Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 111–120 of 165

111

۞ وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَآ إِلَيْهِمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ ٱلْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَىْءٍۢ قُبُلًۭا مَّا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوٓا۟ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ

اور اگر ہم ان پر فرشتے بھی اتار دیتے اور مردے بھی ان سے گفتگو کرنے لگتے اور ہم سب چیزوں کو ان کے سامنے لا موجود بھی کر دیتے تو بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے اِلّا ماشائالله بات یہ ہے کہ یہ اکثر نادان ہیں

حق ایک شخص کے سامنے دلائل کے ساتھ آتا ہے اور وہ اس کا انکار کردیتا ہے تو اس کی وجہ ہمیشہ ایک ہوتی ہے۔ بات کو ا س کے صحیح رخ سے دیکھنے کے بجائے الٹے رخ سے دیکھنا۔ کوئی بات خواہ کتنی ہی مدلّل ہو، آدمی اگر اس کو ماننا نه چاہے تو وہ اس کو رد کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ الفاظ پالے گا۔ مثلاً داعی کے دلائل کو دلائل کی حیثیت سے دیکھنے کے بجائے وہ یہ بحث چھیڑ دے گا کہ تمھارے سوا جو دوسرے بزرگ ہیں کیا وہ سب حق سے محروم تھے، اور اسی طرح دوسری باتیں۔

جس آدمی کے اندراس قسم کا مزاج ہو اس کا راہ راست پر آنا انتہائی مشکل ہے۔ وہ ہر بات کو غلط رخ دے کر اس کے انکار کا ایک بہانہ تلاش کرسکتا ہے۔ نظري دلائل کو رد کرنے کے ليے اگر اس کو یہ الفاظ مل رہے تھے کہ یہ اسلاف کے مسلک کے خلاف ہے تو حسی مشاہدہ کو رد کرنے کے ليے وہ الفاظ پالے گا کہ یہ نظر کا دھوکا ہے۔ اس کی حقیقت ایک فرضی طلسم کے سوا اور کچھ نہیں۔ جو مزاج نظری دلیل کو ماننے میں رکاوٹ بنا تھا وہی مزاج حسی دلیل کو ماننے میں بھی رکاوٹ بن جائے گا۔ آدمی اب بھی اسی طرح محروم رہے گا جیسے وہ پہلے محروم تھا۔

اس قسم کے لوگ اپنی نفسیات کے اعتبار سے سرکش واقع ہوتے ہیں۔ وہ ہر حال میں اپنے کو اونچا دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایک داعی جب ان کے سامنے حق کا پیغام لے كر آتا ہے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ ماحول میں اجنبی ہوتا ہے، وہ وقت کی عظمتوں سے خالی ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ اپنے کو منسوب کرنا اپنی حیثیت کو نیچے گرانے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس لیے برتری کی نفسیات رکھنے والے لوگ اس کو قبول نہیں کرپاتے۔ وہ طرح طرح کی توجیہات پیش کرکے اس کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔

دانائی یہ ہے کہ آدمی خدا کے نقشہ کو مانے اور اس کے مطابق اپنے ذہن کو چلانے کے لیے تیار ہو۔ اس کے برعکس، نادانی یہ ہے کہ آدمی خدا کے نقشہ کے بجائے خود ساختہ معیار قائم کرے اور کہے کہ جو چیز مجھ کو اس معیار پر ملے گی میں اس کو مانوں گا اور جو چیز اس معیا رپر نہیں ملے گی ،اس کو نہیں مانوں گا۔ ایسے آدمی کے لیے اس دنیا میں صرف بھٹکناہے۔ خدا کی اس دنیا میں آدمی خدا کے مقرر كيے ہوئے طریقوں کی پیروی کرکے منزل تک پہنچ سکتا ہے، نہ کہ اس کے مقررہ طریقہ کو چھوڑ کر۔

Al-An'aam 6:111Listen in Qur'an →
112

وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِىٍّ عَدُوًّۭا شَيَٰطِينَ ٱلْإِنسِ وَٱلْجِنِّ يُوحِى بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍۢ زُخْرُفَ ٱلْقَوْلِ غُرُورًۭا ۚ وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ ۖ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ

اور اسی طرح ہم نے شیطان (سیرت) انسانوں اور جنوں کو ہر پیغمبر کا دشمن بنا دیا تھا وہ دھوکا دینے کے لیے ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی باتیں ڈالتے رہتے تھے اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو اور جو کچھ یہ افتراء کرتے ہیں اسے چھوڑ دو

ابن جریر نے حضرت ابو ذ ر سے نقل کیا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شریک ہوا۔ یہ ایک لمبی مجلس تھی۔ آپ نے فرمایا اے ابو ذر، کیا تم نے نماز پڑھ لی۔ میں نے کہا نہیں اے خدا کے رسول۔ آپ نے فرمایا اٹھو اور دو رکعت نماز پڑھو۔ وہ نماز پڑھ کر دوبارہ مجلس میں آکر بیٹھے تو آپ نے فرمایااے ابو ذر کیا تم نے جن وانس کے شیطانوں کے مقابلہ میں اللہ سے پناہ مانگی۔ میں نے کہا نہیں اے خدا کے رسول، کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں۔ آپ نے فرمایاہاں، وہ شیاطینِ جن سے بھی زیادہ برے ہیں (نَعَمْ، هُمْ شَرٌّ مِنْ شَيَاطِينِ الْجِنِّ )تفسیر ابن جریر الطبری، جلد 9، صفحہ 500

