Muslim99Muslim99
← Tafsir library

6. Al-An'aam

The Cattle · Meccan · 165 ayahs

سُورَةُ الأَنۡعَامِ

Reading Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad

Ayahs 1–10 of 165

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَجَعَلَ ٱلظُّلُمَٰتِ وَٱلنُّورَ ۖ ثُمَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ

ہر طرح کی تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیرا اور روشنی بنائی پھر بھی کافر (اور چیزوں کو) خدا کے برابر ٹھیراتے ہیں

آیت 1 اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوْرَ ط یہاں ایک خاص نکتہ نوٹ کرلیجیے کہ قرآن مجید میں تقریباً سات سات پاروں کے وقفے سے کوئی سورة اَلْحَمْدُ کے لفظ سے شروع ہوتی ہے۔ مثلاً قرآن کا آغاز اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ سے ہوا ہے ‘ پھر ساتویں پارے میں سورة الانعام اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوْرَ ج سے شروع ہو رہی ہے ‘ اس کے بعد پندرھویں پارے میں سورة الکہف کا آغاز اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلٰی عَبْدِہِ الْکِتٰبَ وَلَمْ یَجْعَلْ لَّہٗ عِوَجًا۔ سے ہو رہا ہے ‘ پھر بائیسویں پارے میں اکٹھی دو سورتیں سورۂ سبا اور سورة فاطر اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ سے شروع ہوتی ہیں۔ گویا قرآن کا آخری حصہ بھی اس کے اندر شامل کردیا گیا ہے۔ اس طرح تقریباً ایک جیسے وقفوں سے سورتوں کا آغاز اللہ تعالیٰ کی حمد اور تعریف سے ہوتا ہے۔ دوسری بات یہاں نوٹ کرنے کی یہ ہے کہ اس آیت میں خَلَقَ اور جَعَلَ دو ایک جیسے افعال مادّی اور غیر مادّی تخلیق کا فرق واضح کرنے کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ آسمان اور زمین چونکہ مادّی حقیقتیں ہیں لہٰذا ان کے لیے لفظ خَلَقَ آیا ہے ‘ لیکن اندھیرا اور اجالا اس طرح کی مادّی چیزیں نہیں ہیں بلکہ اندھیرا تو کوئی چیز یا حقیقت ہے ہی نہیں ‘ کسی جگہ یا کسی وقت میں نور کے نہ ہونے کا نام اندھیرا ہے۔ اس لیے ان کے لیے الگ فعل جَعَلَاستعمال ہوا ہے کہ اس نے ٹھہرا دیے ‘ بنا دیے ‘ نمایاں کردیے اور معلوم ہوگیا کہ یہ اجالا ہے اور یہ اندھیرا ہے۔ثُمَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّہِمْ یَعْدِلُوْنَ یعنی یَعْدِلُوْنَ بِہٖ شُرَکَاءَ ھُمْکہ ان نام نہاد معبودوں کو اللہ کے برابر کردیتے ہیں ‘ جن کو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات ‘ صفات یا حقوق میں شریک سمجھا ہوا ہے ‘ حالانکہ یہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آسمانوں اور زمین کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے ‘ ظلمات اور نور کا بنانے والا بھی تنہا اللہ تعالیٰ ہی ہے ‘ لیکن پھر بھی ان لوگوں کے حال پر تعجب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہمسر ٹھہراتے ہیں۔شرک کے بارے میں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ شرک صرف یہی نہیں ہے کہ کوئی مورتی ہی سامنے رکھ کر اس کو سجدہ کیا جائے ‘ بلکہ اور بہت سی باتیں اور بہت سے نظریات بھی شرک کے زمرے میں آتے ہیں۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو ہر دور میں بھیس بدل بدل کر آتی ہے ‘ چناچہ اسے پہچاننے کے لیے بہت وسعت نظری کی ضرورت ہے۔ مثلاً آج کے دور کا ایک بہت بڑا شرک نظریۂ وطنیت ہے ‘ جسے علامہ اقبال نے سب سے بڑا بت قرار دیا ہے ع ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے ! یہ شرک کی وہ قسم ہے جس سے ہمارے پرانے دور کے علماء بھی واقف نہیں تھے۔ اس لیے کہ اس انداز میں وطنیت کا نظریہ پہلے دنیا میں تھا ہی نہیں۔ شرک کے بارے میں ایک بہت سخت آیت ہم دو دفعہ سورة النساء آیت 48 اور 116 میں پڑھ چکے ہیں : اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ ج اللہ تعالیٰ اسے ہرگز معاف نہیں فرمائے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے ‘ البتہ اس سے کمتر گناہ جس کے لیے چاہے گا معاف فرما دے گا۔ اللہ تعالیٰ شرک سے کمتر گناہوں میں سے جو چاہے گا ‘ جس کے لیے چاہے گا ‘ بغیر توبہ کے بھی بخش دے گا ‘ البتہ شرک سے بھی اگر انسان تائب ہوجائے تو یہ بھی معاف ہوسکتا ہے۔ سورة النساء کی اس آیت کی تشریح کے ضمن میں تفصیل سے بات نہیں ہوئی تھی ‘ اس لیے کہ شرک دراصل مدنی سورتوں کا مضمون نہیں ہے۔ شرک اور توحید کے یہ مضامین حوا میم وہ سورتیں جن کا آغاز حٰآ سے ہوتا ہے میں تفصیل کے ساتھ بیان ہوں گے۔ وہاں توحید عملی اور توحید نظری کے بارے میں بھی بات ہوگی۔ سورة الفرقان سے سورة الاحقاف تک مکی سورتوں کا ایک طویل سلسلہ ہے ‘ جس میں سورة …

