائی جاتیں، جیسے تربوز، خربوزہ وغیرہ۔- اور نَخُل کے معنی کھجور کا درخت، اور زرع ہر قسم کی کھیتی، اور زیتون درخت زیتون کو بھی کہتے ہیں اس کے پھل کو بھی، اور رُمَّان انار کو کہا جاتا ہے۔- …