Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 111–120 of 165

111

۞ وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَآ إِلَيْهِمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ ٱلْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَىْءٍۢ قُبُلًۭا مَّا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوٓا۟ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ

اور اگر ہم ان پر فرشتے بھی اتار دیتے اور مردے بھی ان سے گفتگو کرنے لگتے اور ہم سب چیزوں کو ان کے سامنے لا موجود بھی کر دیتے تو بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے اِلّا ماشائالله بات یہ ہے کہ یہ اکثر نادان ہیں

اور قسمیں کھائیں انھوں نے اللہ کی پختہ قسمیں کہ اگر آجائے ان کے پاس(مخصوص) نشانی تو ضرور ایمان لائیں گے وہ اس پر، کہہ دیجیے! یقینا نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں اور تمھیں کون سمجھائے یہ کہ جب وہ نشانی آجائے گی ، وہ ایمان نہیں لائیں گے(109) اور پھیر دیں گے ہم ان کے دل اوران کی آنکھیں ، جیسے نہیں ایمان لائے تھے وہ اس پر پہلی مرتبہ اور چھوڑ دیں گے ہم ان کو ان کی سر کشی میں ، سرگرداں، پھرتے ہوئے(110) اور اگر بلاشبہ ہم نازل کرتے ان کی طرف فرشتے اور کلام کرتے ان سے مُردےاور اکٹھا کر دیتے ہم ان پر ہر چیز کو سامنے، تب بھی نہ تھے وہ کہ ایمان لے آتے مگر یہ کہ چاہتا اللہ لیکن اکثر ان کے جہالت سے کام لیتے ہیں(111)

[109] یعنی محمد رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے مشرکین قسمیں اٹھاتے ہیں ﴿ بِاللّٰهِ جَهۡدَ اَيۡمَانِهِمۡ ﴾ یعنی زور دار اور موکد قسمیں ﴿ لَىِٕنۡ جَآءَتۡهُمۡ اٰيَةٌ ﴾ ’’اگر ان کے پاس کوئی نشانی آ گئی‘‘ جو محمد مصطفیﷺ کی صداقت پر دلالت کرتی ہو ﴿ لَّيُؤۡمِنُنَّ بِهَا ﴾ ’’تو وہ ضرور اس پر ایمان لے آئیں گے‘‘ یہ کلام جو ان سے صادر ہوا اس سے ان کا مقصد طلب ہدایت نہ تھا بلکہ ان کا مقصد تو محض دفع اعتراض اور اس چیز کو قطعی طور پر ٹھکرانا تھا جو انبیا و رسل لے کر آئے ہیں ۔ بلاشبہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی آیات بینات اور واضح دلائل کے ساتھ تائید فرمائی۔ ان دلائل کی طرف التفات کرنے سے اس بات میں ادنیٰ سا شبہ اور اشکال باقی نہیں رہتا کہ جو کچھ آپﷺ لے کر مبعوث ہوئے ہیں وہ صحیح ہے۔ اس کے بعد ان آیات و معجزات کا مطالبہ کرنا محض تعنت ہے جس کا جواب دینا لازم نہیں بلکہ کبھی کبھی ان کو جواب نہ دینا ان کے لیے بہتر ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں اس کی سنت یہ ہے کہ اس کے انبیا و رسل سے معجزات کا مطالبہ کرنے والوں کے پاس جب معجزات آ جاتے ہیں اور وہ ان پر ایمان نہیں لاتے تو ان پر عذاب بھیج دیا جاتاہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُلۡ اِنَّمَا الۡاٰيٰتُ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! کہ نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہی ہے جو جب چاہتا ہے معجزات نازل کرتا ہے اور وہ جب چاہتا ہے روک دیتا ہے۔ میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں ، لہٰذا مجھ سے تمھارا مطالبہ کرنا ظلم اور ایسی چیز کا مطالبہ ہے جس پر مجھے کوئی اختیار نہیں ، تاہم تمھارا مقصود اس سے صرف اس چیز کی توضیح و تصدیق ہے جو میں لایا ہوں جبکہ وہ ثابت شدہ امر ہے۔ بایں ہمہ یہ بھی معلوم نہیں کہ جب ان کے پاس یہ نشانیاں آ جائیں گی تو یہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور ان کی تصدیق کریں گے۔ بلکہ جن کے احوال یہ ہیں کہ وہ غالب طور پر صراط مستقیم پر گامزن ہونے کی توفیق سے محروم ہونے کی و جہ سے ایمان نہیں لاتے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا يُشۡعِرُؔكُمۡ١ۙ اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور تمھیں کیا معلوم کہ جب ان کے پاس نشانیاں آ بھی جائیں ، تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘

[110]﴿ وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم الٹ دیں گے ان کے دل اور ان کی آنکھیں جیسے کہ ایمان نہیں لائے نشانیوں پر پہلی بار اور ہم چھوڑے رکھیں گے ان کو ان کی سرکشی میں بہکتے ہوئے‘‘ یعنی جب ان کے پاس حق کی دعوت دینے والا آیا اور ان پر حجت قائم ہو گئی مگر وہ ایمان نہیں لائے۔ اس پہلی مرتبہ کے انکار کے نتیجے میں ہم ان کو عذاب دیں گے ان کے دلوں کو حق سے پھیر کر، ان کے اور ایمان کے درمیان حائل ہو کر اور صراط مستقیم پر گامزن ہونے کی توفیق سے محروم کرکے۔ یہ بندوں کے ساتھ اس کا عدل اور اس کی حکمت ہے۔ انھوں نے اپنے آپ پر جرم کا ارتکاب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دروازہ کھولا مگر وہ اس میں داخل نہیں ہوئے، اللہ …

Al-An'aam 6:111Listen in Qur'an →
112

وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِىٍّ عَدُوًّۭا شَيَٰطِينَ ٱلْإِنسِ وَٱلْجِنِّ يُوحِى بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍۢ زُخْرُفَ ٱلْقَوْلِ غُرُورًۭا ۚ وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ ۖ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ

