Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 91–100 of 120

91

إِنَّمَا يُرِيدُ ٱلشَّيْطَٰنُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ ٱلْعَدَٰوَةَ وَٱلْبَغْضَآءَ فِى ٱلْخَمْرِ وَٱلْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ ٱللَّهِ وَعَنِ ٱلصَّلَوٰةِ ۖ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ

شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے سبب تمہارے آپس میں دشمنی اور رنجش ڈلوا دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو تم کو (ان کاموں سے) باز رہنا چاہیئے

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یقینا شراب اور جوا اور بت اور فال نکالنے کے تیر ناپاک ہیں عمل سے ہیں شیطان کے، پس بچو تم اس سے تاکہ تم فلاح پاؤ(90) یقینا چاہتا ہے شیطان کہ ڈال دے تمھارے درمیان عداوت اور بغض شراب اور جوئے کے ذریعے سےاور روک دے تمھیں اللہ کے ذکر سے اور نماز سے، پس کیا تم باز آتے ہو (ان شیطانی کاموں سے)؟ (91)

[91,90] اللہ تبارک و تعالیٰ ان مذکورہ قبیح اشیا کی مذمت کرتے ہوئے آگاہ فرماتا ہے کہ یہ شیطانی اور گندے کام ہیں ۔ ﴿ فَاجۡتَنِبُوۡهُ ﴾ ’’پس بچو ان سے‘‘ یعنی ان گندے کاموں کو چھوڑ دو ﴿ لَعَلَّـكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾’’تاکہ تم فلاح پاؤ‘‘ کیونکہ فلاح اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک کہ ان چیزوں سے اجتناب نہ کیا جائے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔ خاص طور پر مذکورہ فواحش :(الف)خمر : ہر وہ چیز خمر ہے جو عقل کو ڈھانپ لے، یعنی عقل پر نشے کا پردہ ڈال دے۔(ب) جوا : وہ تمام مقابلے جن میں جانبین کی طرف سے جیتنے والے کے لیے عوض مقرر کیا گیا ہو ، مثلاً:گھوڑ دوڑ وغیرہ کی شرط۔(ج)انصاب : اس سے مراد وہ بت وغیرہ ہیں جن کو نصب کر دیا جاتا ہے اور اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کی جاتی ہے۔(د)پانسے : جن کے ذریعے سے لوگ اپنی قسمت کا حال معلوم کرتے ہیں ۔یہ وہ چار چیزیں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے اور ان کے ارتکاب پر زجر و توبیخ کی ہے اور ان کے مفاسد سے آگاہ فرمایا جو ان کو ترک کرنے اور ان سے اجتناب کے داعی ہیں ۔(۱) یہ تمام امور (رجس)یعنی ناپاک ہیں ۔ اگرچہ حسی طور پر یہ ناپاک نہیں مگر معنوی طور پر ناپاک ہیں اور ناپاک امور سے بچنا اور ان کی گندگی میں ملوث ہونے سے اجتناب کرنا ہی مناسب ہے۔(۲)یہ تمام امور شیطانی اعمال ہیں اور شیطان انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ دشمن سے ہمیشہ دور رہا جاتا ہے اور اس کی گھاتوں اور سازشوں سے بچا جاتا ہے، خاص طور پر ان اعمال سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے جن میں دشمن ملوث کر کے ہلاک کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور سب سے بڑی احتیاط یہ ہے کہ اپنے کھلے دشمن کے اعمال سے دور رہ کر اس سے بچنا چاہیے اور ان اعمال میں پڑنے سے ڈرنا چاہیے۔(۳)ان مذکورہ امور سے اجتناب کیے بغیر بندے کی فلاح ممکن نہیں ۔ فلاح، امر مطلوب کے حصول میں کامیابی اور امر مرہوب سے نجات کا نام ہے اور یہ تمام امور فلاح سے مانع اور اس کے لیے رکاوٹ ہیں ۔(۴)یہ مذکورہ اعمال لوگوں کے درمیان بغض اور عداوت کے موجب ہیں ۔ شیطان ان اعمال کو لوگوں کے درمیان پھیلانے کا بڑا حریص ہے، خاص طور پر شراب اور جوا۔ تاکہ وہ اہل ایمان کے درمیان بغض اور عداوت کا بیج بو سکے۔ کیونکہ شراب پینا، عقل میں فتور آنے کا، ہوش و حواس کے چلے جانے کا اور مومن بھائیوں کے درمیان بغض اور عداوت کا سبب بنتا ہے خاص طور پر جبکہ اس کے ساتھ وہ اسباب بھی مقرون ہوں جو شراب پینے والے کے لوازم میں شمار ہوتے ہیں ۔ تب یہ شراب نوشی بسا اوقات قتل کے اقدام تک پہنچا دیتی ہے۔ جوئے میں ایک شخص کو جو دوسرے شخص پر جیت حاصل ہوتی ہے اور وہ بغیر کسی مقابلہ کے بہت سا مال حاصل کر لیتا ہے تو یہ چیز بغض اور عداوت کا سب سے بڑا سبب ہے۔(۵) یہ مذکورہ اعمال قلب کو ذکر الٰہی سے روکتے ہیں اور بدن کو ذکر اور نماز سے دور کر دیتے ہیں ۔ حالانکہ یہی وہ دو چیزیں ہیں جن کے لیے بندے کو تخلیق کیا گیا ہے اور انھی دو امور میں بندے کی سعادت ہے۔شراب اور جوا تو ذکر الٰہی اور نماز کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ قلب مشغول ہو جاتا ہے اور ذہن شراب اور جوئے میں مشغول ہو کر غافل ہو جاتا ہے یہاں تک کہ طویل مدت اس پر گزر جاتی ہے اور انسان کو ہوش تک نہیں رہتا کہ وہ کہاں ہے۔ پس کون سا گناہ اس گناہ سے بڑھ کر قبیح ہے جو انسان کو ناپاک کر کے ناپاک لوگوں میں شامل کر دے اور وہ اسے شیطان کے اعمال، اس کے مکر و فریب کے جال میں پھنسا دے ۔اور وہ شیطان کا اس …

Al-Maaida 5:91Listen in Qur'an →
92

وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ وَٱحْذَرُوا۟ ۚ فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ

