Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani

Ayahs 81–90 of 120

81

وَلَوْ كَانُوا۟ يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلنَّبِىِّ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْهِ مَا ٱتَّخَذُوهُمْ أَوْلِيَآءَ وَلَٰكِنَّ كَثِيرًۭا مِّنْهُمْ فَٰسِقُونَ

اور اگر وہ خدا پر اور پیغمبر پر اور جو کتاب ان پر نازل ہوئی تھی اس پر یقین رکھتے تو ان لوگوں کو دوست نہ بناتے لیکن ان میں اکثر بدکردار ہیں

[١٢٧] انہیں چاہیے تو یہ تھا کہ وہ کسی اہل کتاب سے ہی دوستی لگاتے۔ تاکہ کسی نہ کسی حد تک ان میں عقائد کی ہم آہنگی ہوتی جو ان کی دوستی کی بنیاد بن سکتی لیکن وہ اسلام دشمنی میں اتنے اندھے ہوگئے ہیں کہ مسلمانوں کے مقابلہ میں مشرکین کو دوستی کے لیے چنتے ہیں اور زبانی بھی مشرکوں سے کہتے ہیں کہ دین کے لحاظ سے تم مسلمانوں سے اچھے ہو۔

Al-Maaida 5:81Listen in Qur'an →
82

۞ لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ ٱلنَّاسِ عَدَٰوَةًۭ لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱلْيَهُودَ وَٱلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ ۖ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةًۭ لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّا نَصَٰرَىٰ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًۭا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ

(اے پیغمبرﷺ!) تم دیکھو گے کہ مومنوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی کرنے والے یہودی اور مشرک ہیں اور دوستی کے لحاظ سے مومنوں سے قریب تر ان لوگوں کو پاؤ گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی اور وہ تکبر نہیں کرتے

[١٢٨] یہود و نصاریٰ کے کردار کا تقابل :۔ عیسائیوں کی مسلمانوں سے کم تر دشمنی اور قریب تر دوستی کی اللہ نے تین وجوہ بیان فرمائیں۔ ایک یہ کہ ان میں عالم لوگ موجود ہیں۔ (یاد رہے عالم سے مراد ہمیشہ عالم باعمل ہوتا ہے) دوسرے ان میں مشائخ موجود ہیں اور تیسرے یہ عیسائی لوگ متکبر نہیں ہوتے بلکہ متواضع اور منکسر المزاج ہوتے ہیں۔ اب ان کے مقابلہ میں یہود کے حالات دیکھئے ان کے علماء آیات اللہ کو بیچ کھانے والے آیات کو اور حق بات کو چھپا جانے والے اور سازشیں کرنے والے، ان میں رہبان یا مشائخ نام کو نہیں تھے بلکہ پوری قوم حب دنیا میں اس قدر مبتلا تھی کہ سود خوری اور حرام خوری سے باز نہیں آتے تھے اور ہر جائز و ناجائز ذریعہ سے دولت حاصل کرتے تھے۔ پھر انہی منکرات کا یہ اثر تھا کہ انتہائی سنگدل، بخیل اور متکبر بن گئے تھے۔ ان کے سب سردار مثلاً کعب بن اشرف، سلام بن ابی الحقیق اور حیی بن اخطب سب کے سب ہی متکبر اور بدنہاد تھے۔ اگر ان کے مقابلہ میں ہرقل شہنشاہ روم، مقوقس شاہ مصر اور نجاشی شاہ حبشہ کے کردار کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ یہود کے مقابلہ میں یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں سے کس قدر قریب تر تھے اور اختلافات کے باوجود دوسروں کی نسبت مسلمانوں سے دوستی رکھنے کو ترجیح دیتے تھے۔ اور یہود کی اسلام دشمنی کا یہ حال تھا کہ خود پیغمبر اسلام کو تین دفعہ ہلاک کرنے کی کوشش کی لیکن ہر بار اللہ نے آپ کو ان کے شر سے بچا لیا۔ ایک دفعہ نہایت سخت قسم کا جادو کر کے، دوسری بار زہریلی بکری کو کھلا کر اور تیسری بار چھت کے اوپر سے آپ پر ایک بھاری پتھر گرا کر جبکہ آپ نیچے بیٹھے ہوئے تھے۔