اور اسی طرح ہم نے شیطان (سیرت) انسانوں اور جنوں کو ہر پیغمبر کا دشمن بنا دیا تھا وہ دھوکا دینے کے لیے ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی باتیں ڈالتے رہتے تھے اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو اور جو کچھ یہ افتراء کرتے ہیں اسے چھوڑ دو

اور اسی طرح بنائے ہم نے ہر نبی کے دشمن، شیطان انسانوں اور جنوں (دونوں) میں سے، ڈالتا ہے ایک ان کا دوسرے کی طرف ملمع کی ہوئی بات، دھوکہ دینے کے لیے اور اگر چاہتا آپ کا رب تو نہ کرتے وہ یہ (کام)، پس چھوڑیے آپ ان کو اور جو وہ افترا باندھتے ہیں(112)اور تاکہ مائل ہو جائیں اس (جھوٹ) کی طرف دل ان کے جو نہیں ایمان لاتے آخرت پراور تا کہ راضی ہوںوہ اس (جھوٹ) سےاور تاکہ کرتے رہیں (برے کام) جو وہ کر رہے ہیں(113)

[112] اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے جس طرح ہم نے آپ کے دشمن بنا دیے جو آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہیں اور آپ سے حسد کرتے ہیں تو یہ ہماری سنت ہے، ہم ہر نبی کے، جس کو ہم مخلوق کی طرف مبعوث کرتے ہیں ، جن اور انسانوں میں سے دشمن مقرر کر دیتے ہیں وہ ان تمام امور کی مخالفت کرتے ہیں جنھیں رسول لے کر آئے ہیں ۔ ﴿ يُوۡحِيۡ بَعۡضُهُمۡ اِلٰى بَعۡضٍ زُخۡرُفَ الۡقَوۡلِ غُرُوۡرًا ﴾ ’’سکھلاتے ہیں وہ ایک دوسرے کو ملمع کی ہوئی باتیں ، فریب دینے کے لیے‘‘ یعنی وہ ایک دوسرے کو ان باطل امور کو سجا کر اور مزین کر کے پیش کرتے ہیں جن کی طرف وہ دعوت دیتے ہیں اور وہ اس کی تعبیرات کو آراستہ کر کے بہترین اسلوب میں پیش کرتے ہیں تاکہ بیوقوف اس سے دھوکہ کھا جائیں اور سیدھے سادے لوگ ان کے سامنے سراطاعت خم کر دیں جو حقائق کا فہم رکھتے ہیں نہ معانی کو سمجھتے ہیں بلکہ خوبصورت الفاظ اور ملمع سازی ان کو اچھی لگتی ہے، پس وہ حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھنے لگتے ہیں ۔

[113] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَلِتَصۡغٰۤى اِلَيۡهِ ﴾ ’’تاکہ اس کی طرف مائل ہوں ۔‘‘ یعنی اس مزین کلام کو سننے کی طرف مائل ہوں ﴿ اَفۡــِٕدَةُ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’ان لوگوں کے دل جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے‘‘ کیونکہ یوم آخرت پر ان کا ایمان نہ رکھنا اور عقل نافع سے ان کا محروم ہونا، ان کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے ﴿ وَلِيَرۡضَوۡهُ ﴾ ’’اور تاکہ وہ اس کو پسند بھی کر لیں ‘‘ یعنی اس کی طرف مائل ہونے کے بعد۔ پس ان کے دل پہلے اس کی طرف مائل ہوتے ہیں پھر ان خوبصورت اور مزین عبارت کو جب دیکھتے ہیں تو ان کو پسند کرنے لگتے ہیں یہ عبارات ان کے دل میں سج جاتی ہیں اور ایک راسخ عقیدہ اور لازم وصف بن جاتی ہیں ، پھر اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان سے اس قسم کے اعمال سرزد ہوتے ہیں یعنی وہ اپنے قول و فعل میں جھوٹ کا ارتکاب کرتے ہیں جو ان عقائد قبیحہ کا لازمہ ہیں پس یہ حال ان شیاطین جن و انس کا ہے جو ان کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں ۔ رہے آخرت پر ایمان رکھنے والے عقل مند اور سنجیدہ لوگ تو وہ ان عبارات سے دھوکہ کھاتے ہیں نہ ان ملمع سازیوں کا شکار ہوتے ہیں ۔ بلکہ ان کی ہمت اور ان کے ارادے حقائق کی معرفت حاصل کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ وہ ان معانی پر نظر رکھتے ہیں جن کی طرف دعوت دینے والے دعوت دیتے ہیں ۔ اگر یہ معانی حق ہیں تو انھیں قبول کر لیتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں خواہ ان کو کم تر عبارات اور غیر وافی الفاظ میں کیوں نہ بیان کیا گیا ہو اور اگر یہ معانی باطل ہیں تو انھیں ان کے قائل کی طرف لوٹا دیتے ہیں خواہ ان کا قائل کوئی بھی ہو اور خواہ ان الفاظ کو ریشم سے بھی زیادہ خوشنما لبادہ اوڑھا دیا گیا ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ ہے کہ اس نے انبیا کرام علیہ السلام کے دشمن بنا دیے اور باطل کے انصار و اعوان مقرر کر دیے جو باطل کی طرف دعوت دیتے ہیں تاکہ اس کے بندوں کی آزمائش اور امتحان ہو سکے اور سچے، جھوٹے، عقل مند اور جاہل، صاحب بصیرت اور اندھے کے درمیان امتیاز ہو سکے اور یہ بھی اس کی حکمت کا حصہ ہے کہ حق و باطل کی اس کشمکش کے اندر حق کی تبیین اور توضیح ہے کیونکہ جب باطل حق کا مقابلہ کرتا ہے تو حق روشن ہو کر اور نکھر کر سامنے آ جاتا ہے۔ تب اس وقت حق کے وہ دلائل اور شواہد واضح ہو …

Al-An'aam 6:112Listen in Qur'an →
113

وَلِتَصْغَىٰٓ إِلَيْهِ أَفْـِٔدَةُ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ وَلِيَرْضَوْهُ وَلِيَقْتَرِفُوا۟ مَا هُم مُّقْتَرِفُونَ

