Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 101–110 of 165

101

بَدِيعُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُۥ وَلَدٌۭ وَلَمْ تَكُن لَّهُۥ صَٰحِبَةٌۭ ۖ وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍۢ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌۭ

(وہی) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (ہے) ۔ اس کے اولاد کہاں سے ہو جب کہ اس کی بیوی ہی نہیں۔ اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔ اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے

Explained together with ayah 99

Al-An'aam 6:101Listen in Qur'an →
102

ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمْ ۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ خَٰلِقُ كُلِّ شَىْءٍۢ فَٱعْبُدُوهُ ۚ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ وَكِيلٌۭ

یہی (اوصاف رکھنے والا) خدا تمہارا پروردگار ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (وہی) ہر چیز کا پیداکرنے والا (ہے) تو اسی کی عبادت کرو۔ اور وہ ہر چیز کا نگراں ہے

Explained together with ayah 99

Al-An'aam 6:102Listen in Qur'an →
103

لَّا تُدْرِكُهُ ٱلْأَبْصَٰرُ وَهُوَ يُدْرِكُ ٱلْأَبْصَٰرَ ۖ وَهُوَ ٱللَّطِيفُ ٱلْخَبِيرُ

(وہ ایسا ہے کہ) نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے اور وہ بھید جاننے والا خبردار ہے

خلاصہ تفسیر - اور اس کے علیم ہونے کی اور اس میں منفرد ہونے کی یہ کیفیت ہے کہ) اس کو تو کسی کی نگاہ محیط نہیں ہوسکتی (دنیا میں تو اس طرح کہ کوئی دیکھ ہی نہیں سکتا، جیسا کہ دلائل شرعیہ سے ثابت ہے، اور آخرت میں اس طرح کہ اہل جنت کو دیکھیں گے جیسا کہ یہ بھی دلائل شرعیہ سے ثابت ہے لیکن احاطہ محال رہے گا اور جس محسوس بالبصر کے ظاہر کا احاطہ احساس بصری سے محال ہو تو اس کی حقیقت باطنی کا کہ ظاہر کے مقابلہ میں بدرجہا خفی تر ہے، احاطہ کرنا عقل سے جو کہ احساس سے بدرجہا زیادہ محتمل خطا ہے بدرجہ اولیٰ محال ہوگا) اور وہ (یعنی اللہ تعالیٰ ) سب نگاہوں کو (جو کہ اس کے احاطہ سے عاجز تھیں وجوباً ) محیط ہوجاتا ہے (اسی طرح اور چیزوں کو بھی علماً محیط ہے، (آیت) (وھو بکل شیء علیم) اور (اس امر سے کہ وہ سب محیط ہے اور اس کو کوئی محیط نہیں لازم آگیا کہ) وہی بڑا باریک ہیں، باخبر ہے (اور کوئی دوسرا نہیں، اور یہ وہ کمال علم ہے جس میں اللہ تعالیٰ یکتا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ) اب بلاشبہ تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے حق بینی کے ذرائع (یعنی توحید و رسالت کے حق ہونے کے دلائل عقلیہ و نقلیہ) پہنچ چکے ہیں سو جو شخص (ان کے ذریعہ سے حق کو) دیکھ لے گا وہ اپنا فائدہ کرے گا، اور جو شخص اندھا رہے گا وہ اپنا نقصان کرے گا اور میں تمہارا (یعنی تمہارے اعمال کا) نگران نہیں ہوں (یعنی جیسا نگرانی کرنے والے کے ذمہ ہوتا ہے کہ ناشائستہ حرکت نہ کرنے دے، یہ میرے ذمہ نہیں، میرا کام صرف تبلیغ ہے) اور (دیکھئے) ہم اس (عمدہ) طور پر دلائل کو مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب کو پہنچا دیں، اور تاکہ یہ (منکرین تعصب سے) یوں کہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی سے (ان مضامین کو) پڑھ لیا ہے (مطلب یہ کہ تاکہ ان پر اور زیادہ الزام ہو کہ ہم تو اس طرح واضح کرکے حق کو ثابت کرتے تھے اور تم پھر لغو بہانے تراشتے تھے) کہ ہم اس (قرآن کے مضامین) کو دانشمندوں کے لئے خوب ظاہر کردیں (یعنی قرآن کے نازل کرنے کے تین فائدے ہیں، ایک یہ کہ آپ کو اجر تبلیغ ملے، دوسرے یہ کہ منکرین پر زیادہ جرم قائم ہو، تیسرے یہ کہ دانشمند و طالبانِ حق کو حق ظاہر ہوجاوے پس) آپ (یہ نہ دیکھئے کہ کون مانتا ہے اور کون نہیں مانتا) خود اس طریق پر چلتے رہئے جس (پر چلنے) کی وحی آپ کے رب کی طرف سے آپ کے پاس آئی ہے (اور اس طریق میں بڑی چیز یہ اعتقاد ہے کہ) اللہ کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں (اور اس طریق میں تبلیغ کا حکم بھی داخل ہے) اور (اس پر قائم رہ کر) مشرکین کی طرف خیال نہ کیجئے (کہ افسوس انہوں نے قبول کیوں نہ کیا) اور (وجہ خیال نہ کرنے کی یہ ہے کہ) اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو یہ شرک نہ کرتے (لیکن ان لوگوں کی بدعنوانیوں سے اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا کہ ان کو سزا دیں، اس لئے ایسا ہی سامان جمع کردیا، پھر ان کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا مسلمان بنا سکتے ہیں) اور (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس فکر میں پڑے ہی کیوں) ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان ( کے اعمال) کا نگراں نہیں بنایا اور نہ آپ (ان اعمال پر عذاب دینے کے ہماری طرف سے) مختار ہیں (پس جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق نہ ان کے جرائم کی تفتیش ہے اور نہ ان کی سزا کا حکم ہے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کیوں تشویش ہے) ۔ - معارف و مسائل - سورة انعام کی ان پانچ آیات میں سے پہلی آیت میں ابصار، بصر کی جمع ہے، جس کے معنی ہیں نگاہ اور دیکھنے کی قوت، اور ادراک کے معنی پالنا، پکڑ لینا، احاطہ کرلینا ہیں، حضرت ابن عباس (رض) نے اس جگہ ادراک کی تفسیر احاطہ کرلینا بیان فرمائی ہے (بحر محیط)- معنی آیت کے یہ ہوگئے کہ ساری مخلوقات جن و انس و ملائکہ اور تمام حیوانات کی نگاہیں مل کر بھی اللہ جل شانہ کو اس …