اور خدا کی فرمانبرداری اور رسولِ (خدا) کی اطاعت کرتے رہو اور ڈرتے رہو اگر منہ پھیرو گے تو جان رکھو کہ ہمارے پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام کا کھول کر پہنچا دینا ہے

اور اطاعت کرو تم اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ڈرو تم، پس اگر پھر جاؤ تم تو جان لو کہ ہمارے رسول پر تو صرف پہنچا دینا ہے کھول کر(92)

[92] اللہ تبارک و تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت ایک ہی چیز کا نام ہے جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے وہ رسولﷺ کی اطاعت کرتا ہے اور جو کوئی رسولﷺ کی اطاعت کرتا ہے وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے۔ یہ اطاعت اس بات کو متضمن ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے احکام کی تعمیل کی جائے، یعنی ظاہری و باطنی اعمال و اقوال، حقوق اللہ اور حقوق مخلوق سے متعلق واجب اور مستحب اعمال بجا لائے جائیں ۔ اور اس امر کو متضمن ہے کہ ان امور سے اجتناب کیا جائے جن سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے منع کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کا حکم ایک عام حکم ہے جو تمام احکام کو شامل ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اس میں تمام اوامر و نواہی اور ظاہر و باطن شامل ہیں ۔ فرمایا:﴿ وَاحۡذَرُوۡا﴾ ’’اور ڈرتے رہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی سے بچو کیونکہ یہ نافرمانی شر اور واضح خسارے کی موجب ہے ﴿ فَاِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ﴾ ’’پس اگر تم اعراض کرو‘‘ یعنی جس چیز کا تمھیں حکم دیا گیا اور جس چیز سے تمھیں روکا گیا ہے اگر تم اس کی تعمیل کرنے سے گریز کرو ﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا عَلٰى رَسُوۡلِنَا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ﴾ ’’تو جان لو کہ ہمارے رسول(ﷺ) کے ذمہ تو صرف پیغام کا کھول کر پہنچا دینا ہے‘‘ اور اس نے یہ فریضہ ادا کر دیا ہے۔ اگر تم راہ راست اختیار کرتے ہو تو اس کا فائدہ تمھارے لیے ہے اور اگر تم برائیوں کا ارتکاب کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ تمھارا محاسبہ کرے گا۔ رسولﷺ کے ذمہ جو کچھ تھا وہ انھوں نے پہنچا دیا۔

Al-Maaida 5:92Listen in Qur'an →
93

لَيْسَ عَلَى ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ جُنَاحٌۭ فِيمَا طَعِمُوٓا۟ إِذَا مَا ٱتَّقَوا۟ وَّءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ ثُمَّ ٱتَّقَوا۟ وَّءَامَنُوا۟ ثُمَّ ٱتَّقَوا۟ وَّأَحْسَنُوا۟ ۗ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلْمُحْسِنِينَ

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان پر ان چیزوں کا کچھ گناہ نہیں جو وہ کھا چکے جب کہ انہوں نے پرہیز کیا اور ایمان لائے اور نیک کام کیے پھر پرہیز کیا اور ایمان لائے پھر پرہیز کیا اور نیکو کاری کی اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے

نہیں ہے اوپر ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور عمل کیے نیک، کوئی گناہ اس چیز میں جو کھا چکے وہ، جب ڈر جائیں وہ اور ایمان لے آئیں اور عمل کریں نیک ، پھر تقویٰ اختیار کریں وہ اور ایمان لائیں ، پھر تقویٰ اختیار کریں وہ اور نیکی کریں اور اللہ محبت کرتا ہے نیکی کرنے والوں سے(93)

[93] جب شراب کی تحریم، ممانعت کی تاکید اور اس کی بابت سخت حکم نازل ہوا تو بہت سے اہل ایمان کی خواہش تھی کہ انھیں اپنے ان مومن بھائیوں کے بارے میں معلوم ہو جو حالت اسلام میں فوت ہوئے اور شراب کی تحریم سے قبل وہ شراب پیا کرتے تھے، چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ﴿لَيۡسَ عَلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ جُنَاحٌ ﴾ ’’جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان پر ان چیزوں کا کچھ گناہ نہیں ۔‘‘ یعنی ان پر گناہ اور حرج نہیں ہے ﴿ فِيۡمَا طَعِمُوۡۤا﴾ ’’اس میں جو کچھ پہلے کھا چکے‘‘ یعنی شراب اور جوئے کی تحریم سے قبل وہ شراب پیا کرتے تھے۔ چونکہ نفی حرج مذکورہ اشیا وغیرہ کو شامل ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کو مقید فرمایا ﴿ اِذَا مَا اتَّقَوۡا وَّاٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’جبکہ وہ آئندہ کو ڈر گئے اور ایمان لائے اور نیک عمل کیے‘‘ یعنی اس شرط کے ساتھ کہ وہ گناہوں کو ترک کریں اللہ تعالیٰ پر ایسا صحیح ایمان رکھیں جو عمل صالح کا موجب ہوتا ہے، پھر اس پر ہمیشہ قائم رہیں .... ورنہ بندہ کبھی اس صفت سے متصف ہوتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا۔ یہ ایمان اس وقت تک کافی نہیں جب تک کہ اس پر دوام نہ ہو اور اسی حالت میں اس کو موت نہ آئے۔ نیز نیک اعمال پر اس کا دوام ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ اچھے طریقے سے اپنے خالق کی عبادت کرنے والے نیکوکاروں کو پسند کرتا ہے اور وہ بندوں کو نفع پہنچانے کو پسند کرتا ہے۔اس آیت کریمہ میں وہ شخص بھی شامل ہے جو تحریم کے نازل ہونے کے بعد کوئی حرام کردہ چیز کھاتا ہے یا کسی حرام فعل کا ارتکاب کرتا ہے، پھر اپنے گناہ کا اعتراف کرتے ہوئے توبہ کرلیتا، تقویٰ اختیار کرلیتا ہے اور نیک کام کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دے گا اور اس بارے میں اس کے گناہ کا بوجھ ہٹا دے گا۔

