Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 81–90 of 120

81

وَلَوْ كَانُوا۟ يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلنَّبِىِّ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْهِ مَا ٱتَّخَذُوهُمْ أَوْلِيَآءَ وَلَٰكِنَّ كَثِيرًۭا مِّنْهُمْ فَٰسِقُونَ

اور اگر وہ خدا پر اور پیغمبر پر اور جو کتاب ان پر نازل ہوئی تھی اس پر یقین رکھتے تو ان لوگوں کو دوست نہ بناتے لیکن ان میں اکثر بدکردار ہیں

Explained together with ayah 78

Al-Maaida 5:81Listen in Qur'an →
82

۞ لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ ٱلنَّاسِ عَدَٰوَةًۭ لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱلْيَهُودَ وَٱلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ ۖ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةًۭ لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّا نَصَٰرَىٰ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًۭا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ

(اے پیغمبرﷺ!) تم دیکھو گے کہ مومنوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی کرنے والے یہودی اور مشرک ہیں اور دوستی کے لحاظ سے مومنوں سے قریب تر ان لوگوں کو پاؤ گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی اور وہ تکبر نہیں کرتے

ربط آیات - اوپر یہود کا مشرکین سے دوستی رکھنا مذکور تھا، آگے ان کا مع مشرکین کے مسلمانوں سے عداوت رکھنا مذکور ہے جو اس دوستی کا اصلی سبب تھا اور چونکہ ہر معاملہ ایک درجہ میں شمار نہیں کیا، جس میں کوئی بڑا داعی ہے اس لئے یہود و نصاریٰ میں بھی سب کو ایک درجہ میں شمار نہیں کیا۔ جس میں کوئی خوبی تھی اس کا بھی اظہار کیا گیا، مثلاً نصاریٰ کی ایک خاص جماعت میں یہ بسنت ان یہود کے تعصب کا کم ہونا۔ اور ان نصاریٰ میں جنہوں نے حق قبول کرلیا تھا ان کا مستحق حسن ثناء و حسن جزا ہونا مذکور ہے۔ اور یہ خاص جماعت حبشہ کے نصاریٰ کی ہے، جنہوں نے مسلمانوں کو جبکہ ہجرت مدینہ کے قبل اور وہ اپنا وطن مکہ چھوڑ کر حبشہ چلے گئے تھے۔ کچھ تکلیف نہیں دی اور جو اور نصرانی ایسا ہی ہو وہ بھی حکما انہی میں داخل ہے اپنا وطن مکہ چھوڑ کر حبشہ چلے گئے تھے۔ کچھ تکلیف نہیں دی اور جو اور نصرانی ایسا ہی ہو وہ بھی حکماً انہیں میں داخل ہے اور ان میں سے جنہوں نے حق قبول کرلیا تھا وہ نجاشی بادشاہ اور ان کے مصاحب ہیں کہ حبشہ میں بھی قرآن سن کر روئے اور مسلمان ہوگئے۔ پھر تیس آدمی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور قرآن سن کر رو دیے اور اسلام قبول کیا، یہی اس آیت کا شان نزول ہے۔ - خلاصہ تفسیر - (غیر مؤمنین میں) تمام آدمیوں سے زیادہ مسلمانوں سے عداوت رکھنے والے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان یہود اور ان مشرکین کو پاویں گے اور ان (غیر مومن آدمیوں) میں مسلمانوں کے ساتھ دوستی رکھنے کے قریب تر (بہ نسبت اوروں کے) ان لوگوں کو پائیں گے جو اپنے کو نصاریٰ کہتے ہیں (قریب تر کا یہ مطلب ہے کہ دوست تو وہ بھی نہیں، مگر دوسرے کفار مذکورین سے غنیمت ہیں) یہ (دوستی سے قریب تر ہونا اور عداوت میں کم ہونا) اس سبب سے ہے کہ ان (نصاریٰ ) میں بہت سے علم دوست عالم ہیں، اور بہت سے تارک دنیا درویش ہیں، (اور جب کسی قوم میں ایسے لوگ بکثرت ہوتے ہیں تو عوام میں بھی حق کے ساتھ زیادہ عناد نہیں رہتا، اگرچہ خواص و عوام حق کو قبول بھی نہ کریں) اور اس سبب سے ہے کہ یہ (نصاریٰ ) لوگ متکبر نہیں ہیں (قسیسین و رہبان سے جلدی متاثر ہوجاتے ہیں، اور نیز تواضع کا خاصہ ہے امر حق کے سامنے نرم ہوجانا اس لئے ان کو عداوت زیادہ نہیں، پس قسیسین و رہبان یعنی علماء و مشائخ کا وجود اشارہ ہے علت فاعلہ کی طرف اور عدم استکبار قابلیت کی طرف، بخلاف یہود و مشرکین کے کہ محب دنیا اور متکبر ہیں، اور گو یہود میں بھی بعض علماء حقانی تھے جو مسلمان ہوگئے تھے، لیکن بوجہ ان کی قلت کے عوام میں اثر نہیں پہنچتا تھا، اس لئے ان میں عناد ہے۔ جو سبب ہوجاتا ہے شدت عداوت کا، اسی لئے یہود تو مومن ہی کم ہوئے اور مشرکین میں سے جب عناد نکل گیا تب مومن ہونا شروع ہوئے) اور (بعضے ان میں جو کہ آخر میں مسلمان ہوگئے تھے ایسے ہیں کہ) جب وہ اس (کلام) کو سنتے ہیں جو کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بھیجا گیا ہے (یعنی قرآن) تو آپ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بہتی ہوئی دیکھتے ہیں، اس سبب سے کہ انہوں نے (دین) حق (یعنی اسلام) کو پہچان لیا (مطلب یہ کہ حق کو سن کر متاثر ہوتے ہیں اور) یوں کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم مسلمان ہوگئے تو ہم کو بھی ان لوگوں کے ساتھ لکھ لیجئے (یعنی ان میں شمار کرلیجئے) جو (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کے حق ہونے کی) تصدیق کرتے ہیں اور ہمارے پاس کونسا عذر ہے کہ اللہ تعالیٰ پر (حسب تعلیم شریعت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور جو (دین) حق ہم کو (اب) پہنچا ہے اس پر ایمان نہ لاویں اور (پھر) اس بات کی امید (بھی) رکھیں کہ ہمارا رب ہم کو نیک (مقبول) لوگوں کی معیّت میں داخل کر دے گا، (بلکہ یہ امید موقوف اسلام پر ہے، اس لئے مسلمان ہونا ضروری ہے) سو ان (لوگوں) کو اللہ تعالیٰ ان کے (اس) قول (مع الاعتقاد) کی پاداش میں ایسے باغ (بہشت کے) …

