Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 111–120 of 165

111

۞ وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَآ إِلَيْهِمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ ٱلْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَىْءٍۢ قُبُلًۭا مَّا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوٓا۟ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ

اور اگر ہم ان پر فرشتے بھی اتار دیتے اور مردے بھی ان سے گفتگو کرنے لگتے اور ہم سب چیزوں کو ان کے سامنے لا موجود بھی کر دیتے تو بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے اِلّا ماشائالله بات یہ ہے کہ یہ اکثر نادان ہیں

پارہ نمبر 8 ایک نظر میں :

اس پارے کے دو حصے ہیں ۔ پہلے حصے میں سورة الانعام کا باقی حصہ ہے ‘ جس کا پہلا حصے ہیں ۔ پہلے حصے میں سورة الانعام کا باقی حصہ ہے ‘ جس پہلا حصہ ساتویں پارے میں تھا۔ دوسرا حصہ سورة اعراف پر مشتمل ہے ۔ سورة انعام کا تعارف ہم نے ساتویں پارے میں کرا دیا تھا ۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس تعارف کا ایک حصہ قارئین کی یاد تازہ کرنے کے لئے یہاں بھی ذکر کریں ۔ رہی سورة اعراف تو اس کے آغاز میں اس کا مکمل تعارف دے دیا جائے گا ‘ انشاء اللہ تعالیٰ !

سورة انعام کا یہ حصہ بھی اسی پیٹرن (PAttern) پر آگے بڑھتا ہے جس کی وضاحت ہم نے سورة انعام کے آغاز میں کردی تھی ‘ یعنی ساتویں پارے میں ۔ یہاں چند فقروں میں مختصر اشارات کافی ہوں گے ۔ اس سورة کے تعارف میں ساتویں پارے میں یہ فقرے اس قابل ہیں کہ انہیں ذہن میں تازہ کیا جائے ۔

” یہ سورة مجموعی لحاظ سے حقیقت الوہیت سے بحث کرتی ہے ۔ اس پوری کائنات کے دائرے میں بھی اور انسانی زندگی کے دائرے میں بھی۔ انسانی نفس اور ضمیر کے دائرے میں بھی اور اس دکھائی دینے والی کائنات کے نامعلوم رازوں کے دائرے میں بھی اور عالم غیب کے نامعلوم رازوں کے دائرے کے اندر بھی تصور حاکمیت الہیہ کو پیش کرتی ہے اور گزرنے والوں کی باہمی کشمکش اور ان کی جگہ لینے والوں کی جانشینی میں بھی حاکمیت الہیہ کے کچھ رنگ دکھاتی ہے ۔ غرض اس کائنات پر نظر ڈالتے ہوئے مشاہد فطرت میں اللہ کی حاکمیت ‘ دنیا میں ہونے والے بڑے بڑے واقعات میں اللہ کی حاکمیت ‘ دنیا کی خوشحالی اور بدحالی میں اللہ کی حاکمیت اس سورة کا موضوع ہے ۔ قدرت الہیہ کے مختلف مظاہر ومشاہد میں اللہ کی حاکمیت ‘ انسان کی زندگی کے اوپر اللہ کی ظاہری اور باطنی گرفت میں اللہ کی حاکمیت دنیا میں رونما ہونے والے واقعات اور متوقع حوادث میں اور سب سے آخر میں قیامت کے مناظر اور خصوصا اس منظر میں اللہ کی حاکمیت جس میں سب لوگ بارگاہ الہی میں کھڑے ہونگے ۔ “

” اس طرح یہ سورة قلب انسانی کو لے کر مختلف ابعاد وآفاق تک لے جاتی ہے اور ان کے نشیب و فراز کی سیر کراتی ہے ‘ لیکن پوری سورة میں قرآن کریم کا مکی انداز برقرار ہے جس کے اسلوب کے بارے میں ہم گزشتہ صفحات میں بیان کر آئے ہیں ۔ مکی اسلوب کے ساتھ ساتھ پورے قرآن کا انداز کلام بھی اس سورة میں اپنے اعلیٰ معیار رکھنے کے لئے کوئی بحث مطلوب ہو ۔ بلکہ سیدھے سادے انداز میں یہ سورة رب العالمین کا تعارف لوگوں سے کراتی ہے ‘ تاکہ لوگ اپنے سچے رب کی بندگی اور غلامی کریں ۔ ان کا ضمیر اور ان کی روح اللہ کی غلام ہوجائے ‘ ان کی جدوجہد اور ان کی تمام مساعی اللہ کی تابعداری میں ہوں ‘ ان کے رسوم و رواج اللہ کے رنگ میں ہوں ‘ اور ان کی زندگی کی پوری صورت حال اللہ وحدہ کی حاکمیت کے تحت ہو ‘ جس کے سوا زمین و آسمان میں کسی اور کی حاکمیت نہیں ہے ۔ “

