Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 121–130 of 165

121

وَلَا تَأْكُلُوا۟ مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ ٱسْمُ ٱللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُۥ لَفِسْقٌۭ ۗ وَإِنَّ ٱلشَّيَٰطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰٓ أَوْلِيَآئِهِمْ لِيُجَٰدِلُوكُمْ ۖ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ

اور جس چیز پر خدا کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھاؤ کہ اس کا کھانا گناہ ہے اور شیطان (لوگ) اپنے رفیقوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم لوگ ان کے کہے پر چلے تو بےشک تم بھی مشرک ہوئے

اور مت کھاؤ تم اس (جانور) میں سے کہ نہیں ذکر کیاگیا نام اللہ کا اس پراور یقیناً یہ (کھانا) البتہ فسق ہےاور بلاشبہ شیطان البتہ (شبہات) ڈالتے ہیں طرف اپنے دوستوں کی تاکہ جھگڑا کریں وہ تم سےاور اگر اطاعت کی تم نے ان کی تو یقینا تم بھی البتہ مشرک ہوگے(121)

[121] اس ممانعت میں وہ اشیا بھی داخل ہیں جن پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو ، مثلاً: بتوں اور مشرکین کے معبودوں کے لیے ذبح کرنا۔ اور یہ ممانعت ﴿ اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ ﴾(المائدہ: 5؍3) ’’جس چیز پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے۔‘‘ کی نص کے ذریعے سے خصوصی طور پر حرام ہے۔ اس تحریم میں وہ جانور بھی شامل ہیں جو اللہ کے لیے ذبح کیے گئے ہوں مگر ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا گیا ہو ، مثلاً: قربانی اور ہدی کے جانور کا ذبیحہ یا گوشت کھانے کے لیے جانور ذبح کرنا۔ بہت سے علماء کے نزدیک یہ جانور اس وقت حرام ہو گا جب جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا گیا ہو اور اس عموم سے دوسری نصوص کی بنا پر دفع حرج کی خاطر بھول کر ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام چھوڑنے والا مستثنی ہے۔ اس تحریم میں وہ جانور بھی شامل ہے جو بغیر ذبح کیے مر جاتا ہے کیونکہ اس پر بھی اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیا گیا ہوتا۔ اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر یہ نص بیان فرمائی ہے ﴿ حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةُ ﴾(المائدہ: 5؍3) ’’تم پر مردہ جانور حرام کر دیا گیا ہے‘‘ اور شاید اس فرمان کے نازل ہونے کی وجہ بھی یہی ہے ﴿ وَاِنَّ الشَّيٰطِيۡنَ لَيُوۡحُوۡنَ اِلٰۤى اَوۡلِيِٰٕٓهِمۡ۠ لِيُجَادِلُوۡؔكُمۡ﴾ ’’اور شیطان دل میں ڈالتے ہیں اپنے رفیقوں کے تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں ‘‘ یعنی وہ تمھارے ساتھ بغیر کسی علم کے جھگڑا کریں گے کیونکہ مشرکین نے جب یہ سنا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے مردار کو حرام قرار دے دیا ہے اور جس کو ذبح کیا گیا ہو اس کو حلال قرار دیا ہے اور ان کا مسلک یہ تھا کہ وہ مردار کے کھانے کو حلال سمجھتے تھے، چنانچہ انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے عناد کی بنا پر بغیر کسی دلیل اور برہان کے کہا ’’تم اس جانور کو تو کھا لیتے ہو جسے تم نے خود قتل کیا اور وہ جانور نہیں کھاتے جسے اللہ تعالیٰ نے قتل کیا ہے‘‘ اور اس سے مراد وہ مردار لیتے۔ یہ انتہائی فاسد رائے ہے جو کسی دلیل اور حجت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان کی فاسد آراء کی بنیاد پر قائم کی گئی ہے۔ اگر حق ان کی آراء کا تابع ہوتا تو زمین و آسمان اور ان کے رہنے والے سب فساد کا شکار ہو جاتے، اس لیے ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کے احکام پر، جو کہ مصالح عامہ اور منافع خاصہ کے موافق ہیں ، اس عقل کو مقدم رکھتا ہے۔ اور یہ ان سے کچھ بعید بھی نہیں کیونکہ یہ آراء ان سے اس بنا پر صادر ہوئی ہیں کہ ان کے سرپرست شیاطین ان کو باطل آراء الہام کرتے ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ مخلوق بھٹک کر اپنے دین سے دور ہو جائے اور وہ ان کو دعوت دیتے رہتے ہیں تاکہ وہ جہنمی بن جائیں ﴿ وَاِنۡ اَطَعۡتُمُوۡهُمۡ﴾ ’’اور اگر تم نے ان کی اطاعت کی۔‘‘ یعنی اگر تم نے ان کے شرک، ان کے حرام کو حلال ٹھہرانے اور حلال کو حرام قرار دینے میں ان کی بات مانی ﴿ اِنَّـكُمۡ لَمُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’تو تم بھی مشرک ہوجاؤ گے‘‘ کیونکہ تم نے اللہ کو چھوڑ کر ان کو اپنا سرپرست اور والی بنا لیا ہے اور وہ جس بنیاد پر مسلمانوں سے علیحدہ ہوئے تم نے بھی اس کی موافقت کی اس لیے تمھارا راستہ اور ان کا راستہ ایک ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ وہ کشف و الہامات جو دل میں القاء ہوتے ہیں.... اور یہ کشف و الہام خاص طور پر صوفیہ کے ہاں بہت کثرت سے واقع ہوتے ہیں ۔۔۔ اپنے مجرد الہام ہونے کی بنا پر اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ حق ہیں ۔ اور ان کی اس وقت تک تصدیق نہیں کی جا سکتی جب تک کہ ان کو قرآن و سنت پر پیش نہ کیا جائے۔ اگر قرآن و …

Al-An'aam 6:121Listen in Qur'an →
122

أَوَمَن كَانَ مَيْتًۭا فَأَحْيَيْنَٰهُ وَجَعَلْنَا لَهُۥ نُورًۭا يَمْشِى بِهِۦ فِى ٱلنَّاسِ كَمَن مَّثَلُهُۥ فِى ٱلظُّلُمَٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍۢ مِّنْهَا ۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكَٰفِرِينَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس کے لیے روشنی کر دی جس کے ذریعے سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے کہیں اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو اندھیرے میں پڑا ہوا ہو اور اس سے نکل ہی نہ سکے اسی طرح کافر جو عمل کر رہے ہیں وہ انہیں اچھے معلوم ہوتے ہیں

