Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 41–50 of 120

41

۞ يَٰٓأَيُّهَا ٱلرَّسُولُ لَا يَحْزُنكَ ٱلَّذِينَ يُسَٰرِعُونَ فِى ٱلْكُفْرِ مِنَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِأَفْوَٰهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِن قُلُوبُهُمْ ۛ وَمِنَ ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ ۛ سَمَّٰعُونَ لِلْكَذِبِ سَمَّٰعُونَ لِقَوْمٍ ءَاخَرِينَ لَمْ يَأْتُوكَ ۖ يُحَرِّفُونَ ٱلْكَلِمَ مِنۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهِۦ ۖ يَقُولُونَ إِنْ أُوتِيتُمْ هَٰذَا فَخُذُوهُ وَإِن لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَٱحْذَرُوا۟ ۚ وَمَن يُرِدِ ٱللَّهُ فِتْنَتَهُۥ فَلَن تَمْلِكَ لَهُۥ مِنَ ٱللَّهِ شَيْـًٔا ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَمْ يُرِدِ ٱللَّهُ أَن يُطَهِّرَ قُلُوبَهُمْ ۚ لَهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا خِزْىٌۭ ۖ وَلَهُمْ فِى ٱلْءَاخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌۭ

اے پیغمبر! جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں (کچھ تو) ان میں سے (ہیں) جو منہ سے کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں لیکن ان کے دل مومن نہیں ہیں اور (کچھ) ان میں سے جو یہودی ہیں ان کی وجہ سے غمناک نہ ہونا یہ غلط باتیں بنانے کے لیے جاسوسی کرتے پھرتے ہیں اور ایسے لوگوں (کے بہکانے) کے لیے جاسوس بنے ہیں جو ابھی تمہارے پاس نہیں آئے (صحیح) باتوں کو ان کے مقامات (میں ثابت ہونے) کے بعد بدل دیتے ہیں (اور لوگوں سے) کہتے ہیں کہ اگر تم کو یہی (حکم) ملے تو اسے قبول کر لینا اور اگر یہ نہ ملے تو اس سے احتراز کرنا اور اگر کسی کو خدا گمراہ کرنا چاہے تو اس کے لیے تم کچھ بھی خدا سے (ہدایت کا) اختیار نہیں رکھتے یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو خدا نے پاک کرنا نہیں چاہا ان کے لیے دنیا میں بھی ذلت ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے

ربط آیات - سورة مائدہ کے تیسرے رکوع میں اہل کتاب کا ذکر چلا آرہا تھا، درمیان میں قدر قلیل اور بعض مضامین خاص خاص مناسبات سے آگئے تھے۔ اب آگے پھر اہل کتاب ہی کا ذکر دور تک چلا گیا ہے۔ اہل کتاب میں یہود و نصاریٰ کے دو فرقے تو تھے ہی، ایک تیسرا فرقہ اور شامل ہوگیا تھا، جو حقیقت میں یہودی تھے، مگر منافقانہ طور پر مسلمان ہوگئے تھے۔ مسلمانوں کے سامنے اپنا اسلام ظاہر کرتے تھے اور اپنے ہم مذہب یہودیوں میں بیٹھتے تو اسلام اور مسلمانوں کا استہزاء کرتے تھے، مذکورہ تین آیتیں انہی تینوں فرقوں کے ایسے اعمال سے اور حالات سے متعلق ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے احکام اور ہدایات کے مقابلہ میں اپنی خواہشات اور رائیوں کو مقدم رکھتے ہیں اور احکام و ہدایات کے مقابلہ میں اپنی خواہشات اور رائیوں کو مقدم رکھتے ہیں اور احکام و ہدایات میں تاویلیں کرکے اپنی خواہشات کے مطابق بنانے کی فکر میں رہتے ہیں۔ آیات مذکورہ میں ایسے لوگوں کی دنیا و آخرت میں رسوائی اور انجام بد کا بیان ہے۔ اس کے ضمن میں مسلمانوں کے لئے چند اصول ہدایات اور احکام شرعیہ کا بیان ہے۔ - شان نزول - آیات مذکورہ کے نزول کا سبب دو واقعات ہیں جو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد مبارک میں مدینہ کے قرب و جوار میں رہنے والے یہودی قبائل میں پیش آئے۔ ایک واقعہ قتل و قصاص کا اور دوسرا واقعہ زنا اور اس کی سزا کا ہے۔ - یہ بات تو کسی تاریخ عالم کے جاننے والے پر مخفی نہیں کہ اسلام سے پہلے ہر جگہ، ہر خطہ اور ہر طبقہ میں ظلم و جور کی حکومت تھی، قوی ضعیف کو، عزت والا بےعزت کو غلام بنائے رکھتا تھا۔ قوی اور عزت والے کے لئے قانون اور تھا اور کمزور و بےعزت کے لئے قانون دوسرا تھا۔ جیسے آج بھی اپنے آپ کو مہذب اور متمدّن کہنے والے بہت سے ممالک میں کالے اور گورے کا قانون الگ الگ ہے۔ محسن انسانیت رسول عربی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہی آکر ان امتیازات کو مٹایا۔ اولاد آدم کے حقوق کی مساوات کا اعلان کیا اور انسان کو انسانیت اور آدمیت کا سبق دیا۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینہ طیبہ تشریف لانے سے پہلے حوالی مدینہ میں یہود کے دو قبیلے بنو قریظہ اور بنو نضیر آباد تھے۔ ان میں سے بنو نضیر قوت و شوکت اور دولت و عزت میں بنو قریظہ سے زیادہ تھے۔ یہ لوگ آئے دن بنو قریظہ پر ظلم کرتے رہتے تھے اور وہ چار ونا چار اس کو سہتے تھے۔ یہاں تک کہ بنو نضیر نے بنو قریظہ کو اس ذلت آمیز معاہدہ پر مجبور کیا کہ اگر بنو نضیر کا کوئی آدمی بنو قریظہ کے کسی شخص کو قتل کر دے تو اس کا قصاص یعنی جان کے بدلے میں جان لینے کا ان کو حق نہ ہوگا۔ بلکہ صرف ستر وسق کھجوریں اس کے خون بہا کے طور پر ادا کی جائیں گی۔ (وسق عربی اوزان کا ایک پیمانہ ہے جو ہمارے وزن کے اعتبار سے تقریباً پانچ من دس سیر کا ہوتا ہے) اور اگر معاملہ برعکس ہو کہ بنو قریظہ کا کوئی آدمی بنو نضیر کے کسی شخص کو قتل کر دے تو قانون یہ ہوگا کہ اس کے قاتل کو قتل بھی کیا جائے گا اور ان سے خون بہا بھی لیا جائے گا۔ اور وہ بھی بنو نضیر کے خون بہا سے دوگنا یعنی ایک سو چالیس وسق کھجوریں اور صرف یہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی کہ ان کا مقتول اگر عورت ہوگی تو اس کے بدلہ میں بنو قریظہ کے ایک مرد کو قتل کیا جائے گا۔ اور اگر مقتول مرد ہے تو اس کے معاوضہ میں بنو قریظہ کے آزاد کو قتل کیا جائے گا۔ اور اگر بنو نضیر کے آدمی کا کسی نے ایک ہاتھ کاٹا ہے تو بنو قریظہ کے آدمی کے دو ہاتھ کاٹے جائیں گے۔ ایک کان کاٹا ہے تو ان کے دو کان کاٹے جائیں گے۔ یہ قانون تھا جو اسلام سے پہلے ان دونوں قبیلوں کے درمیان رائج تھا اور بنو قریظہ اپنی کمزوری کی بناء پر اس کے ماننے پر مجبور تھے۔ - جب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے اور مدینہ ایک دار السلام بن گیا یہ دونوں …

Al-Maaida 5:41Listen in Qur'an →
42

سَمَّٰعُونَ لِلْكَذِبِ أَكَّٰلُونَ لِلسُّحْتِ ۚ فَإِن جَآءُوكَ فَٱحْكُم بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ ۖ وَإِن تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَن يَضُرُّوكَ شَيْـًۭٔا ۖ وَإِنْ حَكَمْتَ فَٱحْكُم بَيْنَهُم بِٱلْقِسْطِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُقْسِطِينَ

(یہ) جھوٹی باتیں بنانے کے جاسوسی کرنے والے اور (رشوت کا) حرام مال کھانے والے ہیں اگر یہ تمہارے پاس (کوئی مقدمہ فیصل کرانے کو) آئیں تو تم ان میں فیصلہ کر دینا یا اعراض کرنا اور اگر ان سے اعراض کرو گے تو وہ تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکیں گے اور اگر فیصلہ کرنا چاہو تو انصاف کا فیصلہ کرنا کہ خدا انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

