۞ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَتَّخِذُوا۟ ٱلْيَهُودَ وَٱلنَّصَٰرَىٰٓ أَوْلِيَآءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍۢ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُۥ مِنْهُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّٰلِمِينَ
اے ایمان والو! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو شخص تم میں سے ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
خلاصہ تفسیر۔- آیات مذکورہ میں تین اہم اصولی مضامین کا بیان ہے جو مسلمانوں کی اجتماعی اور ملی وحدت و شیرازہ بندی کے بنیادی اصول ہیں :- اول یہ کہ مسلمان غیر مسلموں سے رواداری، ہمدردی، خیر خواہی، عدل و انصاف اور احسان و سلوک سب کچھ کرسکتے ہیں، اور ایسا کرنا چاہیے کہ ان کو اس کی تعلیم دی گئی ہے۔ لیکن ان سے ایسی گہری دوستی اور خلط ملط جس سے اسلام کے امتیازی نشانات گڈ مڈ ہوجائیں اس کی اجازت نہیں۔ یہی وہ مسئلہ ہے جو ” ترک موالات “ کے نام سے معروف ہے۔- دوسرا مضمون یہ ہے کہ اگر کسی وقت کسی جگہ مسلمان اسی بنادی اصول سے ہٹ کر غیر مسلموں سے ایسا غلط ملط کرلیں تو یہ نہ سمجھیں کہ اس سے اسلام کو کوئی گزند اور نقصان پہنچے گا۔ کیونکہ اسلام کی حفاظت اور بقاء کی ذمہ داری حق تعالیٰ نے لی ہے، اس کو کوئی نہیں مٹا سکتا، اگر کوئی قوم بِرَٹ جائے اور حدود شرعیہ کو توڑ کر فرض کرلو کہ اسلام ہی کو چھوڑ بیٹھے تو اللہ تعالیٰ کسی دوسری قوم کو کھڑا کردیں گے جو اسلام کے اصول و قانون کو قائم کرے گی۔- تیسرا مضمون یہ ہے کہ جب ایک طرف منفی پہلو معلوم ہوگیا تو مسلمان کی گہری دوستی تو صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان پر ایمان لانے والوں ہی کے ساتھ ہو سکتی ہے۔ یہ اجمال ہے ان مضامین کا جو مذکورہ بالا پانچ آیتوں میں بیان ہوئے ہیں۔ اب ان آیتوں کی مختصر تفسیر دیکھئے :- اے ایمان والو تم (منافقوں کی طرح) یہود و نصاریٰ کو (اپنا) دوست مت بنانا وہ (خود ہی) ایک دوسرے کے دوست ہیں (یعنی یہودی یہودی باہم اور نصرانی نصرانی باہم، مطلب یہ ہے کہ دوستی ہوتی ہے مناسبت سے، سو ان میں باہم تو مناسبت ہے مگر تم میں اور ان میں کیا مناسبت) اور (جب جملہ مذکورہ سے معلوم ہوا کہ دوستی ہوتی ہے تناسب سے تو) جو شخص تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کرے گا بیشک وہ (کسی خاص مناسبت کے اعتبار سے) ان ہی میں سے ہوگا (اور گویہ یہ امر ظاہر ہے لیکن) یقینا اللہ تعالیٰ (اس امر کی) سمجھ ہی نہیں دیتے ان لوگوں کو جو (کفار سے دوستی کرکے) اپنا نقصان کر رہے ہیں (یعنی دوستی میں منہمک ہونے کی وجہ سے یہ بات ان کی سمجھ ہی میں نہیں آتی، اور چونکہ ایسے لوگ اس امر کو نہیں سمجھتے) اسی لئے (اے دیکھنے والے) تم ایسے لوگوں کو کہ جن کے دل میں (نفاق کا) مرض ہے دیکھتے ہو کہ دوڑ دوڑ کر ان (کفار) میں گھستے ہیں (اور ملامت کرے تو حیلہ بازی اور سخن سازی کے لئے یوں) کہتے ہیں کہ (ہمارا ملنا ان کے ساتھ دل سے نہیں، بلکہ دل سے تو تمہارے ساتھ ہیں صرف ایک مصلحت سے ان کے ساتھ ملتے ہیں وہ یہ کہ) ہم کو اندیشہ ہے کہ (شاید انقلاب زمانہ سے) ہم پر کوئی حادثہ پڑجائے (جیسے قحط ہے، تنگی ہے، اور یہ یہودی ہمارے ساہوکار ہیں ان سے قرض ادھار مل جاتا ہے، اگر ظاہری میل جول قطع کردیں گے تو وقت پر ہم کو تکلیف ہوگی، ظاہراً نَخْشٰٓى اَنْ تُصِيْبَنَا دَاۗىِٕرَةٌ کا یہ مطلب لیتے تھے۔ لیکن دل میں اور مطلب لیتے کہ شاید آخر میں مسلمانوں پر کفار کے غالب آجانے سے پھر ہم کو ان کی احتیاج پڑے اس لئے ان سے دوستی رکھنا چاہئے) سو قریب امید (یعنی وعدہ) ہے کہ اللہ تعالیٰ (مسلمانوں کی کامل) فتح (ان کفار کے مقابلہ میں جن سے یہ دوستی کر رہے ہیں) فرما دے (جس میں مسلمانوں کی کوشش کا بھی دخل ہوگا) یا کسی اور بات کا خاص اپنی طرف سے (ظہور فرما دے۔ یعنی ان کے نفاق کا علی التعیین بذریعہ وحی کے عام اظہار فرما دیں جس میں مسلمانوں کی تدبیر کا اصلاً دخل نہیں۔ مطلب یہ کہ مسلمانوں کی فتح اور ان کی پردہ دری دونوں امر قریب ہونے والے ہیں) پھر (اس وقت) اپنے (سابق) پوشیدہ دلی خیالات پر نادم ہوں گے۔ (کہ ہم کیا سمجھتے تھے کہ کفار غالب آویں گے اور یہ کیا برعکس ہوگیا۔ ایک ندامت تو اپنے خیال کی غلطی پر کہ امر طبعی ہے۔ دوسری ندامت اپنے نفاق پر جس کی بدولت آج رسوا ہوئے، مَآ اَ سَرُّوْا …