Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 111–120 of 165

111

۞ وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَآ إِلَيْهِمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ ٱلْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَىْءٍۢ قُبُلًۭا مَّا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوٓا۟ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ

اور اگر ہم ان پر فرشتے بھی اتار دیتے اور مردے بھی ان سے گفتگو کرنے لگتے اور ہم سب چیزوں کو ان کے سامنے لا موجود بھی کر دیتے تو بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے اِلّا ماشائالله بات یہ ہے کہ یہ اکثر نادان ہیں

آخری آیت وَلَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَآ اِلَيْهِمُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ میں اسی مضمون کا بیان ہے کہ اگر ہم ان کو ان کے فرمائشی معجزات سب دکھلادیں، بلکہ ان سے بھی زیادہ فرشتوں سے ان کی ملاقات اور مردوں سے گفتگو کرادیں، جب بھی وہ ماننے والے نہیں، بعد کی دو آیتوں میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی ہے کہ یہ لوگ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عداوت کرتے ہیں تو کچھ تعجب کی بات نہیں، پچھلے تمام انبیاء کے بھی دشمن ہوتے چلے آئے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے دلگیر نہ ہوں۔

Al-An'aam 6:111Listen in Qur'an →
112

وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِىٍّ عَدُوًّۭا شَيَٰطِينَ ٱلْإِنسِ وَٱلْجِنِّ يُوحِى بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍۢ زُخْرُفَ ٱلْقَوْلِ غُرُورًۭا ۚ وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ ۖ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ

اور اسی طرح ہم نے شیطان (سیرت) انسانوں اور جنوں کو ہر پیغمبر کا دشمن بنا دیا تھا وہ دھوکا دینے کے لیے ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی باتیں ڈالتے رہتے تھے اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو اور جو کچھ یہ افتراء کرتے ہیں اسے چھوڑ دو

Explained together with ayah 111

Al-An'aam 6:112Listen in Qur'an →
113

وَلِتَصْغَىٰٓ إِلَيْهِ أَفْـِٔدَةُ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ وَلِيَرْضَوْهُ وَلِيَقْتَرِفُوا۟ مَا هُم مُّقْتَرِفُونَ

اور (وہ ایسے کام) اس لیے بھی (کرتے تھے) کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل ان کی باتوں پر مائل ہوں اور وہ انہیں پسند کریں اور جو کام وہ کرتے تھے وہ ہی کرنے لگیں

Explained together with ayah 111

Al-An'aam 6:113Listen in Qur'an →
114

أَفَغَيْرَ ٱللَّهِ أَبْتَغِى حَكَمًۭا وَهُوَ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ إِلَيْكُمُ ٱلْكِتَٰبَ مُفَصَّلًۭا ۚ وَٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ يَعْلَمُونَ أَنَّهُۥ مُنَزَّلٌۭ مِّن رَّبِّكَ بِٱلْحَقِّ ۖ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُمْتَرِينَ

(کہو) کیا میں خدا کے سوا اور منصف تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہاری طرف واضع المطالب کتاب بھیجی ہے اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب (تورات) دی ہے وہ جانتے ہیں کہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق نازل ہوئی ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا

خلاصہ تفسیر - (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجئے کہ میرے تمہارے درمیان جو مقدمہ رسالت میں اختلاف ہے کہ میں بحکم سرکاری اس کا مدعی ہوں اور تم منکر اور یہ مقدمہ اجلاس احکم الحاکمین سے میرے حق میں اس طرح طے اور فیصل ہوچکا ہے کہ میرے اس دعوے پر کافی ثبوت اور دلیل، یعنی قرآن معجز خود قائم فرما دیا ہے اور تم پھر بھی نہیں مانتے) تو کیا (تم یہ چاہتے ہو کہ اس خدائی فیصلہ کو کافی نہ قرار دوں اور) اللہ کے سوا کسی اور فیصلہ کرنے والے کو تلاش کروں، حالانکہ وہ ایسا (کامل فیصلہ کرچکا) ہے کہ اس نے ایک کتاب (جو اپنے اعجاز میں) کامل (ہے) تمہارے پاس بھیج دی ہے (جو اپنے اعجاز کی وجہ سے دلالة علی النبوة میں کافی ہے، پس اس کے دو کمال تو یہ ہیں، اعجاز و تنزیل من اللہ، اور اس کے علاوہ اور وجوہ سے بھی کامل، اور اس سے جو اور مقاصد ہدایت وتعلیم کے متعلق ہیں ان کے لئے کافی ہے، چنانچہ) اس کی (ایک یعنی تیسری) حالت (کمال کی) یہ ہے کہ اس کے مضامین (جو دین کے باب میں اہم ہیں) خوب صاف صاف بیان کئے گئے ہیں اور (چوتھا وصف کمال اس کا یہ ہے کہ کتب سابقہ میں اس کی خبر دی گئی تھی جو علامت ہے اس کے مہتم بالشان ہونے کی، چنانچہ) جن لوگوں کو ہم نے کتاب (یعنی تورات و انجیل) دی ہے وہ اس کو یقین کے ساتھ جانتے ہیں کہ یہ (قرآن) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رب کی طرف سے واقعیت کے ساتھ بھیجا گیا ہے (اس کو جانتے تو سب ہیں، پھر جن میں حق گوئی کی صفت تھی، انہوں نے ظاہر بھی کردیا، اور جو معاند تھے وہ ظاہر نہ کرتے تھے) سو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شبہ کرنے والوں میں نہ ہوں اور (پانچواں وصف کمال اس کا یہ ہے کہ) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رب کا (یہ) کلام واقعیت اور اعتدال کے اعتبار سے (بھی) کامل ہے (یعنی علوم و عقائد میں واقعیت اور اعمال ظاہری اور باطنی میں اعتدال لئے ہوئے ہے، اور چھٹا وصف کمال اس کا یہ ہے کہ) اس کے (اس) کلام کا کوئی بدلنے والا نہیں (یعنی کسی کی تحریف و تغیر سے اس کا اللہ محافظ ہے (وانا لہ لحفظون) اور (ایسی کامل دلیل پر بھی جو لوگ تکذیب قلبی و زبانی سے پیش آویں) وہ (یعنی اللہ تعالیٰ ان کے اقوال کو) خوب سن رہے ہیں (اور ان کے عقائد کو) خوب جان رہے ہیں (اپنے وقت پر ان کو کافی سزا دیں گے) اور (باوجود وضوح دلائل کے) دنیا میں زیادہ لوگ ایسے (منکر اور گمراہ ہی) ہیں کہ اگر (بالفرض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کا کہنا ماننے لگیں تو وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ کی راہ (راست) سے بےراہ کردیں (کیونکہ وہ خود گمراہ ہیں چناچہ عقائد میں) وہ محض بےاصل خیالات پر چلتے ہیں اور (اقوال میں) بالکل قیاسی باتیں کرتے ہیں (اور ان کے مقابلہ میں بعض بندگان خدا راہ پر بھی ہیں اور) بالیقین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رب ان کو (بھی) خوب جاننا ہے جو اس کی (بتلائی ہوئی) راہ (راست) سے بےراہ ہوجاتا ہے اور وہ (ہی) ان کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی (بتلائی ہوئی) راہ پر چلتے ہیں (پس گمراہوں کو سزا ملے گی راہ والوں کا انعام و اکرام ہوگا) ۔- معارف و مسائل - پچھلی آیات میں اس کا ذکر تھا کہ مشرکین مکہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کے حق و صحیح ہونے پر کھلے کھلے معجزات اور دلائل دیکھنے اور جاننے کے باوجود ہٹ دھرمی سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ فلاں فلاں قسم کے خاص معجزات ہمیں دکھا لئے جائیں تو ہم ماننے کو تیار ہیں، قرآن کریم نے ان کی کج بحثی کا یہ جواب دیا کہ جو معجزات یہ اب دیکھنا چاہتے ہیں ہمارے لئے ان کا ظاہر کرنا بھی کچھ مشکل نہیں، لیکن یہ ہٹ دھرم لوگ ان کو دیکھنے کے بعد بھی سرکشی سے باز نہ آئیں گے، اور قانون قدرت کے ماتحت اس کا نتیجہ پھر یہ ہوگا کہ ان سب پر عذاب آجائے گا۔- اسی لئے رحمة للعالمین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے مانگے ہوئے معجزات کے ظاہر کرنے سے شفقت کی …

