Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 121–130 of 165

121

وَلَا تَأْكُلُوا۟ مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ ٱسْمُ ٱللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُۥ لَفِسْقٌۭ ۗ وَإِنَّ ٱلشَّيَٰطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰٓ أَوْلِيَآئِهِمْ لِيُجَٰدِلُوكُمْ ۖ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ

اور جس چیز پر خدا کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھاؤ کہ اس کا کھانا گناہ ہے اور شیطان (لوگ) اپنے رفیقوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم لوگ ان کے کہے پر چلے تو بےشک تم بھی مشرک ہوئے

دنیا میں جو کچھ ہے وہ سب ہمارے لیے ’’مالِ غیر‘‘ ہے۔ کیوں کہ سب کا سب خدا کا ہے۔ اس کو اپنے لیے جائز کرنے کی واحد صورت یہ ہے کہ اس کو خدا کے بتائے ہوئے طریقے سے حاصل کیا جائے اور اس کو خدا کے بتائے ہوئے طریقہ سے استعمال کیا جائے ۔ یہی معاملہ جانوروں کا بھی ہے۔

جانورہمارے لیے قیمتی خوراک ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ان کو خوراک بنانے کا حق ہم کو کیسے ملا۔ جانور کو خدا بناتا ہے اور وہی اس کو پرورش کرکے تیار کرتا ہے۔ پھر ہمارے لیے کیسے جائز ہوا کہ ہم اس کو اپنی خوراک بنائیں۔ ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا اسی سوال کا جواب ہے۔ اللہ کا نام لینا کوئی لفظی رسم نہیں۔ یہ دراصل جانور کے اوپر خدا کی مالکانہ حیثیت کو تسلیم کرنا اور اس کے عطیہ پر خدا کا شکر ادا کرنا ہے۔ ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا اسی اعتراف وتشکر کی ایک علامت ہے اور یہی اعتراف وتشکر وہ ’’قیمت‘‘ ہے جس کو ادا کرنے سے مالک کے نزدیک اس کا ایک جانور ہمارے لیے حلال ہوجاتا ہے۔ تاہم جس کو اتفاقی مجبوری پیش آجائے اس کو اس پابندی سے آزاد کردیاگیا ہے۔

جب آدمی حرام وحلال اور جائز وناجائز میں خدا کا حکم چھوڑتا ہے تو اس کے بعد توہمات اس کی جگہ لے لیتے ہیں۔ لوگ توہماتی خیالات کی بنا پر اشیاء کے بارے میں طرح طرح کی رائیں قائم کرلیتے ہیں۔ ان توہمات کے پیچھے کچھ خود ساختہ فلسفے ہوتے ہیں اور ان کی بنیاد پر ان کے کچھ ظواہر قائم ہوتے ہیں۔ جو لوگ اللہ کے فرماں بردار بننا چاہیں ان کے لیے ضروری ہوتاہے کہ ان توہمات کو فکری اور عملی دونوں اعتبار سے مکمل طورپر چھوڑ دیں۔

کھانے پینے اور دوسرے امور میں ہر قوم کا ایک رواجی دین بن جاتا ہے۔ اس رواجی دین کے بارے میں لوگوں کے جذبات بہت شدید ہوتے ہیں۔ کیوں کہ اس کے حق میں اسلاف اور بزرگوں کی تصدیقات شامل رہتی ہیں۔ اس سے ہٹنا بزرگوں کے دین سے ہٹنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ اس لیے جب حق کی دعوت اس رواجی دین سے ٹکراتی ہے تو حق کی دعوت کے خلاف طرح طرح کے اعتراضات كيے جاتے ہیں۔ وقت کے بڑے ایسی خوش کن باتیں نکالتے ہیں جن سے وہ اپنے عوام کو مطمئن کرسکیں کہ تمھارا رواجی دین صحیح اور یہ ’’نیا دین‘‘ بالکل باطل ہے۔ مگر اللہ ہر چیز سے باخبر ہے۔ قیامت میں جب وہ حقیقتوں کو کھولے گا تو ہر آدمی دیکھ لے گا کہ وہ حقیقت کی زمین پر کھڑا تھا یا توہمات کی زمین پر۔

Al-An'aam 6:121Listen in Qur'an →
122

أَوَمَن كَانَ مَيْتًۭا فَأَحْيَيْنَٰهُ وَجَعَلْنَا لَهُۥ نُورًۭا يَمْشِى بِهِۦ فِى ٱلنَّاسِ كَمَن مَّثَلُهُۥ فِى ٱلظُّلُمَٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍۢ مِّنْهَا ۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكَٰفِرِينَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس کے لیے روشنی کر دی جس کے ذریعے سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے کہیں اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو اندھیرے میں پڑا ہوا ہو اور اس سے نکل ہی نہ سکے اسی طرح کافر جو عمل کر رہے ہیں وہ انہیں اچھے معلوم ہوتے ہیں

اللہ کی نظر میں وہ شخص زندہ ہے جس کے سامنے ہدایت کی روشنی آئی اور اس نے اس کو اپنے راستہ کی روشنی بنالیا۔ اس کے مقابلہ میں مردہ وہ ہے جو ہدایت کی روشنی سے محروم ہو کر باطل کے اندھیروں میں بھٹک رہا ہو۔

