Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 141–150 of 165

141

۞ وَهُوَ ٱلَّذِىٓ أَنشَأَ جَنَّٰتٍۢ مَّعْرُوشَٰتٍۢ وَغَيْرَ مَعْرُوشَٰتٍۢ وَٱلنَّخْلَ وَٱلزَّرْعَ مُخْتَلِفًا أُكُلُهُۥ وَٱلزَّيْتُونَ وَٱلرُّمَّانَ مُتَشَٰبِهًۭا وَغَيْرَ مُتَشَٰبِهٍۢ ۚ كُلُوا۟ مِن ثَمَرِهِۦٓ إِذَآ أَثْمَرَ وَءَاتُوا۟ حَقَّهُۥ يَوْمَ حَصَادِهِۦ ۖ وَلَا تُسْرِفُوٓا۟ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْمُسْرِفِينَ

اور خدا ہی تو ہے جس نے باغ پیدا کئے چھتریوں پر چڑھائے ہوئے بھی اور جو چھتریوں پر نہیں چڑھائے ہوئے وہ بھی اور کھجور اور کھیتی جن کے طرح طرح کے پھل ہوتے ہیں اور زیتون اور انار جو (بعض باتوں میں) ایک دوسرے سے ملتے ہیں جب یہ چیزیں پھلیں تو ان کے پھل کھاؤ اور جس دن (پھل توڑو اور کھیتی) کاٹو تو خدا کا حق بھی اس میں سے ادا کرو اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بیجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا

قول باری ہے ( وھوالذی انشا جنت معروشات و غیر معروشات وہ اللہ ہی ہے جس نے طرح طرح کے باغ اور تاکستان پیدا کیے) تا قول باری ( واتوا حقہ یوم حصادہ ۔ اور اللہ کا حق ادا کرو جب ان کی فصل کاٹو) حضرت ابن عبا س اور سدی کا قول ہے کہ ( معروشات) سے مراد وہ انگوری باغ ہیں جن کی بیلیں ٹٹیوں پر چڑھائی جاتی ہیں۔- ایک قول کے مطابق تعریش کا مفہوم یہ ہے کہ باے کو کسی دییوار کے ذریعے گھیر دیا جاتے۔ اس لفظ کے اصل معنی بلند کرنے کے ہیں۔ اس سے قول باری ( خاویۃ علی عروشھا) ہے۔ یعنی اپنی بلند کی ہوئی ٹٹیوں پر گر پڑی تھیں۔ عرش تخت کو کہتے ہیں) اس لیے کہ عرش زمین سے بلند ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے کھیت ، کھجور، زیتون اور انار کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ( کلوا من ثمرہ اذا اثمر واتو خقہ یوم حصادہ۔ کھائو ان کی پیداوار جب کہ یہ پھلیں اور اللہ کا حق ادا کرو جب ان کی فصل کاٹو) یہ ما قبل کی تمام مذکورہ چیزوں پر عطف ہے۔ یہ آیت زمین کی تمام پیداوار اور پھلوں میں جن کا ذکر آیت میں ہوا ہے۔ اللہ کے حق کے ایجاب کا مقتضی ہے۔ - عُشر - قول باری ( واتوا حقہ یوم حصادہ) سے کیا مراد ہے۔ اس بارے میں اختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) ، جابر بن زید، محمد بن الحنفیہ، حسن بصری، سعید بن المسیب، طائوس، زید بن اسلم ، قتادہ اور ضحاک سے مروی ہے کہ اس سے عشر اور نصف عشر یعنی بیسواں حصہ مراد ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) ( ایک اور روایت کے مطابق) محمد بن الحنفیہ، سدی اور ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ اس آیت کے حکم نے عشر اور نص عشر کے حکم کو منسوخ کردیا ہے۔ حسن سے مروی ہے کہ زکوٰۃ کے حکم نے اسے منسوخ کردیا ہے۔ ضحاک کا قول ہے کہ زکوٰۃ کے حکم نے قرآن میں مذکور یہ صدقہ کو منسو، کردیا ہے۔ حضرت ابن عمر (رض) اور مجاہد سے منقول ہے کہ یہ آیت محکم ہے یعنی منسوخ نہیں ہوئی۔ نیز یہ کہ فصل کی کٹائی کے موقعہ پر آیت میں مذکور حق واجب ہے اور یہ زکوٰۃ کے علاوہ ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے کہ آپ نے رات کے وقت کھجور اتارنے اور انگور توڑنے نیز فصل کاٹنے سے منع فرمایا ہے۔ سفیان بن عینیہ کا قول ہے کہ حدیث میں وارد ممانعت فقراء و مساکین کو فائدہ پہنچانے کی خاطر کی گئی ہے تا کہ وہ اس موقع پر اکٹھے ہو سکیں۔ مجاہد کا قول ہے کہ جب ” کٹائی ہوجائے تو مساکین کا حق الگ کردیا جائے۔ اسی طرخ ان کا حق الگ کر دو جب پیداوار کا تخمینہ لگائو اور جب فصل کاٹ کر ڈھیر لگا دو ، نیز مساکین کو فصل کاٹنے والوں کے پیچھے پیچھے رہنے کی اجازت دے دی جائے، اور جب تم فصل سے حاصل شدہ اناج کو ناپنا شروع کرو تو اس میں انہیں لَپ پھر کر دے دو ۔ جب تمہیں اس کی مقدار معلوم ہوجائے تو اس کی زکوٰۃ الگ کر دو ۔ جب کھجور اتارنے لگو تو مساکین کے لیے اس میں سے الگر کر دو ۔ - اسی طرح جب پھل کو تولنا شروع کرو تو اس وقت بھی انہیں اس میں سے کچھ دے دو اور جب تمہیں اس کی مقدار کا اندازہ ہوجائے تو اس کی زکوٰۃ الگ کر دو ۔ “ حضرت ابن عباس (رض) ، محمد بن الحنفیہ اور ابراہیم نخعی سے یہ جو مروی ہے کہ قول باری ( واتو حقہ یوم حصادہ کا حکم عشر اور نصف عشر کے حکم کی بنا پر منسوخ ہوگیا ہے اس سے ان حضرات کے اس مسلک کا پتہ چلتا ہے کہ قرآن کو سنت کے ذریعے منسوخ کردینا جائز ہے جس پیداوار پر عشر واجب ہوتا ہے اس کے متعلق فقہاء کے مابین دو طرح کا اختلاف ہے۔ ای تو یہ کہ پیداوار کی وہ کون کون سی اصناف ہیں جن میں عشر واجب ہوتا ہے اور دوسرے یہ کہ ان کی مقدار کیا ہے۔ - عشر واجب ہونے والی پیداوار کے متعلق اختلاف رائے کا ذکر - امام ابوحنیفہ اور زفر کا قول ہے کہ زمین سے حاصل ہونے والی ہر پیداوار پر عشر ہے صرف ایندھن کی لکڑی ، قصب ( ہر وہ لکڑی جس میں پورے اور گرہیں ہوں مثلاً بانس ، نرکل وغیرہ ) اور حشیش یعنی خشک گھاس اس سے مستثنیٰ ہیں۔ امام ابویوسف اور امام محمد قول ہے کہ زمین سے پیدا …