Al-An'aam 6:103Listen in Qur'an →
104

قَدْ جَآءَكُم بَصَآئِرُ مِن رَّبِّكُمْ ۖ فَمَنْ أَبْصَرَ فَلِنَفْسِهِۦ ۖ وَمَنْ عَمِىَ فَعَلَيْهَا ۚ وَمَآ أَنَا۠ عَلَيْكُم بِحَفِيظٍۢ

(اے محمدﷺ! ان سے کہہ دو کہ) تمہارے (پاس) پروردگار کی طرف سے (روشن) دلیلیں پہنچ چکی ہیں تو جس نے (ان کو آنکھ کھول کر) دیکھا اس نے اپنا بھلا کیا اور جو اندھا بنا رہا اس نے اپنے حق میں برا کیا۔ اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں

دوسری آیت میں لفظ بصائر، بصیرت کی جمع ہے، جس کے معنی ہیں عقل و دانش یعنی وہ قوت جس کے ذریعہ انسان غیر محسوس چیزوں کا علم حاصل کرسکتا ہے، بصائر سے مراد آیت میں وہ دلائل اور ذرائع ہیں جن سے انسان حق اور حقیقت کو معلوم کرسکے، معنی آیت کے یہ ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے، آپ کے معجزات آئے، آپ کے اخلاق و معاملات وتعلیمات مشاہدہ میں آئیں یہ سب حق بینی کے ذرائع ہیں۔- تو جو شخص ان ذرائع سے کام لے کر صاحب بصیرت بن گیا، اس نے اپنا نفع حاصل کرلیا اور جو ان ذرائع کو چھوڑ کر حق سے اندھا رہا تو اپنا ہی نقصان کیا۔- آخر آیت میں فرمایا کہ ” میں تمہارا نگراں نہیں “۔ یعنی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے ذمہ دار نہیں کہ لوگوں کو زبردستی کر کے ناشائستہ کاموں سے روک ہی دیں، جیسے نگران اور محافظ کا کام ہوتا ہے، بلکہ رسول کا منصبی فریضہ صرف احکام کا پہنچا دینا اور سمجھا دینا ہے، پھر کوئی اپنے اختیار سے ان کا اتباع کرے یا نہ کرے، یہ اس کی ذمہ داری ہے۔

