Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 121–130 of 165

121

وَلَا تَأْكُلُوا۟ مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ ٱسْمُ ٱللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُۥ لَفِسْقٌۭ ۗ وَإِنَّ ٱلشَّيَٰطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰٓ أَوْلِيَآئِهِمْ لِيُجَٰدِلُوكُمْ ۖ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ

اور جس چیز پر خدا کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھاؤ کہ اس کا کھانا گناہ ہے اور شیطان (لوگ) اپنے رفیقوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم لوگ ان کے کہے پر چلے تو بےشک تم بھی مشرک ہوئے

ذبیحہ پر ترک تسمیہ اور اقوال فقہاء - قول باری ہے ( ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ وانہ لفسق اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھائو، ایسا کرنا فسق ہے) آیت میں اسے جانور کا گوشت کھانے کی ممانعت ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ اس بارے میں فقہا کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب ، امام مالک اور حسن بن صالح کا قول ہے کہ اگر مسلمان ذبح کرتے وقت جان بوجھ کر بسم اللہ نہ پڑھے تو اس کا گوشت نہیں کھایا جائے گا اگر بھول کر بسم اللہ چھوڑ دے تو اس کا گوشت کھالیا جائے گا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ دونوں صورتوں میں گوشت کھالیا جائے گا۔ اوزاعی سے بھی اسی قسم کا قول منقول ہے ۔ جو شخص بھول کر بسم اللہ نہ پڑھے تو ایسے ذبیحہ کے گوشت کے متعلق بھی اختلاف رائے ہے۔ حضرت علی (رض)، حضرت ابن عباس (رض) ، مجاہد، عطاء، سعید بن المسیب، ابن شہاب اور طائوس سے مروی ہے کہ اگر کوئی شخص جانور ذبح کرتے وقت بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو اس کا گوشت کھا لینے میں کوئی حرک نہیں ہے۔ حضرت علی (رض) کا قول ہے کہ ایسا ذبیحہ ملب اسلامیہ کے مطابق ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے کہ مسلمان کے دل میں اللہ کی یاد ہوتی ہے۔ آپ کا یہ قول بھی ہے کہ جس طرح شرک کی صورت میں اللہ کے نام کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا اسی طرح ملت اسلامیہ پر ہوتے ہوئے اللہ کا نام بھول جانے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ عطاء کا قول ہے کہ المسلم ، اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے اس لیے مسلمان کے نام المسلم میں، خود اللہ کا نام کا ذکر موجود ہے، المومن بھی اللہ کا ایک نام ہے اس لیے ذبح کرنے والے کے نام المومن میں اللہ کے نام کا ذکر موجود ہے۔ - ابن عمر (رض) کا خیال - ابو خلاد الصم نے ابن عجلان سے روایت کی ہے، انہوں نے نافع سے کہ حضرت ابن عمر (رض) نے اپنے ایک غلام سے جب و جانور ذبح کرنے لگا، فرمایا ” اللہ کے بندے، بسم اللہ پڑھ لو “ غلام نے جواب دیا ” میں نے پڑھ لیا ہے “۔ حضرت عمر (رض) نے اس سے پھر یہی کہا، اس نے پھر یہی جواب دیا، تیسری دفعہ بھی آپ نے اس سے یہی کہا اور اس نے یہی جواب دییا۔ جب اس نے جانور ذبح کرلیا تو حضرت ابن عمر (رض) نے اس کا گوشت نہیں کھایا۔ یونس بن عبید نے قریش کے ایک آزاد کردہ غلام سے روایت کی ہے ، اس نے اپنے والد سے ، کہ وہ حضرت ابن عمر (رض) کے ایک غلام کے پاس سے گزرے تھے جو ایک قصاب کی دکان پر کھڑا تھا۔ قصاب نے ایک بکری ذبح کی تھی لیکن بسم اللہ پڑھنا بھول گیا تھا ۔ - حضرت ابن عمر (رض) نے اسے وہاں کھڑا کر کے یہ حکم دیا تھا کہ جب کوئی شخص گوشت خریدنے آئے تو اسے میری طرف سے کہہ دینا کہ اس شخص نے بکری درست طریقے سے ذبح نہیں کی ہے اس لیے اس کا گوشت نہ خریدو ۔ شعبہ نے حماد سے روایت کی ہے اور انہوں نے ابراہیم نخعی سے کہ ایک شخص جانور ذبح کرتا ہے لیکن بسم اللہ پڑھنا بھول جاتا ہے تو مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ اس کا گوشت نہ کھایا جائے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت ایسے جانور کے گوشت کی تحریم کی موجب ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو خواہ جان بوجھ کر نہ لیا گیا ہو یا بھول جانے کی بنا پر ایسا ہوا ہو۔ تا ہم ہمارے پاس ایسی دلالت موجود ہے جو یہ نشاندہی کرتی ہے کہ آیت میں نسیان مراد نہیں ہے ۔ یعنی نسیان کی بناء پر اگر بسم اللہ نہ پڑھی جائے تو اس سے گوشت کی حلت پر کوی اثر نہیں پڑتا۔ البتہ جو لوگ جان بوجھ کر بسم اللہ نہ پڑھنے کی صورت میں بھی اس ذبیحہ کے گوشت کی حلت کے قائل ہیں ان کا قول آیت کے خلاف ہے۔ آیت کے حکم پر عمل پیرا ہونے کے لیے ایسے لوگوں کے پاس کوئی صورت باقی نہیں رہ جاتی۔ علاوہ ازیں یہ قول ان تمام آثار و روایات کے خلاف جاتا ہے جس میں شکار اور ذبیحہ پر بسم اللہ پڑھنے کا ایجاب مروی ہے۔ - اگر یہ کہا جائے کہ آیت میں نہی کے حکم سے وہ جانور مراد ہیں جنہیں مشرکین ذبح کرتے تھے اس …