” یوں نظر آتا ہے کہ یہ سورة اول سے آخر تک ایک متعین نصب العین کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ یہ کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق ہے ‘ وہی مالک ہے ‘ وہی قدرتوں والا ہے ‘ اور وہی بادشاہ اور قہار ہے ۔ وہی پوشیدہ چیزوں اور غیب کا جاننے والا ہے ۔ وہ جس طرح رات ودن کو گردش دے رہا ہے ‘ اسی طرح وہ دلوں اور دماغوں کا بھی پھیرنے والا ہے اس لئے اس کو تمام لوگوں کی زندگیوں پر حاکم ہونا چاہئے ۔ لوگوں کی زندگیوں میں امر ونہی کا اختیار صرف اسی کو ہونا چاہئے ۔ کوئی حکم اور کوئی قانون اس کے حکم اور قانون کے سوا نہ ہوگا ۔ حلال و حرام کے تعین کا اختیار بھی صرف اسی کو ہے ‘ اس لئے کہ یہ تمام امور اللہ کی الوہیت کے عناصر ترکیبی ہیں ‘ لہذا لوگوں کی زندگیوں میں ان کے بارے میں تصرف صرف اللہ کرسکتا ہے ۔ اس کے سوا نہ کوئی خالق ہے ‘ نہ کوئی رازق ہے ‘ نہ زندہ کرنے والا ہے اور نہ مارنے والا ہے ‘ نہ نفع دینے والا ہے اور نہ نقصان دینے والا ہے ‘ نہ کوئی داتا ہے اور نہ کوئی مانع ہے ۔ …

Al-An'aam 6:111Listen in Qur'an →
112

وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِىٍّ عَدُوًّۭا شَيَٰطِينَ ٱلْإِنسِ وَٱلْجِنِّ يُوحِى بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍۢ زُخْرُفَ ٱلْقَوْلِ غُرُورًۭا ۚ وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ ۖ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ

اور اسی طرح ہم نے شیطان (سیرت) انسانوں اور جنوں کو ہر پیغمبر کا دشمن بنا دیا تھا وہ دھوکا دینے کے لیے ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی باتیں ڈالتے رہتے تھے اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو اور جو کچھ یہ افتراء کرتے ہیں اسے چھوڑ دو

(آیت) ” نمبر 112 تا 113۔

یوں ہم نے انسان کو لئے مقدر کردیا ہے کہ جو مشرکین اپنے ایمان کو ایسی باتوں پر موقوف کرتے ہیں جو خوراق عادت ہیں اور اپنے انفس اور اپنے آفاق وماحول میں اس پھیلی ہوئی کائنات کے اندر دلائل ہدایت اور نشانات راہ پر غور نہیں کرتے تو اگر ان کے پاس ہزار مضمرات اور خوارق عادت واقعات آجائیں وہ ایمان نہ لائیں گے ۔

ان لوگوں کی تقدیر کو ہم نے اسی طرح بنا دیا ہے ۔ ہم نے یہ فیصلہ کردیا ہے کہ ہر نبی کے بامقابل انسانوں اور جنوں میں سے کچھ شیاطین اٹھ کھڑے ہوں گے اور ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان میں سے بعض ‘ بعض دوسروں پر خوش آئندہ باتیں القا کرتے ہیں ۔ اور یہ عوام الناس کو دھوکہ اور فریب دیتے ہیں اور یوں وہ رسولوں کے ساتھ دشمنی کرکے لوگوں کو فریب دیتے ہیں حالانکہ درحقیقت وہ ہدایت کے ساتھ برسرپیکار ہوتے ہیں ۔ یہ بھی ہماری سنت اور ہماری اسکیم ہے کہ ان شیطانوں کی باتوں کی طرف وہ لوگ بڑے شوق سے کان رکھتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور اپنی اس روش پر راضی ہیں اور گناہ کماتے ہیں جس میں وہ مصروف ہیں یعنی رسولوں کی عداوت اور اس کرہ ارض پر فساد اور گمراہی کو پھیلانا ۔