اور (وہ ایسے کام) اس لیے بھی (کرتے تھے) کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل ان کی باتوں پر مائل ہوں اور وہ انہیں پسند کریں اور جو کام وہ کرتے تھے وہ ہی کرنے لگیں

اور اسی طرح بنائے ہم نے ہر نبی کے دشمن، شیطان انسانوں اور جنوں (دونوں) میں سے، ڈالتا ہے ایک ان کا دوسرے کی طرف ملمع کی ہوئی بات، دھوکہ دینے کے لیے اور اگر چاہتا آپ کا رب تو نہ کرتے وہ یہ (کام)، پس چھوڑیے آپ ان کو اور جو وہ افترا باندھتے ہیں(112)اور تاکہ مائل ہو جائیں اس (جھوٹ) کی طرف دل ان کے جو نہیں ایمان لاتے آخرت پراور تا کہ راضی ہوںوہ اس (جھوٹ) سےاور تاکہ کرتے رہیں (برے کام) جو وہ کر رہے ہیں(113)

[112] اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے جس طرح ہم نے آپ کے دشمن بنا دیے جو آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہیں اور آپ سے حسد کرتے ہیں تو یہ ہماری سنت ہے، ہم ہر نبی کے، جس کو ہم مخلوق کی طرف مبعوث کرتے ہیں ، جن اور انسانوں میں سے دشمن مقرر کر دیتے ہیں وہ ان تمام امور کی مخالفت کرتے ہیں جنھیں رسول لے کر آئے ہیں ۔ ﴿ يُوۡحِيۡ بَعۡضُهُمۡ اِلٰى بَعۡضٍ زُخۡرُفَ الۡقَوۡلِ غُرُوۡرًا ﴾ ’’سکھلاتے ہیں وہ ایک دوسرے کو ملمع کی ہوئی باتیں ، فریب دینے کے لیے‘‘ یعنی وہ ایک دوسرے کو ان باطل امور کو سجا کر اور مزین کر کے پیش کرتے ہیں جن کی طرف وہ دعوت دیتے ہیں اور وہ اس کی تعبیرات کو آراستہ کر کے بہترین اسلوب میں پیش کرتے ہیں تاکہ بیوقوف اس سے دھوکہ کھا جائیں اور سیدھے سادے لوگ ان کے سامنے سراطاعت خم کر دیں جو حقائق کا فہم رکھتے ہیں نہ معانی کو سمجھتے ہیں بلکہ خوبصورت الفاظ اور ملمع سازی ان کو اچھی لگتی ہے، پس وہ حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھنے لگتے ہیں ۔

[113] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَلِتَصۡغٰۤى اِلَيۡهِ ﴾ ’’تاکہ اس کی طرف مائل ہوں ۔‘‘ یعنی اس مزین کلام کو سننے کی طرف مائل ہوں ﴿ اَفۡــِٕدَةُ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’ان لوگوں کے دل جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے‘‘ کیونکہ یوم آخرت پر ان کا ایمان نہ رکھنا اور عقل نافع سے ان کا محروم ہونا، ان کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے ﴿ وَلِيَرۡضَوۡهُ ﴾ ’’اور تاکہ وہ اس کو پسند بھی کر لیں ‘‘ یعنی اس کی طرف مائل ہونے کے بعد۔ پس ان کے دل پہلے اس کی طرف مائل ہوتے ہیں پھر ان خوبصورت اور مزین عبارت کو جب دیکھتے ہیں تو ان کو پسند کرنے لگتے ہیں یہ عبارات ان کے دل میں سج جاتی ہیں اور ایک راسخ عقیدہ اور لازم وصف بن جاتی ہیں ، پھر اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان سے اس قسم کے اعمال سرزد ہوتے ہیں یعنی وہ اپنے قول و فعل میں جھوٹ کا ارتکاب کرتے ہیں جو ان عقائد قبیحہ کا لازمہ ہیں پس یہ حال ان شیاطین جن و انس کا ہے جو ان کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں ۔ رہے آخرت پر ایمان رکھنے والے عقل مند اور سنجیدہ لوگ تو وہ ان عبارات سے دھوکہ کھاتے ہیں نہ ان ملمع سازیوں کا شکار ہوتے ہیں ۔ بلکہ ان کی ہمت اور ان کے ارادے حقائق کی معرفت حاصل کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ وہ ان معانی پر نظر رکھتے ہیں جن کی طرف دعوت دینے والے دعوت دیتے ہیں ۔ اگر یہ معانی حق ہیں تو انھیں قبول کر لیتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں خواہ ان کو کم تر عبارات اور غیر وافی الفاظ میں کیوں نہ بیان کیا گیا ہو اور اگر یہ معانی باطل ہیں تو انھیں ان کے قائل کی طرف لوٹا دیتے ہیں خواہ ان کا قائل کوئی بھی ہو اور خواہ ان الفاظ کو ریشم سے بھی زیادہ خوشنما لبادہ اوڑھا دیا گیا ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ ہے کہ اس نے انبیا کرام علیہ السلام کے دشمن بنا دیے اور باطل کے انصار و اعوان مقرر کر دیے جو باطل کی طرف دعوت دیتے ہیں تاکہ اس کے بندوں کی آزمائش اور امتحان ہو سکے اور سچے، جھوٹے، عقل مند اور جاہل، صاحب بصیرت اور اندھے کے درمیان امتیاز ہو سکے اور یہ بھی اس کی حکمت کا حصہ ہے کہ حق و باطل کی اس کشمکش کے اندر حق کی تبیین اور توضیح ہے کیونکہ جب باطل حق کا مقابلہ کرتا ہے تو حق روشن ہو کر اور نکھر کر سامنے آ جاتا ہے۔ تب اس وقت حق کے وہ دلائل اور شواہد واضح ہو …

Al-An'aam 6:113Listen in Qur'an →
114

أَفَغَيْرَ ٱللَّهِ أَبْتَغِى حَكَمًۭا وَهُوَ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ إِلَيْكُمُ ٱلْكِتَٰبَ مُفَصَّلًۭا ۚ وَٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ يَعْلَمُونَ أَنَّهُۥ مُنَزَّلٌۭ مِّن رَّبِّكَ بِٱلْحَقِّ ۖ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُمْتَرِينَ

(کہو) کیا میں خدا کے سوا اور منصف تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہاری طرف واضع المطالب کتاب بھیجی ہے اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب (تورات) دی ہے وہ جانتے ہیں کہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق نازل ہوئی ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا

کیا پس اللہ کے سوا تلاش کروں میں کوئی حاکم؟ حالانکہ وہی ہے جس نے نازل کی ہے تمھاری طر ف یہ کتاب مفصل،اور وہ لوگ کہ دی ہم نے انھیں کتاب، جانتے ہیں وہ اس بات کو کہ بلاشبہ وہ نازل شدہ ہے آپ کے رب کی طرف سے ساتھ حق کے، پس نہ ہوں آپ شک کرنے والوں سے(114) اور مکمل ہے بات آپ کے رب کی صدق اور عدل میں، نہیں ہے کوئی تبدیل کرنے والا اس کی باتوں کو اور وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (115)

[114] یعنی اے رسولﷺ! ان سے کہہ دیجیے ﴿ اَفَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡتَغِيۡ حَكَمًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا کوئی منصف تلاش کروں ‘‘ اور اس کے پاس اپنے فیصلے لے کر جاؤں اور اس کے اوامر و نواہی کی پابندی کروں ؟ کیونکہ غیر اللہ حاکم نہیں محکوم ہوتا ہے اور مخلوق کے لیے ہر تدبیر اور ہر فیصلہ نقص، عیب اور ظلم و جور پر مشتمل ہوتا ہے اور جسے حاکم بنانا واجب ہے، وہ صرف اللہ وحدہ لا شریک لہ کی ذات ہے جو خلق و امر کی مالک ہے۔ ﴿ وَّهُوَ الَّذِيۡۤ اَنۡزَلَ اِلَيۡكُمُ الۡكِتٰبَ مُفَصَّلًا﴾ ’’حالانکہ اسی نے اتاری ہے تم پر کتاب واضح‘‘ یعنی جس میں حلال و حرام، احکام شریعت اور دین کے اصول و فروع واضح کیے گئے ہیں ، اس کی توضیح سے بڑھ کر کوئی توضیح نہیں ، اس کی دلیل سے روشن کوئی دلیل نہیں ، اس کے فیصلے سے اچھا کوئی فیصلہ نہیں اور اس کی بات سے زیادہ درست کسی کی بات نہیں کیونکہ اس کے احکام حکمت و رحمت پر مشتمل ہیں ۔ کتب سابقہ کے حاملین یہود و نصاریٰ اس حقیقت کو پہچانتے ہیں ﴿ يَعۡلَمُوۡنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنۡ رَّبِّكَ بِالۡحَقِّ﴾ ’’اور جانتے ہیں کہ وہ آپ کے رب کی طرف سے ٹھیک نازل ہوئی ہے‘‘ اسی لیے اخبار سابقہ اس کی موافقت کرتی ہیں ﴿ فَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِيۡنَ﴾ پس آپ اس بارے میں شک و شبہ میں مبتلا نہ ہوں ۔

[115] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدۡقًا وَّعَدۡلًا﴾ ’’اور آپ کے رب کی بات پوری سچی ہے اور انصاف کی‘‘ یعنی خبر میں صداقت اور اوامر و نواہی میں عدل ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کتاب عزیز میں جو خبریں بیان کی ہیں ان سے سچی کوئی خبر نہیں اور اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی سے بڑھ کر کسی حکم میں عدل و انصاف نہیں ۔ ﴿ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ﴾ ’’اس کی بات کو کوئی بدلنے والا نہیں ‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت فرمائی ہے اور صدق کی مختلف انواع اور حق کے ذریعے سے ان کو محکم کیا ہے، اس لیے ان میں تغیر و تبدل کرنا ممکن نہیں اور نہ اس سے زیادہ خوبصورت کلام وجود میں لایا جا سکتا ہے ﴿وَهُوَ السَّمِيۡعُ ﴾ ’’اور وہ سنتا ہے‘‘ وہ مختلف زبانوں اور متفرق حاجتوں پر مبنی تمام آوازوں کو سن سکتا ہے ﴿الۡعَلِيۡمُ﴾ ’’جانتا ہے۔‘‘ جس کا علم ظاہر و باطن اور ماضی و مستقبل ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

Al-An'aam 6:114Listen in Qur'an →
115

وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًۭا وَعَدْلًۭا ۚ لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَٰتِهِۦ ۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ

اور تمہارے پروردگار کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہیں اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور وہ سنتا جانتا ہے

کیا پس اللہ کے سوا تلاش کروں میں کوئی حاکم؟ حالانکہ وہی ہے جس نے نازل کی ہے تمھاری طر ف یہ کتاب مفصل،اور وہ لوگ کہ دی ہم نے انھیں کتاب، جانتے ہیں وہ اس بات کو کہ بلاشبہ وہ نازل شدہ ہے آپ کے رب کی طرف سے ساتھ حق کے، پس نہ ہوں آپ شک کرنے والوں سے(114) اور مکمل ہے بات آپ کے رب کی صدق اور عدل میں، نہیں ہے کوئی تبدیل کرنے والا اس کی باتوں کو اور وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (115)