یہود کی ایک بری خصلت - پہلی خصلت یہ بتائی سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ للسُّحْتِ ۔ یعنی یہ لوگ جھوٹی اور غلط باتیں سننے کے عادی ہیں۔ اپنے کو عالم کہلانے والے غدار یہودیوں کے ایسے اندھے متبع ہیں کہ احکام تو ارت کی کھلی خلاف ورزی دیکھنے کے باوجود ان کی پیروی کرتے رہتے ہیں اور ان کی غلط سلط بیان کی ہوئی کہانیاں سنتے رہتے ہیں۔- عوام کے لئے علماء کے اتباع کا ضابطہ - اس میں جس طرح تحریف کرنے والوں اور احکام خدا و رسول میں غلط چیزیں شامل کرنے والوں کے لئے وعیدیں ہیں۔ اسی طرح ان لوگوں کو بھی سخت مجرم قرار دیا ہے جو ایسے لوگوں کو امام بنا کر موضوع اور غلط روایات سننے کے عادی ہوگئے ہیں اس میں مسلمانوں کے لئے ایک اہم اصولی ہدایت یہ ہے کہ اگرچہ جاہل عوام کے لئے دین پر عمل کرنے کا راستہ صرف یہی ہے کہ علماء کے فتوے اور تعلیم پر عمل کریں لیکن اس ذمہ داری سے عوام بھی بری نہیں کہ فتویٰ لینے اور عمل کرنے سے پہلے اپنے مقتداؤں کے متعلق اتنی تحقیق تو کرلیں جتنی کوئی بیمار کسی ڈاکٹر یا حکیم سے رجوع کرنے سے پہلے کیا کرتا ہے۔ کہ جاننے والوں سے تحقیق کرتا ہے کہ اس مرض کے لئے کونسا ڈاکٹر ماہر ہے، کون سا حکیم اچھا ہے۔ اس کی ڈگریاں کیا کیا ہیں۔ اس کے مطب میں جانے والے زیر علاج لوگوں پر کیا گزرتی ہے۔ اپنی امکانی تحقیق کے بعد بھی اگر وہ کسی غلط ڈاکٹر یا حکیم کے جال میں پھنس گیا یا اس نے کوئی غلطی کردی تو عقلاء کے نزدیک وہ قابل ملامت نہیں ہوتا۔ لیکن جو شخص بلا تحقیق کسی عطائی کے جال میں جا پھنسا اور پھر کسی مصیبت میں گرفتار ہوا تو وہ عقلاء کے نزدیک خود اپنی خودکشی کا ذمہ دار ہے۔- یہی حال عوام کے لئے دینی امور کے بارے میں ہے کہ اگر انہوں نے اپنی بستی کے اہل علم و فن اور تجربہ کار لوگوں سے تحقیق حال کرنے کے بعد کسی عالم کو اپنا مقتدیٰ بنایا اور اس کے فتوے پر عمل کیا تو وہ عند الناس بھی معزور سمجھا جائے گا۔ اور عند اللہ بھی، ایسے ہی معاملہ کے متعلق حدیث میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : فان اثمہ علی من افتی۔ یعنی ایسی صورت میں اگر عالم اور مفتی نے غلطی کرلی اور کسی مسلمان نے ان کے غلط فتوے پر عمل کرلیا تو اس کا گناہ اس پر نہیں بلکہ اس عالم و مفتی پر ہے۔ اور وہ بھی اس وقت جبکہ اس عالم نے جان بوجھ کر ایسی غلطی کی ہو یا امکانی خور و خوض میں کمی کی ہو یا یہ کہ وہ عالم ہی نہ تھا اور لوگوں کو فریب دے کر اس منصب پر مسلط ہوگیا۔- لیکن اگر کوئی شخص بلا تحقیق محض اپنے خیال سے کسی کو عالم و مقتدیٰ قرار دے کر اس کے قول پر عمل کرے۔ اور وہ فی الواقع اس کا اہل نہیں تو اس کا وبال تنہا اس مفتی اور عالم پر نہیں ہے بلکہ یہ شخص بھی برابر کا مجرم ہے، جس نے تحقیق کئے بغیر اپنے ایمان کی باگ ڈور کسی ایسے شخص کے حوالہ کردی، ایسے ہی لوگوں کے بارے میں یہ ارشاد قرآنی آیا ہے سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ ، یعنی یہ لوگ جھوٹی باتیں سننے کے عادی ہیں، اپنے مقتداؤں کے علم و عمل اور امانت و دیانت کی تحقیق کئے بغیر ان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں، اور ان سے موضوع اور غلط روایات سننے اور ماننے کے عادی ہوگئے ہیں۔- قرآن کریم نے یہ حال یہودیوں کا بیان کیا ہے اور مسلمانوں کو سنایا ہے کہ وہ اس سے محفوظ رہیں۔ لیکن آج کی دنیا میں مسلمانوں کی بہت بڑی بربادی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ وہ دنیا کے معاملات میں تو بڑے ہوشیار، چُست و چالاک ہیں، بیمار ہوتے ہیں تو بہتر سے بہتر ڈاکٹر حکیم کو تلاش کرتے ہیں، کوئی مقدمہ پیش آتا ہے تو اچھے سے اچھا وکیل بیرسٹر ڈھونڈھ لاتے ہیں، کوئی مکان بنانا ہے تو اعلیٰ سے اعلیٰ آرکٹیکٹ اور انجنیئر کا سراغ لگا لیتے ہیں۔ لیکن دین کے معاملہ میں ایسے سخی ہیں کہ جس کی داڑھی اور کرتہ دیکھا اور کچھ الفاظ بولتے ہوئے سن لیا، اس کو مقتداء، عالم، مفتی، رہبر بنا لیا، بغیر اس تحقیق کے کہ اس نے …

