Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 1–10 of 120

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَوْفُوا۟ بِٱلْعُقُودِ ۚ أُحِلَّتْ لَكُم بَهِيمَةُ ٱلْأَنْعَٰمِ إِلَّا مَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ غَيْرَ مُحِلِّى ٱلصَّيْدِ وَأَنتُمْ حُرُمٌ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيدُ

اے ایمان والو! اپنے اقراروں کو پورا کرو۔ تمہارے لیے چارپائے جانور (جو چرنے والے ہیں) حلال کر دیئے گئے ہیں۔ بجز ان کے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں مگر احرام (حج) میں شکار کو حلال نہ جاننا۔ خدا جیسا چاہتا ہے حکم دیتا ہے

اے ایمان والو! پورا کرو تم عہدوں کو، حلال کر دیے گئے ہیں تمھارے لیے چارپائے مویشی، سوائے ان کے جن کی تلاوت کی جائے گی (ابھی) تم پر، اس حال میں کہ نہ حلال جاننے والے ہو تم شکار کو جبکہ تم حالت احرام میں ہو، بے شک اللہ فیصلہ کرتا ہے جو چاہتا ہے(1)

[1] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کو اس بات کا حکم ہے جس کا ایمان تقاضا کرتا ہے اور وہ یہ کہ معاہدوں کو پورا کیا جائے۔ ان میں کمی کی جائے نہ ان کو توڑا جائے۔ یہ آیت کریمہ ان تمام معاہدوں کو شامل ہے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان ہیں جیسے اس کی عبودیت کا التزام، اسے پوری طرح قائم رکھنا اور اس کے حقوق میں سے کچھ کمی نہ کرنا۔ اور یہ ان معاہدوں کو بھی شامل ہے جو بندے اور رسول اللہﷺ کے مابین آپ کی اتباع اور اطاعت کے بارے میں ہیں ۔ اور اسی طرح اس میں وہ معاہدے بھی شامل ہیں جو بندے اور اس کے والدین اور اس کے عزیز و اقارب کے درمیان ان کے ساتھ حسن سلوک، صلہ رحمی اور عدم قطع رحمی کے بارے میں ہیں ۔ نیز اس آیت کریمہ کے حکم میں وہ معاہدے بھی شامل ہیں جو فراخی اور تنگ دستی، آسانی اور تنگی میں صحبت اور دوستی کے حقوق کے بارے میں ہیں ۔ اس کے تحت وہ معاہدے بھی آتے ہیں جو معاملات، مثلاً: خرید و فروخت اور اجارہ وغیرہ کے ضمن میں بندے اور لوگوں کے درمیان ہیں ۔ اس میں صدقات اور ہبہ وغیرہ کے معاہدے کی پابندی، مسلمانوں کے حقوق کی ادائیگی وغیرہ بھی شامل ہے جن کی پابندی کو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں عائد کیا ہے۔ ﴿اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِخۡوَةٌ ﴾(الحجرات: 49؍10) ’’تمام مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔‘‘بلکہ حق کے بارے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور ایک دوسرے کی مدد کرنا، مسلمانوں کا ایک دوسرے کے ساتھ پیار اور محبت سے مل جل کر رہنا اور قطع تعلقات سے اجتناب وغیرہ تک شامل ہے۔پس اس حکم میں دین کے تمام اصول و فروع شامل ہیں اور دین کے تمام اصول و فروع ان معاہدوں میں داخل ہیں جن کی پابندی کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿اُحِلَّتۡ لَكُمۡ ﴾ ’’تمھارے لیے حلال کردیے گئے۔‘‘ یعنی تمھاری خاطر اور تم پر رحمت کی بنا پر حلال کر دیے گئے ہیں ﴿بَهِيۡمَةُ الۡاَنۡعَامِ ﴾ ’’چوپائے مویشی‘‘ یعنی اونٹ، گائے اور بھیڑ بکری وغیرہ بلکہ بسا اوقات اس میں جنگلی جانور ، مثلاً: ہرن اور گورخر اور اس قسم کے دیگر شکار کیے جانے والے جانور بھی شامل ہیں ۔ بعض صحابہ کرامy اس آیت کریمہ سے اس بچے کی حلت پر بھی استدلال کرتے ہیں جو ذبح کرتے وقت مذبوحہ کے پیٹ میں ہوتا ہے اور ذبح کرنے کے بعد وہ مذبوحہ کے پیٹ میں مر جاتا ہے۔( حدیث میں بھی ایسے بچے کو یہ کہہ کر حلال قرار دیا گیا ہے ذَکوٰۃُ الْجَنِیْنِ ذَکَاۃُ اُمِّہِ (سنن أبي داود، و جامع الترمذي، بحوالہ صحیح الجامع) ’’بچے کا ذبح کرنا یہی ہے کہ اس کی ماں کو ذبح کر لیا جائے۔‘‘ یعنی ماں کا ذبح کر لینا‘ بچے کی حلت کیلیے کافی ہے۔ (ص ۔ ی)﴿اِلَّا مَا يُتۡلٰى ﴾ ’’سوائے ان چیزوں (کی تحریم) کے جو تمھیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں ۔‘‘ جیسے فرمان باری تعالیٰ ہے: ﴿حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةُ وَالدَّمُ وَلَحۡمُ الۡخِنۡزِيۡرِ وَمَاۤ اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ وَالۡمُنۡخَنِقَةُ وَالۡمَوۡقُوۡذَةُ وَالۡمُتَرَدِّيَةُ۠ وَالنَّطِيۡحَةُ وَمَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّـيۡتُمۡ ﴾ الآیۃ (المائدۃ: 5؍3) ’’تم پر حرام کر دیا گیا مردار، خون، سور کا گوشت، جس چیز پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو، وہ جانور جو گلا گھٹ کر مر جائے، جو چوٹ لگ کر مر جائے، جو گر کر مر جائے، جو سینگ لگ کر مر جائے اور وہ جانور جسے درندے پھاڑ کھائیں سوائے اس کے جس کو تم ذبح کر لو اور وہ جانور جو آستانوں پر ذبح کیے جائیں …‘‘ مذکورہ بالا تمام جانور اگرچہ ﴿بَهِيۡمَةُ …