Al-An'aam 6:141Listen in Qur'an →
142

وَمِنَ ٱلْأَنْعَٰمِ حَمُولَةًۭ وَفَرْشًۭا ۚ كُلُوا۟ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيْطَٰنِ ۚ إِنَّهُۥ لَكُمْ عَدُوٌّۭ مُّبِينٌۭ

اور چارپایوں میں بوجھ اٹھانے والے (یعنی بڑے بڑے) بھی پیدا کئے اور زمین سے لگے ہوئے (یعنی چھوٹے چھوٹے) بھی (پس) خدا کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو وہ تمہارا صریح دشمن ہے

مویشی اور سواری کے جانور - قول باری ہے ( ومن الانعام حمولۃ و فرشا پھر وہی ہے جس نے مویشیوں میں سے وہ جانور بھی پیدا کیے جس سے سواری اور باربرداری کا کام لیا جاتا ہے اور وہ بھی جو کھانے اور بچھانے کے کام آتے ہیں) حضرت ابن عباس (رض) (ایک روایت کے مطابق ) حسن بصری اور حضرت ابن مسعود (رض) ( ایک روایت کے مطابق) اور مجاہد کا قول ہے کہ حمولۃ سے بڑی عمر کے اونٹ اور فرش سے چھوٹی عمر کے اونٹ مراد ہیں۔ قتادہ ، ربیع بن انس، ضحاک ، سدی اور حسن بصری ( ایک روایت کے مطابق ) کا قول ہے کہ حمولۃ ان اونٹوں کو کہتے ہیں جس سے سواری اور بار برداری کا کام لیا جاتا ہے۔ اور فرش سے بھیڑ بکریاں مراد ہیں ۔ حضرت ابن عباس (رض) ایک اور روایت کے مطابق ) کا قول ہے کہ حمولہ سے ہر وہ جانور مراد ہے جو سواری اور بار برداری کا کام دے خواہ وہ اونٹ ہو یا بیل یا گھوڑا یا خچر یا گدھا۔ اور فرش سے بھیڑ بکریاں مراد ہیں۔ اس طرح انعام یعنی مویشیوں میں کھروں والے جانور یعنی گھوڑا ویغرہ تبعاً داخل کردیے گئے ورنہ انعام کا لفظ گھریلو جانوروں پر واقع نہیں ہوتا۔- فرش کے متعلق سلف کے دو اقوال ہیں یا تو ان سے مراد چھوٹی عمر کے اونٹ ہیں یا بھیڑ بکریاں ہیں۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ فرش سے مراد ان جانوروں کے اون اور ان کی کھالیں ہیں جو لوگ زمین پر بچھاتے اور ان پر بیٹھتے ہیں اگر سلف کا درج بالا قول نہ ہوتا تو ظاہر آیت سے مویشوں کے اون اور ریشم سے تمام حالات میں فائدہ اٹھانے کے جواز پر استدلال کیا جاسکتا تھا یعنی خواہ یہ اون اور ریشم جانور کی زندگی میں اتارے جاتے یا اس کی موت کے بعد ہر صورت میں ان سے فائدہ اٹھانا جائز ہوتا۔ اسی طرح آیت کے عموم کے اقتضاء کے تحت مردہ جانوروں کی کھال سے فائدہ اٹھانے کے جواز پر بھی استدلال ہوسکتا تھا۔ تا ہم سب کا اس پر اتفاق ہے کہ دباغت سے پہلے کھالوں سے کئی قسم کا فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔ اس بنا پر اس کی تخصیص ہوگئی اور آیت کا حکم دباغت کے بعد ان سے فائدہ اٹھانے کے جواز کے لیے ثابت اور باقی رہ گیا۔ قول باری ( ومن الانعام حمولۃ و فرشا) میں ایک پوشیدہ فقرہ موجود ہے یعنی ” وھوالذی انشاء لکم من الانعام حمولۃ و فرشا “ ( یہ وہی ہے جس نے تمہارے لیے مویشیوں میں سے بار برداری کے جانور پیدا کیے اور وہ جانور بھی جو کھانے اور بچھانے کے کام آتے ہیں)