یہاں شیاطین انس سے مراد وہ لوگ ہیں جو دعوت حق کو بے اعتبار ثابت کرنے کے ليے قائدانہ کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خود ساختہ مذہب کی بنیاد پر عزت ومقبولیت کا مقام حاصل كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ جب حق کی دعوت اپنی بے آمیز شکل میں اٹھتی ہے تو ان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان کو برہنہ کررہی ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے سیدھا راستہ تو یہ تھا کہ وہ حق کی وضاحت کے بعد اس کو مان لیں مگر حق کے مقابلہ میں اپنا مقام ان کو زیادہ عزیز ہوتا ہے۔ اپنی حیثیت کو بچانے کے لیے وہ خود داعی اور اس کی دعوت کو مشتبہ ثابت کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ خوش نما الفاظ کا سہارا لیتے ہیں۔ وہ داعی اور اس کی دعوت میںایسے شوشے نکالتے ہیں جو اگرچہ بذاتِ خود بے حقیقت ہوتے ہیں مگر بہت سے لوگ اس سے متاثر ہو کر اس کے بارے میں شبه ميں پڑجاتے ہیں۔

موجودہ دنیا میں جو امتحانی حالات پیدا كيے گئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہاں صحیح بات کہنے والے کو بھی الفاظ مل جاتے ہیں اور غلط بات کہنے والے کو بھی۔ حق کا داعی اگر حق کو دلائل کی زبان میں بیان کرسکتا ہے تو اسی کے ساتھ باطل پرستوں کو بھی یہ موقع حاصل ہے کہ وہ حق کے خلاف کچھ ایسے خوش نما الفاظ بول سکیں جو لوگوں کو دلیل معلوم ہوں اور وہ اس سے متاثر ہو کر حق کا ساتھ دینا چھوڑ دیں۔ یہ صورت حال امتحان کی غرض سے ہے اس ليے وہ لازماً قیامت تک باقی رہے گی۔ اس دنیا میں بہر حال آدمی کو اس امتحان میں کھڑا ہونا ہے کہ وہ سچے دلائل اور بے بنیاد باتوں کے درمیان فرق کرے اور بے بنیاد باتوں کو رد کرکے سچے دلائل کو قبول کرلے۔

شیاطینِ انس اپنی ذہانت سے حق کے خلاف جو پُرفریب شوشے نکالتے ہیں وہ انھیں لوگوں کو متاثر کرتے ہیں جو آخرت کے فکر سے خالی ہوں۔ آخرت کا اندیشہ آدمی کو انتہائی سنجیدہ بنادیتا ہے اور جو شخص سنجیدہ ہو اس سے باتوں کی حقیقت کبھی چھپی نہیں رہ سکتی۔ مگر جو لوگ آخرت کے اندیشہ سے خالی ہوں وہ حق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہوتے۔ اسی لیے وہ شوشہ اور دلیل کا فرق بھی سمجھ نہیں پاتے۔

Al-An'aam 6:112Listen in Qur'an →
113

وَلِتَصْغَىٰٓ إِلَيْهِ أَفْـِٔدَةُ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ وَلِيَرْضَوْهُ وَلِيَقْتَرِفُوا۟ مَا هُم مُّقْتَرِفُونَ

اور (وہ ایسے کام) اس لیے بھی (کرتے تھے) کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل ان کی باتوں پر مائل ہوں اور وہ انہیں پسند کریں اور جو کام وہ کرتے تھے وہ ہی کرنے لگیں

ابن جریر نے حضرت ابو ذ ر سے نقل کیا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شریک ہوا۔ یہ ایک لمبی مجلس تھی۔ آپ نے فرمایا اے ابو ذر، کیا تم نے نماز پڑھ لی۔ میں نے کہا نہیں اے خدا کے رسول۔ آپ نے فرمایا اٹھو اور دو رکعت نماز پڑھو۔ وہ نماز پڑھ کر دوبارہ مجلس میں آکر بیٹھے تو آپ نے فرمایااے ابو ذر کیا تم نے جن وانس کے شیطانوں کے مقابلہ میں اللہ سے پناہ مانگی۔ میں نے کہا نہیں اے خدا کے رسول، کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں۔ آپ نے فرمایاہاں، وہ شیاطینِ جن سے بھی زیادہ برے ہیں (نَعَمْ، هُمْ شَرٌّ مِنْ شَيَاطِينِ الْجِنِّ )تفسیر ابن جریر الطبری، جلد 9، صفحہ 500