2

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تُحِلُّوا۟ شَعَٰٓئِرَ ٱللَّهِ وَلَا ٱلشَّهْرَ ٱلْحَرَامَ وَلَا ٱلْهَدْىَ وَلَا ٱلْقَلَٰٓئِدَ وَلَآ ءَآمِّينَ ٱلْبَيْتَ ٱلْحَرَامَ يَبْتَغُونَ فَضْلًۭا مِّن رَّبِّهِمْ وَرِضْوَٰنًۭا ۚ وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَٱصْطَادُوا۟ ۚ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَـَٔانُ قَوْمٍ أَن صَدُّوكُمْ عَنِ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ أَن تَعْتَدُوا۟ ۘ وَتَعَاوَنُوا۟ عَلَى ٱلْبِرِّ وَٱلتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا۟ عَلَى ٱلْإِثْمِ وَٱلْعُدْوَٰنِ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

مومنو! خدا کے نام کی چیزوں کی بےحرمتی نہ کرنا اور نہ ادب کے مہینے کی اور نہ قربانی کے جانوروں کی اور نہ ان جانوروں کی (جو خدا کی نذر کر دیئے گئے ہوں اور) جن کے گلوں میں پٹے بندھے ہوں اور نہ ان لوگوں کی جو عزت کے گھر (یعنی بیت الله) کو جا رہے ہوں (اور) اپنے پروردگار کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلبگار ہوں اور جب احرام اتار دو تو (پھر اختیار ہے کہ) شکار کرو اور لوگوں کی دشمنی اس وجہ سے کہ انہوں نے تم کو عزت والی مسجد سے روکا تھا تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم ان پر زیادتی کرنے لگو اور (دیکھو) نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں مدد نہ کیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کا عذاب سخت ہے

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بے حرمتی کرو اللہ کی نشانیوں کی اور نہ حرمت والے مہینے کی اور نہ حرم والی قربانی کی اور نہ پٹوں (والے جانوروں ) کی اور نہ قصد کرنے والوں کی بیت الحرام کی طرف، وہ تلاش کرتے ہیں فضل اپنے رب کا اور رضامندی اور جب تم احرام کھول دو تو (اب) تم شکار کر سکتے ہو اور نہ آمادہ کرے تمھیں دشمنی کسی قوم کی اس وجہ سے کہ اس نے روک دیا تھا تم کو مسجد حرام سے، یہ کہ تم زیادتی کرو اور تم ایک دوسرے کی مدد کرو نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں اور نہ ایک دوسرے کی مدد کرو گناہ اور زیادتی پر اور ڈرو اللہ سے، بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے(2)

[2]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحِلُّوۡا شَعَآىِٕرَ اللّٰهِ ﴾ ’’اے ایمان والو! اللہ کی نشانیوں کو حلال نہ سمجھو‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی ان محرمات کو حلال نہ ٹھہرا لو جن کی تعظیم کا اور ان کے عدم فعل کا اس نے تمھیں حکم دیا ہے۔ پس یہ ممانعت، ان کے فعل کی ممانعت اور ان کے حلال ہونے کا اعتقاد رکھنے کی ممانعت پر مشتمل ہے، یعنی یہ ممانعت فعل قبیح اور اس کے حلال ہونے کا اعتقاد رکھنے کو شامل ہے اس ممانعت میں محرمات احرام اور محرمات حرم بھی داخل ہیں ۔ اس میں وہ امور بھی داخل ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں آتا ہے ﴿وَلَا الشَّهۡرَ الۡحَرَامَ ﴾ ’’اور نہ ادب کے مہینے کی۔‘‘ یعنی حرمت کے مہینے میں لڑائی اور دیگر مظالم کا ارتکاب کر کے اس کی ہتک حرمت نہ کرو۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :﴿اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوۡرِ عِنۡدَ اللّٰهِ اثۡنَا عَشَرَ شَهۡرًا فِيۡؔ كِتٰبِ اللّٰهِ يَوۡمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ مِنۡهَاۤ اَرۡبَعَةٌ حُرُمٌؔ١ؕ ذٰلِكَ الدِّيۡنُ الۡقَيِّمُ١ۙ۬ فَلَا تَظۡلِمُوۡا فِيۡهِنَّ اَنۡفُسَكُمۡ ﴾(التوبۃ: 9؍36) ’’بے شک اللہ کے نزدیک اس کی کتاب میں مہینے گنتی میں بارہ ہیں ، اس روز سے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ ان میں سے چار مہینے حرمت کے ہیں ۔ یہی مضبوط دین ہے۔ تم ان مہینوں میں ناحق لڑائی کر کے اپنے آپ پر ظلم نہ کرو۔‘‘جمہور اہل علم کہتے ہیں کہ حرام مہینوں میں لڑائی کی تحریم منسوخ ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿فَاِذَا انۡسَلَخَ الۡاَشۡهُرُ الۡحُرُمُ فَاقۡتُلُوا الۡمُشۡرِكِيۡنَ حَيۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡهُمۡ ﴾(التوبۃ: 9؍5)’’جب حرمت کے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ ان کو قتل کرو۔‘‘اور اس کے علاوہ دیگر آیات جو عموم پر دلالت کرتی ہیں جن میں کفار کے ساتھ مطلق قتال کا حکم دیا گیا ہے اور اس قتال سے پیچھے رہ جانے پر وعید سنائی ہے۔ نیز نبی اکرمﷺ نے ذیقعد کے مہینے میں اہل طائف کے خلاف جنگ کی اور ذی قعد حرام مہینوں میں سے ہے۔دیگر اہل علم کہتے ہیں کہ حرمت کے مہینوں میں لڑائی کی ممانعت منسوخ نہیں ہے اس کی دلیل یہی مذکورہ آیت کریمہ ہے۔ جس میں خاص طور پر لڑائی کی ممانعت کی گئی ہے اور انھوں نے اس بارے میں وارد مطلق نصوص کو مقید پر محمول کیا ہے۔اور بعض علماء نے اس میں یہ تفصیل بیان کی ہے کہ حرمت والے مہینوں میں جنگ کی ابتدا کرنا جائز نہیں ، البتہ اگر جنگ پہلے سے جاری ہو جبکہ اس کی ابتدا حلال مہینوں میں ہوئی ہو تو حرمت کے مہینوں میں اس کی تکمیل جائز ہے اور انھوں نے اہل طائف کے خلاف رسول اللہﷺ کی جنگ کو اسی پر محمول کیا ہے۔ کیونکہ ان کے ساتھ جنگ کی ابتدا حنین میں ہوئی جو شوال کے مہینے میں ہوئی تھی۔ یہ سب اس جنگ کے بارے میں ہے جس میں مدافعت مقصود نہ ہو۔ جہاں تک دفاعی جنگ کا معاملہ ہے جبکہ وہ کفار کی طرف سے شروع کی گئی ہو تو مسلمانوں کو اپنے دفاع میں حرمت والے مہینوں میں بھی جنگ لڑنا جائز ہے۔ اور اس پر تمام اہل علم کا اجماع ہے۔﴿وَلَا الۡهَدۡيَ ﴾ ’’اور نہ قربانی کے جانوروں کی۔‘‘ یعنی تم اس ﴿الۡهَدۡيَ ﴾’’قربانی‘‘ کو جو حج یا عمرہ یا دیگر ایام میں بیت اللہ کو بھیجی جا رہی …