مُردہ آدمی اوہام وتعصبات کے جال میں اتنا پھنسا ہوا ہوتا ہے کہ سیدھے اور سچے حقائق اس کے ذہن کی گرفت میں نہیں آتے۔ وہ اشیاء کی ماہیت سے اتنا بے خبر ہوتا ہے کہ لفظی بحث اور حقیقی کلام میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی بڑائی کے تصور میں اتنا ڈوبا ہوا ہوتا ہے کہ کسی دوسرے کی طرف سے آئی ہوئی سچائی کا اعتراف کرنا اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے ذہن پر رواجی خیالات کا اتنا غلبہ ہوتا ہے کہ ان سے ہٹ کر کسی اور معیار پر وہ چیزوں کو جانچ نہیں پاتا۔ اپنی ان کمزوریوں کی بنا پر وہ اندھیرے میں بھٹکتا رہتا ہے، بظاہر زندہ ہوتے ہوئے بھی وہ ایک مُردہ انسان بن جاتاہے۔

اس کے برعکس جو شخص ہدایت کے لیے اپنا سینہ کھول دیتا ہے وہ ہر قسم کی نفسیاتی گرہوں سے آزاد ہوجاتا ہے۔ سچائی کو پہچاننے میں اسے ذرا بھی دیر نہیں لگتی۔ الفاظ کے پردے کبھی اس کے لیے حقیقت کا چہرہ دیکھنے میں رکاوٹ نہیں بنتے۔ ذوق اور عادت کے مسائل اس کی زندگی میں کبھی یہ مقام حاصل نهيں کرتے کہ اس کے اور حق کے درمیان حائل ہوجائیں۔ سچائی اس کے لیے ایک ایسی روشن حقیقت بن جاتی ہے جس كو دیکھنے میں اس کی نظر کبھی نہ چوکے اور جس کو پانے کے لیے وہ کبھی سست ثابت نہ ہو۔ وہ خود بھی حق کی روشنی میں چلتا ہے اور دوسروں کو بھی اس میں چلانے کی کوشش کرتا ہے۔

وہ لوگ جو خود ساختہ چیزوں کو خدا کا مذہب بتا کر عوام کا مرجع بنے ہوئے ہوتے ہیں وہ ہر ایسی آواز کے دشمن بن جاتے ہیں جو لوگوں کو سچے دین کی طرف پکارے۔ ایسی ہر آواز ان کو اپنے خلاف بے اعتمادی کی تحریک دکھائی دیتی ہے۔یہ وقت کے بڑے لوگ حق کی دعوت میں ایسے شوشے نکالتے ہیں جس سے وہ عوام کو اس سے متاثر ہونے سے روک سکیں۔ وہ حق کے دلائل کو غلط رخ دے کر عوام کو شبہات میں مبتلا کرتے ہیں۔ حتی کہ بے بنیاد باتوں کے ذریعے داعی کی ذات کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر اس قسم کی کوششیں صرف ان کے جرم کو بڑھاتی ہیں، وہ داعی اور دعوت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں — حق پرست وہ ہے جو حق کو اس وقت دیکھ لے جب کہ اس کے ساتھ دنیوی عظمتیں شامل نہ ہوئی ہوں۔ دنیوی عظمت والے حق کو ماننا دراصل دنیوی عظمتوں کو ماننا ہے نہ کہ خدا کی طرف سے آئے ہوئے حق کو۔

Al-An'aam 6:122Listen in Qur'an →
123

وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا فِى كُلِّ قَرْيَةٍ أَكَٰبِرَ مُجْرِمِيهَا لِيَمْكُرُوا۟ فِيهَا ۖ وَمَا يَمْكُرُونَ إِلَّا بِأَنفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُونَ

اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں بڑے بڑے مجرم پیدا کئے کہ ان میں مکاریاں کرتے رہیں اور جو مکاریاں یہ کرتے ہیں ان کا نقصان انہیں کو ہے اور (اس سے) بےخبر ہیں

اللہ کی نظر میں وہ شخص زندہ ہے جس کے سامنے ہدایت کی روشنی آئی اور اس نے اس کو اپنے راستہ کی روشنی بنالیا۔ اس کے مقابلہ میں مردہ وہ ہے جو ہدایت کی روشنی سے محروم ہو کر باطل کے اندھیروں میں بھٹک رہا ہو۔

مُردہ آدمی اوہام وتعصبات کے جال میں اتنا پھنسا ہوا ہوتا ہے کہ سیدھے اور سچے حقائق اس کے ذہن کی گرفت میں نہیں آتے۔ وہ اشیاء کی ماہیت سے اتنا بے خبر ہوتا ہے کہ لفظی بحث اور حقیقی کلام میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی بڑائی کے تصور میں اتنا ڈوبا ہوا ہوتا ہے کہ کسی دوسرے کی طرف سے آئی ہوئی سچائی کا اعتراف کرنا اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے ذہن پر رواجی خیالات کا اتنا غلبہ ہوتا ہے کہ ان سے ہٹ کر کسی اور معیار پر وہ چیزوں کو جانچ نہیں پاتا۔ اپنی ان کمزوریوں کی بنا پر وہ اندھیرے میں بھٹکتا رہتا ہے، بظاہر زندہ ہوتے ہوئے بھی وہ ایک مُردہ انسان بن جاتاہے۔

