۞ وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَآ إِلَيْهِمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ ٱلْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَىْءٍۢ قُبُلًۭا مَّا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوٓا۟ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ
اور اگر ہم ان پر فرشتے بھی اتار دیتے اور مردے بھی ان سے گفتگو کرنے لگتے اور ہم سب چیزوں کو ان کے سامنے لا موجود بھی کر دیتے تو بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے اِلّا ماشائالله بات یہ ہے کہ یہ اکثر نادان ہیں
اور قسمیں کھائیں انھوں نے اللہ کی پختہ قسمیں کہ اگر آجائے ان کے پاس(مخصوص) نشانی تو ضرور ایمان لائیں گے وہ اس پر، کہہ دیجیے! یقینا نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں اور تمھیں کون سمجھائے یہ کہ جب وہ نشانی آجائے گی ، وہ ایمان نہیں لائیں گے(109) اور پھیر دیں گے ہم ان کے دل اوران کی آنکھیں ، جیسے نہیں ایمان لائے تھے وہ اس پر پہلی مرتبہ اور چھوڑ دیں گے ہم ان کو ان کی سر کشی میں ، سرگرداں، پھرتے ہوئے(110) اور اگر بلاشبہ ہم نازل کرتے ان کی طرف فرشتے اور کلام کرتے ان سے مُردےاور اکٹھا کر دیتے ہم ان پر ہر چیز کو سامنے، تب بھی نہ تھے وہ کہ ایمان لے آتے مگر یہ کہ چاہتا اللہ لیکن اکثر ان کے جہالت سے کام لیتے ہیں(111)
[109] یعنی محمد رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے مشرکین قسمیں اٹھاتے ہیں ﴿ بِاللّٰهِ جَهۡدَ اَيۡمَانِهِمۡ ﴾ یعنی زور دار اور موکد قسمیں ﴿ لَىِٕنۡ جَآءَتۡهُمۡ اٰيَةٌ ﴾ ’’اگر ان کے پاس کوئی نشانی آ گئی‘‘ جو محمد مصطفیﷺ کی صداقت پر دلالت کرتی ہو ﴿ لَّيُؤۡمِنُنَّ بِهَا ﴾ ’’تو وہ ضرور اس پر ایمان لے آئیں گے‘‘ یہ کلام جو ان سے صادر ہوا اس سے ان کا مقصد طلب ہدایت نہ تھا بلکہ ان کا مقصد تو محض دفع اعتراض اور اس چیز کو قطعی طور پر ٹھکرانا تھا جو انبیا و رسل لے کر آئے ہیں ۔ بلاشبہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی آیات بینات اور واضح دلائل کے ساتھ تائید فرمائی۔ ان دلائل کی طرف التفات کرنے سے اس بات میں ادنیٰ سا شبہ اور اشکال باقی نہیں رہتا کہ جو کچھ آپﷺ لے کر مبعوث ہوئے ہیں وہ صحیح ہے۔ اس کے بعد ان آیات و معجزات کا مطالبہ کرنا محض تعنت ہے جس کا جواب دینا لازم نہیں بلکہ کبھی کبھی ان کو جواب نہ دینا ان کے لیے بہتر ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں اس کی سنت یہ ہے کہ اس کے انبیا و رسل سے معجزات کا مطالبہ کرنے والوں کے پاس جب معجزات آ جاتے ہیں اور وہ ان پر ایمان نہیں لاتے تو ان پر عذاب بھیج دیا جاتاہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُلۡ اِنَّمَا الۡاٰيٰتُ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! کہ نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہی ہے جو جب چاہتا ہے معجزات نازل کرتا ہے اور وہ جب چاہتا ہے روک دیتا ہے۔ میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں ، لہٰذا مجھ سے تمھارا مطالبہ کرنا ظلم اور ایسی چیز کا مطالبہ ہے جس پر مجھے کوئی اختیار نہیں ، تاہم تمھارا مقصود اس سے صرف اس چیز کی توضیح و تصدیق ہے جو میں لایا ہوں جبکہ وہ ثابت شدہ امر ہے۔ بایں ہمہ یہ بھی معلوم نہیں کہ جب ان کے پاس یہ نشانیاں آ جائیں گی تو یہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور ان کی تصدیق کریں گے۔ بلکہ جن کے احوال یہ ہیں کہ وہ غالب طور پر صراط مستقیم پر گامزن ہونے کی توفیق سے محروم ہونے کی و جہ سے ایمان نہیں لاتے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا يُشۡعِرُؔكُمۡ١ۙ اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور تمھیں کیا معلوم کہ جب ان کے پاس نشانیاں آ بھی جائیں ، تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘
[110]﴿ وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم الٹ دیں گے ان کے دل اور ان کی آنکھیں جیسے کہ ایمان نہیں لائے نشانیوں پر پہلی بار اور ہم چھوڑے رکھیں گے ان کو ان کی سرکشی میں بہکتے ہوئے‘‘ یعنی جب ان کے پاس حق کی دعوت دینے والا آیا اور ان پر حجت قائم ہو گئی مگر وہ ایمان نہیں لائے۔ اس پہلی مرتبہ کے انکار کے نتیجے میں ہم ان کو عذاب دیں گے ان کے دلوں کو حق سے پھیر کر، ان کے اور ایمان کے درمیان حائل ہو کر اور صراط مستقیم پر گامزن ہونے کی توفیق سے محروم کرکے۔ یہ بندوں کے ساتھ اس کا عدل اور اس کی حکمت ہے۔ انھوں نے اپنے آپ پر جرم کا ارتکاب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دروازہ کھولا مگر وہ اس میں داخل نہیں ہوئے، اللہ …