Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 121–130 of 165

121

وَلَا تَأْكُلُوا۟ مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ ٱسْمُ ٱللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُۥ لَفِسْقٌۭ ۗ وَإِنَّ ٱلشَّيَٰطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰٓ أَوْلِيَآئِهِمْ لِيُجَٰدِلُوكُمْ ۖ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ

اور جس چیز پر خدا کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھاؤ کہ اس کا کھانا گناہ ہے اور شیطان (لوگ) اپنے رفیقوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم لوگ ان کے کہے پر چلے تو بےشک تم بھی مشرک ہوئے

وَلَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِاسْمُ اللّٰهِ عَلَيْهِ : پہلے اللہ نے یہ بیان فرمایا کہ اللہ کے نام کا ذبیحہ حلال ہے۔ اب اس آیت میں بیان فرمایا کہ جس ذبیحہ پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اس کا کھانا حرام ہے، اس میں مردار اور وہ جانور تو آیت کے صاف الفاظ میں داخل ہیں جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیے گئے ہوں اور آیت گو لفظ عام ہونے کی وجہ سے ہر اس چیز کو شامل ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، خواہ وہ کھانے کی کوئی بھی چیز ہو، مگر فقہاء نے اس سے بالاجماع ذبیحہ مراد لیا ہے۔ (رازی) - یاد رہے اگر کسی ذبیحہ پر جان بوجھ کر اللہ کا نام ترک کردیا جائے تو وہ اکثر فقہاء کے نزدیک حرام ہے، مگر جب مسلمان ذبح کرتے وقت ” بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکْبَرُ “ بھول جائے تو اس کا کھانا جائز ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس امت سے خطا اور نسیان معاف کردیا ہے۔ - وَاِنَّهٗ لَفِسْقٌ ۭ: یعنی جانور کو غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنا فسق ہے۔ دیکھیے سورة انعام (١٤٥) ۔- وَاِنَّ الشَّيٰطِيْنَ لَيُوْحُوْنَ ۔۔ : دیکھیے اسی سورت آیت کی (١١٣) کا حاشیہ (٢) ۔ - وَاِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ : اللہ تعالیٰ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام اور حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال قرار دینے والا بھی مشرک ہے، کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے کو حاکم بنا لیا، یعنی تحلیل و تحریم کا حق کسی اور کے لیے تسلیم کرلیا، جب کہ یہ صرف اللہ کا حق ہے۔ (رازی) شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں کہ شرک فقط یہی نہیں کہ کسی کو سوائے اللہ کے پوجے، بلکہ شرک حکم میں بھی ہے کہ کسی اور کا مطیع ہو وے۔ (موضح)

Al-An'aam 6:121Listen in Qur'an →
122

أَوَمَن كَانَ مَيْتًۭا فَأَحْيَيْنَٰهُ وَجَعَلْنَا لَهُۥ نُورًۭا يَمْشِى بِهِۦ فِى ٱلنَّاسِ كَمَن مَّثَلُهُۥ فِى ٱلظُّلُمَٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍۢ مِّنْهَا ۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكَٰفِرِينَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس کے لیے روشنی کر دی جس کے ذریعے سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے کہیں اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو اندھیرے میں پڑا ہوا ہو اور اس سے نکل ہی نہ سکے اسی طرح کافر جو عمل کر رہے ہیں وہ انہیں اچھے معلوم ہوتے ہیں

اَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ ۔۔ : یعنی وہ کافر تھا اسے مسلمان بنایا۔ (شوکانی) اوپر جانوروں کے مردوں کا ذکر تھا، یہاں کافر پر وہی مثال فرمائی، یعنی جب کافر تھے تو جہل اور کفر و شرک کے باعث سب مردے تھے، پھر جس کو ایمان ملا وہ زندہ ہوا اور روشنی اور راہ ہدایت پائی اور اس کے چہرے پر سب لوگ ایمان کی روشنی دیکھتے ہیں اور جس کو ایمان نہ ملا وہ اندھیروں میں پڑا رہا۔ (موضح) مسلمان اور کافر کے زندہ اور مردہ ہونے کا مضمون دیکھیے سورة بقرہ (٢٥٧) ، سورة ہود (٢٤) اور سورة فاطر (١٩ تا ٢٢) میں۔ - كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكٰفِرِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ : یعنی شیطان اپنے وسوسوں کے ذریعے سے ان کافروں کی نگاہ میں ان کے اعمال کو خوبصورت کر کے پیش کرتا ہے۔