Al-Maaida 5:82Listen in Qur'an →
83

وَإِذَا سَمِعُوا۟ مَآ أُنزِلَ إِلَى ٱلرَّسُولِ تَرَىٰٓ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ ٱلدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا۟ مِنَ ٱلْحَقِّ ۖ يَقُولُونَ رَبَّنَآ ءَامَنَّا فَٱكْتُبْنَا مَعَ ٱلشَّٰهِدِينَ

اور جب اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو (سب سے پہلے) پیغمبر (محمدﷺ) پر نازل ہوئی تو تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اس لیے کہ انہوں نے حق بات پہچان لی اور وہ (خدا کی جناب میں) عرض کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ لے

[١٢٩] ہجرت حبشہ اور نجاشی کا کردار :۔ مشرکین مکہ کی ایذا رسانیوں سے تنگ آ کر ٥ ھ نبوی میں مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ شاہ حبشہ کے ساتھ قریش مکہ کے تجارتی مراسم تھے۔ ان کا ایک وفد ان کو واپس لانے کے لیے وہاں پہنچا۔ اور چند درباریوں سے مل کر انہیں تحفے اور تحائف دے کر اس بات پر آمادہ کیا کہ کل جب ہم نجاشی کے سامنے اپنی عرضداشت پیش کریں تو وہ ہماری ہاں میں ہاں ملا دیں اور سفارش بھی کریں۔ دوسرے دن اس وفد نے دربار میں حاضر ہو کر کہا کہ ہمارے کچھ لوگ وہاں سے بھاگ کر آپ کے ملک میں آگئے ہیں۔ وہ ہمیں واپس کر دیجئے۔ رشوت لینے والے درباریوں نے بھی ہاں میں ہاں ملا دی۔ لیکن نجاشی بڑا انصاف پسند بادشاہ تھا۔ اس نے کہا : جب تک دوسرے فریق کی بات نہ سنوں گا میں انہیں تمہارے حوالہ نہیں کرسکتا۔ چناچہ دوسرے دن مہاجر مسلمانوں کو دربار میں بلا کر ان کا بیان لیا گیا۔ جب انہوں نے ان مشرکوں کی ایذا رسانیوں اور مسلمانوں کی مظلومیت کی داستان سنائی تو اس نے مشرکین مکہ کو صاف جواب دے دیا اور انہیں اپنا سا منہ لے کر رخصت ہونا پڑا۔ اسی وفد کے ایک آدمی کو ایک تدبیر سوجھی جس کی کامیابی اسے یقینی محسوس ہونے لگی۔ وہ اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا ہم کل پھر دربار میں پیش ہوں گے اور میں ایک ایسی بات پیش کروں گا کہ بادشاہ از خود ان مسلمانوں کو ہمارے حوالہ کر دے گا۔ اور وہ بات یہ تھی کہ اس وقت تک پوری عیسائی دنیا میں عیسیٰ (علیہ السلام) کے ابن اللہ ہونے کا عقیدہ رائج ہوچکا تھا جبکہ مسلمان انہیں ابن اللہ نہیں مانتے تھے۔ فقط اللہ کا رسول اور اس کا کلمہ ہی سمجھتے تھے۔ چناچہ دوسرے دن یہ وفد دربار میں حاضر ہوا اور نجاشی سے کہا : ان مفرور بےدینوں سے آپ یہ تو پوچھئے کہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں ؟ اور کچھ غلط سلط باتیں بھی بتائیں دوسرے دن پھر مسلمانوں کی دربار میں طلبی ہوئی۔ انہیں یہ معلوم ہوچکا تھا کہ کفار مکہ نے اب ہم پر جو نیا وار کیا ہے وہ کس قسم کا ہے۔ بہرحال ان مظلوم مسلمانوں نے آپس میں یہی طے کیا کہ جو بات بھی کہیں گے سچ ہی کہیں گے خواہ ہمیں اس کی کتنی ہی سزا بھگتنی پڑے۔ مسلمانوں نے اس غرض کے لیے سیدنا جعفر طیار کو جو سیدنا علی کے بھائی تھے اپنا نمائندہ منتخب کرلیا۔ دوسرے دن جب نجاشی نے مسلمانوں سے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق سوال کیا تو سیدنا جعفر طیار نے جواب میں سورة مریم کی متعلقہ آیات پڑھ کر سنا دیں۔ یہ آیات سن کر نجاشی نے ایک تنکا اٹھایا اور مسلمانوں سے کہنے لگا واللہ جو کچھ تم نے کہا : عیسیٰ (علیہ السلام) اس تنکے کے برابر بھی اس سے زیادہ نہیں ہیں۔ نجاشی کے اس تبصرہ پر درباری بھی برہم ہوئے اور قریشی سفارت کی تمام امیدوں پر اوس پڑگئی مگر نجاشی نے کسی کی بھی پروا نہ کی اور مسلمانوں کو اپنے ملک میں رہنے کی کھلے دل سے اجازت دی۔ اور وفد کو بری طرح ذلیل ہو کر واپس آنا پڑا۔ اس واقعہ کے کئی سال بعد نجاشی نے ستر نو مسلم عیسائیوں پر مشتمل ایک وفد مدینہ میں رسول اللہ کی خدمت میں روانہ کیا۔ یہ لوگ جب قرآن سنتے تو ان پر رقت طاری ہوجاتی، وفور جذبات سے آنسو بہنے لگتے اور زبان سے ـ ( رَبَّنَا آمَنَّا) ۔۔ کہنا شروع کردیتے۔ اس آیت میں انہی لوگوں کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔- خ نجاشی کا غائبانہ نماز جنازہ :۔ شاہ حبشہ نجاشی اگرچہ آپ کی خدمت میں حاضر نہ ہوسکا تاہم مسلمان ضرور ہوچکا تھا اور اس پر واضح دلیل یہ ہے کہ جب وہ فوت ہوا تو آپ نے مسلمانوں کو اس کی وفات کی خبر دی پھر اس پر غائبانہ نماز جنازہ پڑھی۔ (بخاری۔ کتاب الجنائز۔ باب الصفوف علی الجنازۃ)