Al-An'aam 6:114Listen in Qur'an →
115

وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًۭا وَعَدْلًۭا ۚ لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَٰتِهِۦ ۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ

اور تمہارے پروردگار کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہیں اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور وہ سنتا جانتا ہے

دوسری آیت میں قرآن حکیم کی اور دو امتیازی صفات کا بیان ہے جو قرآن کے کلام الٓہی ہونے کا کافی ثبوت ہے وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا یعنی کامل ہے کلام آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رب کا، سچائی اور انصاف اور اعتدال کے اعتبار سے، اس کے کلام کو کوئی بدلنے والا نہیں۔- لفظ ثَمَّت میں کامل ہونے کا بیان ہے، اور کَلِمَتُ رَبِّکَ سے مراد قرآن ہے (بحر محیط عن قتادہ (رض) قرآن کے کل مضامین دو قسم کے ہیں، ایک وہ جن میں تاریخ عالم کے عبرت آموز واقعات و حالات اور نیک اعمال پر وعدہ اور برے اعمال پر سزا کی وعید بیان کی گئی ہے، دوسرے وہ جن میں انسان کی صلاح و فلاح کے لئے احکام بیان کئے گئے ہیں، ان دونوں قسموں کے متعلق قرآن مجید کی یہ دو صفتیں بیان فرمائیں، صدقاً وعدلاً ، صدق کا تعلق پہلی قسم سے ہے، یعنی جتنے واقعات و حالات یا وعدہ و عید قرآن میں بیان کئے گئے ہیں وہ سب سچے اور صحیح ہیں، ان میں کسی غلطی کا امکان نہیں، اور عدل کا تعلق دوسری قسم یعنی احکام سے ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ جل شانہ کے تمام احکام عدل پر مبنی ہیں، اور لفظ عدل کا مفہوم دو معنی کو شامل ہے، ایک انصاف جس میں کسی پر ظلم اور حق تلفی نہ ہو، دوسرے اعتدال کہ نہ بالکل انسان کی نفسانی خواہشات کے تابع ہوں، اور نہ ایسے جن کو انسانی جذبات اور اس کے فطری ملکات برداشت نہ کرسکیں، جس کا مطلب یہ ہوا کہ تمام احکام الٓہیہ انصاف اور اعتدال پر مبنی ہیں نہ ان میں کسی پر ظلم ہے، اور نہ ان میں ایسی شدت اور تکلیف ہے جس کو انسان برداشت نہ کرسکے، جیسے دوسری جگہ ارشاد ہے : (آیت) لا یکلف اللّٰہ نفسا الا وسعھا، یعنی اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی وسعت و طاقت سے زیادہ کسی عمل کی تکلیف نہیں دیے “۔ اس کے ساتھ ہی اس آیت میں لفظ تَمَّت لا کر یہ بھی بتلا دیا کہ صرف یہی نہیں کہ قرآن کریم میں صدق و عدل کی صفات موجود ہیں، بلکہ وہ ان صفات میں ہر حیثیت سے کامل و مکمل ہے۔- اور یہ بات کہ تمام قرآنی احکام تمام اقوام دنیا کے لئے اور قیامت تک آنے والی نسلوں اور بدلنے والے حالات کے لئے انصاف پر بھی مبنی ہوں اور اعتدال پر بھی، یہ اگر ذرا بھی غور کیا جائے تو صرف احکام خدا وندی ہی میں ہوسکتا ہے، دنیا کی کوئی قانون ساز اسمبلی تمام موجودہ اور آئندہ پیش آنے والے حالات کا نہ پورا اندازہ لگا سکتی ہے، اور نہ ان سب حالات کی رعایت کرکے کوئی قانون بنا سکتی ہے، ہر ملک و قوم اپنے ملک اور اپنی قوم کے بھی صرف موجودہ حالات کے پیش نظر قانون بناتی ہے، اور ان قوانین میں بھی تجربہ کرنے کے بعد بہت سی چیزیں عدل و اعتدال کے خلاف محسوس ہوتی ہیں، تو ان کو بدلنا پڑتا ہے، دوسری قوموں اور دوسرے ملکوں یا آئندہ حالات کی پوری رعایت کرکے ایسا قانون وضع کرنا جو قوم ہر ملک ہر حال میں عدل و اعتدال کی صفات لئے ہوئے ہو، یہ انسانی فکر و نظر سے بالاتر ہے، صرف حق جل و علا شانہ، کے ہی کلام میں ہوسکتا ہے، اس لئے یہ پانچویں صفت قرآن کریم کی کہ اس میں بیان کئے ہوئے گزشتہ اور آئندہ کے تمام واقعات اور وعدہ وعید سب سچے ہیں، ان میں خلاف واقع ہونے کا ادنیٰ شبہ نہیں ہوسکتا، اور اس کے بیان کئے ہوئے تمام احکام پوری دنیا اور قیامت تک آنے والی نسلوں کے لئے عدل و اعتدال لئے ہوئے ہیں، نہ ان میں کسی پر ظلم ہے، نہ اعتدال و میانہ روی سے سرِ مو تجاوز ہے، یہ بجائے خود قرآن کے کلام الٓہی ہونے کا مکمل ثبوت ہے۔- چھٹی صفت یہ بیان فرمائی کہ (آیت) ۭلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ، یعنی اللہ تعالیٰ کے کلمات کو کوئی بدلنے والا نہیں، بدلنے کی ایک صورت تو یہ ہو سکتی ہے کہ کوئی اس میں غلطی ثابت کرے، اس لئے بدلا جائے، یا یہ کہ کوئی دشمن زبردستی اس کو بدل ڈالے، اللہ تعالیٰ کا کلام ان سب چیزوں سے بالا تر اور پاک ہے اس نے خود وعدہ فرمایا ہے کہ (آیت) انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون، ” یعنی ہم نے ہی …

