Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 11–20 of 120

11

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ هَمَّ قَوْمٌ أَن يَبْسُطُوٓا۟ إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ فَكَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنكُمْ ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ

اے ایمان والو! خدا نے جو تم پر احسان کیا ہے اس کو یاد کرو۔ جب ایک جماعت نے ارادہ کیا کہ تم پر دست درازی کریں تو اس نے ان کے ہاتھ روک دیئے اور خدا سے ڈرتے رہوں اور مومنو کو خدا ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے

خلاصہ تفسیر - اے ایمان والو اللہ تعالیٰ کے انعام کو یاد کرو جو تم پر ہوا ہے، جب کہ ایک قوم (یعنی کفار قریش ابتدائے اسلام میں جب کہ مسلمان ضعیف تھے) اس فکر میں تھے کہ تم پر (اس طرح) دست درازی کریں (کہ تمہارا خاتمہ ہی کردیں) سو اللہ تعالیٰ نے ان کا قابو تم پر (اس قدر) نہ چلنے دیا (اور آخر میں تم کو غالب کردیا۔ پس اس نعمت کو یاد کرو) اور (احکام کے امتثال میں) اللہ تعالیٰ سے ڈرو (کہ اس نعمت کا یہ شکریہ ہے) اور (آئندہ بھی) اہل ایمان کو حق تعالیٰ پر اعتماد رکھنا چاہیے (جس نے پہلے تمہارے سب کام بنائے ہیں آئندہ بھی آخرت تک امید رکھو اتقوا اللہ میں خوف دلایا اور امر بالتوکل میں امید اور یہی دو عمل معین امتثال ہیں) اور اللہ تعالیٰ نے (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واسطے سے) بنی اسرائیل سے (بھی) عہد لیا تھا (جس کا بیان عنقریب آتا ہے) اور (ان عہود کی تاکید کے لئے) ہم نے ان میں سے (موافق عدد ان کے قبائل کے) بارہ سردار مقرر کئے (کہ ہر ہر قبیلہ پر ایک ایک سردار رہے جو اپنے ماتحتوں پر ہمیشہ ایفاء عہود کی تاکید رکھے) اور (مزید تاکید عہد کے لئے ان سے) اللہ تعالیٰ نے یوں (بھی) فرمایا دیا کہ میں تمہارے پاس ہوں (تمہارے برے بھلے کی سب مجھ کو خبر رہے گی، مطلب یہ ہے کہ عہد لیا پھر اس کی تاکید در تاکید فرمائی اور اس عہد کا خلاصہ مضمون یہ تھا کہ) اگر تم نماز کی پابندی رکھو گے اور زکوٰة ادا کرتے رہو گے اور میرے سب رسولوں پر (جو آئندہ بھی نئے نئے آتے رہیں گے) ایمان لاتے رہو گے اور (دشمنوں کے مقابلہ میں) ان کی مدد کرتے رہو گے اور (علاوہ زکوٰة کے اور مصارف خیر میں بھی صرف کرکے) اللہ تعالیٰ کو اچھے طور پر (یعنی اخلاص کے ساتھ) قرض دیتے رہو گے تو میں ضرور تمہارے گناہ تم سے دور کر دوں گا اور ضرور تم کو (بہشت کے) ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے (محلات کے) نیچے نہریں جاری ہوں گی اور جو شخص اس (عہد و پیمان لینے) کے بعد بھی کفر کرے گا تو وہ بیشک راہ راست سے دور جا پڑا۔- معارف و مسائل - سورة مائدہ کی ساتویں آیت جو پہلے گزر چکی ہے، اس میں حق تعالیٰ نے مسلمانوں سے ایک عہد و میثاق لینے اور ان کے ماننے اور تسلیم کرلینے کا ذکر فرمایا ہے۔ واذکروا نعمة اللّٰہ علیکم ومیثاقہ تا واتقوا اللّٰہ۔ یہ میثاق خدا اور رسول کی اطاعت اور احکام شرعیہ کے اتباع کا میثاق ہے۔ جس کا اصطلاحی عنوان کلمہ لا اللّٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ ہے۔ اور ہر کلمہ گو مسلمان اس میثاق کا پابند ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں میثاق کی بعض اہم دفعات یعنی خاص خاص احکام شرعیہ کا بیان فرمایا ہے جس میں دوست دشمن سب کے لئے عدل و انصاف اور رواداری کی تعلیم دی گئی ہے۔ یہ میثاق خود بھی اللہ تعالیٰ کا ایک بڑا انعام ہے، اسی لئے اس کو اذکرو نعمۃ اللہ سے شروع کیا گیا ہے۔- آیت مذکورہ کو پھر اسی جملہ اذکروا نعمت اللّٰہ علیکم سے شروع کرکے یہ بتلانا منظور ہے کہ مسلمانوں نے اپنے اس عہد و میثاق کی پابندی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا و آخرت میں قوت و بلندی اور درجات عالیہ عطاء فرمائے اور دشمنوں کے ہر مقابلہ میں ان کی امداد فرمائی۔ دشمنوں کا قابو ان پر نہ چلنے دیا۔- اس آیت میں خاص طور پر اس کا ذکر ہے کہ دشمنوں نے بارہا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کے مٹا دینے اور قتل و غارت کردینے کے منصوبے بنائے اور تیاریاں کیں، مگر اللہ تعالیٰ نے سب کو خائب و خاسر کردیا۔ ارشاد ہے کہ ” ایک قوم اس فکر میں تھی کہ تم پر دست درازی کرے، مگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ہاتھ تم سے روک دیئے “۔- مجموعی حیثیت سے تو ایسے واقعات تاریخ اسلام میں بیشمار ہیں کہ کفار کے منصوبے فضل خداوندی سے خاک میں مل گئے۔ لیکن بعض خاص خاص اہم واقعات بھی ہیں جن کو حضرات مفسرین نے اس آیت کا مصداق قرار دیا ہے۔ مثلاً مسند الرزاق میں حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ …

Al-Maaida 5:11Listen in Qur'an →
12

۞ وَلَقَدْ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَٰقَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ ٱثْنَىْ عَشَرَ نَقِيبًۭا ۖ وَقَالَ ٱللَّهُ إِنِّى مَعَكُمْ ۖ لَئِنْ أَقَمْتُمُ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَيْتُمُ ٱلزَّكَوٰةَ وَءَامَنتُم بِرُسُلِى وَعَزَّرْتُمُوهُمْ وَأَقْرَضْتُمُ ٱللَّهَ قَرْضًا حَسَنًۭا لَّأُكَفِّرَنَّ عَنكُمْ سَيِّـَٔاتِكُمْ وَلَأُدْخِلَنَّكُمْ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ ۚ فَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ مِنكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ

اور خدا نے بنی اسرائیل سے اقرار لیا اور ان میں ہم نے بارہ سردار مقرر کئے پھر خدا نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں اگر تم نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے رہو گے اور میرے پیغمبروں پر ایمان لاؤ گے اور ان کی مدد کرو گے اور خدا کو قرض حسنہ دو گے تو میں تم سے تمہارے گناہ دور کر دوں گا اور تم کو بہشتوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں پھر جس نے اس کے بعد تم میں سے کفر کیا وہ سیدھے رستے سے بھٹک گیا

اس آیت میں مسلمانوں سے عہد و میثاق لینے اور ان کے ایفاء عہد پر دنیا و آخرت میں اس کے بیش بہا نتائج کا ذکر کرنے کے بعد معاملہ کا دوسرا رخ سامنے لانے کے لئے دوسری آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ یہ عہد و میثاق لینا صرف مسلمانوں کے لئے مخصوص نہیں، بلکہ ان سے پہلے دوسری امتوں سے بھی اسی قسم کے میثاق لئے گئے تھے۔ مگر وہ اپنے عہد و میثاق میں پورے نہ اترے۔ اس لئے ان پر طرح طرح کے عذاب مسلط کئے گئے۔ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے بھی ایک عہد لیا تھا۔ اور ان سے عہد لینے کی یہ صورت اختیار کی گئی تھی کہ پوری قوم بنی اسرائیل جو بارہ خاندانوں پر مشتمل تھی انہیں سے ہر خاندان سے ایک سردار چنا گیا، اور ہر خاندان کی طرف سے اس کے سردار نے ذمہ داری اٹھائی کہ میں اور میرا پورا خاندان اس میثاق الہٰی کی پابندی کرے گا۔ اس طرح ان بارہ سرداروں نے پوری قوم بنی اسرائیل کی ذمہ داری لے لی۔ ان کے ذمہ یہ تھا کہ خود بھی اس میثاق کی پابندی کریں اور اپنے خاندان سے بھی کرائیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عزت و فضیلت کے معاملہ میں اسلام کا اصل اصول تو یہ ہے کہ - بندہ عشق شدی ترک نسب کن جامی - کہ دریں راہ فلاں بن فلاں چیزے نیست - رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجة الوداع کے تاریخی خطبہ میں پوری وضاحت کے ساتھ اس کا اعلان فرمادیا ہے کہ اسلام میں عرب و عجم، کالے گورے اور اونچی نیچی ذات، پات کا کوئی اعتبار نہیں۔ جو اسلام میں داخل ہوگیا وہ سارے مسلمانوں کا بھائی ہوگیا۔ حسب، نسب، رنگ، وطن، زبان کے امتیازات جو جاہلیت کے بت تھے ان سب کو اسلام نے توڑ ڈالا، لیکن اس کے معنیٰ یہ نہیں کہ انتظامی معاملات میں نظم قائم رکھنے کے لئے بھی خاندانی خصوصیات کا لحاظ نہ کیا جائے۔ یہ فطری امر ہے کہ ایک خاندان کے لوگ اپنے خاندان کے جانے پہچانے آدمی پر بہ نسبت دوسروں کے زیادہ اعتماد کرسکتے ہیں۔ اور یہ شخص ان کی پوری نفسیات سے واقف ہونے کی بنا پر ان کے جذبات و خیالات کی زیادہ رعایت کرسکتا ہے۔ اسی حکمت عملی پر مبنی تھا کہ بنی اسرائیل کے بارہ خاندانوں سے جب عہد لیا گیا تو ہر خاندان کے ایک ایک سردار کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔- اور اسی انتظامی مصلحت اور مکمل اطمینان و سکون کی رعایت اس وقت بھی کی گئی جب کہ قوم بنی اسرائیل پانی نہ ہونے کی وجہ سے سخت اضطراب میں تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی اور بح کے لئے علیحدہ علیحدہ جاری کر دئے۔- سورة اعراف میں قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کے اس احسان عظیم کا اس طرح ذکر فرمایا ہے :۔- وقطعنہم اثنتی عشرة اسباطا امما اور فانبجست منہ اثنتا عشرة عینا - ہم نے بانٹ دیئے ان کے بارہ خاندان بارہ جماعتوں میں۔ پھر پھوٹ نکلے پتھر سے بارہ چشمے (ہر ایک خاندان کے لئے جدا جدا) ۔- اور یہ بارہ کا عدد بھی کچھ عجیب خصوصیات اور مقبولیت رکھتا ہے۔- جس وقت انصار مدینہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مدینہ کے لئے دعوت دینے کے لیے حاضر ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے بذریعہ بیعت معاہدہ لیا تو اس معاہدہ میں بھی انصار کے بارہ سرداروں نے ذمہ داری لے کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست مبارک پر بیعت کی تھی ان میں تین سردار قبیلہ اوس کے اور نو قبیلہ خزرج کے تھے (ابن کثیر) ۔- اور صحیحین میں حضرت جابر بن سمرة (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ لوگوں کا کام اور نظام اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک کہ بارہ خلیفہ ان کی قیادت کریں گے۔ امام ابن کثیر نے اس روایت کو نقل کرکے فرمایا کہ اس حدیث کے کسی لفظ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ بارہ امام یکے بعد دیگرے مسلسل ہوں گے۔ بلکہ ان کے درمیان فاصلہ بھی ہوسکتا ہے۔ چناچہ چار خلفاء صدیق اکبر، فاروق اعظم، عثمان غنی، علی المرتضیٰ (رض) مسلسل ہوئے اور درمیان کی کچھ مدت کے بعد پھر …