یہ سب واقعات تقدیر الہی کے مطابق وقوع پذیر ہوتے ہیں اس کی مشیت کے مطابق واقع ہوتے ہیں اور اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو یہ لوگ ایسا رویہ اختیار نہ کرتے اور واقعات کا رخ بالکل الٹی سمت ہوتا اور اللہ کی تقدیر بالکل دوسری سمت پر چلتی ۔ اس لئے کہ یہ واقعات محض اتفاق کے طور پر واقع نہیں ہوتے اور نہ دنیا میں رونما ہونے والے واقعات خود حضرت انسان کی اپنی طاقت اور قوت سے رونما ہوتے ہیں۔

جب یہ بات طے ہوگئی کہ اس جہان میں حق و باطل کا جو معرکہ برپا ہے اور جس کے فریق ایک جانب سے رسول اور ان کے ساتھ کی سچائی ہے اور دوسرا فریق انسانوں اور جنوں کے شیاطین ہیں جن کے ساتھ باطل ‘ فریب اور دھوکہ ہے اور جب یہ بات بھی طے ہوگئی کہ یہ پوری کشمکش ‘ حق و باطل کی کشمکش ‘ اللہ کی مشیت اور اس کی تقدیر کی اسکیم کے تحت جاری ہے تو ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس حکمت اور تدبیر پر غور کرے جو اس کشمکش کی تہ میں کار فرما ہے اور اس سے قبل بندہ مومن کو چاہئے کہ وہ ان واقعات کی تہ تک پہنچنے کی سعی کرے ۔

(آیت) ” وَکَذَلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نِبِیٍّ عَدُوّاً شَیَاطِیْنَ الإِنسِ وَالْجِنِّ یُوحِیْ بَعْضُہُمْ إِلَی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوراً وَلَوْ شَاء رَبُّکَ مَا فَعَلُوہُ فَذَرْہُمْ وَمَا یَفْتَرُونَ (112)

” اور ہم نے تو اسی طرح شیطانوں انسانوں اور شیطان جنوں کو ہر نبی کا دشمن بنایا ہے جو ایک دوسرے پر خوش آئند باتیں دھوکے اور فریب کے طور پر القاء کرتے رہتے ہیں ۔ “

یعنی اپنے ارادے اور تقدیر کے مطابق ہم نے ایسا کیا ہے ۔ ہر نبی کا ہم نے ایک دشمن پیدا کیا ہے ۔ یہ دشمن انسانوں اور جنوں میں سے وہ لوگ ہوتے رہے ہیں جو شیطان تھے ۔ شیطنت کے معنی نافرمانی اور حکم عدولی کے ہیں ۔ شیطنت کا مفہوم ہے مجسمہ شر ہونا ۔ یہ ایسی صفت ہے جس سے انسان بھی متصف ہوتے ہیں اور جن بھی ۔ اگر کوئی مجسمہ شر ہو تو اگر جن ہو تو وہ جن شیطان ہے اور اگر انسان ہو تو وہ انسان شیطان ہے ۔ بعض اوقات اس صفت کے ساتھ ایک حیوان بھی متصف ہوتا ہے جبکہ وہ نافرمان ‘ سرکش اور حملہ آور ہو ‘ اس لئے کہ حدیث میں آیا ہے کہ سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے ۔ “

یہ جنی اور انسی شیاطین جن کے بارے میں فیصلہ الہیہ ہے کہ وہ ہر نبی کے دشمن ہوں گے ‘ یہ ایک دوسرے کو چکنی چپڑی باتوں سے دھوکہ دیتے ہیں اور یہ باتیں وہ ایک دوسرے پر القاء کرتے ہیں ۔ وحی کے مفہومات میں سے ایک مفہوم یہ ہے کہ کسی ایک جان سے دوسری جان کی طرف ایک خفیہ اور داخلی اثر منتقل ہو ۔ یا کوئی ایک شخص دوسرے کو دھوکہ دے اور لوگ ایک دوسرے کو سرکشی ‘ نافرمانی اور شرو معصیت کے لئے ابھاریں ۔

