Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 121–130 of 165

121

وَلَا تَأْكُلُوا۟ مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ ٱسْمُ ٱللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُۥ لَفِسْقٌۭ ۗ وَإِنَّ ٱلشَّيَٰطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰٓ أَوْلِيَآئِهِمْ لِيُجَٰدِلُوكُمْ ۖ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ

اور جس چیز پر خدا کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھاؤ کہ اس کا کھانا گناہ ہے اور شیطان (لوگ) اپنے رفیقوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم لوگ ان کے کہے پر چلے تو بےشک تم بھی مشرک ہوئے

(آیت) ” نمبر 121۔

اس کے بعد ایک بار پھر کفر و ایمان کی اصل حقیقت پر بات کی جاتی ہے اور دو بار تکرار کا مطلب ہے کہ اسلام میں حلال و حرام قرار دینے کا تعلق کفر واسلام سے ہے ۔

یہ بار بار کی تاکید ‘ یہ بار بار کے ربط اور بات کو دہرانے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اسلام کی نظر میں قانون سازی اور اقتدار اعلی انسان کی روز مرہ زندگی کے اندر کس قدر اہمیت رکھتے ہیں ۔

ّ (آیت) ” أَفَغَیْْرَ اللّہِ أَبْتَغِیْ حَکَماً وَہُوَ الَّذِیْ أَنَزَلَ إِلَیْْکُمُ الْکِتَابَ مُفَصَّلاً وَالَّذِیْنَ آتَیْْنَاہُمُ الْکِتَابَ یَعْلَمُونَ أَنَّہُ مُنَزَّلٌ مِّن رَّبِّکَ بِالْحَقِّ فَلاَ تَکُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ (114)

” پھر جب حال یہ ہے تو کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا تلاش کروں ‘ حالانکہ اس نے پوری تفصیل کے ساتھ تمہاری طرف کتاب نازل کردی ہے ‘ اور جن لوگوں کو ہم نے تم سے پہلے کتاب دی تھی وہ جانتے تھے کہ یہ کتاب تمہارے رب ہی کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے لہذا تم شک کرنے والوں میں شامل نہ ہو ۔

یہ رسول اللہ ﷺ کی زبانی ایک سوال ہے اور یہ استفہام انکاری ہے ۔ یہ تنبیہ اس بات پر کی گئی ہے کہ کسی کے لئے یہ کوئی درست رویہ نہیں ہے کہ وہ اپنی زندگی کے معاملات میں سے کسی معاملے میں بھی اللہ کے سوا کسی اور کو حاکم اور فیصلہ کنندہ تسلیم کرے ۔ چناچہ اس طرح اس بات کا فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ اسلامی نظام میں زندگی کے تمام معاملات میں فیصلہ صرف اللہ کے اختیار میں ہوگا اور یہ ایک غیر متنازعہ بات ہے اور اس بات کی ممانعت کردی جاتی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو انسانوں کی زندگیوں میں فیصلے کرنے کا مجاز ہو اور اپنی مرضی کے مطابق وہ ایسا کرتا رہے ۔

(آیت) ” أَفَغَیْْرَ اللّہِ أَبْتَغِیْ حَکَماً “۔ ” کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا تلاش کروں ؟ “

اس کے بعد اس ناگوار احساس کی تفصیل آتی ہے ‘ ان حالات کی تفصیل بھی بیان کردی جاتی ہے جن کی وجہ سے اللہ کے سوا دوسروں کا اقتدار اعلی ایک قابل سرزنش فعل قرار پاتا ہے ۔ اللہ نے ہر چیز کی تفصیلات دے دی ہیں اور اور بندوں کو اس بات کا محتاج نہیں چھوڑا کہ وہ اپنے لئے خود راہ ہدایت تلاش کرتے پھریں ‘ یا اللہ کے سوا کسی دوسری جگہ سے اپنی زندگی کے مسائل کے فیصلے لیں ۔ اور مشکلات حیات کو حل کریں ۔

(آیت) ” وَہُوَ الَّذِیْ أَنَزَلَ إِلَیْْکُمُ الْکِتَابَ مُفَصَّلاً “۔ ‘” حالانکہ اس نے پوری تفصیل کے ساتھ تمہاری طرف کتاب نازل کردی ہے ‘ “۔ یہ کتاب اس لئے نازل کی گئی ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان ان معاملات کے فیصلے کرے جن کے بارے میں ان کے درمیان اختلاف ہو اور یوں اللہ کی حاکمیت اور اقتدار اعلی کا ظہور ہو ۔ پھر اللہ نے یہ کتاب نہایت ہی مفصل طور پر نازل کی ہے ۔ اس میں وہ تمام اصول منضبط کردیئے گئے ہیں جن کے اوپر پورا نظام زندگی استوار ہوگا ۔ اس میں بعض فروعی اور جزئی مسائل بھی بیان کردیئے گئے ہیں جن کے بارے میں اللہ کی مرضی یہ تھی کہ وہ انسانی معاشرے کے لئے دائمی احکام ہوں چاہے وہ معاشرہ جس قدر بھی ترقی یافتہ ہو اور علمی لحاظ سے وہ بہت ہی آگے کیوں نہ بڑھ گیا ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کے ہوتے ہوئے پھر کسی دوسرے پلیٹ فارم سے فیصلہ لینے کی سرے سے ضرورت ہی نہیں رہتی ۔ یہ ہے وہ فیصلہ جو اللہ تعالیٰ نے اپنی اس کتاب کے مقام کے بارے میں کیا ہے ۔ اب اگر کوئی یہ کہتا ہے : ” کہ دنیا ترقی کرچکی ہے اور اب اسے اس کتاب کی طرف رجوع کی ضرورت نہیں ہے تو ہزار بار کہتا پھرے لیکن اسے اس قول کے ساتھ ایک اور بات بھی صاف صاف کہہ دینا چاہئے وہ یہ کہ میں (نعوذ باللہ) کافر ہوں ‘ اس دین اسلام کا منکر ہوں اور اللہ رب العالمین کے اقوال کی تکذیب کرتا ہوں۔

یہاں ان لوگوں کے اردگرد ایک مخصوص صورت حالات بھی موجود ہے ‘ جس کے اندر زندگی کے حالات میں سے …

Al-An'aam 6:121Listen in Qur'an →
122

أَوَمَن كَانَ مَيْتًۭا فَأَحْيَيْنَٰهُ وَجَعَلْنَا لَهُۥ نُورًۭا يَمْشِى بِهِۦ فِى ٱلنَّاسِ كَمَن مَّثَلُهُۥ فِى ٱلظُّلُمَٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍۢ مِّنْهَا ۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكَٰفِرِينَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس کے لیے روشنی کر دی جس کے ذریعے سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے کہیں اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو اندھیرے میں پڑا ہوا ہو اور اس سے نکل ہی نہ سکے اسی طرح کافر جو عمل کر رہے ہیں وہ انہیں اچھے معلوم ہوتے ہیں

(آیت) ” نمبر 122 تا 125۔

ان آیات میں ہدایت وضلالت کی ماہیت کی تصویر کشی کی گئی ہے اور حقیقت ہدایت وضلالت پر حقیقت ضلالت کی نہایت ہی حقیقت پسندانہ تعبیر کی گئی ہے ۔ اس کے اندر جو تشبیہات اور جو مجاز استعمال کیا گیا ہے وہ اس لئے کیا گیا ہے کہ یہ تصویر پرتاثیر بن جائے ۔ تشبہیات اور مجاز بھی نہایت ہی واقعیت پسندانہ ہیں۔