Al-Maaida 5:42Listen in Qur'an →
43

وَكَيْفَ يُحَكِّمُونَكَ وَعِندَهُمُ ٱلتَّوْرَىٰةُ فِيهَا حُكْمُ ٱللَّهِ ثُمَّ يَتَوَلَّوْنَ مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ ۚ وَمَآ أُو۟لَٰٓئِكَ بِٱلْمُؤْمِنِينَ

اور یہ تم سے (اپنے مقدمات) کیونکر فیصل کرایں گے جبکہ خود ان کے پاس تورات (موجود) ہے جس میں خدا کا حکم (لکھا ہوا) ہے (یہ اسے جانتے ہیں) پھر اس کے بعد اس سے پھر جاتے ہیں اور یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے

Explained together with ayah 42

Al-Maaida 5:43Listen in Qur'an →
44

إِنَّآ أَنزَلْنَا ٱلتَّوْرَىٰةَ فِيهَا هُدًۭى وَنُورٌۭ ۚ يَحْكُمُ بِهَا ٱلنَّبِيُّونَ ٱلَّذِينَ أَسْلَمُوا۟ لِلَّذِينَ هَادُوا۟ وَٱلرَّبَّٰنِيُّونَ وَٱلْأَحْبَارُ بِمَا ٱسْتُحْفِظُوا۟ مِن كِتَٰبِ ٱللَّهِ وَكَانُوا۟ عَلَيْهِ شُهَدَآءَ ۚ فَلَا تَخْشَوُا۟ ٱلنَّاسَ وَٱخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوا۟ بِـَٔايَٰتِى ثَمَنًۭا قَلِيلًۭا ۚ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَٰفِرُونَ

بیشک ہم نے توریت نازل فرمائی جس میں ہدایت اور روشنی ہے اسی کے مطابق انبیاء جو (خدا کے) فرمانبردار تھے یہودیوں کو حکم دیتے رہے ہیں اور مشائخ اور علماء بھی کیونکہ وہ کتاب خدا کے نگہبان مقرر کیے گئے تھے اور اس پر گواہ تھے (یعنی حکم الہٰی کا یقین رکھتے تھے) تو تم لوگوں سے مت ڈرنا اور مجھی سے ڈرتے رہنا اور میری آیتوں کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہ لینا اور جو خدا کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں

خلاصہ تفسیر - ربط : یہ سورة مائدہ کا ساتواں رکوع ہے اس میں حق تعالیٰ نے یہود، نصاریٰ اور مسلمانوں کو یکجائی طور پر ایک اہم اور خاص حکم شرع پر متنبہ فرمایا ہے، جس کا ذکر سورة مائدہ میں متفرق طور پر اوپر سے چلا آیا ہے، اور وہ معاملہ ہے اللہ جل شانہ سے کئے ہوئے عہد و پیمان کی خلاف ورزی کا اور اس کے بھیجے ہوئے احکام میں تغیر وتبدل اور تحریف و تاویل کا جو یہود و نصاریٰ کی دائمہ خصلت و عادت بن گیا تھا۔- اس رکوع میں حق تعالیٰ نے اول اہل تورات یہود کو مخاطب فرما کر ان کو اس کج روی اور اس کے انجام بد پر ابتدائی دو آیتوں میں متنبہ فرمایا، اور اس کے ضمن میں قصاص کے متعلق بعض احکام بھی اس مناسبت سے ذکر فرما دیئے کہ پچھلی آیتوں میں جو واقعہ یہود کی سازش کا ذکر کیا گیا ہے وہ قصاص کے متعلق تھا کہ بنو نضیر دیت اور قصاص میں مساوات کے قائل نہ تھے بلکہ بنو قریظہ کو اپنے سے کم دیت لینے پر مجبور کر رکھا تھا، ان دونوں آیتوں میں یہود کو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قانون کے خلاف اپنا قانون جاری کرنے پر سخت تنبیہ فرمائی اور ایسا کرنے والوں کو کافر اور ظالم قرار دیا۔- اس کے بعد تیسری آیت میں اہل انجیل نصاریٰ کو اسی مضمون کا خطاب فرما کر اللہ کے نازل کئے ہوئے قانون کے خلاف کوئی قانون جاری کرنے پر سخت تنبیہ فرمائی، اور ایسا کرنے والوں کو سرکش و نافرمان قرار دیا۔ - اس کے بعد چوتھی، پانچویں اور چھٹی آیت میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب بنا کر مسلمانوں کو اسی مضمون کے متعلق ہدایات دیں گئیں کہ وہ اہل کتاب کی اس بیماری میں مبتلا نہ ہوجائیں، کہ جاہ و مال کے لالچ میں اللہ تعالیٰ کے احکام کو بدلنے لگیں، یا اس کے قانون کے خلاف کوئی قانون اپنی طرف سے جاری کرنے لگیں۔- اس کے ضمن میں ایک اور اہم اصولی مسئلہ یہ بھی بیان فرما دیا کہ اگرچہ اصول عقائد اور اطاعت حق جل شانہ، کے معاملہ میں تمام انبیاء (علیہم السلام) ایک ہی عقیدہ اور ایک ہی طریقہ کے پابند ہیں، لیکن بہ تقاضائے حکمت ہر پیغمبر کو اس کے زمانہ کی مناسب شریعت دی گئی ہے جس میں بہت سے فروعی اور جزوی احکام مختلف ہیں، اور یہ بتلایا کہ ہر پیغمبر کو جو شریعت دی گئی، اس کے زمانہ میں وہی مقتضائے حکمت اور واجب الاتباع تھی، اور جب اس کو منسوخ کرکے دوسری شریعت لائی گئی تو اس وقت وہی عین حکمت و مصلحت اور واجب الاتباع ہوگئی، اس میں شریعتوں کے مختلف ہوتے رہنے اور بدلتے رہنے کی ایک خاص حکمت کی طرف بھی اشارہ فرما دیا۔ - ہم نے (موسیٰ علیہ الالسلام پر) توریت نازل فرمائی تھی جس میں (عقائد صحیحہ کی بھی) ہدایت تھی اور (احکام عملیہ کا بھی) وضوح تھا، انبیاء (بنی اسرائیل) جو کہ (باوجود لاکھوں آدمیوں کے مقتداء ومطاع ہونے کے) اللہ تعالیٰ کے مطیع تھے اس (توراة) کے موافق یہود کو حکم دیا کرتے تھے اور (اسی طرح ان میں کے) اہل اللہ اور علماء بھی (اسی کے موافق کہ وہی اس وقت کی شریعت تھی حکم دیتے تھے) بوجہ اس کے کہ ان (اہل اللہ و علماء) کو اس کتاب اللہ (پر عمل کرنے اور کرانے) کی نگہداشت کا حکم (حضرت انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعہ سے) دیا گیا تھا اور وہ اس کے (یعنی اس پر عمل کرنے کرانے کے) اقراری ہوگئے تھے (یعنی چونکہ ان کو اس کا حکم ہوا تھا اور انہوں نے اس حکم کو قبول کرلیا تھا، اس لئے ہمیشہ اس کے پابند رہے) سو (اے اس زمانہ کے رؤ سا و علماء یہود جب ہمیشہ سے تمہارے سب مقتداء توریت کو ماننے آئے ہیں تو) تم بھی ( تصدیق رسالت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے باب میں جس کو حکم توریت میں ہے) لوگوں سے (یہ) اندیشہ مت کرو (کہ ہم تصدیق کرلیں گے تو عام لوگوں کی نظر میں ہماری جاہ میں فرق آئے گا) اور (صرف) مجھ سے ڈرو (کہ تصدیق نہ کرنے پر سزا دوں گا) اور میرے احکام کے بدلہ میں (دنیا کی) متاع قلیل (جو کہ تم کو اپنے عوام سے وصول ہوتی ہے) مت لو (کہ یہی …

