Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 141–150 of 165

141

۞ وَهُوَ ٱلَّذِىٓ أَنشَأَ جَنَّٰتٍۢ مَّعْرُوشَٰتٍۢ وَغَيْرَ مَعْرُوشَٰتٍۢ وَٱلنَّخْلَ وَٱلزَّرْعَ مُخْتَلِفًا أُكُلُهُۥ وَٱلزَّيْتُونَ وَٱلرُّمَّانَ مُتَشَٰبِهًۭا وَغَيْرَ مُتَشَٰبِهٍۢ ۚ كُلُوا۟ مِن ثَمَرِهِۦٓ إِذَآ أَثْمَرَ وَءَاتُوا۟ حَقَّهُۥ يَوْمَ حَصَادِهِۦ ۖ وَلَا تُسْرِفُوٓا۟ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْمُسْرِفِينَ

اور خدا ہی تو ہے جس نے باغ پیدا کئے چھتریوں پر چڑھائے ہوئے بھی اور جو چھتریوں پر نہیں چڑھائے ہوئے وہ بھی اور کھجور اور کھیتی جن کے طرح طرح کے پھل ہوتے ہیں اور زیتون اور انار جو (بعض باتوں میں) ایک دوسرے سے ملتے ہیں جب یہ چیزیں پھلیں تو ان کے پھل کھاؤ اور جس دن (پھل توڑو اور کھیتی) کاٹو تو خدا کا حق بھی اس میں سے ادا کرو اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بیجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا

خلاصہ تفسیر - اور وہی (اللہ پاک) ہے جس نے باغات پیدا کئے وہ بھی جو ٹیٹوں پر چڑھائے جاتے ہیں (جیسے انگور) اور وہ بھی جو ٹیٹوں پر نہیں چڑھائے جاتے (یا تو اس لئے کہ بیلدار نہیں جیسے تنہ دار درخت، یا باوجود بیلدار ہونے کے عادت نہیں، جیسے خربوزہ، تربوز وغیرہ) اور کھجور کے درخت اور کھیتی (بھی اس نے پیدا کئے) جو (انار انار) باہم (اور زیتون زیتون باہم رنگ و مزہ و شکل و مقدار میں سے بعض صفات میں کبھی) ایک دوسرے کے مشابہ ہوتے ہیں اور (کبھی) ایک دوسرے کے مشابہ نہیں بھی ہوتے (اور اللہ نے ان چیزوں کو پیدا کرکے اجازت دی ہے کہ) ان سب کی پیداوار کھاؤ (خواہ اسی وقت سے سہی) جب وہ نکل آوے (اور پکنے بھی نہ پاوے) اور (البتہ اس کے ساتھ اتنا ضرور ہے کہ) اس میں جو حق (شرع سے) واجب ہے (یعنی خیرات) وہ اس کے کاٹنے (توڑنے) کے دن (مسکینوں کو) یاد کرو اور (اس دینے میں بھی) حد (اذن شرعی) سے مت گزرو، یقینا وہ (یعنی اللہ تعالیٰ ) حد (اذن شرعی) سے گزرنے والوں کو ناپسند کرتے ہیں، اور (جس طرح باغ اور کھیت اللہ نے پیدا کئے ہیں، اسی طرح حیوانات بھی چنانچہ) مواشی میں اونچے قد کے (بھی) اور چھوٹے قد کے (بھی اسی نے پیدا کئے، اور ان کے بارے میں بھی مثل باغ اور کھیت کے اجازت دی کہ) جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تم کو دیا ہے (اور شرع سے حلال کیا ہے اس کو) کھاؤ اور (اپنی طرف سے تحریم کے احکام تراش کر) شیطان کے قدم بقدم مت چلو، بلاشک وہ تمہارا صریح دشمن ہے (کہ تم کو باوجود وضوح دلائل حق کے گمراہ کر رہا ہے) ۔- معارف و مسائل - پچھلی آیتوں میں مشرکین مکہ کی اس گمراہی کا ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے جانوروں اور اس کی عطا کی ہوئی نعمتوں میں ان ظالموں نے اپنے خود تراشیدہ بےجان بےشعور بتوں کو اللہ تعالیٰ کا ساجھی قرار دے کر جو چیز وہ بطور عبادت یا صدقہ خیرات کے نکالتے ہیں ان میں ایک حصہ اللہ تعالیٰ کا اور دوسرا حصہ بتوں کا رکھتے ہیں، پھر اللہ کے حصہ کو بھی مختلف حیلوں حوالوں سے بتوں کے حصہ میں ڈالتے ہیں، اسی طرح کی اور بہت سی جاہلانہ رسموں کو شرعی قانون کی حیثیت دے رکھی ہے۔ - مذکورہ آیتوں میں سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے نباتات اور درختوں کی مختلف قسمیں اور ان کے فوائد وثمرات کی تخلیق میں اپنی قدرت کاملہ کے حیرت انگیز کمالات کا ذکر فرمایا اور دوسری آیت میں اسی طرح جانوروں اور مویشی کی مختلف قسموں کی پیدائش کا ذکر فرما کر ان کی گمراہی پر متنبہ فرمایا کہ ان بےبصیرت لوگوں نے کیسے قادر مطلق علیم وخبیر کے ساتھ کیسے بیخبر ، بےشعور، بےجان اور بےبس چیزوں کو اس کا شریک و ساجھی بنا ڈالا ہے۔- اور پھر ان کو صراط مستقیم اور صحیح راہ عمل کی طرف ہدایت فرمائی، کہ جب ان چیزوں کے پیدا کرنے اور تم کو عطا کرنے میں کوئی سہیم و شریک نہیں تو عبادت میں ان کو شریک ٹھہرانا انتہائی کفران نعمت اور ظلم ہے، جس نے یہ چیزیں پیدا کرکے تم کو عطا فرمائیں اور تمہارے لئے حلال کردیا، تمہارا فرض ہے کہ اس کی ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے وقت اس کے حق شکر کو یاد رکھو اور ادا کرو، شیطانی خیالات اور جاہلانہ رسموں کو اپنا دین نہ بناؤ۔- پہلی آیت میں انشَاَ کے معنی پیدا کیا اور معروشَات عرش سے بنا ہے، جس کے معنی اٹھانے کے اور بلند کرنے کے ہیں، مراد معروشات سے درختوں کی وہ بیلیں ہیں جو ٹٹیوں پر چڑھائی جاتی ہیں، جیسے انگور اور بعض ترکاریاں، اور اس کے بالمقابل غیر مَعرُوشَات میں وہ سب درخت شامل ہیں جن کی بیلیں اوپر نہیں چڑھائی جاتیں، خواہ وہ تنہ دار درخت ہوں جن کی بیل ہی نہیں یا بیل دار ہوں مگر ان کی بیلیں زمین ہی پر پھیلتی ہیں اوپر نہیں چڑھائی جاتیں، جیسے تربوز، خربوزہ وغیرہ۔- اور نَخُل کے معنی کھجور کا درخت، اور زرع ہر قسم کی کھیتی، اور زیتون درخت زیتون کو بھی کہتے ہیں اس کے پھل کو بھی، اور رُمَّان انار کو کہا جاتا ہے۔- …

Al-An'aam 6:141Listen in Qur'an →
142

وَمِنَ ٱلْأَنْعَٰمِ حَمُولَةًۭ وَفَرْشًۭا ۚ كُلُوا۟ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيْطَٰنِ ۚ إِنَّهُۥ لَكُمْ عَدُوٌّۭ مُّبِينٌۭ

اور چارپایوں میں بوجھ اٹھانے والے (یعنی بڑے بڑے) بھی پیدا کئے اور زمین سے لگے ہوئے (یعنی چھوٹے چھوٹے) بھی (پس) خدا کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو وہ تمہارا صریح دشمن ہے

Explained together with ayah 141

Al-An'aam 6:142Listen in Qur'an →
143

ثَمَٰنِيَةَ أَزْوَٰجٍۢ ۖ مِّنَ ٱلضَّأْنِ ٱثْنَيْنِ وَمِنَ ٱلْمَعْزِ ٱثْنَيْنِ ۗ قُلْ ءَآلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ ٱلْأُنثَيَيْنِ أَمَّا ٱشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۖ نَبِّـُٔونِى بِعِلْمٍ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

(یہ بڑے چھوٹے چارپائے) آٹھ قسم کے (ہیں) دو (دو) بھیڑوں میں سے اور دو (دو) بکریوں میں سے (یعنی ایک ایک نر اور اور ایک ایک مادہ) (اے پیغمبر ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادنیوں کو یا جو بچہ مادنیوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اسے اگر سچے ہو تو مجھے سند سے بتاؤ