Al-An'aam 6:122Listen in Qur'an →
123

وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا فِى كُلِّ قَرْيَةٍ أَكَٰبِرَ مُجْرِمِيهَا لِيَمْكُرُوا۟ فِيهَا ۖ وَمَا يَمْكُرُونَ إِلَّا بِأَنفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُونَ

اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں بڑے بڑے مجرم پیدا کئے کہ ان میں مکاریاں کرتے رہیں اور جو مکاریاں یہ کرتے ہیں ان کا نقصان انہیں کو ہے اور (اس سے) بےخبر ہیں

وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِيْ كُلِّ قَرْيَةٍ ۔۔ : ” اَکَابِرَ “ یہ ” اَکْبَرُ “ کی جمع ہے، ” مُجْرِمِیْنَ “ کا نون ” ہَا “ کی طرف اضافت کی وجہ سے گرگیا، یعنی مکہ کی طرح پہلے بھی ہم نے ہر بستی کے اکابر اور چودھری اور کھڑپینچ اس کے مجرموں کو بنادیا، جس کے نتیجے میں وہ اپنے مکر و فریب اور قوت و اقتدار کے ذریعے سے لوگوں کو ایمان سے روکتے رہے اور فسق و فجور میں پڑے رہے۔ انبیاء کے مقابلے میں بھی یہی لوگ آتے رہے، مگر آخر انجام ایمان والوں کے غلبے پر ہوا۔ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں، ہمیشہ کافروں کے سردار حیلے نکالتے ہیں، تاکہ عوام الناس پیغمبر کے مطیع نہ ہوجائیں، جیسے فرعون نے معجزہ دیکھا تو حیلہ نکالا کہ جادو کے زور سے سلطنت لینا چاہتا ہے۔ (موضح)- ۭوَمَا يَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ : یعنی اس کا وبال خود ان پر پڑے گا، تو گویا اپنے آپ کو فریب دے رہے ہیں۔

Al-An'aam 6:123Listen in Qur'an →
124

وَإِذَا جَآءَتْهُمْ ءَايَةٌۭ قَالُوا۟ لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَآ أُوتِىَ رُسُلُ ٱللَّهِ ۘ ٱللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُۥ ۗ سَيُصِيبُ ٱلَّذِينَ أَجْرَمُوا۟ صَغَارٌ عِندَ ٱللَّهِ وَعَذَابٌۭ شَدِيدٌۢ بِمَا كَانُوا۟ يَمْكُرُونَ

اور جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ جس طرح کی رسالت خدا کے پیغمبروں کو ملی ہے جب تک اسی طرح کی رسالت ہم کو نہ ملے ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اس کو خدا ہی خوب جانتا ہے کہ (رسالت کا کون سا محل ہے اور) وہ اپنی پیغمبری کسے عنایت فرمائے جو لوگ جرم کرتے ہیں ان کو خدا کے ہاں ذلّت اور عذابِ شدید ہوگا اس لیے کہ مکّاریاں کرتے تھے

وَاِذَا جَاۗءَتْهُمْ اٰيَةٌ۔۔ : یعنی ان کفار کے مکر و فریب کا یہ عالم ہے کہ جب بھی ان کے سامنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صدق کی دلیل کے طور پر کوئی معجزہ ظاہر ہوتا ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ جب تک ہم خود اس منصب پر فائز نہ ہوں اور ہمیں یہ معجزہ نہ ملے ہم ایمان نہیں لاسکتے۔ - اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ : یعنی نبوت و رسالت محض وہبی چیز ہے، اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے نبوت کی امانت اس کے سپرد کردیتا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ یہ نعمت کسے عطا کرنی ہے، مکہ کے ایک یتیم کو یا مکہ اور طائف کے کسی متکبر سردار کو۔ دیکھیے سورة زخرف (٣١، ٣٢) ۔