Al-Maaida 5:83Listen in Qur'an →
84

وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَمَا جَآءَنَا مِنَ ٱلْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَن يُدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ ٱلْقَوْمِ ٱلصَّٰلِحِينَ

اور ہمیں کیا ہوا ہے کہ خدا پر اور حق بات پر جو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نہ لائیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پروردگار ہم کو نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں) داخل کرے گا

Explained together with ayah 83

Al-Maaida 5:84Listen in Qur'an →
85

فَأَثَٰبَهُمُ ٱللَّهُ بِمَا قَالُوا۟ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ جَزَآءُ ٱلْمُحْسِنِينَ

تو خدا نے ان کو اس کہنے کے عوض (بہشت کے) باغ عطا فرمائے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور نیکو کاروں کا یہی صلہ ہے

Explained together with ayah 83

Al-Maaida 5:85Listen in Qur'an →
86

وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَآ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْجَحِيمِ

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ جہنمی ہیں

[١٣٠] غور فرمائیے یہ نصاریٰ بھی اہل کتاب تھے اور مدینہ کے یہود اور ان کے سردار بھی اہل کتاب۔ لیکن مسلمانوں کے ساتھ ان کے رویہ کے لحاظ سے ان میں جو زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اسی فرق کو سابقہ آیت میں بیان کیا گیا ہے اہل کتاب اور توحید کا دعویٰ رکھنے کے لحاظ سے یہود کو بھی چاہیے تو یہی تھا کہ وہ عیسائیوں کی طرح مشرکین کے بجائے مسلمانوں کے قریب تر ہوتے لیکن معاملہ اس کے برعکس تھا۔ یہود نے اللہ کی ان آیات کو جھٹلا دیا جو تورات میں موجود تھیں۔ لہذا ایسے بدکردار لوگوں کی سزا دوزخ ہی ہوسکتی ہے۔

Al-Maaida 5:86Listen in Qur'an →
87

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تُحَرِّمُوا۟ طَيِّبَٰتِ مَآ أَحَلَّ ٱللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْمُعْتَدِينَ

مومنو! جو پاکیزہ چیزیں خدا نے تمہارے لیے حلال کی ہیں ان کو حرام نہ کرو اور حد سے نہ بڑھو کہ خدا حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