اس کے برعکس جو شخص ہدایت کے لیے اپنا سینہ کھول دیتا ہے وہ ہر قسم کی نفسیاتی گرہوں سے آزاد ہوجاتا ہے۔ سچائی کو پہچاننے میں اسے ذرا بھی دیر نہیں لگتی۔ الفاظ کے پردے کبھی اس کے لیے حقیقت کا چہرہ دیکھنے میں رکاوٹ نہیں بنتے۔ ذوق اور عادت کے مسائل اس کی زندگی میں کبھی یہ مقام حاصل نهيں کرتے کہ اس کے اور حق کے درمیان حائل ہوجائیں۔ سچائی اس کے لیے ایک ایسی روشن حقیقت بن جاتی ہے جس كو دیکھنے میں اس کی نظر کبھی نہ چوکے اور جس کو پانے کے لیے وہ کبھی سست ثابت نہ ہو۔ وہ خود بھی حق کی روشنی میں چلتا ہے اور دوسروں کو بھی اس میں چلانے کی کوشش کرتا ہے۔

وہ لوگ جو خود ساختہ چیزوں کو خدا کا مذہب بتا کر عوام کا مرجع بنے ہوئے ہوتے ہیں وہ ہر ایسی آواز کے دشمن بن جاتے ہیں جو لوگوں کو سچے دین کی طرف پکارے۔ ایسی ہر آواز ان کو اپنے خلاف بے اعتمادی کی تحریک دکھائی دیتی ہے۔یہ وقت کے بڑے لوگ حق کی دعوت میں ایسے شوشے نکالتے ہیں جس سے وہ عوام کو اس سے متاثر ہونے سے روک سکیں۔ وہ حق کے دلائل کو غلط رخ دے کر عوام کو شبہات میں مبتلا کرتے ہیں۔ حتی کہ بے بنیاد باتوں کے ذریعے داعی کی ذات کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر اس قسم کی کوششیں صرف ان کے جرم کو بڑھاتی ہیں، وہ داعی اور دعوت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں — حق پرست وہ ہے جو حق کو اس وقت دیکھ لے جب کہ اس کے ساتھ دنیوی عظمتیں شامل نہ ہوئی ہوں۔ دنیوی عظمت والے حق کو ماننا دراصل دنیوی عظمتوں کو ماننا ہے نہ کہ خدا کی طرف سے آئے ہوئے حق کو۔

Al-An'aam 6:123Listen in Qur'an →
124

وَإِذَا جَآءَتْهُمْ ءَايَةٌۭ قَالُوا۟ لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَآ أُوتِىَ رُسُلُ ٱللَّهِ ۘ ٱللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُۥ ۗ سَيُصِيبُ ٱلَّذِينَ أَجْرَمُوا۟ صَغَارٌ عِندَ ٱللَّهِ وَعَذَابٌۭ شَدِيدٌۢ بِمَا كَانُوا۟ يَمْكُرُونَ

اور جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ جس طرح کی رسالت خدا کے پیغمبروں کو ملی ہے جب تک اسی طرح کی رسالت ہم کو نہ ملے ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اس کو خدا ہی خوب جانتا ہے کہ (رسالت کا کون سا محل ہے اور) وہ اپنی پیغمبری کسے عنایت فرمائے جو لوگ جرم کرتے ہیں ان کو خدا کے ہاں ذلّت اور عذابِ شدید ہوگا اس لیے کہ مکّاریاں کرتے تھے

اللہ کی نظر میں وہ شخص زندہ ہے جس کے سامنے ہدایت کی روشنی آئی اور اس نے اس کو اپنے راستہ کی روشنی بنالیا۔ اس کے مقابلہ میں مردہ وہ ہے جو ہدایت کی روشنی سے محروم ہو کر باطل کے اندھیروں میں بھٹک رہا ہو۔

مُردہ آدمی اوہام وتعصبات کے جال میں اتنا پھنسا ہوا ہوتا ہے کہ سیدھے اور سچے حقائق اس کے ذہن کی گرفت میں نہیں آتے۔ وہ اشیاء کی ماہیت سے اتنا بے خبر ہوتا ہے کہ لفظی بحث اور حقیقی کلام میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی بڑائی کے تصور میں اتنا ڈوبا ہوا ہوتا ہے کہ کسی دوسرے کی طرف سے آئی ہوئی سچائی کا اعتراف کرنا اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے ذہن پر رواجی خیالات کا اتنا غلبہ ہوتا ہے کہ ان سے ہٹ کر کسی اور معیار پر وہ چیزوں کو جانچ نہیں پاتا۔ اپنی ان کمزوریوں کی بنا پر وہ اندھیرے میں بھٹکتا رہتا ہے، بظاہر زندہ ہوتے ہوئے بھی وہ ایک مُردہ انسان بن جاتاہے۔

اس کے برعکس جو شخص ہدایت کے لیے اپنا سینہ کھول دیتا ہے وہ ہر قسم کی نفسیاتی گرہوں سے آزاد ہوجاتا ہے۔ سچائی کو پہچاننے میں اسے ذرا بھی دیر نہیں لگتی۔ الفاظ کے پردے کبھی اس کے لیے حقیقت کا چہرہ دیکھنے میں رکاوٹ نہیں بنتے۔ ذوق اور عادت کے مسائل اس کی زندگی میں کبھی یہ مقام حاصل نهيں کرتے کہ اس کے اور حق کے درمیان حائل ہوجائیں۔ سچائی اس کے لیے ایک ایسی روشن حقیقت بن جاتی ہے جس كو دیکھنے میں اس کی نظر کبھی نہ چوکے اور جس کو پانے کے لیے وہ کبھی سست ثابت نہ ہو۔ وہ خود بھی حق کی روشنی میں چلتا ہے اور دوسروں کو بھی اس میں چلانے کی کوشش کرتا ہے۔