Al-An'aam 6:115Listen in Qur'an →
116

وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِى ٱلْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ

اور اکثر لوگ جو زمین پر آباد ہیں (گمراہ ہیں) اگر تم ان کا کہا مان لو گے تو وہ تمہیں خدا کا رستہ بھلا دیں گے یہ محض خیال کے پیچھے چلتے اور نرے اٹکل کے تیر چلاتے ہیں

تیسری آیت میں حق تعالیٰ نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع دی کہ زمین پر بسنے والے بنی آدم کی اکثریت گمراہی پر ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے مرعوب نہ ہوں ان کی باتوں پر کان نہ دھریں قرآن نے متعدد مقامات پر اس مضمون کو بیان فرمایا ہے، ایک جگہ ارشاد ہے (آیت) ولقد ضل قبلھم اکثر الاولین، دوسری جگہ ارشاد ہے (آیت) وما اکثر الناس ولو حرصت بمومنین، مطلب یہ ہے کہ عادةً انسان پر عددی اکثریت کا رعب غالب ہوجاتا ہے، اور ان کی اطاعت کرنے لگتا ہے، اس لئے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کیا گیا کہ :- ” دنیا میں زیادہ لوگ ایسے ہیں کہ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کا کہنا ماننے لگیں تو وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ کی راہ سے بےراہ کردیں، کیونکہ وہ عقائد و نظریات میں محض خیالات اور اوہام کے پیچھے چلتے ہیں اور احکام میں محض تخمینہ اور اٹکل سے کام لیتے ہیں، جن کی کوئی بنیاد نہیں “۔- خلاصہ یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی عددی اکثریت سے مرعوب ہو کر ان کو موافقت کا خیال بھی نہ فرماویں، کیونکہ یہ سب بےاصول اور بےراہ چلنے والے ہیں، آخر آیت میں فرمایا کہ :- ” بالیقین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رب ان کو خوب جانتا ہے، جو اس کی راہ سے بےراہ ہوجاتا ہے اور وہ اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ پر چلتا ہے، پس جیسے گمراہوں کو سزا ملے گی، سیدھی راہ والوں کو انعام و اکرام حاصل ہوگا “۔