Al-An'aam 6:142Listen in Qur'an →
143

ثَمَٰنِيَةَ أَزْوَٰجٍۢ ۖ مِّنَ ٱلضَّأْنِ ٱثْنَيْنِ وَمِنَ ٱلْمَعْزِ ٱثْنَيْنِ ۗ قُلْ ءَآلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ ٱلْأُنثَيَيْنِ أَمَّا ٱشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۖ نَبِّـُٔونِى بِعِلْمٍ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

(یہ بڑے چھوٹے چارپائے) آٹھ قسم کے (ہیں) دو (دو) بھیڑوں میں سے اور دو (دو) بکریوں میں سے (یعنی ایک ایک نر اور اور ایک ایک مادہ) (اے پیغمبر ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادنیوں کو یا جو بچہ مادنیوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اسے اگر سچے ہو تو مجھے سند سے بتاؤ

مشرکین کا ایک غلط عقیدہ - قول باری ہے ( ثمانیۃ ازواج من الضان اثنین و من العمز اثنین یہ آٹھ نرو مادہ ہیں۔ دو بھیڑ کی قسم سے اور دو بکری کی قسم سے) تا قول باری ( الظالمین) قول باری ( ثمانیۃ ازواج) قول باری ( حمولۃ و فرشا) بدل ہے اس لیے کہ یہ آٹھ نرو مادہ بھی انشاء یعنی پیدائش کے فعل میں داخل ہیں۔ گویا یوں فرمایا ” انشاء ثمانیہ ازواج ( نر و مادہ کے آٹھ جوڑے پیدا کیے) ان چاروں اصناف میں ہر صنف کے نر اور مادہ میں سے ہر ایک کو زوج کہا جاتا ہے۔ نر اور مادہ کے ایک جوڑے کو بھیی زوج کہا جاتا ہے جس طرح مقدمے کے ایک فریق کو خصم کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور فریقین کو بھیی اسی نام سے پکارا جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ اس نے اپنے بندوں کے لیے نر اور مادہ کے یہ چار جوڑے حلال کردیے ہیں۔ اور مشرکین نے اس میں سے بحیرو، سائبہ، فصیلہ اور حامی کو قرار دیا تھا نیز ان میں سے کچھ جانوروں ک و اپنے شریکوں کے لیے خاص کردیا تھا۔ یہ سب کچھ انہوں نے کسی دلیل اور برہان کے بغیر کیا تھا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو جہالت کی بنا پر گمراہ کرتے رہیں۔ اسی لیے فرمایا نبئونی بعلم ان کنتم صادقین، ٹھیک ٹھیک علم کے ساتھ بتائو اگر تم سچے ہو) - پھر فرمایا ( ام کنتم شھدآء اذ وصکم اللہ بھذا کیا تم اس وقت حاضر تھ جب اللہ نے ان کے حرام ہونے کا حکم تمہیں دیا تھا) اس لیے کہ علم حاصل کرنے کے دو ہی ذرائع ہیں یا تو مشاہدہ ہوجائے یا پھر دلیل موجود ہو جس کے ذریعے تمام عقلاء حق کے ادراک میں شامل ہوسکتے ہو۔ جب مشرکین ان میں سے کسی ایک کے ذریعے دلالت قائم کرنے سے عاجز رہ گئے تو اس سے ان کے اس طریقہ کار کا بطلان ثابت ہوگیا جو انہوں نے بعض مویشیوں کی تحریم کے سلسلے میں اختیار کر رکھا تھا۔