Al-Maaida 5:93Listen in Qur'an →
94

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَيَبْلُوَنَّكُمُ ٱللَّهُ بِشَىْءٍۢ مِّنَ ٱلصَّيْدِ تَنَالُهُۥٓ أَيْدِيكُمْ وَرِمَاحُكُمْ لِيَعْلَمَ ٱللَّهُ مَن يَخَافُهُۥ بِٱلْغَيْبِ ۚ فَمَنِ ٱعْتَدَىٰ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَلَهُۥ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

مومنو! کسی قدر شکار سے جن کو تم ہاتھوں اور نیزوں سے پکڑ سکو خدا تمہاری آزمائش کرے گا (یعنی حالت احرام میں شکار کی ممانعت سے) تا کہ معلوم کرے کہ اس سے غائبانہ کون ڈرتا ہے تو جو اس کے بعد زیادتی کرے اس کے لیے دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ، البتہ ضرور آزمائے گا تمھیں اللہ کچھ شکار سے کہ پہنچ سکتے ہیں اس تک تمھارے ہاتھ اور تمھارے نیزے تاکہ معلوم کر لے اللہ کہ کون ڈرتا ہے اس سے بن دیکھے؟ پس جو حد سے گزرے بعد اس کے، سو اس کے لیے عذاب ہے بہت دردناک(94) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ مارو تم شکار کو جبکہ تم احرام میں ہو اور جو کوئی مارے گا تم میں سے اس کو جان بوجھ کر تو بدلہ ہے (اس پر) مثل اس کے جو مارا اس نے، چوپاؤں سے، فیصلہ کریں گے اس کا دو انصاف والے تم میں سے، بطور قربانی کے پہنچنے والی کعبہ میں یا کفارہ ہے کھانا کھلانا کچھ مسکینوں کو یا برابر اس کے روزے رکھنے ہیں تاکہ چکھے وہ سزا اپنے کام کی۔ معاف کیا اللہ نے اس سے جو گزر چکااور جو کوئی پھر کرے تو انتقام لے گا اللہ اس سےاور اللہ غالب ہے انتقام لینے والا(95) حلال کیا گیا ہے تمھارے لیے شکار سمندر کا اور کھانا اس کا فائدے کے لیے تمھارے اور مسافروں کےاور حرام کیا گیا ہے تم پر شکار خشکی کا جب تک ہو تم احرام میں اور ڈرو تم اللہ سے، وہ جس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے(96)

[94] اللہ تعالیٰ کا بندوں پر یہ فضل و احسان ہے کہ اس نے ان کو خبر دی ہے کہ وہ قضا و قدر کے اعتبار سے یہ فعل سرانجام دے گا۔ تاکہ وہ اس کی اطاعت کریں اور بصیرت کے ساتھ آگے آئیں اور جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اے ایمان والو!‘‘ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھارے ایمان کا امتحان لے ﴿ لَيَبۡلُوَنَّـــكُمُ اللّٰهُ بِشَيۡءٍ مِّنَ الصَّيۡدِ ﴾ ’’البتہ ضرور آزمائے گا تم کو اللہ ایک بات سے ایک شکار میں ‘‘ یعنی کسی زیادہ بڑی چیز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمھیں نہیں آزمائے گا بلکہ اپنے لطف و کرم کی بنا پر تخفیف کرتے ہوئے بہت معمولی سی چیز کے ذریعے سے تمھارا امتحان لے گا۔ یہ شکار ہے جس کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالیٰ تمھیں آزمائے گا ﴿ تَنَالُهٗۤ اَيۡدِيۡكُمۡ وَرِمَاحُكُمۡ ﴾ ’’جس پر پہنچتے ہیں تمھارے ہاتھ اور تمھارے نیزے‘‘ یعنی تم اس کے شکار پر متمکن ہوتے ہو تاکہ اس طرح آزمائش مکمل ہو جائے اگر ہاتھ یا نیزے کے ذریعے سے شکار قدرت و اختیار میں نہ ہو تو آزمائش کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہتا، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آزمائش کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿لِيَعۡلَمَ اللّٰهُ ﴾ ’’تاکہ جان لے اللہ‘‘ یعنی ایسا جاننا جو مخلوق پر ظاہر ہو اور اس پر ثواب و عذاب مترتب ہوتا ہو ﴿مَنۡ يَّخَافُهٗ بِالۡغَيۡبِ ﴾’’کون اس سے غائبانہ ڈرتا ہے۔‘‘ پس جس چیز کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے روکا ہے، اس پر قدرت و اختیار ہونے کے باوجود وہ اس سے رک جاتا ہے تو وہ اسے بہت زیادہ اجر عطا فرماتا ہے، اس کے برعکس وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ سے غائبانہ طور پر ڈرتا نہیں اور اس کی نافرمانی سے باز نہیں آتا، اس کے سامنے شکار آجاتا ہے، اگر اس پر قابو پا سکتا ہے تو اس کو شکار کر لیتا ہے۔۔۔۔﴿فَمَنِ اعۡتَدٰؔى ﴾ ’’تو جو زیادتی کرے۔‘‘ یعنی تم میں سے جو کوئی حد سے تجاوز کرے گا ﴿ بَعۡدَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اس کے بعد‘‘ یعنی اس بیان کے بعد جس نے ہر قسم کی حجت کو باطل کر کے راستے کو واضح کر دیا ہے ﴿ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پس اس کے لیے انتہائی دردناک عذاب ہے‘‘ جس کا وصف اللہ کے سوا کوئی بیان نہیں کر سکتا۔ کیونکہ حد سے تجاوز کرنے والے اس شخص کے لیے کوئی عذر نہیں ۔ اعتبار اس شخص کا ہے جو لوگوں کی عدم موجودگی میں غائبانہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ رہا لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ کے خوف کا اظہار کرنا تو یہ کبھی کبھی لوگوں کے خوف کی وجہ سے بھی ہوتا ہے تب اس پر کوئی ثواب نہیں ۔

[95] پھر اللہ تعالیٰ نے حالت احرام میں شکار کرنے سے منع کر کے شکار کرنے کو حرام قرار دے دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا …

Al-Maaida 5:94Listen in Qur'an →
95

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَقْتُلُوا۟ ٱلصَّيْدَ وَأَنتُمْ حُرُمٌۭ ۚ وَمَن قَتَلَهُۥ مِنكُم مُّتَعَمِّدًۭا فَجَزَآءٌۭ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ ٱلنَّعَمِ يَحْكُمُ بِهِۦ ذَوَا عَدْلٍۢ مِّنكُمْ هَدْيًۢا بَٰلِغَ ٱلْكَعْبَةِ أَوْ كَفَّٰرَةٌۭ طَعَامُ مَسَٰكِينَ أَوْ عَدْلُ ذَٰلِكَ صِيَامًۭا لِّيَذُوقَ وَبَالَ أَمْرِهِۦ ۗ عَفَا ٱللَّهُ عَمَّا سَلَفَ ۚ وَمَنْ عَادَ فَيَنتَقِمُ ٱللَّهُ مِنْهُ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌۭ ذُو ٱنتِقَامٍ

مومنو! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار نہ مارنا اور جو تم میں سے جان بوجھ کر اسے مارے تو (یا تو اس کا) بدلہ (دے اور وہ یہ ہے کہ) اسی طرح کا چارپایہ جسے تم میں دو معتبر شخص مقرر کردیں قربانی (کرے اور یہ قربانی) کعبے پہنچائی جائے یا کفارہ (دے اور وہ) مسکینوں کو کھانا کھلانا (ہے) یا اس کے برابر روزے رکھے تاکہ اپنے کام کی سزا (کا مزہ) چکھے (اور) جو پہلے ہو چکا وہ خدا نے معاف کر دیا اور جو پھر (ایسا کام) کرے گا تو خدا اس سے انتقام لے گا اور خدا غالب اور انتقام لینے والا ہے

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ، البتہ ضرور آزمائے گا تمھیں اللہ کچھ شکار سے کہ پہنچ سکتے ہیں اس تک تمھارے ہاتھ اور تمھارے نیزے تاکہ معلوم کر لے اللہ کہ کون ڈرتا ہے اس سے بن دیکھے؟ پس جو حد سے گزرے بعد اس کے، سو اس کے لیے عذاب ہے بہت دردناک(94) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ مارو تم شکار کو جبکہ تم احرام میں ہو اور جو کوئی مارے گا تم میں سے اس کو جان بوجھ کر تو بدلہ ہے (اس پر) مثل اس کے جو مارا اس نے، چوپاؤں سے، فیصلہ کریں گے اس کا دو انصاف والے تم میں سے، بطور قربانی کے پہنچنے والی کعبہ میں یا کفارہ ہے کھانا کھلانا کچھ مسکینوں کو یا برابر اس کے روزے رکھنے ہیں تاکہ چکھے وہ سزا اپنے کام کی۔ معاف کیا اللہ نے اس سے جو گزر چکااور جو کوئی پھر کرے تو انتقام لے گا اللہ اس سےاور اللہ غالب ہے انتقام لینے والا(95) حلال کیا گیا ہے تمھارے لیے شکار سمندر کا اور کھانا اس کا فائدے کے لیے تمھارے اور مسافروں کےاور حرام کیا گیا ہے تم پر شکار خشکی کا جب تک ہو تم احرام میں اور ڈرو تم اللہ سے، وہ جس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے(96)

[94] اللہ تعالیٰ کا بندوں پر یہ فضل و احسان ہے کہ اس نے ان کو خبر دی ہے کہ وہ قضا و قدر کے اعتبار سے یہ فعل سرانجام دے گا۔ تاکہ وہ اس کی اطاعت کریں اور بصیرت کے ساتھ آگے آئیں اور جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اے ایمان والو!‘‘ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھارے ایمان کا امتحان لے ﴿ لَيَبۡلُوَنَّـــكُمُ اللّٰهُ بِشَيۡءٍ مِّنَ الصَّيۡدِ ﴾ ’’البتہ ضرور آزمائے گا تم کو اللہ ایک بات سے ایک شکار میں ‘‘ یعنی کسی زیادہ بڑی چیز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمھیں نہیں آزمائے گا بلکہ اپنے لطف و کرم کی بنا پر تخفیف کرتے ہوئے بہت معمولی سی چیز کے ذریعے سے تمھارا امتحان لے گا۔ یہ شکار ہے جس کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالیٰ تمھیں آزمائے گا ﴿ تَنَالُهٗۤ اَيۡدِيۡكُمۡ وَرِمَاحُكُمۡ ﴾ ’’جس پر پہنچتے ہیں تمھارے ہاتھ اور تمھارے نیزے‘‘ یعنی تم اس کے شکار پر متمکن ہوتے ہو تاکہ اس طرح آزمائش مکمل ہو جائے اگر ہاتھ یا نیزے کے ذریعے سے شکار قدرت و اختیار میں نہ ہو تو آزمائش کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہتا، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آزمائش کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿لِيَعۡلَمَ اللّٰهُ ﴾ ’’تاکہ جان لے اللہ‘‘ یعنی ایسا جاننا جو مخلوق پر ظاہر ہو اور اس پر ثواب و عذاب مترتب ہوتا ہو ﴿مَنۡ يَّخَافُهٗ بِالۡغَيۡبِ ﴾’’کون اس سے غائبانہ ڈرتا ہے۔‘‘ پس جس چیز کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے روکا ہے، اس پر قدرت و اختیار ہونے کے باوجود وہ اس سے رک جاتا ہے تو وہ اسے بہت زیادہ اجر عطا فرماتا ہے، اس کے برعکس وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ سے غائبانہ طور پر ڈرتا نہیں اور اس کی نافرمانی سے باز نہیں آتا، اس کے سامنے شکار آجاتا ہے، اگر اس پر قابو پا سکتا ہے تو اس کو شکار کر لیتا ہے۔۔۔۔﴿فَمَنِ اعۡتَدٰؔى ﴾ ’’تو جو زیادتی کرے۔‘‘ یعنی تم میں سے جو کوئی حد سے تجاوز کرے گا ﴿ بَعۡدَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اس کے بعد‘‘ یعنی اس بیان کے بعد جس نے ہر قسم کی حجت کو باطل کر کے راستے کو واضح کر دیا ہے ﴿ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پس اس کے لیے انتہائی دردناک عذاب ہے‘‘ جس کا وصف اللہ کے سوا کوئی بیان نہیں کر سکتا۔ کیونکہ حد سے تجاوز کرنے والے اس شخص کے لیے کوئی عذر نہیں ۔ اعتبار اس شخص کا ہے جو لوگوں کی عدم موجودگی میں غائبانہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ رہا لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ کے خوف کا اظہار کرنا تو یہ کبھی کبھی لوگوں کے خوف کی وجہ سے بھی ہوتا ہے تب اس پر کوئی ثواب نہیں ۔