کیا وہ شخص جو تھا مردہ، پھر زندہ کیا ہم نے اس کو اور بنادیا اس کے لیے نور وہ چلتا ہے اس کے ساتھ لوگوں میں، اس شخص جیسا (ہو سکتا) ہے جو کہ اندھیروں میں ہے، نہیں نکلتا ان سے، اسی طرح مزین کیے گئے کافروں کے لیے وہ (کام) جو تھے وہ کرتے(122) اور اسی طرح بنادیا ہم نے ہر بستی میں بڑے لوگوں کو جرائم پیشہ اس بستی کا تاکہ مکر کریں وہ اس میں اور نہیں مکر کرتے وہ مگر اپنے آپ ہی سےاور نہیں شعور رکھتے وہ(123)اور جب آ تی ہے ان کے پاس نشانی تو کہتے ہیں: ہر گز نہیں ایمان لائیں گے ہم، یہاں تک کہ دیے جائیں ہم مثل اس کے جو دیے گئے اللہ کے رسول، اللہ خوب جانتا ہے جہاں وہ رکھتا ہے اپنی رسالت، عنقریب پہنچے گی ان لوگوں کو جنھوں نے جرم کیے، ذلت اللہ کے ہاں اور شدید عذاب بوجہ اس کے جو تھے وہ مکر کرتے(124)

[122]﴿ اَوَمَنۡ كَانَ﴾ ’’بھلا ایک شخص جو کہ تھا‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہدایت عطا کرنے سے پہلے ﴿ مَيۡتًا ﴾ ’’مردہ‘‘ یعنی کفر، جہالت اور گناہوں کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا ﴿ فَاَحۡيَيۡنٰهُ ﴾ ’’پھر ہم نے اس کو زندہ کیا۔‘‘ پھر ہم نے اسے علم، ایمان اور اطاعت کی روشنی کے ذریعے سے زندہ کر دیا اور وہ اس روشنی میں لوگوں کے درمیان چلتا پھرتا ہو، اپنے امور میں بصیرت سے بہرہ ور ہو، اپنے راستے کو جانتا ہو، بھلائی کی معرفت رکھتا ہو، اسے ترجیح دیتا ہو، اپنے آپ پر اور دوسروں پر اس کے نفاذ کی کوشش کرتا ہو، جو برائی کی معرفت رکھتا ہو اور اسے ناپسند کرتا ہو اور اسے ترک کرنے کی کوشش کرتا ہو اور خود اپنی ذات سے اور دوسروں سے اس برائی کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہو۔۔۔ کیا یہ اس شخص کے برابر ہو سکتا ہے جو جہالت، گمراہی، کفر اور گناہوں کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا ہو؟ ﴿ لَيۡسَ بِخَارِجٍ مِّؔنۡهَا ﴾ ’’وہاں سے نکلنے والا نہ ہو‘‘ اس پر تمام راستے مشتبہ ہو گئے ہوں ، وہ تاریکی کے راستوں میں بھٹک رہا ہو، پس اسے غم و ہموم، حزن اور بدبختی نے گھیر لیا ہو اور ان میں سے نکل نہ سکتا ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے عقل کو ان امور کے ذریعے سے متنبہ کیا ہے جن کا وہ ادراک کر سکتی ہے اور ان کی معرفت رکھتی ہے کہ یہ دونوں قسم کے شخص مساوی نہیں ہو سکتے ہیں ، جیسے رات اور دن، اندھیرا اور اجالا، زندہ اور مردہ برابر نہیں ہوتے۔ گویا یوں کہا گیا ہے کہ وہ شخص جو رتی بھر بھی عقل رکھتا ہے، اس حالت میں رہنے کو کیسے ترجیح دے سکتا ہے اور وہ گمراہی کے اندھیروں میں حیران و سرگرداں کیسے رہ سکتا ہے؟اللہ تعالیٰ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ زُيِّنَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’مزین کر دیے گئے کافروں کی نگاہ میں ان کے کام‘‘ پس شیطان ان کے سامنے ان کے اعمال کو خوشنما بناتا رہتا ہے اور ان کو ان کے دل میں سجاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ یہ اعمال ان کو اچھے لگنے لگ جاتے ہیں اور حق دکھائی دیتے ہیں۔ یہ چیزیں عقیدہ بن کر ان کے دل میں بیٹھ جاتی ہیں اور ان کا وصف راسخ بن کر ان کے کردار میں شامل ہو جاتی ہیں ۔ بنابریں وہ اپنی برائیوں اور قباحتوں پر راضی رہتے ہیں ۔

[123] یہ وہ لوگ ہیں جو اندھیروں میں سرگرداں اور اپنے باطل میں لڑکھڑاتے رہتے ہیں ۔ تاہم ان کی حیثیت ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ کچھ ان میں سے قائدین اور متبوعین ہیں اور کچھ تابع اور پیروکار۔پہلی قسم میں وہ لوگ شامل ہیں جو انتہائی بدبختی کے احوال سے بہرہ یاب ہوئے، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿وَؔكَذٰلِكَ جَعَلۡنَا فِيۡ كُلِّ قَرۡيَةٍ اَكٰبِرَ مُجۡرِمِيۡهَا﴾ ’’اور اسی طرح کیے ہیں ہم نے ہر بستی میں گناہ گاروں کے سردار‘‘ یعنی وہ قائدین اور رؤسا جن کا جرم بہت بڑا اور سرکشی بہت سخت ہوتی ہے ﴿لِيَمۡؔكُرُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’کہ حیلے کیا کریں وہاں ‘‘ یعنی فریب کاری، شیطان کے راستے کی طرف دعوت دینے، انبیا و مرسلین اور ان کے پیروکاروں کے ساتھ قولی و فعلی جنگ و جدل کے ذریعے سے سازشیں کریں …

Al-An'aam 6:122Listen in Qur'an →
123

وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا فِى كُلِّ قَرْيَةٍ أَكَٰبِرَ مُجْرِمِيهَا لِيَمْكُرُوا۟ فِيهَا ۖ وَمَا يَمْكُرُونَ إِلَّا بِأَنفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُونَ

اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں بڑے بڑے مجرم پیدا کئے کہ ان میں مکاریاں کرتے رہیں اور جو مکاریاں یہ کرتے ہیں ان کا نقصان انہیں کو ہے اور (اس سے) بےخبر ہیں

کیا وہ شخص جو تھا مردہ، پھر زندہ کیا ہم نے اس کو اور بنادیا اس کے لیے نور وہ چلتا ہے اس کے ساتھ لوگوں میں، اس شخص جیسا (ہو سکتا) ہے جو کہ اندھیروں میں ہے، نہیں نکلتا ان سے، اسی طرح مزین کیے گئے کافروں کے لیے وہ (کام) جو تھے وہ کرتے(122) اور اسی طرح بنادیا ہم نے ہر بستی میں بڑے لوگوں کو جرائم پیشہ اس بستی کا تاکہ مکر کریں وہ اس میں اور نہیں مکر کرتے وہ مگر اپنے آپ ہی سےاور نہیں شعور رکھتے وہ(123)اور جب آ تی ہے ان کے پاس نشانی تو کہتے ہیں: ہر گز نہیں ایمان لائیں گے ہم، یہاں تک کہ دیے جائیں ہم مثل اس کے جو دیے گئے اللہ کے رسول، اللہ خوب جانتا ہے جہاں وہ رکھتا ہے اپنی رسالت، عنقریب پہنچے گی ان لوگوں کو جنھوں نے جرم کیے، ذلت اللہ کے ہاں اور شدید عذاب بوجہ اس کے جو تھے وہ مکر کرتے(124)