Al-Maaida 5:44Listen in Qur'an →
45

وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَآ أَنَّ ٱلنَّفْسَ بِٱلنَّفْسِ وَٱلْعَيْنَ بِٱلْعَيْنِ وَٱلْأَنفَ بِٱلْأَنفِ وَٱلْأُذُنَ بِٱلْأُذُنِ وَٱلسِّنَّ بِٱلسِّنِّ وَٱلْجُرُوحَ قِصَاصٌۭ ۚ فَمَن تَصَدَّقَ بِهِۦ فَهُوَ كَفَّارَةٌۭ لَّهُۥ ۚ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ

اور ہم نے ان لوگوں کے لیے تورات میں یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور سب زخموں کا اسی طرح بدلہ ہے لیکن جو شخص بدلہ معاف کر دے وہ اس کے لیے کفارہ ہوگا اور جو خدا کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ بےانصاف ہیں

اس کے بعد دوسری آیت میں احکام قصاص اس حوالہ سے بیان کئے گئے ہیں، کہ ہم نے یہ احکام تورات میں نازل کئے ہیں، ارشاد ہے : وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيْهَآ اَنَّ النَّفْسَ بالنَّفْسِ ۙوَالْعَيْنَ بالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بالسِّنِّ ۙ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ، یعنی ہم نے یہود کے لئے توراة میں یہ حکم قصاص نازل کردیا تھا کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلہ ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور خاص زخموں کا بدلہ ہے۔- بنو قریظہ، بنو نضیر کا جو مقدمہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش ہوا تھا وہ بنو نضیر نے اپنی قوت و شوکت کے بل بوتہ پر بنو قریظہ کو اس پر مجبور کر رکھا تھا کہ بنو نضیر کے کسی آدمی کو ان کا آدمی قتل کر دے تو اس کا قصاص بھی جان کے بدلے جان سے لیا جائے اور اس کے علاوہ خون بہا یعنی دیت بھی لی جائے، اور اگر معاملہ برعکس ہو کہ بنو نضیر کا آدمی بنو قریضہ کے آدمی کو مار ڈالے تو کوئی قصاص نہیں، صرف دیت یعنی خون بہا دیا جائے وہ بھی بنو نضیر سے آدھا۔- اس آیت میں حق تعالیٰ نے ان لوگوں کی اس چوری کا پردہ چاک کردیا کہ خود توراة میں بھی قصاص اور دیت کی مساوات کے احکام موجود ہیں یہ لوگ جان بوجھ کر ان سے روگردانی کرتے ہیں، اور محض حیلہ جوئی کے لئے اپنا مقدمہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لاتے ہیں۔- آخر آیت میں ارشاد فرمایا : وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ ، یعنی جو اللہ کے نازل کردہ احکام پر حکم نہ دیں وہ ظالم ہیں، کیونکہ احکام خداوندی کے منکر اور باغی ہیں، تیسری آیت میں اول حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت کا ذکر ہے کہ وہ پچھلی کتاب یعنی توریت کی تصدیق کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے، پھر انجیل کا ذکر ہے کہ وہ بھی توریت کی طرح ہدایت اور نور ہے۔

Al-Maaida 5:45Listen in Qur'an →
46

وَقَفَّيْنَا عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِم بِعِيسَى ٱبْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًۭا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ ٱلتَّوْرَىٰةِ ۖ وَءَاتَيْنَٰهُ ٱلْإِنجِيلَ فِيهِ هُدًۭى وَنُورٌۭ وَمُصَدِّقًۭا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ ٱلتَّوْرَىٰةِ وَهُدًۭى وَمَوْعِظَةًۭ لِّلْمُتَّقِينَ

اور ان پیغمبروں کے بعد انہی کے قدموں پر ہم نے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرتے تھے اور ان کو انجیل عنایت کی جس میں ہدایت اور نور ہے اور تورات کی جو اس سے پہلی کتاب (ہے) تصدیق کرتی ہے اور پرہیزگاروں کو راہ بتاتی اور نصیحت کرتی ہے