ان شیاطن میں سے جو انسان ہیں …

Al-An'aam 6:112Listen in Qur'an →
113

وَلِتَصْغَىٰٓ إِلَيْهِ أَفْـِٔدَةُ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ وَلِيَرْضَوْهُ وَلِيَقْتَرِفُوا۟ مَا هُم مُّقْتَرِفُونَ

اور (وہ ایسے کام) اس لیے بھی (کرتے تھے) کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل ان کی باتوں پر مائل ہوں اور وہ انہیں پسند کریں اور جو کام وہ کرتے تھے وہ ہی کرنے لگیں

(آیت) ” نمبر 112 تا 113۔

یوں ہم نے انسان کو لئے مقدر کردیا ہے کہ جو مشرکین اپنے ایمان کو ایسی باتوں پر موقوف کرتے ہیں جو خوراق عادت ہیں اور اپنے انفس اور اپنے آفاق وماحول میں اس پھیلی ہوئی کائنات کے اندر دلائل ہدایت اور نشانات راہ پر غور نہیں کرتے تو اگر ان کے پاس ہزار مضمرات اور خوارق عادت واقعات آجائیں وہ ایمان نہ لائیں گے ۔

ان لوگوں کی تقدیر کو ہم نے اسی طرح بنا دیا ہے ۔ ہم نے یہ فیصلہ کردیا ہے کہ ہر نبی کے بامقابل انسانوں اور جنوں میں سے کچھ شیاطین اٹھ کھڑے ہوں گے اور ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان میں سے بعض ‘ بعض دوسروں پر خوش آئندہ باتیں القا کرتے ہیں ۔ اور یہ عوام الناس کو دھوکہ اور فریب دیتے ہیں اور یوں وہ رسولوں کے ساتھ دشمنی کرکے لوگوں کو فریب دیتے ہیں حالانکہ درحقیقت وہ ہدایت کے ساتھ برسرپیکار ہوتے ہیں ۔ یہ بھی ہماری سنت اور ہماری اسکیم ہے کہ ان شیطانوں کی باتوں کی طرف وہ لوگ بڑے شوق سے کان رکھتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور اپنی اس روش پر راضی ہیں اور گناہ کماتے ہیں جس میں وہ مصروف ہیں یعنی رسولوں کی عداوت اور اس کرہ ارض پر فساد اور گمراہی کو پھیلانا ۔

یہ سب واقعات تقدیر الہی کے مطابق وقوع پذیر ہوتے ہیں اس کی مشیت کے مطابق واقع ہوتے ہیں اور اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو یہ لوگ ایسا رویہ اختیار نہ کرتے اور واقعات کا رخ بالکل الٹی سمت ہوتا اور اللہ کی تقدیر بالکل دوسری سمت پر چلتی ۔ اس لئے کہ یہ واقعات محض اتفاق کے طور پر واقع نہیں ہوتے اور نہ دنیا میں رونما ہونے والے واقعات خود حضرت انسان کی اپنی طاقت اور قوت سے رونما ہوتے ہیں۔

جب یہ بات طے ہوگئی کہ اس جہان میں حق و باطل کا جو معرکہ برپا ہے اور جس کے فریق ایک جانب سے رسول اور ان کے ساتھ کی سچائی ہے اور دوسرا فریق انسانوں اور جنوں کے شیاطین ہیں جن کے ساتھ باطل ‘ فریب اور دھوکہ ہے اور جب یہ بات بھی طے ہوگئی کہ یہ پوری کشمکش ‘ حق و باطل کی کشمکش ‘ اللہ کی مشیت اور اس کی تقدیر کی اسکیم کے تحت جاری ہے تو ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس حکمت اور تدبیر پر غور کرے جو اس کشمکش کی تہ میں کار فرما ہے اور اس سے قبل بندہ مومن کو چاہئے کہ وہ ان واقعات کی تہ تک پہنچنے کی سعی کرے ۔

(آیت) ” وَکَذَلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نِبِیٍّ عَدُوّاً شَیَاطِیْنَ الإِنسِ وَالْجِنِّ یُوحِیْ بَعْضُہُمْ إِلَی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوراً وَلَوْ شَاء رَبُّکَ مَا فَعَلُوہُ فَذَرْہُمْ وَمَا یَفْتَرُونَ (112)