Al-Maaida 5:12Listen in Qur'an →
13

فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَٰقَهُمْ لَعَنَّٰهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَٰسِيَةًۭ ۖ يُحَرِّفُونَ ٱلْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِۦ ۙ وَنَسُوا۟ حَظًّۭا مِّمَّا ذُكِّرُوا۟ بِهِۦ ۚ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَىٰ خَآئِنَةٍۢ مِّنْهُمْ إِلَّا قَلِيلًۭا مِّنْهُمْ ۖ فَٱعْفُ عَنْهُمْ وَٱصْفَحْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُحْسِنِينَ

تو ان لوگوں کے عہد توڑ دینے کے سبب ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا یہ لوگ کلمات (کتاب) کو اپنے مقامات سے بدل دیتے ہیں اور جن باتوں کی ان کو نصیحت کی گئی تھی ان کا بھی ایک حصہ فراموش کر بیٹھے اور تھوڑے آدمیوں کے سوا ہمیشہ تم ان کی (ایک نہ ایک) خیانت کی خبر پاتے رہتے ہو تو ان کی خطائیں معاف کردو اور (ان سے) درگزر کرو کہ خدا احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

خلاصہ تفسیر - (لیکن بنی اسرائیل نے عہد مذکورہ کو توڑا ڈالا، اور توڑنے کے بعد طرح طرح کے عقوبات میں جیسے مسخ اور ذلت وغیرہ گرفتار ہوئے۔ پس یہ جو ان کو عنایت و الطاف الہیہ سے بعد ہوا) تو صرف ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت (یعنی اس کے آثار) سے دور کردیا (اور یہی حقیقت ہے لعنت کی) اور (اسی لعنت کے آثار سے یہ ہے کہ) ہم نے ان کے قلوب کو سخت کردیا (کہ حق بات کا ان پر اثر ہی نہیں ہوتا اور اس سخت دلی کے آثار سے یہ ہے کہ) وہ لوگ (یعنی ان میں کے علماء) کلام (الہٰی یعنی توریت) کو اس کے (الفاظ یا مطالب کے) مواقع سے بدلتے ہیں (یعنی تحریف لفظی یا تحریک معنوی کرتے ہیں) اور (اس تحریف کا اثر یہ ہوا کہ) وہ لوگ جو کچھ ان کو (توریت میں) نصیحت کی گئی تھی اس میں سے اپنا ایک بڑا حصہ (نفع کا جو کہ ان کو عمل کرنے سے نصیب ہوتا) فوت کر بیٹھے (کیونکہ زیادہ مشق ان کی اس تحریف کے مضامین متعلقہ بتصدیق رسالت محمدیہ میں ہوتی تھی، اور ظاہر ہے کہ ایمان سے زیادہ بڑا حصہ کیا ہوگا۔ غرض نقض میثاق پر لعنت مرتب ہوئی اور لعنت پر قساوت وغیرہ اور قساوت پر تحریف اور تحریف پر فوت حظ عظیم اور وجہ ترتیب ظاہر ہے) اور (پھر یہ بھی کہ جتنا کرچکے اس پر بس کریں بلکہ حالت یہ ہے کہ) آپ کو آئے دن (یعنی ہمیشہ دین کے باب میں) کسی نہ کسی (نئی) خیانت کی اطلاع ہوتی رہتی ہے جو ان سے صادر ہوتی رہتی ہے بجز ان کے معدو دے چند شخصوں کے (جو کہ مسلمان ہوگئے تھے) سو آپ ان کو معاف کیجئے اور ان سے درگزر کیجئے (یعنی جب تک شرعی ضرورت نہ ہو۔ ان کی خیانتوں کا اظہار اور ان کو فضیحت نہ کیجئے) بلاشبہ اللہ تعالیٰ خوش معاملہ لوگوں سے محبت کرتا ہے (اور بلا ضرورت فضیحت نہ کرنا خوشی معاملگی ہے) اور جو لوگ (نصرت دین کے دعوے سے) کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ ہم نے ان سے بھی ان کا عہد (مثل عہد یہود کے) لیا تھا، سو وہ بھی جو کچھ ان کو (انجیل وغیرہ میں) نصیحت کی گئی تھی اس میں سے اپنا ایک بڑا حصہ (نفع کا جو کہ ان کو عمل کرنے سے نصیب ہوتا) فوت کر بیٹھے (کیونکہ وہ امر جس کو فوت کر بیٹھے توحید ہے اور ایمان ہے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جس کا حکم ان کو بھی ہوا تھا اور اس کا حظ عظیم ہونا ظاہر ہے جب توحید کو چھوڑ بیٹھے) تو ہم نے ان میں باہم قیامت تک کے لئے بغض و عداوت ڈال دیا (یہ تو دنیوی عقوبت ہوئی) اور عنقریب (آخرت میں) کہ وہ بھی قریب ہی ہے، ان کو اللہ تعالیٰ ان کا کیا ہوا جتلا دیں گے (پھر سزا دیں گے) ۔- معارف و مسائل - آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ بنی اسرائیل نے اپنی بدبختی سے ان واضح ہدایات پر کان نہ دھرے اور میثاق کی مخالفت کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا کردیا۔- بنی اسرائیل پر ان کی بدعملی اور سرکشی کی سزا میں دو طرح کے عذاب آئے۔ ایک ظاہری اور محسوس جیسے پتھراؤ یا زمین کا تختہ الٹ دینا وغیرہ۔ جن کا ذکر قرآن کریم کی آیات میں مختلف مقامات پر آیا ہے۔- دوسری قسم عذاب کی معنوی اور روحانی ہے کہ سرکشی کی سزا میں ان کے دل و دماغ مسخ ہوگئے۔ ان میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہ رہی۔ وہ اپنے گناہوں کے وبال میں مزید گناہوں میں مبتلا ہوتے چلے گئے۔- ارشاد ہے : فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِـيَةً ۚ۔ یعنی ہم نے ان کے بدعہدی اور میثاق کی خلاف ورزی کی سزا میں ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا، اور ان کے دلوں کو سخت کردیا کہ اب ان میں کسی چیز کی گنجائش نہ رہی۔ اسی رحمت سے دوری اور دلوں کی سختی کو قرآن کریم نے سورة مطففین میں ران کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے : کلا بل ران علی قلوبھم ماکانوا یکسبون یعنی قرآنی آیات بینات اور کھلی ہوئی نشانیوں سے انکار کی وجہ یہ ہے کہ ان کے دلوں پر ان کے گناہوں کی وجہ سے زنگ بیٹھ گیا ہے۔- رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) …

Al-Maaida 5:13Listen in Qur'an →
14

وَمِنَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّا نَصَٰرَىٰٓ أَخَذْنَا مِيثَٰقَهُمْ فَنَسُوا۟ حَظًّۭا مِّمَّا ذُكِّرُوا۟ بِهِۦ فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ ٱلْعَدَاوَةَ وَٱلْبَغْضَآءَ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ ۚ وَسَوْفَ يُنَبِّئُهُمُ ٱللَّهُ بِمَا كَانُوا۟ يَصْنَعُونَ

اور جو لوگ (اپنے تئیں) کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ہم نے ان سے بھی عہد لیا تھا مگر انہوں نے بھی اس نصیحت کا جو ان کو کی گئی تھی ایک حصہ فراموش کر دیا تو ہم نے ان کے باہم قیامت تک کے لیے دشمنی اور کینہ ڈال دیا اور جو کچھ وہ کرتے رہے خدا عنقریب ان کو اس سے آگاہ کرے گا