ہدایت وضلالت کے حقائق اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایسے ہیں جن کو سمجھانے کے لئے اس قسم کی تصویر کشی اور موثر انداز بیان نہایت ہی ضروری ہے ۔ اگرچہ بلاشبہ ہدایت وضلالت حقائق ہیں ۔ لیکن یہ روحانی اور نظریاتی حقائق ہیں اور ایسے حائق میں جنہیں تجربات اور عمل کے ذریعے چکھا جاسکتا ہے ۔ رہی کسی روحانی حقیقت کی تعبیر یا حسن تعبیر تو اس سے لطف اندوز صرف وہی شخص ہو سکتا ہے جس نے ان حقائق کو عملا برتا ہو ۔

یہ ایسے حقائق ہیں جو مردہ دلوں کو زندہ کرتے ہیں اور جو تاریک قلب ونظر کو روشن کرتے ہیں ۔ یہ حقائق انسان کو ایسی زندگی دیتے ہیں ۔ جس کے ذریعے انسان ہر چیز کا مزہ لیتا ہے ۔ ہر چیز کے بارے میں درست نقطہ نظر اپناتا ہے ‘ ہر چیز کی صحیح قدروقیمت متعین کرتا ہے ۔ انسان کا احساس تمام محسوسات کے بارے میں یکسر بدل جاتا ہے اور اس کے دل و دماغ میں اس قدر روشنی پیدا ہوجاتی ہے جس میں انسان ایک نئے جہان کو دریافت کرلیتا ہے ‘ جس کے بارے میں پہلے اسے کچھ احساس بھی نہیں ہوتا ۔

ایک ایسا تجربہ ہے جو عام انسان کے حس وادراک میں نہیں آسکتا ۔ نہ انسان اسے الفاظ کا جامہ پہنا سکتا ہے ۔ اس کا ادراک صرف وہ شخص کرسکتا ہے جس نے اس حقیقت کو چکھا ہو ، قرآن کریم کا اسلوب بیان اس قدر زور دار ہے کہ صرف وہی اسے ہمارے ادارک کے قریب ترک کرسکتا ہے ۔ کیونکہ یہ قرآن کا کمال ہے کہ وہ ہر حقیقت کے لئے حسب حال الفاظ لے کر آتا ہے جو مفہوم کی حقیقت کے ساتھ ہم رنگ ہوتے ہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ کفر انسان کو ازلی اور ابدی حقیقت سے دور کردیتا ہے ۔ یہ ازلی اور ابدلی حقیقت ایسی ہوتی ہے جس کے لئے فنا نہیں ہے ۔ جو اوجھل نہیں ہوتی اور نہ گہرائی تک اترتی ہے ۔ ابدی اور ازلی حقیقت سے قطع تعلق ہی درحقیقت موت ہے ‘ کسی انسان کے لئے ۔ ایسا انسان کبھی بھی فعال نہیں ہوسکتا ‘ موثر نہیں ہو سکتا اور اس کائنات پر اسے کنٹرول نہیں حاصل ہو سکتا ۔ چناچہ ایسا شخص مردہ شخص ہے ۔ اس کی قوتیں اور صلاحیتیں مر جاتی ہیں ۔ اور وہ فطرتا مردہ انسان ہوتا ہے ۔ یہی ہے موت کی حقیقت ۔

اس کے مقابلے میں ایمان نام ہے اس ابدی قوت کے ساتھ اتحادواتصال کا ۔ ایمان اس قوت سے مدد لیتا ہے اور یہ قوت اس کی دعا کو قبول کرتی ہے لہذا ایمان حیات ہے اور کفر موت ہے ۔

پھر کفر کی حالت میں روح انسانی شرف اور علم سے محروم ہوتی ہے ۔ وہ تاریکی میں گھر جاتی ہے ۔ انسان کے اعضاء اور اس کے شعور پر تالے پڑجاتے ہیں ۔ انسان تاریکی میں کھو جاتا ہے اور گمراہ ہوجاتا ہے ۔ ایمان ہی درحقیقت آنکھیں کھول دیتا ہے ۔ وہ ادراک کا بہترین وسیلہ ہے ۔ اس سے استقامت نصیب ہوتی ہے ۔ وہ ایک نور ہے ‘ نور کے ہر مفہوم کے اعتبار سے ۔

کفر سے انسان سکڑ جاتا ہے ‘ اور بالاخر پتھر بن جاتا ہے ‘ اس کی سوچ تنگ ہوجاتی ہے اور اس کی وجہ سے انسان فطری راستے سے بےراہ ہوجاتا ہے ۔ لہذا کفر ایک قسم کی تنگی ہے جس میں ہر شخص اطمینان سے محروم ہوجاتا ہے ۔ اور ہر وقت دل تنگ رہتا ہے جبکہ ایمان سے شرح صدر ‘ خوشی ‘ سہولت حاصل ہوتی ہے اور اس کے خوشگوار سائے میں اطمینان نصیب ہوتا ہے ۔

کافر کی حیثیت اس طرح ہوتی ہے جس طرح کوئی خودروگھاس اور پودا ہوتا ہے جس کا اس کرہ ارض پر کوئی مضبوط وجود نہیں ہوتا اور نہ اس کی پختہ جڑیں ہوتی ہیں ‘ وہ ایک ایسا فرد ہوتا ہے جو اپنے خالق سے منقطع ہوتا ہے اور تنہا تنہا نظر آتا ہے ۔ اس کائنات سے بھی وہ مربوط نہیں ہوتا ‘ اس کائنات کے ساتھ اس کا روحانی ربط نہیں ہوتا ۔ فقط مادی ربط …

Al-An'aam 6:122Listen in Qur'an →
123

وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا فِى كُلِّ قَرْيَةٍ أَكَٰبِرَ مُجْرِمِيهَا لِيَمْكُرُوا۟ فِيهَا ۖ وَمَا يَمْكُرُونَ إِلَّا بِأَنفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُونَ

اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں بڑے بڑے مجرم پیدا کئے کہ ان میں مکاریاں کرتے رہیں اور جو مکاریاں یہ کرتے ہیں ان کا نقصان انہیں کو ہے اور (اس سے) بےخبر ہیں

(آیت) ” وَکَذَلِکَ جَعَلْنَا فِیْ کُلِّ قَرْیَۃٍ أَکَابِرَ مُجَرِمِیْہَا لِیَمْکُرُواْ فِیْہَا وَمَا یَمْکُرُونَ إِلاَّ بِأَنفُسِہِمْ وَمَا یَشْعُرُونَ (123)

” اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے بڑے بڑے مجرموں کو لگا دیا ہے کہ وہاں اپنے مکروفریب کا جال پھیلائیں ۔ دراصل وہ اپنے فریب کے جال میں خود پھنسے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے ۔ “

یہ اللہ کی سنت ہے کہ وہ ہر بستی ‘ شہر یا دارالخلافہ میں بڑے بڑے مجرمین میں کچھ لوگوں کو مقتدر بنا دیتا ہے ۔ یہ جرائم پیشہ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دین کے دشمن ہوتے ہیں اور یہ دین کے دشمن اس لئے ہوتے ہیں کہ بستیوں کے اوپر اقتدار حاصل کرکے اسے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ دین ان سے اس اقتدار کو چھین کر اسے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتا ہے ۔ یوں دین ان سے ربوبیت اور حاکمیت کی حیثیت چھین لیتا ہے اور لوگوں کو آزادی حاصل ہوجاتی ہے ۔ یوں دین تمام لوگوں کو اللہ کی غلامی میں دے دیتا ہے اور اللہ ہی رب الناس اور ملک الناس قرار پاتا ہے ۔