” اور ہم نے تو اسی طرح شیطانوں انسانوں اور شیطان جنوں کو ہر نبی کا دشمن بنایا ہے جو ایک دوسرے پر خوش آئند باتیں دھوکے اور فریب کے طور پر القاء کرتے رہتے ہیں ۔ “

یعنی اپنے ارادے اور تقدیر کے مطابق ہم نے ایسا کیا ہے ۔ ہر نبی کا ہم نے ایک دشمن پیدا کیا ہے ۔ یہ دشمن انسانوں اور جنوں میں سے وہ لوگ ہوتے رہے ہیں جو شیطان تھے ۔ شیطنت کے معنی نافرمانی اور حکم عدولی کے ہیں ۔ شیطنت کا مفہوم ہے مجسمہ شر ہونا ۔ یہ ایسی صفت ہے جس سے انسان بھی متصف ہوتے ہیں اور جن بھی ۔ اگر کوئی مجسمہ شر ہو تو اگر جن ہو تو وہ جن شیطان ہے اور اگر انسان ہو تو وہ انسان شیطان ہے ۔ بعض اوقات اس صفت کے ساتھ ایک حیوان بھی متصف ہوتا ہے جبکہ وہ نافرمان ‘ سرکش اور حملہ آور ہو ‘ اس لئے کہ حدیث میں آیا ہے کہ سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے ۔ “

یہ جنی اور انسی شیاطین جن کے بارے میں فیصلہ الہیہ ہے کہ وہ ہر نبی کے دشمن ہوں گے ‘ یہ ایک دوسرے کو چکنی چپڑی باتوں سے دھوکہ دیتے ہیں اور یہ باتیں وہ ایک دوسرے پر القاء کرتے ہیں ۔ وحی کے مفہومات میں سے ایک مفہوم یہ ہے کہ کسی ایک جان سے دوسری جان کی طرف ایک خفیہ اور داخلی اثر منتقل ہو ۔ یا کوئی ایک شخص دوسرے کو دھوکہ دے اور لوگ ایک دوسرے کو سرکشی ‘ نافرمانی اور شرو معصیت کے لئے ابھاریں ۔

ان شیاطن میں سے جو انسان ہیں …

Al-An'aam 6:113Listen in Qur'an →
114

أَفَغَيْرَ ٱللَّهِ أَبْتَغِى حَكَمًۭا وَهُوَ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ إِلَيْكُمُ ٱلْكِتَٰبَ مُفَصَّلًۭا ۚ وَٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ يَعْلَمُونَ أَنَّهُۥ مُنَزَّلٌۭ مِّن رَّبِّكَ بِٱلْحَقِّ ۖ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُمْتَرِينَ

(کہو) کیا میں خدا کے سوا اور منصف تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہاری طرف واضع المطالب کتاب بھیجی ہے اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب (تورات) دی ہے وہ جانتے ہیں کہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق نازل ہوئی ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا

(آیت) ” نمبر 114 تا 117۔

یہ اہم تمہیدی امور یہاں اس لئے لائے گئے ہیں کہ اصل موضوع پر کلام کیا جاسکے ۔ اس کے بعد اس تمہید اور موضوع دونوں کو مسئلہ کفرو ایمان کے ساتھ مربوط کردیا جاتا ہے ۔

Al-An'aam 6:114Listen in Qur'an →
115

وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًۭا وَعَدْلًۭا ۚ لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَٰتِهِۦ ۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ

اور تمہارے پروردگار کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہیں اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور وہ سنتا جانتا ہے

(آیت) ” نمبر 114 تا 117۔

یہ اہم تمہیدی امور یہاں اس لئے لائے گئے ہیں کہ اصل موضوع پر کلام کیا جاسکے ۔ اس کے بعد اس تمہید اور موضوع دونوں کو مسئلہ کفرو ایمان کے ساتھ مربوط کردیا جاتا ہے ۔

Al-An'aam 6:115Listen in Qur'an →
116

وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِى ٱلْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ

اور اکثر لوگ جو زمین پر آباد ہیں (گمراہ ہیں) اگر تم ان کا کہا مان لو گے تو وہ تمہیں خدا کا رستہ بھلا دیں گے یہ محض خیال کے پیچھے چلتے اور نرے اٹکل کے تیر چلاتے ہیں