2

هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن طِينٍۢ ثُمَّ قَضَىٰٓ أَجَلًۭا ۖ وَأَجَلٌۭ مُّسَمًّى عِندَهُۥ ۖ ثُمَّ أَنتُمْ تَمْتَرُونَ

وہی تو ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر (مرنے کا) ایک وقت مقرر کر دیا اور ایک مدت اس کے ہاں اور مقرر ہے پھر بھی تم (اے کافرو خدا کے بارے میں) شک کرتے ہو

آیت 2 ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰٓی اَجَلاً ط۔یعنی ہر شخص جس کو اللہ نے دنیا میں بھیجا ہے اس کا اس دنیا میں رہنے کا ایک وقت معین ہے۔ اس اجل سے مراد اس کی موت کا وقت ہے۔وَاَجَلٌ مُّسَمًّی عِنْدَہٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ یعنی ایک تو ہے انفرادی موت کا وقت ‘ جیسے حضور ﷺ نے فرمایا : مَنْ مَاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِیَامَتُہٗ 1 جس کو موت آگئی اس کی قیامت تو قائم ہوگئی۔ جبکہ ایک اس دنیا کی اجتماعی موت کا مقررہ وقت ہے جس کا علم اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اپنے پاس رکھا ہے ‘ کسی اور کو نہیں دیا۔

3

وَهُوَ ٱللَّهُ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَفِى ٱلْأَرْضِ ۖ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ

اور آسمانوں اور زمین میں وہی (ایک) خدا ہے تمہاری پوشیدہ اور ظاہر سب باتیں جانتا ہے اور تم جو عمل کرتے ہو سب سے واقف ہے

آیت 3 وَہُوَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَفِی الْاَرْضِ ط ایسا نہیں ہے کہ آسمانوں کا خدا کوئی اور ہو زمین کا کوئی اور۔ ہاں فرشتوں کے مختلف طبقات ہیں۔ زمین کے فرشتے ‘ فضا کے فرشتے اور آسمانوں کے فرشتے معین ہیں۔ پھر ہر آسمان کے الگ فرشتے ہیں۔ پھر ملائکہ مقربین ہیں۔ لیکن ذات باری تعالیٰ تو ایک ہی ہے۔

4

وَمَا تَأْتِيهِم مِّنْ ءَايَةٍۢ مِّنْ ءَايَٰتِ رَبِّهِمْ إِلَّا كَانُوا۟ عَنْهَا مُعْرِضِينَ

اور خدا کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ان لوگوں کے پاس نہیں آتی مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

آیت 4 وَمَا تَاْتِیْہِمْ مِّنْ اٰیَۃٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّہِمْ الاَّ کَانُوْا عَنْہَا مُعْرِضِیْنَ ۔ہم نئی سے نئی سورتیں بھیج رہے ہیں ‘ نئی سے نئی آیات نازل کر رہے ہیں ‘ لیکن اس کے باوجود یہ لوگ اعراض پر تلے ہوئے ہیں۔

5

فَقَدْ كَذَّبُوا۟ بِٱلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ ۖ فَسَوْفَ يَأْتِيهِمْ أَنۢبَٰٓؤُا۟ مَا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ

جب ان کے پاس حق آیا تو اس کو بھی جھٹلا دیا سو ان کو ان چیزوں کا جن سے یہ استہزا کرتے ہیں عنقریب انجام معلوم ہو جائے گا

