خلاصہ تفسیر - اور اس کے علیم ہونے کی اور اس میں منفرد ہونے کی یہ کیفیت ہے کہ) اس کو تو کسی کی نگاہ محیط نہیں ہوسکتی (دنیا میں تو اس طرح کہ کوئی دیکھ ہی نہیں سکتا، جیسا کہ دلائل شرعیہ سے ثابت ہے، اور آخرت میں اس طرح کہ اہل جنت کو دیکھیں گے جیسا کہ یہ بھی دلائل شرعیہ سے ثابت ہے لیکن احاطہ محال رہے گا اور جس محسوس بالبصر کے ظاہر کا احاطہ احساس بصری سے محال ہو تو اس کی حقیقت باطنی کا کہ ظاہر کے مقابلہ میں بدرجہا خفی تر ہے، احاطہ کرنا عقل سے جو کہ احساس سے بدرجہا زیادہ محتمل خطا ہے بدرجہ اولیٰ محال ہوگا) اور وہ (یعنی اللہ تعالیٰ ) سب نگاہوں کو (جو کہ اس کے احاطہ سے عاجز تھیں وجوباً ) محیط ہوجاتا ہے (اسی طرح اور چیزوں کو بھی علماً محیط ہے، (آیت) (وھو بکل شیء علیم) اور (اس امر سے کہ وہ سب محیط ہے اور اس کو کوئی محیط نہیں لازم آگیا کہ) وہی بڑا باریک ہیں، باخبر ہے (اور کوئی دوسرا نہیں، اور یہ وہ کمال علم ہے جس میں اللہ تعالیٰ یکتا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ) اب بلاشبہ تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے حق بینی کے ذرائع (یعنی توحید و رسالت کے حق ہونے کے دلائل عقلیہ و نقلیہ) پہنچ چکے ہیں سو جو شخص (ان کے ذریعہ سے حق کو) دیکھ لے گا وہ اپنا فائدہ کرے گا، اور جو شخص اندھا رہے گا وہ اپنا نقصان کرے گا اور میں تمہارا (یعنی تمہارے اعمال کا) نگران نہیں ہوں (یعنی جیسا نگرانی کرنے والے کے ذمہ ہوتا ہے کہ ناشائستہ حرکت نہ کرنے دے، یہ میرے ذمہ نہیں، میرا کام صرف تبلیغ ہے) اور (دیکھئے) ہم اس (عمدہ) طور پر دلائل کو مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب کو پہنچا دیں، اور تاکہ یہ (منکرین تعصب سے) یوں کہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی سے (ان مضامین کو) پڑھ لیا ہے (مطلب یہ کہ تاکہ ان پر اور زیادہ الزام ہو کہ ہم تو اس طرح واضح کرکے حق کو ثابت کرتے تھے اور تم پھر لغو بہانے تراشتے تھے) کہ ہم اس (قرآن کے مضامین) کو دانشمندوں کے لئے خوب ظاہر کردیں (یعنی قرآن کے نازل کرنے کے تین فائدے ہیں، ایک یہ کہ آپ کو اجر تبلیغ ملے، دوسرے یہ کہ منکرین پر زیادہ جرم قائم ہو، تیسرے یہ کہ دانشمند و طالبانِ حق کو حق ظاہر ہوجاوے پس) آپ (یہ نہ دیکھئے کہ کون مانتا ہے اور کون نہیں مانتا) خود اس طریق پر چلتے رہئے جس (پر چلنے) کی وحی آپ کے رب کی طرف سے آپ کے پاس آئی ہے (اور اس طریق میں بڑی چیز یہ اعتقاد ہے کہ) اللہ کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں (اور اس طریق میں تبلیغ کا حکم بھی داخل ہے) اور (اس پر قائم رہ کر) مشرکین کی طرف خیال نہ کیجئے (کہ افسوس انہوں نے قبول کیوں نہ کیا) اور (وجہ خیال نہ کرنے کی یہ ہے کہ) اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو یہ شرک نہ کرتے (لیکن ان لوگوں کی بدعنوانیوں سے اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا کہ ان کو سزا دیں، اس لئے ایسا ہی سامان جمع کردیا، پھر ان کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا مسلمان بنا سکتے ہیں) اور (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس فکر میں پڑے ہی کیوں) ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان ( کے اعمال) کا نگراں نہیں بنایا اور نہ آپ (ان اعمال پر عذاب دینے کے ہماری طرف سے) مختار ہیں (پس جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق نہ ان کے جرائم کی تفتیش ہے اور نہ ان کی سزا کا حکم ہے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کیوں تشویش ہے) ۔ - معارف و مسائل - سورة انعام کی ان پانچ آیات میں سے پہلی آیت میں ابصار، بصر کی جمع ہے، جس کے معنی ہیں نگاہ اور دیکھنے کی قوت، اور ادراک کے معنی پالنا، پکڑ لینا، احاطہ کرلینا ہیں، حضرت ابن عباس (رض) نے اس جگہ ادراک کی تفسیر احاطہ کرلینا بیان فرمائی ہے (بحر محیط)- معنی آیت کے یہ ہوگئے کہ ساری مخلوقات جن و انس و ملائکہ اور تمام حیوانات کی نگاہیں مل کر بھی اللہ جل شانہ کو اس …