Al-An'aam 6:121Listen in Qur'an →
122

أَوَمَن كَانَ مَيْتًۭا فَأَحْيَيْنَٰهُ وَجَعَلْنَا لَهُۥ نُورًۭا يَمْشِى بِهِۦ فِى ٱلنَّاسِ كَمَن مَّثَلُهُۥ فِى ٱلظُّلُمَٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍۢ مِّنْهَا ۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكَٰفِرِينَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس کے لیے روشنی کر دی جس کے ذریعے سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے کہیں اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو اندھیرے میں پڑا ہوا ہو اور اس سے نکل ہی نہ سکے اسی طرح کافر جو عمل کر رہے ہیں وہ انہیں اچھے معلوم ہوتے ہیں

Explained together with ayah 121

Al-An'aam 6:122Listen in Qur'an →
123

وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا فِى كُلِّ قَرْيَةٍ أَكَٰبِرَ مُجْرِمِيهَا لِيَمْكُرُوا۟ فِيهَا ۖ وَمَا يَمْكُرُونَ إِلَّا بِأَنفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُونَ

اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں بڑے بڑے مجرم پیدا کئے کہ ان میں مکاریاں کرتے رہیں اور جو مکاریاں یہ کرتے ہیں ان کا نقصان انہیں کو ہے اور (اس سے) بےخبر ہیں

Explained together with ayah 121

Al-An'aam 6:123Listen in Qur'an →
124

وَإِذَا جَآءَتْهُمْ ءَايَةٌۭ قَالُوا۟ لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَآ أُوتِىَ رُسُلُ ٱللَّهِ ۘ ٱللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُۥ ۗ سَيُصِيبُ ٱلَّذِينَ أَجْرَمُوا۟ صَغَارٌ عِندَ ٱللَّهِ وَعَذَابٌۭ شَدِيدٌۢ بِمَا كَانُوا۟ يَمْكُرُونَ

اور جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ جس طرح کی رسالت خدا کے پیغمبروں کو ملی ہے جب تک اسی طرح کی رسالت ہم کو نہ ملے ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اس کو خدا ہی خوب جانتا ہے کہ (رسالت کا کون سا محل ہے اور) وہ اپنی پیغمبری کسے عنایت فرمائے جو لوگ جرم کرتے ہیں ان کو خدا کے ہاں ذلّت اور عذابِ شدید ہوگا اس لیے کہ مکّاریاں کرتے تھے