[95] پھر اللہ تعالیٰ نے حالت احرام میں شکار کرنے سے منع کر کے شکار کرنے کو حرام قرار دے دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا …

Al-Maaida 5:95Listen in Qur'an →
96

أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ ٱلْبَحْرِ وَطَعَامُهُۥ مَتَٰعًۭا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ ۖ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ ٱلْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًۭا ۗ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ٱلَّذِىٓ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

تمہارے لیے دریا (کی چیزوں) کا شکار اور ان کا کھانا حلال کر دیا گیا ہے (یعنی) تمہارے اور مسافروں کے فائدے کے لیے اور جنگل (کی چیزوں) کا شکار جب تک تم احرام کی حالت میں رہو تم پر حرام ہے اور خدا سے جس کے پاس تم (سب) جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہو

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ، البتہ ضرور آزمائے گا تمھیں اللہ کچھ شکار سے کہ پہنچ سکتے ہیں اس تک تمھارے ہاتھ اور تمھارے نیزے تاکہ معلوم کر لے اللہ کہ کون ڈرتا ہے اس سے بن دیکھے؟ پس جو حد سے گزرے بعد اس کے، سو اس کے لیے عذاب ہے بہت دردناک(94) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ مارو تم شکار کو جبکہ تم احرام میں ہو اور جو کوئی مارے گا تم میں سے اس کو جان بوجھ کر تو بدلہ ہے (اس پر) مثل اس کے جو مارا اس نے، چوپاؤں سے، فیصلہ کریں گے اس کا دو انصاف والے تم میں سے، بطور قربانی کے پہنچنے والی کعبہ میں یا کفارہ ہے کھانا کھلانا کچھ مسکینوں کو یا برابر اس کے روزے رکھنے ہیں تاکہ چکھے وہ سزا اپنے کام کی۔ معاف کیا اللہ نے اس سے جو گزر چکااور جو کوئی پھر کرے تو انتقام لے گا اللہ اس سےاور اللہ غالب ہے انتقام لینے والا(95) حلال کیا گیا ہے تمھارے لیے شکار سمندر کا اور کھانا اس کا فائدے کے لیے تمھارے اور مسافروں کےاور حرام کیا گیا ہے تم پر شکار خشکی کا جب تک ہو تم احرام میں اور ڈرو تم اللہ سے، وہ جس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے(96)

[94] اللہ تعالیٰ کا بندوں پر یہ فضل و احسان ہے کہ اس نے ان کو خبر دی ہے کہ وہ قضا و قدر کے اعتبار سے یہ فعل سرانجام دے گا۔ تاکہ وہ اس کی اطاعت کریں اور بصیرت کے ساتھ آگے آئیں اور جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اے ایمان والو!‘‘ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھارے ایمان کا امتحان لے ﴿ لَيَبۡلُوَنَّـــكُمُ اللّٰهُ بِشَيۡءٍ مِّنَ الصَّيۡدِ ﴾ ’’البتہ ضرور آزمائے گا تم کو اللہ ایک بات سے ایک شکار میں ‘‘ یعنی کسی زیادہ بڑی چیز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمھیں نہیں آزمائے گا بلکہ اپنے لطف و کرم کی بنا پر تخفیف کرتے ہوئے بہت معمولی سی چیز کے ذریعے سے تمھارا امتحان لے گا۔ یہ شکار ہے جس کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالیٰ تمھیں آزمائے گا ﴿ تَنَالُهٗۤ اَيۡدِيۡكُمۡ وَرِمَاحُكُمۡ ﴾ ’’جس پر پہنچتے ہیں تمھارے ہاتھ اور تمھارے نیزے‘‘ یعنی تم اس کے شکار پر متمکن ہوتے ہو تاکہ اس طرح آزمائش مکمل ہو جائے اگر ہاتھ یا نیزے کے ذریعے سے شکار قدرت و اختیار میں نہ ہو تو آزمائش کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہتا، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آزمائش کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿لِيَعۡلَمَ اللّٰهُ ﴾ ’’تاکہ جان لے اللہ‘‘ یعنی ایسا جاننا جو مخلوق پر ظاہر ہو اور اس پر ثواب و عذاب مترتب ہوتا ہو ﴿مَنۡ يَّخَافُهٗ بِالۡغَيۡبِ ﴾’’کون اس سے غائبانہ ڈرتا ہے۔‘‘ پس جس چیز کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے روکا ہے، اس پر قدرت و اختیار ہونے کے باوجود وہ اس سے رک جاتا ہے تو وہ اسے بہت زیادہ اجر عطا فرماتا ہے، اس کے برعکس وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ سے غائبانہ طور پر ڈرتا نہیں اور اس کی نافرمانی سے باز نہیں آتا، اس کے سامنے شکار آجاتا ہے، اگر اس پر قابو پا سکتا ہے تو اس کو شکار کر لیتا ہے۔۔۔۔﴿فَمَنِ اعۡتَدٰؔى ﴾ ’’تو جو زیادتی کرے۔‘‘ یعنی تم میں سے جو کوئی حد سے تجاوز کرے گا ﴿ بَعۡدَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اس کے بعد‘‘ یعنی اس بیان کے بعد جس نے ہر قسم کی حجت کو باطل کر کے راستے کو واضح کر دیا ہے ﴿ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پس اس کے لیے انتہائی دردناک عذاب ہے‘‘ جس کا وصف اللہ کے سوا کوئی بیان نہیں کر سکتا۔ کیونکہ حد سے تجاوز کرنے والے اس شخص کے لیے کوئی عذر نہیں ۔ اعتبار اس شخص کا ہے جو لوگوں کی عدم موجودگی میں غائبانہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ رہا لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ کے خوف کا اظہار کرنا تو یہ کبھی کبھی لوگوں کے خوف کی وجہ سے بھی ہوتا ہے تب اس پر کوئی ثواب نہیں ۔