3

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ ٱلْمَيْتَةُ وَٱلدَّمُ وَلَحْمُ ٱلْخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيْرِ ٱللَّهِ بِهِۦ وَٱلْمُنْخَنِقَةُ وَٱلْمَوْقُوذَةُ وَٱلْمُتَرَدِّيَةُ وَٱلنَّطِيحَةُ وَمَآ أَكَلَ ٱلسَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى ٱلنُّصُبِ وَأَن تَسْتَقْسِمُوا۟ بِٱلْأَزْلَٰمِ ۚ ذَٰلِكُمْ فِسْقٌ ۗ ٱلْيَوْمَ يَئِسَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَٱخْشَوْنِ ۚ ٱلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِى وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلْإِسْلَٰمَ دِينًۭا ۚ فَمَنِ ٱضْطُرَّ فِى مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍۢ لِّإِثْمٍۢ ۙ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

تم پر مرا ہوا جانور اور (بہتا) لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے اور جو جانور گلا گھٹ کر مر جائے اور جو چوٹ لگ کر مر جائے اور جو گر کر مر جائے اور جو سینگ لگ کر مر جائے یہ سب حرام ہیں اور وہ جانور بھی جس کو درندے پھاڑ کھائیں۔ مگر جس کو تم (مرنے سے پہلے) ذبح کرلو اور وہ جانور بھی جو تھان پر ذبح کیا جائے اور یہ بھی کہ پاسوں سے قسمت معلوم کرو یہ سب گناہ (کے کام) ہیں آج کافر تمہارے دین سے ناامید ہو گئے ہیں تو ان سے مت ڈرو اور مجھی سے ڈرتے رہو (اور) آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا ہاں جو شخص بھوک میں ناچار ہو جائے (بشرطیکہ) گناہ کی طرف مائل نہ ہو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

حرام کیا گیا تم پر مردہ جانور اور خون اور گوشت سور کا اور وہ جانور کہ پکارا جائے نام غیراللہ کا اس پر اور گلا گھٹنے سے مر جانے والا اور جو مر جائے چوٹ لگنے سے اور گر کر مرنے والا اور جو کسی کے سینگ سے مر جائے اور جس کو کھا جائیں درندے مگر جس کو تم ذبح کر لو اور جو جانور ذبح کیا جائے تھانوں پراور یہ کہ قسمت معلوم کرو فال کے تیروں کے ساتھ، یہ سب گناہ (کے کام) ہیں ۔

[3] یہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کا وہ ارشاد جس کا اس نے اس آیت کریمہ ﴿ اِلَّا مَا يُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ میں حوالہ دیا ہے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیز حرام ٹھہرائی ہے وہ اپنے بندوں کی حفاظت اور ان کو اس ضرر سے بچانے کے لیے حرام قرار دی ہے جو ان محرمات میں ہوتا ہے۔ کبھی تو اللہ تعالیٰ یہ ضرر اپنے بندوں کے سامنے بیان کر دیتا ہے اور کبھی (اپنی حکمت کے تحت) اس ضرر کو بیان نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے ’’مردار‘‘ کو حرام قرار دیا ہے۔ مردار سے مراد وہ مرا ہوا جانور ہے جو شرعی طریقے سے ذبح ہوئے بغیر زندگی سے محروم ہو گیا ہو، پس اس جانور کا گوشت ضرر رساں ہونے کی وجہ سے حرام ہے اور وہ ضرر ہے اس کے اندر گوشت میں خون کا رک جانا، جس کے کھانے سے نقصان پہنچتا ہے اور اکثر جانور، جو کسی بیماری کی وجہ سے جو ان کی ہلاکت کا باعث ہوتی ہے، مر جاتے ہیں ، وہ کھانے والے کے لیے نقصان کا باعث ہیں ، البتہ مری ہوئی ٹڈی اور مچھلی اس حکم سے مستثنی ہے۔ کیونکہ ان کا کھانا حلال ہے۔( یہ استثناء حدیث سے ثابت ہے، (سنن ابن ماجہ، حدیث: 3218) اسی لیے صحیح ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حدیث کے بغیر قرآن کو نہیں سمجھا جا سکتا۔ حدیث کے ساتھ ہی قرآن کی تفہیم اور اس کے احکامات کی تعمیل کی تکمیل ہوتی ہے۔ (ص ۔ ی)﴿وَالدَّمُ ﴾ ’’اور خون‘‘ یعنی بہتا ہوا خون۔ جیسا کہ ایک دوسری آیت میں اس کو اس صفت سے مقید بیان کیا گیا ہے ﴿ وَلَحۡمُ الۡخِنۡزِيۡرِ ﴾’’اور سور کا گوشت‘‘ اس حرمت میں اس کے تمام اجزا شامل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے تمام ناپاک درندوں میں سے خنزیر کو خاص طور پر منصوص کیا ہے کیونکہ اہل کتاب میں سے نصاریٰ دعویٰ کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے خنزیر کو حلال قرار دیا ہے...، یعنی نصاریٰ سے دھوکہ نہ کھانا کیونکہ یہ خنزیر بھی حرام اور من جملہ خبائث کے ہے۔﴿ وَمَاۤ اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ ﴾ ’’اور وہ جس پر غیراللہ کا نام پکارا جائے‘‘ یعنی اس پر بتوں ، اولیاء، کواکب اور دیگر مخلوق کا نام لیا گیا ہو۔ جس طرح ذبیحہ پر ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لینا، اسے پاک کر دیتا ہے اسی طرح غیر اللہ کا نام، ذبیحہ کو معنوی طور پر ناپاک کر دیتا ہے۔ کیونکہ یہ شرک ہے ﴿ وَالۡمُنۡخَنِقَةُ ﴾ ’’جو جانور گلا گھٹ کر مرجائے۔‘‘ یہ وہ مرا ہوا جانور ہے جس کو ہاتھ سے، رسی سے یا کسی تنگ چیز میں اس کا سر داخل کر کے جہاں سے نکلنا ممکن نہ ہو اس کا گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا گیا ہو۔ ﴿ وَالۡمَوۡقُوۡذَةُ ﴾ ’’جو چوٹ لگ کر مرجائے۔‘‘ اس مرے ہوئے جانور کو کہا جاتا ہے جو لاٹھی، پتھر یا لکڑی وغیرہ کی ضرب سے مرا ہو یا اس پر قصداً یا بغیر قصد کے دیوار وغیرہ گر گئی ہو ﴿ وَالۡمُتَرَدِّيَةُ۠ ﴾ ’’جو گر کر مرجائے۔‘‘ یعنی جو بلند جگہ ، مثلاً: پہاڑ، دیوار یا چھت وغیرہ سے گر کر مر گیا ہو ﴿وَالنَّطِيۡحَةُ ﴾ اس مرے ہوئے جانور کو کہتے ہیں جسے کسی دوسرے جانور نے سینگ مار کر ہلاک کر دیا ہو ﴿ وَمَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ ﴾ جسے بھیڑیے، شیر، چیتے یا کسی شکاری پرندے وغیرہ نے پھاڑ کھایا ہو۔ اگر درندے کے پھاڑ کھانے سے جانور مر جائے تو یہ حلال نہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اِلَّا مَا ذَكَّـيۡتُمۡ ﴾ ’’مگر جس کو تم (مرنے سے پہلے)ذبح کرلو۔‘‘ گلا گھٹ کر مرنے والے، چوٹ لگ کر مرنے والے، بلندی سے گر کر مرنے والے اور درندے کے پھاڑ کھانے سے مرنے والے جانور کی طرف راجع ہے۔ اگر اس جانور میں …