Explained together with ayah 121

Al-An'aam 6:124Listen in Qur'an →
125

فَمَن يُرِدِ ٱللَّهُ أَن يَهْدِيَهُۥ يَشْرَحْ صَدْرَهُۥ لِلْإِسْلَٰمِ ۖ وَمَن يُرِدْ أَن يُضِلَّهُۥ يَجْعَلْ صَدْرَهُۥ ضَيِّقًا حَرَجًۭا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِى ٱلسَّمَآءِ ۚ كَذَٰلِكَ يَجْعَلُ ٱللَّهُ ٱلرِّجْسَ عَلَى ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ

تو جس شخص کو خدا چاہتا ہے کہ ہدایت بخشے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کر دیتا ہے گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے اس طرح خدا ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے عذاب بھیجتا ہے

Explained together with ayah 121

Al-An'aam 6:125Listen in Qur'an →
126

وَهَٰذَا صِرَٰطُ رَبِّكَ مُسْتَقِيمًۭا ۗ قَدْ فَصَّلْنَا ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍۢ يَذَّكَّرُونَ

اور یہی تمہارے پروردگار کا سیدھا رستہ ہے جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لیے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کر دی ہیں

Explained together with ayah 121

Al-An'aam 6:126Listen in Qur'an →
127

۞ لَهُمْ دَارُ ٱلسَّلَٰمِ عِندَ رَبِّهِمْ ۖ وَهُوَ وَلِيُّهُم بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

ان کے لیے ان کے اعمال کے صلے میں پروردگار کے ہاں سلامتی کا گھر ہے اور وہی ان کا دوستدار ہے

Explained together with ayah 121

Al-An'aam 6:127Listen in Qur'an →
128

وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًۭا يَٰمَعْشَرَ ٱلْجِنِّ قَدِ ٱسْتَكْثَرْتُم مِّنَ ٱلْإِنسِ ۖ وَقَالَ أَوْلِيَآؤُهُم مِّنَ ٱلْإِنسِ رَبَّنَا ٱسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍۢ وَبَلَغْنَآ أَجَلَنَا ٱلَّذِىٓ أَجَّلْتَ لَنَا ۚ قَالَ ٱلنَّارُ مَثْوَىٰكُمْ خَٰلِدِينَ فِيهَآ إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُ ۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌۭ

اور جس دن وہ سب (جنّ وانس) کو جمع کرے گا (اور فرمائے گا کہ) اے گروہ جنّات تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کئے تو جو انسانوں میں ان کے دوستدار ہوں گے وہ کہیں گے کہ پروردگار ہم ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے رہے اور (آخر) اس وقت کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا خدا فرمائے گا (اب) تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے ہمیشہ اس میں (جلتے) رہو گے مگر جو خدا چاہے بےشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے

Explained together with ayah 121

Al-An'aam 6:128Listen in Qur'an →
129

وَكَذَٰلِكَ نُوَلِّى بَعْضَ ٱلظَّٰلِمِينَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ

اور اسی طرح ہم ظالموں کو ان کے اعمال کے سبب جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے پر مسلط کر دیتے ہیں

Explained together with ayah 121

Al-An'aam 6:129Listen in Qur'an →
130

يَٰمَعْشَرَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌۭ مِّنكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ ءَايَٰتِى وَيُنذِرُونَكُمْ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هَٰذَا ۚ قَالُوا۟ شَهِدْنَا عَلَىٰٓ أَنفُسِنَا ۖ وَغَرَّتْهُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا وَشَهِدُوا۟ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا۟ كَٰفِرِينَ

اے جنّوں اور انسانوں کی جماعت کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں آتے رہے جو میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے اور اس دن کے سامنے آموجود ہونے سے ڈراتے تھے وہ کہیں گے کہ (پروردگار) ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے ان لوگوں کو دنیاکی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا اور (اب) خود اپنے اوپر گواہی دی کہ کفر کرتے تھے

Explained together with ayah 121

Al-An'aam 6:130Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.