وَلَا تَأْكُلُوا۟ مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ ٱسْمُ ٱللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُۥ لَفِسْقٌۭ ۗ وَإِنَّ ٱلشَّيَٰطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰٓ أَوْلِيَآئِهِمْ لِيُجَٰدِلُوكُمْ ۖ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ
اور جس چیز پر خدا کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھاؤ کہ اس کا کھانا گناہ ہے اور شیطان (لوگ) اپنے رفیقوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم لوگ ان کے کہے پر چلے تو بےشک تم بھی مشرک ہوئے
ذبیحہ پر ترک تسمیہ اور اقوال فقہاء - قول باری ہے ( ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ وانہ لفسق اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھائو، ایسا کرنا فسق ہے) آیت میں اسے جانور کا گوشت کھانے کی ممانعت ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ اس بارے میں فقہا کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب ، امام مالک اور حسن بن صالح کا قول ہے کہ اگر مسلمان ذبح کرتے وقت جان بوجھ کر بسم اللہ نہ پڑھے تو اس کا گوشت نہیں کھایا جائے گا اگر بھول کر بسم اللہ چھوڑ دے تو اس کا گوشت کھالیا جائے گا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ دونوں صورتوں میں گوشت کھالیا جائے گا۔ اوزاعی سے بھی اسی قسم کا قول منقول ہے ۔ جو شخص بھول کر بسم اللہ نہ پڑھے تو ایسے ذبیحہ کے گوشت کے متعلق بھی اختلاف رائے ہے۔ حضرت علی (رض)، حضرت ابن عباس (رض) ، مجاہد، عطاء، سعید بن المسیب، ابن شہاب اور طائوس سے مروی ہے کہ اگر کوئی شخص جانور ذبح کرتے وقت بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو اس کا گوشت کھا لینے میں کوئی حرک نہیں ہے۔ حضرت علی (رض) کا قول ہے کہ ایسا ذبیحہ ملب اسلامیہ کے مطابق ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے کہ مسلمان کے دل میں اللہ کی یاد ہوتی ہے۔ آپ کا یہ قول بھی ہے کہ جس طرح شرک کی صورت میں اللہ کے نام کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا اسی طرح ملت اسلامیہ پر ہوتے ہوئے اللہ کا نام بھول جانے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ عطاء کا قول ہے کہ المسلم ، اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے اس لیے مسلمان کے نام المسلم میں، خود اللہ کا نام کا ذکر موجود ہے، المومن بھی اللہ کا ایک نام ہے اس لیے ذبح کرنے والے کے نام المومن میں اللہ کے نام کا ذکر موجود ہے۔ - ابن عمر (رض) کا خیال - ابو خلاد الصم نے ابن عجلان سے روایت کی ہے، انہوں نے نافع سے کہ حضرت ابن عمر (رض) نے اپنے ایک غلام سے جب و جانور ذبح کرنے لگا، فرمایا ” اللہ کے بندے، بسم اللہ پڑھ لو “ غلام نے جواب دیا ” میں نے پڑھ لیا ہے “۔ حضرت عمر (رض) نے اس سے پھر یہی کہا، اس نے پھر یہی جواب دیا، تیسری دفعہ بھی آپ نے اس سے یہی کہا اور اس نے یہی جواب دییا۔ جب اس نے جانور ذبح کرلیا تو حضرت ابن عمر (رض) نے اس کا گوشت نہیں کھایا۔ یونس بن عبید نے قریش کے ایک آزاد کردہ غلام سے روایت کی ہے ، اس نے اپنے والد سے ، کہ وہ حضرت ابن عمر (رض) کے ایک غلام کے پاس سے گزرے تھے جو ایک قصاب کی دکان پر کھڑا تھا۔ قصاب نے ایک بکری ذبح کی تھی لیکن بسم اللہ پڑھنا بھول گیا تھا ۔ - حضرت ابن عمر (رض) نے اسے وہاں کھڑا کر کے یہ حکم دیا تھا کہ جب کوئی شخص گوشت خریدنے آئے تو اسے میری طرف سے کہہ دینا کہ اس شخص نے بکری درست طریقے سے ذبح نہیں کی ہے اس لیے اس کا گوشت نہ خریدو ۔ شعبہ نے حماد سے روایت کی ہے اور انہوں نے ابراہیم نخعی سے کہ ایک شخص جانور ذبح کرتا ہے لیکن بسم اللہ پڑھنا بھول جاتا ہے تو مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ اس کا گوشت نہ کھایا جائے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت ایسے جانور کے گوشت کی تحریم کی موجب ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو خواہ جان بوجھ کر نہ لیا گیا ہو یا بھول جانے کی بنا پر ایسا ہوا ہو۔ تا ہم ہمارے پاس ایسی دلالت موجود ہے جو یہ نشاندہی کرتی ہے کہ آیت میں نسیان مراد نہیں ہے ۔ یعنی نسیان کی بناء پر اگر بسم اللہ نہ پڑھی جائے تو اس سے گوشت کی حلت پر کوی اثر نہیں پڑتا۔ البتہ جو لوگ جان بوجھ کر بسم اللہ نہ پڑھنے کی صورت میں بھی اس ذبیحہ کے گوشت کی حلت کے قائل ہیں ان کا قول آیت کے خلاف ہے۔ آیت کے حکم پر عمل پیرا ہونے کے لیے ایسے لوگوں کے پاس کوئی صورت باقی نہیں رہ جاتی۔ علاوہ ازیں یہ قول ان تمام آثار و روایات کے خلاف جاتا ہے جس میں شکار اور ذبیحہ پر بسم اللہ پڑھنے کا ایجاب مروی ہے۔ - اگر یہ کہا جائے کہ آیت میں نہی کے حکم سے وہ جانور مراد ہیں جنہیں مشرکین ذبح کرتے تھے اس …