Al-Maaida 5:82Listen in Qur'an →
83

وَإِذَا سَمِعُوا۟ مَآ أُنزِلَ إِلَى ٱلرَّسُولِ تَرَىٰٓ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ ٱلدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا۟ مِنَ ٱلْحَقِّ ۖ يَقُولُونَ رَبَّنَآ ءَامَنَّا فَٱكْتُبْنَا مَعَ ٱلشَّٰهِدِينَ

اور جب اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو (سب سے پہلے) پیغمبر (محمدﷺ) پر نازل ہوئی تو تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اس لیے کہ انہوں نے حق بات پہچان لی اور وہ (خدا کی جناب میں) عرض کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ لے

Explained together with ayah 82

Al-Maaida 5:83Listen in Qur'an →
84

وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَمَا جَآءَنَا مِنَ ٱلْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَن يُدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ ٱلْقَوْمِ ٱلصَّٰلِحِينَ

اور ہمیں کیا ہوا ہے کہ خدا پر اور حق بات پر جو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نہ لائیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پروردگار ہم کو نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں) داخل کرے گا

Explained together with ayah 82

Al-Maaida 5:84Listen in Qur'an →
85

فَأَثَٰبَهُمُ ٱللَّهُ بِمَا قَالُوا۟ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ جَزَآءُ ٱلْمُحْسِنِينَ