یہ سنت الہیہ ہے کہ اللہ سچائی کے ساتھ رسولوں کو بھیجے اور یہ سچائی تمام مدعیان ربوبیت سے ان کی ربوبیت چھین لے اور تمام مدعیان حاکمیت سے ان کا حق اقتدار چھین لے ۔ چناچہ سچائی کے باوجود یہ اکابر مجرمین رسولوں اور سچائی کے دشمن ہوجاتے ہیں اور بستیوں اور دارالحکومتوں میں اپنی مکاری کے جال پھیلاتے ہیں ۔ تمام لوگ اپنے اپنے دارالخلافوں سے ایک دوسرے کو ہدایت اور رپورٹیں دیتے ہیں جو فریب پر مبنی ہوتی ہیں اور یہ لوگ معرکہ حق و باطل میں شیاطین کے معاون بنتے ہیں ۔ باطل اور گمراہی کو پھیلانے کی سعی کرتے رہتے ہیں اور اپنی اس ظاہری اور خفیہ سازش کی وجہ سے لوگوں کو حقیر سمجھتے ہیں ۔

یہ سنت جاریہ اور ہمہ گیر معرکہ ہے ۔ اس لئے کہ دونوں قوتوں کے درمیان اصل اول ہی کی بنا پر تضاد ووجود میں آگیا ہے ۔ اصل اول یہ ہے کہ حاکمیت اور اقتدار اعلیٰ صرف اللہ جل شانہ کے ساتھ مخصوص ہے جبکہ کسی بھی بستی کے مجرمین کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ اس بستی میں ان کی بات کی چلت ہو اس کے علاوہ اہل حق اور ان اکابر مجرمین کے درمیان ذاتی تضاد بھی ہوتا ہے ۔

ہر نبی کو اس معرکے سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔ کوئی نبی اس سے بچ نہیں سکتا ۔ نبی اور اہل ایمان کے لئے لازمی ہے کہ وہ اس معرکے میں کو دیں اور آخر کار میں اس میں سے سرخروئی کے ساتھ نکلیں ۔ اللہ اپنے دوستوں کو اطمینان دلاتے ہیں کہ ان مجرمین کا مکر و فریب کتنا ہی عظیم کیوں نہ ہو اور ان کا حال طویل سے طویل ترکیوں نہ ہو ؟ آخر کار یہ مکر خود ان پر آکر پڑے گا ۔ اس لئے کہ اہل ایمان صرف تنہا اس معرکے میں نہیں کودتے اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ ان کے لئے کافی مددگار ہے ۔ وہ کافرین کی سازش کو خود ان پر لوٹاتا ہے ۔ ” دراصل وہ خود اپنے فریب کے جال میں پھنستے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ۔

(آیت) ” وَمَا یَمْکُرُونَ إِلاَّ بِأَنفُسِہِمْ وَمَا یَشْعُرُونَ (123)

” لہذا اہل ایمان کو پوری طرح مطمئن رہنا چاہیے ۔ “

اب قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ اللہ کے رسولوں اور اللہ کے دین کے دشمنوں کے مزاج میں کبر و غرور کا مادہ بھرا ہوتا ہے ۔ اور یہی کبر اس بات کا سبب بنتا ہے کہ وہ اسلام سے دور رہیں اور یہ اس لئے اس نظریہ سے دور بھاگتے ہیں کہ اس میں جس طرح یہ اکابر اللہ کے بندے ہوتے ہیں اس طرح تمام عوام بھی اللہ کے بندے ہوتے ہیں ‘ کوئی طبقاتی فرق باقی نہیں رہتا ۔ چونکہ یہ لوگ اپنے اس طبقاتی فرق و امتیاز کو قائم رکھنا چاہتے ہیں اس لئے ایسے لوگوں کے لئے یہ ایک بڑا کڑوا گھونٹ ہے کہ یہ ایمان لے آئیں اور نبی کے سامنے اطاعت کریں حالانکہ وہ اس بات کے عادی ہیں کہ وہ خود مطاع بنیں اور الوہیت اور ربوبیت کے مقام پر فائز ہوں ‘ قانون سازی کریں اور ان کے قوانین کو تسلیم کیا جائے ۔ وہ احکام دیں اور لوگ ان کے احکام کی …

Al-An'aam 6:123Listen in Qur'an →
124

وَإِذَا جَآءَتْهُمْ ءَايَةٌۭ قَالُوا۟ لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَآ أُوتِىَ رُسُلُ ٱللَّهِ ۘ ٱللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُۥ ۗ سَيُصِيبُ ٱلَّذِينَ أَجْرَمُوا۟ صَغَارٌ عِندَ ٱللَّهِ وَعَذَابٌۭ شَدِيدٌۢ بِمَا كَانُوا۟ يَمْكُرُونَ

اور جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ جس طرح کی رسالت خدا کے پیغمبروں کو ملی ہے جب تک اسی طرح کی رسالت ہم کو نہ ملے ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اس کو خدا ہی خوب جانتا ہے کہ (رسالت کا کون سا محل ہے اور) وہ اپنی پیغمبری کسے عنایت فرمائے جو لوگ جرم کرتے ہیں ان کو خدا کے ہاں ذلّت اور عذابِ شدید ہوگا اس لیے کہ مکّاریاں کرتے تھے

(آیت) ” اللّہُ أَعْلَمُ حَیْْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہُ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ أَجْرَمُواْ صَغَارٌ عِندَ اللّہِ وَعَذَابٌ شَدِیْدٌ بِمَا کَانُواْ یَمْکُرُونَ (124)

” اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ اپنی پیغامبری کا کام کس سے لے اور کس طرح لے ۔ قریب ہے وہ وقت کہ یہ مجرم اپنی مکاریوں کی پاداش میں اللہ کے ہاں ذلت اور سخت عذاب سے دو چار ہوں گے ۔ “

رسالت ایک نہایت ہی عظیم اور مہتم بالشان منصب ہے ۔ یہ ایک کائناتی معاملہ ہے جس میں ازلی اور ابدی ارادہ الہیہ ایک بندے کے ساتھ جڑ جاتا ہے ۔ عالم بالا اور انسان کی محدود دنیا کے درمیان اتصال ہوجاتا ہے ۔ آسمان اور زمین آپس میں مل جاتے ہیں ‘ دنیا اور آخرت ایک ہوجاتے ہیں ۔ اس میں سچائی کے کلیات انسانی دلوں ‘ انسانی واقعات ‘ انسانی تاریخ اور عملی دنیا پر منطبق ہوتے ہیں ۔ اس میں ایک انسان اپنی ذات سے الگ ہوجاتا ہے اور خالص اور کامل اللہ کا ہوجاتا ہے ۔ محض نیت اور عمل کا خلوص ہی نہیں بلکہ اس مخصوص انسان کا ظرف بھی اس عظیم کام کے لئے خالی ہوجاتا ہے ۔ ذات رسول باری کے ساتھ مربوط ہوجاتی ہے ۔ رسول اور خدا کے درمیان براہ راست رابطہ ہوجاتا ہے ۔ اور یہ اتصال صرف اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے کہ رسول کی ذات اپنی ماہیت کے اعتبار سے اس رابطے کے لئے صالح اور قابل ہوجائے ۔ اس کے اندر ایسی صلا حیت پیدا کردی جائے کہ وہ اس پیغام کو وصول کرسکے ۔

اس لئے یہ بات اللہ ہی جانتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ امانت رسالت وہ کہاں لا کر رکھ دے ۔ اس مقصد کے لئے کس ذات کا انتخاب کرے ۔ کیونکہ اللہ کے اربوں بندے اس زمین پر آتے جاتے اور موجود رہتے ہیں ۔ یہ اللہ ہی ہے کہ ان اربوں میں سے کسی ایک کا انتخاب فرما لیتا ہے ۔