4

يَسْـَٔلُونَكَ مَاذَآ أُحِلَّ لَهُمْ ۖ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ ٱلطَّيِّبَٰتُ ۙ وَمَا عَلَّمْتُم مِّنَ ٱلْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ ٱللَّهُ ۖ فَكُلُوا۟ مِمَّآ أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَٱذْكُرُوا۟ ٱسْمَ ٱللَّهِ عَلَيْهِ ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ

تم سے پوچھتے ہیں کہ کون کون سی چیزیں ان کے لیے حلال ہیں (ان سے) کہہ دو کہ سب پاکیزہ چیزیں تم کو حلال ہیں اور وہ (شکار) بھی حلال ہے جو تمہارے لیے ان شکاری جانوروں نے پکڑا ہو جن کو تم نے سدھا رکھا ہو اور جس (طریق) سے خدا نے تمہیں (شکار کرنا) سکھایا ہے (اس طریق سے) تم نے ان کو سکھایا ہو تو جو شکار وہ تمہارے لئے پکڑ رکھیں اس کو کھا لیا کرو اور (شکاری جانوروں کو چھوڑتے وقت) خدا کا نام لے لیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بےشک خدا جلد حساب لینے والا ہے

پوچھتے ہیں آپ سے کہ کیا کیا چیزیں حلال کی گئی ہیں ان کے لیے؟ کہہ دیجیے حلال کر دی گئی ہیں تمھارے لیے پاکیزہ چیزیں اور (شکار ان کا) جو سدھائے تم نے شکاری جانور، جب سدھانے والے ہو، سکھاتے ہو تم ان کو ان میں سے جو سکھلائیں تمھیں اللہ نے، پس کھاؤ تم ان میں سے جو وہ روک رکھیں تمھاری خاطر اور ذکر کرو نام اللہ کا اس پر اور ڈرو اللہ سے، بے شک اللہ جلد حساب لینے والا ہے(4)

[4] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ يَسۡـَٔلُوۡنَكَ مَاذَاۤ اُحِلَّ لَهُمۡ﴾ ’’آپ سے پوچھتے ہیں کہ کون کون سی چیزیں ان کے لیے حلال ہیں۔‘‘ یعنی ان کے لیے کون کون سے کھانے حلال ہیں۔ ﴿ قُلۡ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبٰؔتُ ﴾ ’’کہہ دیجیے! تمھارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئی ہیں‘‘ ﴿الطَّيِّبٰؔتُ ﴾ سے مراد ہر وہ چیز ہے جس میں کوئی فائدہ ہے اور بدن اور عقل میں نقصان پہنچے بغیر ان سے لذت حاصل ہوتی ہے۔ پس طیبات میں وہ تمام غلہ جات اور پھل وغیرہ شامل ہیں جو بستیوں اور صحراؤں میں پیدا ہوتے ہیں ۔ اس آیت کریمہ کے مضمون میں وہ تمام حیوانات بھی شامل ہیں جو خشک زمین پر پائے جاتے ہیں سوائے ان حیوانات کے جن کو شارع نے مستثنی قرار دیا ہے، مثلاً: درندے اور ناپاک جانور اور ناپاک اشیاء وغیرہ۔ اسی لیے یہ آیت کریمہ اپنے مفہوم میں ناپاک چیزوں کی تحریم پر دلالت کرتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں صراحت کے ساتھ اس تحریم کو بیان کیا گیا ہے:﴿وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾(الاعراف: 7؍157)’’وہ پاک چیزوں کو ان کے لیے حلال کرتا ہے اور ناپاک چیزوں کو ان کے لیے حرام ٹھہراتا ہے۔‘‘﴿وَمَا عَلَّمۡتُمۡ مِّنَ الۡجَوَارِحِ ﴾’’اور جن شکاری جانوروں کو تم نے سدھایا ہو۔‘‘ یعنی جو تم شکاری جانوروں کو شکار کرنا سکھاتے ہو وہ شکار بھی تمھارے لیے حلال ہے۔ یہ آیت کریمہ شکار کے متعلق متعدد امور پر دلالت کرتی ہے۔(۱)یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم اور اس کی رحمت ہے کہ اس نے ان کے لیے رزق حلال کی راہیں کشادہ کر دی ہیں اور ان کے لیے شکاری جانوروں کے شکار کیے ہوئے اس شکار کو حلال کر دیا جس کو ذبح نہیں کر سکتے… شکاری جانور سے مراد کتے، چیتے اور باز وغیرہ ہیں ، جو اپنے دانتوں سے یا پنجے سے شکار کو پکڑتے ہیں ۔(۲) شکاری جانور کے لیے شرط یہ ہے کہ اس کو شکار کے لیے سکھایا گیا ہو۔ ایسا سکھانا جس کو عرف عام میں سکھانا کہتے ہیں ، یعنی اگر اسے شکار پر چھوڑا جائے تو وہ شکار پر جھپٹے اور اگر اس کو روک دیا جائے تو فوراً رک جائے۔ اور جب شکار کو پکڑ لے تو اس کو نہ کھائے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿تُعَلِّمُوۡنَهُنَّ مِمَّؔا عَلَّمَؔكُمُ اللّٰهُ١ٞ فَكُلُوۡا مِمَّؔاۤ اَمۡسَكۡنَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’اور جس (طریق) سے اللہ نے تمھیں (شکار کرنا) سکھایا ہے (اس طریق سے)تم نے ان کو سکھایا ہو تو جو شکار وہ تمھارے لیے پکڑ رکھیں اس کو کھالیا کرو۔‘‘ یعنی وہ شکار کو تمھارے لیے روک رکھیں اور جس شکار میں سے شکاری جانور نے کچھ کھا لیا ہو تو اس کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ آیا اس نے شکار کو اپنے مالک کے لیے پکڑا ہے اور شاید یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس نے شکار خود اپنے لیے پکڑا ہو۔(۳) شکاری جانور کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ کتا ہو یا باز وغیرہ، شکار کو زخمی کرتا ہو (اس کا گلا نہ گھونٹتا ہو) جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿مِّنَ الۡجَوَارِحِ ﴾سے واضح ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گلا گھٹ کر مر جانے والے جانور کی حرمت گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے۔ اگر کتے وغیرہ نے شکار کا گلا گھونٹ دیا ہو یا اسے اپنے بوجھ تلے دبا کر اسے ہلاک کر دیا ہو تو اس کا کھانا جائز نہیں ۔ یہ اس اصول پر مبنی ہے کہ شکاری جانور وہ ہیں جو شکار کو اپنے دانتوں یا پنجوں سے زخمی کرتے ہیں ۔﴿جَوَارِحِ ﴾ ’’شکاری جانور‘‘ کے بارے میں مشہور یہ ہے …