[114] یعنی اے رسولﷺ! ان سے کہہ دیجیے ﴿ اَفَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡتَغِيۡ حَكَمًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا کوئی منصف تلاش کروں ‘‘ اور اس کے پاس اپنے فیصلے لے کر جاؤں اور اس کے اوامر و نواہی کی پابندی کروں ؟ کیونکہ غیر اللہ حاکم نہیں محکوم ہوتا ہے اور مخلوق کے لیے ہر تدبیر اور ہر فیصلہ نقص، عیب اور ظلم و جور پر مشتمل ہوتا ہے اور جسے حاکم بنانا واجب ہے، وہ صرف اللہ وحدہ لا شریک لہ کی ذات ہے جو خلق و امر کی مالک ہے۔ ﴿ وَّهُوَ الَّذِيۡۤ اَنۡزَلَ اِلَيۡكُمُ الۡكِتٰبَ مُفَصَّلًا﴾ ’’حالانکہ اسی نے اتاری ہے تم پر کتاب واضح‘‘ یعنی جس میں حلال و حرام، احکام شریعت اور دین کے اصول و فروع واضح کیے گئے ہیں ، اس کی توضیح سے بڑھ کر کوئی توضیح نہیں ، اس کی دلیل سے روشن کوئی دلیل نہیں ، اس کے فیصلے سے اچھا کوئی فیصلہ نہیں اور اس کی بات سے زیادہ درست کسی کی بات نہیں کیونکہ اس کے احکام حکمت و رحمت پر مشتمل ہیں ۔ کتب سابقہ کے حاملین یہود و نصاریٰ اس حقیقت کو پہچانتے ہیں ﴿ يَعۡلَمُوۡنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنۡ رَّبِّكَ بِالۡحَقِّ﴾ ’’اور جانتے ہیں کہ وہ آپ کے رب کی طرف سے ٹھیک نازل ہوئی ہے‘‘ اسی لیے اخبار سابقہ اس کی موافقت کرتی ہیں ﴿ فَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِيۡنَ﴾ پس آپ اس بارے میں شک و شبہ میں مبتلا نہ ہوں ۔

[115] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدۡقًا وَّعَدۡلًا﴾ ’’اور آپ کے رب کی بات پوری سچی ہے اور انصاف کی‘‘ یعنی خبر میں صداقت اور اوامر و نواہی میں عدل ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کتاب عزیز میں جو خبریں بیان کی ہیں ان سے سچی کوئی خبر نہیں اور اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی سے بڑھ کر کسی حکم میں عدل و انصاف نہیں ۔ ﴿ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ﴾ ’’اس کی بات کو کوئی بدلنے والا نہیں ‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت فرمائی ہے اور صدق کی مختلف انواع اور حق کے ذریعے سے ان کو محکم کیا ہے، اس لیے ان میں تغیر و تبدل کرنا ممکن نہیں اور نہ اس سے زیادہ خوبصورت کلام وجود میں لایا جا سکتا ہے ﴿وَهُوَ السَّمِيۡعُ ﴾ ’’اور وہ سنتا ہے‘‘ وہ مختلف زبانوں اور متفرق حاجتوں پر مبنی تمام آوازوں کو سن سکتا ہے ﴿الۡعَلِيۡمُ﴾ ’’جانتا ہے۔‘‘ جس کا علم ظاہر و باطن اور ماضی و مستقبل ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

Al-An'aam 6:115Listen in Qur'an →
116

وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِى ٱلْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ

اور اکثر لوگ جو زمین پر آباد ہیں (گمراہ ہیں) اگر تم ان کا کہا مان لو گے تو وہ تمہیں خدا کا رستہ بھلا دیں گے یہ محض خیال کے پیچھے چلتے اور نرے اٹکل کے تیر چلاتے ہیں

اور اگر اطاعت کریں آپ اکثر کی ان میں سے جو زمین میں ہیں تو وہ بہکادیں گے آپ کو اللہ کے راستے سے، نہیں پیروی کرتے وہ مگر اپنے گمان کی اور نہیں ہیں وہ مگر اٹکل پچو کرتے (116)یقینا آپ کا رب، وہ خوب جانتا ہے اس کو جو بہکتا ہے اس کی راہ سےاور وہ خوب جانتا ہے ہدایت یافتہ لوگوں کو(117)

[116] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کو لوگوں کی اکثریت کی اطاعت سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا ہے ﴿وَاِنۡ تُطِعۡ اَكۡثَرَ مَنۡ فِي الۡاَرۡضِ يُضِلُّوۡكَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اگر آپ کہنا مانیں گے اکثر ان لوگوں کا جو دنیا میں ہیں تو وہ آپ کو بہکا دیں گے‘‘ کیونکہ ان میں سے اکثر لوگ اپنے دین، اعمال اور علوم سے منحرف ہو چکے ہیں ۔ پس ان کے دین فاسد اور ان کے اعمال ان کی خواہشات نفس کے تابع ہیں اور ان کے علوم میں تحقیق ہے نہ سیدھے راستے کی طرف راہنمائی۔ ان کا تمام تر مقصد ظن و گمان کی پیروی ہے اور ظن و گمان حق کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آتا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں محض اندازوں سے ایسی بات کہتے ہیں جس کا انھیں علم نہیں ۔

[117] جس کے یہ احوال ہوں تو اس سے اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کو ڈرانا اور ان کے احوال کو بیان کرنا مناسب ہے کیونکہ اس آیت کریمہ کا خطاب اگرچہ نبی اکرمﷺ کی طرف ہے تاہم آپ کی امت ان تمام احکام میں آپ کی تابع ہے جو خصوصی طور پر صرف آپ کے لیے نازل نہیں فرمائے اور اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ سچی بات کہنے والا ہے ﴿ هُوَ اَعۡلَمُ مَنۡ يَّضِلُّ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ ﴾ ’’وہ خوب جانتا ہے اس کو جو اس کے راستے سے بہکے‘‘ اور وہ اسے بھی جانتا ہے جو راہ راست پر چلے اور جو راہ راست کی طرف راہنمائی کرے۔ پس اے مومنو! تم پر فرض ہے کہ تم اس کی نصیحتوں پر عمل کرو اور اس کے اوامر و نواہی کی پیروی کرو۔ کیونکہ وہ تم سے زیادہ تمھارے مصالح کا علم رکھتا ہے اور تم سے زیادہ تم پر رحم کرنے والا ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ کسی گروہ کی کثرت سے اس کے حق ہونے پر استدلال نہیں کیا جا سکتا اور اسی طرح اگر کسی معاملے میں ، اس کو اختیار کرنے والے تھوڑے ہوں تو یہ قلت ان کے ناحق ہونے کی دلیل نہیں بن سکتی۔ بلکہ اس کے برعکس فی الواقع حقیقت یہ ہے کہ اہل حق تعداد میں بہت کم اور اللہ تعالیٰ کے ہاں قدر اور اجر میں بہت عظیم ہوتے ہیں ، اس لیے ضروری ہے کہ حق و باطل کی پہچان کے لیے ان ذرائع کو اختیار کیا جائے جو اس کے لیے معروف ہیں ۔