Al-An'aam 6:124Listen in Qur'an →
125

فَمَن يُرِدِ ٱللَّهُ أَن يَهْدِيَهُۥ يَشْرَحْ صَدْرَهُۥ لِلْإِسْلَٰمِ ۖ وَمَن يُرِدْ أَن يُضِلَّهُۥ يَجْعَلْ صَدْرَهُۥ ضَيِّقًا حَرَجًۭا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِى ٱلسَّمَآءِ ۚ كَذَٰلِكَ يَجْعَلُ ٱللَّهُ ٱلرِّجْسَ عَلَى ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ

تو جس شخص کو خدا چاہتا ہے کہ ہدایت بخشے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کر دیتا ہے گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے اس طرح خدا ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے عذاب بھیجتا ہے

فَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ يَّهدِيَهٗ ۔۔ : ” اسلام “ کا لفظی معنی ہے تابع ہوجانا، اپنے آپ کو سپرد کردینا۔ ” حَرَجًا “ نہایت تنگ، گھٹا ہوا، درختوں کا وہ جھنڈ جس میں کوئی چیز داخل نہ ہو سکے۔ ” حَرَجًا “ یہ ” صَعِدَ یَصْعَدُ “ (س) سے باب تفعل کا مضارع ہے، یعنی ” یَصَّعَّدُ “ اصل میں ” یَتَصَعَّدُ “ تھا، حروف زیادہ ہونے سے معنی میں ایک لفظ کا اضافہ کیا ہے، یعنی مشکل سے چڑھ رہا ہے۔ - اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ رسالت کی طرح ہدایت و گمراہی بھی اس کے ہاتھ میں ہے، وہ اپنے نظام عدل کے مطابق جسے ہدایت دینا چاہتا ہے اس کا سینہ صحیح بات تسلیم کرنے کے لیے کھول دیتا ہے، اس کے لیے ہدایت کے راستے آسان کردیتا ہے، اسے حق قبول کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی اور وہ آسانی سے اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول کے تابع فرمان کردیتا ہے اور جسے اس کی سرکشی کے باعث ہدایت نہیں دینا چاہتا اس کا سینہ حق قبول کرنے کے لیے تنگ اور نہایت گھٹا ہوا کردیتا ہے، جیسا کہ وہ بلندی کی طرف مشکل سے چڑھ رہا ہے، جوں جوں اوپر چڑھتا ہے، ایک تو چڑھائی کی وجہ سے دوسرے آکسیجن کے کم اور پھر ختم ہونے کی وجہ سے سانس ہی نہیں لے سکتا۔ جو لوگ حق سمجھ کر انکار کا راستہ اختیار کرنے والے ہیں ان پر ایمان کی طہارت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے کفر کی گندگی چڑھتی چلی جاتی ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (٦، ٧) ، سورة توبہ (١٢٥) ، سورة لیل (٥ تا ١٠) اور سورة یونس (١٠٠) ۔ - شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” اوپر فرمایا تھا کہ کافر قسمیں کھاتے ہیں کہ ایک آیت ( نشانی) دیکھیں تو ضرور یقین لے آئیں گے، اب فرمایا کہ ہم نہ دیں گے ایمان تو کیونکر لائیں گے۔ بیچ میں مردہ حلال کرنے کے حیلے ذکر کیے، اب اس بات کا جواب فرمایا کہ جس کی عقل اس طرف چلے کہ اپنی بات کو نہ چھوڑے، جو دلیل دیکھے کچھ حیلہ بنا لے، وہ نشان ہے گمراہی کا اور جس کی عقل چلے انصاف پر اور حکم برداری پر وہ نشان ہدایت ہے۔ ان لوگوں میں نشان ہیں گمراہی کے، ان کو کوئی آیت اثر نہ کرے گی۔ “ (موضح)

Al-An'aam 6:125Listen in Qur'an →
126

وَهَٰذَا صِرَٰطُ رَبِّكَ مُسْتَقِيمًۭا ۗ قَدْ فَصَّلْنَا ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍۢ يَذَّكَّرُونَ

اور یہی تمہارے پروردگار کا سیدھا رستہ ہے جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لیے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کر دی ہیں

وَھٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ ۔۔ : ” َھٰذَا “ یعنی حکم برداری میں عقل کو راہ نہ دینا سیدھی راہ ہے۔ (موضح)