جو لوگ مقام رسالت تک پہنچنا چاہتے ہیں یا وہ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ انکو دینی تعلیمات عطا کی جائیں جو رسولوں کو دی گئی ہیں ‘ لیکن یہ لوگ ایسا مزاج رکھتے ہیں جو مسلمان کے لئے موزوں ہی نہیں ہوتا اس لئے کہ وہ خود اپنی ذات کو محور کائنات سمجھتے ہیں جبکہ رسولوں کا مزاج بالکل دوسرا ہوتا ہے ۔ رسول کا مزاج تو یہ ہوتا ہے کہ وہ نہایت ہی عاجزی سے رسالت کو قبول کرتا ہے اور پھر اپنے آپ کو اس کے لئے وقف کردیتا ہے ۔ وہ اپنی ذات کو اس پیغام میں نشوونما دیتا ہے اور پھر رسول کو یہ منصب ایسے حالات میں دیا جاتا ہے کہ وہ نہ اس کے بارے میں کوئی خبر رکھتا ہے اور نہ ہی وہ اس کا امیدوار ہوتا ہے ۔

(آیت) ” وما کنت ترجو ان یلقی الیک الکتب الا رحمۃ من ربک “۔ تم اس بات کی امید نہ رکھتے تھے کہ تمہارے طرف کتاب کا القاء ہوگا ‘ یہ تو تمہارے رب کی ایک رحمت تھی ۔ “ دوسری بات یہ ہے کہ یہ اکابر جاہل ہیں اور اس منصب کی اہمیت سے واقف ہی نہیں ہیں۔ وہ اس حقیقت کو سمجھ ہی نہیں پا رہے کہ یہ منصب کسی کو عطا کرنا صرف اللہ کے اختیار میں ہے ۔

یہی وجوہات ہیں جن کی بنا پر قرآن ان کی بات کا دو ٹوک الفاظ میں جواب دیتا ہے ۔

(آیت) ” اللّہُ أَعْلَمُ حَیْْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہُ “ (6 : 124) ” اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ اپنی پیغامبری کا کام کس سے لے اور کس طرح لے ۔ “

چونکہ اللہ جانتا تھا ‘ اس لئے اس نے یہ منصب موزوں شخص کو دے دیا ۔ نہایت ہی مکرم اور مخلص شخص کے سپرد ہوا ۔ پوری تاریخ میں اس نے رسولوں کے معزز سلسلے کو جاری کیا اور اسے خاتم النبین ﷺ پر ختم کیا ۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان مجرمین کو یہ دھمکی دیتے ہیں کہ ان کا انجام توہین آمیز ہوگا اور انہیں شدید عذاب سے دوچار ہونا ہوگا ۔

(آیت) ” سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ أَجْرَمُواْ صَغَارٌ عِندَ اللّہِ وَعَذَابٌ شَدِیْدٌ بِمَا کَانُواْ یَمْکُرُونَ (124)

” قریب ہے وہ وقت کہ یہ مجرم اپنی مکاریوں کی پاداش میں اللہ کے ہاں ذلت اور سخت عذاب سے دو چار ہوں گے ۔ ‘

اللہ کے ہاں انکو ذلت اس لئے نصیب ہوگی کہ انہوں نے اپنے متبعین کے ہاں اپنے آپ کو سربلند کیا …

Al-An'aam 6:124Listen in Qur'an →
125

فَمَن يُرِدِ ٱللَّهُ أَن يَهْدِيَهُۥ يَشْرَحْ صَدْرَهُۥ لِلْإِسْلَٰمِ ۖ وَمَن يُرِدْ أَن يُضِلَّهُۥ يَجْعَلْ صَدْرَهُۥ ضَيِّقًا حَرَجًۭا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِى ٱلسَّمَآءِ ۚ كَذَٰلِكَ يَجْعَلُ ٱللَّهُ ٱلرِّجْسَ عَلَى ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ

تو جس شخص کو خدا چاہتا ہے کہ ہدایت بخشے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کر دیتا ہے گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے اس طرح خدا ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے عذاب بھیجتا ہے

(آیت) ” فَمَن یُرِدِ اللّہُ أَن یَہْدِیَہُ یَشْرَحْ صَدْرَہُ لِلإِسْلاَمِ وَمَن یُرِدْ أَن یُضِلَّہُ یَجْعَلْ صَدْرَہُ ضَیِّقاً حَرَجاً کَأَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِیْ السَّمَاء کَذَلِکَ یَجْعَلُ اللّہُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ (125)

” پس حقیقت یہ ہے کہ اللہ جسے ہدایت بخشنے کا ارادہ کرتا ہے اس کا سینے کو تنگ کردیتا ہے اور ایسا بھینچتا کہ اسے یوں معلوم ہونے لگتا ہے کہ گویا اس کی روح آسمان کی طرف پرواز کر رہی ہے ۔ اس طرح اللہ ناپاکی ان لوگوں پر مسلط کردیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے ۔ ‘

اللہ تعالیٰ نے اس جہاں میں ہر شخص کو اختیار تمیزی اور آزادی دی ہے کہ ضلالت اختیار کرے یا ہدایت ۔ اب جو شخص اللہ تعالیٰ کی اس سنت جاریہ کے مطابق جو اس نے اس کائنات میں ہدایت کے سلسلے میں وضع فرمائی ہے راہ کے حصول میں دلچسپی رکھتا ہے اور اسے آزمانے کے لئے اسے جو اختیار دیا گیا ہے اور وہ اس کو استعمال کر کے ہدایت کے لئے سعی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سینہ کو اسلام کے لئے کھول دیتا ہے ۔ اس کے دل کے دریچے کھل جاتے ہیں اور وہ بسہولت اسلام کو قبول کرتا ہے اور اس میں دلچسپی لیتا ہے ‘ اس پر مطمئن ہوجاتا ہے اور وہ اسلام کے ساتھ گھل مل جاتا ہے ۔

اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے جس کے لئے گمراہی مقدر کردی ہے ‘ اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی اسی سنت جاریہ کے مطابق اسی شخص کو مقدر کردی جاتی ہے جسے اسلام اور ہدایت سے کوئی دلچسپی نہیں رہتی ۔ اس کے دل کے دریچے بند ہوجاتے ہیں اور اس کا سینہ اسلام کے لئے تنگ ہوجاتا ہے ۔ اس کی حالت یہ ہوجاتی ہے کہ گویا اس کی روح آسمان پر پرواز کرنے والی ہے ۔ چناچہ اس کا دل و دماغ اس کے لئے بند ہوجاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو اختیار کرنے میں نہایت ہی مشکل محسوس کرتا ہے ۔

(آیت) ” کانما یصعد فی السمآئ “۔ کے الفاظ میں ایک نفسیاتی صورت حال کا نقشہ حسی انداز بیان میں کھینچا گیا ہے ۔ ایسے حالات جس میں انسان کی سانس پھول جاتی ہے اور سینہ تنگی محسوس کرتا ہے ‘ جس طرح بلندی پر چڑھتے وقت انسان محسوس کرتا ہے ۔ مفہوم کے ساتھ ساتھ قراۃ حفص کے مطابق لفظ (یصعد) کے اندر بذات خود ایک قسم کی سختی اور مشکل پائی جاتی ہے اور بڑی محنت سے یہ لفظ ادا ہوا ہے ۔ اس لفظ کی آواز ہی سے اس کے مفہوم کی مشکلات کا اندازہ ہوتا ہے ۔ یوں انسان کی نفسیاتی حالت ‘ اس کی حسی حالت اور انداز تعبیر سب کے سب یہاں یکجا اور یک رنگ ہوجاتے ہیں۔ (تفصیلات دیکھئے میری کتاب التصویر الغنی میں بحث حسی تخیل)

یہ منظر اس اختتامیہ پر ختم ہوتا ہے :

(آیت) ” کَذَلِکَ یَجْعَلُ اللّہُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ (125)