یہاں شیاطین انس سے مراد وہ لوگ ہیں جو دعوت حق کو بے اعتبار ثابت کرنے کے ليے قائدانہ کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خود ساختہ مذہب کی بنیاد پر عزت ومقبولیت کا مقام حاصل كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ جب حق کی دعوت اپنی بے آمیز شکل میں اٹھتی ہے تو ان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان کو برہنہ کررہی ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے سیدھا راستہ تو یہ تھا کہ وہ حق کی وضاحت کے بعد اس کو مان لیں مگر حق کے مقابلہ میں اپنا مقام ان کو زیادہ عزیز ہوتا ہے۔ اپنی حیثیت کو بچانے کے لیے وہ خود داعی اور اس کی دعوت کو مشتبہ ثابت کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ خوش نما الفاظ کا سہارا لیتے ہیں۔ وہ داعی اور اس کی دعوت میںایسے شوشے نکالتے ہیں جو اگرچہ بذاتِ خود بے حقیقت ہوتے ہیں مگر بہت سے لوگ اس سے متاثر ہو کر اس کے بارے میں شبه ميں پڑجاتے ہیں۔

موجودہ دنیا میں جو امتحانی حالات پیدا كيے گئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہاں صحیح بات کہنے والے کو بھی الفاظ مل جاتے ہیں اور غلط بات کہنے والے کو بھی۔ حق کا داعی اگر حق کو دلائل کی زبان میں بیان کرسکتا ہے تو اسی کے ساتھ باطل پرستوں کو بھی یہ موقع حاصل ہے کہ وہ حق کے خلاف کچھ ایسے خوش نما الفاظ بول سکیں جو لوگوں کو دلیل معلوم ہوں اور وہ اس سے متاثر ہو کر حق کا ساتھ دینا چھوڑ دیں۔ یہ صورت حال امتحان کی غرض سے ہے اس ليے وہ لازماً قیامت تک باقی رہے گی۔ اس دنیا میں بہر حال آدمی کو اس امتحان میں کھڑا ہونا ہے کہ وہ سچے دلائل اور بے بنیاد باتوں کے درمیان فرق کرے اور بے بنیاد باتوں کو رد کرکے سچے دلائل کو قبول کرلے۔

شیاطینِ انس اپنی ذہانت سے حق کے خلاف جو پُرفریب شوشے نکالتے ہیں وہ انھیں لوگوں کو متاثر کرتے ہیں جو آخرت کے فکر سے خالی ہوں۔ آخرت کا اندیشہ آدمی کو انتہائی سنجیدہ بنادیتا ہے اور جو شخص سنجیدہ ہو اس سے باتوں کی حقیقت کبھی چھپی نہیں رہ سکتی۔ مگر جو لوگ آخرت کے اندیشہ سے خالی ہوں وہ حق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہوتے۔ اسی لیے وہ شوشہ اور دلیل کا فرق بھی سمجھ نہیں پاتے۔

Al-An'aam 6:113Listen in Qur'an →
114

أَفَغَيْرَ ٱللَّهِ أَبْتَغِى حَكَمًۭا وَهُوَ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ إِلَيْكُمُ ٱلْكِتَٰبَ مُفَصَّلًۭا ۚ وَٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ يَعْلَمُونَ أَنَّهُۥ مُنَزَّلٌۭ مِّن رَّبِّكَ بِٱلْحَقِّ ۖ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُمْتَرِينَ

(کہو) کیا میں خدا کے سوا اور منصف تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہاری طرف واضع المطالب کتاب بھیجی ہے اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب (تورات) دی ہے وہ جانتے ہیں کہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق نازل ہوئی ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا

قرآن میں ذبیحہ کے احکام اترے اور یہ کہا گیا کہ مردہ جانور نہ کھاؤ، ذبح کیا ہوا کھاؤ تو کچھ لوگوں نے کہا مسلمانوں کا مذہب بھی عجیب ہے۔ وہ اپنے ہاتھ کا مارا ہوا جانور حلال سمجھتے ہیں اور جس کو اللہ نے مارا ہوا اس کو حرام بتاتے ہیں۔اس جملہ میں لفظی تک بندی کے سوا اور کوئی دلیل نہیں ہے۔ مگر بہت سے لوگ اس کو سن کر دھوکے میں آگئے اور اسلام کو شبہ کی نظر سے دیکھنے لگے۔ ایسا ہی ہمیشہ ہوتا ہے۔ ہر زمانہ میں ایسے لوگ کم ہوتے ہیں جو باتوںکو ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے سمجھتے ہوں۔ بیشتر لوگ الفاظ کے گورکھ دھندے میں گم رہتے ہیں۔ وہ خیالی باتوں کو حقیقی سمجھ لیتے ہیں، صرف اس لیے کہ ان کو خوبصورت الفاظ میں بیان کردیا گیا ہے۔

