خلاصہ تفسیر - ایسا شخص جو کہ پہلے مردہ (یعنی گمراہ) تھا ہم نے اس کو زندہ (یعنی مسلمان) بنادیا اور ہم نے اس کو ایک ایسا نور (یعنی ایمان) دے دیا کہ وہ اس کو لئے ہوئے آدمیوں میں چلتا پھرتا ہے (یعنی ہر وقت وہ اس کے ساتھ رہتا ہے، جس سے وہ سب مضرتوں سے مثل گمراہی وغیرہ محفوظ اور مامون دبے فکر پھرتا ہے تو) کیا ایسا شخص (بدحالی میں) اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کی حالت یہ ہو کہ وہ (گمراہی کی) تاریکیوں میں (گھرا ہوا) ہے (اور) ان سے نکلنے ہی نہیں پاتا (مراد یہ کہ وہ مسلمان نہیں ہوا، اور اس کا تعجب نہ کیا جاوے کہ کفر پر باوجود اس کے ظلمت ہونے کے وہ کیوں قائم رہا، وجہ یہ کہ جس طرح مومنین کو ان کا ایمان اچھا معلوم ہوتا ہے) اسی طرح کافروں کو ان کے اعمال (کفر وغیرہ) مستحسن معلوم ہوا کرتے ہیں (چنانچہ اسی وجہ سے یہ روسائے مکہ جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مہمل فرمائشیں اور شبہات و مجادلات پیش کرتے رہتے ہیں اپنے کفر کو مستحسن ہی سمجھ کر اس پر مصر ہیں) ۔ - معارف و مسائل - پچھلی آیتوں میں پہلے اس کا ذکر آیا تھا کہ مخالفین اسلام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کے کھلے کھلے معجزات دیکھنے کے باوجود ضد اور ہٹ دھرمی سے نئے نئے معجزات کا مطالبہ کرتے ہیں، اس کے بعد قرآن نے بتلایا کہ اگر یہ لوگ واقعی حق طلب ہوتے تو جو معجزات ان کی آنکھوں کے سامنے آچکے ہیں وہ ان کو راہ حق دکھانے کے لئے کافی سے بھی زیادہ تھے، پھر ان معجزات کا بیان آیا۔- مذکورہ آیت میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن پر ایمان لانے والوں اور کفر و انکار کرنے والوں کے کچھ حالات و خیالات اور دونوں کے نیک و بد انجام کا بیان اور مومن و کافر اور ایمان و کفر کی حقیقت کو مثالوں میں سمجھایا گیا ہے، مومن اور کافر کی مثال زندہ اور مردہ سے اور ایمان و کفر کی مثال روشنی اور اندھیرے سے دی گئی ہے، یہ قرآنی تمثیلات ہیں جن میں کوئی شاعری نہیں ایک حقیقت کا اظہار ہے۔- مومن زندہ ہے اور کافر مردہ - اس تمثیل میں مومن کو زندہ اور کافر کو مردہ بتلایا گیا ہے، وجہ یہ ہے کہ انسان اور حیوانات اور نباتات وغیرہ میں اگرچہ حیات اور زندگی کی قسمیں اور شکلیں مختلف ہیں، لیکن اتنی بات سے کوئی سمجھدار انسان انکار نہیں کرسکتا کہ ان میں سے ہر ایک کی زندگی کسی خاص مقصد کے لئے ہے، اور قدرت نے اس میں اس مقصد کو حاصل کرنے کی پوری اہلیت اور صلاحیت رکھی ہے، ارشاد قرآنی (آیت) اعطی کل شیء خلقہ ثم ھدی۔ میں اسی کا بیان ہے کہ اللہ جل شانہ نے کائنات عالم کی ہر چیز کو پیدا فرمایا اور اس کو جس مقصد کے لئے پیدا فرمایا تھا اس تک پہنچنے کی اس کو پوری ہدایت دیدی، جن کے ماتحت ہر مخلوق اپنے اپنے وظیفہ زندگی اور اپنی اپنی ڈیوٹی کا حق ادا کر رہی ہے، اس عالم میں زمین، پانی اور ہوا اور آگ، اسی طرح آسمانی مخلوقات اور چاند، سورج اور کل ستارے اپنی اپنی ڈیوٹی پوری طرح پہچان کر اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں، اور یہی اداء فرائض ان میں سے ہر چیز کی زندگی کا ثبوت ہے، اور جس وقت جس حال میں ان میں سے کوئی چیز اپنی ڈیوٹی ادا کرنا چھوڑ دے تو وہ زندہ نہیں بلکہ مردہ ہے، پانی اگر اپنا کام پیاس بجھا دینا اور میل کچیل دور کرنا وغیرہ چھوڑ دے تو وہ پانی نہیں کہلائے گا، آگ جلنا اور جلانا چھوڑ دے تو وہ آگ نہیں رہے گی، درخت اور گھاس اگنا اور بڑھنا پھر پھل پھول لانا چھوڑ دے تو وہ درخت اور نبات نہیں رہے گی، کیونکہ اس نے اپنے مقصد زندگی کو چھوڑ دیا، تو وہ ایک بےجان مردہ کی طرح ہوگئی۔- تمام کائنات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ایک انسان جس میں کچھ عقل و شعور ہو اس بات پر غور کرنے کے لئے مجبور ہوگا کہ انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہے اور اس کی ڈیوٹی کیا ہے، اور یہ کہ اگر وہ اپنے مقصد زندگی کو پورا کر رہا ہے، تو وہ زندہ کہلانے کا مستحق ہے، اور اس کو پورا نہیں کرتا …