[122]﴿ اَوَمَنۡ كَانَ﴾ ’’بھلا ایک شخص جو کہ تھا‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہدایت عطا کرنے سے پہلے ﴿ مَيۡتًا ﴾ ’’مردہ‘‘ یعنی کفر، جہالت اور گناہوں کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا ﴿ فَاَحۡيَيۡنٰهُ ﴾ ’’پھر ہم نے اس کو زندہ کیا۔‘‘ پھر ہم نے اسے علم، ایمان اور اطاعت کی روشنی کے ذریعے سے زندہ کر دیا اور وہ اس روشنی میں لوگوں کے درمیان چلتا پھرتا ہو، اپنے امور میں بصیرت سے بہرہ ور ہو، اپنے راستے کو جانتا ہو، بھلائی کی معرفت رکھتا ہو، اسے ترجیح دیتا ہو، اپنے آپ پر اور دوسروں پر اس کے نفاذ کی کوشش کرتا ہو، جو برائی کی معرفت رکھتا ہو اور اسے ناپسند کرتا ہو اور اسے ترک کرنے کی کوشش کرتا ہو اور خود اپنی ذات سے اور دوسروں سے اس برائی کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہو۔۔۔ کیا یہ اس شخص کے برابر ہو سکتا ہے جو جہالت، گمراہی، کفر اور گناہوں کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا ہو؟ ﴿ لَيۡسَ بِخَارِجٍ مِّؔنۡهَا ﴾ ’’وہاں سے نکلنے والا نہ ہو‘‘ اس پر تمام راستے مشتبہ ہو گئے ہوں ، وہ تاریکی کے راستوں میں بھٹک رہا ہو، پس اسے غم و ہموم، حزن اور بدبختی نے گھیر لیا ہو اور ان میں سے نکل نہ سکتا ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے عقل کو ان امور کے ذریعے سے متنبہ کیا ہے جن کا وہ ادراک کر سکتی ہے اور ان کی معرفت رکھتی ہے کہ یہ دونوں قسم کے شخص مساوی نہیں ہو سکتے ہیں ، جیسے رات اور دن، اندھیرا اور اجالا، زندہ اور مردہ برابر نہیں ہوتے۔ گویا یوں کہا گیا ہے کہ وہ شخص جو رتی بھر بھی عقل رکھتا ہے، اس حالت میں رہنے کو کیسے ترجیح دے سکتا ہے اور وہ گمراہی کے اندھیروں میں حیران و سرگرداں کیسے رہ سکتا ہے؟اللہ تعالیٰ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ زُيِّنَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’مزین کر دیے گئے کافروں کی نگاہ میں ان کے کام‘‘ پس شیطان ان کے سامنے ان کے اعمال کو خوشنما بناتا رہتا ہے اور ان کو ان کے دل میں سجاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ یہ اعمال ان کو اچھے لگنے لگ جاتے ہیں اور حق دکھائی دیتے ہیں۔ یہ چیزیں عقیدہ بن کر ان کے دل میں بیٹھ جاتی ہیں اور ان کا وصف راسخ بن کر ان کے کردار میں شامل ہو جاتی ہیں ۔ بنابریں وہ اپنی برائیوں اور قباحتوں پر راضی رہتے ہیں ۔

[123] یہ وہ لوگ ہیں جو اندھیروں میں سرگرداں اور اپنے باطل میں لڑکھڑاتے رہتے ہیں ۔ تاہم ان کی حیثیت ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ کچھ ان میں سے قائدین اور متبوعین ہیں اور کچھ تابع اور پیروکار۔پہلی قسم میں وہ لوگ شامل ہیں جو انتہائی بدبختی کے احوال سے بہرہ یاب ہوئے، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿وَؔكَذٰلِكَ جَعَلۡنَا فِيۡ كُلِّ قَرۡيَةٍ اَكٰبِرَ مُجۡرِمِيۡهَا﴾ ’’اور اسی طرح کیے ہیں ہم نے ہر بستی میں گناہ گاروں کے سردار‘‘ یعنی وہ قائدین اور رؤسا جن کا جرم بہت بڑا اور سرکشی بہت سخت ہوتی ہے ﴿لِيَمۡؔكُرُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’کہ حیلے کیا کریں وہاں ‘‘ یعنی فریب کاری، شیطان کے راستے کی طرف دعوت دینے، انبیا و مرسلین اور ان کے پیروکاروں کے ساتھ قولی و فعلی جنگ و جدل کے ذریعے سے سازشیں کریں …

Al-An'aam 6:123Listen in Qur'an →
124

وَإِذَا جَآءَتْهُمْ ءَايَةٌۭ قَالُوا۟ لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَآ أُوتِىَ رُسُلُ ٱللَّهِ ۘ ٱللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُۥ ۗ سَيُصِيبُ ٱلَّذِينَ أَجْرَمُوا۟ صَغَارٌ عِندَ ٱللَّهِ وَعَذَابٌۭ شَدِيدٌۢ بِمَا كَانُوا۟ يَمْكُرُونَ

اور جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ جس طرح کی رسالت خدا کے پیغمبروں کو ملی ہے جب تک اسی طرح کی رسالت ہم کو نہ ملے ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اس کو خدا ہی خوب جانتا ہے کہ (رسالت کا کون سا محل ہے اور) وہ اپنی پیغمبری کسے عنایت فرمائے جو لوگ جرم کرتے ہیں ان کو خدا کے ہاں ذلّت اور عذابِ شدید ہوگا اس لیے کہ مکّاریاں کرتے تھے

کیا وہ شخص جو تھا مردہ، پھر زندہ کیا ہم نے اس کو اور بنادیا اس کے لیے نور وہ چلتا ہے اس کے ساتھ لوگوں میں، اس شخص جیسا (ہو سکتا) ہے جو کہ اندھیروں میں ہے، نہیں نکلتا ان سے، اسی طرح مزین کیے گئے کافروں کے لیے وہ (کام) جو تھے وہ کرتے(122) اور اسی طرح بنادیا ہم نے ہر بستی میں بڑے لوگوں کو جرائم پیشہ اس بستی کا تاکہ مکر کریں وہ اس میں اور نہیں مکر کرتے وہ مگر اپنے آپ ہی سےاور نہیں شعور رکھتے وہ(123)اور جب آ تی ہے ان کے پاس نشانی تو کہتے ہیں: ہر گز نہیں ایمان لائیں گے ہم، یہاں تک کہ دیے جائیں ہم مثل اس کے جو دیے گئے اللہ کے رسول، اللہ خوب جانتا ہے جہاں وہ رکھتا ہے اپنی رسالت، عنقریب پہنچے گی ان لوگوں کو جنھوں نے جرم کیے، ذلت اللہ کے ہاں اور شدید عذاب بوجہ اس کے جو تھے وہ مکر کرتے(124)