[95] پھر اللہ تعالیٰ نے حالت احرام میں شکار کرنے سے منع کر کے شکار کرنے کو حرام قرار دے دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا …

Al-Maaida 5:96Listen in Qur'an →
97

۞ جَعَلَ ٱللَّهُ ٱلْكَعْبَةَ ٱلْبَيْتَ ٱلْحَرَامَ قِيَٰمًۭا لِّلنَّاسِ وَٱلشَّهْرَ ٱلْحَرَامَ وَٱلْهَدْىَ وَٱلْقَلَٰٓئِدَ ۚ ذَٰلِكَ لِتَعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ وَأَنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ

خدا نے عزت کے گھر (یعنی) کعبے کو لوگوں کے لیے موجب امن مقرر فرمایا ہے اور عزت کے مہینوں کو اور قربانی کو اور ان جانوروں کو جن کے گلے میں پٹے بندھے ہوں یہ اس لیے کہ تم جان لو کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے خدا سب کو جانتا ہے اور یہ کہ خدا کو ہر چیز کا علم ہے

بنایا ہے اللہ نے کعبے کو، جو گھر ہے حرمت والا، قیام کا سبب لوگوں کے لیے اور حرمت والے مہینوں کواور حرم والی قربانی کو اور پٹوں (والے جانوروں ) کو یہ اس لیے تاکہ تم جان لو کہ یقینا اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(97) جان لو! بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہےاور بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(98) نہیں ہے رسول پر مگر پہنچا دینااور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو(99)

[97] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ ﴿ جَعَلَ اللّٰهُ الۡكَعۡبَةَ الۡبَيۡتَ الۡحَرَامَ قِيٰمًا لِّلنَّاسِ ﴾ ’’اس نے کعبہ، یعنی محترم گھر کو لوگوں کے لیے قیام کا باعث بنایا۔‘‘ یعنی اس کی تعظیم کے قیام کے ساتھ ان کا دین اور دنیا قائم ہیں ۔ کعبہ کے ساتھ ان کے اسلام کی تکمیل ہوتی ہے۔ ان کے بوجھ ہلکے ہوتے ہیں ۔ اس گھر کا قصد کرنے سے بہت زیادہ نوازشیں اور بہت زیادہ احسانات حاصل ہوتے ہیں ۔ اسی کعبہ کے سبب سے اموال خرچ کیے جاتے ہیں اور اسی کی خاطر بڑے بڑے اہوال میں گھسا جاتا ہے۔ اس محترم گھر میں دور دور سے مختلف رنگ و نسل کے مسلمان اکٹھے ہوتے ہیں ، ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں ۔ ایک دوسرے سے مدد لیتے ہیں ، مصالح عامہ میں ایک دوسرے سے مشورہ کرتے ہیں ، ان کے درمیان ان کے دینی اور دنیاوی مفادات کے ضمن میں روابط استوار ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿لِّيَشۡهَدُوۡا مَنَافِعَ لَهُمۡ وَيَذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ فِيۡۤ اَ يَّامٍ مَّعۡلُوۡمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمۡ مِّنۢۡ بَهِيۡمَةِ الۡاَنۡعَامِ﴾(الحج: 22؍28)’’تاکہ وہ اپنے فائدے کے کاموں میں حاضر ہوں اور قربانی کے چند معلوم دنوں میں ان مویشیوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نے عطا کیے ہیں ‘‘۔اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اس محترم گھر کو لوگوں کے لیے اجتماعی زندگی کے قیام کا ذریعہ بنایا، بعض علماء کہتے ہیں کہ ہر سال بیت اللہ کا حج کرنا فرض کفایہ ہے اگر تمام لوگ حج چھوڑ دیں تو تمام وہ لوگ گناہ گار ٹھہریں گے جو حج کرنے کی قدرت رکھتے ہیں بلکہ اگر تمام لوگ حج چھوڑ دیں تو ان کی اجتماعی زندگی کا سہارا ختم ہو جائے گا اور قیامت قائم ہو جائے گی۔﴿ وَالۡهَدۡيَ وَالۡقَلَآىِٕدَ ﴾ ’’اور قربانی کو اور ان جانوروں کو جن کے گلے میں پٹے بندھے ہوں ۔‘‘ یعنی اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قربانی کے جانوروں اور پٹے والے جانوروں کو جو کہ قربانی کی بہترین قسم ہے، لوگوں کے گزارے کا ذریعہ بنایا۔ لوگ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ثواب حاصل کرتے ہیں ۔ ﴿ ذٰلِكَ لِتَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ وَاَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ اس لیے تاکہ تم جان لو کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ کہ آسمان و زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز سے خوب واقف ہے‘‘ پس یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا علم ہی ہے کہ اس نے تمھارے لیے یہ محترم گھر بنایا کیونکہ وہ تمھارے دینی اور دنیاوی مصالح کا علم رکھتا ہے۔

[98]﴿اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ وَاَنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’جان لو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے‘‘ یعنی ان دونوں امور کے بارے میں جزم و یقین کے ساتھ تمھارے دلوں میں علم موجود ہے۔ یہ حقیقت ہمیشہ تمھیں معلوم رہے کہ اللہ تعالیٰ نافرمانی کرنے والوں کو دنیا میں اور آخرت میں سخت عذاب دینے والا ہے اور وہ ان لوگوں کو بخش دینے والا اور ان پر بہت رحم کرنے والا ہے جو توبہ کر کے اس کی اطاعت کرتے ہیں ۔ پس اس کے عذاب کا خوف اور اس کی بخشش اور ثواب کی امید اس علم کے ثمرات ہیں اور تم خوف اور امید کے تقاضوں کے مطابق عمل کرتے ہو۔

[99] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿مَا عَلَى الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ﴾ ’’رسول کے ذمے صرف …

Al-Maaida 5:97Listen in Qur'an →
98

ٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ وَأَنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

جان رکھو کہ خدا سخت غداب دینے والا ہے اور یہ کہ خدا بخشنے والا مہربان بھی ہے

بنایا ہے اللہ نے کعبے کو، جو گھر ہے حرمت والا، قیام کا سبب لوگوں کے لیے اور حرمت والے مہینوں کواور حرم والی قربانی کو اور پٹوں (والے جانوروں ) کو یہ اس لیے تاکہ تم جان لو کہ یقینا اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(97) جان لو! بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہےاور بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(98) نہیں ہے رسول پر مگر پہنچا دینااور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو(99)

