۞ وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَآ إِلَيْهِمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ ٱلْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَىْءٍۢ قُبُلًۭا مَّا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوٓا۟ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ
اور اگر ہم ان پر فرشتے بھی اتار دیتے اور مردے بھی ان سے گفتگو کرنے لگتے اور ہم سب چیزوں کو ان کے سامنے لا موجود بھی کر دیتے تو بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے اِلّا ماشائالله بات یہ ہے کہ یہ اکثر نادان ہیں
پارہ نمبر 8 ایک نظر میں :
اس پارے کے دو حصے ہیں ۔ پہلے حصے میں سورة الانعام کا باقی حصہ ہے ‘ جس کا پہلا حصے ہیں ۔ پہلے حصے میں سورة الانعام کا باقی حصہ ہے ‘ جس پہلا حصہ ساتویں پارے میں تھا۔ دوسرا حصہ سورة اعراف پر مشتمل ہے ۔ سورة انعام کا تعارف ہم نے ساتویں پارے میں کرا دیا تھا ۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس تعارف کا ایک حصہ قارئین کی یاد تازہ کرنے کے لئے یہاں بھی ذکر کریں ۔ رہی سورة اعراف تو اس کے آغاز میں اس کا مکمل تعارف دے دیا جائے گا ‘ انشاء اللہ تعالیٰ !
سورة انعام کا یہ حصہ بھی اسی پیٹرن (PAttern) پر آگے بڑھتا ہے جس کی وضاحت ہم نے سورة انعام کے آغاز میں کردی تھی ‘ یعنی ساتویں پارے میں ۔ یہاں چند فقروں میں مختصر اشارات کافی ہوں گے ۔ اس سورة کے تعارف میں ساتویں پارے میں یہ فقرے اس قابل ہیں کہ انہیں ذہن میں تازہ کیا جائے ۔
” یہ سورة مجموعی لحاظ سے حقیقت الوہیت سے بحث کرتی ہے ۔ اس پوری کائنات کے دائرے میں بھی اور انسانی زندگی کے دائرے میں بھی۔ انسانی نفس اور ضمیر کے دائرے میں بھی اور اس دکھائی دینے والی کائنات کے نامعلوم رازوں کے دائرے میں بھی اور عالم غیب کے نامعلوم رازوں کے دائرے کے اندر بھی تصور حاکمیت الہیہ کو پیش کرتی ہے اور گزرنے والوں کی باہمی کشمکش اور ان کی جگہ لینے والوں کی جانشینی میں بھی حاکمیت الہیہ کے کچھ رنگ دکھاتی ہے ۔ غرض اس کائنات پر نظر ڈالتے ہوئے مشاہد فطرت میں اللہ کی حاکمیت ‘ دنیا میں ہونے والے بڑے بڑے واقعات میں اللہ کی حاکمیت ‘ دنیا کی خوشحالی اور بدحالی میں اللہ کی حاکمیت اس سورة کا موضوع ہے ۔ قدرت الہیہ کے مختلف مظاہر ومشاہد میں اللہ کی حاکمیت ‘ انسان کی زندگی کے اوپر اللہ کی ظاہری اور باطنی گرفت میں اللہ کی حاکمیت دنیا میں رونما ہونے والے واقعات اور متوقع حوادث میں اور سب سے آخر میں قیامت کے مناظر اور خصوصا اس منظر میں اللہ کی حاکمیت جس میں سب لوگ بارگاہ الہی میں کھڑے ہونگے ۔ “
” اس طرح یہ سورة قلب انسانی کو لے کر مختلف ابعاد وآفاق تک لے جاتی ہے اور ان کے نشیب و فراز کی سیر کراتی ہے ‘ لیکن پوری سورة میں قرآن کریم کا مکی انداز برقرار ہے جس کے اسلوب کے بارے میں ہم گزشتہ صفحات میں بیان کر آئے ہیں ۔ مکی اسلوب کے ساتھ ساتھ پورے قرآن کا انداز کلام بھی اس سورة میں اپنے اعلیٰ معیار رکھنے کے لئے کوئی بحث مطلوب ہو ۔ بلکہ سیدھے سادے انداز میں یہ سورة رب العالمین کا تعارف لوگوں سے کراتی ہے ‘ تاکہ لوگ اپنے سچے رب کی بندگی اور غلامی کریں ۔ ان کا ضمیر اور ان کی روح اللہ کی غلام ہوجائے ‘ ان کی جدوجہد اور ان کی تمام مساعی اللہ کی تابعداری میں ہوں ‘ ان کے رسوم و رواج اللہ کے رنگ میں ہوں ‘ اور ان کی زندگی کی پوری صورت حال اللہ وحدہ کی حاکمیت کے تحت ہو ‘ جس کے سوا زمین و آسمان میں کسی اور کی حاکمیت نہیں ہے ۔ “
” یوں نظر آتا ہے کہ یہ سورة اول سے آخر تک ایک متعین نصب العین کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ یہ کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق ہے ‘ وہی مالک ہے ‘ وہی قدرتوں والا ہے ‘ اور وہی بادشاہ اور قہار ہے ۔ وہی پوشیدہ چیزوں اور غیب کا جاننے والا ہے ۔ وہ جس طرح رات ودن کو گردش دے رہا ہے ‘ اسی طرح وہ دلوں اور دماغوں کا بھی پھیرنے والا ہے اس لئے اس کو تمام لوگوں کی زندگیوں پر حاکم ہونا چاہئے ۔ لوگوں کی زندگیوں میں امر ونہی کا اختیار صرف اسی کو ہونا چاہئے ۔ کوئی حکم اور کوئی قانون اس کے حکم اور قانون کے سوا نہ ہوگا ۔ حلال و حرام کے تعین کا اختیار بھی صرف اسی کو ہے ‘ اس لئے کہ یہ تمام امور اللہ کی الوہیت کے عناصر ترکیبی ہیں ‘ لہذا لوگوں کی زندگیوں میں ان کے بارے میں تصرف صرف اللہ کرسکتا ہے ۔ اس کے سوا نہ کوئی خالق ہے ‘ نہ کوئی رازق ہے ‘ نہ زندہ کرنے والا ہے اور نہ مارنے والا ہے ‘ نہ نفع دینے والا ہے اور نہ نقصان دینے والا ہے ‘ نہ کوئی داتا ہے اور نہ کوئی مانع ہے ۔ …