[122]﴿ اَوَمَنۡ كَانَ﴾ ’’بھلا ایک شخص جو کہ تھا‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہدایت عطا کرنے سے پہلے ﴿ مَيۡتًا ﴾ ’’مردہ‘‘ یعنی کفر، جہالت اور گناہوں کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا ﴿ فَاَحۡيَيۡنٰهُ ﴾ ’’پھر ہم نے اس کو زندہ کیا۔‘‘ پھر ہم نے اسے علم، ایمان اور اطاعت کی روشنی کے ذریعے سے زندہ کر دیا اور وہ اس روشنی میں لوگوں کے درمیان چلتا پھرتا ہو، اپنے امور میں بصیرت سے بہرہ ور ہو، اپنے راستے کو جانتا ہو، بھلائی کی معرفت رکھتا ہو، اسے ترجیح دیتا ہو، اپنے آپ پر اور دوسروں پر اس کے نفاذ کی کوشش کرتا ہو، جو برائی کی معرفت رکھتا ہو اور اسے ناپسند کرتا ہو اور اسے ترک کرنے کی کوشش کرتا ہو اور خود اپنی ذات سے اور دوسروں سے اس برائی کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہو۔۔۔ کیا یہ اس شخص کے برابر ہو سکتا ہے جو جہالت، گمراہی، کفر اور گناہوں کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا ہو؟ ﴿ لَيۡسَ بِخَارِجٍ مِّؔنۡهَا ﴾ ’’وہاں سے نکلنے والا نہ ہو‘‘ اس پر تمام راستے مشتبہ ہو گئے ہوں ، وہ تاریکی کے راستوں میں بھٹک رہا ہو، پس اسے غم و ہموم، حزن اور بدبختی نے گھیر لیا ہو اور ان میں سے نکل نہ سکتا ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے عقل کو ان امور کے ذریعے سے متنبہ کیا ہے جن کا وہ ادراک کر سکتی ہے اور ان کی معرفت رکھتی ہے کہ یہ دونوں قسم کے شخص مساوی نہیں ہو سکتے ہیں ، جیسے رات اور دن، اندھیرا اور اجالا، زندہ اور مردہ برابر نہیں ہوتے۔ گویا یوں کہا گیا ہے کہ وہ شخص جو رتی بھر بھی عقل رکھتا ہے، اس حالت میں رہنے کو کیسے ترجیح دے سکتا ہے اور وہ گمراہی کے اندھیروں میں حیران و سرگرداں کیسے رہ سکتا ہے؟اللہ تعالیٰ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ زُيِّنَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’مزین کر دیے گئے کافروں کی نگاہ میں ان کے کام‘‘ پس شیطان ان کے سامنے ان کے اعمال کو خوشنما بناتا رہتا ہے اور ان کو ان کے دل میں سجاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ یہ اعمال ان کو اچھے لگنے لگ جاتے ہیں اور حق دکھائی دیتے ہیں۔ یہ چیزیں عقیدہ بن کر ان کے دل میں بیٹھ جاتی ہیں اور ان کا وصف راسخ بن کر ان کے کردار میں شامل ہو جاتی ہیں ۔ بنابریں وہ اپنی برائیوں اور قباحتوں پر راضی رہتے ہیں ۔

[123] یہ وہ لوگ ہیں جو اندھیروں میں سرگرداں اور اپنے باطل میں لڑکھڑاتے رہتے ہیں ۔ تاہم ان کی حیثیت ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ کچھ ان میں سے قائدین اور متبوعین ہیں اور کچھ تابع اور پیروکار۔پہلی قسم میں وہ لوگ شامل ہیں جو انتہائی بدبختی کے احوال سے بہرہ یاب ہوئے، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿وَؔكَذٰلِكَ جَعَلۡنَا فِيۡ كُلِّ قَرۡيَةٍ اَكٰبِرَ مُجۡرِمِيۡهَا﴾ ’’اور اسی طرح کیے ہیں ہم نے ہر بستی میں گناہ گاروں کے سردار‘‘ یعنی وہ قائدین اور رؤسا جن کا جرم بہت بڑا اور سرکشی بہت سخت ہوتی ہے ﴿لِيَمۡؔكُرُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’کہ حیلے کیا کریں وہاں ‘‘ یعنی فریب کاری، شیطان کے راستے کی طرف دعوت دینے، انبیا و مرسلین اور ان کے پیروکاروں کے ساتھ قولی و فعلی جنگ و جدل کے ذریعے سے سازشیں کریں …

Al-An'aam 6:124Listen in Qur'an →
125

فَمَن يُرِدِ ٱللَّهُ أَن يَهْدِيَهُۥ يَشْرَحْ صَدْرَهُۥ لِلْإِسْلَٰمِ ۖ وَمَن يُرِدْ أَن يُضِلَّهُۥ يَجْعَلْ صَدْرَهُۥ ضَيِّقًا حَرَجًۭا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِى ٱلسَّمَآءِ ۚ كَذَٰلِكَ يَجْعَلُ ٱللَّهُ ٱلرِّجْسَ عَلَى ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ

تو جس شخص کو خدا چاہتا ہے کہ ہدایت بخشے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کر دیتا ہے گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے اس طرح خدا ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے عذاب بھیجتا ہے

پس جسے چاہتا ہے اللہ کہ ہدایت دے اسے تو کھول دیتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیےاور جسے وہ چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اسے تو کر دیتا ہے اس کا سینہ تنگ، انتہائی تنگ، گویا کہ وہ چڑھ رہا ہے آسمان میں، اسی طرح کرتا ہے اللہ پلیدی اوپر ان لوگوں کے جو نہیں ایمان لاتے(125)