Al-An'aam 6:116Listen in Qur'an →
117

إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ مَن يَضِلُّ عَن سَبِيلِهِۦ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُهْتَدِينَ

تمہارا پروردگار ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو اس کے رستے سے بھٹکے ہوئے ہیں اور ان سے بھی خوب واقف ہے جو رستے پر چل رہے ہیں

اور اگر اطاعت کریں آپ اکثر کی ان میں سے جو زمین میں ہیں تو وہ بہکادیں گے آپ کو اللہ کے راستے سے، نہیں پیروی کرتے وہ مگر اپنے گمان کی اور نہیں ہیں وہ مگر اٹکل پچو کرتے (116)یقینا آپ کا رب، وہ خوب جانتا ہے اس کو جو بہکتا ہے اس کی راہ سےاور وہ خوب جانتا ہے ہدایت یافتہ لوگوں کو(117)

[116] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کو لوگوں کی اکثریت کی اطاعت سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا ہے ﴿وَاِنۡ تُطِعۡ اَكۡثَرَ مَنۡ فِي الۡاَرۡضِ يُضِلُّوۡكَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اگر آپ کہنا مانیں گے اکثر ان لوگوں کا جو دنیا میں ہیں تو وہ آپ کو بہکا دیں گے‘‘ کیونکہ ان میں سے اکثر لوگ اپنے دین، اعمال اور علوم سے منحرف ہو چکے ہیں ۔ پس ان کے دین فاسد اور ان کے اعمال ان کی خواہشات نفس کے تابع ہیں اور ان کے علوم میں تحقیق ہے نہ سیدھے راستے کی طرف راہنمائی۔ ان کا تمام تر مقصد ظن و گمان کی پیروی ہے اور ظن و گمان حق کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آتا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں محض اندازوں سے ایسی بات کہتے ہیں جس کا انھیں علم نہیں ۔

[117] جس کے یہ احوال ہوں تو اس سے اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کو ڈرانا اور ان کے احوال کو بیان کرنا مناسب ہے کیونکہ اس آیت کریمہ کا خطاب اگرچہ نبی اکرمﷺ کی طرف ہے تاہم آپ کی امت ان تمام احکام میں آپ کی تابع ہے جو خصوصی طور پر صرف آپ کے لیے نازل نہیں فرمائے اور اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ سچی بات کہنے والا ہے ﴿ هُوَ اَعۡلَمُ مَنۡ يَّضِلُّ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ ﴾ ’’وہ خوب جانتا ہے اس کو جو اس کے راستے سے بہکے‘‘ اور وہ اسے بھی جانتا ہے جو راہ راست پر چلے اور جو راہ راست کی طرف راہنمائی کرے۔ پس اے مومنو! تم پر فرض ہے کہ تم اس کی نصیحتوں پر عمل کرو اور اس کے اوامر و نواہی کی پیروی کرو۔ کیونکہ وہ تم سے زیادہ تمھارے مصالح کا علم رکھتا ہے اور تم سے زیادہ تم پر رحم کرنے والا ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ کسی گروہ کی کثرت سے اس کے حق ہونے پر استدلال نہیں کیا جا سکتا اور اسی طرح اگر کسی معاملے میں ، اس کو اختیار کرنے والے تھوڑے ہوں تو یہ قلت ان کے ناحق ہونے کی دلیل نہیں بن سکتی۔ بلکہ اس کے برعکس فی الواقع حقیقت یہ ہے کہ اہل حق تعداد میں بہت کم اور اللہ تعالیٰ کے ہاں قدر اور اجر میں بہت عظیم ہوتے ہیں ، اس لیے ضروری ہے کہ حق و باطل کی پہچان کے لیے ان ذرائع کو اختیار کیا جائے جو اس کے لیے معروف ہیں ۔

Al-An'aam 6:117Listen in Qur'an →
118

فَكُلُوا۟ مِمَّا ذُكِرَ ٱسْمُ ٱللَّهِ عَلَيْهِ إِن كُنتُم بِـَٔايَٰتِهِۦ مُؤْمِنِينَ

تو جس چیز پر (ذبح کے وقت) خدا کا نام لیا جائے اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو تو اسے کھا لیا کرو

پس کھاؤ تم! اس (جانور) میں سے کہ ذکر کیا گیا ہے نام اللہ کا اس پر، اگر ہو تم اس کی آیتوں پر ایمان لانے والے(118) اور کیا ہے تمھیں کہ نہ کھاؤ تم اس(جانور) میں سے کہ ذکر کیا گیا ہے نام اللہ کا اس پر؟ جبکہ واضح کر دیا ہے اس نے تمھارے لیے جو حرام کیا ہے اس نے تم پر مگر وہ کہ مجبور کردیے جاؤ تم اس(کے کھانے) پراور بلاشبہ اکثر لوگ بہکاتے ہیں(لوگوں کو) اپنی خواہشات سے،بغیر علم کے، بے شک آپ کا رب وہ خوب جانتا ہے حد سے گزرنے والوں کو(119)