” اس طرح اللہ ناپاکی ان لوگوں پر مسلط کردیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے ۔ ‘ اسی طرح کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں اپنا نظام قضا وقدر جاری کیا ہے ۔ اس کے مطابق اور اللہ کی جاری وساری سنت کے مطابق جو شخص راہ ہدایت تلاش کرتا ہے اللہ اس کا سینہ کھول دیتا ہے اور جو شخص ہدایت کو پسند نہیں کرتا اللہ اسے گمراہی کے راستے پر ڈال دیتا ہے ۔ اللہ اس طرح ایمان نہ لانے والوں کو گندگی میں ڈال دیتا ہے ۔ (الرجس) کے مفہومات میں سے ایک مفہوم عذاب بھی ہے اور اس کے مفہوم میں گندگی اور ناپاکی بھی ہے اور گراوٹ بھی ہے ۔ یعنی جو شخص اس ناپاکی اور گندگی کے دلدل میں پھنس جاتا ہے وہ اسی میں پڑا رہتا ہے اور رجس کے لفظ کے استعمال سے یہی اشارہ دینا مطلوب ہے ۔

اب ہم اس آیت پر دو بار غور کرتے ہیں :

(آیت) ” فَمَن یُرِدِ اللّہُ أَن یَہْدِیَہُ یَشْرَحْ صَدْرَہُ لِلإِسْلاَمِ وَمَن یُرِدْ أَن یُضِلَّہُ یَجْعَلْ صَدْرَہُ ضَیِّقاً حَرَجاً کَأَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِیْ السَّمَاء کَذَلِکَ یَجْعَلُ اللّہُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ (125)

” پس حقیقت یہ ہے کہ اللہ جسے ہدایت بخشنے کا …

Al-An'aam 6:125Listen in Qur'an →
126

وَهَٰذَا صِرَٰطُ رَبِّكَ مُسْتَقِيمًۭا ۗ قَدْ فَصَّلْنَا ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍۢ يَذَّكَّرُونَ

اور یہی تمہارے پروردگار کا سیدھا رستہ ہے جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لیے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کر دی ہیں

(آیت) ” نمبر 126۔ 127۔

یہ ہے صحیح راستہ اور تیرے رب کا راستہ ” تیرے رب “ کا لفظ نہایت ہی اطمینان بخش اور تفشی بخش ہے ۔ دل مومن کو اعتماد اور یقین سے بھر دینے والا ہے اور ایک اچھے انجام کے لئے خوشخبری ہے ۔ یعنی یہ ہے ہدایت وضلالت کے بارے میں سنت الہیہ اور یہ ہے اسلام کا قانون حلال و حرام اور یہ دونوں دین اسلام کا حصہ ہیں اور سیاق قرآن میں اسی لئے انہیں یکجا اور ایک ٹکڑا بنایا گیا ہے ۔

ہم نے تو ان آیات الہیہ کو نہایت ہی واضح کرکے بیان کردیا ہے لیکن ان سے استفادہ وہی لوگ کرسکیں گے جو ان کو بھلائیں گے نہیں بلکہ یاد رکھیں گے ۔ اس لئے کہ دل مومن تو یاد کرنے والا ہے ‘ بھولنے والا نہیں ہے ۔ نیز دل مومن ہمیشہ ہدایت کے لئے کھلا رہتا ہے ۔ وہ زندہ ہوتا ہے اور بات سنتا ہے ‘ مردوں کی طرح نہیں ہوتا ۔

پھر جو لوگ یاد کرتے ہیں اور نصیحت پکڑتے ہیں ان کے لئے ان کے رب کے نزدیک دارالسلام ہے جہاں وہ تسلی اور تشفی سے رہیں گے ۔ اس امن و طمانیت کی ضمانت اللہ دیتا ہے جو کسی کے عمل کو ضائع نہیں کرتا ۔ وہ ان کا ولی اور مددگار ہے اس لئے کہ وہ صحیح راستے پر عمل کرتے ہیں اور آزمائش دنیا میں ان کی کامیابی پر یہ ان کے لئے انعام ہے ۔

یہاں آکر ہم ایک بار پھر اپنے آپ کو ایک عظیم حقیقت کے سامنے کھڑا پاتے ہیں ۔ اس حقیقت کا تعلق اس دین کے نظریاتی پہلو سے ہے اور یہ حقیقت اسلام کے ان نظریات اور اللہ کے حق حاکمیت پر مشتمل ہے جن کے اوپر اللہ کا سیدھا راستہ استوار ہوتا ہے ۔ یہ اس دین کا حقیقی مزاج ہے اور اسی پر اسے اللہ رب العالمین نے استوار کیا ہے ۔

درس 69 ایک نظر میں :

یہ پورا مضمون درس سابق ہی کے ساتھ ملحق ہے ‘ بلکہ یہ اسی کا تسلسل ہے ۔ اور یہ اسی طرح ہے جس طرح سمندر میں لہر کے بعد لہر اٹھتی ہے ۔ اس میں شیاطین جن اور شیاطین انس کے انجام کا بیان کیا گیا ہے اور یہ انجام اس اچھے انجام کے بالمقابل بیان ہوا ہے جو ان لوگوں کا ہوگا جو صراط مستقیم پر قائم ہوں گے ۔ اس جگہ اس کا ذکر اس مناسبت سے ہوا ہے کہ یہاں اللہ کی حاکمیت اور اس کے حق قانون سازی کا مضمون چل رہا تھا اور یہ مسائل وہ ہیں جن کا تعلق دین اسلام کے بنیادی اور ایمانی تصورات کے ساتھ ہے ، مقصد یہ بتلانا ہے کہ یہ مسائل محض سیانی اور دنیاوی مسائل نہیں ہیں بلکہ یہ ایمانیات کے ساتھ متعلق ہیں اور ان پر اخروی جزاوسزا بھی مرتب ہوتی ہے یعنی دنیا میں تبلیغ اور دعوت اور ڈراوے کے بعد انسان جو بھی کمائے گا اس پر تمام لوگوں کا انجام ہوگا ۔ اگر لوگوں کے کسب وعمل کو دخل نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ تو اس بات پر پوری پوری قدرت رکھتا ہے کہ شیاطین اور ان کی دوست اقوام کو صفحہ ہستی سے مٹا دے اور ان کی جگہ دوسری فرمانبردار اقوام کو لے کو آئے کیونکہ پوری دنیا کی آبادی اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔ یہ تمام امور نظریاتی عقائد کے ساتھ متعلق ہیں ۔ اور ان کو ذبیحوں کے حلال و حرام کی بحث کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے ۔ اس بحث سے قبل بھی اور بعد میں بھی ۔ ذبیحوں کے بیان کے بعد پھلوں اور مویشیوں اور اولاد کی نذر کے مسئلے کو بھی یہاں لیا گیا ہے ‘ اس کا بھی یہاں نظریاتی پہلو ہے اور جاہلیت کے مختلف ادوار میں یہ رسوم کچھ نظریات پر مبنی تھیں ۔ اس طرح یہ تمام مباحث ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ اور پیوستہ نظر آتے ہیں ۔ اور یہ مسئلہ اسلامی نظام میں اس کی حقیقی حیثیت اور مقام میں نظر آتا ہے ۔ ان سب کے اندر مشترکہ صفت یہ ہے کہ ان تمام مسائل کا ایک نظریاتی پہلو ہے اور وہ یہ کہ اسلامی نظریہ حیات کے مطابق حلال و حرام کے تعین کا اختیار صرف اللہ کو ہے ۔

Al-An'aam 6:126Listen in Qur'an →
127

۞ لَهُمْ دَارُ ٱلسَّلَٰمِ عِندَ رَبِّهِمْ ۖ وَهُوَ وَلِيُّهُم بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

ان کے لیے ان کے اعمال کے صلے میں پروردگار کے ہاں سلامتی کا گھر ہے اور وہی ان کا دوستدار ہے