[125] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کے سامنے بندے کی سعادت و ہدایت اور اس کی شقاوت و ضلالت کی علامات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جس کو اسلام کے لیے انشراح صدر ہو جاتا ہے یعنی اس کا سینہ وسیع ہو جاتا ہے۔ تو دل نور ایمان سے منور اور یقین کے پرتو سے زندہ ہو جاتا ہے اور نفس ایمان پر مطمئن ہو جاتا ہے، نفس نیکی سے محبت کرنے لگتا ہے اور وہ نیکی میں لذت محسوس کرتے ہوئے نیکی کرتا ہے نیکی کو بوجھ نہیں سمجھتا۔ پس یہ اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ہدایت عطا کر دی ہے اور اسے توفیق سے نواز کر سب سے درست راستے پر گامزن کر دیا ہے۔ اور جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کرنے کا ارادہ کر لیتا ہے اس کی علامت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کر دیتا ہے یعنی اس کا سینہ ایمان، علم اور یقین کے لیے بہت تنگ ہو جاتا ہے، اس کا دل شبہات و شہوات کے سمندر میں غرق ہوجاتا ہے، بھلائی اس تک راہ نہیں پا سکتی، نہ بھلائی اور نیکی کے لیے اس کو انشراح صدر حاصل ہوتا ہے۔ گویا وہ سخت تنگی اور شدت میں ہے، گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے، یعنی اسے آسمان پر چڑھنے کا مکلف کیا جارہا ہے جہاں چڑھنے کا اس کے اندر کوئی حیلہ نہیں ۔ یہ ہے ان کے عدم ایمان کا سبب اور یہی وہ چیز ہے جو اس بات کی موجب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر عذاب بھیجے کیونکہ انھوں نے خود اپنے آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور احسان کے دروازے بند کر لیے۔ یہ ایسی میزان ہے جو کبھی خیانت نہیں کرتی اور ایسا راستہ ہے جو کبھی نہیں بدلتا۔ بے شک جو کوئی اللہ کے راستے میں مال عطا کرتا ہے، اللہ سے ڈرتا ہے، نیکی کی تصدیق کرتا ہے تو ہم اس کو آسان راستے ( بھلائی) کی توفیق عطا کر دیتے ہیں اور جو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں بخل کرتا ہے اور بے پروا بنا رہتا ہے اور نیکی کو جھٹلاتا ہے تو ہم اس کو مشکل راستے ( گناہ) پر گامزن کردیتے ہیں ۔

Al-An'aam 6:125Listen in Qur'an →
126

وَهَٰذَا صِرَٰطُ رَبِّكَ مُسْتَقِيمًۭا ۗ قَدْ فَصَّلْنَا ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍۢ يَذَّكَّرُونَ

اور یہی تمہارے پروردگار کا سیدھا رستہ ہے جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لیے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کر دی ہیں

اور یہ ہے راستہ آپ کے رب کا سیدھا، تحقیق مفصل بیان کردیں ہم نے آیات ان لوگوں کے لیے جو نصیحت حاصل کرتے ہیں(126)ان کے لیے ہے گھر سلامتی کا، نزدیک ان کے رب کےاور وہی دوست ہے ان کا بہ سبب اس کے جو تھے وہ عمل کرتے(127)

[126] یعنی آپ کے رب تک اور عزت و تکریم کے گھر تک پہنچانے والا راستہ معتدل راستہ ہے جس کے احکام واضح کر دیے گئے ہیں جس کے قوانین کی تفصیل یہاں بیان کر دی گئی ہے اور خیر کو شر سے ممیز کر دیا گیا۔ یہ تفصیل و توضیح ہر شخص کے لیے نہیں ہے بلکہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو نصیحت پکڑتے ہیں۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو علم رکھتے ہیں ، پھر اپنے علم سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ ان کے لیے بہت بڑی جزا اور خوبصورت اجر تیار کیا گیا ہے۔

[127] اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَهُمۡ دَارُ السَّلٰمِ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ﴾ ’’ان کے لیے سلامتی کا گھر ہے ان کے رب کے ہاں ‘‘ چونکہ جنت ہر عیب، آفت و تکدر اور غم و ہموم جیسی ناخوشگواریوں سے سلامت اور پاک ہے، اس لیے اس کو ’’دار السلام‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ اور اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ جنت کی نعمتیں انتہائی کمال کو پہنچی ہوئی ہوں گی، کہ کوئی ان کا وصف بیان کرنے کی قدرت نہیں رکھتا ہے۔ جنت کے اندر قلب و روح اور بدن کے لیے نعمتوں کے جو سامان ہیں تمنا کرنے والے اس سے بڑھ کر کسی نعمت کی تمنا نہیں کر سکتے۔ اس جنت میں ان کے لیے وہ سب کچھ ہو گا جو ان کے دل چاہیں گے اور جس سے ان کی آنکھوں کو لذت حاصل ہو گی اور وہ اس جنت میں ابد الآباد تک رہیں گے۔ ﴿ وَهُوَ وَلِيُّهُمۡ﴾ ’’وہی ان کا ولی و مددگار ہے‘‘ جو ان کی تدبیر اور تربیت کا مالک ہے، وہ ان کے تمام معاملات میں ان کے ساتھ لطف و کرم سے پیش آتا ہے جو اپنی اطاعت پر ان کی مدد کرتا ہے اور ان کے لیے ہر وہ راستہ آسان کرتا ہے جو انھیں اس کی محبت کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ اور وہ ان کی سرپرستی اپنے ذمے صرف اس لیے لیتا ہے کہ وہ نیک اعمال بجا لاتے اور ایسے کام آگے بھیجتے ہیں جن سے ان کا مقصد اپنے آقا کی رضامندی حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس وہ شخص ہے جس نے اپنے آقا سے روگردانی کی اور اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا رہا تو اللہ تعالیٰ اس پر شیطان مسلط کر دیتا ہے جو اس کا سرپرست بن کر اس کے دین و دنیا کو تباہ کر دیتا ہے۔

Al-An'aam 6:126Listen in Qur'an →
127

۞ لَهُمْ دَارُ ٱلسَّلَٰمِ عِندَ رَبِّهِمْ ۖ وَهُوَ وَلِيُّهُم بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

ان کے لیے ان کے اعمال کے صلے میں پروردگار کے ہاں سلامتی کا گھر ہے اور وہی ان کا دوستدار ہے

اور یہ ہے راستہ آپ کے رب کا سیدھا، تحقیق مفصل بیان کردیں ہم نے آیات ان لوگوں کے لیے جو نصیحت حاصل کرتے ہیں(126)ان کے لیے ہے گھر سلامتی کا، نزدیک ان کے رب کےاور وہی دوست ہے ان کا بہ سبب اس کے جو تھے وہ عمل کرتے(127)

[126] یعنی آپ کے رب تک اور عزت و تکریم کے گھر تک پہنچانے والا راستہ معتدل راستہ ہے جس کے احکام واضح کر دیے گئے ہیں جس کے قوانین کی تفصیل یہاں بیان کر دی گئی ہے اور خیر کو شر سے ممیز کر دیا گیا۔ یہ تفصیل و توضیح ہر شخص کے لیے نہیں ہے بلکہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو نصیحت پکڑتے ہیں۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو علم رکھتے ہیں ، پھر اپنے علم سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ ان کے لیے بہت بڑی جزا اور خوبصورت اجر تیار کیا گیا ہے۔

