Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 131–140 of 165

131

ذَٰلِكَ أَن لَّمْ يَكُن رَّبُّكَ مُهْلِكَ ٱلْقُرَىٰ بِظُلْمٍۢ وَأَهْلُهَا غَٰفِلُونَ

(اے محمدﷺ!) یہ (جو پیغمبر آتے رہے اور کتابیں نازل ہوتی رہیں تو) اس لیے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں کہ بستیوں کو ظلم سے ہلاک کر دے اور وہاں کے رہنے والوں کو (کچھ بھی) خبر نہ ہو

Explained together with ayah 121

Al-An'aam 6:131Listen in Qur'an →
132

وَلِكُلٍّۢ دَرَجَٰتٌۭ مِّمَّا عَمِلُوا۟ ۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَٰفِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ

اور سب لوگوں کے بلحاظ اعمال درجے (مقرر) ہیں اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں خدا ان سے بے خبر نہیں

Explained together with ayah 121

Al-An'aam 6:132Listen in Qur'an →
133

وَرَبُّكَ ٱلْغَنِىُّ ذُو ٱلرَّحْمَةِ ۚ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَسْتَخْلِفْ مِنۢ بَعْدِكُم مَّا يَشَآءُ كَمَآ أَنشَأَكُم مِّن ذُرِّيَّةِ قَوْمٍ ءَاخَرِينَ

اور تمہارا پروردگار بےپروا (اور) صاحب رحمت ہے اگر چاہے (تو اے بندوں) تمہیں نابود کر دے اور تمہارے بعد جن لوگوں کو چاہے تمہارا جانشین بنا دے جیسا تم کو بھی دوسرے لوگوں کی نسل سے پیدا کیا ہے

Explained together with ayah 121

Al-An'aam 6:133Listen in Qur'an →
134

إِنَّ مَا تُوعَدُونَ لَءَاتٍۢ ۖ وَمَآ أَنتُم بِمُعْجِزِينَ

کچھ شک نہیں کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ (وقوع میں) آنے والا ہے اور تم (خدا کو) مغلوب نہیں کر سکتے

Explained together with ayah 121

Al-An'aam 6:134Listen in Qur'an →
135

قُلْ يَٰقَوْمِ ٱعْمَلُوا۟ عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنِّى عَامِلٌۭ ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن تَكُونُ لَهُۥ عَٰقِبَةُ ٱلدَّارِ ۗ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلظَّٰلِمُونَ

کہہ دو کہ لوگو تم اپنی جگہ عمل کئے جاؤ میں (اپنی جگہ) عمل کئے جاتا ہوں عنقریب تم کو معلوم ہو جائے گا کہ آخرت میں (بہشت) کس کا گھر ہوگا کچھ شک نہیں کہ مشرک نجات نہیں پانے کے

Explained together with ayah 121

Al-An'aam 6:135Listen in Qur'an →
136

وَجَعَلُوا۟ لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ ٱلْحَرْثِ وَٱلْأَنْعَٰمِ نَصِيبًۭا فَقَالُوا۟ هَٰذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَٰذَا لِشُرَكَآئِنَا ۖ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى ٱللَّهِ ۖ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَىٰ شُرَكَآئِهِمْ ۗ سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ

اور (یہ لوگ) خدا ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں خدا کا بھی ایک حصہ مقرر کرتے ہیں اور اپنے خیال (باطل) سے کہتے ہیں کہ یہ (حصہ) تو خدا کا اور یہ ہمارے شریکوں (یعنی بتوں) کا تو جو حصہ ان کے شریکوں کا ہوتا ہے وہ تو خدا کی طرف نہیں جا سکتا اور جو حصہ خدا کا ہوتا ہے وہ ان کے شریکوں کی طرف جا سکتا ہے یہ کیسا برا انصاف ہے