[١٣١] حلال چیزوں کو حرام ٹھہرانے والے گروہ اور اس کی صورتیں :۔ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ شرعی نقطہ نظر سے تمام اشیاء انسان کے لیے مباح اور حلال ہیں ماسوائے ان چیزوں کے جن کی حرمت کے متعلق شریعت نے وضاحت کردی ہو۔ اب اس آیت اور اس سے بعد والی آیت میں حلال اشیاء سے فائدہ اٹھانے کے چند جامع اصول بیان کردیئے گئے ہیں اور یہ سب لاَ تَعْتَدُوْا کے ضمن میں آتے ہیں مثلاً (١) جو چیزیں اللہ نے حلال کی ہیں انہیں عقیدتاً یا عملاً حرام نہ بنا لو۔ جیسے صوفی قسم کے لوگ نکاح سے عملاً اس لیے پرہیز کرتے ہیں کہ نکاح سے جو ذمہ داریاں انسان پر پڑتی ہیں۔ وہ عبادت الٰہی میں آڑے آتی ہیں۔ اس قسم کے لوگ عیسائیوں میں بھی موجود تھے اور مسلمانوں میں بھی موجود ہیں بلکہ ایسا رجحان صحابہ کرام میں بھی چل نکلا تھا۔ صوفی منش صحابہ میں سے ہی کسی نے کہا کہ میں ساری عمر نکاح نہ کروں گا اور کسی نے کہا میں ساری رات اللہ کی عبادت میں گزارا کروں گا۔ جس سے اپنے جسم کے، بیوی کے اور مہمانوں کے سب کے حقوق تلف ہوتے تھے اور کسی نے کہا کہ میں ہمیشہ دن کو روزہ رکھا کروں گا۔ رسول اللہ کو ان باتوں کا علم ہوا تو آپ نے ان صحابہ کو سخت تنبیہ کی اور فرمایا میں اللہ کا رسول اور تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور میں نے نکاح کیے ہیں۔ میں رات کو سوتا بھی ہوں اور قیام بھی کرتا ہوں اور میں (نفلی) روزے رکھتا بھی ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں، یہی میرا طریقہ ہے اور جس نے میری سنت سے اعراض کیا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ (بخاری۔ کتاب النکاح۔ باب الترغیب فی النکاح)- دوسری صورت یہ ہے کہ جسم کو جتنی غذا کی ضرورت ہے اس سے بھی کم یا بہت کم کھائے یا مرغوب اشیاء سے پرہیز کرے۔ یہ چیز بھی صوفی طبقہ میں ہی پائی جاتی ہے۔ جن کا نظریہ یہ ہے کہ جسم کو جس قدر مضمحل اور نحیف و نزار بنایا جائے اسی قدر روح کو تقویت ہوگی۔ رہبانیت کا نظریہ بھی سنت نبوی کے سراسر خلاف ہے۔- حد سے بڑھنے کی تیسری صورت بسیار خوری ہے۔ جیسے فرمایا (وَّكُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا 31؀ ) 7 ۔ الاعراف :31) اور اپنی ذات پر ضرورت سے زیادہ خرچ کرنا بھی اس میں شامل ہے۔ ظاہر ہے کہ جو شخص ان باتوں میں مبتلا ہوگا وہ دوسروں کے حقوق کا خیال نہیں رکھے گا۔ نیز بسیار خوری سے انسان جہاں اللہ کی یاد سے غافل ہوجاتا ہے وہاں کئی طرح کے جسمانی عوارض و امراض بھی لاحق ہوجاتے ہیں اور اعتداء کی چوتھی صورت یہ ہے کہ چیز تو حلال ہو مگر انسان کمائی کے ذریعہ اسے حرام بنا لے۔ جیسے چوری، ڈاکہ، غصب، خیانت، سود اور دیگر ناجائز ذرائع سے حاصل کیا ہوا مال۔ اور یہ بھی (لَا تُحَرِّمُوْا طَيِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ 87؀) 5 ۔ المآئدہ :87) کے ضمن میں آتا ہے۔ اور یہود کی اکثریت انہی امراض میں مبتلا تھی۔

Al-Maaida 5:87Listen in Qur'an →
88

وَكُلُوا۟ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ حَلَٰلًۭا طَيِّبًۭا ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ٱلَّذِىٓ أَنتُم بِهِۦ مُؤْمِنُونَ

اور جو حلال طیّب روزی خدا نے تم کو دی ہے اسے کھاؤ اور خدا سے جس پر ایمان رکھتے ہو ڈرتے رہو