مگر یہ دنیا ایسی دنیا ہے جہاں تمام بنیادی حقیقتوں کے بارے میں خدا کے واضح بیانات آچکے ہیں۔ اس لیے یہاں کسی کے لیے اس قسم کی بے راہی میں پڑناقابل معافی نہیں ہوسکتا۔ خدا کا کلام ایک کھلی ہوئی کسوٹی ہے جس پر جانچ کر ہر آدمی معلوم کرسکتا ہے کہ اس کی بات محض ایک لفظی شعبدہ ہے یا کوئی واقعی حقیقت ہے۔ خدا نے ماضی، حال اور مستقبل کے تمام ضروری امور کی بابت سچا بیان دے دیا ہے۔ اس نے انسانی تعلقات کے تمام پہلوؤں کے بارے میں کامل انصاف کی راہ بتا دی ہے۔ آدمی اگر فی الواقع سنجیدہ ہو تو ا س کے لیے یہ جاننا کچھ بھی مشکل نہیں کہ حق کیا ہے اور نا حق کیا۔ اب اس کے بعد شبہ میں وہی پڑے گا جس کا حال یہ ہو کہ اس کی سوچ خدا کے کلام کے سوا دوسری چیزوں کے زیر اثر کام کرتی ہو۔ جو شخص اپنی سوچ کو خدائی حقیقتوں کے موافق بنا لے اس کے لیے یہاں فکری بے راہ روی کا کوئی امکان نہیں۔

اس خدائی وضاحت کے بعد بھی اگر آدمی بھٹکتا ہے تو خدا کو اس کا حال اچھی طرح معلوم ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ وہ کون ہے جس نے اپنی بڑائی قائم رکھنے کی خاطر اپنے سے باہر ظاہر ہونے والی سچائی کو کوئی اہمیت نہ دی۔ کون ہے جس کے تعصب نے اس کو اس قابل نہ رکھا کہ وہ بات کو سمجھ سکے۔ کس نے سستی نمائش میں اپنی رغبت کی وجہ سے سچائی کی آواز پر دھیان نہیں دیا۔ کون ہے جو حسد کی نفسیات میں مبتلا ہونے کی وجہ سے حق سے نا آشنا رہا۔

Al-An'aam 6:114Listen in Qur'an →
115

وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًۭا وَعَدْلًۭا ۚ لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَٰتِهِۦ ۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ

اور تمہارے پروردگار کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہیں اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور وہ سنتا جانتا ہے

قرآن میں ذبیحہ کے احکام اترے اور یہ کہا گیا کہ مردہ جانور نہ کھاؤ، ذبح کیا ہوا کھاؤ تو کچھ لوگوں نے کہا مسلمانوں کا مذہب بھی عجیب ہے۔ وہ اپنے ہاتھ کا مارا ہوا جانور حلال سمجھتے ہیں اور جس کو اللہ نے مارا ہوا اس کو حرام بتاتے ہیں۔اس جملہ میں لفظی تک بندی کے سوا اور کوئی دلیل نہیں ہے۔ مگر بہت سے لوگ اس کو سن کر دھوکے میں آگئے اور اسلام کو شبہ کی نظر سے دیکھنے لگے۔ ایسا ہی ہمیشہ ہوتا ہے۔ ہر زمانہ میں ایسے لوگ کم ہوتے ہیں جو باتوںکو ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے سمجھتے ہوں۔ بیشتر لوگ الفاظ کے گورکھ دھندے میں گم رہتے ہیں۔ وہ خیالی باتوں کو حقیقی سمجھ لیتے ہیں، صرف اس لیے کہ ان کو خوبصورت الفاظ میں بیان کردیا گیا ہے۔

مگر یہ دنیا ایسی دنیا ہے جہاں تمام بنیادی حقیقتوں کے بارے میں خدا کے واضح بیانات آچکے ہیں۔ اس لیے یہاں کسی کے لیے اس قسم کی بے راہی میں پڑناقابل معافی نہیں ہوسکتا۔ خدا کا کلام ایک کھلی ہوئی کسوٹی ہے جس پر جانچ کر ہر آدمی معلوم کرسکتا ہے کہ اس کی بات محض ایک لفظی شعبدہ ہے یا کوئی واقعی حقیقت ہے۔ خدا نے ماضی، حال اور مستقبل کے تمام ضروری امور کی بابت سچا بیان دے دیا ہے۔ اس نے انسانی تعلقات کے تمام پہلوؤں کے بارے میں کامل انصاف کی راہ بتا دی ہے۔ آدمی اگر فی الواقع سنجیدہ ہو تو ا س کے لیے یہ جاننا کچھ بھی مشکل نہیں کہ حق کیا ہے اور نا حق کیا۔ اب اس کے بعد شبہ میں وہی پڑے گا جس کا حال یہ ہو کہ اس کی سوچ خدا کے کلام کے سوا دوسری چیزوں کے زیر اثر کام کرتی ہو۔ جو شخص اپنی سوچ کو خدائی حقیقتوں کے موافق بنا لے اس کے لیے یہاں فکری بے راہ روی کا کوئی امکان نہیں۔

اس خدائی وضاحت کے بعد بھی اگر آدمی بھٹکتا ہے تو خدا کو اس کا حال اچھی طرح معلوم ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ وہ کون ہے جس نے اپنی بڑائی قائم رکھنے کی خاطر اپنے سے باہر ظاہر ہونے والی سچائی کو کوئی اہمیت نہ دی۔ کون ہے جس کے تعصب نے اس کو اس قابل نہ رکھا کہ وہ بات کو سمجھ سکے۔ کس نے سستی نمائش میں اپنی رغبت کی وجہ سے سچائی کی آواز پر دھیان نہیں دیا۔ کون ہے جو حسد کی نفسیات میں مبتلا ہونے کی وجہ سے حق سے نا آشنا رہا۔