Explained together with ayah 45

Al-Maaida 5:46Listen in Qur'an →
47

وَلْيَحْكُمْ أَهْلُ ٱلْإِنجِيلِ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فِيهِ ۚ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْفَٰسِقُونَ

اور اہل انجیل کو چاہیئے کہ جو احکام خدا نے اس میں نازل فرمائے ہیں اس کے مطابق حکم دیا کریں اور جو خدا کے نازل کئے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے گا تو ایسے لوگ نافرماں ہیں

چوتھی آیت میں ارشاد فرمایا کہ اہل انجیل کو چاہیے کہ جو قانون اللہ تعالیٰ نے انجیل میں نازل فرمایا ہے اس کے مطابق احکام نافذ کریں۔ اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکام کے خلاف حکم جاری کریں وہ نافرمان اور سرکش ہیں۔

Al-Maaida 5:47Listen in Qur'an →
48

وَأَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ بِٱلْحَقِّ مُصَدِّقًۭا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ ٱلْكِتَٰبِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ ۖ فَٱحْكُم بَيْنَهُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ ٱلْحَقِّ ۚ لِكُلٍّۢ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةًۭ وَمِنْهَاجًۭا ۚ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةًۭ وَٰحِدَةًۭ وَلَٰكِن لِّيَبْلُوَكُمْ فِى مَآ ءَاتَىٰكُمْ ۖ فَٱسْتَبِقُوا۟ ٱلْخَيْرَٰتِ ۚ إِلَى ٱللَّهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًۭا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ

اور (اے پیغمبر!) ہم نے تم پر سچی کتاب نازل کی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ان (سب) پر شامل ہے تو جو حکم خدا نے نازل فرمایا ہے اس کے مطابق ان کا فیصلہ کرنا اور حق جو تمہارے پاس آچکا ہے اس کو چھوڑ کر ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا ہم نے تم میں سے ہر ایک (فرقے) کے لیے ایک دستور اور طریقہ مقرر کیا ہے اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ایک ہی شریعت پر کر دیتا مگر جو حکم اس نے تم کو دیئے ہیں ان میں وہ تمہاری آزمائش کرنی چاہتا ہے سو نیک کاموں میں جلدی کرو تم سب کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے پھر جن باتوں میں تم کو اختلاف تھا وہ تم کو بتا دے گا