تو خدا نے ان کو اس کہنے کے عوض (بہشت کے) باغ عطا فرمائے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور نیکو کاروں کا یہی صلہ ہے

Explained together with ayah 82

Al-Maaida 5:85Listen in Qur'an →
86

وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَآ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْجَحِيمِ

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ جہنمی ہیں

Explained together with ayah 82

Al-Maaida 5:86Listen in Qur'an →
87

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تُحَرِّمُوا۟ طَيِّبَٰتِ مَآ أَحَلَّ ٱللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْمُعْتَدِينَ

مومنو! جو پاکیزہ چیزیں خدا نے تمہارے لیے حلال کی ہیں ان کو حرام نہ کرو اور حد سے نہ بڑھو کہ خدا حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

ربط آیات - یہاں تک اہل کتاب کے متعلق گفتگو تھی۔ آگے پھر عود ہے احکام فرعیہ کی طرف، جن کا ذکر کچھ شروع سورت میں اور کچھ درمیان میں بھی ہوا ہے، اور باعتبار خصوصیت مقام کے ایک ربط خاص بھی منقول ہے، وہ یہ کہ اوپر مقام مدح میں رہبانیت کا ذکر آیا ہے، گو وہ باعتبار اس کے ایک جز و خاص یعنی ترک حب دنیا کے ہے، لیکن احتمال تھا کہ کوئی رہبانیت کی مساوی خصوصیات کو قابل مدح سمجھا جائے، اس لئے اس مقام پر اس تحریم حلال کی ممانعت زیادہ مناسب معلوم ہوئی۔ (بیان القرآن ملحضاً )- خلاصہ تفسیر - اے ایمان والو اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تمہارے واسطے حلال کی ہیں (خواہ وہ کھانے پینے اور پہننے کی قسم سے ہوں یا منکوحات کی قسم سے ہوں) ان میں لذیز (اور مرغوب) چیزوں کو (قسم و عہد کرکے اپنے نفسوں پر) حرام مت کرو اور حدود (شرعیہ) سے (جو کہ تحلیل و تحریم کے باب میں مقرر ہیں) آگے مت نکلو بیشک اللہ تعالیٰ حدِّ (شرعی) سے نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتے اور خدا تعالیٰ نے جو چیزیں تم کو دی ہیں ان میں سے حلال مرغوب چیزیں کھاؤ (برتو) اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو (یعنی تحریم حلال خلاف رضائے حق ہے، ڈرو، اور اس کا ارتکاب مت کرو) ۔- معارف و مسائل - ترک دنیا اگر حدود آلہیہ کے اندر ہو تو جائز ورنہ حرام ہے - مذکورہ آیات میں یہ بتلایا ہے کہ اگرچہ ترک دنیا اور ترک شہوات و لذات ایک درجہ میں محبوب و پسندیدہ ہے مگر اس میں بھی حدود آلہیہ سے تجاوز کرنا مذموم اور حرام ہے، جس کی تفصیل یہ ہے :- کسی حلال چیز کو حرام قرار دینے کے تین درجات - کسی حلال چیز کو حرام قرار دینے کے تین درجے ہیں، ایک یہ کہ اعتقاداً اس کو حرام سمجھ لیا جائے، دوسرے یہ کہ قولاً کسی چیز کو اپنے لئے حرام کرے، مثلاً قسم کھالے کہ ٹھنڈا پانی نہ پیوں گا یا فلاں قسم کا حلال کھانا نہ کھاؤں گا، یا فلاں جائز کام نہ کروں گا۔ تیسرے یہ کہ اعتقاد و قول تو کچھ نہ ہو محض عملاً ہمیشہ کے لئے کسی حلال چیز کو چھوڑ دینے کا عزم کرے۔- پہلی صورت میں اگر اس چیز کا حلال ہونا قطعی ہونا قطعی دلائل سے ثابت ہو تو اس کا حرام سمجھنے والا قانون الٓہی کی صریح مخالفت کی وجہ سے کافر ہوجائے گا۔- اور دوسری صورت میں اگر الفاظ قسم کھا کر اس چیز کو اپنے اوپر حرام قرار دیا ہے، تو قسم ہوجائے گی، قسم کے الفاظ بہت ہیں، جو کتب فقہ میں مفصل مذکور ہیں، ان میں ایک مثال یہ ہے کہ صراحةً کہے کہ اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ فلاں چیز نہ کھاؤں گا، یا فلاں کام نہ کروں گا، یا یہ کہے کہ میں فلاں چیز یا فلاں کام کو اپنے اوپر حرام کرتا ہوں، اس کا حکم یہ ہے کہ بلا ضرورت ایسی قسم کھانا گناہ ہے اس پر لازم ہے کہ اس قسم کو توڑ دے اور کفارہ قسم ادا کرے جس کی تفصیل آگے آئے گی۔- تیسری قسم جس میں اعتقاد اور قول سے کسی حلال کو حرام نہ کیا ہو، بلکہ عمل میں ایسا معاملہ کرے جیسا حرام کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ دائمی طور پر اس کے چھوڑنے کا التزام کرے اس کا حکم یہ ہے کہ اگر حلال کو چھوڑنا ثواب سمجھتا ہے تو یہ بدعت اور رہبانیت ہے، جس کا گناہ عظیم ہونا قرآن و سنت میں منصوص ہے، اس کے خلاف کرنا واجب اور ایسی پابندی پر قائم رہنا گناہ ہے، ہاں اگر ایسی پابندی بہ نیت ثواب نہ ہو بلکہ کسی دوسری وجہ سے ہو مثلاً کسی جسمانی یا روحانی بیماری کے سبب سے کسی خاص چیز کو دائمی طور پر چھوڑ دے تو اس میں کوئی گناہ نہیں، بعض صوفیائے کرام اور بزرگوں سے حلال چیزوں کے چھوڑنے کی جو روایات منقول ہیں وہ سب اسی قسم میں داخل ہیں کہ انہوں نے اپنے نفس کے لئے ان چیزوں کو مضر سمجھا، یا کسی بزرگ نے مضر بتلایا، اس لئے بطور علاج چھوڑ دیا، اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔- آخر روایات میں فرمایا وَلَا تَعْتَدُوْا ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ ، یعنی اللہ کی حدود سے آگے نہ بڑھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے بڑھنے …