آیت 5 فَقَدْ کَذَّبُوْا بالْحَقِّ لَمَّا جَآءَ ہُمْ ط یہاں فَقَدْ کَذَّبُوْا کا انداز ملاحظہ کیجیے اور یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ یہ مکی دور کے آخری زمانے کی سورتیں ہیں۔ گویا حضور ﷺ کو دعوت دیتے ہوئے تقریباً بارہ برس ہوچکے ہیں۔ چناچہ اب تک بھی جو لوگ ایمان نہیں لائے وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر پورے طور سے جم چکے ہیں۔فَسَوْفَ یَاْتِیْہِمْ اَنْبآؤُا مَا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِءُ وْنَ مشرکین مکہ مذاق اڑاتے تھے کہ عذاب کی دھمکیاں سنتے سنتے ہمیں بارہ سال ہوگئے ہیں ‘ یہ سن سن کر ہمارے کان پک گئے ہیں کہ عذاب آنے والا ہے ‘ لیکن اب تک کوئی عذاب نہیں آیا۔ لہٰذایہ خالی دھونس ہے ‘ صرف دھمکی ہے۔ اس طرح وہ لوگ اللہ کی آیات کا استہزا کرتے تھے۔ یہاں دو ٹوک انداز میں واضح کیا جا رہا ہے کہ جن چیزوں کا یہ لوگ مذاق اڑایا کرتے تھے ان کی حقیقت عنقریب ان پر کھلنی شروع ہوجائے گی۔ یوں سمجھ لیجیے کہ اس گروپ کی پہلی دو مکی سورتیں الانعام اور الاعراف مشرکین عرب پر اتمام حجت کی سورتیں ہیں اور ان کے بعد دو مدنی سورتوں الانفال اور التوبہ میں مشرکین مکہ پر عذاب موعود کا بیان ہے۔ اس لیے کہ ان لوگوں پر عذاب کی پہلی قسط غزوۂ بدر میں آئی تھی۔ چناچہ سورة الانفال میں غزوۂ بدر کے حالات و واقعات پر تبصرہ ہے اور اس عذاب کی آخری صورت کی تفصیل سورة التوبہ میں بیان ہوئی ہے۔ اسی مناسبت سے دو مکی اور دو مدنی سورتوں پر مشتمل یہ ایک گروپ بن گیا ہے۔

6

أَلَمْ يَرَوْا۟ كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍۢ مَّكَّنَّٰهُمْ فِى ٱلْأَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّن لَّكُمْ وَأَرْسَلْنَا ٱلسَّمَآءَ عَلَيْهِم مِّدْرَارًۭا وَجَعَلْنَا ٱلْأَنْهَٰرَ تَجْرِى مِن تَحْتِهِمْ فَأَهْلَكْنَٰهُم بِذُنُوبِهِمْ وَأَنشَأْنَا مِنۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا ءَاخَرِينَ

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی امتوں کو ہلاک کر دیا جن کے پاؤں ملک میں ایسے جما دیئے تھے کہ تمہارے پاؤں بھی ایسے نہیں جمائے اور ان پر آسمان سے لگاتار مینہ برسایا اور نہریں بنا دیں جو ان کے (مکانوں کے) نیچے بہہ رہی تھیں پھر ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کر دیا اور ان کے بعد اور امتیں پیدا کر دیں