Explained together with ayah 87

Al-Maaida 5:88Listen in Qur'an →
89

لَا يُؤَاخِذُكُمُ ٱللَّهُ بِٱللَّغْوِ فِىٓ أَيْمَٰنِكُمْ وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ ٱلْأَيْمَٰنَ ۖ فَكَفَّٰرَتُهُۥٓ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَٰكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍۢ ۖ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَٰثَةِ أَيَّامٍۢ ۚ ذَٰلِكَ كَفَّٰرَةُ أَيْمَٰنِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ ۚ وَٱحْفَظُوٓا۟ أَيْمَٰنَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمْ ءَايَٰتِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

خدا تمہاری بےارادہ قسموں پر تم سے مواخذہ نہیں کرے گا لیکن پختہ قسموں پر (جن کے خلاف کرو گے) مواخذہ کرے گا تو اس کا کفارہ دس محتاجوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے اہل وعیال کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑے دینا یا ایک غلام آزاد کرنا اور جس کو میسر نہ ہو وہ تین روزے رکھے یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھا لو (اور اسے توڑ دو) اور (تم کو) چاہئے کہ اپنی قسموں کی حفاظت کرو اس طرح خدا تمہارے (سمجھانے کے) لیے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر کرو

[١٣٢] قسموں کے مسائل سے متعلق درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے :- ١۔ سیدہ عائشہ (رض) (رض) فرماتی ہیں کہ لغو قسموں سے مراد ایسی قسمیں ہیں جو انسان تکیہ کلام کے طور پر (نیت سے نہیں) کہہ دیتا ہے جیسے لا واللہ۔ بلی واللہ۔ نیز آپ فرماتی ہیں کہ میرے والد (سیدنا ابوبکر صدیق (رض) کبھی قسم نہیں توڑتے تھے یہاں تک کہ اللہ نے کفارہ کی آیت نازل فرمائی اس وقت وہ کہنے لگے میں جب قسم کھا لوں پھر اس کے خلاف کو اچھا سمجھوں تو اللہ کی رخصت منظور کر کے وہ کام کرلیتا ہوں جسے اچھا سمجھتا ہوں۔ (بخاری کتاب التفسیر)- ٢۔ سیدنا عمر کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اگر کسی نے قسم کھانا ہو تو اللہ کی قسم کھائے ورنہ چپ رہے (بخاری کتاب الایمان والنذور۔ مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب النھی عن الحلف بغیر اللہ تعالیٰ ) - ٣۔ آپ نے فرمایا جس نے اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھائی اس نے شرک کیا۔ (ابو داؤد۔ کتاب الایمان والنذور باب۔ فی کراھیۃ الحلف بالابائ) - ٤۔ آپ نے فرمایا نہ اپنے باپوں کی قسم کھاؤ، نہ ماؤں کی اور نہ شریکوں کی اور اللہ کی قسم بھی اس وقت کھاؤ جب تم سچے ہو۔ (ابو داؤد۔ کتاب الایمان والنذور باب۔ فی کراھیہ الحلف بالاباء نسائی۔ کتاب الایمان والنذور۔ باب الحلف بالامہات)- ٥۔ آپ نے فرمایا کبیرہ گناہ یہ ہیں : اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کو ستانا، کسی کو قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا۔ (بخاری۔ کتاب الایمان والنذور۔ باب الیمین الغموس ( وَلَا تَتَّخِذُوْٓا اَيْمَانَكُمْ 94؀) 16 ۔ النحل :94)- ٦۔ آپ نے فرمایا جو شخص کسی کام کے کرنے کی قسم کھائے پھر انشاء اللہ کہے تو اس پر (قسم توڑنے کا) کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ (ترمذی۔ ابو اب النذور والایمان۔ باب فی الاستثناء فی الیمین) - ٧۔ سیدنا براء بن عازب فرماتے ہیں : کہ نبی اکرم نے قسم دینے والے کی قسم کو پورا کرنے کا حکم دیا (بخاری۔ کتاب الایمان والنذور باب واقسموا باللہ جھد ایمانھم) - ٨۔ آپ نے فرمایا قسم میں قسم دلانے والے کی نیت کا اعتبار ہوگا۔ (مسلم۔ کتاب الایمان والنذور۔ باب الیمین علی نیۃ المستحلف)- ٩۔ آپ نے فرمایا اگر تم کسی کام کے کرنے کی قسم کھالو، پھر کسی اور کام میں بہتری سمجھو تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو اور وہ کام کرو جو بہتر ہے۔ (بخاری۔ کتاب الایمان والنذور۔ باب۔ (لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ باللَّغْوِ فِيْٓ اَيْمَانِكُمْ ٢٢٥۔ ) 2 ۔ البقرة :225) مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب ندب من حلف یمینا)- [١٣٢۔ الف ] قسموں کی قسمیں :۔ کلام عرب سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل عرب میں بات بات پر قسمیں کھانے کا عام رواج تھا۔ اور ان میں سے زیادہ تر قسمیں یا تو محض تکیہ کلام کے طور پر ہوا کرتی تھیں یا پھر کلام میں حسن پیدا کرنے کے لئے۔ ایسی ہی قسموں کے لئے اللہ تعالیٰ نے لغو کا لفظ استعمال فرمایا ہے جن کا کوئی کفارہ نہیں۔ رہیں وہ قسمیں جو دل کے ارادہ سے اٹھائی جائیں تو ان کی بھی دو قسمیں ہیں : ایک وہ جو کسی درست بات پر اٹھائی جائیں اور اگر ان کا تعلق مستقبل سے ہو تو انہیں قسم کے مطابق پورا بھی کردیا جائے۔ ایسی قسموں پر کفارہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دوسری وہ قسم جس کا تعلق مستقبل سے ہو اور جس کام پر قسم اٹھائی گئی وہ ممنوع تو نہ تھا مگر اس کام پر قسم نہ اٹھانا ہی بہتر تھا۔ جیسے ایک دفعہ خود رسول اللہ نے آئندہ شہد نہ پینے پر قسم اٹھا لی تو اللہ تعالیٰ نے اس پر تنبیہ فرمائی (التحریم آیت : ١) یا کسی صحابی نے ایک مرغی کو غلاظت میں چونچ مارتے دیکھ لیا تو آئندہ مرغی نہ کھانے پر قسم اٹھائی تھی۔ ایسی قسموں کو بھی توڑ کر ان کا کفارہ ادا کرنا چاہئے۔ جیسا کہ مندرجہ بالا احادیث میں سے حدیث نمبر ١۔ اور حدیث نمبر ٩ سے واضح ہے۔- خ قسمیں اور ان کا کفارہ۔ کفارے میں قدر مشترک۔ غلام کی آزادی :۔ کفارہ کا لغوی معنی وہ نیکی کا کا …