خلاصہ تفسیر - (اور یہ مواشی جن میں تحلیل و تحریم کر رہے ہو) آٹھ نر و مادہ (پیدا کئے) یعنی بھیڑ (اور دنبہ) میں دو قسم (ایک نر ایک مادہ) اور بکری میں دو قسم (ایک نر اور ایک مادہ) آپ (ان سے) کہئے کہ (یہ تو بتلاو کہ) کیا اللہ تعالیٰ نے ان (دونوں جانور کے) دونوں نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں مادہ کو (حرام کہا ہے) یا اس (بچہ) کو جس کو دونوں مادہ (اپنے) پیٹ میں لئے ہوئے ہوں (وہ بچہ نر ہو یا مادہ یعنی تم جو مختلف صورتوں سے تحریم کے مدعی ہو تو کیا تحریم اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے) تم مجھ کو کسی دلیل سے تو بتلاو اگر (اپنے دعوے میں) سچے ہو (یہ تو چھوٹے قد والے کے متعلق بیان ہوا آگے بڑے قد والوں کا بیان ہے کہ بھیڑ بکری میں بھی نر و مادہ پیدا کیا، جیسا بیان ہوا) اور (اسی طرح) اونٹ میں دو قسم (ایک نر اور ایک مادہ) اور گائے (اور بھینس) میں دو قسم (ایک نر اور ایک مادہ پیدا کئے) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ان سے اس باب میں بھی) کہئے کہ (یہ تو بتلاو کہ) کیا اللہ تعالیٰ نے ان دونوں (جانور کے) نروں کو حرام کہا ہے یا دونوں مادہ کو (حرام کہا ہے) یا اس (بچہ) کو جس کو دونوں مادہ (اپنے) پیٹ میں لئے ہوئے ہوں (وہ بچہ نر ہو یا مادہ، اس کا بھی وہی مطلب ہے کہ تم جو مختلف صورتوں سے تحریم کے مدعی ہو تو کیا یہ تحریم اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے ؟ اس پر کوئی دلیل قائم کرنا چاہئے، جس کے دو طریقے ہیں، ایک تو یہ کہ کسی رسول و فرشتہ کے واسطہ سے ہو، سو مسئلہ نبوت و وحی سے تو تم کو انکار ہی ہے، اس شق کو تو اختیار کر نہیں سکتے، پس دوسرا طریق دعویٰ کرنے کے لئے متعین ہوگیا کہ خود خدا تعالیٰ نے بلاواسطہ تم کو یہ احکام دئیے ہوں تو) کیا تم (اس وقت) حاضر تھے جس وقت اللہ تعالیٰ نے تم کو اس (تحریم و تحلیل) کا حکم دیا (اور ظاہر ہے کہ اس کا دعویٰ بھی نہیں ہوسکتا، پس ثابت ہوگیا کہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں) تو (بعد ثبوت اس امر کے کہ اس دعوے پر کوئی دلیل نہیں یقینی بات ہے کہ) اس سے زیادہ کون ظالم (اور کا ذب) ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر بلا دلیل (تحلیل و تحریم کے باب میں) جھوٹی تہمت لگائے تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے (یعنی یہ شخص بڑا ظالم ہوگا اور) یقینا اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو (جنت کا) راستہ (آخرت میں) نہ دکھلاویں گے (بلکہ دوزخ میں بھیجیں گے، پس یہ لوگ بھی اس جرم کی سزا میں روزخ میں جاویں گے) ۔

Al-An'aam 6:143Listen in Qur'an →
144

وَمِنَ ٱلْإِبِلِ ٱثْنَيْنِ وَمِنَ ٱلْبَقَرِ ٱثْنَيْنِ ۗ قُلْ ءَآلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ ٱلْأُنثَيَيْنِ أَمَّا ٱشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۖ أَمْ كُنتُمْ شُهَدَآءَ إِذْ وَصَّىٰكُمُ ٱللَّهُ بِهَٰذَا ۚ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًۭا لِّيُضِلَّ ٱلنَّاسَ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّٰلِمِينَ

اور دو (دو) اونٹوں میں سے اور دو (دو) گایوں میں سے (ان کے بارے میں بھی ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادنیوں کو یا جو بچہ مادنیوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اس کو بھلا جس وقت خدا نے تم کو اس کا حکم دیا تھا تم اس وقت موجود تھے؟ تو اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے تاکہ اِز راہ بے دانشی لوگوں کو گمراہ کرے کچھ شک نہیں کہ خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

Explained together with ayah 143

Al-An'aam 6:144Listen in Qur'an →
145

قُل لَّآ أَجِدُ فِى مَآ أُوحِىَ إِلَىَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍۢ يَطْعَمُهُۥٓ إِلَّآ أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًۭا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍۢ فَإِنَّهُۥ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ ٱللَّهِ بِهِۦ ۚ فَمَنِ ٱضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍۢ وَلَا عَادٍۢ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

کہو کہ جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں ان میں کوئی چیز جسے کھانے والا کھائے حرام نہیں پاتا بجز اس کے کہ وہ مرا ہوا جانور یا بہتا لہو یا سور کا گوشت کہ یہ سب ناپاک ہیں یا کوئی گناہ کی چیز ہو کہ اس پر خدا کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو اور اگر کوئی مجبور ہو جائے لیکن نہ تو نافرمانی کرے اور نہ حد سے باہر نکل جائے تو تمہارا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے

خلاصہ تفسیر - آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجئے کہ (جن حیوانات میں کلام ہو رہا ہے ان کے متعلق) جو کچھ احکام بذریعہ وحی میرے پاس آئے ہیں ان میں تو میں کوئی حرام غذا پاتا نہیں کسی کھانے والے کے لئے جو اس کو کھاوے (خواہ مرد ہو یا عورت) مگر (ان چیزوں کو البتہ حرام پاتا ہوں وہ) یہ کہ وہ مردار (جانور) ہو، (یعنی جو باوجود واجب الذبح ہونے کے بلا ذبح شرعی مر جائے) یا یہ کہ بہتا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو کیونکہ وہ (خنزیر) بالکل ناپاک ہے، (اس لئے اس کے سب اجزاء نجس اور حرام ہیں ایسا نجس نجس العین کہلاتا ہے) یا جو (جانور وغیرہ) شرک کا ذریعہ ہو (اس طرح) کہ (بقصد تقرب) غیر اللہ کے نامزد کردیا گیا ہو (سو یہ سب حرام ہیں) پھر (بھی اس میں اتنی آسانی رکھی ہے کہ) جو شخص (بھوک سے بہت ہی) بیتاب ہوجاوے بشرطیکہ نہ تو (کھانے میں) طالب لذت ہو اور نہ (قدر ضرورت و حاجت سے) تجاوز کرنے والا ہو تو (اس حالت میں ان حرام چیزوں سے کھانے میں بھی اس شخص کو کچھ گناہ نہیں ہوتا) واقعی آپ کا رب (اس شخص کے لئے) غفور رحیم ہے (کہ ایسے وقت میں رحمت فرمائی کہ گناہ کی چیز میں سے گناہ اٹھا دیا) اور یہود پر ہم نے تمام ناخن والے جانور حرام کر دئیے تھے اور گائے اور بکری (کے اجزاء میں سے) ان دونوں کی چربیاں ان (یہود) پر ہم نے حرام کردی تھیں مگر وہ (چربی مستثنیٰ تھی) جو ان (دونوں) کی پشت پر یا انتڑیوں میں لگی ہو یا جو (چربی) ہڈی سے ملی ہوئی ہو (باقی سب چربی حرام تھی، سو ان چیزوں کی تحریم فی نفسہ مقصود نہ تھی بلکہ) ان کی شرارت کے سبب ہم نے ان کو یہ سزا دی تھی، اور ہم یقینا سچے ہیں، پھر (اس تحقیق مذکور کے بعد بھی) اگر یہ (مشرکین) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو (نعوذ باللہ اس مضمون میں صرف اس وجہ سے) کاذب کہیں (کہ ان پر عذاب نہیں آتا) تو آپ (جواب میں) فرما دیجئے کہ تمہارا رب بڑی وسیع رحمت والا ہے، (بعض حکمتوں سے جلدی مواخذہ نہیں فرماتا) اور (اس سے یوں نہ سمجھو کہ ہمیشہ یوں ہی بچے رہیں گے جب وہ وقت معیّن آجاوے گا پھر اس وقت) اس کا عذاب مجرم لوگوں سے (کسی طرح) نہ ٹلے گا۔