(آیت) وَمِنَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰٓى اَخَذْنَا مِيْثَاقَهُمْ ۔ اس آیت سے پہلی آیت میں یہود کی عہد شکنی اور عذاب کا ذکر تھا، اس آیت میں کچھ نصاریٰ کا حال بیان فرمایا ہے۔- عیسائی فرقوں میں باہمی عداوت - اس آیت میں حق تعالیٰ نے عیسائیوں کی عہد شکنی کی یہ سزا بیان کی ہے کہ ان کے آپس میں افتراق اور بغض و عداوت ڈال دیا گیا جو قیامت تک چلتا رہے گا۔- اس پر آج کل کے عیسائیوں کے حالات سے یہ شبہ پیدا ہوسکتا ہے کہ وہ تو سب باہم متحد نظر آتے ہیں۔ جواب یہ ہے کہ یہ حال ان لوگوں کا بیان کیا گیا ہے جو واقعی عیسائی ہیں۔ اور عیسائی مذہب کے پابند ہیں اور جو خود اپنے مذہب کو بھی چھوڑ کر دہریئے بن گئے۔ وہ درحقیقت عیسائیوں کی فہرست سے خارج ہیں چاہے وہ قومی طور پر اپنے آپ کو عیسائی کہتے ہوں۔ ایسے لوگوں میں اگر وہ مذہبی افتراق اور باہمی عداوت نہ ہو تو وہ اس آیت کے منافی نہیں۔ کیونکہ افتراق و اختلاف تو مذہب کی بنیاد پر تھا، جب مذہب ہی نہ رہا تو اختلاف بھی نہ رہا اور آیت میں بیان ان لوگوں کا ہے جو مذہباً نصاریٰ اور عیسائی ہیں ان کا اختلاف و افتراق مشہور و معروف ہے۔- حاشیہ بیضاوی میں تیسیر سے نقل کیا ہے کہ نصاریٰ میں اصل تین فرقے تھے، ایک فسطوریہ جو عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے تھے۔ دوسرا یعقوبیہ جو خود عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کے ساتھ متحد مانتے تھے۔ تیسرا ملکائیہ جو عیسیٰ (علیہ السلام) کو تین خداؤں میں سے ایک مانتے تھے۔ اور ظاہر ہے کہ اتنے بڑے اختلاف عقائد کے ساتھ باہم عداوت ضروری ہے۔

Al-Maaida 5:14Listen in Qur'an →
15

يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًۭا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ ٱلْكِتَٰبِ وَيَعْفُوا۟ عَن كَثِيرٍۢ ۚ قَدْ جَآءَكُم مِّنَ ٱللَّهِ نُورٌۭ وَكِتَٰبٌۭ مُّبِينٌۭ

اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے

خلاصہ تفسیر - اے اہل کتاب (یعنی یہود و نصاریٰ ) تمہارے پاس ہمارے یہ رسول (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے ہیں (جن کے کمال علمی کا تو یہ حال ہے کہ) کتاب (کے مضامین) سے جن چیزوں کو تم چھپالیتے ہو، ان میں سے بہت سی باتوں کو (جن کے اظہار میں کوئی شرعی مصلحت ہو ظاہراً تحصیل علوم نہ فرمانے کے باوجود خالص وحی کے ذریعہ واقف ہوکر) تمہارے سامنے صاف صاف کھول دیتے ہیں اور (کمال علمی و اخلاقی کا یہ عالم ہے کہ جن چیزوں کو تم نے چھپالیا تھا ان میں سے) بہت سے امور کو (جاننے اور باخبر ہونے کے باوجود اخلاقاً ان کے اظہار سے) درگزر فرماتے ہیں (جبکہ ان کے اظہار میں کوئی شرعی مصلحت نہ ہو، صرف تمہاری رسوائی ہی ہوتی ہو۔ اور یہ کمال علمی دلیل نبوت ہے اور کمال اخلاقی اس کا مؤ ید اور مؤ کد ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دوسرے معجزات کے علاوہ خود تمہارے ساتھ آپ کا یہ برتاؤ آپ کی نبوت ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔ اور اسی رسول کے ذریعہ) تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشن چیز آئی ہے اور (وہ) ایک کتاب واضح (ہے) کہ اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جو رضائے حق کے طالب ہوں۔ سلامتی کی راہیں بتلاتے ہیں (یعنی جنت میں جانے کے طریقے جو خاص عقائد و اعمال ہیں تعلیم فرماتے ہیں کیونکہ در حقیقت مکمل سلامتی تو جنت ہی میں ہو سکتی ہے کہ نہ اس میں کوئی کمی ہوتی ہے اور نہ زوال کا خطرہ) اور ان کو اپنی توفیق سے (کفر و معصیت کی) تاریکیوں سے نکال کر (ایمان و اطاعت کے) نور کی طرف لے آتے ہیں اور ان کو (ہمیشہ) راہ راست پر قائم رکھتے ہیں۔ بلاشبہ وہ لوگ کافر ہیں جو یوں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عین مسیح بن مریم ہے، آپ ان سے یوں پوچھئے کہ اگر ایسا ہے تو بتلاؤ کہ اگر اللہ تعالیٰ مسیح بن مریم (جن کو تم اللہ کا عین سمجھتے ہو) اور ان کی اولاد (حضرت مریم) کو اور جتنے زمین میں آباد ہیں۔ ان سب کو (موت سے) ہلاک کرنا چاہیں تو (کیا) کوئی شخص ایسا ہے جو خدا تعالیٰ سے ذرا بھی ان کو بچا سکے۔ (یعنی اتنی بات کو تو تم بھی مانتے ہو کہ ان کو ہلاک کرنا اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہے، تو جس ذات کا ہلاک کرنا دوسرے کے قبضہ میں ہو وہ خدا کیسے ہوسکتا ہے۔ اس سے عقیدہ الوہیت مسیح کا باطل ہوگیا) اور (جو حقیقتا خدا اور سب کا معبود ہے یعنی) اللہ تعالیٰ (اس کی یہ شان ہے کہ اس) ہی کے لئے خاص ہے حکومت آسمانوں پر اور زمین پر اور جتنی چیزیں ان دونوں کے درمیان ہیں ان پر اور وہ جس چیز کو (جس طرح) چاہیں پیدا کردیں۔ اور اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر پوری قدرت ہے اور یہود و نصاریٰ (دونوں فریق) دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے محبوب ہیں۔ (مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہم چونکہ انبیاء کی اولاد ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ کے یہاں ہماری ایک خصوصیت ہے کہ ہم گناہ بھی کریں تو اس پر اتنی ناراضی نہیں ہوتی جتنی دوسروں پر ہوتی ہے جیسے باپ کو اپنے بیٹے کی نافرمانی پر اتنا اثر نہیں ہوتا، جتنا کسی غیر آدمی کے ایسے ہی فعل پر ہوتا ہے۔ ان کے اس خیال باطل کے ابطال کے لئے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب ہے کہ) آپ (ان سے) یہ پوچھئے کہ اچھا پھر تم کو تمہارے گناہوں کے عوض (آخرت میں) عذاب کیوں دیں گے (جس کے تم بھی قائل ہو جیسا کہ یہود کا قول تھا (آیت) لن تمسنا النار الا ایاما معدودة یعنی اگر ہمیں عذاب جہنم ہوا بھی تو چند روز ہی ہوگا اور خود حضرت مسیح (علیہ السلام) کا قول قرآن میں مذکور ہے۔ (آیت) انہ من یشرک باللّٰہ فقد حرم اللّٰہ علیہ الجنة۔ یعنی جس شخص نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کردیتے ہیں۔ جو بوجہ التزام کے مثل اقرار نصاریٰ کے ہے) ۔- خلاصہ یہ ہے کہ آخرت کے عذاب کا جب تمہیں خود بھی اقرار ہے تو یہ بتلاؤ کہ کیا کوئی باپ اپنے بیٹے یا محبوب کو عذاب بھی دیا کرتا ہے۔ اس لئے اپنے آپ کو …