5

ٱلْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ ٱلطَّيِّبَٰتُ ۖ وَطَعَامُ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ حِلٌّۭ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّۭ لَّهُمْ ۖ وَٱلْمُحْصَنَٰتُ مِنَ ٱلْمُؤْمِنَٰتِ وَٱلْمُحْصَنَٰتُ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَآ ءَاتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَٰفِحِينَ وَلَا مُتَّخِذِىٓ أَخْدَانٍۢ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِٱلْإِيمَٰنِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُۥ وَهُوَ فِى ٱلْءَاخِرَةِ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ

آج تمہارے لیے سب پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں اور اہل کتاب کا کھانا بھی تم کو حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کو حلال ہے اور پاک دامن مومن عورتیں اور پاک دامن اہل کتاب عورتیں بھی (حلال ہیں) جبکہ ان کا مہر دے دو۔ اور ان سے عفت قائم رکھنی مقصود ہو نہ کھلی بدکاری کرنی اور نہ چھپی دوستی کرنی اور جو شخص ایمان سے منکر ہوا اس کے عمل ضائع ہو گئے اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا

آج حلال کر دی گئیں تمھارے لیے پاکیزہ چیزیں اور کھانا ان لوگوں کا، جن کو دی گئی کتاب، حلال ہے تمھارے لیے۔ اور کھانا تمھارا حلال ہے، ان کے لیے۔ اور (حلال ہیں تمھارے لیے) پاک دامن مسلمان عورتیں اور پاک دامن عورتیں اُن کی جن کو دی گئی کتاب تم سے پہلے، جب دو تم ان کو مہر ان کے، (نیز) قید نکاح میں لانے والے ہو نہ کہ بدکاری کرنے والے اور نہ بنانے والے خفیہ آشنا۔ اور جو انکار کرے گا ایمان سے تو یقینا برباد ہوگئے اس کے عمل اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا(5)

[5]اللہ تبارک و تعالیٰ نے بندوں پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے طیبات کی حلت کو مکرر بیان فرمایا۔ اس میں بندوں کو اس کا شکر ادا کرنے اور کثرت سے ذکر کرنے کی ترغیب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ان چیزوں کو مباح فرمایا جن کے وہ سخت محتاج تھے اور وہ ان طیبات سے فائدے حاصل کرتے ہیں ۔﴿وَطَعَامُ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ حِلٌّ لَّـكُمۡ ﴾ ’’اور اہل کتاب کا کھانا بھی تم کو حلال ہے۔‘‘ یعنی اے مسلمانو! تمھارے لیے یہودیوں اور عیسائیوں کے ذبیحے حلال ہیں اور باقی کفار کے ذبیحے حلال نہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام اہل کتاب انبیائے کرام اور کتابوں سے منسوب ہیں اور تمام انبیائے کرام غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنے کی تحریم پر متفق ہیں کیونکہ یہ شرک ہے۔ پس یہود و نصاریٰ بھی غیر اللہ کے نام پر ذبیحے کی حرمت کے قائل ہیں ۔ اس لیے دیگر کفار کو چھوڑ کر یہود و نصاریٰ کا ذبیحہ حلال قرار دیا گیا ہے۔ اور یہاں ان کے طعام سے مراد ان کا ذبیحہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ وہ طعام جو ذبیحہ کے زمرے میں نہیں آتا ، مثلاً:غلہ اور پھل وغیرہ تو اس میں اہل کتاب کی کوئی خصوصیت نہیں ۔ غلہ اور پھل تو حلال ہیں ، اگرچہ وہ اہل کتاب کے علاوہ کسی اور کا طعام ہوں ۔ نیز طعام کو ان کی طرف مضاف کیا گیا ہے جو اس امر کی دلیل ہے کہ وہ ان کا ذبیحہ ہونے کے سبب سے ’’ان کا کھانا‘‘ ہے۔ یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ یہ اضافت تملیک کے لیے ہے اور یہ کہ اس سے مراد وہ کھانا ہے، جس کے وہ مالک ہیں ۔ کیونکہ غصب کے پہلو سے یہ بھی حلال نہیں خواہ مسلمانوں ہی کا ہو۔﴿ وَطَعَامُكُمۡ حِلٌّ لَّهُمۡ﴾ ’’اور تمھارا کھانا ان کو حلال ہے۔‘‘ اے مسلمانو! اگر تم اپنا کھانا اہل کتاب کو کھلاؤ تو یہ ان کے لیے حلال ہے ۔﴿وَالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ الۡمُؤۡمِنٰتِ ﴾ ’’آزاد اور عفت ماب مومن عورتیں (تمھارے لیے حلال ہیں )‘‘ ﴿وَالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ ﴾ ’’اور آزاد پاک دامن اہل کتاب کی عورتیں ۔‘‘ یعنی یہود و نصاریٰ کی آزاد عفت ماب عورتیں بھی تمھارے لیے حلال ہیں ۔ اور یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی تخصیص کرتی ہے ﴿وَلَا تَنۡكِحُوا الۡمُشۡرِكٰتِ حَتّٰى يُؤۡمِنَّ ﴾(البقرہ: 2؍221) ’’اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں ۔‘‘آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ مومن لونڈیوں کا آزاد مردوں کے ساتھ نکاح جائز نہیں ۔ لیکن اہل کتاب لونڈیوں کا نکاح، آزاد مومن مردوں کے ساتھ مطلقا حرام ہے۔ اور اس کی دلیل اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿مِنۡ فَتَيٰتِكُمُ الۡمُؤۡمِنٰتِ ﴾(النساء: 4؍25)’’اور ان لونڈیوں سے نکاح کر لو جو مومن ہیں ۔‘‘اگر مسلمان عورتیں لونڈیاں ہوں تو آزاد مردوں کے ساتھ ان کے نکاح کے لیے دو شرائط ہیں ۔(۱)مرد آزاد عورت کے ساتھ نکاح کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو۔(۲) عدم نکاح کی صورت میں اسے حرام میں پڑنے کا خدشہ ہو۔رہی فاجر عورتیں ، جو زنا سے نہیں بچتیں ، ان کے ساتھ نکاح جائز نہیں خواہ وہ مسلمان ہوں یا اہل کتاب سے تعلق رکھتی ہوں جب تک کہ وہ حرام کاری سے تائب نہ ہو جائیں ۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿اَلزَّانِيۡ لَا يَنۡكِحُ اِلَّا زَانِيَةً اَوۡ مُشۡرِكَةً﴾(النور: 24؍3)’’زانی مرد نکاح نہیں کرتا مگر زانی عورت …