Al-An'aam 6:116Listen in Qur'an →
117

إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ مَن يَضِلُّ عَن سَبِيلِهِۦ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُهْتَدِينَ

تمہارا پروردگار ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو اس کے رستے سے بھٹکے ہوئے ہیں اور ان سے بھی خوب واقف ہے جو رستے پر چل رہے ہیں

Explained together with ayah 116

Al-An'aam 6:117Listen in Qur'an →
118

فَكُلُوا۟ مِمَّا ذُكِرَ ٱسْمُ ٱللَّهِ عَلَيْهِ إِن كُنتُم بِـَٔايَٰتِهِۦ مُؤْمِنِينَ

تو جس چیز پر (ذبح کے وقت) خدا کا نام لیا جائے اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو تو اسے کھا لیا کرو

ربط آیات - اوپر وَاِن تَطِع کے الفاظ میں اہل اضلال کے اتباع سے مطلقاً منع فرمایا تھا آگے باقتضائے ایک واقعہ کے ایک خاص امر میں اتباع کرنے سے منع فرماتے ہیں، وہ خاص واقعہ مذبوح وغیر مذبوح کی حلت کا ہے، واقعہ یہ ہے کہ کفار نے مسلمانوں کو شبہ ڈالنا چاہا کہ اللہ کے مارے ہوئے جانور کو تو کھاتے نہیں ہو اور اپنے مارے ہوئے یعنی ذبیحہ کو کھاتے ہو، اخرجہ ابو داود والحکم عن ابن عباس (رض) ( بعض مسلمانوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں یہ شبہ نقل کیا، اس پر یہ آیتیں لَمُشرِکُونَ تک نازل ہوئیں، رواہ ابو داؤد والترمذی عن ابن عباس (رض) کذا فی اللباب۔- حاصل جواب یہ ہے کہ تم مسلمان ہو اللہ کے احکام کا التزام کئے ہوئے ہو، اور اللہ تعالیٰ نے حلال و حرام کی تفصیل بتلا دی ہے، پس اس پر چلتے رہو، حلال و حرام ہونے کا اور حرام پر حلال ہونے کا شبہ مت کرو، اور مشرکین کے وساوس کی طرف التفات نہ کرو۔ - اور تحقیق اس جواب کی یہ ہے کہ اصول کے اثبات کے لئے دلائل عقلیہ درکار ہیں اور بعد ثابت ہوجانے اصول کے اعمال و فروع میں صرف دلائل نقلیہ کافی ہیں، عقلیات کی ضرورت نہیں، بلکہ بعض اوقات مضر ہے کہ اس سے شبہات کے دروازے کھلتے ہیں کیوں کہ روبرو واقناعیات و خطابیات کا تبرعاً پیش کردینا مضائقہ نہیں، لیکن جب یہ بھی نہ ہو بلکہ مجادلہ ہو تو اپنے کام میں لگنا چاہئے، اور معترض کی طرف التفات نہ کرنا چاہئے، ہاں اگر معترض کسی فرع کا عقلی قطعی دلیل کے مخالف ہونا ثابت کرنا چاہئے تو اس کا جواب بذمہ مدعی حق ہوگا، مگر مشرکین کے شبہ میں اس کا احتمال ہی نہیں، اس لئے اس جواب میں صرف مسلمانوں کو بقاعدہ مذکورہ بالا خطاب ہے، کہ ایسی خرافات پر نظر مت کرو، حق کے معتقد اور عامل رہو، اس بناء پر اس مقام میں مشرکین کے شبہ کا جواب صراحةً مذکور نہ ہونا محل شبہ نہیں ہوسکتا، مگر اس پر بھی اس کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے، جہاں کُلُوا میں ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ اور لَا تَاْكُلُوْا میں لَمْ يُذْكَرِاسْمُ اللّٰهِ مذکور ہے، اور یہ عادت سے اور دوسرے دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ ذبح کے وقت ہوگا اور لَمْ يُذْكَرِاسْمُ اللّٰهِ کے تحقیق کی دو صورتیں ہوں گی، عدم ذبح جو نجس خون کو نکال کر نجات سے پاک کردیتا ہے، اور وہ نجاست ہی سبب ممانعت تھی، دوسرے اللہ کا نام لینا کہ مفید برکت ہے جو کہ حیوانات دمویہ میں شرط حلت ہے، اور کسی چیز کے وجود کے لئے مانع کا دور کرنا شرط کا وجود دونوں امر ضروری ہیں، پس اس مجموعہ سے حلّت ثابت ہوگی۔- خلاصہ تفسیر - (اور جب اوپر کفار کے اتباع کا مذموم ہونا معلوم ہوگیا) سو جس (حلال) جانور پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام (بلا شرکت) لیا جاوے اس میں سے (بےتکلّف) کھاؤ (اور اس کو مباح و حلال سمجھو) اگر تم اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہو (کیونکہ حلال و حرام جاننا بخلاف ایمان ہے) اور تم کو کون امر (از قبل عقیدہ) اس کا باعث ہوسکتا ہے کہ تم ایسے جانور میں سے نہ کھاؤ جس پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام (بلا شرکت) لیا گیا ہو، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے (دوسری آیت میں) ان سب جانوروں کی تفصیل بتلا دی ہے، جن کو تم پر حرام کیا ہے، مگر وہ بھی جب تم کو سخت ضرورت پڑجاوے تو حلال ہیں (اور اس تفصیل میں یہ مذبوح علی اسم اللہ داخل نہیں پھر اس کے کھانے میں اعتقاداً کیوں انقباض ہو) اور ( ان لوگوں کے شبہات کی طرف اصلاً التفات نہ کرو کیونکہ) یہ یقینی بات ہے کہ بہت سے آدمی (کہ ان ہی میں سے یہ بھی ہیں اپنے ساتھ دوسروں کو بھی) اپنے غلط خیالات (کی بنا پر) بلا کسی سند کے گمراہ کرتے (پھرتے) ہیں (لیکن آخر کہاں تک خیر مناویں گے) اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ حد (ایمان) سے نکل جانے والوں کو (جن میں یہ بھی ہیں) خوب جانتا ہے (پس یکبارگی سزا دے گا) اور تم ظاہری گناہ کو بھی چھوڑو اور باطنی گناہ کو بھی چھوڑ دو (مثلاً …

