Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 131–140 of 165

131

ذَٰلِكَ أَن لَّمْ يَكُن رَّبُّكَ مُهْلِكَ ٱلْقُرَىٰ بِظُلْمٍۢ وَأَهْلُهَا غَٰفِلُونَ

(اے محمدﷺ!) یہ (جو پیغمبر آتے رہے اور کتابیں نازل ہوتی رہیں تو) اس لیے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں کہ بستیوں کو ظلم سے ہلاک کر دے اور وہاں کے رہنے والوں کو (کچھ بھی) خبر نہ ہو

تیسری آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ انسانوں اور جنّات میں رسول بھیجنا اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف اور رحمت کا تقاضا ہے کہ وہ کسی قوم پر ویسے ہی عذاب نہیں بھیج دیتے جب تک کہ ان کو پہلے انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعہ بیدار نہ کردیا جائے اور ہدایت کی روشنی ان کے لئے نہ بھیج دی جائے۔

Al-An'aam 6:131Listen in Qur'an →
132

وَلِكُلٍّۢ دَرَجَٰتٌۭ مِّمَّا عَمِلُوا۟ ۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَٰفِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ

اور سب لوگوں کے بلحاظ اعمال درجے (مقرر) ہیں اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں خدا ان سے بے خبر نہیں

چوتھی آیت کا مفہوم واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک انسانوں اور جنّات میں ہر طبقہ کے لوگوں کے درجات مقرر ہیں، اور یہ درجات ان کے اعمال ہی کے مطابق رکھے گئے، ان میں سے ہر ایک کی جزاء و سزا انہی اعمال کے پیمانہ کے مطابق ہوگی۔

Al-An'aam 6:132Listen in Qur'an →
133

وَرَبُّكَ ٱلْغَنِىُّ ذُو ٱلرَّحْمَةِ ۚ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَسْتَخْلِفْ مِنۢ بَعْدِكُم مَّا يَشَآءُ كَمَآ أَنشَأَكُم مِّن ذُرِّيَّةِ قَوْمٍ ءَاخَرِينَ

اور تمہارا پروردگار بےپروا (اور) صاحب رحمت ہے اگر چاہے (تو اے بندوں) تمہیں نابود کر دے اور تمہارے بعد جن لوگوں کو چاہے تمہارا جانشین بنا دے جیسا تم کو بھی دوسرے لوگوں کی نسل سے پیدا کیا ہے