Al-An'aam 6:143Listen in Qur'an →
144

وَمِنَ ٱلْإِبِلِ ٱثْنَيْنِ وَمِنَ ٱلْبَقَرِ ٱثْنَيْنِ ۗ قُلْ ءَآلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ ٱلْأُنثَيَيْنِ أَمَّا ٱشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ ٱلْأُنثَيَيْنِ ۖ أَمْ كُنتُمْ شُهَدَآءَ إِذْ وَصَّىٰكُمُ ٱللَّهُ بِهَٰذَا ۚ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًۭا لِّيُضِلَّ ٱلنَّاسَ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّٰلِمِينَ

اور دو (دو) اونٹوں میں سے اور دو (دو) گایوں میں سے (ان کے بارے میں بھی ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادنیوں کو یا جو بچہ مادنیوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اس کو بھلا جس وقت خدا نے تم کو اس کا حکم دیا تھا تم اس وقت موجود تھے؟ تو اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے تاکہ اِز راہ بے دانشی لوگوں کو گمراہ کرے کچھ شک نہیں کہ خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

Explained together with ayah 143

Al-An'aam 6:144Listen in Qur'an →
145

قُل لَّآ أَجِدُ فِى مَآ أُوحِىَ إِلَىَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍۢ يَطْعَمُهُۥٓ إِلَّآ أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًۭا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍۢ فَإِنَّهُۥ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ ٱللَّهِ بِهِۦ ۚ فَمَنِ ٱضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍۢ وَلَا عَادٍۢ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

کہو کہ جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں ان میں کوئی چیز جسے کھانے والا کھائے حرام نہیں پاتا بجز اس کے کہ وہ مرا ہوا جانور یا بہتا لہو یا سور کا گوشت کہ یہ سب ناپاک ہیں یا کوئی گناہ کی چیز ہو کہ اس پر خدا کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو اور اگر کوئی مجبور ہو جائے لیکن نہ تو نافرمانی کرے اور نہ حد سے باہر نکل جائے تو تمہارا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے

حلال اور حرام جانوروں کی تفصیل - قول باری ہے ( قل لا اجد فیما او حی الی محرما علی طاعم بصعمہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انسے کہو کہ جو وحی میرے پاس آئی ہے اس میں تو میں کوئی چیز ایسی نہیں پاتا جو کسی کھانے والے پر حرام ہو) تا آخر آیت ۔ طائوس سے مروی ہے ک اہل جاہلیت یہت سی چیزوں کو حلال سمجھتے تھے اور بہت سی اشیاء کو حرام۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ( قل لا اجد فیما اوحی الی محرما) یعنی ان چیزوں میں سے جنہیں تم حلال سمجھتے تھے ( الا ان تکون میتتاً او دما مسفوحا او لحم خنزیر ۔ الا یہ کہ وہ مردار ہوں یا بہایا ہوا خون ہو یا سور کا گوشت ہو) تا آخر آیت ۔ مخاطبت کا سیاق اس مفہوم پر دلالت کرتا ہے جو طائوس سے مروی ہے۔ وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان مویشیوں کا ذکر فرمایا جنہیں یہ مشرکین حرام قرار دیتے تھے پھر اللہ کے حرام کردہ جانوروں کی تحریم پر ان کی مذمت کی اس لیے لہجہ تندو تیز اختیار کیا پھر ان کی جہالت اور لا علمی کو واضح کردیا اس لیے کہ انہوں نے علم کے بغیر محض جہالت کی بنیاد پر ان مویشیوں کی تحریم کا رویہ اپنایا تھا۔ ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں تھی۔ اس کے بعد اس قول کو عطف کیا۔ ( قل لا اجذ فیما اوحی الیٰ محرما) یعنی ان جانوروں اور اشیاء میں سے جنہیں تم حرام قرار دیتے ہو سوائے ان کے جن کا آگے ذکر آ رہا ہے۔ جب آیت کی ترتیب ہماری بیان کردہ صورت کے مطابق ہے تو اب اس سے ان چیزوں کی اباحت پر استدلال درست نہیں ہوگا جن کا ذکر آیت میں نہیں ہوا۔ اگر یہ کہا جائے کہ سورة مائدہ کی ابتداء میں چند جانوروں کی تحریم کا ذکر ہے مثلاً دم گھٹ کر مرنے والا، چوٹ کھا کر مرنے والا یا اوپر سے نیچے لڑھک کر مرنے والا جانور وغیرہ۔ حالانکہ یہ تمام جانور آیت سے خارج ہیں۔ اس اعتراض کے دو جواب ہیں۔ ایک تو یہ کہ دم گھٹ کر مرنے والا جانور اور اس کے ساتھ آیت میں مذکورہ تمام جانور مردار ہیں داخل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے قول ( حرمت علیکم المیتۃ تم پر مردار حرام کردیا گیا) میں صرف مردار کی تحریم کا ذکر کیا پھر اس کیی صورتیں بیان فرما دیں اور ان اسباب کا ذکر کردیا جس کی بناء پر ایک جانور مردار کہلاتا ہے اس لیے میتہ کا لفظ دم گھٹ کر مرجانے والے جانور اور اسی طرح کے دوسرے تمام جانوروں کو شامل ہے جن کا ذکر سورة مائدہ کی آیت میں ہوا ہے۔- دوسرا جواب یہ ہے کہ سورة انعام مکی سورت ہے اس لیے ممکن ہے کہ اس وقت تک آیت زیر بحث میں حرام شدہ جانوروں اور اشیاء کے سوا اور کوئی جانور یا شے حرام نہ قرار دی گئی ہو۔ سورة مائدہ مدنی سورت ہے بلکہ نازل ہونے والی آخری سورت ہے۔ اس آیت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ حرف او جب نفی پر داخل ہوتا ہے تو اس کے مدخول میں سے ہر ایک چیز علیحدہ اور بالذات ثابت ہوجاتی ہے۔ نیز یہ کہ حرف او تخییر کا مقتضی نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ قول باری ( الا ان یکون میتۃ او دما مسفوحا او لحم خنزیر) مذکورہ چیزوں میں سے ہر ایک کی علیحدہ اور بالذات تحریم کو واجب کردیا ہے۔ سلف میں سے بہت سے حضرات نے آیت زیر بحث میں مذکورہ اشیاء کے ماسوا دیگر اشیاء کی اباحت پر آیت سے استدلال کیا ہے ان اشیاء میں پالتو گدھے بھی شامل ہیں۔ - پالتو گدھوں کا گوشت - سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے نقل کیا ہے کہ میں نے جابر بن زید سے پوچھا کہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرما دیا ہے۔ جابر نے جواب میں کہا کہ الحکم بن عمرو الغفاری بھیی ہمارے سامنے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہی بات نقل کرتے تھے لیکن ان کی اس بات کو علم کے سمندر یعنی حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا اور یہ آیت تلاوت کی تھی ( قل لا اجد فیما اوحی الی محرم) تا آخر آیت، حماد بن سلمہ ن یحییٰ بن سعید سیروایت کی ہے انہوں نے قاسم سے انہوں نے حضرت عائشہ …

Al-An'aam 6:145Listen in Qur'an →
146

وَعَلَى ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ حَرَّمْنَا كُلَّ ذِى ظُفُرٍۢ ۖ وَمِنَ ٱلْبَقَرِ وَٱلْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَآ إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَآ أَوِ ٱلْحَوَايَآ أَوْ مَا ٱخْتَلَطَ بِعَظْمٍۢ ۚ ذَٰلِكَ جَزَيْنَٰهُم بِبَغْيِهِمْ ۖ وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ

اور یہودیوں پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کر دئیے تھے اور گایوں اور بکریوں سے ان کی چربی حرام کر دی تھی سوا اس کے جو ان کی پیٹھ پر لگی ہو یا اوجھڑی میں ہو یا ہڈی میں ملی ہو یہ سزا ہم نے ان کو ان کی شرارت کے سبب دی تھی اور ہم تو سچ کہنے والے ہیں