Al-An'aam 6:115Listen in Qur'an →
116

وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِى ٱلْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ

اور اکثر لوگ جو زمین پر آباد ہیں (گمراہ ہیں) اگر تم ان کا کہا مان لو گے تو وہ تمہیں خدا کا رستہ بھلا دیں گے یہ محض خیال کے پیچھے چلتے اور نرے اٹکل کے تیر چلاتے ہیں

قرآن میں ذبیحہ کے احکام اترے اور یہ کہا گیا کہ مردہ جانور نہ کھاؤ، ذبح کیا ہوا کھاؤ تو کچھ لوگوں نے کہا مسلمانوں کا مذہب بھی عجیب ہے۔ وہ اپنے ہاتھ کا مارا ہوا جانور حلال سمجھتے ہیں اور جس کو اللہ نے مارا ہوا اس کو حرام بتاتے ہیں۔اس جملہ میں لفظی تک بندی کے سوا اور کوئی دلیل نہیں ہے۔ مگر بہت سے لوگ اس کو سن کر دھوکے میں آگئے اور اسلام کو شبہ کی نظر سے دیکھنے لگے۔ ایسا ہی ہمیشہ ہوتا ہے۔ ہر زمانہ میں ایسے لوگ کم ہوتے ہیں جو باتوںکو ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے سمجھتے ہوں۔ بیشتر لوگ الفاظ کے گورکھ دھندے میں گم رہتے ہیں۔ وہ خیالی باتوں کو حقیقی سمجھ لیتے ہیں، صرف اس لیے کہ ان کو خوبصورت الفاظ میں بیان کردیا گیا ہے۔

مگر یہ دنیا ایسی دنیا ہے جہاں تمام بنیادی حقیقتوں کے بارے میں خدا کے واضح بیانات آچکے ہیں۔ اس لیے یہاں کسی کے لیے اس قسم کی بے راہی میں پڑناقابل معافی نہیں ہوسکتا۔ خدا کا کلام ایک کھلی ہوئی کسوٹی ہے جس پر جانچ کر ہر آدمی معلوم کرسکتا ہے کہ اس کی بات محض ایک لفظی شعبدہ ہے یا کوئی واقعی حقیقت ہے۔ خدا نے ماضی، حال اور مستقبل کے تمام ضروری امور کی بابت سچا بیان دے دیا ہے۔ اس نے انسانی تعلقات کے تمام پہلوؤں کے بارے میں کامل انصاف کی راہ بتا دی ہے۔ آدمی اگر فی الواقع سنجیدہ ہو تو ا س کے لیے یہ جاننا کچھ بھی مشکل نہیں کہ حق کیا ہے اور نا حق کیا۔ اب اس کے بعد شبہ میں وہی پڑے گا جس کا حال یہ ہو کہ اس کی سوچ خدا کے کلام کے سوا دوسری چیزوں کے زیر اثر کام کرتی ہو۔ جو شخص اپنی سوچ کو خدائی حقیقتوں کے موافق بنا لے اس کے لیے یہاں فکری بے راہ روی کا کوئی امکان نہیں۔

اس خدائی وضاحت کے بعد بھی اگر آدمی بھٹکتا ہے تو خدا کو اس کا حال اچھی طرح معلوم ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ وہ کون ہے جس نے اپنی بڑائی قائم رکھنے کی خاطر اپنے سے باہر ظاہر ہونے والی سچائی کو کوئی اہمیت نہ دی۔ کون ہے جس کے تعصب نے اس کو اس قابل نہ رکھا کہ وہ بات کو سمجھ سکے۔ کس نے سستی نمائش میں اپنی رغبت کی وجہ سے سچائی کی آواز پر دھیان نہیں دیا۔ کون ہے جو حسد کی نفسیات میں مبتلا ہونے کی وجہ سے حق سے نا آشنا رہا۔

Al-An'aam 6:116Listen in Qur'an →
117

إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ مَن يَضِلُّ عَن سَبِيلِهِۦ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُهْتَدِينَ

تمہارا پروردگار ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو اس کے رستے سے بھٹکے ہوئے ہیں اور ان سے بھی خوب واقف ہے جو رستے پر چل رہے ہیں

قرآن میں ذبیحہ کے احکام اترے اور یہ کہا گیا کہ مردہ جانور نہ کھاؤ، ذبح کیا ہوا کھاؤ تو کچھ لوگوں نے کہا مسلمانوں کا مذہب بھی عجیب ہے۔ وہ اپنے ہاتھ کا مارا ہوا جانور حلال سمجھتے ہیں اور جس کو اللہ نے مارا ہوا اس کو حرام بتاتے ہیں۔اس جملہ میں لفظی تک بندی کے سوا اور کوئی دلیل نہیں ہے۔ مگر بہت سے لوگ اس کو سن کر دھوکے میں آگئے اور اسلام کو شبہ کی نظر سے دیکھنے لگے۔ ایسا ہی ہمیشہ ہوتا ہے۔ ہر زمانہ میں ایسے لوگ کم ہوتے ہیں جو باتوںکو ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے سمجھتے ہوں۔ بیشتر لوگ الفاظ کے گورکھ دھندے میں گم رہتے ہیں۔ وہ خیالی باتوں کو حقیقی سمجھ لیتے ہیں، صرف اس لیے کہ ان کو خوبصورت الفاظ میں بیان کردیا گیا ہے۔