6

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا قُمْتُمْ إِلَى ٱلصَّلَوٰةِ فَٱغْسِلُوا۟ وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى ٱلْمَرَافِقِ وَٱمْسَحُوا۟ بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى ٱلْكَعْبَيْنِ ۚ وَإِن كُنتُمْ جُنُبًۭا فَٱطَّهَّرُوا۟ ۚ وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰٓ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَآءَ أَحَدٌۭ مِّنكُم مِّنَ ٱلْغَآئِطِ أَوْ لَٰمَسْتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوا۟ مَآءًۭ فَتَيَمَّمُوا۟ صَعِيدًۭا طَيِّبًۭا فَٱمْسَحُوا۟ بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ ۚ مَا يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍۢ وَلَٰكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُۥ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

مومنو! جب تم نماز پڑھنے کا قصد کیا کرو تم منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھو لیا کرو اور سر کا مسح کر لیا کرو اور ٹخنوں تک پاؤں (دھو لیا کرو) اور اگر نہانے کی حاجت ہو تو (نہا کر) پاک ہو جایا کرو اور اگر بیمار ہو یا سفر میں ہو یا کوئی تم میں سے بیت الخلا سے ہو کر آیا ہو یا تم عورتوں سے ہم بستر ہوئے ہو اور تمہیں پانی نہ مل سکے تو پاک مٹی لو اور اس سے منہ اور ہاتھوں کا مسح (یعنی تیمم) کر لو۔ خدا تم پر کسی طرح کی تنگی نہیں کرنا چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کرے تاکہ تم شکر کرو

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب اٹھو تم نماز کے لیے تو دھوؤ اپنے چہرے اور اپنے ہاتھ کہنیوں تک اور مسح کرو اپنے سروں کا اور (دھوؤ) اپنے پاؤں ٹخنوں تک اور اگر ہو تم جنبی تو غسل کرو اور اگر ہو تم (شدید) بیمار یا سفر میں یا آئے کوئی تم میں سے قضائے حاجت سے یا ہم بستری کی ہو تم نے عورتوں سے، پھر نہ پاؤ تم پانی تو تیمم کر لو مٹی پاک سے پس مسح کرو اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں کا اس (مٹی) سے، نہیں ارادہ کرتا اللہ کہ کرے تم پر کوئی تنگی لیکن ارادہ کرتا ہے وہ کہ پاک کر دے تم کو اور تاکہ پوری کرے اپنی نعمت تم پر تاکہ تم شکر کرو(6)

[6]یہ آیت عظیمہ بہت سے احکام پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی توفیق سے ان کو بیان کرنے کی جتنی آسانی عطا فرمائی ہم ان کو بیان کریں گے۔(۱) جو کچھ اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے ان پر عمل کرنا لوازم ایمان میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم اس طرح صادر ہوتا ہے ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا …﴾یعنی اے ایمان والے لوگو! اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق ان امور پر عمل کرو جو ہم نے تمھارے لیے مشروع کیے ہیں ۔(۲) اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿اِذَا قُمۡتُمۡ اِلَى الصَّلٰوةِ ﴾’’جب تم نماز پڑھنے کا قصد کرو۔‘‘ سے نماز کو قائم کرنے کا حکم ثابت ہوتا ہے۔(۳) اس میں نماز کے لیے نیت کے حکم کا اثبات ہے فرمایا: ﴿اِذَا قُمۡتُمۡ اِلَى الصَّلٰوةِ ﴾یعنی جب تم نماز کی نیت اور ارادے سے اٹھو۔(۴) نماز کی صحت کے لیے طہارت شرط ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے نماز کے لیے اٹھتے وقت طہارت کا حکم دیا ہے اور اصولی طور پر حکم (امر)وجوب کے لیے ہوتا ہے۔(۵)طہارت نماز کا وقت داخل ہونے پر واجب نہیں ہوتی بلکہ یہ تو صرف اس وقت واجب ہوتی ہے جب نماز پڑھنے کا ارادہ کیا جائے۔(۶) ہر وہ نماز جس پر (الصلوۃ) کا اطلاق کیا جائے، مثلاً: فرض، نفل، فرض کفایہ اور نماز جنازہ وغیرہ ہر قسم کی نماز کے لیے طہارت فرض ہے حتیٰ کہ بہت سے اہل علم کے نزدیک مجرد سجدہ ، مثلاً:سجدۂ تلاوت اور سجدہ شکر کے لیے بھی طہارت ضروری ہے۔(۷) اس میں چہرے کے دھونے کا حکم ہے اور چہرے میں چہرے کا صرف سامنے کا حصہ شامل ہے یعنی سر کے بالوں کی حدود سے لے کر طول میں جبڑوں کے نیچے اور ٹھوڑی تک۔ اور عرض میں ایک کان سے دوسرے کان تک۔ کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا چہرے کے دھونے میں شامل ہے۔ اور یہ سنت ہے۔ چہرے پہ اگے ہوئے بال بھی چہرے میں داخل ہیں ۔ اگر یہ زیادہ گھنے نہیں تو تمام جلد تک پانی پہنچانا ضروری ہے۔ اگر داڑھی گھنی ہو تو اوپر سے دھونا کافی ہے۔ (داڑھی کے بالوں میں خلال کرنا نبیﷺ کے عمل سے ثابت ہے، جامع الترمذي، الطہارۃ، باب ما جاء فی تخلیل اللحیۃ، حدیث: 31، اس لیے گھنی داڑھی میں بالخصوص خلال بھی کیا جائے۔ (ص۔ی)(۸) اس میں ہاتھوں کو دھونے کا حکم ہے اور ہاتھوں کی حد کہنیوں تک ہے۔ جمہور مفسرین کے مطابق (اِلٰی)(مع) کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَا تَاۡكُلُوۡۤا اَمۡوَالَهُمۡ اِلٰۤى اَمۡوَالِكُمۡ﴾(النساء: 4؍2) ’’ان کے مال اپنے مالوں کے ساتھ (ملا کر)نہ کھاؤ۔‘‘نیز ہاتھ دھونے کا وجوب اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک کہ کہنیوں کو پوری طرح نہ دھویا جائے۔(۹)سر پر مسح کرنے کا حکم ہے۔(۱۰)پورے سر کا مسح کرنا فرض ہے۔ کیونکہ (با)تَبْعِیض کے لیے نہیں بلکہ اِلْصَاق کے لیے ہے۔ اور یہ تمام تر سر کے مسح کو شامل ہے۔(۱۱)سر کا مسح دونوں ہاتھوں سے کیا جائے یا ایک ہاتھ سے، کسی کپڑے سے کیا جائے یا لکڑی وغیرہ سے، جیسے بھی کیا جائے اکتفا کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسح کا علی الاطلاق حکم دیا ہے کسی وصف سے مقید نہیں کیا۔ پس یہ چیز مسح کے اطلاق پر دلالت کرتی ہے۔(۱۲)وضو میں سر پر مسح کرنا فرض ہے۔ اگر ہاتھوں کے ساتھ سر پر مسح کرنے کی بجائے سر کو دھو لیا جائے۔ تو یہ کفایت …