وہ لوگ جو خود ساختہ چیزوں کو خدا کا مذہب بتا کر عوام کا مرجع بنے ہوئے ہوتے ہیں وہ ہر ایسی آواز کے دشمن بن جاتے ہیں جو لوگوں کو سچے دین کی طرف پکارے۔ ایسی ہر آواز ان کو اپنے خلاف بے اعتمادی کی تحریک دکھائی دیتی ہے۔یہ وقت کے بڑے لوگ حق کی دعوت میں ایسے شوشے نکالتے ہیں جس سے وہ عوام کو اس سے متاثر ہونے سے روک سکیں۔ وہ حق کے دلائل کو غلط رخ دے کر عوام کو شبہات میں مبتلا کرتے ہیں۔ حتی کہ بے بنیاد باتوں کے ذریعے داعی کی ذات کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر اس قسم کی کوششیں صرف ان کے جرم کو بڑھاتی ہیں، وہ داعی اور دعوت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں — حق پرست وہ ہے جو حق کو اس وقت دیکھ لے جب کہ اس کے ساتھ دنیوی عظمتیں شامل نہ ہوئی ہوں۔ دنیوی عظمت والے حق کو ماننا دراصل دنیوی عظمتوں کو ماننا ہے نہ کہ خدا کی طرف سے آئے ہوئے حق کو۔

Al-An'aam 6:124Listen in Qur'an →
125

فَمَن يُرِدِ ٱللَّهُ أَن يَهْدِيَهُۥ يَشْرَحْ صَدْرَهُۥ لِلْإِسْلَٰمِ ۖ وَمَن يُرِدْ أَن يُضِلَّهُۥ يَجْعَلْ صَدْرَهُۥ ضَيِّقًا حَرَجًۭا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِى ٱلسَّمَآءِ ۚ كَذَٰلِكَ يَجْعَلُ ٱللَّهُ ٱلرِّجْسَ عَلَى ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ

تو جس شخص کو خدا چاہتا ہے کہ ہدایت بخشے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کر دیتا ہے گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے اس طرح خدا ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے عذاب بھیجتا ہے

حق اپنی ذات میں اتنا واضح ہے کہ اس کا سمجھنا کبھی کسی آدمی کے لیے مشکل نہ ہو۔ پھر بھی ہر زمانہ میں بے شمار لوگ حق کی وضاحت کے باوجود حق کو قبول نہیں کرتے۔ اس کی وجہ ان کے اندر کی وہ رکاوٹیں ہیں جو وہ اپنی نفسیات میں پیدا کرلیتے ہیں۔ کوئی اپنے آپ کو مقدس ہستیوں سے اتنا زیادہ وابستہ کرلیتاہے کہ ان کوچھوڑتے ہوئے اس کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ بالکل برباد ہوجائے گا۔ کسی کا حال یہ ہوتا ہے کہ اپنی مصلحتوں کا نظام ٹوٹنے کا اندیشہ اس کے اوپر اتنا زیادہ چھا جاتا ہے کہ اس کے لیے حق کی طرف اقدام کرنا ممکن نہیں رہتا۔ کسی کو نظر آتا ہے کہ حق کو ماننا اپنی بڑائی کے مینار کو اپنے ہاتھ سے ڈھا دینا ہے۔ کسی کو محسوس ہوتا ہے کہ ماحول کے رواج کے خلاف ایک بات کو اگر میں نے مان لیا تو میں سارے ماحول میں اجنبی بن کر رہ جاؤں گا۔ اس طرح کے خیالات آدمی کے اوپر اتنا مسلط ہوجاتے ہیں کہ حق کو ماننا اس کو ایک بے حد مشکل بلندی پرچڑھائی کے ہم معنی نظر آنے لگتاہے جس کو دیکھ کر ہی آدمی کا دل تنگ ہونے لگتا ہے۔

اس کے برعکس، معاملہ ان لوگوں کا ہے جو نفسیاتی پیچیدگیوں میں مبتلا نہیں ہوتے، جو حق کو ہر دوسری چیز سے اعلیٰ سمجھتے ہیں۔ وہ پہلے سچے متلاشی بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس ليے جب حق ان کے سامنے آتا ہے تو بلا تاخیر وہ اس کو پہچان لیتے ہیں اور تمام عذرات اور اندیشوں کو نظر انداز کرکے اس کو قبول کرلیتے ہیں۔

خدا اپنے حق کو نشانیوں (اشاراتی حقائق) کی صورت میں لوگوں کے سامنے لاتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے دلوں میں کمزوریاں ليے ہوئے ہیں وہ ان اشارات کی خود ساختہ تاویل کرکے اپنے لیے اس کو نہ ماننے کا جواز بنا لیتے ہیں۔ اور جن لوگوں کے سینے کھلے ہوتے ہیں وہ اشارات کو ان کی اصل گہرائیوں کے ساتھ پالیتے ہیں اور ان کو اپنے ذہن کی غذا بنا لیتے ہیں۔ ان کی زندگی فی الفور اس سیدھے راستہ پر چل پڑتی ہے جو خدا کی براہِ راست رہنمائی میں طے ہوتا ہے اور بالآخر آدمی کو ابدی کامیابی کے مقام پر پہنچا دیتاہے۔