Al-Maaida 5:87Listen in Qur'an →
88

وَكُلُوا۟ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ حَلَٰلًۭا طَيِّبًۭا ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ٱلَّذِىٓ أَنتُم بِهِۦ مُؤْمِنُونَ

اور جو حلال طیّب روزی خدا نے تم کو دی ہے اسے کھاؤ اور خدا سے جس پر ایمان رکھتے ہو ڈرتے رہو

Explained together with ayah 87

Al-Maaida 5:88Listen in Qur'an →
89

لَا يُؤَاخِذُكُمُ ٱللَّهُ بِٱللَّغْوِ فِىٓ أَيْمَٰنِكُمْ وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ ٱلْأَيْمَٰنَ ۖ فَكَفَّٰرَتُهُۥٓ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَٰكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍۢ ۖ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَٰثَةِ أَيَّامٍۢ ۚ ذَٰلِكَ كَفَّٰرَةُ أَيْمَٰنِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ ۚ وَٱحْفَظُوٓا۟ أَيْمَٰنَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمْ ءَايَٰتِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

خدا تمہاری بےارادہ قسموں پر تم سے مواخذہ نہیں کرے گا لیکن پختہ قسموں پر (جن کے خلاف کرو گے) مواخذہ کرے گا تو اس کا کفارہ دس محتاجوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے اہل وعیال کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑے دینا یا ایک غلام آزاد کرنا اور جس کو میسر نہ ہو وہ تین روزے رکھے یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھا لو (اور اسے توڑ دو) اور (تم کو) چاہئے کہ اپنی قسموں کی حفاظت کرو اس طرح خدا تمہارے (سمجھانے کے) لیے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر کرو