Al-An'aam 6:145Listen in Qur'an →
146

وَعَلَى ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ حَرَّمْنَا كُلَّ ذِى ظُفُرٍۢ ۖ وَمِنَ ٱلْبَقَرِ وَٱلْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَآ إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَآ أَوِ ٱلْحَوَايَآ أَوْ مَا ٱخْتَلَطَ بِعَظْمٍۢ ۚ ذَٰلِكَ جَزَيْنَٰهُم بِبَغْيِهِمْ ۖ وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ

اور یہودیوں پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کر دئیے تھے اور گایوں اور بکریوں سے ان کی چربی حرام کر دی تھی سوا اس کے جو ان کی پیٹھ پر لگی ہو یا اوجھڑی میں ہو یا ہڈی میں ملی ہو یہ سزا ہم نے ان کو ان کی شرارت کے سبب دی تھی اور ہم تو سچ کہنے والے ہیں

Explained together with ayah 145

Al-An'aam 6:146Listen in Qur'an →
147

فَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل رَّبُّكُمْ ذُو رَحْمَةٍۢ وَٰسِعَةٍۢ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُهُۥ عَنِ ٱلْقَوْمِ ٱلْمُجْرِمِينَ

اور اگر یوں لوگ تمہاری تکذیب کریں تو کہہ دو تمہارا پروردگار صاحب رحمت وسیع ہے مگر اس کا عذاب گنہ گاروں لوگوں سے نہیں ٹلے گا

Explained together with ayah 145

Al-An'aam 6:147Listen in Qur'an →
148

سَيَقُولُ ٱلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ لَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَآ أَشْرَكْنَا وَلَآ ءَابَآؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِن شَىْءٍۢ ۚ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ حَتَّىٰ ذَاقُوا۟ بَأْسَنَا ۗ قُلْ هَلْ عِندَكُم مِّنْ عِلْمٍۢ فَتُخْرِجُوهُ لَنَآ ۖ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنْ أَنتُمْ إِلَّا تَخْرُصُونَ

جو لوگ شرک کرتے ہیں وہ کہیں گے کہ اگر خدا چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا (شرک کرتے) اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے اسی طرح ان لوگوں نے تکذیب کی تھی جو ان سے پہلے تھے یہاں تک کہ ہمارے عذاب کا مزہ چکھ کر رہے کہہ دو کیا تمہارے پاس کوئی سند ہے (اگر ہے) تو اسے ہمارے سامنے نکالو تم محض خیال کے پیچھے چلتے اور اٹکل کی تیر چلاتے ہو