خدا کے یہاں جو کچھ قیمت ہے وہ عمل کی ہے، نہ کہ کسی اور چیز کی۔ جو شخص عملی طورپر خدا کی فرماں برداری اختیار کرے گا، وہی اس قابل ٹھهرے گا کہ خدا اس کی دست گیری کرے، اور اس کو اپنے سلامتی کے گھر تک پہنچا دے۔ یہ سلامتی کا گھر خدا کی جنت ہے جہاں آدمی ہر قسم کے دکھ ا ور آفت سے محفوظ رہ کر ابدی سکون کی زندگی گزارے گا۔ خدا کی یہ مدد افراد کو ان کے عمل کے مطابق موت کے بعد آنے والی زندگی میں ملے گی۔ لیکن اگر افراد کی قابلِ لحاظ تعداد دنیا میں خدا کی فرماں بردار بن جائے تو ایسی جماعت کو دنیا میں بھی اس کا ایک حصہ دے دیا جاتا ہے۔

Al-An'aam 6:125Listen in Qur'an →
126

وَهَٰذَا صِرَٰطُ رَبِّكَ مُسْتَقِيمًۭا ۗ قَدْ فَصَّلْنَا ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍۢ يَذَّكَّرُونَ

اور یہی تمہارے پروردگار کا سیدھا رستہ ہے جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لیے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کر دی ہیں

حق اپنی ذات میں اتنا واضح ہے کہ اس کا سمجھنا کبھی کسی آدمی کے لیے مشکل نہ ہو۔ پھر بھی ہر زمانہ میں بے شمار لوگ حق کی وضاحت کے باوجود حق کو قبول نہیں کرتے۔ اس کی وجہ ان کے اندر کی وہ رکاوٹیں ہیں جو وہ اپنی نفسیات میں پیدا کرلیتے ہیں۔ کوئی اپنے آپ کو مقدس ہستیوں سے اتنا زیادہ وابستہ کرلیتاہے کہ ان کوچھوڑتے ہوئے اس کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ بالکل برباد ہوجائے گا۔ کسی کا حال یہ ہوتا ہے کہ اپنی مصلحتوں کا نظام ٹوٹنے کا اندیشہ اس کے اوپر اتنا زیادہ چھا جاتا ہے کہ اس کے لیے حق کی طرف اقدام کرنا ممکن نہیں رہتا۔ کسی کو نظر آتا ہے کہ حق کو ماننا اپنی بڑائی کے مینار کو اپنے ہاتھ سے ڈھا دینا ہے۔ کسی کو محسوس ہوتا ہے کہ ماحول کے رواج کے خلاف ایک بات کو اگر میں نے مان لیا تو میں سارے ماحول میں اجنبی بن کر رہ جاؤں گا۔ اس طرح کے خیالات آدمی کے اوپر اتنا مسلط ہوجاتے ہیں کہ حق کو ماننا اس کو ایک بے حد مشکل بلندی پرچڑھائی کے ہم معنی نظر آنے لگتاہے جس کو دیکھ کر ہی آدمی کا دل تنگ ہونے لگتا ہے۔

اس کے برعکس، معاملہ ان لوگوں کا ہے جو نفسیاتی پیچیدگیوں میں مبتلا نہیں ہوتے، جو حق کو ہر دوسری چیز سے اعلیٰ سمجھتے ہیں۔ وہ پہلے سچے متلاشی بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس ليے جب حق ان کے سامنے آتا ہے تو بلا تاخیر وہ اس کو پہچان لیتے ہیں اور تمام عذرات اور اندیشوں کو نظر انداز کرکے اس کو قبول کرلیتے ہیں۔

خدا اپنے حق کو نشانیوں (اشاراتی حقائق) کی صورت میں لوگوں کے سامنے لاتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے دلوں میں کمزوریاں ليے ہوئے ہیں وہ ان اشارات کی خود ساختہ تاویل کرکے اپنے لیے اس کو نہ ماننے کا جواز بنا لیتے ہیں۔ اور جن لوگوں کے سینے کھلے ہوتے ہیں وہ اشارات کو ان کی اصل گہرائیوں کے ساتھ پالیتے ہیں اور ان کو اپنے ذہن کی غذا بنا لیتے ہیں۔ ان کی زندگی فی الفور اس سیدھے راستہ پر چل پڑتی ہے جو خدا کی براہِ راست رہنمائی میں طے ہوتا ہے اور بالآخر آدمی کو ابدی کامیابی کے مقام پر پہنچا دیتاہے۔

خدا کے یہاں جو کچھ قیمت ہے وہ عمل کی ہے، نہ کہ کسی اور چیز کی۔ جو شخص عملی طورپر خدا کی فرماں برداری اختیار کرے گا، وہی اس قابل ٹھهرے گا کہ خدا اس کی دست گیری کرے، اور اس کو اپنے سلامتی کے گھر تک پہنچا دے۔ یہ سلامتی کا گھر خدا کی جنت ہے جہاں آدمی ہر قسم کے دکھ ا ور آفت سے محفوظ رہ کر ابدی سکون کی زندگی گزارے گا۔ خدا کی یہ مدد افراد کو ان کے عمل کے مطابق موت کے بعد آنے والی زندگی میں ملے گی۔ لیکن اگر افراد کی قابلِ لحاظ تعداد دنیا میں خدا کی فرماں بردار بن جائے تو ایسی جماعت کو دنیا میں بھی اس کا ایک حصہ دے دیا جاتا ہے۔

Al-An'aam 6:126Listen in Qur'an →
127

۞ لَهُمْ دَارُ ٱلسَّلَٰمِ عِندَ رَبِّهِمْ ۖ وَهُوَ وَلِيُّهُم بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

ان کے لیے ان کے اعمال کے صلے میں پروردگار کے ہاں سلامتی کا گھر ہے اور وہی ان کا دوستدار ہے