(آیت) ” نمبر 126۔ 127۔

یہ ہے صحیح راستہ اور تیرے رب کا راستہ ” تیرے رب “ کا لفظ نہایت ہی اطمینان بخش اور تفشی بخش ہے ۔ دل مومن کو اعتماد اور یقین سے بھر دینے والا ہے اور ایک اچھے انجام کے لئے خوشخبری ہے ۔ یعنی یہ ہے ہدایت وضلالت کے بارے میں سنت الہیہ اور یہ ہے اسلام کا قانون حلال و حرام اور یہ دونوں دین اسلام کا حصہ ہیں اور سیاق قرآن میں اسی لئے انہیں یکجا اور ایک ٹکڑا بنایا گیا ہے ۔

ہم نے تو ان آیات الہیہ کو نہایت ہی واضح کرکے بیان کردیا ہے لیکن ان سے استفادہ وہی لوگ کرسکیں گے جو ان کو بھلائیں گے نہیں بلکہ یاد رکھیں گے ۔ اس لئے کہ دل مومن تو یاد کرنے والا ہے ‘ بھولنے والا نہیں ہے ۔ نیز دل مومن ہمیشہ ہدایت کے لئے کھلا رہتا ہے ۔ وہ زندہ ہوتا ہے اور بات سنتا ہے ‘ مردوں کی طرح نہیں ہوتا ۔

پھر جو لوگ یاد کرتے ہیں اور نصیحت پکڑتے ہیں ان کے لئے ان کے رب کے نزدیک دارالسلام ہے جہاں وہ تسلی اور تشفی سے رہیں گے ۔ اس امن و طمانیت کی ضمانت اللہ دیتا ہے جو کسی کے عمل کو ضائع نہیں کرتا ۔ وہ ان کا ولی اور مددگار ہے اس لئے کہ وہ صحیح راستے پر عمل کرتے ہیں اور آزمائش دنیا میں ان کی کامیابی پر یہ ان کے لئے انعام ہے ۔

یہاں آکر ہم ایک بار پھر اپنے آپ کو ایک عظیم حقیقت کے سامنے کھڑا پاتے ہیں ۔ اس حقیقت کا تعلق اس دین کے نظریاتی پہلو سے ہے اور یہ حقیقت اسلام کے ان نظریات اور اللہ کے حق حاکمیت پر مشتمل ہے جن کے اوپر اللہ کا سیدھا راستہ استوار ہوتا ہے ۔ یہ اس دین کا حقیقی مزاج ہے اور اسی پر اسے اللہ رب العالمین نے استوار کیا ہے ۔

درس 69 ایک نظر میں :

یہ پورا مضمون درس سابق ہی کے ساتھ ملحق ہے ‘ بلکہ یہ اسی کا تسلسل ہے ۔ اور یہ اسی طرح ہے جس طرح سمندر میں لہر کے بعد لہر اٹھتی ہے ۔ اس میں شیاطین جن اور شیاطین انس کے انجام کا بیان کیا گیا ہے اور یہ انجام اس اچھے انجام کے بالمقابل بیان ہوا ہے جو ان لوگوں کا ہوگا جو صراط مستقیم پر قائم ہوں گے ۔ اس جگہ اس کا ذکر اس مناسبت سے ہوا ہے کہ یہاں اللہ کی حاکمیت اور اس کے حق قانون سازی کا مضمون چل رہا تھا اور یہ مسائل وہ ہیں جن کا تعلق دین اسلام کے بنیادی اور ایمانی تصورات کے ساتھ ہے ، مقصد یہ بتلانا ہے کہ یہ مسائل محض سیانی اور دنیاوی مسائل نہیں ہیں بلکہ یہ ایمانیات کے ساتھ متعلق ہیں اور ان پر اخروی جزاوسزا بھی مرتب ہوتی ہے یعنی دنیا میں تبلیغ اور دعوت اور ڈراوے کے بعد انسان جو بھی کمائے گا اس پر تمام لوگوں کا انجام ہوگا ۔ اگر لوگوں کے کسب وعمل کو دخل نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ تو اس بات پر پوری پوری قدرت رکھتا ہے کہ شیاطین اور ان کی دوست اقوام کو صفحہ ہستی سے مٹا دے اور ان کی جگہ دوسری فرمانبردار اقوام کو لے کو آئے کیونکہ پوری دنیا کی آبادی اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔ یہ تمام امور نظریاتی عقائد کے ساتھ متعلق ہیں ۔ اور ان کو ذبیحوں کے حلال و حرام کی بحث کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے ۔ اس بحث سے قبل بھی اور بعد میں بھی ۔ ذبیحوں کے بیان کے بعد پھلوں اور مویشیوں اور اولاد کی نذر کے مسئلے کو بھی یہاں لیا گیا ہے ‘ اس کا بھی یہاں نظریاتی پہلو ہے اور جاہلیت کے مختلف ادوار میں یہ رسوم کچھ نظریات پر مبنی تھیں ۔ اس طرح یہ تمام مباحث ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ اور پیوستہ نظر آتے ہیں ۔ اور یہ مسئلہ اسلامی نظام میں اس کی حقیقی حیثیت اور مقام میں نظر آتا ہے ۔ ان سب کے اندر مشترکہ صفت یہ ہے کہ ان تمام مسائل کا ایک نظریاتی پہلو ہے اور وہ یہ کہ اسلامی نظریہ حیات کے مطابق حلال و حرام کے تعین کا اختیار صرف اللہ کو ہے ۔

Al-An'aam 6:127Listen in Qur'an →
128

وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًۭا يَٰمَعْشَرَ ٱلْجِنِّ قَدِ ٱسْتَكْثَرْتُم مِّنَ ٱلْإِنسِ ۖ وَقَالَ أَوْلِيَآؤُهُم مِّنَ ٱلْإِنسِ رَبَّنَا ٱسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍۢ وَبَلَغْنَآ أَجَلَنَا ٱلَّذِىٓ أَجَّلْتَ لَنَا ۚ قَالَ ٱلنَّارُ مَثْوَىٰكُمْ خَٰلِدِينَ فِيهَآ إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُ ۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌۭ

اور جس دن وہ سب (جنّ وانس) کو جمع کرے گا (اور فرمائے گا کہ) اے گروہ جنّات تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کئے تو جو انسانوں میں ان کے دوستدار ہوں گے وہ کہیں گے کہ پروردگار ہم ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے رہے اور (آخر) اس وقت کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا خدا فرمائے گا (اب) تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے ہمیشہ اس میں (جلتے) رہو گے مگر جو خدا چاہے بےشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے

درس نمبر 69 تشریح آیات :

128۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔ 135۔

اس سے پہلے سبق میں یہ بات گزری ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کے دلوں کو اسلام کے لئے کھول دیتا ہے ۔ ایسے لوگوں کے دل بیدار ہوتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے رہتے ہیں ۔ یہ لوگ دارالسلام میں داخل ہوتے ہیں اور اپنے رب کی ولایت اور کفالت میں رہتے بستے ہیں ۔ اب یہاں ایسے لوگوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو ان کے نقیض ہیں ۔ قیامت کے مناظر بیان کرتے ہوئے قرآن کریم کا یہی انداز ہوتا ہے کہ وہ تصویر کے دونوں رخ انسان کے سامنے پیش کرتا ہے ۔ اب یہاں انسانوں اور جنوں میں سے جو لوگ شیطانی کام کرتے ہیں ان کے شب وروز کا ذکر کیا جاتا ہے ‘ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا میں ایسی زندگی گزاری ہے کہ یہ ایک دوسرے کو کھوٹی باتیں بتاتے رہے ہیں ۔ ایک دوسرے کو دھوکہ دیتے رہے ہیں اور یہ کام وہ اس لئے کرتے رہے ہیں کہ لوگ گمراہ ہوں ۔ ان لوگوں کا رویہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ یہ لوگ نبیوں کے مقابلے میں ایک دوسرے کے پشتیبان بنیں اور یہ لوگ ایک دوسرے کو مشورے دیتے رہے ہیں تاکہ وہ مسلمانوں کے ساتھ ان معاملات میں بحث و مباحثہ کریں جن میں اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے حلال و حرام کا تعین کیا ہے ۔ ان لوگوں کو قرآن کریم نے اس طرح پیش کیا ہے جس طرح ایک زندہ اور متحرک منظر میں کوئی چلتا پھرتا نظر آتا ہے ۔ یہ لوگ اس منظر میں ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہوئے نہایت ہی منائف نظر آئے ۔ غرض اس آیت میں وہ مناظر بھر پور انداز میں آگئے جس طرح کہ قرآن کریم ہر جگہ مناظر قیامت کے بیان کے وقت یہ انداز عموما اختیار کرتا ہے ۔