Al-An'aam 6:104Listen in Qur'an →
105

وَكَذَٰلِكَ نُصَرِّفُ ٱلْءَايَٰتِ وَلِيَقُولُوا۟ دَرَسْتَ وَلِنُبَيِّنَهُۥ لِقَوْمٍۢ يَعْلَمُونَ

اور ہم اسی طرح اپنی آیتیں پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں تاکہ کافر یہ نہ کہیں کہ تم (یہ باتیں اہل کتاب سے) سیکھے ہوئے ہو اور تاکہ سمجھنے والے لوگوں کے لئے تشریح کردیں

توحید و رسالت پر جو واضح دلائل پچھلی آیت میں بیان ہوچکے ہیں، تیسری آیت میں ان کی طرف اشارہ کرکے فرمایا گیا : (آیت) وَكَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰيٰتِ یعنی ہم اسی طرح دلائل کو مختلف پہلووں سے بیان کرتے ہیں۔- اس کے بعد فرمایا گیا : (آیت) وَلِيَقُوْلُوْا دَرَسْتَ جس کا حاصل یہ ہے کہ سارا ہدایت کا سامان معجزات اور دلائل بےمثل کتاب قرآن اور ایک اُمّی محض کی زبان مبارک سے ایسے علوم و حقائق کا اظہار جن سے ساری دنیا کے فلاسفر اور حکماء عاجز ہیں، ایسا بلیغ کلام جس میں قیامت تک آنے والے جن و بشر کو چیلنج کیا گیا کہ اس کی ایک چھوٹی سی سورت جیسا کلام کوئی بنا سکے تو لائے اور ساری دنیا اس سے عاجز رہی، یہ سب حق بینی کا سامان ایسا تھا کہ ہر ہٹ دھرم منکر کو بھی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قدموں پر گر جانا چاہئے تھا، لیکن جن لوگوں کی طبیعت میں زیغ اور کجی تھی، وہ یہ کہنے لگے کہ درست یعنی یہ علوم تو آپ نے کسی سے پڑھ لئے ہیں۔- ساتھ یہ بھی فرما دیا (آیت) وَلِنُبَيِّنَهٗ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ جس کا حاصل یہ ہے کہ دانشمند جن کی سمجھ درست اور فہم سلیم ہے ان کے لئے یہ بیان نافع و مفید ثابت ہوا، خلاصہ یہ ہے کہ سامان ہدایت تو سب کے سامنے رکھا گیا مگر کج فہموں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا، سلیم الفہم لوگ اس کے ذریعہ دنیا کے رہبر بن گئے۔

Al-An'aam 6:105Listen in Qur'an →
106

ٱتَّبِعْ مَآ أُوحِىَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ وَأَعْرِضْ عَنِ ٱلْمُشْرِكِينَ

اور جو حکم تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس آتا ہے اسی کی پیروی کرو۔ اس (پروردگار) کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور مشرکوں سے کنارہ کرلو

چوتھی آیت میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت ہے کہ آپ یہ نہ دیکھیے کہ کون مانتا ہے اور کون نہیں مانتا، آپ خود اس طریق پر چلتے رہئے جس طریق پر چلنے کے لئے آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے وحی نازل ہوئی ہے، جس میں بڑی چیز یہ اعتقاد ہے کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، نیز اس وحی میں تبلیغ کا حکم بھی داخل ہے، اس پر قائم رہ کر مشرکین کی طرف خیال نہ کیجئے کہ افسوس انہوں نے کیوں قبول نہ کیا۔

Al-An'aam 6:106Listen in Qur'an →
107

وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَآ أَشْرَكُوا۟ ۗ وَمَا جَعَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا ۖ وَمَآ أَنتَ عَلَيْهِم بِوَكِيلٍۢ

اور اگر خدا چاہتا تو یہ لوگ شرک نہ کرتے۔ اور (اے پیغمبر!) ہم نے تم کو ان پر نگہبان مقرر نہیں کیا۔ اور نہ تم ان کے داروغہ ہو

پانچویں آیت میں اس کی وجہ یہ بتلائی گئی کہ اگر اللہ تعالیٰ کو تکوینی طور پر یہ منظور ہوتا کہ سب انسان مسلمان ہوجائیں تو یہ شرک نہ کرسکتے، لیکن ان کی بدعنوانیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ ان کو سزا ملے تو ایسا ہی سامان جمع کردیا، پھر آپ ان کو کیسے مسلمان بنا سکتے ہیں، اور آپ اس فکر میں پڑیں کیوں، ہم نے آپ کو ان کے اعمال کا نگران نہیں بنایا، اور نہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان اعمال پر عذاب دینے کے ہماری طرف سے مختار ہیں، اس لئے آپ کو ان کے اعمال سے تشویش نہ ہونی چاہئے۔