[127] اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَهُمۡ دَارُ السَّلٰمِ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ﴾ ’’ان کے لیے سلامتی کا گھر ہے ان کے رب کے ہاں ‘‘ چونکہ جنت ہر عیب، آفت و تکدر اور غم و ہموم جیسی ناخوشگواریوں سے سلامت اور پاک ہے، اس لیے اس کو ’’دار السلام‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ اور اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ جنت کی نعمتیں انتہائی کمال کو پہنچی ہوئی ہوں گی، کہ کوئی ان کا وصف بیان کرنے کی قدرت نہیں رکھتا ہے۔ جنت کے اندر قلب و روح اور بدن کے لیے نعمتوں کے جو سامان ہیں تمنا کرنے والے اس سے بڑھ کر کسی نعمت کی تمنا نہیں کر سکتے۔ اس جنت میں ان کے لیے وہ سب کچھ ہو گا جو ان کے دل چاہیں گے اور جس سے ان کی آنکھوں کو لذت حاصل ہو گی اور وہ اس جنت میں ابد الآباد تک رہیں گے۔ ﴿ وَهُوَ وَلِيُّهُمۡ﴾ ’’وہی ان کا ولی و مددگار ہے‘‘ جو ان کی تدبیر اور تربیت کا مالک ہے، وہ ان کے تمام معاملات میں ان کے ساتھ لطف و کرم سے پیش آتا ہے جو اپنی اطاعت پر ان کی مدد کرتا ہے اور ان کے لیے ہر وہ راستہ آسان کرتا ہے جو انھیں اس کی محبت کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ اور وہ ان کی سرپرستی اپنے ذمے صرف اس لیے لیتا ہے کہ وہ نیک اعمال بجا لاتے اور ایسے کام آگے بھیجتے ہیں جن سے ان کا مقصد اپنے آقا کی رضامندی حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس وہ شخص ہے جس نے اپنے آقا سے روگردانی کی اور اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا رہا تو اللہ تعالیٰ اس پر شیطان مسلط کر دیتا ہے جو اس کا سرپرست بن کر اس کے دین و دنیا کو تباہ کر دیتا ہے۔

Al-An'aam 6:127Listen in Qur'an →
128

وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًۭا يَٰمَعْشَرَ ٱلْجِنِّ قَدِ ٱسْتَكْثَرْتُم مِّنَ ٱلْإِنسِ ۖ وَقَالَ أَوْلِيَآؤُهُم مِّنَ ٱلْإِنسِ رَبَّنَا ٱسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍۢ وَبَلَغْنَآ أَجَلَنَا ٱلَّذِىٓ أَجَّلْتَ لَنَا ۚ قَالَ ٱلنَّارُ مَثْوَىٰكُمْ خَٰلِدِينَ فِيهَآ إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُ ۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌۭ

اور جس دن وہ سب (جنّ وانس) کو جمع کرے گا (اور فرمائے گا کہ) اے گروہ جنّات تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کئے تو جو انسانوں میں ان کے دوستدار ہوں گے وہ کہیں گے کہ پروردگار ہم ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے رہے اور (آخر) اس وقت کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا خدا فرمائے گا (اب) تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے ہمیشہ اس میں (جلتے) رہو گے مگر جو خدا چاہے بےشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے

اور جس دن وہ اکٹھا کرے گا ان سب کو، (توفرمائے گا) اے گروہ جنوں کے! تحقیق بہت زیادہ (گمراہ)کیے تھے تم نے انسانوں میں سے اور کہیں گے ان کے دوست انسانوں سے، اے ہمارے رب!فائدہ اٹھایا ہمارے ایک نے دوسرے سےاور پہنچے ہم اس میعاد کوجو مقررفرمائی تھی تو نے ہمارے لیے،(اللہ) فرمائے گا: آگ ہی ٹھکانا ہے تمھارا، ہمیشہ رہوگے(تم)اس میں مگر جو چاہے اللہ، یقینا آپ کا رب حکمت والا ہے خوب جاننے والا(128) او ر اسی طرح مسلط کردیتے ہم بعض ظالموں کو بعض پر، بہ سبب اس کے جو تھے وہ کماتے(129)اے جماعت جنوں اور انسانوں کی! کیا نہیں آئے تھے تمھارے پاس رسول تم میں سے، وہ بیان کرتے تھے تم پر میری آیات اور ڈراتے تھے تمھیں ملاقات سے تمھارے اس دن کی؟ تو وہ کہیں گے!گواہی دیتے ہم اپنے آپ پراور دھوکے میں ڈالے رکھا انھیں زندگانئ دنیا نےاور گواہی دیں گے وہ اپنے آپ پر کہ بے شک وہ تھے کفر کرنے والے (130) یہ (رسول بھیجنا) اس لیے کہ نہیں ہے آپ کا رب ہلاک کرنے والا بستیوں کو ظلم سے جبکہ ان کے باشندے غافل ہوں(131) اور ہر ایک کے درجے ہیں بہ سبب اس کے جو عمل کیے انھوں نے،اور نہیں آپ کا رب غافل اس سے جو وہ عمل کرتے ہیں(132) اور آپ کا رب بے نیاز ہے رحمت والا، اگر وہ چاہے تو لے جائے تمھیں اور جانشین بنا دے بعدتمھارے جنھیں وہ چاہے، جس طرح کہ پیدا فرمایا اس نے تمھیں نسل سے دوسرے لوگوں کی(133) بلاشبہ جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو، یقینا وہ آنے والی ہےاور نہیں تم عاجز کرنے والے(134) کہہ دیجیے، اے میری قوم!عمل کرو تم اپنے مقام پر، بے شک میں عمل کرنے والا ہوں (اپنی جگہ پر) پس عنقریب جان لوگے تم اس شخص کو کہ ہے اس کے لیے (اچھا) انجام آخرت کا، یقینا نہیں فلاح پائیں گے ظالم(135)