مگر یہ دنیا ایسی دنیا ہے جہاں تمام بنیادی حقیقتوں کے بارے میں خدا کے واضح بیانات آچکے ہیں۔ اس لیے یہاں کسی کے لیے اس قسم کی بے راہی میں پڑناقابل معافی نہیں ہوسکتا۔ خدا کا کلام ایک کھلی ہوئی کسوٹی ہے جس پر جانچ کر ہر آدمی معلوم کرسکتا ہے کہ اس کی بات محض ایک لفظی شعبدہ ہے یا کوئی واقعی حقیقت ہے۔ خدا نے ماضی، حال اور مستقبل کے تمام ضروری امور کی بابت سچا بیان دے دیا ہے۔ اس نے انسانی تعلقات کے تمام پہلوؤں کے بارے میں کامل انصاف کی راہ بتا دی ہے۔ آدمی اگر فی الواقع سنجیدہ ہو تو ا س کے لیے یہ جاننا کچھ بھی مشکل نہیں کہ حق کیا ہے اور نا حق کیا۔ اب اس کے بعد شبہ میں وہی پڑے گا جس کا حال یہ ہو کہ اس کی سوچ خدا کے کلام کے سوا دوسری چیزوں کے زیر اثر کام کرتی ہو۔ جو شخص اپنی سوچ کو خدائی حقیقتوں کے موافق بنا لے اس کے لیے یہاں فکری بے راہ روی کا کوئی امکان نہیں۔

اس خدائی وضاحت کے بعد بھی اگر آدمی بھٹکتا ہے تو خدا کو اس کا حال اچھی طرح معلوم ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ وہ کون ہے جس نے اپنی بڑائی قائم رکھنے کی خاطر اپنے سے باہر ظاہر ہونے والی سچائی کو کوئی اہمیت نہ دی۔ کون ہے جس کے تعصب نے اس کو اس قابل نہ رکھا کہ وہ بات کو سمجھ سکے۔ کس نے سستی نمائش میں اپنی رغبت کی وجہ سے سچائی کی آواز پر دھیان نہیں دیا۔ کون ہے جو حسد کی نفسیات میں مبتلا ہونے کی وجہ سے حق سے نا آشنا رہا۔

Al-An'aam 6:117Listen in Qur'an →
118

فَكُلُوا۟ مِمَّا ذُكِرَ ٱسْمُ ٱللَّهِ عَلَيْهِ إِن كُنتُم بِـَٔايَٰتِهِۦ مُؤْمِنِينَ

تو جس چیز پر (ذبح کے وقت) خدا کا نام لیا جائے اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو تو اسے کھا لیا کرو

دنیا میں جو کچھ ہے وہ سب ہمارے لیے ’’مالِ غیر‘‘ ہے۔ کیوں کہ سب کا سب خدا کا ہے۔ اس کو اپنے لیے جائز کرنے کی واحد صورت یہ ہے کہ اس کو خدا کے بتائے ہوئے طریقے سے حاصل کیا جائے اور اس کو خدا کے بتائے ہوئے طریقہ سے استعمال کیا جائے ۔ یہی معاملہ جانوروں کا بھی ہے۔

جانورہمارے لیے قیمتی خوراک ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ان کو خوراک بنانے کا حق ہم کو کیسے ملا۔ جانور کو خدا بناتا ہے اور وہی اس کو پرورش کرکے تیار کرتا ہے۔ پھر ہمارے لیے کیسے جائز ہوا کہ ہم اس کو اپنی خوراک بنائیں۔ ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا اسی سوال کا جواب ہے۔ اللہ کا نام لینا کوئی لفظی رسم نہیں۔ یہ دراصل جانور کے اوپر خدا کی مالکانہ حیثیت کو تسلیم کرنا اور اس کے عطیہ پر خدا کا شکر ادا کرنا ہے۔ ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا اسی اعتراف وتشکر کی ایک علامت ہے اور یہی اعتراف وتشکر وہ ’’قیمت‘‘ ہے جس کو ادا کرنے سے مالک کے نزدیک اس کا ایک جانور ہمارے لیے حلال ہوجاتا ہے۔ تاہم جس کو اتفاقی مجبوری پیش آجائے اس کو اس پابندی سے آزاد کردیاگیا ہے۔

جب آدمی حرام وحلال اور جائز وناجائز میں خدا کا حکم چھوڑتا ہے تو اس کے بعد توہمات اس کی جگہ لے لیتے ہیں۔ لوگ توہماتی خیالات کی بنا پر اشیاء کے بارے میں طرح طرح کی رائیں قائم کرلیتے ہیں۔ ان توہمات کے پیچھے کچھ خود ساختہ فلسفے ہوتے ہیں اور ان کی بنیاد پر ان کے کچھ ظواہر قائم ہوتے ہیں۔ جو لوگ اللہ کے فرماں بردار بننا چاہیں ان کے لیے ضروری ہوتاہے کہ ان توہمات کو فکری اور عملی دونوں اعتبار سے مکمل طورپر چھوڑ دیں۔

