Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 111–120 of 165

111

۞ وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَآ إِلَيْهِمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ ٱلْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَىْءٍۢ قُبُلًۭا مَّا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوٓا۟ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ

اور اگر ہم ان پر فرشتے بھی اتار دیتے اور مردے بھی ان سے گفتگو کرنے لگتے اور ہم سب چیزوں کو ان کے سامنے لا موجود بھی کر دیتے تو بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے اِلّا ماشائالله بات یہ ہے کہ یہ اکثر نادان ہیں

وَلَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَآ اِلَيْهِمُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ ۔۔ : پچھلی آیت : (وَمَا يُشْعِرُكُمْ ۙ اَنَّهَآ اِذَا جَاۗءَتْ لَا يُؤْمِنُوْنَ ) میں جو بات مختصر بیان کی گئی تھی یہاں اسی کی تفصیل ہے، یعنی اگر ہم ان کے تمام مطالبات پورے کردیں، جیسے فرشتوں کو نازل کرنا اور مردوں کا کلام کرنا وغیرہ، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہم ہر چیز گروہ در گروہ یا آمنے سامنے لا کھڑی کردیں تو پھر بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ ہر چیز سے مراد ان کے مطالبات میں سے ہر چیز ہے، کیونکہ ” کل “ کے لفظ سے موقع کے مناسب ہر چیز ہوتا ہے، جیسا کہ ہدہد نے ملکۂ سبا سے متعلق کہا : ( وَاُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ) [ النمل : ٢٣ ] ” اور اسے ہر چیز دی گئی ہے۔ “ ظاہر ہے کہ ہر چیز تو اسے نہیں دی گئی تھی، حکومت و سلطنت سے متعلقہ اشیاء ہی عنایت کی گئی تھیں۔- اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ : مگر اللہ چاہے تو ضدی سے ضدی منکر کو بھی ایمان سے نواز سکتا ہے، جیسا کہ بعد میں عرب کے بیشمار عناد رکھنے والے کافر بھی مکہ فتح ہونے پر مسلمان ہوگئے۔ یہ مسلمانوں کے لیے بشارت کے الفاظ ہیں۔ - وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُوْنَ : یہاں وہ جہل مراد نہیں جو علم کے مقابلے میں ہوتا ہے، بلکہ وہ جہل ہے جو حلم کے مقابلے میں ہوتا ہے، یعنی اکھڑ پن یعنی بعض حلم والے بھی ان میں موجود ہیں۔

Al-An'aam 6:111Listen in Qur'an →
112

وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِىٍّ عَدُوًّۭا شَيَٰطِينَ ٱلْإِنسِ وَٱلْجِنِّ يُوحِى بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍۢ زُخْرُفَ ٱلْقَوْلِ غُرُورًۭا ۚ وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ ۖ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ

اور اسی طرح ہم نے شیطان (سیرت) انسانوں اور جنوں کو ہر پیغمبر کا دشمن بنا دیا تھا وہ دھوکا دینے کے لیے ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی باتیں ڈالتے رہتے تھے اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو اور جو کچھ یہ افتراء کرتے ہیں اسے چھوڑ دو

وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا۔۔ : یعنی جس طرح جن و انس کے شیطان آپ سے دشمنی کر رہے ہیں، یہ صرف آپ کا حال نہیں، بلکہ اسی طرح ہم نے آپ سے پہلے تمام انبیاء کے لیے بھی جن و انس شیطان دشمن بنائے تھے، لہٰذا آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، بلکہ جس طرح پہلے انبیاء نے اپنے شریر دشمنوں کے مقابلے میں صبر و استقامت سے کام لیا، آپ بھی ان کی ایذا رسانی پر صبر کیجیے، مایوسی اور گھبراہٹ کو اپنے اندر راہ نہ دیجیے۔ - يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ ۔۔ : وحی کا معنی خفیہ طریقے سے اطلاع دینا ہے، یعنی وہ انسان اور جن جو شیطان ہیں، وہ اپنوں میں سے سیدھے سادے لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے چوری چھپے طرح طرح کے مزین اور ملمع کیے ہوئے حیلے اور مکر سکھاتے ہیں۔ ” ِ غُرُوْرًا ۭ“ مفعول لہ ہے، یعنی دھوکا دینے کے لیے۔ - وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ : مگر وہ چونکہ حجت پوری کرنے کے لیے انھیں امتحان کا پورا پورا موقع دینا چاہتا ہے اور کسی کو زبردستی اپنی نافرمانی سے باز رکھنا اس کی حکمت اور تکوینی نظام کے خلاف ہے، اس لیے وہ انھیں ڈھیل دے رہا ہے۔ - فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُوْنَ : یعنی ان کی کوئی پروا نہ کریں، انھیں اور ان کے جھوٹ گھڑنے کو اللہ پر چھوڑ دیں، وہ خود ان سے نمٹ لے گا۔

Al-An'aam 6:112Listen in Qur'an →
113

وَلِتَصْغَىٰٓ إِلَيْهِ أَفْـِٔدَةُ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ وَلِيَرْضَوْهُ وَلِيَقْتَرِفُوا۟ مَا هُم مُّقْتَرِفُونَ

اور (وہ ایسے کام) اس لیے بھی (کرتے تھے) کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل ان کی باتوں پر مائل ہوں اور وہ انہیں پسند کریں اور جو کام وہ کرتے تھے وہ ہی کرنے لگیں

وَلِتَصْغٰٓى اِلَيْهِ ۔۔ : اس کا عطف ” غُرُوْرًا “ پر ہے، یعنی ” لِیَغُرُّوْا بِذٰلِکَ وَ لِتَصْغٰی “ ” تاکہ وہ اس کے ساتھ دھوکا دیں اور تاکہ ان لوگوں کے دل جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اس (جھوٹ) کی طرف مائل ہوں۔ “ یہ توجیہ ان تمام توجیہوں سے بہتر ہے جو یہاں کی گئی ہیں۔ (رازی) - وَلِيَرْضَوْهُ وَلِيَقْتَرِفُوْا۔۔ : ” اِکْتَسَبَ یَکْتَسِبُ “ اچھی یا بری دونوں کمائیوں کو کہتے ہیں، جبکہ ” اِقْتَرَفَ یَقْتَرِفُ “ برے اعمال کمانے کو کہتے ہیں، یعنی ان شیاطین کے پیش نظر اس وحی سے یہ سب مقاصد ہیں۔ (رازی) شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں کہ یہ کئی آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جب کفار کہنے لگے کہ مسلمان اپنا مارا ہوا جانور کھاتے ہیں اور اللہ کے مارے ہوئے کو حرام سمجھتے ہیں۔ فرمایا کہ ایسی فریب کی باتیں شیطان کرتے ہیں، تاکہ انسانوں کو شبہات میں ڈالا جائے۔ عقل کا حکم نہیں، حکم اللہ کا ہے۔ آگے پھر واضح طور پر سمجھایا گیا کہ ہر جانور کو مارنے والا اللہ ہی ہے اور اس کے نام میں برکت ہے، سو جو اس کے نام پر ذبح ہوا وہ حلال ہے اور جو اس کے نام کے بغیر مرگیا وہ مردار ہے۔ (موضح)

Al-An'aam 6:113Listen in Qur'an →
114

أَفَغَيْرَ ٱللَّهِ أَبْتَغِى حَكَمًۭا وَهُوَ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ إِلَيْكُمُ ٱلْكِتَٰبَ مُفَصَّلًۭا ۚ وَٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ يَعْلَمُونَ أَنَّهُۥ مُنَزَّلٌۭ مِّن رَّبِّكَ بِٱلْحَقِّ ۖ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُمْتَرِينَ

(کہو) کیا میں خدا کے سوا اور منصف تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہاری طرف واضع المطالب کتاب بھیجی ہے اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب (تورات) دی ہے وہ جانتے ہیں کہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق نازل ہوئی ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا

اَفَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِيْ حَكَمًا۔۔ : اوپر کی آیات میں یہ بتادیا کہ یہ کفار کسی صورت ایمان نہیں لائیں گے، لہٰذا ان کے لیے آیات کا نازل کرنا بےفائدہ ہے۔ اب یہاں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو مفصل کتاب نازل فرمائی ہے وہ آپ کی نبوت کے سچا ہونے پر دلیل کے لیے کافی ہے۔ کفار مکہ یہ چاہتے تھے کہ ان کے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان جو مخالفت ہے اس کے بارے میں اہل کتاب یا کسی اور کو حکم بنا لیا جائے، پھر جو فیصلہ وہ دیں اسے تسلیم کرلیا جائے، اس آیت میں ان کی اس تجویز کا جواب دیا جا رہا ہے کہ کیا میں اللہ کے علاوہ کوئی اور منصف تلاش کروں۔- يَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بالْحَقِّ : کیونکہ ان کے انبیاء بھی انھیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بشارت دیتے رہے ہیں اور ان کی کتابوں میں بھی آپ کی علامات موجود ہیں۔ - فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ : یعنی اس بارے میں کہ اہل کتاب کے دلوں میں قرآن کے سچا ہونے کا یقین ہے۔ خطاب تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہے، مگر اس سے مراد سارے مسلمان ہیں۔ (رازی)

Al-An'aam 6:114Listen in Qur'an →
115

وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًۭا وَعَدْلًۭا ۚ لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَٰتِهِۦ ۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ

اور تمہارے پروردگار کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہیں اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور وہ سنتا جانتا ہے

وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ ۔۔ : یہاں کلمہ اور کلمات سے مراد قرآن ہے، یعنی قرآن معجزہ ہونے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے سچا ہونے کی دلیل کے لیے کافی ہے۔ کیونکہ قرآن کے تمام مضامین دو ہی قسم کے ہیں، خبریں یا احکام۔ یہاں ” صِدْقًا “ کا تعلق خبروں سے ہے اور ” َعَدْلًا ۭ“ کا تعلق احکام سے ہے اور مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید کی تمام خبریں، خواہ ان کا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات سے ہو یا گزشتہ واقعات یا مستقبل کے وعدے اور حوادث سے، وہ سب پورے طور پر سچے ہیں اور اس میں جتنے احکام ہیں وہ سب عدل و انصاف پر مشتمل ہیں، ان میں کسی قسم کی تبدیلی یا ترمیم کی گنجائش نہیں ہے۔ ایسی کامل کتاب کی موجودگی میں ان شیطانی وساوس یا عقلی شکوک و شبہات کی کوئی گنجائش باقی نہیں ہے۔ (رازی) پھر ذبیحہ جیسے اہم مسئلے میں یہ اپنی کج فہمی سے کیوں دخل دے رہے ہیں۔ - لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ۚ: یعنی نہ تو اس قسم کے شبہات قرآن کے معجزہ ہونے پر اثرانداز ہوسکتے ہیں اور نہ اس کے اوامرو نواہی میں کوئی ترمیم جائز ہے اور نہ جیسے تورات و انجیل میں تحریف ہوئی، قرآن میں ہو سکے گی۔ (رازی)

Al-An'aam 6:115Listen in Qur'an →
116

وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِى ٱلْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ

اور اکثر لوگ جو زمین پر آباد ہیں (گمراہ ہیں) اگر تم ان کا کہا مان لو گے تو وہ تمہیں خدا کا رستہ بھلا دیں گے یہ محض خیال کے پیچھے چلتے اور نرے اٹکل کے تیر چلاتے ہیں

وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ ۔ : اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں اپنے نبی کو متنبہ کیا ہے کہ کثرت آپ کے نزدیک حق کی دلیل نہیں ہونی چاہیے اور محض کثرت کی بنیاد پر آپ کو اہل زمین کا اتباع نہیں کرنا چاہیے، ورنہ آپ راہ حق سے ہٹ جائیں گے۔ یہ کفار جو کثیر تعداد میں ہیں، اس جھوٹے گمان میں مبتلا ہیں کہ ان کے آباء و اجداد حق پر تھے، اس لیے ان کی تقلید کرتے ہیں۔ ان کے پاس اس کے سوا کوئی دلیل موجود نہیں ہے کہ لوگوں کی اکثریت اسی دین پر قائم ہے جو ان کا بھی دین ہے۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اٹکل پچو باتیں کرتے ہیں، کبھی کسی کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں تو کبھی بتوں کو اللہ کے پاس اپنا سفارشی بناتے ہیں اور کبھی مردوں اور غیر اللہ کے نام پر ذبح کیے ہوئے جانوروں کو حلال قرار دیتے ہیں۔ اس آیت سے موجودہ جمہوریت کی حقیقت بھی خوب واضح ہوتی ہے، جس میں اکثریت ہی کو فیصلہ کن سمجھا جاتا ہے۔ اکثریت سے متعلق اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے علاوہ بھی حق پر نہ ہونے کا ذکر فرمایا ہے : (وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِين) [ یوسف : ١٠٣ ] ” اور اکثر لوگ خواہ تو حرص کرے ہرگز ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ “ اور فرمایا : ( وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَھُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ ) [ یونس : ٥٥ ] ” اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔ “ اور فرمایا : ( وَقَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْرُ ) [ سبا : ١٣ ] ” اور بہت تھوڑے میرے بندوں میں سے پورے شکر گزار ہیں۔ “ اور فرمایا : (اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَقَلِيْلٌ مَّا هُمْ ۭ ) [ ص : ٢٤ ] ” مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اور یہ لوگ بہت ہی کم ہیں۔ “- اب ایک طرف اللہ کا حکم ہو جس سے پکی دلیل کوئی ہو نہیں سکتی اور ایک طرف اکثریت ہو جن کی بنیاد محض ان کے گمان اور اٹکل پر ہے اور اس اٹکل کی بنیاد پر انھوں نے بیشمار حرام چیزوں، مثلاً شرک، سود، زنا، قوم لوط کے عمل وغیرہ کو حلال کرلیا اور بیشمار حلال چیزوں کو حرام قرار دے دیا ہے تو بتائیے حق کس طرف ہوگا ؟ اس لیے اس آیت میں اللہ کے حکم کے مقابلے میں اہل زمین کی اکثریت کی اطاعت سے منع فرمایا۔

Al-An'aam 6:116Listen in Qur'an →
117

إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ مَن يَضِلُّ عَن سَبِيلِهِۦ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُهْتَدِينَ

تمہارا پروردگار ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو اس کے رستے سے بھٹکے ہوئے ہیں اور ان سے بھی خوب واقف ہے جو رستے پر چل رہے ہیں

Explained together with ayah 116

Al-An'aam 6:117Listen in Qur'an →
118

فَكُلُوا۟ مِمَّا ذُكِرَ ٱسْمُ ٱللَّهِ عَلَيْهِ إِن كُنتُم بِـَٔايَٰتِهِۦ مُؤْمِنِينَ

تو جس چیز پر (ذبح کے وقت) خدا کا نام لیا جائے اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو تو اسے کھا لیا کرو

فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَيْهِ ۔۔ : یعنی وہ حلال جانور جسے ذبح یا شکار کرتے وقت اللہ کا نام یعنی ” بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ “ لیا جائے اسے کھاؤ، اگر تم اس کی آیات پر ایمان رکھتے ہو، یعنی صرف ایسا ذبیحہ کھانا ایمان کا تقاضا ہے۔