بتوں کے چڑھاوے - قول باری ہے ( وجعلوا للہ مما ذراأ من الحرث والانعام نصیبا فقالو ھذا للہ بذعمھم و ھذا لشرکانئنا۔ ان لوگوں نے اللہ کے لیے خود اسی کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور مویشیوں میں سے ایک حصہ مقرر کیا ہے اور کہتے ہیں یہ اللہ کے لیے ہے۔ بزعم خود اور یہ ہمارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لیے ہے) تا آخر آیت۔ حرث کھیتی کو کہتے ہیں اور اس زمین کو جسے زراعت کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) اور قتادہ کا قول ہے کہ گمراہ لوگوں کے ایک ٹولے نے اپنی کھیتیوں اور مویشیوں میں سے ایک حصہ اللہ کے لیے اور ایک حصہ اللہ کے شریکوں کے لیے مقرر کرلیا اگر شریکوں کے لیے مقرر کردہ حصے میں سے کچھ اللہ کے لیے مقرر کردہ حصے کے ساتھ مل جاتا تو وہ اسے اپنے شریکوں پر لوٹا دیتے۔ اگر انہیں کبھی قحط کا سامنا ہوتا تو اللہ تعالیٰ کے لیے مقرر کردہ حصے کو اپنے استعمال میں لاتے لیکن شریکوں کے لیے مقرر کردہ حصے کو ہاتھ نہ لگاتے، اسے اسی طرح باقی رہنے دیتے۔ ایک قول یہ ہے کہ اگر بتوں کے لیے مقرر کردہ حصہ ضائع ہوجاتا تو اس کے بدل کے طور پر اللہ کے لیے مقرر کردہ حصہ لے لیتے لیکن اگر اللہ کا حصہ ضائع ہوجاتا تو اس کی جگہ بتوں کا حصہ بدل کے طور پر نہ رکھتے، حسن اور سدی سے یہی روایت ہے۔ ایک اور قول کے مطابق اللہ کے لیے مرر کردہ حصے میں سے لے کر اپنے بتوں پر خرچ کرتے تھے لیکن بتوں کے لیے مقرر کردہ حصے میں سے اللہ کے لیے خرچ نہ کرتے۔ بتوں کو ان کے شریکوں کے نام سے موسوم کیا گیا اس کی وجہ یہے کہ انہوں نے اپنے اموال کا ایک حصہ بتوں کے نام وقف کردیا تھا یہ حصہ ان بتوں پر صرف ہوتا تھا اس طرح انہوں نے اپنے بتوں کو بھی اپن مال و دولت میں حصہ دار بنا لیا تھا۔

Al-An'aam 6:136Listen in Qur'an →
137

وَكَذَٰلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيرٍۢ مِّنَ ٱلْمُشْرِكِينَ قَتْلَ أَوْلَٰدِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِيُرْدُوهُمْ وَلِيَلْبِسُوا۟ عَلَيْهِمْ دِينَهُمْ ۖ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا فَعَلُوهُ ۖ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ

اسی طرح بہت سے مشرکوں کو ان کے شریکوں نے ان کے بچوں کو جان سے مار ڈالنا اچھا کر دکھایا ہے تاکہ انہیں ہلاکت میں ڈال دیں اور ان کے دین کو ان پر خلط ملط کر دیں اور اگر خدا چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو چھوڑ دو کہ وہ جانیں اور ان کا جھوٹ

Explained together with ayah 136

Al-An'aam 6:137Listen in Qur'an →
138

وَقَالُوا۟ هَٰذِهِۦٓ أَنْعَٰمٌۭ وَحَرْثٌ حِجْرٌۭ لَّا يَطْعَمُهَآ إِلَّا مَن نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَأَنْعَٰمٌ حُرِّمَتْ ظُهُورُهَا وَأَنْعَٰمٌۭ لَّا يَذْكُرُونَ ٱسْمَ ٱللَّهِ عَلَيْهَا ٱفْتِرَآءً عَلَيْهِ ۚ سَيَجْزِيهِم بِمَا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ

اور اپنے خیال سے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ چارپائے اور کھیتی منع ہے اسے اس شخص کے سوا جسے ہم چاہیں کوئی نہ کھائے اور (بعض) چارپائے ایسے ہیں کہ ان کی پیٹ پر چڑھنا منع کر دیا گیا ہے اور بعض مویشی ایسے ہیں جن پر (ذبح کرتے وقت) خدا کا نام نہیں لیتے سب خدا پر جھوٹ ہے وہ عنقریب ان کو ان کے جھوٹ کا بدلہ دے گا

قول باری ہے ( وقالوا ھذہ انعام وحدث حجر۔ کہتے ہیں یہ جانور اور یہ کھیت محفوظ ہیں) ضحاک کا قول ہے کہ حرث سے وہ کھیتی مراد ہے جسے وہ بتوں کے لیے وقف کردیتے تھے۔ پہلی آیت میں مذکورہ انعام سے وہ جانور مراد ہیں جنہیں کھیتی کی طرح بتوں کے نام پر وقف کردیتے تھے تا کہ ان بتوں کی دیکھ بھال کرنے والے مہنتوں اور خدمت گاروں کے اخراجات ان سے پورے کیے جاسکیں۔ ایک قول ہے ان انعام سے وہ جانور مراد ہیں جو ان بتوں پر قربان کرنے کے لیے پیش کیے جاتے تھے۔ دوسری آیت میں مذکورہ انعام سے سائبہ، وصیلہ اور حامی مراد ہیں حسن اور مجاہد کا یہی قول ہے ( ان جانوروں پر مفصل نوٹ پچھلے صفحات میں گزر چکا ہے۔ ) تیسری دفعہ مذکورہ انعام سے وہ جانور مراد ہیں جنہیں ذبح کرتے وقت یا ان پر سوار ہوتے وقت یا ان سے پیدا ہونے والے بچوں کی پیدائش کے وقت ان پر اللہ کا نام نہیں لیتے تھے۔ مفسر سدی اور دوسرے حضرات کا یہی قول ہے ۔ ابو وائل کا قول ہے کہ ان سے وہ جانور مراد ہیں جن پر سوار ہو کر حج کرنے کے لیے نہیں جاتے تھے۔ قول باری (حجر) کے متعلق قتادہ کا قول ہے کہ اس سے حرام مراد ہے۔ - اس کے اصل معنی منع کرنے اور روکنے کے ہیں۔ قول باری ہے ( ویقولون حجرا محجورا) یعنی حرام و محرم۔ قول باری ہے ( وقالو ما فی بطون ھذہ الانعام خالصۃ لذکورنا و محرم علی ازوجنا اور کہتے ہیں کہ جو کچھ ان جانوروں کے پیٹ میں ہے یہ ہمارے مردوں کے لیے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام) حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے کہ اس سے ان کی مراد دودھ ہے۔ سعید نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ ان س مراد تدروں اور منتوں کے جانوروں کے پیٹ سے پیدا ہونے والے بچے ہیں جنہیں صرف مرد کھا سکتے تھے، عورتوں کو انہیں ہاتھ لگانا ممنوع تھا۔- اگر مردہ بچہ پیدا ہوتا تو اس میں مرد اور عورت سب شریک ہوجاتے۔ قول باری ہے ( قد حسر الذین قتلوا اولادھم سفھا بغیر علم و حرموا ما رزقھم اللہ۔ یقیناً خسارے میں پڑگئے وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو جہالت و نادانی کی بناء پر قتل کیا اور اللہ کے دیے ہوئے رزق کو حرام ٹھہرا لیا) قتادہ کے قول کے مطابق اس سے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حامی مراد ہیں۔ ان جانروں کو مختلف نذروں اور منتوں کے تحت اپنے لیے حرام قرار دے دینا دراصل شیطان کی طرف سے ان کا مال ان پر حرام کردینے کی ایک صورت تھی۔ مجاہد اور سدی کا قول ہے کہ ( ما فی بطون ھذہ الانعام) سے ان جانوروں کے پیٹ میں قرار پانے والے حمل اور جنین مراد ہیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ ان سے جنین اور دودھ سب مراد ہیں۔ خالص اس چیز کو کہا جاتا ہے جو ایک ہی حالت پر ہو اور اس کے ساتھ کسی اور چیز کی ملاوٹ نہ ہو۔ مثلاً خالص سونا وغیرہ۔ اسی سے یہ فقرہ بنا ہے۔ ” اخلاص التوحید للہ، اخلاص العمل للہ ( اللہ کے لیے اس کی وحدانیت کو خالص کردینا۔ اللہ کے لیے عمل کو خالص کردینا وغیرہ) آیت میں یہ لفظ مونث کے صیغے کی صورت میں آیا ہے یعنی ( خالصۃ) اس سے صفت کے اندر مبالغہ مراد ہے یعنی یہ تاء مبالغہ کے لیے ہے جس طرح ” علامۃ “ اور روایۃ “ کے الفاظ میں یعنی بہت علم والا بہت زیادہ روایت کرنے۔ ایک قول ہے ک اس میں مصدر کی تانیث ہے جس طرح عاقبۃ اور عافیۃ کے مصدری الفاظ ہیں۔ اسی سے قول باری ( بخالصۃ ذکری الدار “ خاص بات کے ساتھ یعنی یاد آخرت ) ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ان جانوروں کے پیٹ میں موجود حمل کی تانیث کی بناء پر اس لفظ کو مونث لایا گیا ہے۔ محاورہ میں فلان خالصۃ و خلصانۃ کہا جاتا ہے۔ - قول باری ہے ( وان یکن میتۃ فھم فیہ شرکاء۔ لیکن اگر وہ مردہ ہو تو دونوں اس کے کھانے میں شریک ہوسکتے ہیں) یعنی اگر ان جانوروں کے پیٹ میں موجود جنین مردہ پیدا ہوں تو پھر مرد اور عورت دونوں کا حق یکساں ہوگا اور سب اس کے کھانے میں شریک ہوں گے ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : اگر تم …