ناخن والے جانور - قول باری ہے (وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر اور جن لوگوں نے یہودیت اختیار کی تھی ان پر ہم نے ناخن والے تمام جانور حرام کردیے تھے) تا آخر آیت۔ حضرت ابن عباس (رض) ، سعید بن حبیر، قتادہ ، سدی اور مجاہد کا قول ہے کہ اس سے ہر وہ جانور مراد ہے جس کی انگلیاں کھلی نہیں ہوتیں مثلاً اونٹ، شتر مرغ، بطخ اور مرغابی وغیرہ۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ اس میں درندوں کی تمام قسمیں نیز کتے، بلیاں اور وہ تمام پرندے شامل ہیں جو اپنے ناخنوں کے ذریعے شکار کرتے ہیں۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ انبیاء سابقین کی زبان سے ان امتوں پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان چیزوں کی تحریم ثابت ہوچکی ہے۔ تحریم کا یہ حکم ہمارے لیے بھی بایں معنی ثابت ہے کہ یہ اب ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت کا جزو بن گیا ہے الا یہ کہ اس حکم کا نسخ ثابت ہوجائے۔ جب کتوں اور درندوں وغیرہ کی تحریم کا نسخ ثابت نہیں ہوا تو اس سے یہ ضروری ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے شروع میں ان چیزوں کو جس طرح حرام قرار دیا تھا اسی طرح یہ اب بھی حرام رہیں اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت کا حصہ بن جائیں۔ - چربی کا حکم - قول باری ہے ( حرمنا علیھم شحو مھما الا ما حملت ظھورھما ہم نے گائے اور بکری کی چربی بھی ان پر حرام کردی تھی بجز اس ک جو ان کی پیٹھ یا ان کی آنتوں سے لگی ہوئی ہو یا ہڈی سے لگی رہ جائے) اگر کوئی شخص چربی نہ کھانے کی قسم کھالے اور پھر وہ پرندے کی چربی کھالے تو مام ایوسف اور امام محمد کے نزدیک وہ حانث ہوجائے گا ان کا استدلال درج بالا آیت سے ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے مجموعی تحریم سے گائے اور بکری کی پیٹھ پر لگی ہوئی چربی کو مستثنیٰ کردیا ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک پیٹھ پر لگی ہوئی چربی کو عادۃً چربی نہیں کہا جاتا بلکہچربیدار گوشت کہا جاتا ہے۔ اس چربی کو چربی کا اسم علیٰ الاطلاق شامل نہیں ہوتا۔ - اللہ تعالیٰ نے اگرچہ اسے چربی کے نام سے پکارا ہے لیکن یہ چربی نہ کھانے کی قسم میں داخل نہیں ہوتا اس لیے کہ اس کے لیے یہ نام متعارف نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو گوشت کا اور سورج کو چراغ کا نام دیا ہے لیکن گوشت نہ کھانے کی قسم کے تحت یہ دونوں چیزیں نہیں آتیں، آیت میں وارد لفظ الحوایا کے متعلق حضرب ابن عباس (رض) ، حس، سعید بن جبیر، قتادہ ، مجاہد اور سدی سے مروی ہے کہ اس سے مینگنی نکلنے کا عضو مراد ہے۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اس سے نبات اللبن یعنی تھن مراد ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے آنتیں مراد ہیں جن پر چربی لگی ہوتی ہے۔ قول باری ہے ( اوما احتلط بعظم یا جو ہڈی سے لگی رہ جائے) سدی اور ابن جریج سے منقول ہے کہ اس سے پہلو میں لگی ہوئی چربی اور دنبے کی چکتی مراد ہے اس لیے کہ یہ دونوں ہڈی پر ہوتی ہیں۔ ہم نے یہ ذکر کیا ہے کہ حرف ” او “ جب نفی پر داخل ہوتا ہے تو اپنے مدخوں میں سے ہر ایک کی الگ الگ نفی کا مقتضی ہوتا ہے۔ آیت میں اس کی دلیل موجود ہے اس لیے کہ قول باری ( الا ما حملت ظھورھما او الحوایا او ما اختلظ بعظم) میں سب کی تحریم کی نفی ہے اس کی نظیر یہ قول باری ہے ( ولا تطع منھم اثما او کفورا) اس میں گنہگار اور کافر میں سے ہر ایک کی پیروی کی نہی ہے۔ ہمارے اصحاب کا بھی اس شخص کے بارے میں جس نے یہ قسم کھائی ہو کہ میں فلاں سے فلاں سے بات نہیں کروں گا۔ یہی قول ہے کہ اگر وہ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ بھی بات کرلے گا حانث ہوجائے گا اس لیے کہ اس نے ان میں سے ہر ایک سے علیحدہ علیحدہ بات نہ کرنے کی قسم کھائی تھی۔

Al-An'aam 6:146Listen in Qur'an →
147

فَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل رَّبُّكُمْ ذُو رَحْمَةٍۢ وَٰسِعَةٍۢ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُهُۥ عَنِ ٱلْقَوْمِ ٱلْمُجْرِمِينَ

اور اگر یوں لوگ تمہاری تکذیب کریں تو کہہ دو تمہارا پروردگار صاحب رحمت وسیع ہے مگر اس کا عذاب گنہ گاروں لوگوں سے نہیں ٹلے گا

Explained together with ayah 146

Al-An'aam 6:147Listen in Qur'an →
148

سَيَقُولُ ٱلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ لَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَآ أَشْرَكْنَا وَلَآ ءَابَآؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِن شَىْءٍۢ ۚ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ حَتَّىٰ ذَاقُوا۟ بَأْسَنَا ۗ قُلْ هَلْ عِندَكُم مِّنْ عِلْمٍۢ فَتُخْرِجُوهُ لَنَآ ۖ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنْ أَنتُمْ إِلَّا تَخْرُصُونَ