[119,118] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ایمان کے تقاضے پورے کرنے کا حکم دیتا ہے نیز وہ یہ بھی حکم دیتا ہے کہ اگر وہ مومن ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو وہ ان حلال مویشیوں کا گوشت کھائیں جن پر ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو اور ان جانوروں کی حلت کا اعتقاد بھی رکھیں اور اس طرح نہ کریں جس طرح اہل جاہلیت کیا کرتے تھے۔ انھوں نے شیاطین کے گمراہ کرنے کے باعث اپنی طرف سے گھڑ کے بہت سی حلال چیزوں کو حرام قرار دے رکھا تھا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ مومن کی علامت یہ ہے کہ وہ اس مذموم عادت میں ، جو اللہ تعالیٰ کی شریعت میں تغیر و تبدل کو متضمن ہے، اہل جاہلیت کی مخالفت کریں نیز یہ کہ کون سی چیز ہے جو انھیں اس جانور کو کھانے سے روکتی ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر مفصل طور پر بیان کر کے واضح کر دیا ہے کہ کون سی چیز ان پر حرام ٹھہرائی گئی ہے؟ تب کوئی اشکال اور کوئی شبہ باقی نہیں رہتا کہ حرام میں پڑنے کے خوف کی وجہ سے بعض حلال چیزیں بھی کھانی چھوڑ دی جائیں ۔ اور آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ تمام اشیا میں اصل اباحت ہے۔ اگر شریعت کسی چیز کو حرام قرار نہیں دیتی تو وہ اپنی اباحت پر باقی ہے۔ پس جس چیز کے بارے میں اللہ تعالیٰ خاموش ہے وہ حلال ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو حرام ٹھہرایا ہے اس کی تفصیل بیان کر دی ہے اور جس کے بارے میں کوئی تفصیل بیان نہیں کی وہ حرام نہیں ہے۔ بایں ہمہ وہ حرام چیزیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وضاحت کے ساتھ کھول کھول کر بیان کر دیا ہے، ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے سخت بھوک اور اضطراری حالت میں مباح کر دیا ہے ﴿حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةُ وَالدَّمُ وَلَحۡمُ الۡخِنۡزِيۡرِ ﴾ ’’تم پر مرا ہوا جانور، بہتا خون اور خنزیر کا گوشت حرام کردیا گیا ہے۔‘‘ اس کے بعد فرمایا ﴿فَمَنِ اضۡطُرَّ فِيۡ مَخۡمَصَةٍ غَيۡرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثۡمٍ١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾(المائدہ: 5؍3) ’’اگر کوئی بھوک کی شدت میں مجبور ہو جائے اور وہ گناہ کی طرف مائل نہ ہو تو اللہ بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘پھر اللہ تعالیٰ نے بہت سے لوگوں سے ڈراتے ہوئے فرمایا:﴿وَاِنَّ كَثِيۡرًا لَّيُضِلُّوۡنَ بِاَهۡوَآىِٕهِمۡ﴾ ’’اور بہت لوگ بہکاتے ہیں اپنی خواہشات سے‘‘ یعنی مجرد خواہشات نفس کے ذریعے سے ﴿ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ بغیر کسی علم اور بغیر کسی دلیل کے۔۔۔ پس بندے کو اس قسم کے لوگوں سے بچنا چاہیے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے سامنے ان کے اوصاف بیان کیے ہیں ۔ ان کی علامت یہ ہے کہ ان کی دعوت کسی دلیل اور برہان پر مبنی نہیں ہے اور نہ ان کے پاس کوئی شرعی حجت ہے۔ پس ان کی فاسد خواہشات اور گھٹیا آراء کے مطابق ان کو شبہ لاحق ہوتا ہے۔ پس یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کے بندوں پر ظلم و تعدی کا ارتکاب کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اس کے برعکس راہ راست کی طرف راہنمائی کرنے والے ہدایت یافتہ لوگ حق اور ہدایت کی طرف دعوت دیتے ہیں اور اپنی دعوت کو دلائل عقلیہ و نقلیہ کی تائید فراہم کرتے ہیں اور وہ اپنی دعوت میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے تقرب کے سوا اور کوئی مقصد پیش نظر نہیں رکھتے۔

Al-An'aam 6:118Listen in Qur'an →
119

وَمَا لَكُمْ أَلَّا تَأْكُلُوا۟ مِمَّا ذُكِرَ ٱسْمُ ٱللَّهِ عَلَيْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا ٱضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ ۗ وَإِنَّ كَثِيرًۭا لَّيُضِلُّونَ بِأَهْوَآئِهِم بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُعْتَدِينَ

اور سبب کیا ہے کہ جس چیز پر خدا کا نام لیا جائے تم اسے نہ کھاؤ حالانکہ جو چیزیں اس نے تمہارے لیے حرام ٹھیرا دی ہیں وہ ایک ایک کر کے بیان کر دی ہیں (بے شک ان کو نہیں کھانا چاہیے) مگر اس صورت میں کہ ان کے (کھانے کے) لیے ناچار ہو جاؤ اور بہت سے لوگ بےسمجھے بوجھے اپنے نفس کی خواہشوں سے لوگوں کو بہکا رہے ہیں کچھ شک نہیں کہ ایسے لوگوں کو جو (خدا کی مقرر کی ہوئی) حد سے باہر نکل جاتے ہیں تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے

پس کھاؤ تم! اس (جانور) میں سے کہ ذکر کیا گیا ہے نام اللہ کا اس پر، اگر ہو تم اس کی آیتوں پر ایمان لانے والے(118) اور کیا ہے تمھیں کہ نہ کھاؤ تم اس(جانور) میں سے کہ ذکر کیا گیا ہے نام اللہ کا اس پر؟ جبکہ واضح کر دیا ہے اس نے تمھارے لیے جو حرام کیا ہے اس نے تم پر مگر وہ کہ مجبور کردیے جاؤ تم اس(کے کھانے) پراور بلاشبہ اکثر لوگ بہکاتے ہیں(لوگوں کو) اپنی خواہشات سے،بغیر علم کے، بے شک آپ کا رب وہ خوب جانتا ہے حد سے گزرنے والوں کو(119)