Al-An'aam 6:138Listen in Qur'an →
139

وَقَالُوا۟ مَا فِى بُطُونِ هَٰذِهِ ٱلْأَنْعَٰمِ خَالِصَةٌۭ لِّذُكُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَىٰٓ أَزْوَٰجِنَا ۖ وَإِن يَكُن مَّيْتَةًۭ فَهُمْ فِيهِ شُرَكَآءُ ۚ سَيَجْزِيهِمْ وَصْفَهُمْ ۚ إِنَّهُۥ حَكِيمٌ عَلِيمٌۭ

اور یہ بھی کہتے ہیں کہ جو بچہ ان چارپایوں کے پیٹ میں ہے وہ خاص ہمارے مردوں کے لئے ہے اور ہماری عورتوں کو (اس کا کھانا) حرام ہے اور اگر وہ بچہ مرا ہوا ہو تو سب اس میں شریک ہیں (یعنی اسے مرد اور عورتیں سب کھائیں) عنقریب خدا ان کو ان کے ڈھکوسلوں کی سزا دے گا بےشک وہ حکمت والا خبردار ہے

Explained together with ayah 138

Al-An'aam 6:139Listen in Qur'an →
140

قَدْ خَسِرَ ٱلَّذِينَ قَتَلُوٓا۟ أَوْلَٰدَهُمْ سَفَهًۢا بِغَيْرِ عِلْمٍۢ وَحَرَّمُوا۟ مَا رَزَقَهُمُ ٱللَّهُ ٱفْتِرَآءً عَلَى ٱللَّهِ ۚ قَدْ ضَلُّوا۟ وَمَا كَانُوا۟ مُهْتَدِينَ

جن لوگوں نے اپنی اولاد کو بیوقوفی سے بے سمجھی سے قتل کیا اور خدا پر افترا کر کے اس کی عطا فرمائی کی ہوئی روزی کو حرام ٹہرایا وہ گھاٹے میں پڑ گئے وہ بےشبہ گمراہ ہیں اور ہدایت یافتہ نہیں ہیں

Explained together with ayah 138

Al-An'aam 6:140Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.