[128]﴿ وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا﴾ ’’اور جس دن جمع کرے گا ان سب کو‘‘ یعنی تمام جن و انس کو، ان میں سے جو گمراہ ہوئے اور جنھوں نے دوسروں کو گمراہ کیا۔ اللہ تعالیٰ جنوں کو، جنھوں نے انسانوں کو گمراہ کیا، برائی کو ان کے سامنے مزین کیا اور ارتکاب معاصی میں ان کی مدد کی، زجز و توبیح کرتے ہوئے فرمائے گا ﴿يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ قَدِ اسۡتَكۡثَرۡتُمۡ مِّنَ الۡاِنۡسِ﴾ ’’اے گروہ جنات! تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کیے۔‘‘ یعنی اے جنوں کی جماعت! تم نے انسانوں کو خوب گمراہ کیا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا۔ تم نے کیسے میرے محارم کی خلاف ورزی کی اور میرے رسولوں کے ساتھ عناد رکھنے کی جرأت کی اور تم اللہ تعالیٰ کے خلاف جنگ کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اس کے راستے سے روکنے اور جہنم کے راستے پر دھکیلنے کی کوشش کی؟ آج تم میری لعنت کے حق دار ہو اور تم پر میری ناراضی واجب ہو گئی۔ آج ہم تمھیں ، تمھارے کفر اور دوسروں کو گمراہ کرنے کے مطابق زیادہ عذاب دیں گے۔ آج تمھارے پاس کوئی عذر نہیں جو پیش کر سکو، کوئی ٹھکانا نہیں جہاں تم پناہ لے سکو، کوئی سفارشی نہیں جو تمھاری سفارش کر سکے اور نہ تمھاری پکار ہی سنی جائے گی۔ اس وقت مت پوچھیے کہ ان پر سزا کے کون سے پہاڑ ٹوٹیں گے اور انھیں کون سی رسوائی اور وبال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے کسی عذر کا ذکر نہیں فرمایا۔ رہے ان کے دوست انسان تو وہ عذر پیش کریں گے جسے قبول نہیں کیا جائے گا ﴿ رَبَّنَا اسۡتَمۡتَعَ بَعۡضُنَا بِبَعۡضٍ﴾ ’’اے رب ہمارے! فائدہ اٹھایا ہم میں سے ایک نے دوسرے سے‘‘ یعنی تمام جنوں اور انسانوں نے ایک دوسرے سے خوب فائدہ اٹھایا۔ جنوں نے انسانوں سے اپنی اطاعت، اپنی عبادت اور اپنی تعظیم کروا کے اور ان کی پناہ کی طلب سے فائدہ اٹھایا۔ اور انسان جنوں کی خدمت کے مطابق اپنی اغراض اور شہوات کے حصول میں ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ انسان جنوں کی عبادت کرتے ہیں ، جن ان کی خدمت کرتے ہیں اور ان کی دنیاوی حاجتیں پوری کرتے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ ہم سے بہت ہی …

Al-An'aam 6:128Listen in Qur'an →
129

وَكَذَٰلِكَ نُوَلِّى بَعْضَ ٱلظَّٰلِمِينَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ

اور اسی طرح ہم ظالموں کو ان کے اعمال کے سبب جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے پر مسلط کر دیتے ہیں

اور جس دن وہ اکٹھا کرے گا ان سب کو، (توفرمائے گا) اے گروہ جنوں کے! تحقیق بہت زیادہ (گمراہ)کیے تھے تم نے انسانوں میں سے اور کہیں گے ان کے دوست انسانوں سے، اے ہمارے رب!فائدہ اٹھایا ہمارے ایک نے دوسرے سےاور پہنچے ہم اس میعاد کوجو مقررفرمائی تھی تو نے ہمارے لیے،(اللہ) فرمائے گا: آگ ہی ٹھکانا ہے تمھارا، ہمیشہ رہوگے(تم)اس میں مگر جو چاہے اللہ، یقینا آپ کا رب حکمت والا ہے خوب جاننے والا(128) او ر اسی طرح مسلط کردیتے ہم بعض ظالموں کو بعض پر، بہ سبب اس کے جو تھے وہ کماتے(129)اے جماعت جنوں اور انسانوں کی! کیا نہیں آئے تھے تمھارے پاس رسول تم میں سے، وہ بیان کرتے تھے تم پر میری آیات اور ڈراتے تھے تمھیں ملاقات سے تمھارے اس دن کی؟ تو وہ کہیں گے!گواہی دیتے ہم اپنے آپ پراور دھوکے میں ڈالے رکھا انھیں زندگانئ دنیا نےاور گواہی دیں گے وہ اپنے آپ پر کہ بے شک وہ تھے کفر کرنے والے (130) یہ (رسول بھیجنا) اس لیے کہ نہیں ہے آپ کا رب ہلاک کرنے والا بستیوں کو ظلم سے جبکہ ان کے باشندے غافل ہوں(131) اور ہر ایک کے درجے ہیں بہ سبب اس کے جو عمل کیے انھوں نے،اور نہیں آپ کا رب غافل اس سے جو وہ عمل کرتے ہیں(132) اور آپ کا رب بے نیاز ہے رحمت والا، اگر وہ چاہے تو لے جائے تمھیں اور جانشین بنا دے بعدتمھارے جنھیں وہ چاہے، جس طرح کہ پیدا فرمایا اس نے تمھیں نسل سے دوسرے لوگوں کی(133) بلاشبہ جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو، یقینا وہ آنے والی ہےاور نہیں تم عاجز کرنے والے(134) کہہ دیجیے، اے میری قوم!عمل کرو تم اپنے مقام پر، بے شک میں عمل کرنے والا ہوں (اپنی جگہ پر) پس عنقریب جان لوگے تم اس شخص کو کہ ہے اس کے لیے (اچھا) انجام آخرت کا، یقینا نہیں فلاح پائیں گے ظالم(135)

[128]﴿ وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا﴾ ’’اور جس دن جمع کرے گا ان سب کو‘‘ یعنی تمام جن و انس کو، ان میں سے جو گمراہ ہوئے اور جنھوں نے دوسروں کو گمراہ کیا۔ اللہ تعالیٰ جنوں کو، جنھوں نے انسانوں کو گمراہ کیا، برائی کو ان کے سامنے مزین کیا اور ارتکاب معاصی میں ان کی مدد کی، زجز و توبیح کرتے ہوئے فرمائے گا ﴿يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ قَدِ اسۡتَكۡثَرۡتُمۡ مِّنَ الۡاِنۡسِ﴾ ’’اے گروہ جنات! تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کیے۔‘‘ یعنی اے جنوں کی جماعت! تم نے انسانوں کو خوب گمراہ کیا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا۔ تم نے کیسے میرے محارم کی خلاف ورزی کی اور میرے رسولوں کے ساتھ عناد رکھنے کی جرأت کی اور تم اللہ تعالیٰ کے خلاف جنگ کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اس کے راستے سے روکنے اور جہنم کے راستے پر دھکیلنے کی کوشش کی؟ آج تم میری لعنت کے حق دار ہو اور تم پر میری ناراضی واجب ہو گئی۔ آج ہم تمھیں ، تمھارے کفر اور دوسروں کو گمراہ کرنے کے مطابق زیادہ عذاب دیں گے۔ آج تمھارے پاس کوئی عذر نہیں جو پیش کر سکو، کوئی ٹھکانا نہیں جہاں تم پناہ لے سکو، کوئی سفارشی نہیں جو تمھاری سفارش کر سکے اور نہ تمھاری پکار ہی سنی جائے گی۔ اس وقت مت پوچھیے کہ ان پر سزا کے کون سے پہاڑ ٹوٹیں گے اور انھیں کون سی رسوائی اور وبال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے کسی عذر کا ذکر نہیں فرمایا۔ رہے ان کے دوست انسان تو وہ عذر پیش کریں گے جسے قبول نہیں کیا جائے گا ﴿ رَبَّنَا اسۡتَمۡتَعَ بَعۡضُنَا بِبَعۡضٍ﴾ ’’اے رب ہمارے! فائدہ اٹھایا ہم میں سے ایک نے دوسرے سے‘‘ یعنی تمام جنوں اور انسانوں نے ایک دوسرے سے خوب فائدہ اٹھایا۔ جنوں نے انسانوں سے اپنی اطاعت، اپنی عبادت اور اپنی تعظیم کروا کے اور ان کی پناہ کی طلب سے فائدہ اٹھایا۔ اور انسان جنوں کی خدمت کے مطابق اپنی اغراض اور شہوات کے حصول میں ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ انسان جنوں کی عبادت کرتے ہیں ، جن ان کی خدمت کرتے ہیں اور ان کی دنیاوی حاجتیں پوری کرتے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ ہم سے بہت ہی …

