Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad

Ayahs 111–120 of 165

111

۞ وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَآ إِلَيْهِمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ ٱلْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَىْءٍۢ قُبُلًۭا مَّا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوٓا۟ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ

اور اگر ہم ان پر فرشتے بھی اتار دیتے اور مردے بھی ان سے گفتگو کرنے لگتے اور ہم سب چیزوں کو ان کے سامنے لا موجود بھی کر دیتے تو بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے اِلّا ماشائالله بات یہ ہے کہ یہ اکثر نادان ہیں

آیت 111 وَلَوْاَنَّنَا نَزَّلْنَآ اِلَیْہِمُ الْمَلآءِکَۃَ یعنی ہم ان کے مطالبے کے مطابق ایک فرشتہ تو کیا فرشتوں کی فوجیں اتار سکتے ہیں ‘ ان فرشتوں کو آسمان سے اترتے ہوئے دکھا سکتے ہیں ‘ لیکن اگر ہم واقعتاً فرشتے اتار بھی دیتے اور ان کو دکھا بھی دیتے۔۔وَکَلَّمَہُمُ الْمَوْتٰی وَحَشَرْنَا عَلَیْہِمْ کُلَّ شَیْءٍ قُبُلاً مَّا کَانُوْا لِیُؤْمِنُوْٓا اِلَّآ اَنْ یَّشَآء اللّٰہُ اگر اللہ چاہے اور اگر کسی کے اندر حق کی طلب ہو تو اللہ تعالیٰ معجزوں کے بغیر بھی ایسے لوگوں کی آنکھیں کھول دیتا ہے۔ جو لوگ بھی محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائے تھے وہ معجزے دیکھ کر تو نہیں لائے تھے۔ وہ طالبانِ حق تھے لہٰذا انہیں حق مل گیا۔وَلٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ یَجْہَلُوْنَ۔ ۔یہاں جاہل سے مراد جذباتی لوگ ہیں ‘ جو عقل سے کام نہیں لیتے بلکہ اپنے جذبات کے آلہ کار بن جاتے ہیں۔ اگلی آیت فلسفۂ دعوت و تحریک کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔

Al-An'aam 6:111Listen in Qur'an →
112

وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِىٍّ عَدُوًّۭا شَيَٰطِينَ ٱلْإِنسِ وَٱلْجِنِّ يُوحِى بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍۢ زُخْرُفَ ٱلْقَوْلِ غُرُورًۭا ۚ وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ ۖ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ

اور اسی طرح ہم نے شیطان (سیرت) انسانوں اور جنوں کو ہر پیغمبر کا دشمن بنا دیا تھا وہ دھوکا دینے کے لیے ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی باتیں ڈالتے رہتے تھے اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو اور جو کچھ یہ افتراء کرتے ہیں اسے چھوڑ دو