خلاصہ تفسیر - اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رب (رسولوں کو کچھ اس لئے نہیں بھیجتا کہ نعوذ باللہ وہ محتاج عبادت ہے وہ تو) بالکل غنی ہے (بلکہ اس لئے بھیجتا ہے کہ وہ) رحمت والا (بھی) ہے (اپنی رحمت سے رسولوں کو بھیجا تاکہ ان کے ذریعہ سے لوگوں کو منافع و مضار (نقصان دینی والی چیزیں) معلوم ہوجائیں، پھر منافع سے منتفع اور مضار سے محفوظ رہیں، سو اس میں بندوں ہی کا فائدہ ہے، اور باقی ان کا گناہ تو ایسا ہے کہ) اگر وہ چاہے تو تم سب کو (دنیا سے دفعةً ) اٹھالیوے اور تمہارے بعد جس (مخلوق) کو چاہے تمہاری جگہ (دنیا میں) آباد کر دے جیسا (اس کی نظیر پہلے سے موجود ہے کہ) تم کو (جو کہ اب موجود ہو) ایک دوسری قوم کی نسل سے پیدا کیا ہے (کہ ان کا کہیں پتہ نہیں اور تم ان کی جگہ موجود ہو، اور اسی طرح یہ سلسلہ چلا آرہا ہے، لیکن یہ سلسلہ تدریجاً قائم ہے، اگر ہم چاہیں دفعةً بھی ایسا کردیں، کیونکہ کسی کے ہونے نہ ہونے سے ہمارا کوئی کام اٹکا نہیں پڑا، پس ارسالِ رسل ہمارے احتیاج کی وجہ سے نہیں تمہارے احتیاج کی وجہ سے ہے، تم کو چاہئے کہ ان کی تصدیق اور ان کا اتباع کرکے سعادت حاصل کرو اور کفر و انکار کے ضرر سے بچو کیونکہ) جس چیز کا (رسولوں کی معرفت) تم سے وعدہ کیا جاتا ہے (یعنی قیامت و عذاب) وہ بیشک آنے والی چیز ہے اور (اگر احتمال ہو کہ گو قیامت آوے مگر ہم کہیں بھاگ جائیں گے، ہاتھ نہ آئیں گے، جیسا دنیا میں حکام کا مجرم کبھی ایسا کرسکتا ہے تو خوب سمجھ لو کہ) تم (خدا تعالیٰ کو) عاجز نہیں کرسکتے (کہ اس کے ہاتھ نہ آؤ، اور اگر باجود جو اقامت دلائل تعیین حق کے کسی کو اس میں کلام ہو کہ کفر ہی کا طریقہ اچھا ہے اسلام کا برا ہے، پھر قیامت سے کیا اندیشہ تو ایسے لوگوں کے جواب میں) آپ (آخری بات) یہ فرما دیجئے کہ اے میری قوم (تم جانو بہتر ہے) تم اپنی حالت پر عمل کرتے رہو میں بھی (اپنے طور پر) عمل کر رہا ہوں، سو اب جلدی تم کو معلوم ہوا چاہتا ہے کہ اس عالم (کے اعمال) کا انجام کار کس کے لئے منافع ہوگا (ہمارے لئے یا تمہارے لئے اور) یہ یقینی بات ہے کہ حق تلفی کرنے والوں کو کبھی (انجام میں) فلاح نہ ہوگی (اور سب سے بڑھ کر اللہ کی حق تلفی ہے، اور یہ امر دلائل صحیحہ میں تھوڑا غور کرنے سے معلوم ہوسکتا ہے کہ طریقہ اسلام حق تلفی ہے یا طریقہ کفر، اور جو دلائل میں بھی غور نہ کرے اس سے اتنا کہہ دینا بس ہے فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ یعنی عنقریب تم اس عمل بد کا انجام جان لوگے) اور اللہ تعالیٰ نے جو کھیتی (وغیرہ) اور مواشی پیدا کئے ہیں ان (مشرک) لوگوں نے ان میں سے کچھ حصہ اللہ (کے نام) کا مقرر کیا (اور کچھ بتوں کے نام کا مقرر کیا حالانکہ پیدا کرنے میں کوئی شریک نہیں) اور بزعم خود کہتے ہیں کہ یہ تو اللہ کا ہے (جو کہ مہمانوں اور مساکین اور مسافر وغیرہ عام مصارف میں صرف ہوتا ہے) اور یہ ہمارے معبودوں کا ہے (جس کے مصارف خاص ہیں) پھر جو چیز ان کے معبودوں (کے نام) کی ہوتی ہے وہ تو اللہ (نام کے حصہ) کی طرف نہیں پہنچتی (بلکہ اتفاقاً مل جانے سے بھی الگ نکال لی جاتی ہے) اور جو چیز اللہ (کے نام) کی ہوتی ہے وہ ان کے معبودوں (کے نام کے حصہ) کی طرف پہنچ جاتی ہے، انہوں نے کیا بری تجویز نکال رکھی ہے (کیونکہ اول تو اللہ کا پیدا کیا ہوا دوسرے کے نام کیوں جائے، دوسرے پھر جتنا اللہ کا حصہ نکالا ہے اس میں سے بھی گھٹ جاوے، اور اگر غناء و احتیاج اس کا مبنیٰ ہے تو محتاج مان کر معبود سمجھنا اور زیادہ حماقت ہے) ۔- معارف و مسائل - اس سے پہلی آیت میں مذکور تھا کہ اللہ جل شانہ، کا ہمیشہ سے یہ دستور رہا ہے کہ جن و بشر کی ہر قوم میں اپنے رسول اور اپنی ہدایات بھیجی ہیں، اور جب تک رسولوں کے ذریعہ ان کو پوری طرح متنبہ نہیں کردیا گیا اس وقت تک ان کے کفر و شرک اور معصیت و نافرمانی پر ان کو کبھی سزا نہیں دی۔- مذکورہ آیات میں سے پہلی آیت …