Al-An'aam 6:129Listen in Qur'an →
130

يَٰمَعْشَرَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌۭ مِّنكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ ءَايَٰتِى وَيُنذِرُونَكُمْ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هَٰذَا ۚ قَالُوا۟ شَهِدْنَا عَلَىٰٓ أَنفُسِنَا ۖ وَغَرَّتْهُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا وَشَهِدُوا۟ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا۟ كَٰفِرِينَ

اے جنّوں اور انسانوں کی جماعت کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں آتے رہے جو میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے اور اس دن کے سامنے آموجود ہونے سے ڈراتے تھے وہ کہیں گے کہ (پروردگار) ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے ان لوگوں کو دنیاکی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا اور (اب) خود اپنے اوپر گواہی دی کہ کفر کرتے تھے

اور جس دن وہ اکٹھا کرے گا ان سب کو، (توفرمائے گا) اے گروہ جنوں کے! تحقیق بہت زیادہ (گمراہ)کیے تھے تم نے انسانوں میں سے اور کہیں گے ان کے دوست انسانوں سے، اے ہمارے رب!فائدہ اٹھایا ہمارے ایک نے دوسرے سےاور پہنچے ہم اس میعاد کوجو مقررفرمائی تھی تو نے ہمارے لیے،(اللہ) فرمائے گا: آگ ہی ٹھکانا ہے تمھارا، ہمیشہ رہوگے(تم)اس میں مگر جو چاہے اللہ، یقینا آپ کا رب حکمت والا ہے خوب جاننے والا(128) او ر اسی طرح مسلط کردیتے ہم بعض ظالموں کو بعض پر، بہ سبب اس کے جو تھے وہ کماتے(129)اے جماعت جنوں اور انسانوں کی! کیا نہیں آئے تھے تمھارے پاس رسول تم میں سے، وہ بیان کرتے تھے تم پر میری آیات اور ڈراتے تھے تمھیں ملاقات سے تمھارے اس دن کی؟ تو وہ کہیں گے!گواہی دیتے ہم اپنے آپ پراور دھوکے میں ڈالے رکھا انھیں زندگانئ دنیا نےاور گواہی دیں گے وہ اپنے آپ پر کہ بے شک وہ تھے کفر کرنے والے (130) یہ (رسول بھیجنا) اس لیے کہ نہیں ہے آپ کا رب ہلاک کرنے والا بستیوں کو ظلم سے جبکہ ان کے باشندے غافل ہوں(131) اور ہر ایک کے درجے ہیں بہ سبب اس کے جو عمل کیے انھوں نے،اور نہیں آپ کا رب غافل اس سے جو وہ عمل کرتے ہیں(132) اور آپ کا رب بے نیاز ہے رحمت والا، اگر وہ چاہے تو لے جائے تمھیں اور جانشین بنا دے بعدتمھارے جنھیں وہ چاہے، جس طرح کہ پیدا فرمایا اس نے تمھیں نسل سے دوسرے لوگوں کی(133) بلاشبہ جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو، یقینا وہ آنے والی ہےاور نہیں تم عاجز کرنے والے(134) کہہ دیجیے، اے میری قوم!عمل کرو تم اپنے مقام پر، بے شک میں عمل کرنے والا ہوں (اپنی جگہ پر) پس عنقریب جان لوگے تم اس شخص کو کہ ہے اس کے لیے (اچھا) انجام آخرت کا، یقینا نہیں فلاح پائیں گے ظالم(135)

[128]﴿ وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا﴾ ’’اور جس دن جمع کرے گا ان سب کو‘‘ یعنی تمام جن و انس کو، ان میں سے جو گمراہ ہوئے اور جنھوں نے دوسروں کو گمراہ کیا۔ اللہ تعالیٰ جنوں کو، جنھوں نے انسانوں کو گمراہ کیا، برائی کو ان کے سامنے مزین کیا اور ارتکاب معاصی میں ان کی مدد کی، زجز و توبیح کرتے ہوئے فرمائے گا ﴿يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ قَدِ اسۡتَكۡثَرۡتُمۡ مِّنَ الۡاِنۡسِ﴾ ’’اے گروہ جنات! تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کیے۔‘‘ یعنی اے جنوں کی جماعت! تم نے انسانوں کو خوب گمراہ کیا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا۔ تم نے کیسے میرے محارم کی خلاف ورزی کی اور میرے رسولوں کے ساتھ عناد رکھنے کی جرأت کی اور تم اللہ تعالیٰ کے خلاف جنگ کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اس کے راستے سے روکنے اور جہنم کے راستے پر دھکیلنے کی کوشش کی؟ آج تم میری لعنت کے حق دار ہو اور تم پر میری ناراضی واجب ہو گئی۔ آج ہم تمھیں ، تمھارے کفر اور دوسروں کو گمراہ کرنے کے مطابق زیادہ عذاب دیں گے۔ آج تمھارے پاس کوئی عذر نہیں جو پیش کر سکو، کوئی ٹھکانا نہیں جہاں تم پناہ لے سکو، کوئی سفارشی نہیں جو تمھاری سفارش کر سکے اور نہ تمھاری پکار ہی سنی جائے گی۔ اس وقت مت پوچھیے کہ ان پر سزا کے کون سے پہاڑ ٹوٹیں گے اور انھیں کون سی رسوائی اور وبال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے کسی عذر کا ذکر نہیں فرمایا۔ رہے ان کے دوست انسان تو وہ عذر پیش کریں گے جسے قبول نہیں کیا جائے گا ﴿ رَبَّنَا اسۡتَمۡتَعَ بَعۡضُنَا بِبَعۡضٍ﴾ ’’اے رب ہمارے! فائدہ اٹھایا ہم میں سے ایک نے دوسرے سے‘‘ یعنی تمام جنوں اور انسانوں نے ایک دوسرے سے خوب فائدہ اٹھایا۔ جنوں نے انسانوں سے اپنی اطاعت، اپنی عبادت اور اپنی تعظیم کروا کے اور ان کی پناہ کی طلب سے فائدہ اٹھایا۔ اور انسان جنوں کی خدمت کے مطابق اپنی اغراض اور شہوات کے حصول میں ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ انسان جنوں کی عبادت کرتے ہیں ، جن ان کی خدمت کرتے ہیں اور ان کی دنیاوی حاجتیں پوری کرتے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ ہم سے بہت ہی …

Al-An'aam 6:130Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.