Al-An'aam 6:107Listen in Qur'an →
108

وَلَا تَسُبُّوا۟ ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ فَيَسُبُّوا۟ ٱللَّهَ عَدْوًۢا بِغَيْرِ عِلْمٍۢ ۗ كَذَٰلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِم مَّرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

اور جن لوگوں کو یہ مشرک خدا کے سوا پکارتے ہیں ان کو برا نہ کہنا کہ یہ بھی کہیں خدا کو بےادبی سے بے سمجھے برا (نہ) کہہ بیٹھیں۔ اس طرح ہم نے ہر ایک فرقے کے اعمال (ان کی نظروں میں) اچھے کر دکھائے ہیں۔ پھر ان کو اپنے پروردگار ک طرف لوٹ کر جانا ہے تب وہ ان کو بتائے گا کہ وہ کیا کیا کرتے تھے

خلاصہ تفسیر - اور دشنام مت دو ان (معبودان باطلہ) کو جن کی یہ (مشرک) لوگ خدا (کی توحید) کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں، کیونکہ (تمہارے ایسا کرنے سے) پھر وہ براہ جہل حد سے گذر کر (یعنی غصہ میں آکر) اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کریں گے (اور اس کا تعجب نہ کیا جائے کہ ایسی گستاخی کرنے والوں کو ساتھ کے ساتھ سزا کیوں نہیں مل جاتی، کیونکہ) ہم نے (دنیا میں تو) اسی طرح ( جیسا ہورہا ہے) ہر طریقہ والوں کو ان کا عمل (بھلا ہو یا برا ہو) مرغوب بنا رکھا ہے (یعنی ایسے اسباب جمع ہوجاتے ہیں کہ ہر ایک کو اپنا طریقہ پسند ہے، اس سے معلوم ہوا کہ یہ عالم اصل میں ابتلاء و امتحان کا ہے، پس اس میں سزا ضروری نہیں) پھر (البتہ اپنے وقت پر) اپنے رب ہی کے پاس ان (سب) کو جانا ہے، سو (اس وقت) وہ ان کو جتلا دے گا جو کچھ بھی وہ (دنیا میں) کیا کرتے تھے (اور مجرمین کو سزا دے دے گا) اور ان (منکر) لوگوں نے قسموں میں بڑا زور لگا کر اللہ کی قسم کھائی کہ اگر ان کے (یعنی ہمارے) پاس (یعنی ان کے فرمائشی نشانوں میں سے) کوئی نشان (ظہور میں) آجاوے تو وہ (یعنی ہم) ضرور ہی اس (نشان) پر ایمان لے آویں گے (یعنی نشان ظاہر کرنے والے کی نبوت کو مان لیں گے) آپ (جواب میں) کہہ دیجئے کہ نشان سب خدا تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں (وہ ان میں جس طرح چاہے تصرف فرما دے دوسرے کو دخل دینا اور فرمائش کرنا بےجا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں کہ کس کا ظاہر ہونا حکمت ہے اور کس کا ظاہر نہ ہونا حکمت ہے، البتہ بعثت رسل کے وقت مطلقاً کسی نشان کو