Al-An'aam 6:133Listen in Qur'an →
134

إِنَّ مَا تُوعَدُونَ لَءَاتٍۢ ۖ وَمَآ أَنتُم بِمُعْجِزِينَ

کچھ شک نہیں کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ (وقوع میں) آنے والا ہے اور تم (خدا کو) مغلوب نہیں کر سکتے

اس آیت میں اللہ جل شانہ کے غنی اور بےنیاز ہونے کا، پھر صاحب رحمت ہونے کا، اور پھر قدرت کاملہ کے مالک ہونے کا بیان کرنے کے بعد دوسری آیت میں نافرمانوں اور حکم نہ ماننے والوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ : (آیت)- اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ ۙ وَّمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ ، یعنی اللہ تعالیٰ نے تم کو جس عذاب سے ڈرایا ہے وہ ضرور آنے والا ہے، اور تم سب مل کر بھی خدائی عذاب کو نہیں ٹال سکتے۔

Al-An'aam 6:134Listen in Qur'an →
135

قُلْ يَٰقَوْمِ ٱعْمَلُوا۟ عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنِّى عَامِلٌۭ ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن تَكُونُ لَهُۥ عَٰقِبَةُ ٱلدَّارِ ۗ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلظَّٰلِمُونَ

کہہ دو کہ لوگو تم اپنی جگہ عمل کئے جاؤ میں (اپنی جگہ) عمل کئے جاتا ہوں عنقریب تم کو معلوم ہو جائے گا کہ آخرت میں (بہشت) کس کا گھر ہوگا کچھ شک نہیں کہ مشرک نجات نہیں پانے کے

تیسری آیت میں پھر ان کو غفلت سے چونکانے کا ایک دوسرا طریقہ اختیار کرکے ارشاد فرمایا : (آیت) قُلْ يٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰي مَكَانَتِكُمْ اِنِّىْ عَامِلٌ ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۙ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ ۭ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ جس میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان اہل مکہ سے کہہ دیجئے کہ اے میری قوم اگر تم میری بات نہیں مانتے تو تمہیں اختیار ہے نہ مانو اور اپنی حالت پر اپنے عقیدہ اور عناد کے مطابق عمل کرتے رہو میں بھی اپنے عقیدہ کے مطابق عمل کرتا رہوں گا، میرا اس میں کوئی نقصان نہیں، مگر عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا، کہ دار آخرت کی نجات اور فلاح کس کو حاصل ہوتی ہے، یہ خوب سمجھ لو کہ ظالم یعنی حق تلفی کرنے والے کبھی فلاح نہیں پایا کرتے۔- اور امام تفسیر ابن کثیر نے اس آیت کی تفسیر میں اس طرف اشارہ فرمایا کہ اس جگہ آیت میں مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّار فرمایا ہے عاقبة الدار الاخرة نہیں فرمایا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دار آخرت سے پہلے دار دنیا میں بھی انجام کار فلاح و کامیابی اللہ کے نیک بندوں ہی کو حاصل ہوتی ہے، جیسا کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام کے حالات اس پر شاہد ہیں کہ تھوڑے عرصہ میں تمام قوت و اقتدار والے مخالف ان کے سامنے ذلیل ہوئے، ان کے ملک ان کے ہاتھوں پر فتح ہوئے، خود عہد رسالت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں تمام جزیرہ عرب آپ کے زیر نگین آگیا، یمن اور بحرین سے لے کر حدود شام تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حکومت پھیل گئی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلفاء اور صحابہ کرام کے ہاتھوں تقریباً پوری دنیا اسلام کے جھنڈے تلے آگئی، اور اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہوا (آیت) کتب اللّٰہ لاغلبن انا ورسلی، یعنی اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں غالب آؤں گا اور میرے رسول غالب آئیں گے اور دوسری آیت میں ارشاد ہے (آیت) انا لننصر رسلنا تا الاشھاد۔ یعنی ہم اپنے رسولوں کی مدد کریں گے، اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے، اس دنیا میں بھی اور اس دن میں بھی جب کہ اعمال کے حساب پر گواہی دینے والے گواہی پر کھڑے ہوں گے، یعنی قیامت کے دن۔