[97] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ ﴿ جَعَلَ اللّٰهُ الۡكَعۡبَةَ الۡبَيۡتَ الۡحَرَامَ قِيٰمًا لِّلنَّاسِ ﴾ ’’اس نے کعبہ، یعنی محترم گھر کو لوگوں کے لیے قیام کا باعث بنایا۔‘‘ یعنی اس کی تعظیم کے قیام کے ساتھ ان کا دین اور دنیا قائم ہیں ۔ کعبہ کے ساتھ ان کے اسلام کی تکمیل ہوتی ہے۔ ان کے بوجھ ہلکے ہوتے ہیں ۔ اس گھر کا قصد کرنے سے بہت زیادہ نوازشیں اور بہت زیادہ احسانات حاصل ہوتے ہیں ۔ اسی کعبہ کے سبب سے اموال خرچ کیے جاتے ہیں اور اسی کی خاطر بڑے بڑے اہوال میں گھسا جاتا ہے۔ اس محترم گھر میں دور دور سے مختلف رنگ و نسل کے مسلمان اکٹھے ہوتے ہیں ، ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں ۔ ایک دوسرے سے مدد لیتے ہیں ، مصالح عامہ میں ایک دوسرے سے مشورہ کرتے ہیں ، ان کے درمیان ان کے دینی اور دنیاوی مفادات کے ضمن میں روابط استوار ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿لِّيَشۡهَدُوۡا مَنَافِعَ لَهُمۡ وَيَذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ فِيۡۤ اَ يَّامٍ مَّعۡلُوۡمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمۡ مِّنۢۡ بَهِيۡمَةِ الۡاَنۡعَامِ﴾(الحج: 22؍28)’’تاکہ وہ اپنے فائدے کے کاموں میں حاضر ہوں اور قربانی کے چند معلوم دنوں میں ان مویشیوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نے عطا کیے ہیں ‘‘۔اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اس محترم گھر کو لوگوں کے لیے اجتماعی زندگی کے قیام کا ذریعہ بنایا، بعض علماء کہتے ہیں کہ ہر سال بیت اللہ کا حج کرنا فرض کفایہ ہے اگر تمام لوگ حج چھوڑ دیں تو تمام وہ لوگ گناہ گار ٹھہریں گے جو حج کرنے کی قدرت رکھتے ہیں بلکہ اگر تمام لوگ حج چھوڑ دیں تو ان کی اجتماعی زندگی کا سہارا ختم ہو جائے گا اور قیامت قائم ہو جائے گی۔﴿ وَالۡهَدۡيَ وَالۡقَلَآىِٕدَ ﴾ ’’اور قربانی کو اور ان جانوروں کو جن کے گلے میں پٹے بندھے ہوں ۔‘‘ یعنی اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قربانی کے جانوروں اور پٹے والے جانوروں کو جو کہ قربانی کی بہترین قسم ہے، لوگوں کے گزارے کا ذریعہ بنایا۔ لوگ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ثواب حاصل کرتے ہیں ۔ ﴿ ذٰلِكَ لِتَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ وَاَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ اس لیے تاکہ تم جان لو کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ کہ آسمان و زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز سے خوب واقف ہے‘‘ پس یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا علم ہی ہے کہ اس نے تمھارے لیے یہ محترم گھر بنایا کیونکہ وہ تمھارے دینی اور دنیاوی مصالح کا علم رکھتا ہے۔

[98]﴿اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ وَاَنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’جان لو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے‘‘ یعنی ان دونوں امور کے بارے میں جزم و یقین کے ساتھ تمھارے دلوں میں علم موجود ہے۔ یہ حقیقت ہمیشہ تمھیں معلوم رہے کہ اللہ تعالیٰ نافرمانی کرنے والوں کو دنیا میں اور آخرت میں سخت عذاب دینے والا ہے اور وہ ان لوگوں کو بخش دینے والا اور ان پر بہت رحم کرنے والا ہے جو توبہ کر کے اس کی اطاعت کرتے ہیں ۔ پس اس کے عذاب کا خوف اور اس کی بخشش اور ثواب کی امید اس علم کے ثمرات ہیں اور تم خوف اور امید کے تقاضوں کے مطابق عمل کرتے ہو۔

[99] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿مَا عَلَى الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ﴾ ’’رسول کے ذمے صرف …

Al-Maaida 5:98Listen in Qur'an →
99

مَّا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ۗ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَكْتُمُونَ

پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام خدا کا پہنچا دینا ہے اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ مخفی کرتے ہو خدا کو سب معلوم ہے

بنایا ہے اللہ نے کعبے کو، جو گھر ہے حرمت والا، قیام کا سبب لوگوں کے لیے اور حرمت والے مہینوں کواور حرم والی قربانی کو اور پٹوں (والے جانوروں ) کو یہ اس لیے تاکہ تم جان لو کہ یقینا اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(97) جان لو! بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہےاور بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(98) نہیں ہے رسول پر مگر پہنچا دینااور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو(99)