7

وَٱذْكُرُوا۟ نِعْمَةَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَٰقَهُ ٱلَّذِى وَاثَقَكُم بِهِۦٓ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ

اور خدا نے جو تم پر احسان کئے ہیں ان کو یاد کرو اور اس عہد کو بھی جس کا تم سے قول لیا تھا (یعنی) جب تم نے کہا تھا کہ ہم نے (خدا کا حکم) سن لیا اور قبول کیا۔ اور الله سے ڈرو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا دلوں کی باتوں (تک) سے واقف ہے

اور یاد کرو اللہ کی نعمت کو (جو ہوئی) تم پر اور اس عہد کو جو معاہدہ کیا اس نے تم سے ساتھ اس کے، جب کہا تم نے، سنا ہم نے اور اطاعت کی ہم نےاور ڈرو اللہ سے، بے شک اللہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے(7)

[7]اللہ تبارک و تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ اس کی عطا کردہ دینی اور دنیاوی نعمتوں کا قلب اور زبان سے ذکر کیا جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے دائمی ذکر میں اس کے لیے شکر اور محبت کا داعیہ پیدا ہوتا ہے اور بندے کا دل اس کے احسان کی معرفت سے لبریز ہو جاتا ہے، دینی نعمتوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کے بارے میں نفس کی خود پسندی زائل ہوتی ہے۔﴿وَمِيۡثَاقَهُ ﴾ ’’(اور یاد کرو) اس عہد کو بھی۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کے میثاق کو یاد کرو ﴿الَّذِيۡ وَاثَقَكُمۡ ﴾ ’’جس کا تم سے قول لیا تھا۔‘‘ یعنی وہ عہد جو اس نے تم سے لیا۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ بندوں نے اپنے نطق زبان سے اس عہد و میثاق کا اقرار کیا تھا بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لا کر اللہ اور رسول کی اطاعت کا التزام کیا ہے، بنابریں فرمایا:﴿اِذۡ قُلۡتُمۡ سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا﴾ ’’جب تم نے کہا تھا کہ ہم نے (اللہ کا حکم) سن لیا اور قبول کرلیا۔‘‘ یعنی تو نے اپنی آیات قرآنیہ اور کونیہ کے ذریعے سے ہمیں جو دعوت دی، ہم نے اسے فہم، اطاعت اور فرماں برداری کے ساتھ سنا۔ تو نے جن امور پر عمل پیرا ہونے اور جن سے اجتناب کرنے کا حکم دیا ہم نے اس کی اطاعت کی۔ یہ ظاہری اور باطنی تمام شرعی احکام کو شامل ہے۔اہل ایمان اللہ تعالیٰ کے اس عہد کو یاد رکھتے ہیں اور یہ عہد ہر وقت انھیں ذہن نشیں رہتا ہے اور جس چیز کا انھیں حکم دیا گیا ہے اسے کامل طریقے سے ادا کرنے کے حریص ہیں ۔ ﴿وَاتَّقُوا اللّٰهَ﴾ اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو ﴿اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اللہ دلوں کی باتوں (تک) سے واقف ہے۔‘‘ یعنی دل میں جو افکار، اسرار اور خیالات چھپے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو بھی جانتا ہے ، لہٰذا اس بات سے ڈرو کہ تمھارے دلوں میں موجود کسی ایسی بات کی اسے اطلاع ہو جس سے وہ راضی نہیں یا تم سے کوئی ایسا فعل صادر ہو جسے وہ ناپسند کرتا ہے اور اپنے دلوں کو اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور اللہ کے بندوں کی خیر خواہی سے آباد کرو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو وہ تمھارے گناہوں کو بخش دے گا اور تمھاری نیکیوں کو کئی گنا زیادہ کر دے گا کیونکہ اسے علم ہے کہ تمھارے دل درست ہیں ۔

8

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ كُونُوا۟ قَوَّٰمِينَ لِلَّهِ شُهَدَآءَ بِٱلْقِسْطِ ۖ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَـَٔانُ قَوْمٍ عَلَىٰٓ أَلَّا تَعْدِلُوا۟ ۚ ٱعْدِلُوا۟ هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرٌۢ بِمَا تَعْمَلُونَ