جو لوگ شرک کرتے ہیں وہ کہیں گے کہ اگر خدا چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا (شرک کرتے) اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے اسی طرح ان لوگوں نے تکذیب کی تھی جو ان سے پہلے تھے یہاں تک کہ ہمارے عذاب کا مزہ چکھ کر رہے کہہ دو کیا تمہارے پاس کوئی سند ہے (اگر ہے) تو اسے ہمارے سامنے نکالو تم محض خیال کے پیچھے چلتے اور اٹکل کی تیر چلاتے ہو

مشرکین کا غلط استدلال - قول باری ہے ( سیقول الذین اشرکوا لو شآء اللہ ما اشرکنا ولا ابائونا یہ مشرک لوگ ( تمہاری ان باتوں کے جواب میں) ضرور کہیں گے کہ ” اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا ) تا قول باری ( کذلک کذب الذین من قبلھم ۔ ایسی ہی باتیں بنا بنا کر ان سے پہلے لوگوں نے بھی حق کو جھٹلایا تھا) اس میں مشرکین کو ان کے اس قول میں جھوٹا قرار دیا گیا ہے کہ ” اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا “ اس لیے کہ قول باری ہے ( کذلک کذب الذین من قبلھم) جو شخص حق کو جھٹلائے گا وہ اس کے جھٹلانے میں خود جھوٹا ہوگا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ کفار اپنے اس قول میں جھوٹے ہیں۔- اگر اللہ تعالیٰ شرک چاہتا تو یہ لوگ اپنے اس قول میں جھوٹے نہ قرار دیے جاتے۔ اس میں اس بات کی وضاحت ہے کہ اللہ تعالیٰ شرک نہیں چاہتا۔ اس کی مزید تاکید اپنے اس قول سے فرمائی ہے ( ان تتبعون الا الظن وان انتم الا تخرصون تم تو محض گمان پر چل رہے ہو اور نری قیاس آرائیاں کرتے ہو) یعنی تم جھوٹ بکتے ہو۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اللہ تعالیٰ ان سے شرک نہیں چاہتا اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ چاہا ہے کہ وہ اپنے اختیار اور مرضی سے ایمان لے آئیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان سے زبردستی ایمان چاہتا تو وہ اس پر بھی قادر تھا لیکن اس صورت میں وہ ثواب اور مدح کے مستحق قرار نہ پاتے۔ انسانی عقول کی بھی اس امر پر دلالت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں منصوص طریقے سے بیان فرما دیا ہے کہ شرک اور قبائح کا ارادہ کرنے والا سفید اور بیوقوف ہوتا ہے جس طرح شرک کا حکم دینے والا سفیہ اور بیوقوف ہوتا ہے۔ یہ اس لیے کہ شرک کا ارادہ کرنا شرک کی دعوت دینے کے مترادف ہے جس طرح شرک کا حکم دینا شرک کی دعوت دینے کے برابر ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے جو باتیں پسند کی ہیں ان کی اس نے انہیں دعوت دی ہے اور انہیں ان کی ترغیب بھی دی ہے۔ اسی بناء پر یہ باتیں طاعت کہلاتی ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ نے پانے بندوں کو جن باتوں کا حکم دیا ہے ان کی انہیں دعوت بھی دی ہے اور اگر بندے ان پر عمل کرلیں تو یہ طاعت شمار ہوتی ہے۔- البتہ شرک کے علم کی یہ حیثیت نہیں ہے اس لیے کہ کسی چیز کا علم اس بات کا موجب نہیں ہوتا کہ اس کا جانے والا دوسروں کو اس کی دعوت بھی دے ، نہ ہی یہ بات اس چیز کو مستلزم ہوتی ہے کسی دوسرے کا وہ فعل جو علم میں آجائے اسے طاعت قرار دیا جائے جبکہ علم رکھنے والے نے اس کا ارادہ ہی نہ کیا ہو۔ اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف مشرکین کے اس استدلال کی تردید کی ہے جو وہ اپنے شرک کے حق میں یہ کہہ کر کیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے شرک چاہا حالانکہ یہ کوئی حجت اور دلیل نہیں ہے۔ اگر انہیں ان کے اس قول میں جھوٹا قرار دینا مراد ہوتا تو آیت کے الفاظ کذلک کذب الذین من قبلھم ہوتے یعنی لفظ کذب تخفیف کے ساتھ ہوتا۔ تشدید کے ساتھ نہ ہوتا ۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اگر اللہ تعالیٰ ان سے کفر چاہتا تو نہ صرف ان کا استدلال درست ہوتا بلکہ ان کے کفرو شرک کا یہ فعل طاعت کہلاتا۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے قول کے ذریعے ان کا استدلال باطل کردیا تو اس سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ ان کے استدلال کے بطلان کی وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ نہیں چاہا تھا نیز اللہ تعالیٰ نے انہیں اس قول میں دو وجوہ کی بناپر جھوٹا قرار دیا ہے اول یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق یہ بتایا کہ وہ حق کی تکذیب کرتے ہں اور حق کی تکذیب کرنے والا اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا کہ وہ خود جھوٹا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ قول باری ( وان انتم الا تخرصون) کے معنی ہیں ” تم جھوٹ بولتے ہو۔ “