خلاصہ تفسیر - یہ مشرکین یوں کہنے کو ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کو (بطور رضا کے یہ امر) منظور ہوتا (کہ ہم شرک اور تحریم نہ کریں، یعنی اللہ تعالیٰ عدم شرک و عدم تحریم کو پسند کرتے اور شرک و تحریم کو ناپسند کرتے) تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا (شرک کرتے) اور نہ ہم (اور نہ ہمارے بزرگ) کسی چیز کو (جن کا ذکر اوپر آچکا ہے) حرام کہہ سکتے (اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اس شرک و تحریم سے ناراض نہیں، اللہ تعالیٰ جواب دیتے ہیں کہ یہ استدلال اس لئے باطل ہے کہ مستلزم تکذیب رسل کو ہے، پس یہ لوگ رسول کی تکذیب کر رہے ہیں، اور جس طرح یہ کر رہے ہیں) اسی طرح جو (کافر) لوگ ان سے پہلے ہوچکے ہیں انہوں نے بھی (رسولوں کی) تکذیب کی تھی، یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کا مزہ چکھا (خواہ دنیا میں، جیسا اکثر کفار سابقین پر نزول عذاب ہوا ہے، یا مرنے کے بعد تو ظاہر ہی ہے، اور یہ اشارہ ہے اس طرف کہ ان لوگوں کے کفریات کے مقابلہ میں صرف قولی جواب اور مناظرہ پر اکتفاء نہ کیا جاوے گا، بلکہ مثل کفار سابقین عملی سزا بھی دی جاوے گی، خواہ دنیا میں بھی یا صرف آخرت میں، آگے دوسرے جواب دینے کے لئے ارشاد ہے کہ) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ان سے) کہئے کہ کیا تمہارے پاس (اس مقدمہ پر کہ صدور کی قدرت دینا مستلزم رضا ہے) کوئی دلیل ہے (اگر ہے) تو اس کو ہمارے روبرو ظاہر کرو (اصل یہ ہے کہ دلیل وغیرہ کچھ بھی نہیں) تم لوگ محض خیالی باتوں پر چلتے ہو اور تم بالکل اٹکل سے باتیں کرتے ہو (اور دونوں جواب دے کر) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ان سے) کہئے کہ پس (دونوں جوابوں سے معلوم ہوا کہ) پوری حجت اللہ ہی کی رہی (اور تمہاری حجت باطل ہوگئی) پھر (اس کا مقتضا تو یہ تھا کہ تم سب راہ پر آجاتے مگر اس کی توفیق خدا ہی کی طرف سے ہے) اگر وہ چاہتا تو تم سب کو راہ (راست) پر لے آتا (مگر حق تعالیٰ کی بہت سے حکمتیں ہیں، کسی کو توفیق دی کسی کو نہیں دی، البتہ اظہار حق اور اعطاء اختیار ارادہ سب کے لئے عام ہے، آگے دلیل نقلی کے مطالبہ کے لئے ارشاد فرماتے ہیں کہ) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ان سے) کہئے کہ (اپنی دلیل عقلی کا حال تو تم کو معلوم ہوا اچھا اب کوئی صحیح دلیل نقلی پیش کرو مثلاً ) اپنے گواہوں کو لاؤ جو اس بات پر (باقاعدہ) شہادت دیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان (مذکورہ) چیزوں کو حرام کردیا ہے، (باقاعدہ شہادت وہ ہے جو مبنی ہو مشایدہ پر یا ایسی دلیل قطعی پر جو افادہ یقین میں برابر ہو مشاہدہ کے، جیسا کہ (آیت) اَم کُنتُم شھداء اذ وصکم۔ اس طرف مشیر ہے) پھر اگر (اتفاق سے کسی کو فرضی جھوٹے گواہ بنا کرلے آویں اور) وہ (گواہ اس کی) گواہی (بھی) دیدیں تو (چونکہ وہ شہادت یقینا بےقاعدہ اور محض سخن سازی ہوگی، کیونکہ مشاہدہ بھی مفقود اور مشاہدہ کا مماثل بھی مفقود، اس لئے) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس شہادت کی سماعت نہ فرمائیے اور (جب ان کا مکذب ہونا جیسا کہ ولاَحَرَّمنَا اور کَذٰلِکَ کَذب الخ دال ہے، ثابت ہوگیا تو اے مخاطب) ایسے لوگوں کے باطل خیالات کا (جن کا بطلان ابھی ثابت ہوچکا) اتباع مت کرنا جو ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں اور جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے (اور اسی سبب سے نڈر ہو کر حق کی تلاش نہیں کرتے) اور وہ (استحقاق معبودیت میں) اپنے رب کے برابر دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں (یعنی شرک کرتے ہیں) ۔

Al-An'aam 6:148Listen in Qur'an →
149

قُلْ فَلِلَّهِ ٱلْحُجَّةُ ٱلْبَٰلِغَةُ ۖ فَلَوْ شَآءَ لَهَدَىٰكُمْ أَجْمَعِينَ

کہہ دو کہ خدا ہی کی حجت غالب ہے اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا

Explained together with ayah 148

Al-An'aam 6:149Listen in Qur'an →
150

قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ ٱلَّذِينَ يَشْهَدُونَ أَنَّ ٱللَّهَ حَرَّمَ هَٰذَا ۖ فَإِن شَهِدُوا۟ فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ ۚ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَآءَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ وَهُم بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ

کہو کہ اپنے گواہوں کو لاؤ جو بتائیں کہ خدا نے یہ چیزیں حرام کی ہیں پھر اگر وہ (آ کر) گواہی دیں تو تم ان کے ساتھ گواہی نہ دینا اور نہ ان لوگوں کی خواہشوں کی پیروی کرنا جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور (بتوں کو) اپنے پروردگار کے برابر ٹھہراتے ہیں

Explained together with ayah 148

Al-An'aam 6:150Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.