کھانے پینے اور دوسرے امور میں ہر قوم کا ایک رواجی دین بن جاتا ہے۔ اس رواجی دین کے بارے میں لوگوں کے جذبات بہت شدید ہوتے ہیں۔ کیوں کہ اس کے حق میں اسلاف اور بزرگوں کی تصدیقات شامل رہتی ہیں۔ اس سے ہٹنا بزرگوں کے دین سے ہٹنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ اس لیے جب حق کی دعوت اس رواجی دین سے ٹکراتی ہے تو حق کی دعوت کے خلاف طرح طرح کے اعتراضات كيے جاتے ہیں۔ وقت کے بڑے ایسی خوش کن باتیں نکالتے ہیں جن سے وہ اپنے عوام کو مطمئن کرسکیں کہ تمھارا رواجی دین صحیح اور یہ ’’نیا دین‘‘ بالکل باطل ہے۔ مگر اللہ ہر چیز سے باخبر ہے۔ قیامت میں جب وہ حقیقتوں کو کھولے گا تو ہر آدمی دیکھ لے گا کہ وہ حقیقت کی زمین پر کھڑا تھا یا توہمات کی زمین پر۔

Al-An'aam 6:118Listen in Qur'an →
119

وَمَا لَكُمْ أَلَّا تَأْكُلُوا۟ مِمَّا ذُكِرَ ٱسْمُ ٱللَّهِ عَلَيْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا ٱضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ ۗ وَإِنَّ كَثِيرًۭا لَّيُضِلُّونَ بِأَهْوَآئِهِم بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُعْتَدِينَ

اور سبب کیا ہے کہ جس چیز پر خدا کا نام لیا جائے تم اسے نہ کھاؤ حالانکہ جو چیزیں اس نے تمہارے لیے حرام ٹھیرا دی ہیں وہ ایک ایک کر کے بیان کر دی ہیں (بے شک ان کو نہیں کھانا چاہیے) مگر اس صورت میں کہ ان کے (کھانے کے) لیے ناچار ہو جاؤ اور بہت سے لوگ بےسمجھے بوجھے اپنے نفس کی خواہشوں سے لوگوں کو بہکا رہے ہیں کچھ شک نہیں کہ ایسے لوگوں کو جو (خدا کی مقرر کی ہوئی) حد سے باہر نکل جاتے ہیں تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے

دنیا میں جو کچھ ہے وہ سب ہمارے لیے ’’مالِ غیر‘‘ ہے۔ کیوں کہ سب کا سب خدا کا ہے۔ اس کو اپنے لیے جائز کرنے کی واحد صورت یہ ہے کہ اس کو خدا کے بتائے ہوئے طریقے سے حاصل کیا جائے اور اس کو خدا کے بتائے ہوئے طریقہ سے استعمال کیا جائے ۔ یہی معاملہ جانوروں کا بھی ہے۔

جانورہمارے لیے قیمتی خوراک ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ان کو خوراک بنانے کا حق ہم کو کیسے ملا۔ جانور کو خدا بناتا ہے اور وہی اس کو پرورش کرکے تیار کرتا ہے۔ پھر ہمارے لیے کیسے جائز ہوا کہ ہم اس کو اپنی خوراک بنائیں۔ ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا اسی سوال کا جواب ہے۔ اللہ کا نام لینا کوئی لفظی رسم نہیں۔ یہ دراصل جانور کے اوپر خدا کی مالکانہ حیثیت کو تسلیم کرنا اور اس کے عطیہ پر خدا کا شکر ادا کرنا ہے۔ ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا اسی اعتراف وتشکر کی ایک علامت ہے اور یہی اعتراف وتشکر وہ ’’قیمت‘‘ ہے جس کو ادا کرنے سے مالک کے نزدیک اس کا ایک جانور ہمارے لیے حلال ہوجاتا ہے۔ تاہم جس کو اتفاقی مجبوری پیش آجائے اس کو اس پابندی سے آزاد کردیاگیا ہے۔

جب آدمی حرام وحلال اور جائز وناجائز میں خدا کا حکم چھوڑتا ہے تو اس کے بعد توہمات اس کی جگہ لے لیتے ہیں۔ لوگ توہماتی خیالات کی بنا پر اشیاء کے بارے میں طرح طرح کی رائیں قائم کرلیتے ہیں۔ ان توہمات کے پیچھے کچھ خود ساختہ فلسفے ہوتے ہیں اور ان کی بنیاد پر ان کے کچھ ظواہر قائم ہوتے ہیں۔ جو لوگ اللہ کے فرماں بردار بننا چاہیں ان کے لیے ضروری ہوتاہے کہ ان توہمات کو فکری اور عملی دونوں اعتبار سے مکمل طورپر چھوڑ دیں۔