(آیت) ” نمبر 114 تا 117۔

یہ اہم تمہیدی امور یہاں اس لئے لائے گئے ہیں کہ اصل موضوع پر کلام کیا جاسکے ۔ اس کے بعد اس تمہید اور موضوع دونوں کو مسئلہ کفرو ایمان کے ساتھ مربوط کردیا جاتا ہے ۔

Al-An'aam 6:116Listen in Qur'an →
117

إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ مَن يَضِلُّ عَن سَبِيلِهِۦ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُهْتَدِينَ

تمہارا پروردگار ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو اس کے رستے سے بھٹکے ہوئے ہیں اور ان سے بھی خوب واقف ہے جو رستے پر چل رہے ہیں

(آیت) ” نمبر 114 تا 117۔

یہ اہم تمہیدی امور یہاں اس لئے لائے گئے ہیں کہ اصل موضوع پر کلام کیا جاسکے ۔ اس کے بعد اس تمہید اور موضوع دونوں کو مسئلہ کفرو ایمان کے ساتھ مربوط کردیا جاتا ہے ۔

Al-An'aam 6:117Listen in Qur'an →
118

فَكُلُوا۟ مِمَّا ذُكِرَ ٱسْمُ ٱللَّهِ عَلَيْهِ إِن كُنتُم بِـَٔايَٰتِهِۦ مُؤْمِنِينَ

تو جس چیز پر (ذبح کے وقت) خدا کا نام لیا جائے اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو تو اسے کھا لیا کرو

(آیت) ” نمبر 118

اس سے قبل کہ اس تمہید کے بعد حلال و حرام کا آخری فیصلہ دے دیا جائے بعض دوسری ہدایات اور نتائج دیئے جاتے ہیں جو امر ونہی کے بیان اور وعید اخروی اور ضروری تنبیہ پر مشتمل ہیں :

Al-An'aam 6:118Listen in Qur'an →
119

وَمَا لَكُمْ أَلَّا تَأْكُلُوا۟ مِمَّا ذُكِرَ ٱسْمُ ٱللَّهِ عَلَيْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا ٱضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ ۗ وَإِنَّ كَثِيرًۭا لَّيُضِلُّونَ بِأَهْوَآئِهِم بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُعْتَدِينَ

اور سبب کیا ہے کہ جس چیز پر خدا کا نام لیا جائے تم اسے نہ کھاؤ حالانکہ جو چیزیں اس نے تمہارے لیے حرام ٹھیرا دی ہیں وہ ایک ایک کر کے بیان کر دی ہیں (بے شک ان کو نہیں کھانا چاہیے) مگر اس صورت میں کہ ان کے (کھانے کے) لیے ناچار ہو جاؤ اور بہت سے لوگ بےسمجھے بوجھے اپنے نفس کی خواہشوں سے لوگوں کو بہکا رہے ہیں کچھ شک نہیں کہ ایسے لوگوں کو جو (خدا کی مقرر کی ہوئی) حد سے باہر نکل جاتے ہیں تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے

(آیت) ” نمبر 118

اس سے قبل کہ اس تمہید کے بعد حلال و حرام کا آخری فیصلہ دے دیا جائے بعض دوسری ہدایات اور نتائج دیئے جاتے ہیں جو امر ونہی کے بیان اور وعید اخروی اور ضروری تنبیہ پر مشتمل ہیں :

Al-An'aam 6:119Listen in Qur'an →
120

وَذَرُوا۟ ظَٰهِرَ ٱلْإِثْمِ وَبَاطِنَهُۥٓ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْسِبُونَ ٱلْإِثْمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوا۟ يَقْتَرِفُونَ

اور ظاہری اور پوشیدہ (ہر طرح کا) گناہ ترک کر دو جو لوگ گناہ کرتے ہیں وہ عنقریب اپنے کئے کی سزا پائیں گے

(آیت) ” نمبر 118

اس سے قبل کہ اس تمہید کے بعد حلال و حرام کا آخری فیصلہ دے دیا جائے بعض دوسری ہدایات اور نتائج دیئے جاتے ہیں جو امر ونہی کے بیان اور وعید اخروی اور ضروری تنبیہ پر مشتمل ہیں :

Al-An'aam 6:120Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.