آیت 112 وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ سوچنے اور غور کرنے کا مقام ہے ‘ انبیاء کو تو مدد کی ضرورت تھی ‘ اللہ نے شیاطین کو ان کے خلاف کیوں کھڑا کردیا ؟ بہر حال یہ اللہ کا قانون ہے جو راہ حق کے ہر مسافر کو معلوم ہونا چاہیے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ حق و باطل میں اس نوعیت کی کشاکش نہیں ہوگی تو پھر کھرے اور کھوٹے کی پہچان بھی نہیں ہو سکے گی۔ کیسے معلوم ہوگا کہ کون واقعی حق پرست ہے اور کون جھوٹا دعویدار۔ کون اللہ سے سچی محبت کرتا ہے اور کون دودھ پینے والا مجنوں ہے۔ یہ دنیا تو آزمائش کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہاں اگر شر کا وجود ہی نہ ہو ‘ ہر جگہ خیر ہی خیر ہو تو خیر کے طلبگاروں کی آزمائش کیسے ہوگی ؟ لہٰذا فرمایا کہ یہ کشمکش کی فضا ہم خود پیدا کرتے ہیں۔ ہم خود حق پر چلنے والوں کو تلاطم خیز موجوں کے سپرد کر کے ان کی استقامت کو پرکھتے ہیں اور پھر ثابت قدم رہنے والوں کو نوازتے ہیں۔ اس میدان میں جو جتنا آزمایا جاتا ہے ‘ جو جتنی استقامت دکھاتا ہے ‘ جو جتنا ایثار کرتا ہے ‘ اتنا ہی اس کا مرتبہ بلند ہوتا چلا جاتا ہے۔ چناچہ راہ حق کے مسافروں کو مطمئن رہنا چاہیے : ؂تندئ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے !یُوْحِیْ بَعْضُہُمْ اِلٰی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا ط۔مثلاً ایک جن شیطان آکر اپنے ساتھی انسان شیطان کے دل میں خیال ڈالتا ہے کہ شاباش اپنے موقف پر ڈٹے رہو ‘ اسی کا نام استقامت ہے۔ دیکھو کہیں پھسل نہ جانا اور اپنے مخالف کے موقف کو قبول نہ کرلینا۔ ان کا آپس میں اس طرح کا گٹھ جوڑ چلتا رہتا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے خود ان کو یہ چھوٹ دے رکھی ہے۔ وَلَوْ شَآءَ رَبُّکَ مَا فَعَلُوْہُ ظاہر بات ہے کہ اس کائنات میں کوئی پتا بھی اللہ کے اذن کے بغیر نہیں ہل سکتا۔ ابو جہل کی کیا مجال تھی کہ حضرت سمیہ رض کو شہید کرتا۔ وہ برچھا اٹھاتا تو اس کا ہاتھ شل ہوجاتا۔ لیکن یہ تو اللہ کی طرف سے چھوٹ تھی کہ ٹھیک ہے ‘ تم ہماری اس بندی کو جتنا آزمانا چاہتے ہو آزمالو۔ ان آزمائشوں سے ہمارے ہاں اس کے مراتب بلند سے بلند تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ جیسا کہ سورة یٰسٓ میں اللہ تعالیٰ کے ایک بندے پر انعامات کا ذکر ہوا ہے : قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَ۔ بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَجَعَلَنِیْ مِنَ الْمُکْرَمِیْنَ اس نے کہا کاش کہ میری قوم کو معلوم ہوجائے کہ کس طرح میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مجھے معززین میں سے بنادیا۔ ادھر تو میری شہادت کے بعد صف ماتم بچھی ہوگی ‘ بیوی شوہر کی جدائی میں نڈھال ہوگی ‘ بچے رو رو کر ہلکان ہو رہے ہوں گے ‘ لیکن کاش وہ جان سکتے کہ مجھے میرے رب نے کس کس طرح سے نوازا ہے ‘ کیسے کیسے انعامات یہاں مجھ پر کیے گئے ہیں اور میں یہاں کس عیش و آرام میں ہوں ! اگر انہیں میرے اس اعزازو اکرام کی کچھ بھی خبر ہوجاتی تو رونے دھونے کی بجائے وہ خوشیاں منا رہے ہوتے۔ فَذَرْہُمْ وَمَا یَفْتَرُوْنَ ۔یہ ہماری سنت ہے ‘ ہمارا طریقہ ہے ‘ ہم نے خود ان کو یہ سب کچھ کرنے کی ڈھیل دے رکھی ہے ‘ لہٰذا آپ ﷺ ان سے اعراض فرمائیے اور ان کو ان کی افترا پردازیوں میں پڑے رہنے دیجیے۔

Al-An'aam 6:112Listen in Qur'an →
113

وَلِتَصْغَىٰٓ إِلَيْهِ أَفْـِٔدَةُ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ وَلِيَرْضَوْهُ وَلِيَقْتَرِفُوا۟ مَا هُم مُّقْتَرِفُونَ

اور (وہ ایسے کام) اس لیے بھی (کرتے تھے) کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل ان کی باتوں پر مائل ہوں اور وہ انہیں پسند کریں اور جو کام وہ کرتے تھے وہ ہی کرنے لگیں