Al-Maaida 5:15Listen in Qur'an →
16

يَهْدِى بِهِ ٱللَّهُ مَنِ ٱتَّبَعَ رِضْوَٰنَهُۥ سُبُلَ ٱلسَّلَٰمِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ بِإِذْنِهِۦ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ

جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے

Explained together with ayah 15

Al-Maaida 5:16Listen in Qur'an →
17

لَّقَدْ كَفَرَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْمَسِيحُ ٱبْنُ مَرْيَمَ ۚ قُلْ فَمَن يَمْلِكُ مِنَ ٱللَّهِ شَيْـًٔا إِنْ أَرَادَ أَن يُهْلِكَ ٱلْمَسِيحَ ٱبْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُۥ وَمَن فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًۭا ۗ وَلِلَّهِ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ

جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ عیسیٰ بن مریم خدا ہیں وہ بےشک کافر ہیں (ان سے) کہہ دو کہ اگر خدا عیسیٰ بن مریم کو اور ان کی والدہ کو اور جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کو ہلاک کرنا چاہے تو اس کے آگے کس کی پیش چل سکتی ہے؟ اور آسمان اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب پر خدا ہی کی بادشاہی ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

Explained together with ayah 15

Al-Maaida 5:17Listen in Qur'an →
18

وَقَالَتِ ٱلْيَهُودُ وَٱلنَّصَٰرَىٰ نَحْنُ أَبْنَٰٓؤُا۟ ٱللَّهِ وَأَحِبَّٰٓؤُهُۥ ۚ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُم بِذُنُوبِكُم ۖ بَلْ أَنتُم بَشَرٌۭ مِّمَّنْ خَلَقَ ۚ يَغْفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ ۚ وَلِلَّهِ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ وَإِلَيْهِ ٱلْمَصِيرُ

اور یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں کہو کہ پھر وہ تمہاری بداعمالیوں کے سبب تمھیں عذاب کیوں دیتا ہے (نہیں) بلکہ تم اس کی مخلوقات میں (دوسروں کی طرح کے) انسان ہو وہ جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب دے اور آسمان زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب پر خدا ہی کی حکومت ہے اور (سب کو) اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

Explained together with ayah 15

Al-Maaida 5:18Listen in Qur'an →
19

يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلَىٰ فَتْرَةٍۢ مِّنَ ٱلرُّسُلِ أَن تَقُولُوا۟ مَا جَآءَنَا مِنۢ بَشِيرٍۢ وَلَا نَذِيرٍۢ ۖ فَقَدْ جَآءَكُم بَشِيرٌۭ وَنَذِيرٌۭ ۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ

اے اہلِ کتاب پیغمبروں کے آنے کا سلسلہ جو (ایک عرصے تک) منقطع رہا تو (اب) تمہارے پاس ہمارے پیغمبر آ گئے ہیں جو تم سے (ہمارے احکام) بیان کرتے ہیں تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری یا ڈر سنانے والا نہیں آیا سو (اب) تمہارے پاس خوشخبری اور ڈر سنانے والے آ گئے ہیں اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