حق اپنی ذات میں اتنا واضح ہے کہ اس کا سمجھنا کبھی کسی آدمی کے لیے مشکل نہ ہو۔ پھر بھی ہر زمانہ میں بے شمار لوگ حق کی وضاحت کے باوجود حق کو قبول نہیں کرتے۔ اس کی وجہ ان کے اندر کی وہ رکاوٹیں ہیں جو وہ اپنی نفسیات میں پیدا کرلیتے ہیں۔ کوئی اپنے آپ کو مقدس ہستیوں سے اتنا زیادہ وابستہ کرلیتاہے کہ ان کوچھوڑتے ہوئے اس کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ بالکل برباد ہوجائے گا۔ کسی کا حال یہ ہوتا ہے کہ اپنی مصلحتوں کا نظام ٹوٹنے کا اندیشہ اس کے اوپر اتنا زیادہ چھا جاتا ہے کہ اس کے لیے حق کی طرف اقدام کرنا ممکن نہیں رہتا۔ کسی کو نظر آتا ہے کہ حق کو ماننا اپنی بڑائی کے مینار کو اپنے ہاتھ سے ڈھا دینا ہے۔ کسی کو محسوس ہوتا ہے کہ ماحول کے رواج کے خلاف ایک بات کو اگر میں نے مان لیا تو میں سارے ماحول میں اجنبی بن کر رہ جاؤں گا۔ اس طرح کے خیالات آدمی کے اوپر اتنا مسلط ہوجاتے ہیں کہ حق کو ماننا اس کو ایک بے حد مشکل بلندی پرچڑھائی کے ہم معنی نظر آنے لگتاہے جس کو دیکھ کر ہی آدمی کا دل تنگ ہونے لگتا ہے۔

اس کے برعکس، معاملہ ان لوگوں کا ہے جو نفسیاتی پیچیدگیوں میں مبتلا نہیں ہوتے، جو حق کو ہر دوسری چیز سے اعلیٰ سمجھتے ہیں۔ وہ پہلے سچے متلاشی بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس ليے جب حق ان کے سامنے آتا ہے تو بلا تاخیر وہ اس کو پہچان لیتے ہیں اور تمام عذرات اور اندیشوں کو نظر انداز کرکے اس کو قبول کرلیتے ہیں۔

خدا اپنے حق کو نشانیوں (اشاراتی حقائق) کی صورت میں لوگوں کے سامنے لاتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے دلوں میں کمزوریاں ليے ہوئے ہیں وہ ان اشارات کی خود ساختہ تاویل کرکے اپنے لیے اس کو نہ ماننے کا جواز بنا لیتے ہیں۔ اور جن لوگوں کے سینے کھلے ہوتے ہیں وہ اشارات کو ان کی اصل گہرائیوں کے ساتھ پالیتے ہیں اور ان کو اپنے ذہن کی غذا بنا لیتے ہیں۔ ان کی زندگی فی الفور اس سیدھے راستہ پر چل پڑتی ہے جو خدا کی براہِ راست رہنمائی میں طے ہوتا ہے اور بالآخر آدمی کو ابدی کامیابی کے مقام پر پہنچا دیتاہے۔

خدا کے یہاں جو کچھ قیمت ہے وہ عمل کی ہے، نہ کہ کسی اور چیز کی۔ جو شخص عملی طورپر خدا کی فرماں برداری اختیار کرے گا، وہی اس قابل ٹھهرے گا کہ خدا اس کی دست گیری کرے، اور اس کو اپنے سلامتی کے گھر تک پہنچا دے۔ یہ سلامتی کا گھر خدا کی جنت ہے جہاں آدمی ہر قسم کے دکھ ا ور آفت سے محفوظ رہ کر ابدی سکون کی زندگی گزارے گا۔ خدا کی یہ مدد افراد کو ان کے عمل کے مطابق موت کے بعد آنے والی زندگی میں ملے گی۔ لیکن اگر افراد کی قابلِ لحاظ تعداد دنیا میں خدا کی فرماں بردار بن جائے تو ایسی جماعت کو دنیا میں بھی اس کا ایک حصہ دے دیا جاتا ہے۔

Al-An'aam 6:127Listen in Qur'an →
128

وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًۭا يَٰمَعْشَرَ ٱلْجِنِّ قَدِ ٱسْتَكْثَرْتُم مِّنَ ٱلْإِنسِ ۖ وَقَالَ أَوْلِيَآؤُهُم مِّنَ ٱلْإِنسِ رَبَّنَا ٱسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍۢ وَبَلَغْنَآ أَجَلَنَا ٱلَّذِىٓ أَجَّلْتَ لَنَا ۚ قَالَ ٱلنَّارُ مَثْوَىٰكُمْ خَٰلِدِينَ فِيهَآ إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُ ۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌۭ

اور جس دن وہ سب (جنّ وانس) کو جمع کرے گا (اور فرمائے گا کہ) اے گروہ جنّات تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کئے تو جو انسانوں میں ان کے دوستدار ہوں گے وہ کہیں گے کہ پروردگار ہم ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے رہے اور (آخر) اس وقت کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا خدا فرمائے گا (اب) تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے ہمیشہ اس میں (جلتے) رہو گے مگر جو خدا چاہے بےشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے

کسی کے گمراہ کرنے سے جب کوئی شخص گمراہ ہوتا ہے تو یہ يک طرفہ معاملہ نہیں ہوتا۔ دونوں اپنی اپنی جگہ یہی سمجھتے ہیں کہ وہ اپنا مقصد پورا کررہے ہیں۔ شیطان جب آدمی کو سبز باغ دکھا کر اپنی طرف لے جاتا ہے تو وہ اپنے اس چیلنج کو صحیح ثابت کرنا چاہتاہے، جو اس نے آغاز تخلیق میں خدا کو دیا تھا کہ میں تیری مخلوق کے بڑے حصہ کو اپنا ہم نوا بنالوں گا(بنی اسرائیل، 17:61 ) دوسری طرف جو لوگ اپنے آپ کو شیطان کے حوالے کرتے ہیں ان کے سامنے بھی واضح مفادات ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ جنوں کے نام پر اپنے سحر کے کاروبار کو فروغ دیتے ہیں یا اپنی شاعری اور کہانت کا رشتہ کسی جنّی استاد سے جوڑ کر عوام کے اوپر اپنی برتری قائم کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ تمام تحریکیں جو شیطانی ترغیبات کے تحت اٹھتی ہیں، ان کا ساتھ دینے والے بھی اسی ليے ان کا ساتھ دیتے ہیں کہ ان کو امید ہوتی ہے کہ اس طرح عوام کے اوپر آسانی کے ساتھ وہ اپنی قیادت قائم کرسکتے ہیں۔ کیوں کہ خدائی پکار کے مقابلہ میں شیطانی نعرے ہمیشہ عوام کی بھیڑ کے لیے زیادہ پرکشش ثابت ہوئے ہیں۔

قیامت میں جب حقیقتوں سے پردہ اٹھایا جائے گا تو یہ بات کھل جائے گی کہ جو لوگ بے راہ ہوئے یا جنھوں نے دوسروں کو بے راہ کیا انھوںنے کسی غلط فہمی کی بنا پر ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ حق کو نظر انداز کرنا تھا، نہ کہ حق سے بے خبر رہنا۔ وہ دنیوی تماشوں سے اوپر نہ اٹھ سکے، وہ وقتی فائدوں کو قربان نہ کرسکے۔ ورنہ خدا نے اپنے خاص بندوں کے ذریعہ جو ہدایت کھولی تھی وہ اتنی واضح تھی کہ کوئی شخص حقیقتِ حال سے بے خبر نہیں رہ سکتا تھا۔ مگر ان کی دنیا پرستی ان کی آنکھوں کا پردہ بن گئی۔ جاننے کے باوجود انھوں نے نہ جانا۔ سننے کے باوجود انھوں نے نہ سنا۔

آخرت میں وہ مصنوعی سہارے ان سے چھن جائیں گے جن کے بل پر وہ حقیقت سے بے پروا بنے ہوئے تھے۔ اس وقت ان کو نظر آجائے گا کہ کس طرح ایسا ہوا کہ حق ان کے سامنے آیا مگر انھوں نے جھوٹے الفاظ بول کر اس کو رد کردیا۔ کس طرح ان کی غلطی ان پر واضح کی گئی مگر خوبصورت تاویل کرکے انھوں نے سمجھا کہ اپنے آپ کو حق بجانب ثابت کرنے میں وہ کامیاب ہوگئے ہیں۔

Al-An'aam 6:128Listen in Qur'an →
129

وَكَذَٰلِكَ نُوَلِّى بَعْضَ ٱلظَّٰلِمِينَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ

اور اسی طرح ہم ظالموں کو ان کے اعمال کے سبب جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے پر مسلط کر دیتے ہیں

کسی کے گمراہ کرنے سے جب کوئی شخص گمراہ ہوتا ہے تو یہ يک طرفہ معاملہ نہیں ہوتا۔ دونوں اپنی اپنی جگہ یہی سمجھتے ہیں کہ وہ اپنا مقصد پورا کررہے ہیں۔ شیطان جب آدمی کو سبز باغ دکھا کر اپنی طرف لے جاتا ہے تو وہ اپنے اس چیلنج کو صحیح ثابت کرنا چاہتاہے، جو اس نے آغاز تخلیق میں خدا کو دیا تھا کہ میں تیری مخلوق کے بڑے حصہ کو اپنا ہم نوا بنالوں گا(بنی اسرائیل، 17:61 ) دوسری طرف جو لوگ اپنے آپ کو شیطان کے حوالے کرتے ہیں ان کے سامنے بھی واضح مفادات ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ جنوں کے نام پر اپنے سحر کے کاروبار کو فروغ دیتے ہیں یا اپنی شاعری اور کہانت کا رشتہ کسی جنّی استاد سے جوڑ کر عوام کے اوپر اپنی برتری قائم کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ تمام تحریکیں جو شیطانی ترغیبات کے تحت اٹھتی ہیں، ان کا ساتھ دینے والے بھی اسی ليے ان کا ساتھ دیتے ہیں کہ ان کو امید ہوتی ہے کہ اس طرح عوام کے اوپر آسانی کے ساتھ وہ اپنی قیادت قائم کرسکتے ہیں۔ کیوں کہ خدائی پکار کے مقابلہ میں شیطانی نعرے ہمیشہ عوام کی بھیڑ کے لیے زیادہ پرکشش ثابت ہوئے ہیں۔