وَلِیَرْضَوْہُ وَلِیَقْتَرِفُوْا مَا ہُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ ۔اس فلسفے کو ایک مثال سے سمجھئے۔ پانی کا electrolysis کریں تو negative اور positive چارج والے آئنز ions الگ الگ ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے دنیا میں حق و باطل کی جو کشاکش رکھی ہے ‘ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کھرے اور کھوٹے کی ionization ہوجاتی ہے۔ اہل حق نکھر کر ایک طرف ہوجاتے ہیں اور اہل باطل دوسری طرف۔ اس طرح انسانی معاشرے میں اچھے اور برے کی تمیز ہوجاتی ہے۔ جیسے کہ ہم سورة آل عمران آیت 179 میں پڑھ چکے ہیں : حَتّٰی یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ ط تاکہ وہ ناپاک کو پاک سے الگ کر دے۔ معاشرے کے اندر عام طور پر پاک اور ناپاک عناصرگڈ مڈ ہوئے ہوتے ہیں ‘ لیکن جب آزمائشیں اور تکلیفیں آتی ہیں ‘ امتحانات آتے ہیں تو یہ خبیث اور طیب عناصر واضح طور پر الگ الگ ہوجاتے ہیں ‘ منافق علیحدہ اور اہل ایمان علیحدہ ہوجاتے ہیں۔ آیت زیر نظر میں یہی فلسفہ بیان ہوا ہے کہ شیاطین انس و جن کو کھل کھیلنے کی مہلت اسی حکمت کے تحت فراہم کی جاتی ہے اور منکرین آخرت کو بھی پورا موقع دیا جاتا ہے کہ وہ ان شیاطین کی طرف سے پھیلائے ہوئے بےسروپا نظریات کی طرف مائل ہونا چاہیں تو بیشک ہوجائیں۔

Al-An'aam 6:113Listen in Qur'an →
114

أَفَغَيْرَ ٱللَّهِ أَبْتَغِى حَكَمًۭا وَهُوَ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ إِلَيْكُمُ ٱلْكِتَٰبَ مُفَصَّلًۭا ۚ وَٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ يَعْلَمُونَ أَنَّهُۥ مُنَزَّلٌۭ مِّن رَّبِّكَ بِٱلْحَقِّ ۖ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُمْتَرِينَ

(کہو) کیا میں خدا کے سوا اور منصف تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہاری طرف واضع المطالب کتاب بھیجی ہے اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب (تورات) دی ہے وہ جانتے ہیں کہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق نازل ہوئی ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا

آیت 114 اَفَغَیْرَ اللّٰہِ اَبْتَغِیْ حَکَمًا اب پھر یہ متجسسانہ سوال searching question اسی پس منظر میں کیا گیا ہے کہ مشرکین مکہ اللہ کو مانتے تھے۔ چناچہ ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ وہ اللہ جس کو تم مانتے ہو ‘ میں نے بھی اسی کو اپنا رب مانا ہے۔ تو کیا اب تم چاہتے ہو کہ میں اس معبود حقیقی کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا حکم تسلیم کرلوں ‘ اور وہ بھی ان میں سے جن کو تم لوگوں نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے ‘ جن کے بارے میں اللہ نے کوئی سند یا دلیل نازل نہیں کی ہے۔ سورة الزخرف میں اسی نکتہ کو اس انداز میں پیش کیا گیا ہے : قُلْ اِنْ کَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌق فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ آپ ﷺ کہیے کہ اگر اللہ کا کوئی بیٹا ہوتا تو سب سے پہلے اس کو میں پوجتا۔ یعنی جب میں اللہ کی پرستش کرتا ہوں تو اگر اللہ کا کوئی بیٹا ہوتاتو کیا میں اس کی پرستش نہ کرتا ؟ چناچہ میں جو اللہ کو اپنا معبود سمجھتا ہوں اور کسی کو اس کا بیٹا نہیں مانتاتو جان لیں کہ اس کا کوئی بیٹا ہے ہی نہیں۔ سمجھانے کا یہ انداز جو قرآن میں اختیار کیا گیا ہے بڑا فطری ہے۔ اس میں منطق کے بجائے جذبات سے براہ راست اپیل ہے۔ دروں بینی introspection کی طرف دعوت ہے کہ اپنے دل میں جھانکو ‘ گریبان میں منہ ڈالو اور سوچو ‘ حقیقت تمہیں خود ہی نظر آجائے گی۔ وَّہُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ اِلَیْکُمُ الْکِتٰبَ مُفَصَّلاً ط۔ وَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّہٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّکَ بالْحَقِّ فَلاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۔ ۔اہل کتاب زبان سے اقرار کریں نہ کریں ‘ اپنے دلوں میں ضروریقین رکھتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے۔