Al-An'aam 6:135Listen in Qur'an →
136

وَجَعَلُوا۟ لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ ٱلْحَرْثِ وَٱلْأَنْعَٰمِ نَصِيبًۭا فَقَالُوا۟ هَٰذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَٰذَا لِشُرَكَآئِنَا ۖ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى ٱللَّهِ ۖ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَىٰ شُرَكَآئِهِمْ ۗ سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ

اور (یہ لوگ) خدا ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں خدا کا بھی ایک حصہ مقرر کرتے ہیں اور اپنے خیال (باطل) سے کہتے ہیں کہ یہ (حصہ) تو خدا کا اور یہ ہمارے شریکوں (یعنی بتوں) کا تو جو حصہ ان کے شریکوں کا ہوتا ہے وہ تو خدا کی طرف نہیں جا سکتا اور جو حصہ خدا کا ہوتا ہے وہ ان کے شریکوں کی طرف جا سکتا ہے یہ کیسا برا انصاف ہے

چوتھی آیت میں مشرکین عرب کی ایک خاص گمراہی اور غلط کاری پر تنبیہ فرمائی گئی ہے، عرب کی عادت یہ تھی کہ کھیتی اور باغات سے نیز تجارتوں سے جو کچھ پیداوار ہوتی تھی، اس میں سے ایک حصہ اللہ کے لئے اور ایک حصہ اپنے بتوں کے لئے نکالا کرتے تھے، اللہ کے نام کا حصہ غرباء و فقراء و مساکین پر خرچ کرتے اور بتوں کے نام کا حصہ بت خانہ کے پجاریوں اور نگہبانوں پر صرف کیا کرتے تھے۔- اول تو یہی ظلم کم نہ تھا کہ ساری چیزیں پیدا تو خدا تعالیٰ نے فرمائی اور ہر چیز کی پیداوار اس نے عطا فرمائیں، پھر اس کی دی ہوئی چیزوں میں بتوں کو شریک کردیا، اس پر مزید ستم برستم یہ تھا کہ اگر کبھی پیداوار میں کچھ کمی آجائے تو اس کمی کو اللہ کے حصہ پر یہ کہہ کر ڈال دیتے کہ اللہ تعالیٰ تو مستغنی ہے وہ ہماری چیزوں کا محتاج نہیں، اور بتوں کا حصہ بھی پورا کرلیتے، اور خود اپنے استعمال کا حصہ بھی، اور کبھی ایسا ہوتا کہ بتوں کے حصہ میں سے یا اپنے حصہ میں سے کوئی چیز اللہ کے حصہ میں پڑجاتی تو اس کو حساب کرنے کے لئے اس میں سے نکال لیتے تھے اور اگر کبھی معاملہ برعکس ہوجائے کہ اللہ کے حصہ میں کوئی چیز اپنے حصہ یا بتوں کے حصہ میں پڑجائے تو اس کو وہیں رہنے دیتے اور یہ کہتے کہ اللہ تعالیٰ تو غنی ہے اس کے حصہ میں سے کچھ کم بھی ہوجائے تو حرج نہیں قرآن کریم نے ان کی اس گمراہی اور غلط کاری کو ذکر کرکے فرمایا (آیت) سَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ ، یعنی ان لوگوں کا یہ فیصلہ کس قدر برا اور بھونڈا ہے کہ جس نے ان کو اور ان کی ساری چیزوں کو پیدا کیا، اول تو اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کردیا، پھر اس کے حصہ کو بھی دوسری طرف مختلف بہانوں سے منتقل کردیا۔ - کافروں کی اس تنبیہ میں مسلمانوں کے لئے عبرت - یہ تو مشرکین عرب کی ایک گمراہی اور غلط روش پر تنبیہ کی گئی ہے، اس کے ساتھ اس کے ضمن میں ان مسلمانوں کے لئے بھی ایک تازیانہ عبرت ہے جو اللہ کی دی ہوئی زندگانی اور اس کے بخشے ہوئے اعضاء وجوارح کی پوری توانائی کو مختلف حصوں میں بانٹتے ہیں، عمر اور وقت کا ایک حصہ اللہ اور اس کی عبادت کے لئے مخصوص کرتے ہیں، حالانکہ حق تو اس کا یہ تھا کہ عمر کے سارے اوقات اور لمحات اسی کی عبادت اور اطاعت کے لئے وقف ہوتے، انسانی ضرورتوں اور مجبوریوں کے لئے اس میں سے کوئی وقت اپنے لئے بھی نکال لیتے، اور حق تو یہ ہے کہ پھر بھی اس کا حق شکر ادا نہ ہوتا، مگر یہاں تو حالت ہماری یہ ہے کہ دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں سے اگر ہم کوئی وقت اللہ کی یاد اور عبادت کے لئے مقرر بھی کرلیتے ہیں تو جب کوئی ضرورت پیش آتی ہے اس میں نہ اپنے کاروبار میں کوئی حرج ڈالا جاتا ہے، نہ آرام کے اوقات میں، سارا نزلہ اس وقت پر پڑتا ہے جو نماز، تلاوت یا عبادت کے لئے مقرر کیا تھا، کوئی کام پیش آوے، یا بیماری یا کوئی دوسری ضرورت تو سب سے پہلے اس کا اثر اس وقت پر پڑتا ہے جو ہم نے ذکر اللہ یا عبادت کے لئے مخصوص کیا تھا، یہ کیسا غلط اور کتنی ناشکری اور حق تلفی ہے، اللہ تعالیٰ ہم کو اور سب مسلمانوں کو اس سے محفوظ رکھیں۔