(آیت) ” نمبر 128 تا 130۔

یہ منظر براہ راست مستقبل کے واقعات سے شروع ہوتا ہے ‘ جب اللہ تعالیٰ سب کو گھیر کر میدان حشر میں جمع کرے گا ‘ لیکن سننے والے کے لئے یہ صورت پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ اس منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکے اور وہ اس کی آنکھوں کے سامنے ہو اور یہ تخیل اور تصور صرف ایک لفظ (اور کہے گا) کے حذف سے سامنے آتا ہے یعنی ” اور جس روز ان سب کو گھیر کر جمع کرلے گا (اور یہ کہے گا) اے گروہ جن “۔ صرف لفظ کہے گا کے حذف سے مفہوم ایک منظر کی شکل میں نظروں کے سامنے آکھڑا ہوجاتا ہے اور وہ منظر جو مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والا تھا فی الواقع سامنے آجاتا ہے اور یہ انداز بیان قرآن کریم کے ساتھ مخصوص ہے ۔ اب ذرا اس منظر کی تفصیلات ملاحظہ فرمائیں ۔

(آیت) ” یَا مَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَکْثَرْتُم مِّنَ الإِنسِ “ (6 : 128)

” اے گروہ جن ! تم نے نوع انسانی پر خوب ہاتھ صاف کیا ۔ “ یعنی تم نے انسانوں کی اکثریت کو اپنا تابع بنا لیا ۔ وہ تمہاری ہدایات واشارات پر چلتے رہے اور تمہاری وسوسہ اندازیوں پر خوب یقین کرتے رہے ۔ تمہارے منصوبوں پر چلتے رہے ۔ یہ صورت واقعہ کا ایسا بیان ہے کہ جس سے مقصد صرف یہ نہیں ہے کہ صرف واقعہ بیان کرنا مطلوب ہے اس لئے کہ جن اس بات کو خوب جانتے تھے کہ انہوں نے انسانوں کی ایک بڑی اکثریت کو گمراہ کردیا ہے بلکہ اس واقعی صورت حال کے بیان سے مقصد یہ ہے کہ یہ تمہارا بہت ہی بڑا جرم ہے کہ تم نے انسانوں کی اتنی بڑی اکثریت کو گمراہ کردیا ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے اس جرم کو دیکھ کر پشیمان ہوجائیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں جنات کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ۔ البتہ وہ لوگ جواب دیتے ہیں جنہیں دھوکہ دیا گیا اور جو بسہولت ان شیاطین کے وسوسوں کا شکار ہوجاتے تھے ۔ یہ لوگ یوں جواب دیتے ہیں ۔

(آیت) ” وَقَالَ أَوْلِیَآؤُہُم مِّنَ الإِنسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَبَلَغْنَا أَجَلَنَا الَّذِیَ أَجَّلْتَ لَنَا “ (6 : 128)

” انسانوں میں سے جو ان کے رفیق تھے وہ عرض کریں گے پروردگار ! ہم میں سے ہر ایک نے دوسرے کو خوب استعمال کیا ہے ‘ اور اب ہم اس وقت آپہنچے ہیں جو تو نے ہمارے لئے مقرر کردیا ہے ۔ “

اس جواب سے ان غافلوں کی غفلت اور …

Al-An'aam 6:128Listen in Qur'an →
129

وَكَذَٰلِكَ نُوَلِّى بَعْضَ ٱلظَّٰلِمِينَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ

اور اسی طرح ہم ظالموں کو ان کے اعمال کے سبب جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے پر مسلط کر دیتے ہیں

(آیت) ” وَکَذَلِکَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظَّالِمِیْنَ بَعْضاً بِمَا کَانُواْ یَکْسِبُونَ (129)

” دیکھو اس طرح (آخرت میں) ہم ظالموں کو ایک دوسرے کا ساتھی بنائیں گے ۔ اس کمائی کی وجہ سے جو وہ (دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کرتے تھے ) ۔

یعنی یہ بات قابل عبرت ہے کہ جنوں اور انسانوں کے درمیان اس طرح دوستی قائم ہوجاتی ہے اور اس دوستی کا یہ انجام ہوتا ہے ۔ اس طرح اللہ انہیں ایک دوسرے کے لئے ساز گار بنا دیتا ہے ۔ خود ان کی اپنی کمائی کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کے دوست بن جاتے ہیں ‘ اس لئے کہ ان کے مزاج اور ان کی خواہشات ایک دوسرے کے ساتھ مل جاتی ہیں ۔ انکے رجحانات اور اہداف ایک ہوتے ہیں اور پھر ان کا انجام بھی ایک جیسا ہوتا ہے ۔

یہ تعقیب اور اس میں بیان کردہ حقیقت اس وقت کے موجودہ حالات کے مقابلے میں زیادہ دور رس نتائج کی حامل ہے ۔ اس میں جنی اور انسی شیطانوں کے درمیان پائے جانے والے رابطے اور دوستی کی اصل حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا ہے اس لئے کہ وہ لوگ جو ظالم ہیں اور کسی نہ کسی صورت میں شرک کرتے ہیں ‘ وہ سچائی اور ہدایت کے مقابلے میں اکٹھ کرلیتے ہیں اور ان لوگوں کا وطیرہ یہ ہے کہ یہ لوگ ہمیشہ نبی اور اس کے ساتھیوں کے مقابلے میں آکر کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ جس طرح ان لوگوں کی فطرت اور مزاج ایک ہے ‘ اگرچہ شکلیں مختلف ہوں ‘ اسی طرح ان کے اغراض ومقاصد بھی ایک ہوتے ہیں اور ان کے اغراض واہداف یہ ہوتے ہیں یعنی اللہ کے مقابلے میں اپنا حق حاکمیت چلاتے ہیں اور خواہشات نفسانیہ اور عیاشی کے معاملے میں کوئی حد اور قید قبول نہیں کرتے ‘ یعنی اللہ کے جانب سے حدود وقیود۔

یہ لوگ ہر دور میں ایک گروہ اور ایک بلاک ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے مددگار ہوتے ہیں حالانکہ خود ان کے درمیان باہم مقاصد ایک ہوتے ہیں اور اس کی وجہ سے ان کے درمیان باہم محبت ہوتی ہے اس لئے جس طرح گزشتہ منظر میں بتایا گیا ان کا انجام بھی ایک ہی ہوتا ہے ۔

آج کے دور میں ایک طویل عرصے سے ہم اس بات کا مشاہد کر رہے ہیں کہ انسانی شیطان مثلا صیلبی ‘ صہیونی ‘ بت پرست اور اشتراکی ‘ مختلف مفادات اور مختلف بلاکوں کے ممبر ہوتے ہوئے بھی باہم دوست ہیں اور باہم معاون و مددگار ہیں ۔ ان کا یہ اتحادواتفاق اسلام اور اسلامی تحریکات کے دستوں کے خلاف ہے اور یہ پوری دنیا پر موجود ہے ۔