خلاصہ تفسیر - اے اہل کتاب تمہارے پاس یہ ہمارے رسول (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپہنچے جو کہ تم کو (شریعت کی باتیں) صاف صاف بتلاتے ہیں۔ ایسے وقت میں کہ رسولوں (کے آنے کا) سلسلہ (مدت سے) موقوف تھا (اور شرائع سابقہ مفقود اور گم ہوچکی تھیں اور انبیاء کا سلسلہ عرصہ دراز تک بند رہنے سے ان گم شدہ شرائع کے دوبارہ دریافت ہونے کا امکان بھی نہ رہا تھا۔ اس لئے اب کسی رسول کے آنے کی ضرورت شدید تھی تو ایسے وقت آپ کا تشریف لانا بڑی نعمت اور غنیمت سمجھنا چاہیے) تاکہ تم (قیامت میں) یوں نہ کہنے لگو (کہ دین کے معاملہ میں غلطی اور کوتاہی میں ہم اس لئے معزور ہیں کہ) ہمارے پاس (کوئی رسول جو کہ) بشیر اور نذیر (ہو جس سے ہم کو دین کا صحیح علم اور عمل پر ابھار پیدا ہوتا) نہیں آیا سو (اب اس عذر کی گنجائش نہیں رہی کیونکہ) تمہارے پاس بشیر و نذیر (یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آچکے ہیں (اب نہ مانو تو اپنے انجام کو خود سمجھ لو) اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتے ہیں (کہ جب چاہیں رحمت سے اپنے انبیاء بھیج دیں جب چاہیں حکمت سے ان کو روک لیں اس لئے کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ جب مدت دراز سے انبیاء کا سلسلہ بند ہے تو اب کوئی رسول نہیں آسکتا۔ کیونکہ یہ سلسلہ ایک مدت تک موقوف رکھنا حق تعالیٰ کی حکمت سے تھا، اس نے سلسلہ نبوت بند اور ختم کردینے کا کوئی اعلان اس وقت تک نہیں کیا تھا۔ بلکہ پچھلے تمام انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعہ یہ خبریں بھی دے دیتھیں کہ آخر زمانے میں ایک خاص رسول خاص شان اور خاص صفات کے ساتھ آنے والے ہیں۔ جن پر بنوت کا اختتام ہوگا۔ اس اعلان کے مطابق خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آئے۔ - معارف و مسائل - (آیت) علی فترة من الرسل۔ فترت کے لفظی معنی سست ہونے، ساکن ہونے اور کسی کام کو معطل اور بند کردینے کے آتے ہیں۔ اس آیت میں ائمہ تفسیر نے فترت کے یہی معنی بیان فرمائے ہیں۔ اور مراد اس سے کچھ عرصہ کے لئے سلسلہ نبوت و انبیاء بند رہنا ہے جو حضرت عیسیٰ کے بعد خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت تک کا زمانہ ہے۔- زمانہ فترت کی تحقیق - حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان ایک ہزار سات سو سال کا زمانہ ہے۔ اس تمام مدّت میں انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت کا سلسلہ برابر جاری رہا۔ اس میں کبھی فترت نہیں ہوئی۔ صرف بنی اسرائیل میں سے ایک ہزار انبیاء اس عرصہ میں مبعوث ہوئے۔ اور غیر بنی اسرائیل میں سے جو انبیاء ہوئے وہ ان کے علاوہ ہیں۔ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے درمیان صرف پانچ سو سال کا عرصہ ہے۔ اس میں سلسلہ انبیاء بند رہا، اسی لئے اس زمانہ کو زمانہ فترت کہا جاتا ہے۔ اس سے پہلے کبھی اتنا زمانہ انبیاء کی بعثت سے خالی نہیں رہا۔ (قرطبی مع ایضاح)- حضرت موسیٰ (علیہ السلام) و عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان کی مدّت، اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان کے درمیان کی مدت میں اور بھی مختلف روایات میں جن میں اس سے کم وبیش مدتیں بیان ہوئی ہیں۔ مگر اصل مقصد پر اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔ - امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے حضرت سلمان فارسی سے روایت کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ اور خاتم الانبیاء (علیہما السلام) کے درمیان کا زمانہ چھ سو سال کا تھا اور اس پوری مدت میں کوئی نبی مبعوث نہیں ہوئے جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے مشکوٰة شریف میں حدیث آئی ہے، جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انا اولی الناس بعیسیٰ ۔ یعنی میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ سب لوگوں سے زیادہ قریب ہوں اور اس کا مطلب آخر حدیث میں یہ بیان فرمایا، لیس بیننا نبی یعنی ہم دونوں کے درمیان کوئی …

Al-Maaida 5:19Listen in Qur'an →
20

وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِۦ يَٰقَوْمِ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَةَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنۢبِيَآءَ وَجَعَلَكُم مُّلُوكًۭا وَءَاتَىٰكُم مَّا لَمْ يُؤْتِ أَحَدًۭا مِّنَ ٱلْعَٰلَمِينَ

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ بھائیو تم پر خدا نے جو احسان کئے ہیں ان کو یاد کرو کہ اس نے تم میں پیغمبر پیدا کیے اور تمہیں بادشاہ بنایا اور تم کو اتنا کچھ عنایت کیا کہ اہل عالم میں سے کسی کو نہیں دیا