Al-An'aam 6:126Listen in Qur'an →
127

۞ لَهُمْ دَارُ ٱلسَّلَٰمِ عِندَ رَبِّهِمْ ۖ وَهُوَ وَلِيُّهُم بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

ان کے لیے ان کے اعمال کے صلے میں پروردگار کے ہاں سلامتی کا گھر ہے اور وہی ان کا دوستدار ہے

Explained together with ayah 126

Al-An'aam 6:127Listen in Qur'an →
128

وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًۭا يَٰمَعْشَرَ ٱلْجِنِّ قَدِ ٱسْتَكْثَرْتُم مِّنَ ٱلْإِنسِ ۖ وَقَالَ أَوْلِيَآؤُهُم مِّنَ ٱلْإِنسِ رَبَّنَا ٱسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍۢ وَبَلَغْنَآ أَجَلَنَا ٱلَّذِىٓ أَجَّلْتَ لَنَا ۚ قَالَ ٱلنَّارُ مَثْوَىٰكُمْ خَٰلِدِينَ فِيهَآ إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُ ۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌۭ

اور جس دن وہ سب (جنّ وانس) کو جمع کرے گا (اور فرمائے گا کہ) اے گروہ جنّات تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کئے تو جو انسانوں میں ان کے دوستدار ہوں گے وہ کہیں گے کہ پروردگار ہم ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے رہے اور (آخر) اس وقت کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا خدا فرمائے گا (اب) تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے ہمیشہ اس میں (جلتے) رہو گے مگر جو خدا چاہے بےشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے

وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا ۚ: جنوں سے مراد یہاں شیطان جن ہیں۔ ان کا بہت سے انسانوں کو اپنا بنا لینے کا مطلب انھیں گمراہ کر کے اپنے راستے پر لگا لینا ہے اور جنوں کا انسانوں سے فائدہ اٹھانا یہ ہے کہ انھوں نے ان کو گمراہی کی دعوت دی اور انھوں نے اسے قبول کرلیا اور ان کی تعظیم و تکریم اور مصیبتوں کے وقت ان کو پکارنا شروع کردیا اور یہی شیاطین کی کامیابی ہے اور انسانوں کے جنوں سے فائدہ اٹھانے سے مراد ان سے آسمان کے فرشتوں سے سنی ہوئی خبریں، جو وہ جھوٹ ملا کر بتاتے ہیں، سن کر اپنی جھوٹی غیب دانی کا بازار چمکانا، جادو ٹونے میں ان سے مدد لینا وغیرہ ہے اور پھر لوگوں سے پیسے بٹورنا، مزید کئی فوائد حاصل کرنا اور انھیں گمراہ کرنا ہے۔ - قَال النَّارُ مَثْوٰىكُمْ : یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) کے بعد جو شخص بھی کسی جن سے کوئی غلط فائدہ اٹھائے یا قید کر کے اس سے کوئی مقصد حاصل کرے اس شخص اور جن دونوں کا ٹھکانا جہنم ہے، اسی لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شیطان جن کو نماز کے دوران آپ پر حملہ کرنے پر گرفتار کرلیا اور مسجد کے ستون سے باندھنے کا ارادہ کیا تو سلیمان (علیہ السلام) کی دعا یاد کر کے اسے چھوڑ دیا کہ انھوں نے دعا کی تھی : (رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ ۚ……...) [ صٓ : ٣٤ تا ٤٠ ] مزید دیکھیے : سورة شعراء (٢٢١ تا ٢٢٣) اور سورة جن (٦) ۔- اِلَّا مَا شَاۗءَ اللّٰهُ ۭ: اس لفظ سے جو شبہ پیدا ہوتا ہے کہ جہنم آخر ختم ہوجائے گی اس کے جواب میں شاہ عبد القادر (رض) فرماتے ہیں کہ جو فرمایا کہ آگ میں رہا کریں گے مگر جو چاہے اللہ تو یہ اس لیے کہ اگر دوزخ کا عذاب دائمی ہے تو اسی کے چاہنے سے ہے، وہ چاہے تو موقوف کرے مگر وہ چاہ چکا۔ (موضح)

Al-An'aam 6:128Listen in Qur'an →
129

وَكَذَٰلِكَ نُوَلِّى بَعْضَ ٱلظَّٰلِمِينَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ

اور اسی طرح ہم ظالموں کو ان کے اعمال کے سبب جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے پر مسلط کر دیتے ہیں

وَكَذٰلِكَ نُوَلِّيْ بَعْضَ الظّٰلِمِيْنَ بَعْضًۢا ۔۔ : یعنی جس طرح ہم نے جنات اور بعض انسانوں کو ایک دوسرے کا دوست بنادیا اسی طرح ہم ظالم اور فاسق و فاجر انسانوں کو ان کے اعمال کے سبب ایک دوسرے کا دوست بنا دیتے ہیں، جیسا کہ دیکھیے سورة توبہ ( ٦٧، ٧١) ۔ ایک ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اسی طرح ہم ( آخرت میں) ظالموں کو ایک دوسرے کا ساتھی بنادیں گے کہ جس طرح وہ دنیا میں گناہوں کے ارتکاب میں ایک دوسرے کے ساتھی اور مددگار تھے اسی طرح آخرت کا عذاب بھگتنے میں بھی وہ ایک دوسرے کے شریک حال ہوں گے۔ بعض نے ” َ نُوَلِّيْ “ کا ایک معنی یہ کیا ہے کہ ہم ظالموں میں سے بعض کو بعض پر والی اور حاکم بنا دیتے ہیں کہ جس طرح ہم نے جنوں اور انسانوں میں سے بعض کو بعض پر مسلط کردیا، اسی طرح دنیا میں ہم ظالموں کو بھی ایک دوسرے پر مسلط کردیتے ہیں کہ ظالم ماتحت پر ظلم کرتا ہے اور کمزور زبردست کا ظلم سہتا ہے، مگر آیات کے سیاق اور الفاظ ” َ اَوْلِيٰۗـؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ “ کی یہاں حاکم کے معنی کے ساتھ مناسبت محل نظر ہے۔

Al-An'aam 6:129Listen in Qur'an →
130

يَٰمَعْشَرَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌۭ مِّنكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ ءَايَٰتِى وَيُنذِرُونَكُمْ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هَٰذَا ۚ قَالُوا۟ شَهِدْنَا عَلَىٰٓ أَنفُسِنَا ۖ وَغَرَّتْهُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا وَشَهِدُوا۟ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا۟ كَٰفِرِينَ

اے جنّوں اور انسانوں کی جماعت کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں آتے رہے جو میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے اور اس دن کے سامنے آموجود ہونے سے ڈراتے تھے وہ کہیں گے کہ (پروردگار) ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے ان لوگوں کو دنیاکی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا اور (اب) خود اپنے اوپر گواہی دی کہ کفر کرتے تھے

يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ :” تم میں سے رسول “ کا مطلب یہ ہے کہ وہ رسول جن و انس میں سے انسان ہی ہوئے ہیں۔ افضل مخلوق فرشتے یا انسان ہیں۔ دیکھیے سورة یوسف (١٠٩) اور سورة فرقان (٢٠) جنوں کا نبی ہونا ثابت نہیں، علمائے سلف و خلف کی اکثریت کا یہی قول ہے کہ کسی جن کو رسول نہیں بنایا گیا، البتہ ان میں سے کئی منذرین گزرے ہیں، یعنی اپنی قوم کو خبردار کرنے والے، جو انسانوں کی طرف آنے والے رسولوں پر ایمان لاکر اپنی قوم کو پیغام پہنچاتے تھے۔ دیکھیے سورة احقاف (٢٩ تا ٣٢) اور سورة جن۔ دونوں میں جنوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کا اقرار کیا ہے اور اپنی قوم کو ایمان لانے کی دعوت دی ہے، بلکہ سورة احقاف سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جن پہلے موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان رکھتے تھے۔ - اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِيْن : شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں کہ اس سورت میں اوپر مذکور ہوا کہ اول کافر اپنے کفر کا انکار کریں گے، پھر حق تعالیٰ تدبیر سے ان کو قائل کرے گا۔ (موضح) دیکھیے سورة انعام (٢٣ اور ٢٧ تا ٣٠) ، سورة حٰم السجدۃ (٢٠، ٢١) اور سورة یٰسٓ (٦٥) ۔

Al-An'aam 6:130Listen in Qur'an →

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.