۞ وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَآ إِلَيْهِمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ ٱلْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَىْءٍۢ قُبُلًۭا مَّا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوٓا۟ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ
اور اگر ہم ان پر فرشتے بھی اتار دیتے اور مردے بھی ان سے گفتگو کرنے لگتے اور ہم سب چیزوں کو ان کے سامنے لا موجود بھی کر دیتے تو بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے اِلّا ماشائالله بات یہ ہے کہ یہ اکثر نادان ہیں
آخری آیت وَلَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَآ اِلَيْهِمُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ میں اسی مضمون کا بیان ہے کہ اگر ہم ان کو ان کے فرمائشی معجزات سب دکھلادیں، بلکہ ان سے بھی زیادہ فرشتوں سے ان کی ملاقات اور مردوں سے گفتگو کرادیں، جب بھی وہ ماننے والے نہیں، بعد کی دو آیتوں میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی ہے کہ یہ لوگ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عداوت کرتے ہیں تو کچھ تعجب کی بات نہیں، پچھلے تمام انبیاء کے بھی دشمن ہوتے چلے آئے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے دلگیر نہ ہوں۔