آیت 6 اَلَمْ یَرَوْا کَمْ اَہْلَکْنَا مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّکَّنّٰہُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَکِّنْ لَّکُمْ اے قوم قریش ! ذرا قوم عاد کی شان و شوکت کا تصور کرو ! وہ لوگ اسی جزیرہ نمائے عرب میں آباد تھے۔ اس قوم کی عظمت کے قصے ابھی تک تمہیں یاد ہیں۔ قوم ثمود بھی بڑی طاقتور قوم تھی ‘ اپنے علاقے میں ان کا بڑا رعب اور دبدبہ تھا۔ وہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر ایسے عالی شان محل بناتے تھے کہ تم لوگ آج اس اہلیت کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے ہو۔ ہم نے ان قوموں کو زمین میں وہ قوت و سطوت دے رکھی تھی جو تم کو نہیں دی۔ تو جب ہم نے ایسی عظیم الشان اقوام کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا تو تمہاری کیا حیثیت ہے ؟وَاَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْہِمْ مِّدْرَارًاص وَّجَعَلْنَا الْاَنْہٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہِمْ ہم نے ان پر خوب بارشیں برسائیں اور انہیں خوشحالی عطا کی۔ بارش کا پانی برکت والا مَآ ءً مُبَارَکًا ہوتا ہے جس سے زمین کی روئیدگی خوب بڑھتی ہے ‘ فصلوں اور اناج کی بہتات ہوتی ہے۔فَاَہْلَکْنٰہُمْ بِذُنُوْبِہِمْ وَاَنْشَاْنَا مِنْم بَعْدِہِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ۔ مطلب یہ ہے کہ اس قانون کے مطابق تم کس کھیت کی مولی ہو ؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہارے معاملے میں اللہ تعالیٰ کا قانون بدل جائے گا ؟اگلی آیت میں اس سورة مبارکہ کا مرکزی مضمون مذکور ہے۔ جس دور میں یہ سورتیں نازل ہوئی تھیں اس دور میں حضور ﷺ پر قریش مکہ کا بےانتہا دباؤ تھا کہ اگر آپ ﷺ رسول ہیں اور ہم سے اپنی رسالت منوانا چاہتے ہیں تو کوئی حسی معجزہ ہمیں دکھایئے ‘ جسے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ مردہ کو زندہ کیجیے ‘ آسمان پر چڑھ کر دکھایئے ‘ مکہ میں کوئی باغ بنا دیجیے ‘ کوئی نیا چشمہ نکال دیجیے ‘ سونے چاندی کا کوئی محل بنا دیجیے ‘ آسمان سے کتاب لے کر آپ ﷺ کو اترتے ہوئے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں ‘ وغیرہ۔ ان کی طرف سے اس طرح کے تقاضے روز بروز زور پکڑتے جا رہے تھے اور عوام الناس میں یہ سوچ بڑھتی جا رہی تھی کہ ہمارے سرداروں کے یہ مطالبات ٹھیک ہی تو ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی اپنی قوم کو کیسے کیسے معجزے دکھائے تھے ! اگر آپ ﷺ بھی نبوت کے دعوے دار ہیں تو ویسے معجزات کیوں نہیں دکھاتے ؟ جبکہ دوسری طرف اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ تھا کہ اب کوئی ایسا حسی معجزہ نہیں دکھایا جائے گا۔ سب سے بڑا معجزہ قرآن نازل کردیا گیا ہے۔ جو شخص حق کا طالب ہے اس کے لیے اس میں ہدایت موجود ہے۔ ان حالات میں حضور ﷺ کی جان مبارک کس قدر ضیق تنگی میں آچکی تھی۔ گویا چکی کے دو پاٹ تھے جن کے درمیان حضور ﷺ کی ذات گرامی آگئی تھی۔ یہ اس سورة کا مرکزی مضمون ہے۔ آگے چل کر جب یہ موضوع اپنے نقطۂ عروج climax کو پہنچتا ہے تو اسے پڑھتے ہوئے واقعتا رونگٹے کھڑے ہوجانے والی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔

7

وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتَٰبًۭا فِى قِرْطَاسٍۢ فَلَمَسُوهُ بِأَيْدِيهِمْ لَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِنْ هَٰذَآ إِلَّا سِحْرٌۭ مُّبِينٌۭ

اور اگر ہم تم پر کاغذوں پر لکھی ہوئی کتاب نازل کرتے اور یہ اسے اپنے ہاتھوں سے بھی ٹٹول لیتے تو جو کافر ہیں وہ یہی کہہ دیتے کہ یہ تو (صاف اور) صریح جادو ہے

آیت 7 وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ کِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْہُ بِاَیْدِیْہِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ ہٰذَآ اِلاَّ سِحْرٌ مُّبِیْنٌ۔ وہ ایسے معجزات کو دیکھ کر بھی یہی کہیں گے کہ ہماری آنکھوں پر جادو کا اثر ہوگیا ہے ‘ ہماری نظر بند کردی گئی ہے۔ جس نے نہیں ماننا اس نے صریح معجزات دیکھ کر بھی نہیں ماننا۔ البتہ اگر ہم ایسا معجزہ دکھا دیں گے تو ان کی مہلت ختم ہوجائے گی اور پھر اس کے بعد فوراً عذاب آجائے گا۔ ابھی ہماری رحمت کا تقاضا یہ ہے کہ انہیں مزیدمہلت دی جائے۔ ابھی اس دودھ کو مزید بلویا جانا مقصود ہے کہ شاید اس میں سے کچھ مزید مکھن نکل آئے۔ اس لیے حسی معجزہ نہیں دکھایا جا رہا۔