Al-An'aam 6:114Listen in Qur'an →
115

وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًۭا وَعَدْلًۭا ۚ لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَٰتِهِۦ ۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ

اور تمہارے پروردگار کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہیں اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور وہ سنتا جانتا ہے

آیت 115 وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدْقًا وَّعَدْلاً ط۔آپ کے رب کی بات اس کی مشیت کے مطابق مکمل ہوچکی ہے ‘ جیسے سورة المائدۃ آیت 3 میں فرمایا : اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلاَمَ دِیْنًا ط

Al-An'aam 6:115Listen in Qur'an →
116

وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِى ٱلْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ

اور اکثر لوگ جو زمین پر آباد ہیں (گمراہ ہیں) اگر تم ان کا کہا مان لو گے تو وہ تمہیں خدا کا رستہ بھلا دیں گے یہ محض خیال کے پیچھے چلتے اور نرے اٹکل کے تیر چلاتے ہیں

آیت 116 وَاِنْ تُطِعْ اَکْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط۔ جدید جمہوری نظام کے فلسفے کی نفی کے لیے یہ بڑی اہم آیت ہے۔ جمہوریت میں اصابتِ رائے کے بجائے تعداد کو دیکھا جاتا ہے۔ بقول اقبالؔ : ؂جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں ‘ تولا نہیں کرتے !اس حوالے سے قرآن کا یہ حکم بہت واضح ہے کہ اگر زمین میں بسنے والوں کی اکثریت کی بات مانو گے تو وہ تمہیں گمراہ کردیں گے۔ دنیا میں اکثریت تو ہمیشہ باطل پرستوں کی رہی ہے۔ دور صحا بہ رض میں صحابہ کرام رض کی تعداد دنیا کی پوری آبادی کے تناظر میں دیکھیں تو لاکھ کے مقابلے میں ایک کی نسبت بھی نہیں بنتی۔ اس لیے اکثریت کو کلی اختیار دے کر کسی خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ ہاں ایک صورت میں اکثریت کی رائے کو اہمیت دی جاسکتی ہے۔ وہ یہ کہ اگر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کو قطعی اصولوں اور land makrs کے طور پر مان لیا جائے تو پھر ان کی واضح کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے مباحات کے بارے میں اکثریت کی بنا پر فیصلے ہوسکتے ہیں۔ مثلاً کسی دعوت کے ضمن میں اگر یہ فیصلہ کرنا مقصود ہو کہ مہمانوں کو کون سا مشروب پیش کیا جائے تو ظاہر ہے کہ شراب کے بارے میں تو رائے شماری نہیں ہوسکتی ‘ وہ تو اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کے مطابق حرام ہے۔ ہاں روح افزا ‘ کو کا کو لا ‘ سپرائٹ وغیرہ کے بارے میں آپ اکثریت کی رائے کا احترام کرتے ہوئے فیصلہ کرسکتے ہیں۔ لیکن اختیار مطلق absolute authority اور اقتدار اعلیٰ sovereignty اکثریت کے پاس ہو تو اس صورت حال پر اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ہی پڑھا جاسکتا ہے۔ چناچہ کلی اختیار اوراقتدارِاعلیٰ تو بہر حال اللہ کے پاس رہے گا ‘ جو اس کائنات اور اس میں موجود ہرچیز کا خالق اور مالک ہے۔ اکثریت کی رائے پر فیصلے صرف اس کے احکام کی حدود کے اندر رہتے ہوئے ہی کیے جاسکتے ہیں۔ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ الاَّ الظَّنَّ وَاِنْ ہُمْ الاَّ یَخْرُصُوْنَ ۔یعنی یہ محض گمان کی پیروی کرتے ہیں اور اٹکل کے تیر تکے چلاتے ہیں ‘ قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔

Al-An'aam 6:116Listen in Qur'an →
117

إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ مَن يَضِلُّ عَن سَبِيلِهِۦ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُهْتَدِينَ

تمہارا پروردگار ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو اس کے رستے سے بھٹکے ہوئے ہیں اور ان سے بھی خوب واقف ہے جو رستے پر چل رہے ہیں

آیت 116 وَاِنْ تُطِعْ اَکْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط۔ جدید جمہوری نظام کے فلسفے کی نفی کے لیے یہ بڑی اہم آیت ہے۔ جمہوریت میں اصابتِ رائے کے بجائے تعداد کو دیکھا جاتا ہے۔ بقول اقبالؔ : ؂جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں ‘ تولا نہیں کرتے !اس حوالے سے قرآن کا یہ حکم بہت واضح ہے کہ اگر زمین میں بسنے والوں کی اکثریت کی بات مانو گے تو وہ تمہیں گمراہ کردیں گے۔ دنیا میں اکثریت تو ہمیشہ باطل پرستوں کی رہی ہے۔ دور صحا بہ رض میں صحابہ کرام رض کی تعداد دنیا کی پوری آبادی کے تناظر میں دیکھیں تو لاکھ کے مقابلے میں ایک کی نسبت بھی نہیں بنتی۔ اس لیے اکثریت کو کلی اختیار دے کر کسی خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ ہاں ایک صورت میں اکثریت کی رائے کو اہمیت دی جاسکتی ہے۔ وہ یہ کہ اگر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کو قطعی اصولوں اور land makrs کے طور پر مان لیا جائے تو پھر ان کی واضح کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے مباحات کے بارے میں اکثریت کی بنا پر فیصلے ہوسکتے ہیں۔ مثلاً کسی دعوت کے ضمن میں اگر یہ فیصلہ کرنا مقصود ہو کہ مہمانوں کو کون سا مشروب پیش کیا جائے تو ظاہر ہے کہ شراب کے بارے میں تو رائے شماری نہیں ہوسکتی ‘ وہ تو اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کے مطابق حرام ہے۔ ہاں روح افزا ‘ کو کا کو لا ‘ سپرائٹ وغیرہ کے بارے میں آپ اکثریت کی رائے کا احترام کرتے ہوئے فیصلہ کرسکتے ہیں۔ لیکن اختیار مطلق absolute authority اور اقتدار اعلیٰ sovereignty اکثریت کے پاس ہو تو اس صورت حال پر اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ہی پڑھا جاسکتا ہے۔ چناچہ کلی اختیار اوراقتدارِاعلیٰ تو بہر حال اللہ کے پاس رہے گا ‘ جو اس کائنات اور اس میں موجود ہرچیز کا خالق اور مالک ہے۔ اکثریت کی رائے پر فیصلے صرف اس کے احکام کی حدود کے اندر رہتے ہوئے ہی کیے جاسکتے ہیں۔ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ الاَّ الظَّنَّ وَاِنْ ہُمْ الاَّ یَخْرُصُوْنَ ۔یعنی یہ محض گمان کی پیروی کرتے ہیں اور اٹکل کے تیر تکے چلاتے ہیں ‘ قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔

Al-An'aam 6:117Listen in Qur'an →
118

فَكُلُوا۟ مِمَّا ذُكِرَ ٱسْمُ ٱللَّهِ عَلَيْهِ إِن كُنتُم بِـَٔايَٰتِهِۦ مُؤْمِنِينَ

تو جس چیز پر (ذبح کے وقت) خدا کا نام لیا جائے اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو تو اسے کھا لیا کرو

آیت 118 فَکُلُوْا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ اِنْ کُنْتُمْ بِاٰیٰتِہٖ مُؤْمِنِیْنَ ۔یہاں کھانے پینے کی چیزوں کی حلت و حرمت کے بارے میں مشرکین عرب کے جاہلانہ نظریات اور توہمات کا رد کیا گیا ہے۔