Al-An'aam 6:118Listen in Qur'an →
119

وَمَا لَكُمْ أَلَّا تَأْكُلُوا۟ مِمَّا ذُكِرَ ٱسْمُ ٱللَّهِ عَلَيْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا ٱضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ ۗ وَإِنَّ كَثِيرًۭا لَّيُضِلُّونَ بِأَهْوَآئِهِم بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُعْتَدِينَ

اور سبب کیا ہے کہ جس چیز پر خدا کا نام لیا جائے تم اسے نہ کھاؤ حالانکہ جو چیزیں اس نے تمہارے لیے حرام ٹھیرا دی ہیں وہ ایک ایک کر کے بیان کر دی ہیں (بے شک ان کو نہیں کھانا چاہیے) مگر اس صورت میں کہ ان کے (کھانے کے) لیے ناچار ہو جاؤ اور بہت سے لوگ بےسمجھے بوجھے اپنے نفس کی خواہشوں سے لوگوں کو بہکا رہے ہیں کچھ شک نہیں کہ ایسے لوگوں کو جو (خدا کی مقرر کی ہوئی) حد سے باہر نکل جاتے ہیں تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے

Explained together with ayah 118

Al-An'aam 6:119Listen in Qur'an →
120

وَذَرُوا۟ ظَٰهِرَ ٱلْإِثْمِ وَبَاطِنَهُۥٓ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْسِبُونَ ٱلْإِثْمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوا۟ يَقْتَرِفُونَ

اور ظاہری اور پوشیدہ (ہر طرح کا) گناہ ترک کر دو جو لوگ گناہ کرتے ہیں وہ عنقریب اپنے کئے کی سزا پائیں گے

Explained together with ayah 118

Al-An'aam 6:120Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.