قرآن تورات و انجیل کا بھی محافظ ہے - پانچویں اور چھٹی آیات میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب ہے کہ ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرآن نازل کیا جو اپنے سے پہلی کتابوں تورات و انجیل کی تصدیق بھی کرتا ہے۔ اور ان کا محافظ بھی ہے، کیونکہ جب اہل تورات نے تورات میں اور اہل انجیل نے انجیل میں تحریف اور تغیر و تبدل کیا تو قرآن ہی وہ محافظ و نگران ثابت ہوا جس نے ان کی تحریفات کا پردہ چاک کرکے حق اور حقیقت کو روشن کردیا اور تورات و انجیل کی اصلی تعلیمات آج بھی قرآن ہی کے ذریعہ دنیا میں باقی ہیں جبکہ ان کتابوں کے وارثوں اور ان کی پیروی کے مدعیوں نے ان کا حلیہ ایسا بگاڑ دیا ہے، کہ حق و باطل کا امتیاز ناممکن ہوگیا جو اہل تورات اور اہل انجیل کو دیا گیا تھا کہ آپ کے احکام اور فیصلے سب اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق ہونے چاہئیں۔ اور یہ لوگ جو آپ سے اپنی خواہشات کے مطابق فیصلہ کرانا چاہتے ہیں، ان کے مکر سے باخبر رہیں۔ اس ارشاد کی ایک خاص وجہ یہ تھی کہ یہود کے چند علماء آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہم یہود کے علماء اور پیشوا ہیں، اگر ہم مسلمان ہوگئے تو وہ بھی سب مسلمان ہوجائیں گے۔ حق تعالیٰ نے اس پر متنبہ فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان لوگوں کے مسلمان ہوجانے کے پیش نظر عدل و انصاف اور اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قانون کے خلاف فیصلہ ہرگز نہ دیں۔ اور اس کی پرواہ نہ کریں کہ یہ مسلمان ہوں گے یا نہیں۔- شرائع انبیاء میں جزوی اختلاف اور اس کی حکمت - اس آیت میں دوسری ہدایت کے ساتھ ایک اہم اصولی سوال کا جواب بھی بیان فرمایا گیا ہے وہ یہ کہ جب تمام انبیاء (علیہم السلام) اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں، اور ان پر نازل ہونے والی کتابیں اور صحیفے اور ان کی شریعتیں سب اللہ جل شانہ کی ہی طرف سے ہیں، تو پھر ان کی کتابوں اور شریعتوں میں اختلاف کیوں ہے ؟ اور آنے والی شریعت و کتاب پچھلی شریعت و کتاب کو منسوخ کیوں کرتی ہے، اس کا جواب مع حکمت خدا وندی کے اس آیت میں بیان کیا گیا : لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا ۭوَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰكِنْ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰتِ ، یعنی ہم نے تم میں سے ہر طبقہ کے لئے ایک خاص شریعت اور خاص طریق عمل بنایا ہے، جس میں اصول مشترک اور متفق علیہ ہونے کے باوجود فروعی احکام میں کچھ اختلافات بمصلحت ہوتے ہیں، اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اس کے لئے کچھ مشکل نہ تھا کہ تم سب کو ایک ہی امت ایک ہی ملت بنا دیتا، سب کی ایک ہی کتاب ایک ہی شریعت ہوتی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو اس لئے پسند نہیں کیا کہ لوگوں کی آزمائش مقصود تھی کہ کون لوگ ہیں جو عبادت کی حقیقت سے واقف ہو کر ہر وقت گوش برآواز رہتے ہیں کہ جو حکم ملے اس کی تعمیل کریں، جو نئی کتاب یا شریعت آئے اس کا اتباع کریں، اور پہلی شریعت و کتاب ان کو کتنی محبوب ہو، اور آبائی مذہب ہوجانے کے سبب اس کا ترک کرنا ان پر کتنا ہی شاق ہو، مگر وہ ہر وقت گوش برآواز اطاعت کے لئے تیار رہتے ہیں، اور کون ہیں جو اس حقیقت سے غافل ہو کر کسی خاص شریعت یا کتاب کو مقصد بنا بیٹھے اور اس کو ایک آبائی مذہب کی حیثیت سے لئے ہوئے ہیں اس کے خلاف کسی حکم خداوندی پر کان نہیں دھرتے۔- اختلاف شرائع میں یہ ایک بڑی حکمت ہے جس کے ذریعہ ہر زمانے ہر طبقہ کے لوگوں کو صحیح عبادت و عبودیت کی حقیقت سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ درحقیقت عبادت نام ہے بندگی اور اطاعت و پیروی کا جو نماز، روزہ، حج، زکوٰة یا ذکر و تلاوت میں منحصر نہیں اور نہ یہ چیزیں اپنی ذات میں مقاصد ہیں، بلکہ ان سب کا مقصد صرف ایک حکم الٓہی کی اطاعت ہے، یہی وجہ ہے کہ جن اوقات میں نماز کی ممانعت فرمائی گئی ہے، ان …

Al-Maaida 5:48Listen in Qur'an →
49

وَأَنِ ٱحْكُم بَيْنَهُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَآءَهُمْ وَٱحْذَرْهُمْ أَن يَفْتِنُوكَ عَنۢ بَعْضِ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ إِلَيْكَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَٱعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُصِيبَهُم بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ ۗ وَإِنَّ كَثِيرًۭا مِّنَ ٱلنَّاسِ لَفَٰسِقُونَ

اور (ہم پھر تاکید کرتے ہیں کہ) جو (حکم) خدا نے نازل فرمایا ہے اسی کے مطابق ان میں فیصلہ کرنا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اور ان سے بچتے رہنا کہ کسی حکم سے جو خدا نے تم پر نازل فرمایا ہے یہ کہیں تم کو بہکانہ دیں اگر یہ نہ مانیں تو جان لو کہ خدا چاہتا ہے کہ ان کے بعض گناہوں کے سبب ان پر مصیبت نازل کرے اور اکثر لوگ تو نافرمان ہیں

Explained together with ayah 48

Al-Maaida 5:49Listen in Qur'an →
50

أَفَحُكْمَ ٱلْجَٰهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ ٱللَّهِ حُكْمًۭا لِّقَوْمٍۢ يُوقِنُونَ

کیا یہ زمانہٴ جاہلیت کے حکم کے خواہش مند ہیں؟ اور جو یقین رکھتے ہیں ان کے لیے خدا سے اچھا حکم کس کا ہے؟

Explained together with ayah 48

Al-Maaida 5:50Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.