کھانے پینے اور دوسرے امور میں ہر قوم کا ایک رواجی دین بن جاتا ہے۔ اس رواجی دین کے بارے میں لوگوں کے جذبات بہت شدید ہوتے ہیں۔ کیوں کہ اس کے حق میں اسلاف اور بزرگوں کی تصدیقات شامل رہتی ہیں۔ اس سے ہٹنا بزرگوں کے دین سے ہٹنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ اس لیے جب حق کی دعوت اس رواجی دین سے ٹکراتی ہے تو حق کی دعوت کے خلاف طرح طرح کے اعتراضات كيے جاتے ہیں۔ وقت کے بڑے ایسی خوش کن باتیں نکالتے ہیں جن سے وہ اپنے عوام کو مطمئن کرسکیں کہ تمھارا رواجی دین صحیح اور یہ ’’نیا دین‘‘ بالکل باطل ہے۔ مگر اللہ ہر چیز سے باخبر ہے۔ قیامت میں جب وہ حقیقتوں کو کھولے گا تو ہر آدمی دیکھ لے گا کہ وہ حقیقت کی زمین پر کھڑا تھا یا توہمات کی زمین پر۔

Al-An'aam 6:119Listen in Qur'an →
120

وَذَرُوا۟ ظَٰهِرَ ٱلْإِثْمِ وَبَاطِنَهُۥٓ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْسِبُونَ ٱلْإِثْمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوا۟ يَقْتَرِفُونَ

اور ظاہری اور پوشیدہ (ہر طرح کا) گناہ ترک کر دو جو لوگ گناہ کرتے ہیں وہ عنقریب اپنے کئے کی سزا پائیں گے

دنیا میں جو کچھ ہے وہ سب ہمارے لیے ’’مالِ غیر‘‘ ہے۔ کیوں کہ سب کا سب خدا کا ہے۔ اس کو اپنے لیے جائز کرنے کی واحد صورت یہ ہے کہ اس کو خدا کے بتائے ہوئے طریقے سے حاصل کیا جائے اور اس کو خدا کے بتائے ہوئے طریقہ سے استعمال کیا جائے ۔ یہی معاملہ جانوروں کا بھی ہے۔

جانورہمارے لیے قیمتی خوراک ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ان کو خوراک بنانے کا حق ہم کو کیسے ملا۔ جانور کو خدا بناتا ہے اور وہی اس کو پرورش کرکے تیار کرتا ہے۔ پھر ہمارے لیے کیسے جائز ہوا کہ ہم اس کو اپنی خوراک بنائیں۔ ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا اسی سوال کا جواب ہے۔ اللہ کا نام لینا کوئی لفظی رسم نہیں۔ یہ دراصل جانور کے اوپر خدا کی مالکانہ حیثیت کو تسلیم کرنا اور اس کے عطیہ پر خدا کا شکر ادا کرنا ہے۔ ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا اسی اعتراف وتشکر کی ایک علامت ہے اور یہی اعتراف وتشکر وہ ’’قیمت‘‘ ہے جس کو ادا کرنے سے مالک کے نزدیک اس کا ایک جانور ہمارے لیے حلال ہوجاتا ہے۔ تاہم جس کو اتفاقی مجبوری پیش آجائے اس کو اس پابندی سے آزاد کردیاگیا ہے۔

جب آدمی حرام وحلال اور جائز وناجائز میں خدا کا حکم چھوڑتا ہے تو اس کے بعد توہمات اس کی جگہ لے لیتے ہیں۔ لوگ توہماتی خیالات کی بنا پر اشیاء کے بارے میں طرح طرح کی رائیں قائم کرلیتے ہیں۔ ان توہمات کے پیچھے کچھ خود ساختہ فلسفے ہوتے ہیں اور ان کی بنیاد پر ان کے کچھ ظواہر قائم ہوتے ہیں۔ جو لوگ اللہ کے فرماں بردار بننا چاہیں ان کے لیے ضروری ہوتاہے کہ ان توہمات کو فکری اور عملی دونوں اعتبار سے مکمل طورپر چھوڑ دیں۔

کھانے پینے اور دوسرے امور میں ہر قوم کا ایک رواجی دین بن جاتا ہے۔ اس رواجی دین کے بارے میں لوگوں کے جذبات بہت شدید ہوتے ہیں۔ کیوں کہ اس کے حق میں اسلاف اور بزرگوں کی تصدیقات شامل رہتی ہیں۔ اس سے ہٹنا بزرگوں کے دین سے ہٹنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ اس لیے جب حق کی دعوت اس رواجی دین سے ٹکراتی ہے تو حق کی دعوت کے خلاف طرح طرح کے اعتراضات كيے جاتے ہیں۔ وقت کے بڑے ایسی خوش کن باتیں نکالتے ہیں جن سے وہ اپنے عوام کو مطمئن کرسکیں کہ تمھارا رواجی دین صحیح اور یہ ’’نیا دین‘‘ بالکل باطل ہے۔ مگر اللہ ہر چیز سے باخبر ہے۔ قیامت میں جب وہ حقیقتوں کو کھولے گا تو ہر آدمی دیکھ لے گا کہ وہ حقیقت کی زمین پر کھڑا تھا یا توہمات کی زمین پر۔

Al-An'aam 6:120Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.