وَلَا تَأْكُلُوا۟ مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ ٱسْمُ ٱللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُۥ لَفِسْقٌۭ ۗ وَإِنَّ ٱلشَّيَٰطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰٓ أَوْلِيَآئِهِمْ لِيُجَٰدِلُوكُمْ ۖ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ
اور جس چیز پر خدا کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھاؤ کہ اس کا کھانا گناہ ہے اور شیطان (لوگ) اپنے رفیقوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم لوگ ان کے کہے پر چلے تو بےشک تم بھی مشرک ہوئے
(آیت) ” نمبر 121۔
اس کے بعد ایک بار پھر کفر و ایمان کی اصل حقیقت پر بات کی جاتی ہے اور دو بار تکرار کا مطلب ہے کہ اسلام میں حلال و حرام قرار دینے کا تعلق کفر واسلام سے ہے ۔
یہ بار بار کی تاکید ‘ یہ بار بار کے ربط اور بات کو دہرانے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اسلام کی نظر میں قانون سازی اور اقتدار اعلی انسان کی روز مرہ زندگی کے اندر کس قدر اہمیت رکھتے ہیں ۔
ّ (آیت) ” أَفَغَیْْرَ اللّہِ أَبْتَغِیْ حَکَماً وَہُوَ الَّذِیْ أَنَزَلَ إِلَیْْکُمُ الْکِتَابَ مُفَصَّلاً وَالَّذِیْنَ آتَیْْنَاہُمُ الْکِتَابَ یَعْلَمُونَ أَنَّہُ مُنَزَّلٌ مِّن رَّبِّکَ بِالْحَقِّ فَلاَ تَکُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ (114)
” پھر جب حال یہ ہے تو کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا تلاش کروں ‘ حالانکہ اس نے پوری تفصیل کے ساتھ تمہاری طرف کتاب نازل کردی ہے ‘ اور جن لوگوں کو ہم نے تم سے پہلے کتاب دی تھی وہ جانتے تھے کہ یہ کتاب تمہارے رب ہی کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے لہذا تم شک کرنے والوں میں شامل نہ ہو ۔
یہ رسول اللہ ﷺ کی زبانی ایک سوال ہے اور یہ استفہام انکاری ہے ۔ یہ تنبیہ اس بات پر کی گئی ہے کہ کسی کے لئے یہ کوئی درست رویہ نہیں ہے کہ وہ اپنی زندگی کے معاملات میں سے کسی معاملے میں بھی اللہ کے سوا کسی اور کو حاکم اور فیصلہ کنندہ تسلیم کرے ۔ چناچہ اس طرح اس بات کا فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ اسلامی نظام میں زندگی کے تمام معاملات میں فیصلہ صرف اللہ کے اختیار میں ہوگا اور یہ ایک غیر متنازعہ بات ہے اور اس بات کی ممانعت کردی جاتی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو انسانوں کی زندگیوں میں فیصلے کرنے کا مجاز ہو اور اپنی مرضی کے مطابق وہ ایسا کرتا رہے ۔
(آیت) ” أَفَغَیْْرَ اللّہِ أَبْتَغِیْ حَکَماً “۔ ” کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا تلاش کروں ؟ “
اس کے بعد اس ناگوار احساس کی تفصیل آتی ہے ‘ ان حالات کی تفصیل بھی بیان کردی جاتی ہے جن کی وجہ سے اللہ کے سوا دوسروں کا اقتدار اعلی ایک قابل سرزنش فعل قرار پاتا ہے ۔ اللہ نے ہر چیز کی تفصیلات دے دی ہیں اور اور بندوں کو اس بات کا محتاج نہیں چھوڑا کہ وہ اپنے لئے خود راہ ہدایت تلاش کرتے پھریں ‘ یا اللہ کے سوا کسی دوسری جگہ سے اپنی زندگی کے مسائل کے فیصلے لیں ۔ اور مشکلات حیات کو حل کریں ۔
(آیت) ” وَہُوَ الَّذِیْ أَنَزَلَ إِلَیْْکُمُ الْکِتَابَ مُفَصَّلاً “۔ ‘” حالانکہ اس نے پوری تفصیل کے ساتھ تمہاری طرف کتاب نازل کردی ہے ‘ “۔ یہ کتاب اس لئے نازل کی گئی ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان ان معاملات کے فیصلے کرے جن کے بارے میں ان کے درمیان اختلاف ہو اور یوں اللہ کی حاکمیت اور اقتدار اعلی کا ظہور ہو ۔ پھر اللہ نے یہ کتاب نہایت ہی مفصل طور پر نازل کی ہے ۔ اس میں وہ تمام اصول منضبط کردیئے گئے ہیں جن کے اوپر پورا نظام زندگی استوار ہوگا ۔ اس میں بعض فروعی اور جزئی مسائل بھی بیان کردیئے گئے ہیں جن کے بارے میں اللہ کی مرضی یہ تھی کہ وہ انسانی معاشرے کے لئے دائمی احکام ہوں چاہے وہ معاشرہ جس قدر بھی ترقی یافتہ ہو اور علمی لحاظ سے وہ بہت ہی آگے کیوں نہ بڑھ گیا ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کے ہوتے ہوئے پھر کسی دوسرے پلیٹ فارم سے فیصلہ لینے کی سرے سے ضرورت ہی نہیں رہتی ۔ یہ ہے وہ فیصلہ جو اللہ تعالیٰ نے اپنی اس کتاب کے مقام کے بارے میں کیا ہے ۔ اب اگر کوئی یہ کہتا ہے : ” کہ دنیا ترقی کرچکی ہے اور اب اسے اس کتاب کی طرف رجوع کی ضرورت نہیں ہے تو ہزار بار کہتا پھرے لیکن اسے اس قول کے ساتھ ایک اور بات بھی صاف صاف کہہ دینا چاہئے وہ یہ کہ میں (نعوذ باللہ) کافر ہوں ‘ اس دین اسلام کا منکر ہوں اور اللہ رب العالمین کے اقوال کی تکذیب کرتا ہوں۔
یہاں ان لوگوں کے اردگرد ایک مخصوص صورت حالات بھی موجود ہے ‘ جس کے اندر زندگی کے حالات میں سے …