[119,118] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ایمان کے تقاضے پورے کرنے کا حکم دیتا ہے نیز وہ یہ بھی حکم دیتا ہے کہ اگر وہ مومن ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو وہ ان حلال مویشیوں کا گوشت کھائیں جن پر ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو اور ان جانوروں کی حلت کا اعتقاد بھی رکھیں اور اس طرح نہ کریں جس طرح اہل جاہلیت کیا کرتے تھے۔ انھوں نے شیاطین کے گمراہ کرنے کے باعث اپنی طرف سے گھڑ کے بہت سی حلال چیزوں کو حرام قرار دے رکھا تھا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ مومن کی علامت یہ ہے کہ وہ اس مذموم عادت میں ، جو اللہ تعالیٰ کی شریعت میں تغیر و تبدل کو متضمن ہے، اہل جاہلیت کی مخالفت کریں نیز یہ کہ کون سی چیز ہے جو انھیں اس جانور کو کھانے سے روکتی ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر مفصل طور پر بیان کر کے واضح کر دیا ہے کہ کون سی چیز ان پر حرام ٹھہرائی گئی ہے؟ تب کوئی اشکال اور کوئی شبہ باقی نہیں رہتا کہ حرام میں پڑنے کے خوف کی وجہ سے بعض حلال چیزیں بھی کھانی چھوڑ دی جائیں ۔ اور آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ تمام اشیا میں اصل اباحت ہے۔ اگر شریعت کسی چیز کو حرام قرار نہیں دیتی تو وہ اپنی اباحت پر باقی ہے۔ پس جس چیز کے بارے میں اللہ تعالیٰ خاموش ہے وہ حلال ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو حرام ٹھہرایا ہے اس کی تفصیل بیان کر دی ہے اور جس کے بارے میں کوئی تفصیل بیان نہیں کی وہ حرام نہیں ہے۔ بایں ہمہ وہ حرام چیزیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وضاحت کے ساتھ کھول کھول کر بیان کر دیا ہے، ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے سخت بھوک اور اضطراری حالت میں مباح کر دیا ہے ﴿حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةُ وَالدَّمُ وَلَحۡمُ الۡخِنۡزِيۡرِ ﴾ ’’تم پر مرا ہوا جانور، بہتا خون اور خنزیر کا گوشت حرام کردیا گیا ہے۔‘‘ اس کے بعد فرمایا ﴿فَمَنِ اضۡطُرَّ فِيۡ مَخۡمَصَةٍ غَيۡرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثۡمٍ١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾(المائدہ: 5؍3) ’’اگر کوئی بھوک کی شدت میں مجبور ہو جائے اور وہ گناہ کی طرف مائل نہ ہو تو اللہ بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘پھر اللہ تعالیٰ نے بہت سے لوگوں سے ڈراتے ہوئے فرمایا:﴿وَاِنَّ كَثِيۡرًا لَّيُضِلُّوۡنَ بِاَهۡوَآىِٕهِمۡ﴾ ’’اور بہت لوگ بہکاتے ہیں اپنی خواہشات سے‘‘ یعنی مجرد خواہشات نفس کے ذریعے سے ﴿ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ بغیر کسی علم اور بغیر کسی دلیل کے۔۔۔ پس بندے کو اس قسم کے لوگوں سے بچنا چاہیے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے سامنے ان کے اوصاف بیان کیے ہیں ۔ ان کی علامت یہ ہے کہ ان کی دعوت کسی دلیل اور برہان پر مبنی نہیں ہے اور نہ ان کے پاس کوئی شرعی حجت ہے۔ پس ان کی فاسد خواہشات اور گھٹیا آراء کے مطابق ان کو شبہ لاحق ہوتا ہے۔ پس یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کے بندوں پر ظلم و تعدی کا ارتکاب کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اس کے برعکس راہ راست کی طرف راہنمائی کرنے والے ہدایت یافتہ لوگ حق اور ہدایت کی طرف دعوت دیتے ہیں اور اپنی دعوت کو دلائل عقلیہ و نقلیہ کی تائید فراہم کرتے ہیں اور وہ اپنی دعوت میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے تقرب کے سوا اور کوئی مقصد پیش نظر نہیں رکھتے۔

Al-An'aam 6:119Listen in Qur'an →
120

وَذَرُوا۟ ظَٰهِرَ ٱلْإِثْمِ وَبَاطِنَهُۥٓ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْسِبُونَ ٱلْإِثْمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوا۟ يَقْتَرِفُونَ

اور ظاہری اور پوشیدہ (ہر طرح کا) گناہ ترک کر دو جو لوگ گناہ کرتے ہیں وہ عنقریب اپنے کئے کی سزا پائیں گے

اور چھوڑ دوظاہر گناہ اور پوشیدہ گناہ، بلاشبہ جو لوگ کرتے ہیں گناہ، عنقریب جزاء دیے جائیں گے وہ ساتھ اس کے جو تھے وہ کرتے (120)

[120] یہاں ﴿ الۡاِثۡمِ ﴾ سے مراد تمام معاصی ہیں جو بندے کو گناہ گار کرتے ہیں یعنی اسے ان امور کے بارے میں گناہ اور حرج میں مبتلا کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق سے متعلق ہوتے ہیں ۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ظاہری اور باطنی گناہوں کے ارتکاب سے منع کیا ہے یعنی چھپ کر یا اعلانیہ ان تمام گناہوں سے روکا ہے جو بدن، جوارح اور قلب سے متعلق ہیں ۔ بندہ ظاہری اور باطنی گناہوں کو اس وقت تک کامل طور پر ترک نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ بحث و تحقیق کے بعد ان کی معرفت حاصل نہیں کر لیتا۔ بنابریں گناہوں کے بارے میں بحث و تحقیق کرنا، قلب و جوارح کے گناہوں کی معرفت اور ان کے بارے میں علم حاصل کرنا مکلف پر حتمی طور پر فرض ہے اور بہت سے لوگوں پر ان کے گناہ مخفی رہتے ہیں خاص طور پر قلب کے گناہ چھپے رہتے ہیں ، مثلاً: تکبر، خود پسندی اور ریا وغیرہ۔ یہاں تک کہ بندہ ان میں سے بہت سے گناہوں کا مرتکب ہوتا ہے مگر اسے اس کا احساس اور شعور تک نہیں ہوتا اور یہ علم سے اعراض اور عدم بصیرت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ جو لوگ ظاہری اور باطنی گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں ان کے اکتساب کے مطابق اور ان کے گناہوں کی قلت و کثرت کے اعتبار سے ان کو سزا دی جائے گی اور یہ سزا آخرت میں ملے گی۔ کبھی کبھی بندے کو دنیا میں سزا دے دی جاتی ہے اس طرح اس کی برائیوں اور گناہوں میں تخفیف ہو جاتی ہے۔

Al-An'aam 6:120Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.