عملایہ ایک خوفناک گٹھ جوڑ ہے ۔ یہ گٹھ جوڑ کرنے والے وہ لوگ ہیں جن کو صدیوں تک اسلام کے مقابلے میں محاربت کا تجربہ ہے ۔ یہ لوگ مادی اور علمی معاشرتی قوتوں اور تمام دوسرے سازو سامان کے ساتھ اسلام کے مقابلے میں معرکہ آراء ہیں اور اپنی مکارانہ شیطانی چالوں کے ساتھ مصروف عمل ہیں ۔ اس گٹھ جوڑ پر اللہ کا یہ فرمان آج اچھی طرح چسپاں ہوتا ہے ۔ ” اور ہم ظالموں کو اسی طرح ایک دوسرے کا ولی بناتے ہیں اس کمائی کی وجہ سے جو وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کرتے ہیں ۔ “ اس گٹھ جوڑ پر حضور اکرم ﷺ کی تسلی کے لئے آنے والی یہ آیت صادق آتی ہے ۔

(آیت) ” ولوشاء اللہ مافعلوہ فذرھم وما یفترون “۔ ” اگر اللہ چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے پس آپ ان کو چھوڑ دیجئے جو چاہیں افراء باندھیں) لیکن اس تسلی کے تقاضے تب ہی پورے ہوں گے کہ دنیا میں حضور ﷺ کے نقش قدم پر چلنے والا ایک گروہ موجود ہو اور یہ معلوم ہو کہ یہ گروہ حضور کے ساتھیوں کا قائم مقام ہے ۔ دین پر دشمنوں کے حملوں کی راہ میں کھڑا ہے ۔ اب ذرا دوبارہ آیات قرآنیہ کی طرف آئیے ۔

Al-An'aam 6:129Listen in Qur'an →
130

يَٰمَعْشَرَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌۭ مِّنكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ ءَايَٰتِى وَيُنذِرُونَكُمْ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هَٰذَا ۚ قَالُوا۟ شَهِدْنَا عَلَىٰٓ أَنفُسِنَا ۖ وَغَرَّتْهُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا وَشَهِدُوا۟ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا۟ كَٰفِرِينَ

اے جنّوں اور انسانوں کی جماعت کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں آتے رہے جو میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے اور اس دن کے سامنے آموجود ہونے سے ڈراتے تھے وہ کہیں گے کہ (پروردگار) ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے ان لوگوں کو دنیاکی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا اور (اب) خود اپنے اوپر گواہی دی کہ کفر کرتے تھے

(آیت) ” َا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالإِنسِ أَلَمْ یَأْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنکُمْ یَقُصُّونَ عَلَیْْکُمْ آیَاتِیْ وَیُنذِرُونَکُمْ لِقَاء یَوْمِکُمْ ہَـذَا قَالُواْ شَہِدْنَا عَلَی أَنفُسِنَا وَغَرَّتْہُمُ الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا وَشَہِدُواْ عَلَی أَنفُسِہِمْ أَنَّہُمْ کَانُواْ کَافِرِیْنَ (130)

”(اس موقع پر اللہ ان سے یہ بھی پوچھے گا کہ) اے گروہ جن وانس ! کیا تمہارے پاس خود تم ہی میں سے ہو پیغمبر نہیں آئے تھے جو تم کو میری آیات سناتے اور اس دن کے انجام سے ڈراتے تھے ۔ “ وہ کہیں گے ” ہاں ! ہم اپنے خلاف خود گواہی دیتے ہیں ۔ “ آج دنیا کی زندگی نے ان لوگوں کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ۔ مگر اس وقت وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے ۔ “

یہ استفہام تقریری ہے ۔ یہ اس لئے نہیں ہے کہ اللہ ان لوگوں سے معلومات حاصل کرنا چاہتے تھے کہ آیا رسول آئے تھے یا نہیں ۔ اللہ تو خوب جانتے تھے کہ کیا ہوچکا ہے ۔ ان کی جانب سے اقرار اور استشہاد درحقیقت ان کی سزا کے لئے وجہ جواز ہے ۔ یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ سزا ان کے لئے عادلانہ سزا ہے ۔ وہ اس کے مستحق ہیں ۔

خطاب جس طرح جنوں سے ہے اسی طرح انسانوں سے ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جنوں کے پاس بھی خود ان کے ہم جنس رسول بھیجے گئے تھے ؟ جس طرح انسانوں کے پاس انسان آئے تھے ۔ جن انسانوں سے پوشیدہ مخلوق ہے اور ان کے اصل حالات سے تو صرف اللہ خبر رکھتا ہے ۔ رہی یہ آیت ‘ تو اس کی تفسیر میں کہا جاسکتا ہے کہ جنات بھی رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والے کلام کو سنتے تھے ۔ پھر جا کر اپنی قوم کو ڈراتے تھے اور خوشخبری بھی سناتے تھے ۔ اس کی تفصیلات احقاف میں قرآن نے دی ہیں : ۔

” اور وہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے جب ہم جنوں کے ایک گروہ کو تمہاری طرف لے آئے تھے تاکہ وہ قرآن سنیں ۔ جب وہ اس جگہ پہنچے (جہاں تم قرآن پڑھ رہے تھے) تو انہوں نے آپس میں کہا خاموش ہوجاؤ ‘ پھر جب وہ پڑھا جا چکا تو وہ خبردار کرنے والے بن کر اپنی قوم کی طرف پلٹے ۔ انہوں نے جاکر کہا : ” اے ہماری قوم کے لوگو ‘ ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی ہے ‘ تصدیق کرنے والی ہے اپنے سے پہلے آئی ہوئی کتابوں کی ‘ راہنمائی کرتی ہے حق اور راہ راست کی طرف ‘ اے ہماری قوم کے لوگو ‘ اللہ کی طرف بلانے والی دعوت قبول کرلو ‘ اور اس پر ایمان لے آؤ اور اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں عذاب الیم سے بچا لے گا ۔ “ اور جو کوئی اللہ کے داعی کی بات نہ مانے وہ نہ زمین میں خود کوئی بل بوتا رکھتا ہے کہ اللہ کو زچ کردے اور نہ اس کے کوئی ایسے حامی و سرپرست ہیں کہ اللہ سے اس کو بچائیں ایسے لوگ گمراہی میں پڑے ہیں ۔ “ (46 : 29 تا 32)

ہو سکتا ہے کہ یہ سوال و جواب ان انسانوں اور جنوں سے ہو رہا ہو جو اس طرح کھڑے تھے ۔ بہرحال اصل علم اللہ ہی کو ہے ۔ یہاں ہم اس سے زیادہ نہیں کہہ سکتے ۔ اس سے زیادہ اس مسئلے پر بحث کرنے کا کچھ فائدہ بھی نہیں ہے ۔

بہرحال جن وانس میں سے جن لوگوں سے سوال کیا گیا تھا ‘ وہ جانتے تھے کہ یہ محض استفسار کے لئے نہیں ہے بلکہ یہ فرد قرار داد جرم ہے ۔ ان کے جرم کا ریکارڈ تیار ہو رہا ہے اور یہ سوال و جواب محض زجرو توبیخ کے لئے ہیں ۔ چناچہ انہوں نے پورا پورا اعتراف کرلیا اور اس بات کا اقرار کرلیا جس کے وہ مستحق تھے ۔

(آیت) ” قَالُواْ شَہِدْنَا عَلَی أَنفُسِنَا (130) ” انہوں نے کہا ہم خود اپنے اوپر گواہی دیتے ہیں ۔ “ اب یہاں اس منظر پر ایک مبصرسامنے آتا ہے اور کہتا ہے ۔

(آیت) ” وَغَرَّتْہُمُ الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا وَشَہِدُواْ عَلَی أَنفُسِہِمْ أَنَّہُمْ کَانُواْ کَافِرِیْنَ (130)

” آج دنیا کی زندگی نے ان لوگوں کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ۔ مگر اس وقت وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے ۔ “

یہ تبصرہ دنیا میں ان کے حالات پر خوب منطبق ہوتا ہے ۔ دراصل اس دنیاوی زندگی …

Al-An'aam 6:130Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.