Al-An'aam 6:118Listen in Qur'an →
119

وَمَا لَكُمْ أَلَّا تَأْكُلُوا۟ مِمَّا ذُكِرَ ٱسْمُ ٱللَّهِ عَلَيْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا ٱضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ ۗ وَإِنَّ كَثِيرًۭا لَّيُضِلُّونَ بِأَهْوَآئِهِم بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُعْتَدِينَ

اور سبب کیا ہے کہ جس چیز پر خدا کا نام لیا جائے تم اسے نہ کھاؤ حالانکہ جو چیزیں اس نے تمہارے لیے حرام ٹھیرا دی ہیں وہ ایک ایک کر کے بیان کر دی ہیں (بے شک ان کو نہیں کھانا چاہیے) مگر اس صورت میں کہ ان کے (کھانے کے) لیے ناچار ہو جاؤ اور بہت سے لوگ بےسمجھے بوجھے اپنے نفس کی خواہشوں سے لوگوں کو بہکا رہے ہیں کچھ شک نہیں کہ ایسے لوگوں کو جو (خدا کی مقرر کی ہوئی) حد سے باہر نکل جاتے ہیں تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے

وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ : یعنی جب اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے حرام چیزوں کو خوب کھول کر بیان کردیا ہے، جن کی تفصیل آگے اسی سورت میں آرہی ہے اور سورة بقرہ اور سورة مائدہ میں بھی ہے اور بعض کا ذکر احادیث میں ہے، تو ان کے علاوہ سب جانور حلال ہیں اور اللہ کے نام پر ذبح یا شکار کیا ہوا جانور ان حرام چیزوں میں شامل نہیں ہے، تو پھر کیا وجہ ہے کہ تم اسے نہ کھاؤ اور اللہ کے نام کے بغیر یا غیر اللہ کے نام پر ذبح یا شکار کیا ہوا جانور کھاؤ۔ - اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ : یعنی اضطرار اور مجبوری میں حرام کھانا جائز ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (١٧٣) ، سورة مائدہ (٣) اور اسی سورت کی آیت (١٤٥) ۔ - اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بالْمُعْتَدِيْنَ : مراد وہ لوگ ہیں جو حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دیتے ہیں۔ مقصود اس سے ڈرانا ہے۔ (رازی)

Al-An'aam 6:119Listen in Qur'an →
120

وَذَرُوا۟ ظَٰهِرَ ٱلْإِثْمِ وَبَاطِنَهُۥٓ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْسِبُونَ ٱلْإِثْمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوا۟ يَقْتَرِفُونَ

اور ظاہری اور پوشیدہ (ہر طرح کا) گناہ ترک کر دو جو لوگ گناہ کرتے ہیں وہ عنقریب اپنے کئے کی سزا پائیں گے

وَذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَبَاطِنَهٗ ۔۔ : یعنی حلال و حرام صرف کھانے کی چیزوں میں منحصر نہیں ہے، بلکہ ہر ظاہر و باطن گناہ کو چھوڑنا ضروری ہے۔ شاہ عبدالقادر (رض) لکھتے ہیں : ” یعنی کافروں کے بہکانے پر نہ ظاہر میں عمل کرو اور نہ دل میں شبہ رکھو۔ “ (موضح) علماء نے لکھا ہے کہ ظاہر گناہ وہ ہیں جو ہاتھ پاؤں سے کیے جائیں، جیسے چوری، زنا وغیرہ اور چھپے گناہ وہ ہیں جن کے کرنے کا دل میں عزم ہو، یا جو عقیدے سے تعلق رکھتے ہوں، جیسے کفر و شرک اور نفاق وغیرہ، یا جن گناہوں کا نقصان عام لوگوں پر واضح ہو وہ ظاہر گناہ کہلاتے ہیں اور جن کے نقصان سے چند مخصوص آدمیوں کے سوا دوسرے واقف نہ ہوں وہ باطن کہلاتے ہیں۔ (المنار )

Al-An'aam 6:120Listen in Qur'an →

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.