ظاہر کردینا اس میں حکمت یقینی ہے، سو اللہ تعالیٰ بہت سے نشان صدق دعو ٰی رسالت محمدیہ پر ظاہر فرما چکے ہیں جو کہ دلالت کے لئے کافی ہیں، بس یہ ان کی فرمائش کا جواب ہوگیا) اور (چونکہ مسلمانوں کے دل میں خیال تھا کہ خوب ہو اگر یہ نشان ظاہر ہوجاویں، شاید ایمان لے آویں ان کو خطاب فرماتے ہیں کہ) تم کو اس کی کیا خبر (بلکہ ہم کو خبر ہے) کہ وہ (فرمائشی) نشان جس وقت (ظہور میں) آجاویں گے یہ لوگ (غایت عناد سے) جب بھی ایمان نہ لاوینگے اور (ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے) ہم بھی ان کے دلوں کو (حق طلبی کے قصد سے) اور ان کی نگاہوں کو (حق بینی کی نظر سے) پھیر دیں گے (اور ان کا یہ ایمان نہ لانا ایسا ہے) جیسا یہ لوگ اس (قرآن) پر (کہ معجزہ عظیمہ ہے) پہلی دفعہ (جبکہ وہ آیا) ایمان نہیں لائے (تو اب ایمان نہ لانے کو بعید مت سمجھو) اور (تقلیب ابصار یعنی نگاہوں کو بےکار کرنے کا مطلب ظاہری تقلیب نہیں ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ) ہم ان کو ان کی سر کشی (وکفر) میں حیران (سرگرداں) رہنے دیں گے (ایمان کی توفیق نہ ہوگی کہ یہ معنوی تقلیب ہے) اور (ان کے عناد کی تو یہ کیفیت ہے کہ) اگر ہم (ایک فرمائشی نشان کیا کئی کئی اور بڑے بڑے فرمائشی نشان بھی ظاہر کردیتے، مثلاً یہ کہ) ان کے پاس فرشتوں کو بھیج دیتے (جیسا وہ کہتے ہیں (آیت) (لو لا انزل علینا الملائکة) اور ان سے مردے (زندہ ہو کر) باتیں کرنے لگتے (جیسا وہ کہتے ہیں (آیت) (فاتوا بآبائنا) اور (یہ تو صرف اتنا ہی کہتے ہیں (آیت) (تاتی باللہ والملائکة قبیلا) ہم (اسی پر اکتفاء نہ کرتے بلکہ) تمام موجودات (غیبیہ) کو (جس میں جنت و دوزخ سب کچھ آ گیا) ان کے پاس ان کی آنکھوں کے رو برو دلا کر جمع کردیتے، (کہ سب کو کھلم کھلا دیکھ لیتے) تب بھی یہ لوگ ہرگز ایمان نہ لاتے، ہاں مگر خدا ہی چاہے (اور ان کی تقدیر بدل دے) تو اور بات ہے (پس جب ان کے عناد و شرارت کی یہ کیفیت ہے اور خود بھی وہ اس کو جانتے ہیں کہ ہماری نیت اس وقت بھی ایمان لانے کی نہیں تو اس کا مقتضایہ تھا کہ نشانوں کی فرمائش نہ کرتے کہ محض بےکار ہے) لیکن ان میں زیادہ لوگ جہالت کی باتیں کرتے ہیں (کہ ایمان لانے کا تو قصد نہیں پھر خواہ مخواہ کی فرمائشیں کہ جہالت ہونا اس کا ظاہر ہے) اور (یہ لوگ جو آپ سے عداوت کرتے ہیں یہ کوئی نئی …