ربط آیات - اوپر تحریم طیبات کا ذکر تھا، چونکہ وہ بعض اوقات بذریعہ قسم کے ہوتی ہے، اس لئے آگے قسم کھانے کا حکم مذکور ہے - خلاصہ تفسیر - اللہ تعالیٰ تم سے (دینوی) مواخدہ نہیں فرماتے (یعنی کفارہ واجب نہیں کرتے) تمہاری قسموں میں لغو قسم (توڑنے) پر لیکن ایسا) مواخذہ اس پر فرماتے ہیں کہ تم قسموں کو (آئندہ بات پر) مستحکم کردو (اور پھر اس کو توڑ دو ) سو اس (قسم کے توڑنے) کا کفارہ (یہ ہے کہ) دس محتاجوں کو کھانادینا اوسط درجہ کا جو اپنے گھر والوں کو ( معمولی طور پر) کھانے کو دیا کرتے ہو یا ان (دس محتاجوں کو) کپڑا دینا (اوسط درجہ کا) یا غلام یا لونڈی آزاد کرنا (یعنی تینوں میں جس کو چاہے اختیار کرلے) اور جس کو (ان تینوں میں سے ایک کا بھی) مقدور نہ ہو تو (اس کا کفارہ) تین دن کے (متواتر) روزے ہیں یہ (جو مذکور ہوا) کفارہ ہے تمہاری (ایسی) قسموں کا جب کہ تم قسم کھالو (اور پھر اس کو توڑ دو اور کفارہ نہ دو اور اللہ تعالیٰ نے جس طرح یہ حکم برعایت تمہارے دنیوی و دینی مصالح کے بیان فرمایا ہے) اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے واسطے اپنے (دوسرے) احکام (بھی) بیان فرماتے ہیں تاکہ تم (اس نعمت یعنی مصالح خلق کی رعایت کا) شکر کرو۔- معارف و مسائل - قسم کھانے کی چند صورتیں اور ان سے متعلقہ احکام - اس آیت میں قسم کھانے کی چند صورتوں کا بیان ہے، بعض کا بیان سورة بقرہ میں بھی گزر چکا ہے اور خلاصہ سب کا یہ ہے کہ اگر کسی گذشتہ واقعہ پر جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائے اس کو اصطلاح فقہاء میں یمین غموس کہتے ہیں، مثلاً ایک شخص نے کوئی کام لیا ہے، اور وہ جانتا ہے کہ میں نے یہ کام کیا ہے، اور پھر جان بوجھ کر قسم کھالے کہ میں نے یہ کام نہیں کیا، یہ جھوٹی قسم سخت گناہ کبیرہ اور موجب وبال دنیا و آخرت ہے مگر اس پر کوئی کفارہ واجب نہیں ہوتا، توبہ و استغفار لازم ہے اسی لئے اس کو اصطلاح فقہاء میں یمین غموس کہا جاتا ہے، کیونکہ غموس کے معنی ڈوبا دینے والے کے ہیں، یہ قسم انسان کو گناہ اور وبال میں غرق کردینے والی ہے۔- دوسری صورت یہ ہے کہ کسی گذشتہ واقعہ پر اپنے نزدیک سچا سمجھ کر قسم کھائے اور واقع میں وہ غلط ہو، مثلاً کسی ذریعہ سے یہ معلوم ہوا کہ فلاں شخص آگیا ہے، اس پر اعتماد کرکے اس نے قسم کھالی کہ وہ آگیا ہے، پھر معلوم ہوا کہ یہ واقعہ کے خلاف ہے، اس کو یمین لغو کہتے ہیں، اسی طرح بلا قصد زبان سے لفظ قسم نکل جائے تو اس کو بھی یمین لغو کہا جاتا ہے۔ اس کا حکم یہ ہے کہ نہ اس پر کفارہ ہے نہ گناہ۔- تیسری صورت قسم کی یہ ہے کہ آئندہ زمانے میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھائے اس کو یمین منعقدہ کہا جاتا ہے، اس کا حکم یہ ہے کہ اس قسم کو توڑنے کی صورت میں کفارہ واجب ہوتا ہے اور بعض صورتوں میں اس پر گناہ بھی ہوتا ہے، بعض میں نہیں ہوتا۔- اس جگہ قرآن کریم کی آیت مذکورہ میں بظاہر لغو سے وہی قسم مراد ہے جس پر کفارہ نہیں خواہ گناہ ہو یا نہ ہو، کیونکہ بالمقابل عَقَّدْتُّمُ الْاَيْمَان مذکور ہے، جس سے معلوم ہوا کہ یہاں مواخذہ سے مراد دنیا کا مواخذہ ہے، جو کفارہ کی صورت میں ہوتا ہے۔- اور سورة بقرہ کی آیت میں ارشاد ہے (آیت) لا یؤ اخذکم اللّٰہ باللغو فی ایمانکم ولکن یؤ اخذکم بما کسبت قلوبکم۔ اس میں لغو سے مراد وہ قسم ہے جو بلا قصد و ارادہ زبان سے نکل جائے، یا اپنے نزدیک سچی بات سمجھ کر قسم کھالے، مگر وہ واقع میں غلط نکلی، اس کے بالمقابل وہ قسم مذکور ہے جس میں قصداً جھوٹ بولا گیا ہو، جس کو یمین غموس کہتے ہیں، اس لئے اس آیت کا حاصل یہ ہوا کہ یمین لغو پر تو کوئی گناہ نہیں، بلکہ گناہ یمین غموس پر ہے، جس میں قصد کرکے جھوٹ بولا گیا ہو تو سورة بقرہ میں حکم آخرت کے گناہ کا بیان ہے، اور سورة مائدہ کی آیت متذکرہ میں دنیوی حکم یعنی کفارہ کا، جس کا حاصل یہ ہوا کہ یمین لغو پر اللہ تعالیٰ تم سے مواخذہ نہیں کرتا، …