8

وَقَالُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ مَلَكٌۭ ۖ وَلَوْ أَنزَلْنَا مَلَكًۭا لَّقُضِىَ ٱلْأَمْرُ ثُمَّ لَا يُنظَرُونَ

اور کہتے ہیں کہ ان (پیغمبر) پر فرشتہ کیوں نازل نہ ہوا (جو ان کی تصدیق کرتا) اگر ہم فرشتہ نازل کرتے تو کام ہی فیصل ہو جاتا پھر انھیں (مطلق) مہلت نہ دی جاتی

آیت 8 وَقَالُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ مَلَکٌط وَلَوْ اَنْزَلْنَا مَلَکًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لاَ یُنْظَرُوْنَ یعنی اس دنیا کی زندگی میں یہ جو ساری آزمائش ہے وہ تو غیب کے پردے ہی کی وجہ سے ہے۔ اگر غیب کا پردہ اٹھ جائے تو پھر امتحان ختم ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد تو پھر نتیجے کا اعلان کرنا ہی باقی رہ جاتا ہے

9

وَلَوْ جَعَلْنَٰهُ مَلَكًۭا لَّجَعَلْنَٰهُ رَجُلًۭا وَلَلَبَسْنَا عَلَيْهِم مَّا يَلْبِسُونَ

نیز اگر ہم کسی فرشتہ کو بھیجتے تو اسے مرد کی صورت میں بھیجتے اور جو شبہ (اب) کرتے ہیں اسی شبے میں پھر انہیں ڈال دیتے

آیت 9 وَلَوْ جَعَلْنٰہُ مَلَکًا لَّجَعَلْنٰہُ رَجُلاً وَّلَلَبَسْنَا عَلَیْہِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ اگر بجائے محمد رسول اللہ ﷺ کے کسی فرشتے کو نبی بنا کر بھیجا جاتا تو اسے بھی ہم نے انسانی شکل میں ہی بھیجنا تھا ‘ کیونکہ بھیجنا جو انسانوں کے لیے تھا۔ اس طرح جو التباس انہیں اس وقت ہو رہا ہے وہ التباس اس وقت بھی ہوجاتا۔ ہاں اگر فرشتوں میں بھیجنا ہوتا تو ضرور کوئی فرشتہ ہی بھیجتے۔ حدیث جبرائیل علیہ السلام کے حوالے سے ہمیں معلوم ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کے پاس انسانی شکل میں آئے تھے ‘ پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کو بھی پتا نہ چلا کہ یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں ‘ وہ انہیں انسان ہی سمجھے۔

10

وَلَقَدِ ٱسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍۢ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِٱلَّذِينَ سَخِرُوا۟ مِنْهُم مَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ

اور تم سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ تمسخر ہوتے رہے ہیں سو جو لوگ ان میں سے تمسخر کیا کرتے تھے ان کو تمسخر کی سزا نے آگھیرا

آیت 10 وَلَقَدِ اسْتُہْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِکَ نبی اکرم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ دل گرفتہ نہ ہوں ‘ یہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا۔ آپ ﷺ سے پہلے بھی انبیاء علیہ السلام کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہوتا رہا ہے۔ جیسے سورة الاحقاف آیت 9 میں آپ ﷺ کی زبان سے کہلوایا گیا : قُلْ مَا کُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ یعنی آپ ﷺ انہیں کہہ دیجیے کہ میں کوئی انوکھارسول نہیں ہوں ‘ مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں۔ آیت زیر نظر میں اللہ تعالیٰ خودفرما رہے ہیں کہ اس سے پہلے بھی انبیاء و رسل علیہ السلام کے ساتھ ان کی قومیں اسی طرح غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی رہی ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام ساڑھے نو سوبرس تک ایسا سب کچھ جھیلتے رہے۔ فَحَاق بالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْہُمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِءُوْنَ۔ ۔اگرچہ آپ ﷺ کی خواہش ہے کہ انہیں کوئی معجزہ دکھا دیا جائے تاکہ ان کی زبانیں تو بند ہوجائیں ‘ لیکن ابھی ایسا کرنا ہماری حکمت کا تقاضا نہیں ہے ‘ ابھی ان کی مہلت کا وقت ختم نہیں ہوا۔ یعنی یہ سارا معاملہ وقت کے تعین کا ہے ‘ یہاں time factor ہی اہم ہے ‘ جس کا فیصلہ مشیت الٰہی کے مطابق ہونا ہے۔

Al-An'aam 6:10Listen in Qur'an →

Commentary: Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.