Al-An'aam 6:136Listen in Qur'an →
137

وَكَذَٰلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيرٍۢ مِّنَ ٱلْمُشْرِكِينَ قَتْلَ أَوْلَٰدِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِيُرْدُوهُمْ وَلِيَلْبِسُوا۟ عَلَيْهِمْ دِينَهُمْ ۖ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا فَعَلُوهُ ۖ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ

اسی طرح بہت سے مشرکوں کو ان کے شریکوں نے ان کے بچوں کو جان سے مار ڈالنا اچھا کر دکھایا ہے تاکہ انہیں ہلاکت میں ڈال دیں اور ان کے دین کو ان پر خلط ملط کر دیں اور اگر خدا چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو چھوڑ دو کہ وہ جانیں اور ان کا جھوٹ

ربط آیات - پچھلی آیتوں میں مشرکین کے عقائد باطلہ شرکیہ کفریہ کا بیان تھا، ان آیات میں ان کی عملی غلطیوں اور جاہلانہ رسموں کا ذکر ہے، جن رسوم جاہلیت کا ذکر ان آیات میں آیا ہے وہ یہ ہیں، اول غلہ اور پھل میں سے کچھ حصہ اللہ کے نام کا نکالتے ہیں اور کچھ بتوں اور جنّات کے نام کا، پھر اگر اتفاق سے اللہ کے حصہ میں سے کچھ بتوں کے حصہ میں مل جاتا تو اس کو اسی طرح ملا رہنے دیتے تھے، اور معاملہ برعکس ہوتا تو اس کو نکال کر پھر بتوں کے حصہ کو پورا کردیتے تھے اور بہانہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ تو غنی ہے اس کا حصہ کم ہوجانے سے اس کا کوئی ضرر نہیں، اور شرکاء محتاج ہیں، ان کا حصہ نہ گھٹنا چاہئے، اس رسم بد کا بیان آیات مذکورہ سے پہلی آیت میں آچکا۔- دوسری رسم یہ تھی کہ بحیرہ، سائبہ جانوروں کو بتوں کے نام پر چھوڑتے اور یہ کہتے تھے کہ یہ کام اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے ہے، اس میں بھی بتوں کا حصہ یہ تھا کہ عبادت ان کی تھی، اور اللہ کا حصہ یہ ہوا کہ اس کو خوشنودی اللہ کی سمجھتے تھے۔- تیسری رسم، اپنی دختری اولاد کو قتل کر ڈالنے کی تھی، چوتھی رسم، کچھ کھیت بتوں کے نام وقف کردیتے اور کہتے کہ اس کا اصل مصرف فقط مرد ہیں، عورتوں کو اس میں سے کچھ دینا نہ دینا ہماری مرضی پر ہے، ان کو مطالبہ کا حق نہیں۔- پانچویں رسم، اسی طرح کا عمل مواشی جانوروں میں کرتے تھے کہ بعض کو مردوں کے لئے مخصوص قرار دیتے تھے۔- چھٹی رسم، جن چوپایہ جانوروں کو بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تو ان پر سواری اور باربرداری کو حرام سمجھتے تھے۔