Al-An'aam 6:108Listen in Qur'an →
109

وَأَقْسَمُوا۟ بِٱللَّهِ جَهْدَ أَيْمَٰنِهِمْ لَئِن جَآءَتْهُمْ ءَايَةٌۭ لَّيُؤْمِنُنَّ بِهَا ۚ قُلْ إِنَّمَا ٱلْءَايَٰتُ عِندَ ٱللَّهِ ۖ وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَآ إِذَا جَآءَتْ لَا يُؤْمِنُونَ

اور یہ لوگ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئے تو وہ اس پر ضروری ایمان لے آئیں۔ کہہ دو کہ نشانیاں تو سب خدا ہی کے پاس ہیں۔ اور (مومنو!) تمہیں کیا معلوم ہے (یہ تو ایسے بدبخت ہیں کہ ان کے پاس) نشانیاں آ بھی جائیں تب بھی ایمان نہ لائیں

پچھلی آیات میں اس کا ذکر تھا کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کھلے ہوئے معجزات اور اللہ تعالیٰ کی روشن نشانیوں کے باجود ہٹ دھرم لوگوں نے ان سے فائدہ نہ اٹھایا، اپنے انکار اور ضد پر جمے رہے، اگلی آیات میں اس کا ذکر ہے کہ ان لوگوں نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کا ایک نیا روپ یہ بدلا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خاص خاص قسم کے معجزات دکھلانے کا مطالبہ کیا، جیسا کہ ابن جریر رحمة اللہ علیہ نے نقل کیا ہے کہ قریشی سرداروں نے مطالبہ کیا کہ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں یہ معجزہ دکھلا دیں کہ کوہ صفا پورا سونا ہوجائے تو ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت و رسالت کو مان لیں گے، اور مسلمان ہوجائیں گے۔- آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اچھا معاہدہ کرو کہ اگر یہ معجزہ ظاہر ہوگیا تو تم سب مسلمان ہوجاؤ گے، انہوں نے قسمیں کھا لیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کے لئے کھڑے ہوگئے کہ اس پہاڑ کو سونا بنا دیجئے، حضرت جبرئیل (علیہ السلام) وحی لے کر آئے کہ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چاہیں تو ہم ابھی اس پورے پہاڑ کو سونا بنادیں، لیکن قانون الٓہی کے مطابق اس کا یہ نتیجہ ہوگا کہ اگر پھر بھی یہ ایمان نہ لائے تو سب پر عذاب عام نازل کرکے ہلاک کردیا جائے گا، جیسی پچھلی قوموں میں ہمیشہ ہوتا رہا ہے، کہ انہوں نے کسی خاص معجزہ کا مطالبہ کیا، وہ دکھایا گیا، اور وہ پھر بھی منکر ہوگئے، تو ان پر خدا تعالیٰ کا قہر و عذاب نازل ہوگیا، رحمة اللعالمین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چونکہ ان لوگوں کی عادات اور ہٹ دھرمی سے واقف تھے، بمقضائے شفقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اب میں اس معجزہ کی دعا نہیں کرتا، اس واقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی، وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ ، جس میں کفار کے قول کی نقل کی ہے، کہ انہوں نے مطلوبہ معجزہ ظاہر ہونے پر مسلمان ہوجانے کے لئے قسمیں کھالیں، اس کے بعد کی آیت اِنَّمَا الْاٰيٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ میں ان کے قول کا جواب ہے کہ معجزات اور نشانیاں سب اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں، اور جو معجزات ظاہر ہوچکے ہیں وہ بھی اسی کی طرف سے تھے، اور جن کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ان پر بھی وہ پوری طرح قادر ہے، لیکن ازروئے عقل و انصاف ان کو ایسا مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں، کیونکہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رسول ہونے کے مدعی ہیں، اور اس دعوے پر بہت سے دلائل اور شہادتیں معجزات کی صورت میں پیش فرما چکے ہیں، اب دوسرے فریق کو اس کا تو حق ہے کہ ان دلائل اور شہادتوں پر جرح کرے ان کو غلط ثابت کرے، لیکن ان پیش کردہ شہادتوں میں کوئی جرح نہ کریں اور پھر یہ مطالبہ کریں کہ ہم تو دوسری شہادتیں چاہتے ہیں، یہ ایسا ہوگا جیسا عدالت میں کوئی مدعا علیہ مدعی کے پیش کردہ گواہوں پر تو کوئی جرح نہ کرے، مگر یہ کہے کہ میں تو ان گواہوں کی شہادت نہیں مانتا، بلکہ فلاں معیّن شخص کی گواہی پر بات مانوں گا، اس کو کوئی عدالت قابل سماعت نہ سمجھے گی۔- اسی طرح نبوت و رسالت پر بیشمار آیات بینات اور معجزات ظاہر ہوجانے کے بعد جب تک ان معجزات کو غلط ثابت نہ کریں ان کو یہ کہنے کا حق نہیں کہ ہم تو فلاں قسم کا معجزہ دیکھیں گے جب ایمان لائیں گے۔- اس کے بعد آخر آیات تک مسلمانوں کو فہمائش اور خطاب ہی کہ تمہارا کام دین حق پر خود قائم رہنا اور دوسروں کو صحیح طریقہ سے پہنچا دینا ہے، پھر بھی اگر وہ ہٹ دھرمی کرنے لگیں تو ان کی فکر میں پڑنا نہیں چاہئے، کیونکہ زبردستی کسی کو مسلمان بنانا نہیں، اگر زبردستی بنانا ہوتا تو اللہ تعالیٰ سے زیادہ زبردست کون ہے، وہ خود ہی سب کو مسلمان بنا دیتے، اور ان آیات میں مسلمانوں کو مطمئن کرنے کے لئے یہ بھی بتلا دیا گیا کہ اگر ہم ان کے مانگے ہوئے معجزات کو بھی بالکل کھلے اور واضح طور پر ظاہر کردیں …

Al-An'aam 6:109Listen in Qur'an →
110

وَنُقَلِّبُ أَفْـِٔدَتَهُمْ وَأَبْصَٰرَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا۟ بِهِۦٓ أَوَّلَ مَرَّةٍۢ وَنَذَرُهُمْ فِى طُغْيَٰنِهِمْ يَعْمَهُونَ

اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے (تو) جیسے یہ اس (قرآن) پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے (ویسے پھر نہ لائیں گے) اور ان کو چھوڑ دیں گے کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں

Explained together with ayah 109

Al-An'aam 6:110Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.