Al-An'aam 6:148Listen in Qur'an →
149

قُلْ فَلِلَّهِ ٱلْحُجَّةُ ٱلْبَٰلِغَةُ ۖ فَلَوْ شَآءَ لَهَدَىٰكُمْ أَجْمَعِينَ

کہہ دو کہ خدا ہی کی حجت غالب ہے اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا

Explained together with ayah 148

Al-An'aam 6:149Listen in Qur'an →
150

قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ ٱلَّذِينَ يَشْهَدُونَ أَنَّ ٱللَّهَ حَرَّمَ هَٰذَا ۖ فَإِن شَهِدُوا۟ فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ ۚ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَآءَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ وَهُم بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ

کہو کہ اپنے گواہوں کو لاؤ جو بتائیں کہ خدا نے یہ چیزیں حرام کی ہیں پھر اگر وہ (آ کر) گواہی دیں تو تم ان کے ساتھ گواہی نہ دینا اور نہ ان لوگوں کی خواہشوں کی پیروی کرنا جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور (بتوں کو) اپنے پروردگار کے برابر ٹھہراتے ہیں

قول باری ہے ( قل ھلم شھدآء کم الذین یشھدون ان اللہ حرم ھذا ان سے کہو کہ ” لائو اپنے وہ گواہ جو اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ ہی نے ان چیزوں کو حرام کیا ہے) تا آخر آیت۔ یعنی چونکہ وہ اپنے اس دعوے پر کہ اللہ ہی نے ان چیزوں کو حرام کیا ہے کوئی شہادت پیش کرنے اور دلالت قائم کرنے سے عاجز رہے اس لیے ان کا یہ دعویٰ باطل قرار پایا۔ اس لیے کہ اپنے دعوے کے اثبات کے لیے ان کے پاس نہ کوئی عقلی دلیل موجود تھی اور نہی سمعی یا تقلی دلیل۔ جو دعویٰ ان دو طریقوں میں سے کسی ایک کے ذریعے ثابت نہ ہو سکے اور نہ ہی وہ محسوس و مشاہد ہو۔ اس کے متعلق علم کی راہیں مسدود ہوتی ہیں اور اس پر باطل ہونے کا حکم لگانا واجب ہوجاتا ہے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جب ان کی شہادت قبال قبول ہی نہں تو انہیں گواہی پیش کرنے کی کیوں دعوت دی گئی اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ گواہی پیش کرنے کا انہیں اس لیے چیلنج دیا گیا کہ وہ ایسی گواہی پیش ہی نہیں کرسکتے تھے جس کے نتیجے میں ان کے دعوے کے سلسلے میں کوئی ٹھوس بات سامنے آسکتی۔ ای قول یہ بھی ہے کہ انہیں خود اپنی گواہی پیش کرنے کے لیے نہیں کہا گیا تھا بلکہ ایسے افراد کو بطور گواہ پیش کرنے کے لیے کہا گیا تھا جن کی گواہی کی بنا پر کسی حجت اور دلیل کا ثبوت ہوسکتا ۔ آیت میں گمراہ کن خواہشات کی پیروی سے روکا گیا ہے۔ خواہشات کی بنیاد پر کسی مذہب کا معتقد بن جانے کی کئی صورتیں ہیں۔- ایک تو یہ کہ کسی غلط انسان کا معتقد بن کر اس کا پیروکار ہوجائے، کبھی کسی کے دل میں کسی شرعی امر میں شبہ پیدا ہوتا ہے جس کی بنا پر وہ غلط راہ پر لگ جاتا ہے۔ حالانکہ عقلی طور پر ایسے دلائل موجود ہوتے ہیں جو اسے اس سے روکتے رہتے ہیں۔ کبیھ یہ ہوتا ہے کہ ایک مسئلے میں پوری چھان بین ایک مشقت طلب کام ہوتا ہے۔ چناچہ اس مشقت سے پہلو تہی کر کے غلط بات کو اپنا لیا جاتا ہے۔ بعض دفعہ رسم و رواج سے واستگی اور عقلی طور پر انہیں بہتر سمجھنے کی بنا پر غلط بات قبول کرلی جاتی ہے۔

Al-An'aam 6:150Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.