- ساتویں رسم، بعض چوپایہ جانور مخصوص تھے جن پر کسی موقع میں بھی اللہ کا نام نہ لیتے تھے نہ دودھ نکالنے کے وقت، نہ سوار ہوتے وقت، نہ ذبح کرنے کے وقت۔- آٹھویں رسم، یہ تھی کہ جن جانوروں کا نام بحیرہ یا سائبہ رکھ کر بتوں کے نام پر چھوڑتے ان کے ذبح کے وقت اگر بچہ پیٹ سے زندہ نکلتا تو اس کو بھی ذبح کرلیتے، مگر اس کو صرف مردوں کے لئے حلال عورتوں کے لئے حرام سمجھتے تھے اور اگر بچہ مردہ نکلا تو وہ سب کے لئے حلال ہوتا تھا۔- نویں رسم، بعض جانوروں کا دودھ بھی مردوں کے لئے حلال عورتوں کے لئے حرام سمجھتے تھے۔- دسویں رسم، بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حامی چار قسم کے جانوروں کی تعظیم کو عبادت سمجھتے تھے۔ - (یہ سب روایات درمنثور اور روح المعانی میں حضرت ابن عباس، مجاہد، ابن زید اور سدی سے بتخریج ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن ابی شیبہ، ابن حمید منقول ہیں) (از بیان القرآن) - خلاصہ تفسیر - اسی طرح بہت سے مشرکین کے خیال میں ان کے معبودوں (شیاطین) نے اپنی اولاد کے قتل کرنے کو مستحسن بنا رکھا ہے (جیسا کہ جاہلیت میں لڑکیوں کو قتل یا زندہ درگور کردینے کی رسم تھی) تاکہ (اس فعل قبیح کے ارتکاب سے) وہ (شیاطین) ان (مشرکین) کو (بوجہ استحقاق عذاب کے) برباد کریں اور تاکہ ان کے طریقہ کو مخبوط کردیں (کہ ہمیشہ غلطی میں پھنسے رہیں، اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی ان حرکات شنیعہ سے مغموم نہ ہوں، کیونکہ) اگر اللہ تعالیٰ کو (انکا بھلا) منظور ہوتا تو یہ ایسا کام نہ کرتے، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو اور جو کچھ یہ غلط باتیں بنا رہے ہیں (کہ ہمارا یہ فعل بہت اچھا ہے) یوں ہی رہنے دیجئے (کچھ فکر نہ کیجئے ہم آپ سمجھ لیں گے) اور وہ اپنے خیال (باطل) پر یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ (مخصوص) مواشی ہیں اور (مخصوص) کھیت ہیں، جن کا استعمال ہر شخص کو جائز نہیں ان کو کوئی نہیں کھا سکتا سوائے ان کے جن کو ہم چاہیں (جیسا رسم چہارم و پنجم میں مذکور ہوا) اور (یوں کہتے ہیں کہ یہ مخصوص) مواشی ہیں جن پر سواری یا بار برداری حرام کردی گئی ہے (جیسا رسم ششم میں مذکور ہوا) اور (یوں کہتے ہیں کہ یہ مخصوص) مواشی ہیں جن پر (اللہ کا نام نہیں لینا چاہئے، چناچہ اسی اعتقاد کی وجہ سے ان پر) یہ لوگ اللہ کا نام نہیں لیتے (جیسا رسم …