خلاصہ تفسیر۔- اور وہ وقت بھی ذکر کے قابل ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم (یعنی بنی اسرائیل) سے (اول ترغیب جہاد کی تمہید میں یہ) فرمایا کہ اے میری قوم تم اللہ تعالیٰ کے انعام کو جو کہ تم پر ہوا ہے، یاد کرو جب کہ اللہ تعالیٰ نے تم میں بہت سے پیغمبر بنائے (جیسے حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور حضرت یوسف (علیہ السلام) اور خود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) وغیرہم اور کسی قوم میں پیغمبروں کا ہونا ان کا دنیوی اور دینی شرف ہے۔ یہ تو نعمت معنوی دی) اور ( حسیِّ نعمت یہ دی کہ) تم کو صاحب ملک بنایا (چنانچہ فرعون کے ملک پر ابھی قابض ہوچکے ہو) اور تم کو (بعض بعض) وہ چیزیں دی ہیں جو دنیا جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دیں (جیسا دریا میں راستہ دینا دشمن کو عجیب طور پر غرق کرنا جس کے بعد دفعةً غایت ذلت و زحمت سے نہایت رفعت و راحت میں پہنچ گئے یعنی اس میں تم کو خاص امتیاز دیا پھر اس تمہید کے بعد اصلی مقصود کے ساتھ ان کو خطاب فرمایا کہ) اے قوم میری (ان نعمتوں اور احسانوں کا مقتضا یہ ہے کہ تم کو جو اس جہاد کے متعلق حکم خداوندی ہوا ہے اس پر آمادہ رہو اور) اس متبرک ملک (یعنی شام کے دار الحکومت) میں (جہاں یہ عمالقہ حکمران ہیں جہاد کے ارادہ سے) داخل ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے حصہ میں لکھ دیا ہے (اس لئے قصد کرتے ہی فتح ہوگی) اور پیچھے (وطن کی طرف) واپس مت چلو کہ پھر بالکل خسارہ میں پڑجاؤ گے (دنیا میں بھی کہ توسیع ملک سے محروم رہو گے اور آخرت میں کہ ترک فریضہ جہاد سے گنہگار رہو گے) ۔ کہنے لگے اے موسیٰ وہاں تو بڑے بڑے زبردست آدمی (رہتے) ہیں اور ہم تو وہاں پر ہرگز قدم نہ رکھیں گے۔ جب تک کہ وہ (کسی طرح) وہاں سے نہ نکل جائیں ہاں اگر وہ وہاں سے کہیں چلے جاویں تو ہم بیشک جانے کو تیار ہیں (موسیٰ (علیہ السلام) کی تائید قول کے لئے) ان دو شخصوں نے (بھی) جو کہ (اللہ سے) ڈرنے والوں (یعنی متقیوں) میں سے تھے (اور) جن پر اللہ تعالیٰ نے فضل کیا تھا (کہ اپنے عہد پر ثابت رہے تھے ان کم ہمتوں کو سمجھانے کے طور پر) کہا کہ تم ان پر (چڑھائی کرکے اس شہر کے) دروازہ تک تو چلو سو جس وقت تم دروازہ میں قدم رکھو گے اس وقت غالب آجاؤ گے (مطلب یہ ہے کہ جلدی فتح ہوجاوے گا، خواہ رعب سے بھاگ جائیں یا تھوڑا ہی مقابلہ کرنا پڑے) اور اللہ تعالیٰ پر نظر رکھو اگر تم ایمان رکھتے ہو (یعنی تم ان کی تنومندی پر نظر مت کرو مگر ان لوگوں پر فہمائش کا اصلاً اثر نہیں ہوا بلکہ ان دو بزرگوں کو تو انہوں نے قابل خطاب بھی نہ سمجھا بلکہ موسیٰ (علیہ السلام) سے نہایت لا ابالی پن اور گستاخی کے ساتھ) کہنے لگے کہ اے موسیٰ ہم تو (ایک بات کہہ چکے ہیں کہ ہم) ہرگز کبھی بھی وہاں قدم نہ رکھیں گے جب تک کہ وہ لوگ وہاں موجود ہیں (اگر ایسا ہی لڑنا ضرور ہے) تو آپ اور آپ کے اللہ میاں چلے جائیے اور دونوں (جاکر) لڑ بھڑ لیجئے ہم تو یہاں سے سرکتے نہیں (موسیٰ (علیہ السلام) نہایت زِچ اور پریشان ہوئے اور تنگ آکر) دعا کرنے لگے کہ اے میرے پروردگار (میں کیا کروں ان پر کچھ بس نہیں چلنا) ہاں اپنی جان پر اور اپنے بھائی پر البتہ (پورا) اختیار رکھتا ہوں کہ آپ ہم دونوں (بھائیوں) کے اور اس بےحکم قوم کے درمیان (مناسب) فیصلہ فرما دیجئے (یعنی جس کی حالت کا جو مقتضا ہو وہ ہر ایک کے لئے تجویز فرما دیجئے) ارشاد ہوا (بہتر) تو (ہم یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ) یہ ملک ان کے ہاتھ چالیس برس تک نہ لگے گا (اور گھر جانا بھی نصیب نہ ہوگا راستہ ہی نہ ملے گا) یوں ہی (چالیس برس تک) زمین میں سرمارتے پھریں گے (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جو یہ فیصلہ سنا جس کا گمان نہ تھا خیال یہ تھا کہ کوئی معمولی تنبیہ ہوجاوے گی تو طبعاً مغموم ہونے لگے۔ ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ جب ان سرکشوں کے لئے ہم نے یہ تجویز کیا تو یہی مناسب ہے) سو آپ اس بےحکم قوم (کی اس حالت زار) پر …

Al-Maaida 5:20Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.