ذَٰلِكَ أَن لَّمْ يَكُن رَّبُّكَ مُهْلِكَ ٱلْقُرَىٰ بِظُلْمٍۢ وَأَهْلُهَا غَٰفِلُونَ
(اے محمدﷺ!) یہ (جو پیغمبر آتے رہے اور کتابیں نازل ہوتی رہیں تو) اس لیے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں کہ بستیوں کو ظلم سے ہلاک کر دے اور وہاں کے رہنے والوں کو (کچھ بھی) خبر نہ ہو
اور جس دن وہ اکٹھا کرے گا ان سب کو، (توفرمائے گا) اے گروہ جنوں کے! تحقیق بہت زیادہ (گمراہ)کیے تھے تم نے انسانوں میں سے اور کہیں گے ان کے دوست انسانوں سے، اے ہمارے رب!فائدہ اٹھایا ہمارے ایک نے دوسرے سےاور پہنچے ہم اس میعاد کوجو مقررفرمائی تھی تو نے ہمارے لیے،(اللہ) فرمائے گا: آگ ہی ٹھکانا ہے تمھارا، ہمیشہ رہوگے(تم)اس میں مگر جو چاہے اللہ، یقینا آپ کا رب حکمت والا ہے خوب جاننے والا(128) او ر اسی طرح مسلط کردیتے ہم بعض ظالموں کو بعض پر، بہ سبب اس کے جو تھے وہ کماتے(129)اے جماعت جنوں اور انسانوں کی! کیا نہیں آئے تھے تمھارے پاس رسول تم میں سے، وہ بیان کرتے تھے تم پر میری آیات اور ڈراتے تھے تمھیں ملاقات سے تمھارے اس دن کی؟ تو وہ کہیں گے!گواہی دیتے ہم اپنے آپ پراور دھوکے میں ڈالے رکھا انھیں زندگانئ دنیا نےاور گواہی دیں گے وہ اپنے آپ پر کہ بے شک وہ تھے کفر کرنے والے (130) یہ (رسول بھیجنا) اس لیے کہ نہیں ہے آپ کا رب ہلاک کرنے والا بستیوں کو ظلم سے جبکہ ان کے باشندے غافل ہوں(131) اور ہر ایک کے درجے ہیں بہ سبب اس کے جو عمل کیے انھوں نے،اور نہیں آپ کا رب غافل اس سے جو وہ عمل کرتے ہیں(132) اور آپ کا رب بے نیاز ہے رحمت والا، اگر وہ چاہے تو لے جائے تمھیں اور جانشین بنا دے بعدتمھارے جنھیں وہ چاہے، جس طرح کہ پیدا فرمایا اس نے تمھیں نسل سے دوسرے لوگوں کی(133) بلاشبہ جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو، یقینا وہ آنے والی ہےاور نہیں تم عاجز کرنے والے(134) کہہ دیجیے، اے میری قوم!عمل کرو تم اپنے مقام پر، بے شک میں عمل کرنے والا ہوں (اپنی جگہ پر) پس عنقریب جان لوگے تم اس شخص کو کہ ہے اس کے لیے (اچھا) انجام آخرت کا، یقینا نہیں فلاح پائیں گے ظالم(135)
[128]﴿ وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا﴾ ’’اور جس دن جمع کرے گا ان سب کو‘‘ یعنی تمام جن و انس کو، ان میں سے جو گمراہ ہوئے اور جنھوں نے دوسروں کو گمراہ کیا۔ اللہ تعالیٰ جنوں کو، جنھوں نے انسانوں کو گمراہ کیا، برائی کو ان کے سامنے مزین کیا اور ارتکاب معاصی میں ان کی مدد کی، زجز و توبیح کرتے ہوئے فرمائے گا ﴿يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ قَدِ اسۡتَكۡثَرۡتُمۡ مِّنَ الۡاِنۡسِ﴾ ’’اے گروہ جنات! تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کیے۔‘‘ یعنی اے جنوں کی جماعت! تم نے انسانوں کو خوب گمراہ کیا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا۔ تم نے کیسے میرے محارم کی خلاف ورزی کی اور میرے رسولوں کے ساتھ عناد رکھنے کی جرأت کی اور تم اللہ تعالیٰ کے خلاف جنگ کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اس کے راستے سے روکنے اور جہنم کے راستے پر دھکیلنے کی کوشش کی؟ آج تم میری لعنت کے حق دار ہو اور تم پر میری ناراضی واجب ہو گئی۔ آج ہم تمھیں ، تمھارے کفر اور دوسروں کو گمراہ کرنے کے مطابق زیادہ عذاب دیں گے۔ آج تمھارے پاس کوئی عذر نہیں جو پیش کر سکو، کوئی ٹھکانا نہیں جہاں تم پناہ لے سکو، کوئی سفارشی نہیں جو تمھاری سفارش کر سکے اور نہ تمھاری پکار ہی سنی جائے گی۔ اس وقت مت پوچھیے کہ ان پر سزا کے کون سے پہاڑ ٹوٹیں گے اور انھیں کون سی رسوائی اور وبال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے کسی عذر کا ذکر نہیں فرمایا۔ رہے ان کے دوست انسان تو وہ عذر پیش کریں گے جسے قبول نہیں کیا جائے گا ﴿ رَبَّنَا اسۡتَمۡتَعَ بَعۡضُنَا بِبَعۡضٍ﴾ ’’اے رب ہمارے! فائدہ اٹھایا ہم میں سے ایک نے دوسرے سے‘‘ یعنی تمام جنوں اور انسانوں نے ایک دوسرے سے خوب فائدہ اٹھایا۔ جنوں نے انسانوں سے اپنی اطاعت، اپنی عبادت اور اپنی تعظیم کروا کے اور ان کی پناہ کی طلب سے فائدہ اٹھایا۔ اور انسان جنوں کی خدمت کے مطابق اپنی اغراض اور شہوات کے حصول میں ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ انسان جنوں کی عبادت کرتے ہیں ، جن ان کی خدمت کرتے ہیں اور ان کی دنیاوی حاجتیں پوری کرتے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ ہم سے بہت ہی …