Al-An'aam 6:137Listen in Qur'an →
138

وَقَالُوا۟ هَٰذِهِۦٓ أَنْعَٰمٌۭ وَحَرْثٌ حِجْرٌۭ لَّا يَطْعَمُهَآ إِلَّا مَن نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَأَنْعَٰمٌ حُرِّمَتْ ظُهُورُهَا وَأَنْعَٰمٌۭ لَّا يَذْكُرُونَ ٱسْمَ ٱللَّهِ عَلَيْهَا ٱفْتِرَآءً عَلَيْهِ ۚ سَيَجْزِيهِم بِمَا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ

اور اپنے خیال سے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ چارپائے اور کھیتی منع ہے اسے اس شخص کے سوا جسے ہم چاہیں کوئی نہ کھائے اور (بعض) چارپائے ایسے ہیں کہ ان کی پیٹ پر چڑھنا منع کر دیا گیا ہے اور بعض مویشی ایسے ہیں جن پر (ذبح کرتے وقت) خدا کا نام نہیں لیتے سب خدا پر جھوٹ ہے وہ عنقریب ان کو ان کے جھوٹ کا بدلہ دے گا

Explained together with ayah 137

Al-An'aam 6:138Listen in Qur'an →
139

وَقَالُوا۟ مَا فِى بُطُونِ هَٰذِهِ ٱلْأَنْعَٰمِ خَالِصَةٌۭ لِّذُكُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَىٰٓ أَزْوَٰجِنَا ۖ وَإِن يَكُن مَّيْتَةًۭ فَهُمْ فِيهِ شُرَكَآءُ ۚ سَيَجْزِيهِمْ وَصْفَهُمْ ۚ إِنَّهُۥ حَكِيمٌ عَلِيمٌۭ

اور یہ بھی کہتے ہیں کہ جو بچہ ان چارپایوں کے پیٹ میں ہے وہ خاص ہمارے مردوں کے لئے ہے اور ہماری عورتوں کو (اس کا کھانا) حرام ہے اور اگر وہ بچہ مرا ہوا ہو تو سب اس میں شریک ہیں (یعنی اسے مرد اور عورتیں سب کھائیں) عنقریب خدا ان کو ان کے ڈھکوسلوں کی سزا دے گا بےشک وہ حکمت والا خبردار ہے

Explained together with ayah 137

Al-An'aam 6:139Listen in Qur'an →
140

قَدْ خَسِرَ ٱلَّذِينَ قَتَلُوٓا۟ أَوْلَٰدَهُمْ سَفَهًۢا بِغَيْرِ عِلْمٍۢ وَحَرَّمُوا۟ مَا رَزَقَهُمُ ٱللَّهُ ٱفْتِرَآءً عَلَى ٱللَّهِ ۚ قَدْ ضَلُّوا۟ وَمَا كَانُوا۟ مُهْتَدِينَ

جن لوگوں نے اپنی اولاد کو بیوقوفی سے بے سمجھی سے قتل کیا اور خدا پر افترا کر کے اس کی عطا فرمائی کی ہوئی روزی کو حرام ٹہرایا وہ گھاٹے میں پڑ گئے وہ بےشبہ گمراہ ہیں اور ہدایت یافتہ نہیں ہیں

Explained together with ayah 137

Al-An'aam 6:140Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.