قیامت میں جب حقیقتوں سے پردہ اٹھایا جائے گا تو یہ بات کھل جائے گی کہ جو لوگ بے راہ ہوئے یا جنھوں نے دوسروں کو بے راہ کیا انھوںنے کسی غلط فہمی کی بنا پر ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ حق کو نظر انداز کرنا تھا، نہ کہ حق سے بے خبر رہنا۔ وہ دنیوی تماشوں سے اوپر نہ اٹھ سکے، وہ وقتی فائدوں کو قربان نہ کرسکے۔ ورنہ خدا نے اپنے خاص بندوں کے ذریعہ جو ہدایت کھولی تھی وہ اتنی واضح تھی کہ کوئی شخص حقیقتِ حال سے بے خبر نہیں رہ سکتا تھا۔ مگر ان کی دنیا پرستی ان کی آنکھوں کا پردہ بن گئی۔ جاننے کے باوجود انھوں نے نہ جانا۔ سننے کے باوجود انھوں نے نہ سنا۔

آخرت میں وہ مصنوعی سہارے ان سے چھن جائیں گے جن کے بل پر وہ حقیقت سے بے پروا بنے ہوئے تھے۔ اس وقت ان کو نظر آجائے گا کہ کس طرح ایسا ہوا کہ حق ان کے سامنے آیا مگر انھوں نے جھوٹے الفاظ بول کر اس کو رد کردیا۔ کس طرح ان کی غلطی ان پر واضح کی گئی مگر خوبصورت تاویل کرکے انھوں نے سمجھا کہ اپنے آپ کو حق بجانب ثابت کرنے میں وہ کامیاب ہوگئے ہیں۔

Al-An'aam 6:129Listen in Qur'an →
130

يَٰمَعْشَرَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌۭ مِّنكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ ءَايَٰتِى وَيُنذِرُونَكُمْ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هَٰذَا ۚ قَالُوا۟ شَهِدْنَا عَلَىٰٓ أَنفُسِنَا ۖ وَغَرَّتْهُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا وَشَهِدُوا۟ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا۟ كَٰفِرِينَ

اے جنّوں اور انسانوں کی جماعت کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں آتے رہے جو میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے اور اس دن کے سامنے آموجود ہونے سے ڈراتے تھے وہ کہیں گے کہ (پروردگار) ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے ان لوگوں کو دنیاکی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا اور (اب) خود اپنے اوپر گواہی دی کہ کفر کرتے تھے

کسی کے گمراہ کرنے سے جب کوئی شخص گمراہ ہوتا ہے تو یہ يک طرفہ معاملہ نہیں ہوتا۔ دونوں اپنی اپنی جگہ یہی سمجھتے ہیں کہ وہ اپنا مقصد پورا کررہے ہیں۔ شیطان جب آدمی کو سبز باغ دکھا کر اپنی طرف لے جاتا ہے تو وہ اپنے اس چیلنج کو صحیح ثابت کرنا چاہتاہے، جو اس نے آغاز تخلیق میں خدا کو دیا تھا کہ میں تیری مخلوق کے بڑے حصہ کو اپنا ہم نوا بنالوں گا(بنی اسرائیل، 17:61 ) دوسری طرف جو لوگ اپنے آپ کو شیطان کے حوالے کرتے ہیں ان کے سامنے بھی واضح مفادات ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ جنوں کے نام پر اپنے سحر کے کاروبار کو فروغ دیتے ہیں یا اپنی شاعری اور کہانت کا رشتہ کسی جنّی استاد سے جوڑ کر عوام کے اوپر اپنی برتری قائم کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ تمام تحریکیں جو شیطانی ترغیبات کے تحت اٹھتی ہیں، ان کا ساتھ دینے والے بھی اسی ليے ان کا ساتھ دیتے ہیں کہ ان کو امید ہوتی ہے کہ اس طرح عوام کے اوپر آسانی کے ساتھ وہ اپنی قیادت قائم کرسکتے ہیں۔ کیوں کہ خدائی پکار کے مقابلہ میں شیطانی نعرے ہمیشہ عوام کی بھیڑ کے لیے زیادہ پرکشش ثابت ہوئے ہیں۔

قیامت میں جب حقیقتوں سے پردہ اٹھایا جائے گا تو یہ بات کھل جائے گی کہ جو لوگ بے راہ ہوئے یا جنھوں نے دوسروں کو بے راہ کیا انھوںنے کسی غلط فہمی کی بنا پر ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ حق کو نظر انداز کرنا تھا، نہ کہ حق سے بے خبر رہنا۔ وہ دنیوی تماشوں سے اوپر نہ اٹھ سکے، وہ وقتی فائدوں کو قربان نہ کرسکے۔ ورنہ خدا نے اپنے خاص بندوں کے ذریعہ جو ہدایت کھولی تھی وہ اتنی واضح تھی کہ کوئی شخص حقیقتِ حال سے بے خبر نہیں رہ سکتا تھا۔ مگر ان کی دنیا پرستی ان کی آنکھوں کا پردہ بن گئی۔ جاننے کے باوجود انھوں نے نہ جانا۔ سننے کے باوجود انھوں نے نہ سنا۔

آخرت میں وہ مصنوعی سہارے ان سے چھن جائیں گے جن کے بل پر وہ حقیقت سے بے پروا بنے ہوئے تھے۔ اس وقت ان کو نظر آجائے گا کہ کس طرح ایسا ہوا کہ حق ان کے سامنے آیا مگر انھوں نے جھوٹے الفاظ بول کر اس کو رد کردیا۔ کس طرح ان کی غلطی ان پر واضح کی گئی مگر خوبصورت تاویل کرکے انھوں نے سمجھا کہ اپنے آپ کو حق بجانب ثابت کرنے میں وہ کامیاب ہوگئے ہیں۔

Al-An'aam 6:130Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.