Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr

Ayahs 111–120 of 165

111

۞ وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَآ إِلَيْهِمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ ٱلْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَىْءٍۢ قُبُلًۭا مَّا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوٓا۟ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ

اور اگر ہم ان پر فرشتے بھی اتار دیتے اور مردے بھی ان سے گفتگو کرنے لگتے اور ہم سب چیزوں کو ان کے سامنے لا موجود بھی کر دیتے تو بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے اِلّا ماشائالله بات یہ ہے کہ یہ اکثر نادان ہیں

Explained together with ayah 108

Al-An'aam 6:111Listen in Qur'an →
112

وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِىٍّ عَدُوًّۭا شَيَٰطِينَ ٱلْإِنسِ وَٱلْجِنِّ يُوحِى بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍۢ زُخْرُفَ ٱلْقَوْلِ غُرُورًۭا ۚ وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ ۖ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ

اور اسی طرح ہم نے شیطان (سیرت) انسانوں اور جنوں کو ہر پیغمبر کا دشمن بنا دیا تھا وہ دھوکا دینے کے لیے ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی باتیں ڈالتے رہتے تھے اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو اور جو کچھ یہ افتراء کرتے ہیں اسے چھوڑ دو

Explained together with ayah 108

Al-An'aam 6:112Listen in Qur'an →
113

وَلِتَصْغَىٰٓ إِلَيْهِ أَفْـِٔدَةُ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ وَلِيَرْضَوْهُ وَلِيَقْتَرِفُوا۟ مَا هُم مُّقْتَرِفُونَ

اور (وہ ایسے کام) اس لیے بھی (کرتے تھے) کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل ان کی باتوں پر مائل ہوں اور وہ انہیں پسند کریں اور جو کام وہ کرتے تھے وہ ہی کرنے لگیں

Explained together with ayah 108

Al-An'aam 6:113Listen in Qur'an →
114

أَفَغَيْرَ ٱللَّهِ أَبْتَغِى حَكَمًۭا وَهُوَ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ إِلَيْكُمُ ٱلْكِتَٰبَ مُفَصَّلًۭا ۚ وَٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ يَعْلَمُونَ أَنَّهُۥ مُنَزَّلٌۭ مِّن رَّبِّكَ بِٱلْحَقِّ ۖ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُمْتَرِينَ

(کہو) کیا میں خدا کے سوا اور منصف تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہاری طرف واضع المطالب کتاب بھیجی ہے اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب (تورات) دی ہے وہ جانتے ہیں کہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق نازل ہوئی ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا

Explained together with ayah 108

Al-An'aam 6:114Listen in Qur'an →
115

وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًۭا وَعَدْلًۭا ۚ لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَٰتِهِۦ ۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ

اور تمہارے پروردگار کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہیں اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور وہ سنتا جانتا ہے

Explained together with ayah 108

Al-An'aam 6:115Listen in Qur'an →
116

وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِى ٱلْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ

اور اکثر لوگ جو زمین پر آباد ہیں (گمراہ ہیں) اگر تم ان کا کہا مان لو گے تو وہ تمہیں خدا کا رستہ بھلا دیں گے یہ محض خیال کے پیچھے چلتے اور نرے اٹکل کے تیر چلاتے ہیں

Explained together with ayah 108

Al-An'aam 6:116Listen in Qur'an →
117

إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ مَن يَضِلُّ عَن سَبِيلِهِۦ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُهْتَدِينَ

تمہارا پروردگار ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو اس کے رستے سے بھٹکے ہوئے ہیں اور ان سے بھی خوب واقف ہے جو رستے پر چل رہے ہیں

Explained together with ayah 108

Al-An'aam 6:117Listen in Qur'an →
118

فَكُلُوا۟ مِمَّا ذُكِرَ ٱسْمُ ٱللَّهِ عَلَيْهِ إِن كُنتُم بِـَٔايَٰتِهِۦ مُؤْمِنِينَ

تو جس چیز پر (ذبح کے وقت) خدا کا نام لیا جائے اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو تو اسے کھا لیا کرو