Al-Maaida 5:89Listen in Qur'an →
90

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِنَّمَا ٱلْخَمْرُ وَٱلْمَيْسِرُ وَٱلْأَنصَابُ وَٱلْأَزْلَٰمُ رِجْسٌۭ مِّنْ عَمَلِ ٱلشَّيْطَٰنِ فَٱجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پاسے (یہ سب) ناپاک کام اعمال شیطان سے ہیں سو ان سے بچتے رہنا تاکہ نجات پاؤ

[ ١٣٣[ شراب اور اس کی حرمت کے متعلق درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے :- ١۔ حرمت شراب میں تدریج :۔ سیدنا عمر ص فرماتے ہیں کہ میں نے دعا کی یا اللہ شراب کے بارے میں ہمارے لیے شافی بیان واضح فرما۔ تو سورة بقرہ کی یہ آیت نازل ہوئی (یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ ) چناچہ سیدنا عمر ص کو بلا کر ان پر یہ آیت پڑھی گئی۔ پھر سیدنا عمر ص نے دعا کی : یا اللہ شراب کے بارے میں ہمارے لیے شافی بیان نازل فرما تو سورة نساء کی یہ آیت نازل ہوئی (یٰایُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَتَقْرَبُوْا الصَّلٰوٰۃَ ) چناچہ سیدنا عمر ص کو بلا کر ان پر یہ آیت پڑھی گئی۔ آپ نے پھر دعا کی۔ یا اللہ ہمارے لیے شراب کے بارے میں شافی بیان واضح فرما۔ تو سورة مائدہ کی یہ آیت نازل ہوئی۔ (اِنَّمَا یُرِِیْدُ الشَّیْطٰنُ ۔۔ مُنْتَھُوْنَ ) تک، چناچہ سیدنا عمر کو بلا کر ان پر یہ آیت پڑھی گئی تو انہوں نے کہا ہم باز آئے۔ ہم باز آئے۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر۔ بخاری کتاب الاشربۃ باب نزول تحریم الخمر)- ٢۔ سیدنا (رض) کہتے ہیں کہ احد کے دن صبح کچھ لوگوں نے شراب پی تھی۔ اسی حال میں وہ شہید ہوئے۔ اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی (بخاری۔ کتاب التفسیر)- ٣۔ سیدنا عمر ص فرماتے ہیں کہ رسول اللہ منبر پر کھڑے ہو کر فرما رہے تھے لوگو شراب حرام ہوئی شراب پانچ چیزوں سے بنا کرتی ہے۔ انگور، کھجور، شہد، گیہوں اور جو سے اور جس مشروب سے عقل میں فتور آئے وہ خمر (شراب) ہے۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)- ٤۔ حرمت شراب کے وقت کا منظر :۔ سیدنا انس ص فرماتے ہیں کہ میں ابو طلحہ کے گھر لوگوں کا ساقی بنا ہوا تھا اور ان دنوں شراب فضیخ (گندی کھجوروں کی) ہی تھی۔ میں ابو طلحہ، ابو عبیدہ، ابی بن کعب، ابو ایوب، ابو دجانہ، سہیل بن بیضاء اور اپنے چچاؤں اور کسی دوسرے صحابہ کرام کو کھڑا ہوا شراب پلا رہا تھا اور میں ان سب سے چھوٹا تھا۔ رسول اللہ نے ایک منادی کو حکم دیا کہ وہ اعلان کر دے کہ شراب حرام ہوگئی۔ ابو طلحہ نے مجھے کہا جاؤ باہر جا کر سنو۔ میں باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک منادی اعلان کر رہا ہے۔ سن لو شراب حرام ہوگئی۔ اتنے میں ایک آدمی آیا اور اس نے پوچھا کیا تمہیں کوئی خبر پہنچی ہے ؟ وہ کہنے لگے کیسی خبر ؟ اس نے کہا شراب حرام ہوگئی ہے۔ ابو طلحہ نے مجھے کہا باہر جا کر مٹکا توڑ دو اور شراب بہا دو میں باہر نکلا اور سل کے ایک بٹے کو اٹھا کر مٹکے کے پیندے میں مارا۔ مٹکا ٹوٹ گیا اور شراب بہہ گئی۔ (اس دن) مدینہ کے گلی کوچوں میں شراب بہہ رہی تھی۔ اس شخص سے یہ خبر سننے کے بعد لوگوں نے نہ اس کی تصدیق کی اور نہ ہی پھر کبھی شراب پی۔ (بخاری کتاب الاشربہ۔ باب۔ نزول تحریم الخمر و کتاب المظالم باب صب الخمر فی الطریق۔ مسلم کتاب الاشربہ باب تحریم الخمر)- ٥۔ حرمت شراب سے متعلقہ مسائل :۔ سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو شخص انگور اترنے کے زمانے میں انگور سٹاک کر رکھے تاکہ اسے شراب بنانے والوں کے ہاتھ فروخت کرے اس نے دیدہ دانستہ آگ میں جانے کی کوشش کی (رواہ الطبرانی فی الاوسط، اسنادہ حسن)- ٦۔ آپ سے پوچھا گیا کیا شراب بطور دوا استعمال ہوسکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا شراب تو خود بیماری ہے یہ شفا کیا دے گی۔ (ترمذی۔ ابو اب الطب۔ باب ماجاء فی التداویٰ بالمسکر)- ٧۔ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ آپ نے فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے (مسلم۔ کتاب الاشربہ۔ باب۔ بیان ان کل مسکر خمر)- ٨۔ آپ نے فرمایا جس چیز کی کثیر مقدار حرام ہو اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہوتی ہے۔ (ترمذی۔ ابو اب الاشربہ باب ما اسکر کثیرۃ فقلیلہ حرام )- ٩۔ آپ سے پوچھا گیا کہ کیا ہم شراب کا سرکہ بنا کر اسے استعمال کرسکتے ہیں ؟ فرمایا نہیں (مسلم۔ کتاب الاشربہ باب۔ تحریم تخلیل الخمر )- ١٠۔ ابن عباس …

Al-Maaida 5:90Listen in Qur'an →

Commentary: Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.