Al-Maaida 5:89Listen in Qur'an →
90

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِنَّمَا ٱلْخَمْرُ وَٱلْمَيْسِرُ وَٱلْأَنصَابُ وَٱلْأَزْلَٰمُ رِجْسٌۭ مِّنْ عَمَلِ ٱلشَّيْطَٰنِ فَٱجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پاسے (یہ سب) ناپاک کام اعمال شیطان سے ہیں سو ان سے بچتے رہنا تاکہ نجات پاؤ

ربط آیات - اوپر حلال چیزوں کے ترک خاص کی ممانعت تھی، آگے بعض حرام چیزوں کے استعمال کی ممانعت ہے۔- خلاصہ تفسیر - اے ایمان والو بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور بت وغیرہ اور قرعہ کے تیر یہ سب گندی باتیں شیطانی کام ہیں، سو ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم کو (بوجہ ان کو مضرتوں سے بچنے کے جو آگے مذکور ہیں) فلاح ہو (اور وہ مضرتیں دنیوی بھی ہیں اور دینی بھی جن کا بیان یہ ہے کہ) شیطان تو یوں چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ تمہارے آپس میں (برتاؤ میں) عداوت اور (دلوں میں) بغض واقع کر دے (چنانچہ ظاہر ہے کہ شراب میں تو عقل نہیں رہتی، گالی گلوچ دنگہ فساد ہوجاتا ہے، جس سے بعد میں بھی طبعاً کدورت باقی رہتی ہے، اور جوئے میں جو شخص مغلوب ہوتا ہے اس کو غالب پر غیظ ہوتا ہے، اور جب اس کو رنج ہوگا دوسرے پر بھی اس کا اثر پہنچے گا، یہ تو دنیوی مضرت ہوئی) اور (شیطان یوں چاہتا ہے کہ اسی شراب اور جوئے کے ذریعہ سے) اللہ تعالیٰ کی یاد سے اور نماز سے (جو کہ اللہ کی یاد کا سب سے افضل طریقہ ہے) تم کو باز رکھے (چنانچہ یہ بھی ظاہر ہے، کیونکہ شراب میں تو اس کے ہوش ہی بجا نہیں ہوتے اور قمار میں غالب کو تو سرور و نشاط اس درجہ ہوتا ہے کہ وہ اس میں غرق ہوتا ہے، اور مغلوب کو مغلوب ہونے کا رنج و اضمحلال اور پھر غالب آنے کی کوشش اس درجہ ہوتی ہے کہ اس سے فراغ نہیں ہوتا، یہ دینی مضرت ہوئی۔ جب ایسی بری چیزیں ہیں) سو (بتلاؤ) اب بھی باز آؤ گے ؟ اور تم (جمیع احکام میں) اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے رہو اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرتے رہو اور (مخالفت حکم سے) احتیاط رکھو اور اگر (اطاعت سے) اعراض کرو گے تو یہ جان رکھو کہ ہمارے رسول کے ذمہ صرف صاف صاف (حکم کا) پہنچا دینا تھا (اور وہ اس کو بخوبی انجام دے چکے اور تم کو احکام پہنچا چکے اب تمارے پاس کسی عذر کی گنجائش نہیں رہی) ۔ - معارف و مسائل - کائنات کی تخلیق انسان کے نفع کے لئے ہے - ان آیات میں بتلانا یہ منظور ہے کہ مالک کائنات نے ساری کائنات کو انسان کی خدمت کے لئے پیدا فرمایا، اور ہر ایک چیز کو انسان کی خاص خاص خدمت پر لگا دیا ہے، اور انسان کو مخدوم کائنات بنایا ہے، انسان پر صرف ایک پابندی لگا دی کہ ہماری مخلوقات سے نفع اٹھانے کی جو حدود ہم نے مقرر کردی ہیں ان سے تجاوز نہ کرو، جن چیزوں کو تمہارے لئے حلال طیب بنادیا ہے ان سے احتراز کرنا بےادبی اور ناشکری ہے اور جن چیزوں کے کسی خاص استعمال کو حرام قرار دے دیا ہے، اس میں خلاف ورزی کرنا نافرمانی اور بغاوت ہے، بندہ کا کام یہ ہے مالک کی ہدایت کے مطابق اس کی مخلوقات کا استعمال کرے، اسی کا نام عبدیت ہے۔- پہلی آیت میں شراب، جوا، بت اور جُوئے کے تیر، چار چیزوں کی حرمت کا بیان ہے۔ اسی مضمون کی ایک آیت تقریباً ایسے ہی الفاظ کے ساتھ سورة بقرہ میں بھی آچکی ہے۔ (آیت) یایھا الذین امنوا۔ ، اس میں ان چار چیزوں کو رجس فرمایا، رجس عربی زبان میں ایسی گندی چیز کو کہا جاتا ہے جس سے انسان کی طبعیت کو گھن اور نفرت پیدا ہو، یہ چاروں چیزیں ایسی ہیں کہ اگر انسان ذرا بھی عقل سلیم اور طبع سلیم رکھتا ہو تو خود بخود ہی ان چیزوں سے اس کو گھن اور نفرت ہوگی۔- ازلام کی تشریح - ان چار چیزوں میں سے ایک ازلال ہے، جو زلم کی جمع ہے، ازلام ان تیروں کو کہا جاتا ہے جن پر قرعہ اندازی کرکے عرب میں جوا کھیلنے کی رسم جاری تھی، جس کی صورت یہ تھی کہ دس آدمی شرکت میں ایک اونٹ ذبح کرتے تھے، پھر اس کا گوشت تقسیم کرنے کے لئے بجائے اس کے کہ دس حصے برابر کرکے تقسیم کرتے اس میں اس طرح جوا کھیلتے کہ دس عدد تیروں میں سات تیروں پر کچھ مقررہ حصوں کے نشانات بنا رکھتے تھے، کسی پر ایک کسی پر دو یا تین اور تین تیروں کو سادہ رکھا ہوا تھا، ان تیروں کو ترکش میں ڈال کر ہلاتے تھے، پھر ایک ایک شریک کے لئے ایک ایک تیر ترکش میں سے …

Al-Maaida 5:90Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.