[97] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ ﴿ جَعَلَ اللّٰهُ الۡكَعۡبَةَ الۡبَيۡتَ الۡحَرَامَ قِيٰمًا لِّلنَّاسِ ﴾ ’’اس نے کعبہ، یعنی محترم گھر کو لوگوں کے لیے قیام کا باعث بنایا۔‘‘ یعنی اس کی تعظیم کے قیام کے ساتھ ان کا دین اور دنیا قائم ہیں ۔ کعبہ کے ساتھ ان کے اسلام کی تکمیل ہوتی ہے۔ ان کے بوجھ ہلکے ہوتے ہیں ۔ اس گھر کا قصد کرنے سے بہت زیادہ نوازشیں اور بہت زیادہ احسانات حاصل ہوتے ہیں ۔ اسی کعبہ کے سبب سے اموال خرچ کیے جاتے ہیں اور اسی کی خاطر بڑے بڑے اہوال میں گھسا جاتا ہے۔ اس محترم گھر میں دور دور سے مختلف رنگ و نسل کے مسلمان اکٹھے ہوتے ہیں ، ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں ۔ ایک دوسرے سے مدد لیتے ہیں ، مصالح عامہ میں ایک دوسرے سے مشورہ کرتے ہیں ، ان کے درمیان ان کے دینی اور دنیاوی مفادات کے ضمن میں روابط استوار ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿لِّيَشۡهَدُوۡا مَنَافِعَ لَهُمۡ وَيَذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ فِيۡۤ اَ يَّامٍ مَّعۡلُوۡمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمۡ مِّنۢۡ بَهِيۡمَةِ الۡاَنۡعَامِ﴾(الحج: 22؍28)’’تاکہ وہ اپنے فائدے کے کاموں میں حاضر ہوں اور قربانی کے چند معلوم دنوں میں ان مویشیوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نے عطا کیے ہیں ‘‘۔اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اس محترم گھر کو لوگوں کے لیے اجتماعی زندگی کے قیام کا ذریعہ بنایا، بعض علماء کہتے ہیں کہ ہر سال بیت اللہ کا حج کرنا فرض کفایہ ہے اگر تمام لوگ حج چھوڑ دیں تو تمام وہ لوگ گناہ گار ٹھہریں گے جو حج کرنے کی قدرت رکھتے ہیں بلکہ اگر تمام لوگ حج چھوڑ دیں تو ان کی اجتماعی زندگی کا سہارا ختم ہو جائے گا اور قیامت قائم ہو جائے گی۔﴿ وَالۡهَدۡيَ وَالۡقَلَآىِٕدَ ﴾ ’’اور قربانی کو اور ان جانوروں کو جن کے گلے میں پٹے بندھے ہوں ۔‘‘ یعنی اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قربانی کے جانوروں اور پٹے والے جانوروں کو جو کہ قربانی کی بہترین قسم ہے، لوگوں کے گزارے کا ذریعہ بنایا۔ لوگ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ثواب حاصل کرتے ہیں ۔ ﴿ ذٰلِكَ لِتَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ وَاَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ اس لیے تاکہ تم جان لو کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ کہ آسمان و زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز سے خوب واقف ہے‘‘ پس یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا علم ہی ہے کہ اس نے تمھارے لیے یہ محترم گھر بنایا کیونکہ وہ تمھارے دینی اور دنیاوی مصالح کا علم رکھتا ہے۔

[98]﴿اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ وَاَنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’جان لو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے‘‘ یعنی ان دونوں امور کے بارے میں جزم و یقین کے ساتھ تمھارے دلوں میں علم موجود ہے۔ یہ حقیقت ہمیشہ تمھیں معلوم رہے کہ اللہ تعالیٰ نافرمانی کرنے والوں کو دنیا میں اور آخرت میں سخت عذاب دینے والا ہے اور وہ ان لوگوں کو بخش دینے والا اور ان پر بہت رحم کرنے والا ہے جو توبہ کر کے اس کی اطاعت کرتے ہیں ۔ پس اس کے عذاب کا خوف اور اس کی بخشش اور ثواب کی امید اس علم کے ثمرات ہیں اور تم خوف اور امید کے تقاضوں کے مطابق عمل کرتے ہو۔

[99] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿مَا عَلَى الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ﴾ ’’رسول کے ذمے صرف …

Al-Maaida 5:99Listen in Qur'an →
100

قُل لَّا يَسْتَوِى ٱلْخَبِيثُ وَٱلطَّيِّبُ وَلَوْ أَعْجَبَكَ كَثْرَةُ ٱلْخَبِيثِ ۚ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ يَٰٓأُو۟لِى ٱلْأَلْبَٰبِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

کہہ دو کہ ناپاک چیزیں اور پاک چیزیں برابر نہیں ہوتیں گو ناپاک چیزوں کی کثرت تمہیں خوش ہی لگے تو عقل والو خدا سے ڈرتے رہو تاکہ رستگاری حاصل کرو

کہہ دیجیے! نہیں برابر ہو سکتے ناپاک اور پاک اگرچہ تعجب میں ڈالے آپ کو کثرت ناپاک کی، پس ڈرو تم اللہ سے اے عقل والو! تاکہ تم فلاح پاؤ(100)

[100]﴿ قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے‘‘ یعنی لوگوں کو شر سے ڈراتے ہوئے اور ان کو بھلائی کی ترغیب دیتے ہوئے کہہ دیجیے ﴿ لَّا يَسۡتَوِي الۡخَبِيۡثُ وَالطَّيِّبُ ﴾ ’’ناپاک چیزیں اور پاک چیزیں برابر نہیں ہوتیں ۔‘‘ یعنی ہر چیز میں اچھے اور برے برابر نہیں ہو سکتے۔ ایمان اور کفر، اطاعت اور معصیت، اہل جنت اور اہل جہنم، اعمال خبیثہ اور اعمال صالحہ برابر نہیں ہو سکتے، اسی طرح حرام مال اور حلال مال کے درمیان کوئی مساوات نہیں ۔ ﴿ وَلَوۡ اَعۡجَبَكَ كَثۡرَةُ الۡخَبِيۡثِ﴾ ’’اگرچہ ناپاک کی کثرت آپ کو بھلی لگے‘‘ کیونکہ ناپاک چیز کی کثرت اپنے مالک کو کوئی فائدہ نہیں دیتی بلکہ دین و دنیا میں اسے نقصان دیتی ہے ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰۤاُولِي الۡاَلۡبَابِ لَعَلَّـكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’پس اے عقل مندو! اللہ سے ڈرو تاکہ تم فلاح پاؤ‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے عقل مندوں ، یعنی پوری عقل اور کامل رائے کے حامل لوگوں کو حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے خطاب کا رخ انھی لوگوں کی طرف ہے۔ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی پروا کی جاتی ہے اور انھی میں خیر کی امید ہوتی ہے اور ان کو آگاہ فرمایا ہے کہ فلاح تقویٰ پر موقوف ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی میں اس کی موافقت کا نام ہے۔ پس جس نے تقویٰ اختیار کیا، اس نے پوری فلاح پا لی۔ جس نے تقویٰ کو ترک کر دیا، اس کے نصیب میں خسارہ آیا اور نفع سے محروم رہ گیا۔

Al-Maaida 5:100Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.