اے ایمان والوں! خدا کے لیے انصاف کی گواہی دینے کے لیے کھڑے ہو جایا کرو۔ اور لوگوں کی دشمنی تم کو اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف چھوڑ دو۔ انصاف کیا کرو کہ یہی پرہیزگاری کی بات ہے اور خدا سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ہو جاؤ تم قائم رہنے والے (حق پر) اللہ کے لیے، گواہی دینے والے ساتھ انصاف کے اور نہ آمادہ کرے تمھیں دشمنی کسی قوم کی اس بات پر کہ نہ عدل کرو تم، عدل کرو یہی بات زیادہ قریب ہے تقویٰ کےاور ڈرو اللہ سے بے شک اللہ خبردار ہے ساتھ اس کے جو تم کرتے ہو(8)

[8]﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اے ایمان والو!‘‘یعنی اے وہ لوگو جو ان امور پر ایمان لائے ہو جن پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اپنے ایمان کے لوازم کو قائم کرو ﴿كُوۡنُوۡا قَوّٰمِيۡنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَؔ بِالۡقِسۡطِ﴾ ’’اللہ کے لیے انصاف کی گواہی دینے کے لیے کھڑے ہوجاؤ۔‘‘ یعنی انصاف کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لیے گواہی دینے کے لیے کھڑے ہونے والے بن جاؤ۔ تمھاری ظاہری اور باطنی حرکات قیام انصاف میں نشاط محسوس کریں ۔ اور یہ قیام عدل دنیاوی اغراض کی خاطر نہ ہو بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو اور صرف (قسط)یعنی عدل تمھارا مقصد ہو۔ تمھارے اقوال و افعال میں کسی قسم کی افراط و تفریط نہ ہو اور تم قریب اور بعید، دوست اور دشمن سب کے ساتھ عدل و انصاف کرو۔﴿وَلَا يَجۡرِمَنَّـكُمۡ ﴾ ’’تمھیں ہرگز آمادہ نہ کرے‘‘ ﴿شَنَاٰنُ قَوۡمٍ ﴾ ’’لوگوں کی دشمنی۔‘‘ یعنی کسی قوم کے ساتھ کینہ و بغض ﴿عَلٰۤى اَلَّا تَعۡدِلُوۡا﴾ ’’اس بات پر کہ تم عدل نہ کرو‘‘ جیسا کہ وہ لوگ کرتے ہیں جن کے پاس عدل و انصاف کا کوئی تصور نہیں ۔ بلکہ ہونا یہ چاہیے کہ جیسے تم اپنے دوست کے حق میں گواہی دیتے ہو، اس کے خلاف بھی گواہی دو اور جیسے تم اپنے دشمن کے خلاف گواہی دیتے ہو تو اس کے حق میں بھی گواہی دو۔ خواہ تمھارا دشمن کافر یا بدعتی ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے بارے میں عدل کرنا اور اگر وہ حق بات کہتا ہے تو اسے قبول کرنا فرض ہے اور محض اس وجہ سے اس کا قول قبول نہ کیا جائے کہ وہ دوست کا قول ہے اور نہ دشمن کے قول کو محض اس وجہ سے رد کیا جائے کہ وہ دشمن کا قول ہے کیونکہ یہ حق پر ظلم ہے۔ ﴿اِعۡدِلُوۡا١۫ هُوَ اَ قۡرَبُ لِلتَّقۡوٰى ﴾ ’’انصاف کرو، یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے‘‘ یعنی جب بھی تم عدل کرنے کی خواہش کرو گے اور اس خواہش پر عمل کرنے کی کوشش کرو گے تو یہ چیز تمھارے دلوں کے تقویٰ کے بہت قریب ہے۔ اگر عدل کی تکمیل ہو گئی تو تقویٰ بھی مکمل ہو گیا ﴿اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’یقینا اللہ اس سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو‘‘ اس لیے وہ تمھارے اچھے اور برے، چھوٹے اور بڑے تمام اعمال کی دنیا اور آخرت میں جزا دے گا۔

9

وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ ۙ لَهُم مَّغْفِرَةٌۭ وَأَجْرٌ عَظِيمٌۭ

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے خدا نے وعدہ فرمایا ہے کہ ان کے لیے بخشش اور اجر عظیم ہے

وعدہ کیا اللہ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، ان کے لیے مغفرت ہے اور اجر بہت بڑا(9) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو، یہی لوگ ہیں دوزخی(10)

[9]﴿وَعَدَ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ نے وعدہ کیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ جو وعدہ خلافی نہیں کرتا ان لوگوں کے ساتھ وعدہ فرماتا ہے جو اس پر، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں ﴿وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾ ’’اور جنھوں نے نیک عمل کیے‘‘ جو واجبات و مستحبات پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ان کو بخش دینے، ان کے گناہوں کی سزا کو معاف کر دینے اور ان کو اجر عظیم کے عطا کرنے کا وعدہ کرتا ہے جس کی بڑائی کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدۃ: 32؍17) ’’کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان کے لیے ان کے اعمال کے صلہ کے طورپر آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپارکھی گئی۔‘‘

[10]﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’اور جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کی تکذیب کی جو حق مبین پر دلالت کرتی ہیں حالانکہ ان آیات نے حقائق کو بیان کر دیا تھا ﴿اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ﴾ ’’وہ جہنمی ہیں ۔‘‘ وہ جہنم کے ساتھ اس طرح لازم رہیں گے جس طرح دوست دوست کے ساتھ لازم رہتا ہے۔

10

وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَآ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْجَحِيمِ

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ جہنمی ہیں

وعدہ کیا اللہ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، ان کے لیے مغفرت ہے اور اجر بہت بڑا(9) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو، یہی لوگ ہیں دوزخی(10)

[9]﴿وَعَدَ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ نے وعدہ کیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ جو وعدہ خلافی نہیں کرتا ان لوگوں کے ساتھ وعدہ فرماتا ہے جو اس پر، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں ﴿وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾ ’’اور جنھوں نے نیک عمل کیے‘‘ جو واجبات و مستحبات پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ان کو بخش دینے، ان کے گناہوں کی سزا کو معاف کر دینے اور ان کو اجر عظیم کے عطا کرنے کا وعدہ کرتا ہے جس کی بڑائی کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِيَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(السجدۃ: 32؍17) ’’کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان کے لیے ان کے اعمال کے صلہ کے طورپر آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپارکھی گئی۔‘‘

[10]﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ ’’اور جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کی تکذیب کی جو حق مبین پر دلالت کرتی ہیں حالانکہ ان آیات نے حقائق کو بیان کر دیا تھا ﴿اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ﴾ ’’وہ جہنمی ہیں ۔‘‘ وہ جہنم کے ساتھ اس طرح لازم رہیں گے جس طرح دوست دوست کے ساتھ لازم رہتا ہے۔

Al-Maaida 5:10Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.