Al-An'aam 6:118Listen in Qur'an →
119

وَمَا لَكُمْ أَلَّا تَأْكُلُوا۟ مِمَّا ذُكِرَ ٱسْمُ ٱللَّهِ عَلَيْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا ٱضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ ۗ وَإِنَّ كَثِيرًۭا لَّيُضِلُّونَ بِأَهْوَآئِهِم بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُعْتَدِينَ

اور سبب کیا ہے کہ جس چیز پر خدا کا نام لیا جائے تم اسے نہ کھاؤ حالانکہ جو چیزیں اس نے تمہارے لیے حرام ٹھیرا دی ہیں وہ ایک ایک کر کے بیان کر دی ہیں (بے شک ان کو نہیں کھانا چاہیے) مگر اس صورت میں کہ ان کے (کھانے کے) لیے ناچار ہو جاؤ اور بہت سے لوگ بےسمجھے بوجھے اپنے نفس کی خواہشوں سے لوگوں کو بہکا رہے ہیں کچھ شک نہیں کہ ایسے لوگوں کو جو (خدا کی مقرر کی ہوئی) حد سے باہر نکل جاتے ہیں تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے

آیت 119 وَمَا لَکُمْ اَلاَّ تَاْکُلُوْا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ یہ بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام وغیرہ بحوالہ المائدۃ : 103 کے بارے میں تمہارے تمام عقیدے من گھڑت ہیں۔ اللہ نے ایسی کوئی پابندیاں اپنے بندوں پر نہیں لگائیں۔ لہٰذا حلال جانوروں کو اللہ کا نام لے کر ذبح کیا کرو اور بلا کراہت ان کا گوشت کھایا کرو۔وَقَدْ فَصَّلَ لَکُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْکُمْ یہ تفصیل سورة النحل کے اندر آئی ہے۔ سورة النحل چونکہ سورة الانعام سے پہلے نازل ہوئی ہے اس لیے یہاں فرمایا گیا کہ حلال چیزوں کی تفصیل تمہارے لیے پہلے ہی بیان کی جا چکی ہے۔اِلاَّ مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْہِ ط۔اس میں بھی تمہارے لیے گنجائش ہے کہ اگر اضطرار ہے ‘ جان پر بنی ہوئی ہے ‘ بھوک سے جان نکل رہی ہے تو ان حرام چیزوں میں سے بھی کچھ کھا کر جان بچائی جاسکتی ہے۔

Al-An'aam 6:119Listen in Qur'an →
120

وَذَرُوا۟ ظَٰهِرَ ٱلْإِثْمِ وَبَاطِنَهُۥٓ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْسِبُونَ ٱلْإِثْمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوا۟ يَقْتَرِفُونَ

اور ظاہری اور پوشیدہ (ہر طرح کا) گناہ ترک کر دو جو لوگ گناہ کرتے ہیں وہ عنقریب اپنے کئے کی سزا پائیں گے

آیت 119 وَمَا لَکُمْ اَلاَّ تَاْکُلُوْا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ یہ بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام وغیرہ بحوالہ المائدۃ : 103 کے بارے میں تمہارے تمام عقیدے من گھڑت ہیں۔ اللہ نے ایسی کوئی پابندیاں اپنے بندوں پر نہیں لگائیں۔ لہٰذا حلال جانوروں کو اللہ کا نام لے کر ذبح کیا کرو اور بلا کراہت ان کا گوشت کھایا کرو۔وَقَدْ فَصَّلَ لَکُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْکُمْ یہ تفصیل سورة النحل کے اندر آئی ہے۔ سورة النحل چونکہ سورة الانعام سے پہلے نازل ہوئی ہے اس لیے یہاں فرمایا گیا کہ حلال چیزوں کی تفصیل تمہارے لیے پہلے ہی بیان کی جا چکی ہے۔اِلاَّ مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْہِ ط۔اس میں بھی تمہارے لیے گنجائش ہے کہ اگر اضطرار ہے ‘ جان پر بنی ہوئی ہے ‘ بھوک سے جان نکل رہی ہے تو ان حرام چیزوں میں سے بھی کچھ کھا کر جان بچائی جاسکتی ہے۔

Al-An'aam 6:120Listen in Qur'an →

Commentary: Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.