احکام ذبیحہ - قول باری ہے ۔ فکلوا مما ذکراسم اللہ علیہ ان کنتم بایاتہ مومنین پھر اگر تم لوگ اللہ کی آیات پر ایمان رکھتے ہو تو جس جانور پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اس کا گوشت کھائو) آیت کا ظاہر تو امر کی صورت میں ہے لیکن اس کے معنی اباحت کے ہیں۔ جس طرح یہ قول باری ہے (واذا حللتم فاصطادوا جب تم احرام کھول دو تو پھر شکار کرو) یا ( فاذا اقضیت الصلوٰۃ فاتتشروا فی الارض جب جمعہ کی نماز پڑھ لی جائے تو پھر زمین میں بکھر جائو) آیت زیر بحث میں امر کے صیغے سے اباحت اس وقت مراد ہوگی جب تلذذ اور لطف اندوزی کی خاطر گوشت خوری مقصود ہو۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ اگر کوئی شخص گوشت خوری سے اللہ کی اطاعت میں مدد حاصل کرے تو اسے اس بات کی ترغیب دی گئی ہے کہ اس سلسلے میں اسے اللہ کی طرف سے اجازت کی صحت پر یقین رکھنا چاہیے اس صورت میں اس کی یہ گوشت خوری اجر کا باعث بنے گی۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ ( ان کنتم بایاتہ مومنین) ایسے جانور کے گوشت کی ممانعت پر دلالت کرتا ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اس لیے کہ یہ فقرہ اس قسم کی گوشت خوری میں مشرکین کے خلاف چلنے کا مقتضی ہے۔- قول باری ( مما ذکر اسم اللہ علیہ) تمام اذکار کے لیے عموم ہے یعنی اس میں اللہ کے نام لینے کی تمام صورتیں آ جاتی ہیں۔ اگر غاصب غصب شدہ بکری کو ذبح کر دے یا کوئی شخص عصب شدہ چھری کے ذریعے کوئی جانور حلال کر دے تو اس قسم کے ذبیحہ کا گوشت کھا لینے کے جواب پر اس آیت سے استدلال کیا گیا ہے اس لیے کہ حکم الٰہی ہے ( فکلوا مما ذکرا اسم اللہ علیہ ) اس بناء پر بکری کے مالک کو اس کا گوشت کھا لینا جائز ہے کیونکہ اس پر ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا گیا ہے۔

Al-An'aam 6:118Listen in Qur'an →
119

وَمَا لَكُمْ أَلَّا تَأْكُلُوا۟ مِمَّا ذُكِرَ ٱسْمُ ٱللَّهِ عَلَيْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا ٱضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ ۗ وَإِنَّ كَثِيرًۭا لَّيُضِلُّونَ بِأَهْوَآئِهِم بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُعْتَدِينَ

اور سبب کیا ہے کہ جس چیز پر خدا کا نام لیا جائے تم اسے نہ کھاؤ حالانکہ جو چیزیں اس نے تمہارے لیے حرام ٹھیرا دی ہیں وہ ایک ایک کر کے بیان کر دی ہیں (بے شک ان کو نہیں کھانا چاہیے) مگر اس صورت میں کہ ان کے (کھانے کے) لیے ناچار ہو جاؤ اور بہت سے لوگ بےسمجھے بوجھے اپنے نفس کی خواہشوں سے لوگوں کو بہکا رہے ہیں کچھ شک نہیں کہ ایسے لوگوں کو جو (خدا کی مقرر کی ہوئی) حد سے باہر نکل جاتے ہیں تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے

Explained together with ayah 118

Al-An'aam 6:119Listen in Qur'an →
120

وَذَرُوا۟ ظَٰهِرَ ٱلْإِثْمِ وَبَاطِنَهُۥٓ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْسِبُونَ ٱلْإِثْمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوا۟ يَقْتَرِفُونَ

اور ظاہری اور پوشیدہ (ہر طرح کا) گناہ ترک کر دو جو لوگ گناہ کرتے ہیں وہ عنقریب اپنے کئے کی سزا پائیں گے

قول باری ہے ( وذروا ظاھر الاثم و باطنہ۔ تم کھلے گناہوں سے بھی بچو اور چھپے گناہوں سے بھی) ضحاک کا قول ہے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ کھلم کھلا زنا کاری کو گناہ سمجھتے تھے لیکن حفیہ طور پر اس فعل بد کے ارتکاب کو گناہ نہیں خیال کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ( وزروا ظاھر الاثم و باطنہ) اس میں ہر ایسے فعل سے جو لفظ اثم کے تحت آتا ہو علانیہ طور پر باز رہنے کے حکم میں عموم ہے اور خفیہ طور پر بھی۔ یہ آیت شراب کی تحریم کی بھی موجب ہے اس لیے کہ قول باری ہے ( یسئلونک عن الخمر والمیسر قل فیھما اثم کبیر۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شراب اور جوئے کے متعلق پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ ان دونوں چیزوں میں بہت بڑا گناہ ہے ۔ آیت زیر بحث میں کھلے گناہوں سے افعال مراد ہوسکتے ہیں جو اعضاء و جوارح کے ذریعے کیے جائیں اور چھپے گناہوں سے ایسے امور مراد لیے جائیں جن کا تعلق دل کے ساتھ وہتا ہے یعنی ایسے اعتقادات و جذبات اور تصورات و خیالات سے دل کو پاک رکھنا جن کی شریعت میں ممانعت کردی گئی ہے۔

Al-An'aam 6:120Listen in Qur'an →

Commentary: Ahkam ul Quran by Imam Abu Bakr. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.